کورونا وائرس پر سوال و جواب

نئے کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے سامعین کے ذہنوں میں بہت سے بنیادی سوالات موجود ہیں۔ این ایچ کے، کے ماہرین اس بارے میں سامعین کے سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔

سوال نمبر 174: ویکسینیں 4 ، ہم کورونا ویکسین کے ٹیکے کیسے اور کہاں سے لگواسکتے ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگوانے سے متعلق اپنے سلسلے کی چوتھی قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ جاپان میں کووِڈ 19 کی ویکسینوں کے ٹیکے کیسے اور کہاں لگائے جا رہے ہیں؟

باور کیا جاتا ہے کہ جاپان میں بلدیاتی حکومتیں ویکسینوں کے ٹیکے مرکزی حکومت کی رہنمائی کے تحت لگائیں گی۔ توقع ہے کہ ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے خواہشمند لوگوں نے جس بلدیاتی علاقے میں اپنی رہائش کا اندراج کروا رکھا ہے وہ وہاں سے ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

جو لوگ اپنے کام کی وجہ سے اپنے گھر سے دور مقیم ہیں یا جن لوگوں کو ہسپتال میں داخل کیا جا رہا ہے، انہیں استثنیٰ کے طور پر دیگر بلدیاتی علاقوں میں ٹیکے لگوانے کی اجازت ہے۔ ٹیکے لگوانے کیلئے درکار کوپنز بلدیاتی انتظامیہ کی جانب سے ڈاک کے ذریعے آپ کے گھر کے پتے پر پہنچا دیے جائیں گے۔ اگر آپ ان میں سے ایک کوپن ویکسین کے ٹیکے لگانے کی جگہ پر لائیں تو آپ کو ویکسین کا ٹیکہ مفت لگایا جائے گا۔

لیکن ضروری ہوگا کہ آپ وہاں جانے سے پہلے فون یا دیگر طریقوں سے وقت کا تعین کروا لیں۔ طبی ادارے، سماجی ہالز اور جمنازیم ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے مقامات ہوں گے۔ اگلی قسط میں ہم آپ کو ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے مخصوص طریقۂ کار بتائیں گے۔

یہ معلومات 4 فروری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 175: ویکسینیں 5 ، ویکسینیشن کا طریقۂ کار

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ٹیکے لگانے کے جاپانی منصوبے میں ملک میں مقیم غیر ملکی بھی شامل ہیں اور وہ حکومتی اعانت سے فراہم کی جانے والی ویکسینیں لگوا سکتے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ ویکسینیشن کی جگہوں پر یہ ویکسینیں کس طرح لگائی جا رہی ہیں۔

بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کیلئے، جس شخص کو ویکسین لگوانی ہے پہلے وہ بلدیہ کی جانب سے لوگوں کے گھروں پر بھیجا گیا ایک کوپن استقبالیہ پر جمع کروائے گا اور اپنی شناخت کی تصدیق اپنے ڈرائیونگ لائسنس، انشورنس کارڈ یا دیگر طریقے سے کروائے گا۔

ویکسین لگوانے والا اپنی صحت کی حالت، ماضی کی طبی تفصیلات سے متعلق سوالنامہ لازمی پُر کرے گا اور اس بات کے تعین کیلئے ڈاکٹر سے معائنہ کروائے گا کہ اُسے ویکسین لگ سکتی ہے یا نہیں۔

اگر اس مرحلے تک کوئی مسائل نہ ہوں تو اُسے ویکسین کا ٹیکہ لگ سکتا ہے۔ ہر شخص کو ٹیکہ لگوانے میں دو منٹ تک کا وقت لگے گا۔

ٹیکہ لگوانے کے بعد اُسے ایک تصدیق نامہ ملے گا جس میں ٹیکہ لگنے کی تاریخ اور جو ویکسین لگی ہے اُس کا نام لکھا ہوگا۔ یہ تصدیق نامہ ویکسین کی دوسری خوراک کا ٹیکہ لگوانے کیلئے ضروری ہے۔

ویکسین لگوانے والے کیلئے یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ وہ ویکسین لگوانے کے بعد فوری طور پر گھر نہیں جا سکتا۔ وزارت صحت نے ویکسین لگوانے والوں سے درخواست کی ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد اُسی مقام پر اُن کی طبیعت کے مشاہدے کی غرض سے قائم کی گئی ایک مخصوص جگہ میں 15 منٹ سے زیادہ ٹھہریں۔

بیرونِ ملک ٹیکے لگانے کی طبّی آزمائشوں کے مطابق، جاپان کو فراہم کی جانے والی ویکسین کا ٹیکہ لگنے والے بعض افراد نے ویکسین لگوائے جانے کے بعد سر درد یا تھکاوٹ کی علامات ظاہر ہونے کی اطلاعات دی ہیں۔ ویکسین سے سخت الرجی ردعمل سمیت شدید اثر پذیری ردعمل کے غیر معمولی واقعات کی اطلاعات امریکہ اور دنیا بھر میں دیگر جگہوں پر بھی رپورٹ کی گئی ہیں۔

ویکسین لگائے جانے کی جگہوں پر امدادی مراکز قائم کیے جائیں گے تاکہ ویکسین لگوانے کے بعد طبیعت خراب محسوس کرنے والے کسی بھی شخص کی دیکھ بھال کی جا سکے۔

یہ معلومات 12 فروری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 176: ویکسینیں 6 ، پہلے کسے ویکسین لگائی جائے گی؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کا سوال یہ ہے کہ ویکسینیں سب سے پہلے کس کو لگیں گی؟

جاپان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ ترجیحی ترتیب کے مطابق ویکسین کے ٹیکے سب سے پہلے طبی کارکنان کو لگیں گے۔ اس کے بعد 65 سال یا اِس سے زائد عمر کے لوگوں کو اور پھر معمر افراد کے مراکز میں کام کرنے والے لوگوں اور پہلے سے بیماریوں میں مبتلا افراد کو ٹیکے لگائے جائیں گے۔

وزارت معمر افراد کی دیکھ بھال کے مراکز کے عملے کیلئے مخصوص شرائط کے تحت، معمر افراد کے ٹیکے لگانے کے وقت ایک ساتھ ہی ٹیکہ لگانے کی اجازت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ مثلاً اُس وقت جب ڈاکٹر ویکسین کا ٹیکہ لگانے کیلئے معمر افراد کے مراکز پر آئیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایسے مراکز پر انفیکشن کلسٹرز کی روکتھام کرنا ہے۔

ان شرائط میں یہ بات شامل ہے کہ مرکز میں روزانہ کی بنیاد پر معمر افراد کی نگرانی کرنے والا ڈاکٹر موجود ہو۔ یہ اس امر کو یقینی بنانے کیلئے ہے کہ مرکز میں معمر افراد کو ٹیکہ لگنے کے بعد وہاں اُن کی حالت پر نظر رکھنے کیلئے عملے کے اُس رکن کے بجائے کوئی موجود ہو جسے ویکسین لگائی جائے گی۔

ویکسین کے ٹیکے صرف اُن لوگوں کو لگائے جائیں گے جو یہ لگوانے کے خواہشمند ہوں۔ بعض معمّر افراد سے متعلق یہ تصدیق کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ وہ ٹیکہ لگوانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ ایسی صورت میں وزارت کہے گی کہ فیصلے اُن افراد کے اہلِ خانہ یا ڈاکٹروں کی مدد سے کیے جائیں۔

یہ معلومات 15 فروری تک کی ہیں۔

سوال نمبر177: ویکسینیں 7 ، جاپان کے ویکسینیشن منصوبے میں کن دیرینہ بیماریوں کو ترجیح دی گئی ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسینیشن سے متعلق سلسلے کی ساتویں قسط پیش کر رہے ہیں جس میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ کسی شخص کو پہلے سے لاحق وہ کونسی بیماریاں ہیں جنہیں جاپان کے کووِڈ 19 ویکسینیشن منصوبے میں ترجیح دی جائے گی۔

جاپان کی وزارت صحت نے بیماریوں کی ایک فہرست مرتب کی ہے جن میں دل اور گردے کے دیرینہ امراض، سانس کی بیماری، سرطان اور سوتے میں سانس کا متعدد بار رُک جانا جیسی بیماریوں کی وجہ بننے والی قوّت مدافعت کی کمزوری شامل ہیں۔ ایسے لوگ جو ہسپتال میں داخل ہیں یا اس طرح کی دیرینہ بیماریوں کیلئے معمولاً ڈاکٹر کے پاس جاتے ہوں، اُنہیں ترجیح دی جائے گی۔

انتظامیہ مریضوں کیلئے اُن کی طبّی حالت کا سرٹیفکیٹ طلب نہیں کرے گی۔ مریضوں کو صرف سوالنامہ پُر کرنا ہوگا۔

جن لوگوں کا وزن اور قد سے نکالی گئی قدر کا اشاریہ بی آیم آئی 30 یا اس سے زیادہ ہو، اُنہیں بھی ترجیح دی جائے گی۔ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ جاپان میں موٹاپے کے اس زمرے میں آنے والے بالغ لوگوں اور دیرینہ بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد تقریباً 82 لاکھ ہے۔

یہ معلومات 16 فروری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 235: بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے لیے بکنگ کا آغاز – 1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان نے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مراکز پر ویکسین لگوانے کے لیے بکنگ یعنی تخصیص کروانے کا آغاز پیر کے روز سے کر دیا ہے۔ یہ مراکز 24 مئی سے ٹوکیو اور اوساکا میں کھلنے والے ہیں جو ٹوکیو اور اس کے گرد واقع 3 پریفیکچروں اور اسی طرح اوساکا اور اس سے ملحقہ 2 پریفیکچروں کے رہائشیوں کے لیے ہوں گے۔

آج ہم ان مراکز پر ویکسین لگوانے کے طریقۂ کار کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

کسی بھی شخص کو ویکسین لگوانے کیلئے تخصیص کروانے یا وقت لینے کے لیے اپنے رہائشی علاقے کی بلدیہ کی جانب سے بھیجے جانے والے کوپن کی ضرورت ہوگی۔ تخصیص صرف انٹرنیٹ کے ذریعے ہی کرائی جا سکے گی۔ اس مقصد کے لیے اُسے مخصوص ویب سائٹ پر جا کر اپنی تاریخ پیدائش، کوپن نمبر اور دیگر معلومات فراہم کرنی ہوں گی۔

بعض بلدیات میں 65 سال اور اس سے زائد عمر کے معمر افراد کو ویکسین لگانے کا آغاز اپریل میں ہوا تھا۔ کچھ مقامی حکومتیں صحت کے زیادہ مسائل کا شکار افراد کو اب بھی ترجیح دے رہی ہیں۔ مثال کے طور پر بعض بلدیات نے ویکسین لگوانے کے کوپن اب تک صرف 75 سال یا اس سے زائد عمر کے لوگوں کو ہی بھیجے ہیں۔

ان بلدیاتی علاقوں میں رہنے والے 65 سے 74 سال کی عمر کے افراد بڑے پیمانے پر ویکسینیشن پروگرام کے لیے مجاز ہونے کے باوجود ابھی اس کیلئے تخصیص نہیں کروا سکتے۔ بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مراکز کے ذمہ دار وزارت دفاع کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے افراد کے لیے افسوس ہے، تاہم وہ کوپن نمبر کے بغیر ویکسینیشن کے لیے تخصیص نہیں کر سکتے کیونکہ حکومت ان نمبروں کے ذریعے ویکسین لگوانے والے افراد کا ریکارڈ رکھنا چاہتی ہے۔

دریں اثناء، حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ اپنے علاقے کی کلینک اور بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مراکز دونوں جگہ پر ویکسینیشن کیلئے تخصیص کروالیں۔ حکام کے مطابق ایسا ہونے کی روکتھام کیلئے جانچ کا کوئی آلہ نہیں لگا ہوا ہے۔ وہ لوگوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ ایسی صورت میں دونوں میں سے ایک تخصیص کو منسوخ کر دیں کیونکہ ایسا نہ کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ ویکسین کی ایک قیمتی خوراک ضائع ہوسکتی ہے۔

یہ معلومات 19 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 236: بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے لیے بکنگ کا آغاز – 2
بکنگ کا جَدول کیا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان نے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مراکز پر ویکسین لگوانے کے لیے بکنگ یعنی تخصیص کروانے کا آغاز پیر کے روز سے کر دیا ہے۔ یہ مراکز 24 مئی سے ٹوکیو اور اوساکا میں کھلیں گے جو ٹوکیو اور اس کے گرد واقع 3 پریفیکچروں اور اسی طرح اوساکا اور اس سے ملحقہ 2 پریفیکچروں کے رہائشیوں کے لیے ہیں۔

