مل کر کووڈ پر قابو پائیں: باہمی تعاون کی داستان
اندرون ٹوکیو ایک دکان، بھارت سے درآمد کردہ اعلیٰ معیار کے مسالے اور دیگر مصنوعات فروخت کرتی ہے۔ ایسے حالات میں جب کووڈ عالمی وبا کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے، بھارت سے تعلق رکھنے والے کمپنی کے صدر نیتین ہنگارہ نے اپنے جاپانی عملے سے مل کر، اس بحران سے نمٹنے کے کئی اقدامات تشکیل دیے ہیں۔ یہ پروگرام انکی روزمرہ مصروفیات اور درپیش چیلنج کا قریبی جائزہ پیش کر رہا ہے۔ (پہلی بار یہ پروگرام، 7 ستمبر 2021 کو پیش کیا گیا تھا)۔
صدر نیتین ہنگارہ نے یہ دیکھنے کے بعد کہ جاپان میں اسکے بھارتی ہم وطن اصل بھارتی کھانوں کے ذائقے سے محروم ہیں، یہ دکان کھولی۔
جب عالمی وبا کے تناظر میں فروخت بہت کم ہو گئی تو صدر نے ایک تجربہ کار جاپانی ملازم (بائیں) سے رجوع کیا تاکہ جاپانی گاہکوں کے دل جیتے جا سکیں۔
اس وقت دنیا بھر میں انفیکشن پھیلا رہی ڈیلٹا متغیر قسم جو سب سے پہلے بھارت میں دریافت ہوئی تھی، اسکی وجہ سے بھارت سے سبزیوں کی درآمد مشکل ہو گئی ہے۔ انہوں نے پہلی بار جاپان میں ہری مرچ اگانے کا فیصلہ کیا۔
وہ کئی بار کی آزمائش کے بعد غلطیوں سے سیکھتے ہوئے، جاپان میں مرچ کی بھارتی قسم اگانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