ہار ماننا، قوت کا سرچشمہ
دیگُوچی ہارُوآکی کا تعارف پیش ہے جو ریتسُومیئکان ایشیا پیسیفک یونیورسٹی کے صدر ہیں۔ یونیورسٹی کے صدر کی حیثیت سے انکا منفرد پس منظر ہے جس میں ساٹھ سال کی عمر میں نئی کمپنی کھولنا شامل ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران انہیں دعوت نامے در دعوت نامے مل رہے ہیں، جرائد کے بھی اور لیکچر کے لیے بھی۔ سوشل میڈیا پر انکے ایک لاکھ تیس ہزار سے زیادہ پرستار ہیں۔ اتنے سارے لوگ انہیں سننے کے دیوانے کیوں ہیں؟ ہم انکی پرکشش شخصیت کا جائزہ لے رہے ہیں۔
دیگُوچی ہارُوآکی، سنہ 2018 میں اے پی یو کے صدر بنائے گئے
اے پی یو کے صدر، دیگُوچی ہارُوآکی طلبا کے ساتھ۔ یونیورسٹی کے تقریباً نصف طلبا غیر ملکی ہیں۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران ان میں سے بہت سے مشکل حالات کا شکار ہیں
مطالعہ، دیگُوچی کے علم کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے چارلس ڈاروِن کی کتاب، On the Origin of Species، کا گہرا اثر قبول کیا۔ یہ کتاب انہوں نے زمانۂ یونیورسٹی میں پڑھی تھی