آج اس موضوع کے حصہ دوم میں ویکسین لگوانے کے لیے تخصیص کروانے کے اوقات کار کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔

بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے ان مراکز پر ویکسین لگانے کا کام 24 مئی سے تقریباً 3 ماہ یعنی اگست کے اختتام تک ہوگا۔ مذکورہ جَدول 6 جون تک تخصیص کروانے کیلئے طے کیا گیا ہے۔ 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد تخصیص کروانے کے مجاز ہوں گے۔

بہت سے لوگوں کے ایک ساتھ ویب سائٹ تک رسائی کرنے سے پیدا ہونے والے مسائل سے بچنے کے لیے 17 مئی سے ایک ہفتے تک صرف ٹوکیو کے 23 اضلاع کے افراد اور اوساکا شہر کے معمر افراد ہی تخصیص کروانے کے مجاز ہوں گے۔ اس کے بعد مرحلہ وار مزید علاقوں کو شامل کرتے ہوئے 24 مئی سے پورے ٹوکیو اور پورے اوساکا پریفیکچر کے معمر افراد مذکورہ ویب سائٹ کے ذریعے وقت مخصوص کروا سکیں گے۔ 31 مئی سے ویکسین کے لیے تخصیص کی یہ سہولت ٹوکیو سے ملحقہ 3 پریفیکچروں سائیتاما، کاناگاوا اور چیبا کے معمر شہریوں اور اسی طرح اوساکا پریفیکچر کے ہمسایہ پریفیکچروں کیوتو اور ہیوگو کے معمر شہریوں کو بھی حاصل ہو جائے گی۔

24 سے 30 مئی کے عرصے کے لیے ٹوکیو اور اوساکا دونوں مقامات پر تمام اوقات کے لیے تخصیص مکمل ہو چکی ہے۔

اس مدت کے بعد انہی علاقوں میں بسنے والے مگر رہائشی سند نہ رکھنے والے معمر شہری ویکسینیشن کے لیے تخصیص کروا سکیں گے۔ منتظمیں سوچ رہیں ہیں کہ رہائش کی تصدیق اس طرح کی جائے کہ لوگوں سے ویکسین کے کوپنز اور ڈاک سے بھیجے گئے خطوط وغیرہ پیش کرنے کا کہا جائے جن پر پتہ لکھا ہوا ہو۔

بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ان مراکز پر ویکسین کی پہلی خوراک کے لیے تخصیص صرف انٹرنیٹ کے ذریعے قبول کی جائے گی۔ دوسری خوراک یا دوسری بار ویکسین لگانے کی تاریخ پہلی ویکسین لگانے کے بعد ان مراکز پر ہی دیدی جائے گی۔

یہ معلومات 20 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 237: بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے لیے بکنگ کا آغاز ۔ 3

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان نے ٹوکیو اور اوساکا میں 24 مئی سے کھولے جانے والے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے مراکز پر ویکسین کے ٹیکے لگانے کے لیے بکنگ یعنی تخصیص کروانے کا آغاز پیر کے روز سے کر دیا ہے۔ یہ تخصیص ٹوکیو اور اس کے تین ہمسایہ پریفیکچروں کے ساتھ ساتھ اوساکا اور اس سے ملحقہ دو پریفیکچروں میں رہنے والے معمر شہریوں کے لیے ہے۔

آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے لیے درکار طریقۂ کار کے لحاظ سے مرکزی حکومت کے زیر انتظام بڑے پیمانے پر ویکسینیشنز اور مقامی حکومتوں کے تحت ویکسین کے ٹیکے لگانے والے پروگراموں میں فرق سے متعلق معلومات فراہم کریں گے۔

مرکزی حکومت کے تحت ٹوکیو اور اوساکا میں کھولے جانے والے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے مراکز ایک آزاد نظام کے تحت کام کرتے ہیں اور مقامی حکومتوں کے تحت چلائے جانے والے ویکسین کے ٹیکے لگانے کے پروگراموں سے قطعی مختلف ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے مجاز افراد یا تو مرکزی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ان مراکز یا پھر مقامی حکومت کے تحت چلنے والے پروگراموں کے تحت ویکسین کے ٹیکے لگوا سکتے ہیں۔ فیصلہ کرنے کا اختیار ویکسین لگوانے والے شخص کو حاصل ہے کہ وہ ویکسینیشن کے لیے کس نظام کو منتخب کرتا ہے۔

لیکن ایسے افراد جو پہلے ہی مقامی حکومت کی زیر نگرانی چلنے والے پروگراموں کے ذریعے ویکسین کا پہلا ٹیکہ لگوا چکے ہوں وہ ویکسین کا دوسرا ٹیکہ لگوانے کے لیے مرکزی حکومت کے تحت چلنے والے ویکسینیشن مراکز کا انتخاب نہیں کر سکیں گے۔

مرکزی اور مقامی حکومتوں کے تحت چلنے والے نظاموں کیلئے تخصیص کروانے کے نظام آپس میں منسلک نہیں ہیں۔ لہٰذا اگر کسی شخص نے مرکزی حکومت اور مقامی حکومت دونوں کی ویب سائٹس پر ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے لیے تخصیص کی ہے تو اسے اُن میں سے ایک تخصیص کو منسوخ کر دینا چاہیے۔

کچھ لوگوں کے لیے اپنے طور پر تخصیص کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ جس رہائشی علاقے میں وہ رہتے ہیں اس کی بلدیاتی حکومت کی جانب سے دیا گیا ویکسینیشن کوپن نمبر استعمال کرتے ہوئے طریقۂ کار کو مکمل کرنے کیلئے اپنے اہل خانہ، رشتہ داروں یا دوستوں سے درخواست کریں۔

دریں اثناء، صارف امور کی ایجنسی ویکسین کے ٹیکے لگوانے میں دھوکہ دہی سے خبردار کر رہی ہے۔

ملک بھر میں صارف امور کے مراکز کو ذاتی مالی معلومات اور دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مشکوک ٹیلی فون کالز آنے کی کئی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ یہ کالز کرنے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ویکسین کے ٹیکے لگوانے کی تخصیص کروانے میں مدد کیلئے خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

یہ معلومات 21 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 331: کیا بچوں کو کورونا ویکسین لگائی جانی چاہیے؟ 5 ۔ ویکسینوں کے ضمنی اثرات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان ویکسینیشن کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ایلیمنٹری اسکول کے بچوں کو بھی ویکسین کے ٹیکے لگانے پر غور کر سکتی ہے۔ بچوں اور ویکسینیشن کے بارے میں ہمارے اس سلسلے کی پانچویں قسط میں ہم ویکسینوں کے ضمنی اثرات پر نظر دوڑائیں گے۔

امریکی ادویات ساز کمپنی فائزر نے 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں پر ویکسین کی آزمائش کے بارے میں 20 ستمبر کو جاری اخباری بیان میں صرف اتنا کہا ہے کہ ان بچوں میں سامنے آنے والے ضمنی اثرات، معمول کی مقدار میں ویکسین کے ٹیکے لگوانے والے 16 تا 25 سال عمر والوں کے اثرات سے ملتے جلتے تھے۔

کِیتاساتو یونیورسٹی میں پروفیسر اور ماہر امراضِ اطفال ڈاکٹر ناکایاما تیتسُواو نے یقین ظاہر کیا ہے کہ ویکسینیں بچوں کے لیے خطرناک نہیں ہیں، لیکن اِن کے بعض ضمنی اثرات ہوتے ہیں۔ انہوں نے ضمنی اثرات میں بخار ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ بعض بچوں میں بخار کے ساتھ تشنج کی علامات ظاہر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ناکایاما نے زور دیا ہے کہ بچوں کو ویکسین کا ٹیکہ لگوانے سے قبل والدین کو اس کی مکمل آگہی ہونی چاہیے۔ اس لیے انہوں نے یہ بھی کہا کہ بچوں کی جسمانی حالت کا پورا علم رکھنے والے خاندانی معالج سے ہی بچوں کو ویکسین کے ٹیکے لگوانے چاہیئں۔

فُوکُواوکا نرسنگ کالج کے پروفیسر اور جاپانی سوسائٹی برائے ویکسینولوجی کے صدر اوکادا کینجی نے کہا ہے کہ دیرینہ بیماریوں میں مبتلا بچوں اور ویکسین لگوانے کے خواہشمند داخلے کے امتحان کی تیاری کرنے والے طلبا کو ویکسین لگائی جانی چاہیے۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ 12 سال سے کم عمر بچوں کو ویکسین کے ٹیکے لگانا اولین ترجیح نہیں ہو گی۔

پروفیسر اوکادا کہتے ہیں کہ بچوں میں سنگین ضمنی اثرات ظاہر ہونے کی صورت میں انہیں مستقبل میں مشکلات پیش آئیں گی۔انہوں نے کہا ہے کہ وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں بیماری کی شدت، ویکسین کے مؤثر ہونے اور اس کے استعمال کے محفوظ ہونے کے بارے میں غور و فکر کرتے ہوئے ہی صحت مند بچوں کو ویکسین کا ٹیکہ لگوانے یا نہ لگوانے کا فیصلہ کیا جانا ضروری ہے۔

یہ معلومات 22 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 330: کیا بچوں کو ویکسین لگائی جانی چاہیے؟ 4 ، بچوں کو ویکسین لگانے کے فوائد

این ایچ کے کے نمائندے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔ حکومت جاپان ایلیمنٹری اسکول تک کے بچوں کو ویکسین لگانے پر غور کرنا شروع کر سکتی ہے۔ بچوں کی ویکسینیشن سے متعلق ہمارے اس سلسلے کی چوتھی قسط میں ہم ویکسین لگوانے والے بچوں کو حاصل ہونے والے فوائد کا جائزہ لیں گے۔

کورونا وائرس ویکسین کے کسی حد تک پڑنے والے ضمنی اثرات کے تناظر میں دیکھا جائے تو بچوں کو ویکسین لگانے کے فوائد بالغ افراد کے مقابلے میں کم نظر آتے ہیں، کیونکہ نوجوان اور بچے وائرس سے متاثر ہونے کے باوجود بھی شاذ و نادر ہی شدید بیمار ہوتے ہیں۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ اس کے فوائد کیا ہیں؟
اس کے جوابات کچھ یوں ہیں۔

• وائرس سے متاثر ہونے اور شدید بیمار ہونے کی روک تھام۔
اس وقت استعمال ہونے والی کووِڈ-19 ویکسینیں، وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا سے متاثر ہونے اور اس سے شدید بیمار ہونے کی روک تھام میں کارآمد ہونے کو ظاہر کرتی ہیں۔

• اسکولوں یا نجی ٹیوشن مراکز میں وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام۔
کورونا وائرس کی پانچویں لہر کے دوران کئی مقامات پر اسکولوں یا ٹیوشن مراکز وغیرہ میں پڑھنے والے بچوں میں وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے واقعات ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ویکسینیشن ایسے بڑے پیمانے پر ہونے والے انفیکشنز کی روکتھام میں مؤثر ہے۔

• گھروں میں وائرس سے متاثر ہونے کے خطرے کی روک تھام۔
بچوں کو ویکسین لگانے سے ایسے گھرانوں میں وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام ہو سکتی ہے، جن میں ویکسین نہیں لگوائی گئی یا مختلف طبی وجوہات وغیرہ کے باعث ویکسین نہیں لگوائی جا سکتی۔

یہ معلومات 21 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 329: کیا بچوں کو ویکسین لگائی جانی چاہیے؟ ، 3بچوں میں چند تشویشناک کیسوں کی اطلاع

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان ایلیمنٹری اسکول تک کے بچوں کو ویکسین لگانے پر غور کرنا شروع کر سکتی ہے۔ بچوں کی ویکسینیشن سے متعلق ہمارے سلسلے کی تیسری قسط میں ہم شدید بیمار ہونے والے بچوں کی شرح کا جائزہ لیں گے۔

یہ بات پہلے ہی معلوم ہے کہ بچوں کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں بھی بیشتر بچے معمولی بیمار ہی ہوتے ہیں، اور بیماری کی شدید علامات والے بچوں کی تعداد بہت کم ہے۔ جاپان کی وزارت صحت کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 15 ستمبر 2021 تک جاپان میں تقریباً 16 لاکھ 25 ہزار افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاعات تھیں، جن میں سے 14 ہزار 229 افراد موت کا شکار ہو گئے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کورونا متاثرین میں شرحِ اموات تقریباً 0.9 فیصد تھی۔ کُل متاثرین میں سے تقریباً 84 ہزار، 10 سال سے کم عمر کے بچے تھے، جبکہ 10 سے 19 سال کی عمر کے بچوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 63 ہزار تھی۔ 11 سے 19 سال کی عمر کے مریضوں میں سے ایک کا انتقال ہو گیا۔

