قدیم آسوکا کے اسرار
نارا پریفیکچر کا شہر آسوکا چھٹی صدی کے اوآخر سے 100 سال سے زائد عرصے تک جاپان کی سیاست اور ثقافت کا مرکز رہا۔ وہاں پنپنے والی ترقی یافتہ تہذیب نے بہت ساری وراثتیں پیچھے چھوڑیں جن میں پراسرار پتھریلے ڈھانچے قابل ذکر ہیں۔ ان جسیم یادگاروں نے ان گنت نظریات کو جنم دیا ہے۔ اداکار لیوک برجفورڈ ان مرعوب کن پتھریلے ڈھانچوں کی چھان بین اور معما سلجھانے کے ساتھ ساتھ دیگر تاریخی مقامات کا دورہ کر رہے ہیں۔
(یہ پروگرام 31 مارچ 2020 کو پہلی بار نشر کیا گیا۔)
اداکار لیوک برجفورڈ
آسوکا دیرہ مندر‘ چھٹی صدی کے اوآخر میں تعمیر کیا گیا جو بدھ مت کا جاپان میں پہلا مندر تھا۔ ملک کے قدیم ترین مجسموں میں سے ایک یہ 3 میٹر بلند قدیم بدھ کا مجسمہ عبادت کے لئے مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔
ایشی بوتائی کوفون تومولس‘، یہ مقبرہ غالبا کسی بااثر شخص کے لئے ساتویں صدی کے اوائل میں تعمیر کیا گیا تھا۔ دیو ہیکل پتھروں کا کل وزن 2 ہزار ٹن سے زائد ہے۔
ایک ہی چٹان سے تیار کردہ، ’ماسودا نوئی وافونے (ماسودا پتھر جہاز)‘ کے بارے میں خیال ہے کہ اس کا وزن کئی سو ٹن ہے۔