مطالعہ جاپان: ماتسُودا آؤکو کی تحریر، ’محبت ہوئی‘ (دوسرا حصہ)

یہ ناک کی سوزش میں مبتلا ایک عورت کی کہانی ہے جس میں سونگھنے کی حس نہیں ہے۔

قدرتی بات ہے کہ وہ پرفیوم یا اروما تھراپی میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ لیکن جب وہ اپنی بلی، ٹورٹی پر غور کرتی ہے تو وہ سوچتی ہے کہ خوشبو کے بغیر زندگی اچھی چیز ہے، کیونکہ اس نے ایک مضمون میں پڑھا تھا کہ خوشبودار تیل بلیوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایک بار جب اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی، اسکی بدھ مت قربان گاہ کی اگربتیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ اسے خریداری کے لیے باہر جانا تکلیف دہ لگتا ہے، اس لیے وہ اپنے والد کے کمرے میں پڑی اگربتیاں استعمال کرتی ہے۔ وہ بغیر غور و فکر انکا استعمال جاری رکھتی ہے، کیونکہ اس میں سونگھنے کی حس ہی نہیں ہے۔ ایک دن اگربتیوں سے اٹھتے دھوئیں میں سے ایک شخص نمودار ہوتا ہے۔ وہ پوچھتی ہے کہ وہ شخص کیا چاہتا ہے...