وزارت صحت کے ایک اور جائزے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال جون سے اگست کے درمیان کووِڈ 19 کی تشخیص ہونے والے 10 سال سے کم عمر بچوں میں سے شدید بیمار ہونے والوں کی شرح صرف 0.09 فیصد تھی، جبکہ 10سے 19 سال کے درمیان کا کوئی بچہ شدید بیمار نہیں ہوا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے سے کسی بیماری کا شکار بچے کورونا سے متاثر ہونے پر شدید علیل ہو سکتے ہیں۔ لیکن بچوں میں شدید بیمار ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔

وزارت صحت کے ماہرین کے پینل کا کہنا ہے کہ بچوں کو وائرس زیادہ تر گھروں پر بڑوں سے لگا ہے۔ بچوں سے بڑوں کو وائرس لگنے کے واقعات بہت کم ہیں۔ اس پینل کے مطابق، کورونا وائرس کی صورتحال انفلوئنزا سے مختلف ہے، جس میں بچوں کو اسکولوں میں وائرس لگنے کے بعد، ان سے گھر کے دیگر افراد کو لگ جاتا ہے۔

یہ معلومات 20 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 328: کیا بچوں کو ویکسین لگائی جانی چاہیے؟ 2 ، جاپان میں بات چیت کا آغاز

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومتِ جاپان ایلیمنٹری اسکولوں کے بچوں کو بھی ویکسین کے ٹیکے لگانے پر غور کر رہی ہے۔ بچوں اور ویکسینیشن سے متعلق ہمارے سلسلے کی اس دوسری قسط میں ہم جاپان میں بچوں کی ویکسینیشن کا جائزہ لیں گے۔

جاپان کی وزارتِ صحت نے 28 مئی کو اعلان کیا کہ وہ 12 سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں کو بھی کورونا وائرس ویکسین کا ٹیکہ لگانے کی اجازت دے گی۔ قبل ازیں، امریکی ادویات ساز کمپنی فائزر اور اس کی جرمن شراکتدار بیون ٹیک نے مذکورہ عمر کے گروپ کو بھی اپنی کورونا وائرس ویکسین کے ٹیکے لگانے کی اجازت حاصل کرنے کیلئے درخواست دی تھی۔ 31 مئی کو 12 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کو جاپان کے باضابطہ ویکسین منصوبے میں شامل کر کے اس عمر کے بچوں میں کورونا وائرس ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز ہوا۔

فائزر اور بیون ٹیک کی جانب سے ان کی طبی آزمائش کے نتائج کے اعلان کے بعد جن سے 5 سال سے 11 سال کی عمر کے بچوں میں ویکسین کے محفوظ اور مؤثر ہونے کا معلوم ہوا، جاپان اس امر کا جائزہ لے سکتا ہے کہ آیا اس عمر کے گروپ کے بچوں کو قومی ویکسین منصوبے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

ایلیمنٹری اسکول میں بچوں کو جو ویکسینیں لگائی جا رہی ہیں ہمیں اس صورتحال کو کس طرح دیکھنا چاہیے؟ یہ سوال ہم نے ماہرِ امراضِ اطفال ناکایاما تیتسُواو سے پوچھا جو کِتاساتو یونیورسٹی میں پروفیسر بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اب تک بچوں کیلئے کوئی ویکسین دستیاب نہیں تھی، لہٰذا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو سنبھالنے کیلئے ایک راستہ مل جانے کی اہمیت ہے کیونکہ اسکولوں، اسکول کے بعد بچوں کی دیکھ بھال کے منصوبوں اور نجی ٹیوشن وغیرہ میں انفیکشنز پھیلنے کی اطلاعات آتی رہی ہیں۔

یہ معلومات 19 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 327: کیا بچوں کو ویکسین لگائی جانی چاہیے؟ 1 ، امریکہ کا 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو ویکسین لگانے پر غور

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ امریکہ میں پرائمری اسکول تک کے بچوں کو ویکسین لگانے پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ آج سے ہم ایک نیا سلسلہ پیش کر رہے ہیں جس میں بچوں کی ویکسینیشن سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ہم اس پہلی قسط میں ’’امریکہ میں بچوں کی ویکسینیشن‘‘ کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی دوا ساز کمپنی فائزر اور اس کی جرمن شراکتدار بیون ٹیک نے امریکہ اور دیگر ملکوں میں 5 سے 11 سال کی عمر کے 2 ہزار 268 بچوں پر کورونا ویکسین کی آزمائش کے نتائج کا اعلان 20 ستمبر کو کیا۔ ان بچوں کو بڑوں کے مقابلے میں ویکسین کی ایک تہائی مقدار دو بار لگائی گئی۔ ایک ماہ بعد جب ان بچوں میں وائرس سرگرمی کی حامل اینٹی باڈیز کو غیر مؤثر کرنے کی آزمائش کی گئی تو تحقیق کاروں نے ان میں جسمانی دفاعی نظام کے مضبوط ردعمل کی تصدیق کی۔ بچوں میں پائے گئے ضمنی اثرات اور قوت مدافعت کا ردعمل، ویکسین کی عام مقدار دیے گئے 16 سے 25 سال کے نوجوانوں کے مماثل ہی تھے۔ ان کمپنیوں نے 7 اکتوبر کو اعلان کیا کہ انہوں نے امریکہ کے خوراک و ادویات کنٹرول کے ادارے ’ایف ڈی اے‘ کو 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کے لیے اپنی ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری کیلئے باضابطہ درخواست دیدی ہے۔

فائزر ویکسین، ابتداء میں 16 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد ہی کو دی گئی تھی۔ مئی میں مذکورہ حد کو کم کر کے 12 سے 15 سال کے نوجوانوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا۔ ان کمپنیوں نے اعلان کیا کہ 31 مارچ کو کی گئی آزمائش میں اس عمر کے نوجوانوں کے لیے بھی ویکسین کے محفوظ اور مؤثر ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ 9 اپریل کو انہوں نے ایف ڈی اے کو درخواست دی کہ ویکسینیشن کو اس عمر کے افراد کے گروپ کیلئے بھی شامل کیا جائے اور 10 مئی کو انہیں اس کے ہنگامی استعمال کی منظوری مل گئی۔ 13 مئی سے 12 سال سے زائد عمر کے افراد کو ویکسین لگانے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا۔

یہ معلومات 18 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 326: کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں نمایاں کمی سے متعلق ماہرین کی آراء 5، واکِیتا تاکاجی، ڈائریکٹر جنرل قومی ادارہ برائے متعدی امراض

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں اگست کے اختتام سے نئے انفیکشنز کی یومیہ تعداد تیزی سے نیچے آ گئی ہے۔ آج ہم اس نمایاں کمی کی وجوہات کے بارے میں ماہرین کی آرا پر مبنی سلسلے کی پانچویں اور آخری قسط میں جاپان کے قومی ادارہ برائے متعدی امرض کے ڈائریکٹر جنرل واکِیتا تاکاجی کی رائے پیش کر رہے ہیں۔

جناب واکِیتا کورونا وائرس انفیکشن کے بارے میں وزارت صحت کے ماہرین کے پینل کے سربراہ بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ماہرین اگرچہ نئے متاثرین کی تعداد میں کمی کی وجہ تفریح کے لیے باہر جانے والوں کی تعداد میں کمی اور ویکسین کی فراہمی میں پیشرفت کو گردانتے ہیں، لیکن یہ عوامل متاثرین کی تعداد میں تیز رفتاری سے کمی کا تسلی بخش جواب نہیں دیتے۔

وہ کہتے ہیں کہ انفیکشنز کی حالیہ لہر کے دوران ویکسینیشن اور دیگر اسباب کے باعث متاثرہ نوجوانوں سے یہ وائرس معمر افراد کو منتقل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل میں وائرس تیزی سے پھیلنے اور تیزی سے کم ہونے کا رجحان ہمیشہ پایا جاتا رہا ہے۔ جناب واکِیتا امکان ظاہر کرتے ہیں کہ نوجوانوں میں پایا جانے والا یہ رجحان انفیکشنز کی حالیہ لہر میں بھی عمومی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس بارے میں مزید تحقیق اور تجزیہ درکار ہے کیونکہ نئے متاثرین کی تعداد میں کمی کا باعث بننے والے کئی عوامل میں سے ہر ایک کے انفرادی اثر کے بارے میں ابھی تک پتہ نہیں چلایا جا سکا ہے۔

کورونا وائرس کے مزید نئی شکل اختیار کرنے کے بارے میں سوال کا جواب انہوں نے نفی میں دیا۔ جناب واکِیتا کے مطابق انہوں نے کورونا وائرس کے لونیت کا تجزیہ کیا ہے، جس کے نتائج کے مطابق انفیکشن کی تعداد میں کمی آنے کے دورانیے کے مقابلے میں انفیکشنز کی تعداد تیزی سے بڑھنے کے دورانیے میں اس وائرس میں نہ ہونے کے برابر تبدیلی آئی ہے۔ وہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ پہلے کے مقابلے میں وائرس کمزور نہیں ہوا۔

آئندہ اٹھائے جانے والے مطلوبہ اقدامات کے بارے میں جناب واکِیتا کہتے ہیں کہ ملک کے چند حصوں میں غیر ملکیوں میں، جن کی ویکسینیشن کی شرح کم رہنے کا رجحان ہے، انفیکشن پھیل رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت کو صحت عامہ کے لحاظ سے عدم تحفظ سے دوچار اور ویکسین کے ٹیکے لگوانے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد کے علاقوں اور برادری میں ویکسینیشن کو فروغ دینے کے لیے اقدامات وضع کرنا ضروری ہیں۔

یہ معلومات 15 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 325: کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں نمایاں کمی سے متعلق ماہرین کی آراء 4 ، پروفیسر نِشی اُرا ہِیروشی ، کیوتو یونیورسٹی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں اگست کے اواخر سے نئے متاثرین کی یومیہ تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ آج ہم اس کمی کے پس منظر سے متعلق ماہرین کی آراء پر مبنی سلسلے کی چوتھی قسط میں کیوتو یونیورسٹی کے پروفیسر نِشی اُرا ہِیروشی کی رائے پیش کر رہے ہیں۔

پروفیسر نِشی اُرا، کورونا وائرس انفیکشن سے متعلق وزارت صحت کے ماہرین کے پینل کے ایک رکن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ متاثرین کی تعداد میں کمی کی تفصیلی وضاحت اِس وقت جاری تجزیے کے نتائج ملنے کے بعد کریں گے۔

تاہم، اُن کے مطابق ایک بات جو وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ وائرس کی پھیلاؤ کی شرح، جو یہ نشاندہی کرتی ہے کہ ایک متاثرہ شخص سے مزید کتنے افراد متاثر ہو سکتے ہیں، اُس میں طویل اختتام ہفتہ یا چھٹیوں کے بعد اضافے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ شرح چھٹیوں کے بعد اُس وقت بھی بڑھی تھی جب ملک کے کئی حصوں میں کورونا وائرس کے حوالے سے ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی تھی۔ ان کے مطابق یہ بات وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ کبھی کبھار ملنے والے افراد سے ملاقات، دُور کا سفر کرنے یا باہر کھانے پینے وغیرہ جیسے چھٹی کے اوقات کے دوران ہر شخص کا رویہ دوسروں میں وائرس منتقلی کو بڑھاتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ جاپان میں ویکسین لگانے کے عمل میں مزید پیشرفت ہونے کی صورت میں بھی غیر منظم انداز میں لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ بڑھنا، لازماً انفیکشن کی ایک اور لہر کو جنم دے گا۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہمیں موسمِ سرما میں وائرس کے ایک اور ممکنہ پھیلاؤ کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

یہ معلومات 14 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 324: کورونا کے نئے متاثرین کی تعداد میں نمایاں کمی سے متعلق ماہرین کی آراء 3 ، پروفیسر یاماموتو تارو ، انسٹیٹیوٹ برائے حارّی ادویات، ناگاساکی یونیورسٹی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں اگست کے اواخر سے کورونا متاثرین کی یومیہ تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ آج ہم اس کمی کے پس منظر سے متعلق ماہرین کی آراء پر مبنی اپنے سلسلے کی تیسری قسط میں ناگاساکی یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ برائے حارّی ادویات کے پروفیسر یاماموتو تارو کی رائے پیش کر رہے ہیں۔

پروفیسر یاماموتو کا کہنا ہے کہ وہ متاثرین کی تعداد میں کمی کے عوامل کے پس منظر کا اُس وقت تک بالکل درستگی کے ساتھ اندازہ نہیں لگا سکتے جب تک کہ یہ جانچ نہ کر لیں کہ مقامی بلدیات کی جانب سے اطلاع کردہ نئے متاثرین کی یومیہ تعداد کا حقیقی صورتحال سے کس حد تک درست موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

