بات چیت کے ذریعے جاپان کے تنہائی پسند لوگوں کی بحالی
جاپان میں کام پر یا اسکول جانے سے گریز اور 6 ماہ سے زیادہ عرصے تک گھر میں خود کو بند رکھنے کی حالت کو ’ہیکیکوموری‘ یا تنہائی پسندی کہا جاتا ہے۔ جاپان میں 1.1 ملین سے زیادہ افراد تنہائی پسندی کا شکار ہیں۔ مئی 2019 میں ایک حملہ آور نے کئی افراد کو چھرا گھونپا جن میں 20 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے تھے اور جن میں زیادہ تر ایلیمنٹری اسکول کے طالب علم تھے، اطلاعات کے مطابق یہ حملہ آور "ہیکیکوموری" کا شکار تھا۔ اس واقعے کے بعد تنہائی پسند افراد کے خلاف تعصب پھیلنے پر اب تشویش پائی جارہی ہے۔ ہم تنہائی پسند لوگوں کے بارے میں رپورٹ پیش کر رہے ہیں جو اپنی آواز معاشرے تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
(یہ پروگرام گزشتہ سال اکتوبر کی 17 تاریخ کو پہلی بار نشر کیا گیا تھا۔)
تنہائی پسند افراد اور ان کے حامی افراد کے زیر انتظام ایک ہنگامی اجلاس
یونیورسٹی آف تسوکوبا کے ماہر نفسیات پروفیسر تماکی سائتو گذشتہ کئی برسوں سے تنہائی پسند افراد کی حمایت کر رہے ہیں۔
نوہیرو کیمورا جو ’ہِیکیکو موری نیوز پیپر‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں، کو بطور تنہائی پسند فرد ذاتی تجربہ ہے