شہرت یافتہ ایٹم بم آرٹ کی اگلی نسلوں تک منتقلی
اگست 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے جس سے لاکھوں افراد ہلاک ہوگئے۔ ہیروشیما میں پیدا ہونے والے مصور، ماروکی ایری اور ان کی اہلیہ ماروکی توشی نے ایٹم بم کے تباہ کن نقصانات کا مشاہدہ کیا اور پینٹنگز کے سلسلے "ہیروشیما پینٹنگز" کو تخلیق کرنے میں 30 سال سے زائد عرصہ صرف کیا۔ دنیا بھر میں 20 سے زیادہ مقامات پر ان پینٹنگز کی نمائش کی گئی ہے جس میں لوگوں کو جنگ کے تباہ کن اثرات کے بارے میں آگاہی دی گئی۔ تاہم اب ان فن پاروں کے خراب ہونے کا خطرہ درپیش ہے کیونکہ جس نجی میوزیم میں وہ موجود ہیں، پرانی ہو چکی ہے۔ کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کی وجہ سے سیاحوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ آئندہ نسلوں کے لئے ان قیمتی فن پاروں کو محفوظ رکھنے کے لئے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟
(یہ پروگرام اس سال 6 اگست کو پہلی بار نشر ہوا)۔
15 حصوں پر مشتمل سیریز "ہیروشیما پینٹنگز" کا ایک جزو جو ایٹمی بمباری کی تباہی کا عکاس ہے۔
ماروکی گیلری کو پینٹنگز کی مستقل نمائش کے لئے 1967 میں سائتاما پریفیکچر میں کھولا گیا تھا۔
ماروکی ایری اور ان کی اہلیہ ماروکی توشی نے "ہیروشیما پینٹنگز" کو مشترکہ طور پر تخلیق کیا۔