تاہم، پروفیسر یاماموتو اس بات کا یقین ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ افراد نے ویکسین کے ذریعے یا حقیقتاً وائرس سے متاثر ہونے کے باعث قوتِ مدافعت حاصل کر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وائرس لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے اور اگر ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جس میں انسانی، سماجی یا معاشی لحاظ سے بیماری کی ایک حد تک موجودگی قابل قبول ہو تو اس بات پر بحث ہونی چاہیے کہ یہ کس سطح تک قابل قبول ہے۔ وہ اس یقین کا اظہار کرتے ہیں کہ جاپان ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں انفیکشن کی صورتحال کے تعین کا معیار، وائرس متاثرین کی تعداد کے بجائے شدید بیمار مریضوں یا اموات کی تعداد کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔

مستقبل کے اقدامات کے بارے میں پروفیسر یاماموتو کہتے ہیں کہ اگر وائرس کو ختم کرنے کے مکمل اقدامات اور پابندیوں کے جاری رہنے کے دوران وائرس اپنی ہیئت تبدیل کرتے ہوئے زیادہ متعدی ہو جاتا ہے تو لوگ ابھی کے مقابلے میں زیادہ مشکلات میں گِھر سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب وسیع تناظر میں وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے کے طریقوں پر غور کرنے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر یہ سوچنا بھی اہم ہے کہ لوگوں کی اپنی یا اپنے عزیزوں کی زندگیوں کو شدید بیماری یا موت کے خطرے سے دوچار ہونے کا خطرہ ہوگا۔ پروفیسر یاماموتو کہتے ہیں کہ حفاظتی جال کے طور پر علاج معالجے اور طبی دیکھ بھال کا ایسا نظام وضع کرنا ضروری ہے، جس کی مدد سے کم از کم اموات کی روکتھام کی جا سکے۔

یہ معلومات 13 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 323: کورونا کے نئے متاثرین کی تعداد میں نمایاں کمی سے متعلق ماہرین کی آراء 2 ، پروفیسر وادا کوجی ، انٹرنیشنل یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ ویلفیئر

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں نئے متاثرین کی یومیہ تعداد میں اگست کے اواخر سے تیزی سے کمی ہوئی۔ آج ہم اس نمایاں کمی کے پس منظر سے متعلق ماہرین کی آراء پر مبنی سلسلے کی دوسری قسط پیش کر رہے ہیں۔

انٹرنیشنل یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ ویلفیئر کے پروفیسر وادا کوجی کورونا وائرس پر ردعمل سے متعلق وزارتِ صحت کے ماہرین کے پینل کے رکن ہیں۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ کورونا متاثرین کی تعداد میں کمی کی ممکنہ وجوہات میں ویکسینیشن میں پیشرفت اور موسمیاتی عوامل شامل ہیں۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ کم درجۂ حرارت کی وجہ سے ایئرکنڈیشنڈ والی بند جگہوں پر سرگرمی کم ہو جاتی ہے جس سے لوگوں کیلئے ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنا زیادہ سہل ہوجاتا ہے۔

لیکن اُن کا کہنا تھا کہ کسی حد تک یہ پتہ لگانا مشکل ہے کہ کئی عوامل میں سے ہر ایک نے کمی میں کتنا کردار ادا کیا۔

اس بارے میں کہ آنے والے مہینوں میں کیا توقع کی جا سکتی پرفیسر وادا کا کہنا تھا کہ انفیکشن ایک بار پھر پھیل سکتے ہیں کیونکہ موسمِ سرما آنے کے ساتھ ساتھ درجۂ حرارت کم ہو جاتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ غالب امکان یہ ہے کہ انفیکشنز پہلے زیادہ تر نوجوانوں اور 20 کے پیٹے کے لوگوں میں پھیلیں گے۔ یہ عمر کے لحاظ سے وہ گروپ ہے جن میں اُن لوگوں کی فیصد تعداد کم ہوتی ہے جن کی انفیکشن یا ویکسینیشن کے ذریعے وائرس کے خلاف قوت مدافعت بڑھ چکی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ پھر زیادہ امکان یہ ہے کہ وائرس نوجوان نسل کے لوگوں سے درمیانی اور معمر عمر کے افراد میں پھیلیں گے جو ہو سکتا ہے کہ وائرس سے شدید بیمار پڑ جائیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ وائرس کے معمر افراد میں پھیل جانے کا خطرہ بھی ہے کیونکہ ویکسین کا ٹیکہ لگوائے ایک وقت گزر جانے کی وجہ سے اُن کی انٹی باڈیز کم ہوجاتی ہیں۔

احتیاطی اقدامات سے متعلق پروفیسر وادا نے کہا کہ اب چونکہ ہم موسمِ سرما کے مہینوں کی جانب بڑھ رہے ہیں، ویکسین لگوانے والوں کی شرح جتنی زیادہ ہوگی اُتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ ہم طبی نظام پر شدید دباؤ سے بچ سکتے ہیں۔

انہوں نے درخواست کی کہ جن لوگوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی ہے وہ اکتوبر کے اختتام تک لگوالیں۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ویکسین لگانے کے عمل میں پیشرفت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ متاثرین کی تعداد ایک مخصوص سطح تک بڑھ جانے کی صورت میں بھی طبی نظام پر دباؤ اتنا بڑا نہیں ہوگا جتنا کہ پہلے تھا۔

پروفیسر وادا نے نشاندہی کی کہ اس موضوع پر بات چیت کی ضرورت ہے کہ کورونا وائرس کو کس طرح سمجھا جائے اور ہمیں اس کے خلاف کس حد تک اقدامات کرنے چاہیئں۔

یہ معلومات 12 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 322: کورونا کے نئے متاثرین کی تعداد میں نمایاں کمی سے متعلق ماہرین کی آراء 1 ، اومی شِگیرُو ، حکومتی مشاورتی پینل کے سربراہ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں اس سال موسم گرما میں کورونا وائرس کی پانچویں لہر کے دوران وائرس کے یومیہ نئے متاثرین کی تعداد غیرمعمولی سطح تک بلند ہو گئی تھی۔ وسط اگست میں یہ تعداد 25 ہزار سے بھی تجاوز کر گئی۔ تاہم، مذکورہ ماہ کے اختتام کے بعد اس تعداد میں تیزی سے کمی آئی۔ 5 اکتوبر تک کے مسلسل تین روز میں یہ تعداد ایک ہزار یومیہ سے کم پر برقرار رہی جو عروج کے دنوں کے مقابلے میں تقریباً 25 گنا کم ہے۔ آج سے ہم اس نمایاں کمی کے پس منظر سے متعلق ماہرین کی آراء پیش کر رہے ہیں۔

حکومت نے ملک بھر سے ہنگامی حالت ختم کرنے کا فیصلہ 28 ستمبر کو کیا تھا۔ اُس روز منعقدہ اخباری کانفرنس میں حکومت کے مشاورتی پینل کے سربراہ اومی شِگیرُو نے اس فیصلے کی کئی وجوہات بیان کیں۔

پہلی وجہ یہ بیان کی گئی کہ اب طویل اختتام ہفتہ یا گرمیوں کی چھٹیوں جیسی زیادہ تعطیلات نہیں آ رہیں، جن میں لوگوں میں نقل و حرکت کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وائرس کی ایک سے دوسرے شخص میں منتقلی کے امکانات کم ہیں۔

دوسری وجہ یہ بتائی گئی کہ نئے متاثرین کی تعداد میں اضافے سے ہسپتالوں کے بھر جانے اور مریضوں کے گھر پر ہی علاج پر مجبور ہونے کی خبریں سننے کے بعد لوگوں میں بحران کے احساس میں اضافہ ہوا۔

تیسری وجہ، تفریحی علاقوں میں رات کے وقت لوگوں کی بھیڑ میں کمی آئی جب انفیکشن کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

چوتھی وجہ ویکسین لگانے میں پیشرفت بیان کی گئی، جس کے باعث نہ صرف عمر رسیدہ افراد بلکہ نوجوانوں میں بھی نئے انفیکشنز کی تعداد کم ہوئی۔

آخری وجہ موسم میں تبدیلی قرار دی گئی، جس میں درجۂ حرارت اور بارش کے حالات میں تبدیلی شامل ہے، جن سے وائرس انفیکشن کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

جناب اومی نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ٹھنڈے موسم میں لوگوں میں زیادہ وقت باہر گزارنے کا رجحان بڑھ جاتا ہے، جس سے چھوٹی جگہوں پر ایک دوسرے کے قریب ہونے کے باعث ہونے والے انفیکشن کے امکانات میں کمی آتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات کی سائنسی بنیاد پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ جناب اومی نے کہا کہ وہ اس بات کا جائزہ لینا جاری رکھیں گے کہ کن عوامل نے نئے متاثرین کی تعداد میں کمی کیلئے کس حد تک کردار ادا کیا ہے۔

یہ معلومات 11 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 321: شدید بیمار ہونے کے خطرے سے دوچار افراد 2 ، نئے پیمانے پر عمر کے گروپوں کے لحاظ سے خطرات کی نشاندہی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔

جاپان کے قومی مرکز برائے عالمی صحت و ادویات اور دیگر اداروں نے کورونا وائرس کے مریضوں کی بیماری شدت اختیار کرنے کے خطرے کی نشاندہی کے لیے پوائنٹس استعمال کرتے ہوئے ایک پیمانہ وضع کیا ہے۔

آج اس سلسلے کی دوسری قسط میں ہم پیمانے کے اس نظام کے مطابق عمر کے گروپوں کے لحاظ سے بیماری کی علامات شدت اختیار کرنے کے خطرات کا جائزہ لیں گے۔

اس پیمانے میں افراد کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا گروپ 18 سے 39 سال کی عمر، دوسرا گروپ 40 سے 64 سال کی عمر اور تیسرا گروپ 65 سال اور اس سے زائد العمر افراد کا ہے۔

18 سے 39 سال تک کی عمر کے افراد میں مردوں کو یہ پیمانہ ایک پوائنٹ دیتا ہے۔ 30 سال اور زائد عمر والے مردوں اور عورتوں دونوں اصناف کو بھی ایک پوائنٹ ملتا ہے۔ جسمانی وزن زیادہ یا کم ہونے کی جانچ کا اشاریہ بی ایم آئی 23 سے 29.9 کے درمیان ہونے کی صورت میں بھی ایک پوائنٹ ملتا ہے۔ جن افراد کا یہ اشاریہ 30 یا زائد ہوتا ہے، انہیں دو پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔ کسی شخص کا وزن صحت مندانہ مقدار سے زائد ہونے یا نہ ہونے کا معلوم کرنے کے لیے اس اشاریے کا سہارا لیا جاتا ہے، جس میں کسی شخص کے کلوگرام میں لیے گئے وزن کو میٹر میں ناپے گئے قد کے دگنے عدد سے تقسیم کرتے ہیں۔

سرطان میں مبتلا افراد کو تین پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔

عمر کے اس گروپ سے تعلق رکھنے والے کورونا کے مریضوں کو 37.5 ڈگری سیلسیئس یا اس سے تیز بخار ہونے کی صورت میں یہ پیمانہ دو پوائنٹس دیتا ہے۔ خرخراہٹ کے ساتھ سانس لینے والے مریضوں کو بھی دو پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔ سانس لینے میں مشکل محسوس کرنے والوں کو ایک پوائنٹ ملتا ہے۔

یہ پیمانہ نشاندہی کرتا ہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے نئے کیسز کے دوران چھ سے زائد پوائنٹس لینے والے عمر کے اس گروپ میں شامل افراد کی بیماری کے شدت اختیار کرنے کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہے، لہٰذا ان کا مناسب علاج معالجہ کیا جانا چاہیے۔

40 سے 64 سال تک کی عمر کے گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد میں اس پیمانے کے مطابق مردوں کو ایک پوائنٹ ملتا ہے۔ 50 سے 59 سال تک کی عمر والے افراد کو بھی ایک پوائنٹ ملتا ہے۔ 60 سے 64 سال تک کی عمر والوں کو تین پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔ 25 یا زائد بی ایم آئی ہونے کی صورت میں 2 پوائنٹس ملتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کو ایک پوائنٹ ملتا ہے۔

عمر کے اس گروپ میں کووِڈ-19 کے مریضوں میں 37.5 ڈگری یا اس سے زیادہ تیز بخار میں مبتلا افراد کو یہ پیمانہ 2 پوائنٹس دیتا ہے۔ سانس لینے میں مشکل محسوس کرنے والوں کو بھی دو پوائنٹس ملتے ہیں۔ کھانسی یا تھکن محسوس کرنے والے مریضوں کو بھی ایک پوائنٹ دیا جاتا ہے۔

یہ پیمانہ نشاندہی کرتا ہے کہ کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بڑھنے کے عرصے میں، عمر کے اس گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کے پانچ یا زائد پوائنٹس ہونے کی صورت میں بیماری شدت اختیار کرنے کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہے، لہٰذا ان کا مناسب علاج معالجہ کیا جانا چاہیے۔

جہاں تک 65 سال یا اس سے زائدالعمر افراد کے گروپ کا تعلق ہے، 75 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو یہ پیمانہ دو پوائنٹس دیتا ہے۔ 25 سے زیادہ بی ایم آئی والے لوگوں کو دو پوائنٹس ملتے ہیں۔

دل کے پوری طرح کام نہ کرنے کے عارضے میں مبتلا افراد کو بھی دو پوائنٹس ملتے ہیں۔ بلند فشار خون کے ساتھ ساتھ ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کو بھی دو پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔ دماغ میں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ میں مبتلا مریضوں کو ایک پوائنٹ ملتا ہے۔

اس گروپ میں کووِڈ-19 کے مریضوں کو 37.5 ڈگری یا اس سے تیز بخار ہونے کی صورت میں یہ پیمانہ چار پوائنٹس دیتا ہے۔ سانس لینے میں دشواری محسوس کرنے والوں کو بھی چار پوائنٹس ملتے ہیں۔ کھانسی میں مبتلا افراد کو ایک پوائنٹ دیا جاتا ہے۔

اس پیمانے کے مطابق عمر کے اس گروپ میں تین یا اس سے زائد پوائنٹس لینے والے افراد بیماری شدت اختیار کرنے کے خطرے سے دوچار ہیں، لہٰذا ان کا بروقت علاج معالجہ کیا جانا چاہیے اور محکمۂ صحت کے حکام کو ان پر نظر رکھنی چاہیے۔

یہ معلومات 8 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 320: شدید بیماری کے خطرے سے دوچار افراد 1 ، ایک نئے پیمانے کی تشکیل – قومی مرکز برائے عالمی صحت و ادویات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان کے قومی مرکز برائے عالمی صحت و ادویات نے دیگر اداروں کے تعاون سے پوائنٹس کی بنیاد پر یہ جانچنے کا ایک نیا پیمانہ تشکیل دیا ہے کہ کورونا وائرس کے کن متاثرین کو شدید بیمار ہونے کا خطرہ ہے۔ اس پیمانے کے تحت زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے والے مریضوں کو سنگین بیماری کے خطرے کا زیادہ امکان ہوگا۔ چنانچہ اس پیمانے کو یہ طے کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ کن مریضوں کو ہسپتال میں داخل کرنے میں ترجیح دی جائے۔ اس نئے پیمانے سے متعلق دو قسطوں پر مشتمل سلسلے کی آج پہلی قسط پیشِ خدمت ہے۔

محققین نے جون سے ستمبر 2020 کے درمیان جاپان بھر کے ہسپتالوں میں لے جائے گئے تقریباً 4 ہزار 500 مریضوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے درمیانی سے شدید علامات والے ایسے مریضوں کی طبیعت کا جائزہ لیا جنہیں آکسیجن کی ضرورت تھی، اور ان کے مرض کی سنگینی کا اندازہ لگانے کے لیے پوائنٹس کے نظام کی بنیاد پرایک پیمانہ تشکیل دیا۔

اس پیمانے میں مریضوں کو عمر کے لحاظ سے گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ مثال کے طور پر 40 سے 64 سال کی عمر کے مرد مریضوں کو ایک پوائنٹ دیا گیا۔ مرد و خواتین، دونوں اصناف کو بی ایم آئی کی سطح 25 سے زیادہ ہونے کی صورت میں انہیں موٹا تصور کیا گیا اور 2 پوائنٹس دیے گئے۔ بی ایم آئی، کسی شخص کی بیرونی جسمانی حالت جانچنے کا ایک پیمانہ ہے۔ ذیابیطس کا شکار مریضوں کو مزید ایک پوائنٹ دیا گیا۔ اسی طرح 37.5 درجے سینٹی گریڈ سے زائد بخار والے افراد کو 2 پوائنٹس، سانس لینے میں مشکل کا شکار افراد کو مزید 2 پوائنٹس، کھانسی کی بنیاد پر مزید ایک پوائنٹ اور جسمانی تھکاوٹ کی بنیاد پر مزید ایک پوائنٹ کا اضافہ کیا گیا۔

جب کورونا انفیکشنز کی تیسری لہر کے دوران کے مریضوں کا اسی پیمانے کی بنیاد پر جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ 40 سے 64 سال کی عمر کے مجموعی طور پر 5 پوائنٹس حاصل کرنے والے افراد میں سے 23 فیصد مریض، وائرس کے باعث شدید بیمار ہوئے۔ مجموعی طور پر 10 پوائنٹس کے حامل افراد میں شدید بیمار ہونے والوں کی شرح 76 فیصد تک بلند تھی۔

محققین کا کہنا ہے کہ 5 سے زائد پوائنٹس والے افراد کو وائرس کے پھیلاؤ کے دنوں میں شدید خطرے کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کی کڑی نگرانی کی جانی چاہیے اور جلد از جلد انہیں کسی طبی مرکز میں لے جایا جانا چاہیے۔

قومی مرکز برائے عالمی صحت و ادویات کے ایک شریک تحقیق کار یامادا گین کہتے ہیں کہ وائرس کے دوبارہ بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کی صورت میں گھروں پر قرنطینہ کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ شروع ہو جائے گا۔ انہیں امید ہے کہ ایسی صورت میں یہ نیا پیمانہ شدید بیمار ہونے کے خطرے سے دوچار مریضوں کی مناسب انداز میں نشاندہی کر کے انہیں ہسپتال میں مطلوبہ علاج فراہم کرنے میں معاون ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیمانہ خطرات کے تمام امکانات کا احاطہ نہیں کرتا، لیکن اسے یہ فیصلہ کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے کہ آیا آپ خطرے کے شکار گروپ میں چلے گئے ہیں یا نہیں۔

یہ معلومات 7 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 319: کووِڈ-19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 8 ، کورونا وائرس کی پیشرفت سے کیسے نمٹا جائے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وباء سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے کی طرف سے ستمبر کے اوائل میں کیے گئے رائے عامہ کے جائزے کے نتائج سے متعلق ہمارا یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس سروے میں جاپان بھر سے 15 سے 69 سال تک کی عمر کے 1200 افراد کی رائے دریافت کی گئی تھی۔

آج ہم اس اختتامی قسط میں سروے کے اس آخری سوال کا جائزہ لیں گے کہ لوگوں کو وائرس میں ہونے والی پیشرفت سے کس طرح نمٹنا چاہیے؟

جواب دینے والوں کی سب سے زیادہ تعداد 63.6 فیصد نے کہا کہ لوگوں کو سرگرمیوں پر عائد کردہ پابندیوں کی پاسداری جاری رکھتے ہوئے وباء کے خاتمے کو ترجیح دینی چاہیے، جبکہ 7.5 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے سماجی و اقتصادی سرگرمیوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پابندیوں میں نرمی کے حامی افراد کے مقابلے میں 8 گُنا زائد افراد کا کہنا تھا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وباء کے خاتمے کو ترجیح دیں، چاہے اس کے لیے سماجی و اقتصادی سرگرمیوں کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔

اس سروے سے انکشاف ہوا کہ کئی پیشوں اور عمر کے مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی وباء، ویکسینیشن اور روزمرہ زندگیوں پر عائد پابندیوں کے بارے میں مختلف سوچ اور خدشات کے باوجود، روزمرہ کی پرسکون زندگی کی واپسی ان کی دلی خواہش ہے۔

یہ معلومات 6 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 318: کووڈ-19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 7 ، لوگوں کیلئے اپنا رویہ تبدیل کرنے کیلئے کیا ضروری ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وباء سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے کی طرف سے ستمبر کے اوائل میں کیے گئے رائے عامہ کے جائزے کے نتائج سے متعلق ہمارا سلسلہ جاری ہے۔ اس سروے میں جاپان بھر سے 15 سے 69 سال تک کی عمر کے 1200 افراد کی رائے دریافت کی گئی تھی۔آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ لوگ عالمی وباء میں افراد کا رویہ تبدیل کرنے کیلئے کس چیز کو ضروری سمجھتے ہیں۔

وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کیلئے ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ رویے میں تبدیلی کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس سروے میں لوگوں سے پوچھا گیا تھا کہ لوگوں کا رویہ تبدیل کروانے کیلئے کس قسم کے ڈھانچے یا نظام کی ضرورت ہے؟ مذکورہ سروے میں کئی جوابات دینے کی اجازت دی گئی تھی۔

جواب دینے والوں کی سب سے بڑی تعداد یا 62.2 فیصد نے کہا کہ مالیاتی اعانت۔ 45 فیصد کا کہنا تھا کہ انسدادِ وائرس اقدامات کو لازمی قرار دینا اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کرنا۔ 43.7 فیصد نے کہا کہ روایتی ماحول سے ہٹ کر دور دراز سے کام کرنے کو فروغ دینا۔ 43.2 فیصد کا کہنا تھا کہ حکومت اور ماہرین کی جانب سے قائل کرسکنے والی وضاحت اور پیغامات۔ 34.9 فیصد نے کہا کہ اسکول کی تعلیم آن لائن فراہم کرنا۔

اس سروے میں لوگوں سے یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ وہ کس قسم کے لازمی اقدامات کی خلاف ورزی پر جرمانے قبول کرسکتے ہیں۔

66.5 فیصد کا کہنا تھا کہ ماسک پہننے کی لازماً تعمیل۔ 54.4 فیصد نے کہا کہ تقریبات وغیرہ اور فرصت کے اوقات کی سرگرمیوں پر لازمی پابندی۔ 40.3 فیصد کا کہنا تھا کہ لازمی ویکسینیشن۔ 34.8 فیصد نے کہا کہ کھانے پینے کے ریستورانوں وغیرہ کے کاروباری اوقات پر لازمی پابندیاں۔ 24.1 فیصد کا کہنا تھا کہ لوگوں پر یہ لازمی ہونا کہ وہ باہر جانے کیلئے اجازت حاصل کریں۔ 6.8 فیصد نے کہا کہ وہ کوئی بھی لازمی اقدام قبول نہیں کرنا چاہتے۔

اس سروے سے متعلق سلسلے کی اگلی اور آخری قسط میں ہم اس موضوع پر لوگوں کی آراء کا جائزہ لیں گے کہ کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ پر کس طرح قابو پایا جائے۔

یہ معلومات 5 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 317: کووڈ-19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 6 ، کورونا وائرس ویکسینیشن کے بارے میں لوگوں کی سوچ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وباء سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے کی طرف سے ستمبر کے اوائل میں کیے گئے رائے عامہ کے جائزے کے نتائج سے متعلق ہمارا سلسلہ جاری ہے۔ اس سروے میں جاپان بھر سے 15 سے 69 سال تک کی عمر کے 1200 افراد کی رائے دریافت کی گئی تھی۔

آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کورونا وائرس ویکسینیشن سے متعلق لوگ کیا سوچتے ہیں۔

قرنطینہ یا خود کو الگ تھلگ رکھنے اور دیگر انسدادِ وائرس پابندیوں کے خاتمے کیلئے فیصلہ کُن اقدام کے طور پر کورونا وائرس ویکسینوں سے بلند توقعات وابستہ ہیں۔

اس سروے میں لوگوں سے سوال کیا گیا تھا کہ وہ ویکسینیشن منصوبے سے متعلق کیا سوچتے ہیں؟ 78 فیصد نے کہا کہ ان کے خیال میں ویکسین لگوانا بہتر ہے۔ 19.4 فیصد نے کوئی مثبت یا منفی جواب دینے سے گریز کیا، جبکہ 2.6 فیصد افراد نے کہا کہ ان کے خیال میں ویکسین لگوانے کا کوئی فائدہ نہیں۔

ویکسینیشن کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والوں میں سے عمر کے ہر گروپ کے تقریباً 70 فیصد افراد نے جواب دیا کہ اُنہیں یقین ہے کہ ویکسین لگوانا بہتر ہے۔ مثبت رجحان بڑی عمر کے افراد کے گروپوں میں زیادہ واضح تھا۔

ویکسین لگوانے کو غیر مفید سمجھنے والے لوگوں میں 7.1 فیصد افراد 15 سے 19 سال تک کی عمر کے تھے، اس کے بعد 4.6 فیصد لوگ 20 کے پیٹے کے، جبکہ 4 فیصد 30 کے پیٹے کے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ویکسین نہ لگوانے کے حق میں بڑی عمر کے افراد کم جبکہ نوجوان زیادہ ہیں۔

جب ان سے کورونا وائرس ویکسین لگوانے سے متعلق منفی خیالات کی وجہ پوچھی گئی تو بعض نے اس کے محفوظ ہونے اور ممکنہ مضر اثرات کے بارے میں خدشات کا ذکر کیا۔

20 کے پیٹے کی ایک کمپنی ملازمہ نے کہا کہ ویکسین کا محفوظ ہونا یا کئی سالوں بعد اس کے ممکنہ مضر اثرات سامنے آنا ابھی غیر واضح ہے۔

20 سال سے کم عمر کے ایک طالبعلم نے جواب دیا کہ وہ ممکنہ ضمنی اثرات اور ویکسین میں غیر متعلقہ اجزاء شامل ہونے کے خطرے سے خوفزدہ ہے۔

سروے میں جواب دینے والے کئی افراد نے کہا کہ وہ ابھی تک ویکسین لگوانے یا نہ لگوانے کا فیصلہ نہیں کر سکے ہیں۔ 20 کے پیٹے کے ایک کمپنی ملازم نے کہا کہ اس سلسلے میں مناسب معلومات ابھی دستیاب نہیں ہیں، کیونکہ ویکسین پروگرام کا ابھی آغاز ہی ہوا ہے۔ 50 کے پیٹے کی ایک خاتون نے کہا کہ مکمل طور پر سب لوگوں کا یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ویکسین لگوائی جائے یا نہیں۔

اگلی قسط میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ وائرس سے بہتر طور پر نبٹنے کی غرض سے لوگوں کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے کیا کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ معلومات 4 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 316: کووِڈ-19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِعمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 5، لوگوں کے خیال میں وہ کب تک اسی طرح زندگی گزار سکتے ہیں

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وباء سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے کی طرف سے ستمبر کے اوائل میں کیے گئے رائے عامہ کے جائزے کے نتائج سے متعلق ہمارا سلسلہ جاری ہے۔ اس سروے میں ملک بھر سے 15 سے 69 سال تک کی عمر کے 1200 افراد کی رائے دریافت کی گئی تھی۔ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عائد کردہ پابندیوں کے تحت زندگی گزارنے کے بارے میں آج لوگوں کی سوچ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جاپان میں لوگ انفیکشن پر قابو پانے کے لیے عائد کردہ سخت پابندیوں کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم نے پوچھا تھا کہ ان کے خیال میں وہ زیادہ سے زیادہ کب تک اس طرح زندگی گزار سکتے ہیں۔

تمام جواب دہندگان میں سے 42.5 فیصد نے جواب دیا کہ انفیکشن پر قابو پانے تک، جبکہ 18.6 فیصد نے کہا کہ سال کے اختتام تک، اور 18.1 فیصد نے لاعلمی ظاہر کی ہے۔ 10.7 فیصد نے جواب دیا کہ وہ یہ پابندیاں مزید برداشت نہیں کر سکتے، جبکہ 5.9 فیصد نے مزید چھ ماہ اور 4.3 فیصد نے مزید 12 ماہ تک پابندیاں برداشت کر سکنے کا بتایا ہے۔

اگرچہ سروے میں سوالات کا جواب دینے والوں کی نصف کے قریب تعداد نے کہا کہ وہ کورونا وائرس کی عالمی وباء پر مکمل قابو پانے تک پابندیوں کی تعمیل کریں گے، لیکن ایک چوتھائی سے زیادہ تعداد کے مطابق، وہ اب مزید اس طرح زندگی نہیں گزار سکتے یا انہوں نے کہا کہ وہ یہ پابندیاں چار ماہ بعد سال کے اختتام تک مزید برداشت کر سکتے ہیں۔

اس سلسلے کی اگلی قسط میں کورونا ویکسینیشن کے بارے میں لوگوں کی آراء کا جائزہ لیا جائے گا۔

یہ معلومات یکم اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 315: کووِڈ- 19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 4 ، لوگ خود پر بندش لگانے پر کیوں کم عمل کر رہے ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج کورونا وائرس سے متعلق لوگوں کی سوچ اور ان کا طرزِ عمل جاننے سے متعلق این ایچ کے کی جانب سے اوائلِ ستمبر میں کیے گئے سروے کے نتائج کے بارے میں ہمارے سلسلے کی چوتھی قسط پیشِ خدمت ہے۔ یہ سروے جاپان بھر کے 15 سے 69 سال تک کی عمر کے 1200 افراد سے کیا گیا تھا۔ آج ہم دیکھیں گے کہ بعض لوگ پابندیوں پر پہلے کی طرح عمل کیوں نہیں کر رہے۔

جب اس سروے میں لوگوں سے یہ سوال پوچھا گیا کہ وہ پابندیوں پر آیا اُسی طرح عمل کر رہے ہیں یا نہیں جس طرح گزشتہ سال اپریل میں پہلی بار ہنگامی حالت کے نفاذ کے وقت کر رہے تھے، تو تقریباً 20 فیصد افراد نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ اس کی وجوہات جاننے کے لیے ان سے ایک سے زائد جواب منتخب کرنے کا کہا گیا۔

سب سے زیادہ تعداد 42.6 فیصد نے کہا کہ وہ خود پر بندش لگانے سے تھک چکے ہیں، جبکہ 33.6 فیصد نے اس کی وجہ لوگوں کی بڑی تعداد کو ویکسین لگ جانا بتایا۔ 32.6 فیصد جواب دہندگان نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ وہ انفیکشن سے بچنے کے مناسب اقدامات کر رہے ہیں۔ 31.1 فیصد نے جواب دیا کہ وہ خود کو محدود کر کے زندگی نہیں گزار سکتے۔

اگلی قسط میں ہم لوگوں کی اِس سوچ کا جائزہ لیں گے کہ وہ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے پابندیوں پر کب تک عمل جاری رکھ سکتے ہیں۔

یہ معلومات 30 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 314: کووِڈ 19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 3 ، لوگوں کی خود پر بندش لگانے کی سطح میں تبدیلی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج کورونا وائرس سے متعلق لوگوں کی سوچ اور ان کا طرز عمل جاننے سے متعلق این ایچ کےکی جانب سے اوائلِ ستمبر میں کیے گئے سروے کے نتائج کے بارے میں ہمارے سلسلے کی تیسری قسط پیشِ خدمت ہے۔ یہ سروے جاپان بھر کے 15 سے 69 سال تک کی عمر کے 1200 افراد سے کیا گیا تھا۔ آج ہم جائزہ لیں گے کہ لوگوں کے خود پر بندش لگانے کی سطح میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں۔

کورونا وائرس سے لوگوں کا متاثر ہو جانا اب بھی جاری ہے اور بہت سے لوگ اپنی زندگیوں کے بارے میں کئی طرح کی تشویش کا شکار ہیں، تو کیا ان حالات میں ان کے خود پر بندش لگانے کے عمل میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟

سروے میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ اپریل 2020 میں پہلی بار ہنگامی حالت کے نفاذ کے مقابلے میں اب وہ کس حد تک پابندیوں کے اقدامات کی پابندی کر رہے ہیں؟ پہلے کے برابر پابندی کرنے یا اُس وقت سے زیادہ پابندی کرنے کا جواب دینے والوں کی کُل شرح تقریباً 80 فیصد تھی۔

جواب دینے والوں کی سب سے زیادہ تعداد 54 فیصد نے کہا کہ کوئی تبدیلی نہیں تھی جبکہ 26.6 فیصد نے جواب دیا کہ وہ اُس وقت کے مقابلے میں حفاظتی اقدامات کی زیادہ پابندی کر رہے ہیں اور 19.4 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ پہلے جتنی پابندی نہیں کر رہے۔

اس سروے سے یہ بھی پتہ چلا کہ جواب دینے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے کہا کہ وہ پچھلے سال کے مقابلے میں پابندی پر کم عمل کر رہے ہیں۔ دوسری جانب جواب دینے والے 60 کے پیٹے کے 12.5 فیصد، 50 کے پیٹے کے 15.5 فیصد اور 40 کے پیٹے کے 17.4 فیصد نے کہا کہ وہ پابندیوں کی اتنی زیادہ پابندی نہیں کر رہے، جبکہ 30 کے پیٹے کے 22 فیصد، 20 کے پیٹے کے 28.5 فیصد اور 15 سے 19 سال کی عمر کے 28.9 فیصد نے کہا کہ وہ پابندی پر عمل نہیں کر رہے۔

اگلی قسط میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ یہ لوگ اپنے حفاظتی اقدامات کی اُتنی پابندی کیوں نہیں کر رہے جتنی انہوں نے گزشتہ سال اپریل میں کی تھی۔

یہ معلومات 29 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 313: کووڈ 19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 2 ، موجودہ تفکرات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہم این ایچ کے کی جانب سے جاپان بھر کے 15 سے 69 برس تک کی عمر کے 1200 افراد سے کیے گئے سروے کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اوائلِ ستمبر میں کیا گیا یہ سروے کورونا وائرس سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل جاننے سے متعلق تھا۔ آج ہم اس امر کا جائزہ لیں گے کہ اس وقت لوگوں کو سب سے زیادہ جو تفکرات لاحق ہیں اُن سے متعلق سروے میں کیا انکشاف ہوا۔

جواب دینے والوں سے کہا گیا تھا کہ اس سوال کے کئی جوابات کا انتخاب کریں۔

جواب دینے والوں کی سب سے زیادہ تعداد 61.4 نے کہا کہ انہیں صحت دیکھ بھال کے نظام سے متعلق تشویش ہے، 49.5 کا کہنا تھا کہ گھر پر وائرس سے متاثر ہو جانا یا اُن کے بچوں کا وائرس سے متاثر ہو جانا، اور 33.3 فیصد نے کہا کہ قومی اور مقامی حکومتوں کی جانب سے ہنگامی حالت کے اعلان سمیت خود کو محدود کرنے کے اقدامات کی مزید طوالت سے متعلق فکر لاحق ہے۔

اس سوال کے تبصرے کے اضافی حصے میں کئی لوگوں نے کہا کہ اُنہیں خصوصاً خود کے وائرس سے متاثر ہو جانے سے متعلق فکر لاحق ہے۔

40 کے پیٹے کے ایک مرد ملازم نے کہا کہ اُنہیں تشویش ہے کہ اگر وہ بیمار پڑ گئے تو آیا صحت دیکھ بھال کا نظام اُن کا علاج معالجہ کرے گا۔ جُزوقتی کام کرنے والی 50 کے پیٹے کی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ اُنہیں اہلِ خانہ میں مرض پھیل جانے یا علامات تیزی کے ساتھ بڑھ جانے سے متعلق فکرات لاحق ہیں کیونکہ ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں کہ وائرس سے متاثرہ لوگ ہسپتال میں داخل نہ ہو سکنے کے سبب گھر پر قرنطینہ میں تھے یعنی الگ تھلگ رہ رہے تھے۔

دیگر لوگوں کا کہنا تھا کہ اُنہیں اپنی ملازمت اور آمدنی سے متعلق فکر ہے، یا خود کو محدود رکھنے کے طویل اقدامات کی وجہ سے جذباتی طور پر ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں۔

اپنا ذاتی کام کرنے والے 40 کے پیٹے کے ایک شخص نے کہا کہ وہ کام میں کمی کی وجہ سے گھٹتی ہوئی آمدنی کے باعث ماہانہ ادائیگیوں سے خلاصی پانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

ہماری اگلی قسط میں لوگوں کے خود کو محدود کرنے کے درجے میں تبدیلیوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

یہ معلومات 28 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 312: کووڈ-19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرز عمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 1 ، آپ کورونا وائرس سے کتنے خوفزدہ ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج سے شروع ہونے والا ہمارا یہ سلسلہ جاپان بھر کے 15 سے 69 برس تک کی عمر کے 1200 افراد سے این ایچ کے کی جانب سے کیے گئے سروے کے نتائج کے بارے میں ہے۔ اوائلِ ستمبر میں کیا گیا یہ سروے کورونا وائرس سے متعلق لوگوں کی سوچ اور ان کا طرزِ عمل جاننے سے متعلق تھا۔ اس کے نتائج سے لوگوں کی سوچ اور ان کے تفکرات کے بالکل مختلف ہونے اور سرگرمیوں پر طویل مدتی پابندیوں اور ویکسینیشن جیسے معاملات سے متعلق مختلف عمر کے افراد کی الگ الگ سوچ کا پتہ چلتا ہے۔

اس سروے میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ کورونا وائرس سے کتنے خوفزدہ ہیں؟ 50.4 فیصد افراد کا جواب تھا کہ وہ بہت خوفزدہ ہیں۔ 42.4 فیصد نے کہا کہ وہ کسی حد تک خوفزدہ ہیں، جبکہ 6.1 فیصد نے کہا کہ وہ بالکل خوفزدہ نہیں ہیں۔ اس نتیجے سے معلوم ہوتا ہے کہ جواب دہندگان کی تقریباً 93 فیصد تعداد کورونا وائرس سے خوفزدہ تھی۔

اگلی قسط میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ لوگ اس وقت کس بارے میں فکرمند ہیں۔

یہ معلومات 27 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 311: کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات پر سروے 2 ، سُونگھنے کی حِس کا متاثر ہونا سرفہرست

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اِس تازہ ترین سلسلے میں کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ٹوکیو کے سیتا گایا وارڈ نے اس علاقے میں کووِڈ-19 کے طویل مدتی اثرات سے متاثرہ افراد کا سروے کیا ہے۔ اس سروے میں نصف کے قریب افراد نے تھکاوٹ محسوس ہونے کی شکایت کی۔

جواب دینے والوں کی سب سے زیادہ تعداد تقریباً 54 فیصد نے سُونگھنے کی حِس کے خلافِ معمول ہونے کا بتایا، 50 فیصد نے تھکاوٹ محسوس ہونے کا کہا، 45 فیصد نے ذائقہ محسوس کرنے کی صلاحیت معمول کے مطابق نہ ہونے سے متعلق بتایا اور 34 فیصد نے کھانسی برقرار رہنے کی شکایت کی ہے۔

اس سروے سے معلوم ہوا کہ عمر کے گروپوں کے لحاظ سے طویل مدتی اثرات میں فرق تھا۔

سونگھنے کی حس ختم ہونے کی شکایت کرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد 13 سے 39 سال کے درمیان کی عمر کے افراد میں پائی گئی، جبکہ تھکاوت محسوس کرنے کا بتانے والوں کی سب سے زیادہ تعداد 40 سال سے 49 سال اور اس سے زائد عمر والے افراد میں ریکارڈ کی گئی۔

بعض افراد کے مطابق یادداشت متاثر ہونے یا سر کے بال کم ہونے سمیت طویل مدتی اثرات چھ ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہے۔

سیتاگایا وارڈ طویل مدتی اثرات کے نتائج کا تجزیہ کرے گا اور مستقبل کے جوابی اقدامات کا جائزہ لے گا۔

سیتاگایا وارڈ کے ناظم ہوساکا نوبُوتو کے مطابق، کئی افراد کو اپنے پیشہ ورانہ کام کے دوران اور روزمرہ زندگی میں کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات کا ہنوز سامنا کرنا پڑ رہا ہے تاہم ان افراد کی اعانت کے لیے فراہم کی جانے والی مدد کا نظام اب بھی ناکافی ہے۔ وارڈ کے ناظم نے امید ظاہر کی کہ ان اعداد و شمار کا اجراء کورونا وائرس کے علاج معالجے میں پیشرفت کے ساتھ ساتھ کووڈ-19 کے طویل مدتی اثرات میں مبتلا مریضوں کے علاج معالجہ کا طریقۂ کار ڈھونڈنے پر مبنی نظام تخلیق کرنے کے لیے حکومت سے درخواست کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

یہ معلومات 24 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 310: کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات 1 ، جائزے کے مطابق کورونا وائرس سے بچ جانے والے نصف متاثرین کی جانب سے طویل مدتی علامات کی اطلاع

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارا یہ تازہ ترین سلسلہ کورونا وائرس کے ممکنہ طویل مدتی اثرات کے بارے میں ہے۔

اپریل 2021 تک ٹوکیو کے سیتاگایا وارڈ نے اس علاقے میں اُن افراد کا سروے کیا جو ہسپتال یا گھر پر کووِڈ 19 کے علاج کے بعد تندرست ہو گئے تھے۔

سروے میں جواب دینے والے 3 ہزار 710 افراد میں سے تقریباً ایک ہزار 800 یعنی نصف کے قریب لوگوں نے بتایا کہ انہیں طویل عرصے تک اس بیماری کی علامات کا سامنا کرنا پڑا۔ جواب دینے والے 30 سے 59 سال کی عمر کے لوگوں میں یہ شرح خصوصاً بلند رہی۔ ان کی نصف سے زائد تعداد نے طویل مدتی اثرات کے بارے میں بتایا۔

ہم اگلی مرتبہ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ انہیں کس قسم کے اثرات کا سامنا رہا۔

یہ معلومات 22 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 309: کورونا وائرس ادویات 11 ، موجودہ ادویات جنہیں کورونا وائرس کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے ادویات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم بعض ایسی دواؤں کا جائزہ لیں گے جن کی دیگر بیماریوں کے علاج کیلئے پہلے ہی منظوری دی جا چکی ہے۔

جاپانی حکومت نے نئے کورونا وائرس کے علاج کیلئے اب تک چار اقسام کے علاج کی منظوری دی ہے۔ ان کے علاوہ یہ تصدیق کرنے کی غرض سے دیگر بیماریوں کیلئے استعمال کی جانے والی موجودہ ادویات پر طبی جائزے جاری ہیں کہ آیا یہ کورونا وائرس کے خلاف بھی مؤثر ہیں یا نہیں۔

خصوصاً جن موجودہ دواؤں کا اب جائزہ لیا جا رہا ہے وہ ہیں ایکٹیمرا، ایوِیگان، الویسکو، فُوتھن اور آئِیور میکٹن۔ ایکٹیمرا گٹھیا کی سوزش کے علاج کیلئے ہے اور ایویگان انفلوئنزہ کے نئے وائرس کیلئے ہے۔ الویسکو دمہ کی علامات کو دباتی ہے جبکہ فُوتھن کو ایسی بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جن سے لبلبے کی شدید سوزش پیدا ہوتی ہے یا خون کے لوتھڑے بن جاتے ہیں۔ آئِیورمیکٹن، پیراسائیٹس کی وجہ سے ہونے والے وبائی امراض کے خلاف مؤثر ہونے کیلئے مشہور ہے۔

آئِیورمیکٹن آن لائن خریداری کی ویب سائٹس کے ذریعے دستیاب ہے۔ یہ کووِڈ-19 کے خلاف متوقع طور پر مؤثر دوا کے طور پر توجہ حاصل کر رہی ہے۔

انفرادی گاہک خود اپنے طور پر یہ دوا خرید رہے ہیں۔

لیکن دنیا بھر کے ملکوں کے صحت حکام اور عالمی ادارۂ صحت کے علاوہ ادویات ساز کمپنیوں کا بھی کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف اس دوا کی افادیت کی طبی آزمائشوں کے ذریعے ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ مریضوں کو انفرادی طور پر خود اپنی مرضی سے یہ دوا نہیں لینی چاہیے۔

یہ معلومات 21 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 308: کورونا وائرس ادویات 10 ، وہ ادویات جو تیاری کے مراحل میں ہیں (2) ، روش، شِیئونوگی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کورونا وائرس کے علاج کی نئی ادویات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم اُن دواؤں کا جائزہ لیں گے جو تیاری کے مرحلے میں ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کی سرکردہ ادویات ساز کمپنی روش یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا وہ ہیپیٹائٹس سی کے مریضوں کے علاج کے لیے اے ٹی 527 نامی جو اینٹی وائرل دوا تیار کرتی رہی ہے وہ کووِڈ 19 کا مقابلہ کرنے کے لیے مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے یا نہیں۔ یہ کمپنی جاپان اور دوسرے ملکوں میں مریضوں پر اس دوا کے تجربات کے آخری مرحلے میں ہے۔ جاپان میں اس دوا کی تیاری میں معاونت کرنے والی کمپنی چُوگائی فارماسیوٹیکل نے وزارت صحت سے دوا کے استعمال کے منظوری لینے کے لیے آئندہ سال درخواست دینے کی توقع ظاہر کی ہے۔

جاپان کی ایک سرکردہ ادویات ساز کمپنی شِیئونوگی کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی اینٹی وائرل دوا تیار کر رہی ہے۔ اس کمپنی نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ اُس نے استعمال میں دوا کے محفوظ ہونے کی تصدیق کے لیے تجربات کا پہلا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔

یہ معلومات 17 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 307: کورونا وائرس کی ادویات 9 ، وہ ادویات جو تیاری کے مراحل میں ہیں۔ (1) ، مرک، فائزر

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کورونا وائرس کے علاج کی نئی ادویات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم اُن دواؤں کا جائزہ لیں گے جو تیاری کے مرحلے میں ہیں۔

دنیا بھر میں کئی افراد کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد گھر پر قرنطینہ میں ہیں یعنی دوسروں سے الگ تھلگ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی دواؤں کی بہت زیادہ مانگ ہے جو ہلکی علامات والے مریض، مرض کی شدت کو بڑھنے سے روکنے کے لیے گھر پر خود سے کھا سکیں۔ دوا ساز کمپنیاں جاپان اور بیرونی ممالک میں بھی ایسی دواؤں کی تیاری پر کام کر رہی ہیں۔

امریکہ کی نامور دوا ساز ’مرک اینڈ کمپنی‘ وائرس کے خلاف ایک دوا تیار کر رہی ہے جس کا نام مولنُوپِیراوِیر ہے۔ یہ دوا جاپان اور دیگر ممالک میں مریضوں پر آزمائش کے حتمی مرحلے میں ہے۔ مذکورہ ادویات ساز ادارے کی ایک جاپانی ذیلی کمپنی کا کہنا ہے کہ آزمائش کے نتائج جلد از جلد اِسی ماہ یا آئندہ ماہ تک سامنے آ جائیں گے۔ اس کمپنی کے مطابق آزمائش کے نتائج اطمینان بخش ہونے کی صورت میں وہ امریکہ کی خوراک اور ادویات کی انتظامی ایجنسی، ایف ڈی اے سے اس کے ہنگامی استعمال کی منظوری حاصل کرنے کیلئے رواں سال کے آخر تک درخواست دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ایک اور ممتاز امریکی کمپنی فائزر، بیرونِ ملک ایسے علاج کی آزمائش کے حتمی مرحلے میں ہے جس میں وائرس کا توڑ کرنے والی دو دوائیں ایک ساتھ دی جاتی ہیں۔ اس کمپنی کے مطابق، غالب امکان یہ ہے کہ آزمائش کے عبوری نتائج اکتوبر اور دسمبر کے درمیان آ جائیں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ایف ڈی اے کو اس دوا کے ہنگامی استعمال کی اجازت کیلئے درخواست، جلد از جلد بھی رواں سال کے آخر تک دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ فائزر کا یہ بھی کہنا ہے کہ جاپانی مریضوں پر بھی اس دوا کی آزمائش کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

یہ معلومات 16 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 306: کورونا کی ادویات 8 ،ادویات کی قسم نمبر 3، مدافعتی قوت کے ضرورت سے زیادہ ردعمل کو روکنا

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کورونا وائرس کے علاج کی نئی ادویات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم کووِڈ 19 کے علاج کی مختلف اقسام کا جائزہ لیں گے۔

حکومت جاپان کے کورونا وائرس کے علاج کے لیے منظور کردہ علاج کی بنیادی طور پر صرف تین اقسام ہیں، جو ان کے مؤثر ہونے کے طریقِ کار کے لحاظ سے ہیں۔

1۔ وائرس کو خلیوں میں داخل ہونے سے روکنے والی دوائیں
2۔ خلیوں میں پہلے ہی داخل ہو چکنے والے والے وائرس کی افزودگی کو روکنے والی دوائیں
3۔ پہلے ہی افزودہ ہو چکنے والے وائرس کے خلاف جسمانی مدافعتی نظام کے ضرورت سے زیادہ متحرک ہونے کو روکنے کی دوائیں

ڈیکسامیتھاسون اور بیریسِٹینِب کا تعلق تیسری قسم کی دواؤں سے ہے جو قوّتِ مدافعت کے ضرورت سے زیادہ ردعمل کی روک تھام کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ جب انسان کسی وائرس سے متاثر ہوتا ہے تو خلیے، مدافعتی خلیوں کو تحریک دینے والے مختلف سوزشی اجزاء خارج کرتے ہیں۔ تاہم جب وائرس افزودہ ہو کر اپنی تعداد بڑھاتا ہے، تو بعض اوقات خلیوں سے قوّتِ مدافعت کو تحریک دینے والے اجزاء بہت زیادہ مقدار میں خارج ہو سکتے ہیں اور قوّتِ مدافعت ناقابل کنٹرول سطح تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان کے پھیپھڑے اور دیگر جسمانی اعضاء کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے مریض شدید علیل ہو جائے گا۔ ایسے مواقعوں پر مدافعتی نظام کی زائد از ضرور تحریک کو دبانے اور سوزشی اجزاء کے اخراج کو کم کرنے کے لیے زیادہ غالب امکان یہ ہے کہ مریض کو اسٹرائیڈ دوائیں دی جائیں گی۔ ڈیکسامیتھاسون اور بیریسِیٹینِب بنیادی طور پر شدید علامات والے مریضوں کے لیے مؤثر دواؤں کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

یہ معلومات 15 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 305: کورونا وائرس ادویات 7 ، دواؤں کی قِسم نمبر 2، خلیوں میں وائرس کے داخلے کی روک تھام

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کورونا وائرس کے علاج کی نئی ادویات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم کووِڈ 19 کے علاج کی مختلف اقسام کا جائزہ لیں گے۔

کورونا وائرس کے علاج معالجے کے لیے حکومت جاپان کے منظور کردہ علاج کی صرف تین اقسام ہیں، جو ان کی افادیت کے طریقِ کار کے لحاظ سے ہیں۔

1۔ وائرس کو خلیوں میں داخل ہونے سے روکنے والی دوائیں۔
2۔ خلیوں میں پہلے ہی داخل ہو چکنے والے وائرس کی افزودگی کو روکنے والی دوائیں۔
3۔ پہلے ہی افزودہ ہو چکنے والے وائرس کے خلاف جسمانی مدافعتی نظام کے ضرورت سے زیادہ متحرک ہونے کو روکنے کی دوائیں۔

ریمڈیسیوِر قِسم 2 کی دوا ہے جو وائرس کو خلیوں کے اندر نقل بنانے سے روکتی ہے۔ جب وائرس خلیوں کے اندر ہوتا ہے تو ان کی طاقت استعمال کر کے اپنی نقل کی افزودگی جاری رکھتا ہے۔

ریمڈیسیوِر سمیت قِسم 2 کی ادویات وائرس کی نقل بنانے میں شامل ایک اینزائم یعنی خامرہ کا عمل روکتے ہوئے وائرس کو نقل بنانے سے روکتی ہیں۔ معمولی علامات والے کووِڈ-19 کے مریضوں کو منہ کے ذریعے دی جانے والی دیگر دوائیں بھی ہیں جو اس وقت تیار کی جا رہی ہیں۔ ان میں سے بیشتر قِسم 2 سے تعلق رکھتی ہیں۔ وائرسوں میں نقل بنانے کا طریقِ عمل عام ہے۔ اس کی وجہ سے کئی ادویات ساز کمپنیاں دیگر وائرسوں کیلئے تیار کردہ ادویات کی بنیاد پر کورونا وائرس کی دوائیں بنانے کے قابل ہو گئی ہیں۔ توقع ہے کہ صحت سے متعلقہ حکام سفارش کریں گے کہ ایسی دواؤں کو انفیکشن کے ابتدائی مراحل میں استعمال کیا جائے۔

یہ معلومات 14 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 304: کورونا وائرس ادویات 6 ، دواؤں کی قسم نمبر 1، خلیوں میں وائرس کے داخلے کی روک تھام

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کورونا وائرس کے علاج کی نئی ادویات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم کووِڈ 19 کے علاج کی مختلف اقسام کا جائزہ لیں گے۔

کورونا وائرس کے علاج کے لیے حکومت جاپان کے منظور کردہ علاج کی صرف تین اقسام ہیں، جو ان کے مقصد اور کارکردگی کے لحاظ سے ہیں۔

1۔ وائرس کو خلیوں میں داخل ہونے سے روکنے والی دوائیں۔
2۔ خلیوں میں پہلے ہی داخل ہو چکنے والے وائرس کی افزودگی کو روکنے والی دوائیں۔
3۔ پہلے ہی افزودہ ہو چکنے والے وائرس کے خلاف جسمانی مدافعتی نظام کے ضرورت سے زیادہ متحرک ہونے کو روکنے کی دوائیں۔

قسم نمبر 1 میں اینٹی باڈی کاک ٹیل نامی طریقۂ علاج کی دوائیں، کورونا وائرس کے جسم کے خلیوں پر حملہ آور ہو کر خلیوں میں ان کے داخلے روکتی ہیں۔ کورونا وائرس کی سطح پر موجود نوکوں والا پروٹین، انسانی خلیوں میں داخل ہونے سے قبل ان کے ساتھ چپکتا ہے۔ اینٹی باڈی کاک ٹیل طریقۂ علاج میں مصنوعی طور پر تیار ہونے والی اینٹی باڈی، وائرس کے خلیوں میں داخلے کو روکنے کے لیے خود وائرس کے نوکدار پروٹین سے چپک جاتی ہے۔ اس طریقۂ علاج کی سفارش مرض کے ابتدائی مراحل میں کی جاتی ہے۔ اسے انتہائی مؤثر خیال کیا جاتا ہے، کیونکہ اینٹی باڈی وائرس کو نشانہ بنانے کے لحاظ سے تیار کی جاتی ہے۔ اس طریقۂ علاج کے ضمنی اثرات بھی بہت کم سامنے آئے ہیں۔

یہ معلومات 13 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 303: کورونا وائرس ادویات5 ، اسٹروویمیب

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور ادویات ساز کمپنیاں نئے کورونا وائرس کے خلاف مؤثر ثابت ہونے کی توقع کی حامل نئی ادویات کی انسانوں پر آزمائش کر رہی ہیں۔ توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا یہ ادویات نئے طریقۂ علاج کی جانب رہنمائی کر سکیں گی یا نہیں۔ ہمارے حالیہ سلسلے میں ایسی ہی ادویات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ آج ہم نئی دوا اسٹروویمیب پر نظر دوڑائیں گے۔

حکومتِ جاپان نے نئے کورونا وائرس کے علاج کے لیے چار اقسام کے طریقۂ علاج کی منظوری دی ہے۔

برطانیہ کی گلیکسو اسمتھ کلائن سمیت ادویات ساز کمپنیوں کی تیار کردہ ایک نئی دوا کا حکومت اس وقت جائزہ لے رہی ہے۔

نئی دوا اسٹروویمیب، وائرس کا اثر زائل کرنے والی اینٹی باڈی ہے، جو مریضوں کی ورید میں داخل کی جاتی ہے اور یہ دوا وائرس کا پھیلاؤ کم کرنے کے لیے مشہور ہے۔ یہ دوا بیماری کی ہلکی سے معتدل علامات والے ایسے مریضوں کو دی جاتی ہے جنہیں مصنوعی آکسیجن کی ضرورت نہ ہو، لیکن اُن کی بیماری کی شدید علامات ظاہر ہونے کا انتہائی خطرہ ہو۔ بیرون ملک اس دوا کی انسانوں پر آزمائش کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ اس طریقۂ علاج سے مریض کے ہسپتال میں داخل ہونے یا مرنے کا خطرہ 79 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

گلیکسو اسمتھ کلائن نے جاپان میں اس دوا کے استعمال کی منظوری حاصل کرنے کے لیے وزارت صحت کو 6 ستمبر کو درخواست دی ہے۔

امریکہ میں اسٹروویمیب کی ہنگامی استعمال کے لیے مئی میں منظوری دی جا چکی ہے۔

توقع ہے کہ جاپان میں وزارت صحت کی جانب سے اسٹروویمیب کے استعمال کی منظوری ستمبر کے اختتام تک دے دی جائے گی۔ بیماری کی ہلکی علامات سے دوچار مریضوں کے علاج کے لیے مختلف ادویات کا مرکب اینٹی باڈی دوا ’’رونا پریوے‘‘ کے بعد یہ جاپان میں منظوری دی جانے والی دوسری دوا ہو گی۔

یہ معلومات 10 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 302: کورونا وائرس ادویات 4 ، اینٹی باڈی کاک ٹیل علاج

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور دوا ساز کمپنیاں کورونا وائرس کے خلاف ممکنہ طور پر کارآمد ادویات کی طبی آزمائش کر رہی ہیں۔ اب توجہ اس جانب مرکوز ہے کہ آیا ان آزمائشوں سے کوئی نیا علاج دریافت ہوگا یا نہیں۔ ہم اپنے اس نئے سلسلے میں ایسی ادویات کا ایک ایک کر کے جائزہ لے رہے ہیں۔ آج ہم علاج کیلئے دو اینٹی باڈیز کاک ٹیل کے استعمال پر توجہ مرکوز کریں گے۔

حکومت جاپان نے کورونا کے علاج کے لیے چار دواؤں کی منظوری دی ہے۔ ’’اینٹی باڈی کاک ٹیل ٹریٹمنٹ‘‘ کہلانے والے، دو دواؤں کے مرکب کے ذریعے علاج کی منظوری جولائی 2021 میں دی گئی تھی۔

اس طریقۂ علاج میں دو اینٹی باڈی دوائیں ’’کیسِیرِیوِیمیب‘‘ اور ’’اِمڈیوِیمیب‘‘ مریض کو رگوں کے ذریعے ایک ساتھ دی جاتی ہیں۔ یہ ہلکی علامات والے مریضوں کے لیے جاپان میں منظور کیا گیا پہلا طریقۂ علاج ہے اور یہ وائرس کو ختم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ بیرون ملک کیے گئے طبی تجربات کے نتائج سے معلوم ہوا کہ مریض کو بیماری کے ابتدائی مرحلے پر ہی یہ اینٹی باڈی ادویات دینے کی صورت میں، اس کے ہسپتال میں داخل ہونے یا اس کی موت واقع ہونے کا خطرہ 70 فیصد کم ہو جاتا ہے۔

امریکہ کے خوراک اور ادویات کے منتظم ادارے نے نومبر 2020 میں یہ کہتے ہوئے اس کے ہنگامی استعمال کی منظوری دی تھی کہ یہ مریضوں کے شدید بیمار ہونے کے خطرے کی روک تھام میں ایک حد تک مؤثر ہے۔ اکتوبر 2020 میں اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کورونا ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آنے اور ان کے ہسپتال میں داخل ہونے پر، ان کے علاج کے لیے اسی اینٹی باڈی کاک ٹیل کا استعمال کیا گیا تھا۔

جاپان کی وزارت صحت نے ابتداء میں صرف ہسپتال میں داخل مریضوں کو اینٹی باڈی کاک ٹیل دینے کی اجازت دی تھی۔ اس کا مؤقف تھا کہ ایسے مریضوں کی دوران علاج اور بعد از علاج طبی ماہرین کے ذریعے نگرانی ضروری ہے۔ تاہم وائرس متاثرین کی تعداد میں حالیہ بڑے اضافے کے باعث کئی مریضوں کو ہسپتال میں داخل کرنا ممکن نہ رہا۔ چنانچہ وزارت صحت نے 13 اگست کو اپنے رہنماء خطوط پر نظر ثانی کی، جس کے بعد ہوٹلوں اور عارضی طبی مراکز پر زیرِ قرنطینہ متاثرین کے لیے بھی ان کی مؤثر نگرانی کی شرط پر انہیں اینٹی باڈی کاک ٹیل دینے کی اجازت مل گئی۔

25 اگست کو وزیر اعظم سُوگا یوشی ہیدے نے ایک اخباری کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ بیرونی مریضوں کے لیے بھی اینٹی باڈی کاک ٹیل یعنی دو اینٹی باڈی مرکبات کے آمیزے کے استعمال کی اجازت دیں گے۔

یہ معلومات 9 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 301: کورونا وائرس ادویات 3 ، بیرِیسٹینِب

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور دوا ساز کمپنیاں کورونا وائرس کے خلاف ممکنہ طور پر کارآمد ادویات کی طبی آزمائش کر رہی ہیں۔ اب توجہ اس جانب مرکوز ہے کہ آیا ان آزمائشوں سے کوئی نیا علاج دریافت ہوگا یا نہیں۔ ہم اپنے اس نئے سلسلے میں ایسی ادویات کا ایک ایک کر کے جائزہ لے رہے ہیں۔ آج ہم بیرِیسٹینِب پر توجہ مرکوز کریں گے۔

حکومت جاپان نے نئے کورونا وائرس کے علاج کے لیے چار دواؤں کے استعمال کی منظوری دی ہے۔ ان میں سے سوزش ختم کرنے والی دوا بیرِیسٹینِب کے استعمال کی منظوری اپریل 2021 میں دی گئی تھی جو گٹھیا کے ورم کے علاج کیلئے مشہور ہے۔ یہ گولیوں کی شکل میں ہوتی ہے اور اس کے استعمال کی اجازت ریمڈیسیور کے ساتھ صرف درمیانی یا سنگین علامات والے مریضوں کیلئے دی گئی ہے۔

ایک بین الاقوامی طبی آزمائش سے معلوم ہوا ہے کہ صرف بیرِیسٹینِب سے علاج کے مقابلے میں اِسے ریمڈیسویر کے ساتھ ملا کر دینے پر مریض اوسطاً ایک دن جلد صحتیاب ہو گئے۔

یہ معلومات 8 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 300: کورونا وائرس ادویات 2، ڈیکسامیتھاسون

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور دوا ساز کمپنیاں کورونا وائرس کے خلاف ممکنہ طور پر کارآمد ادویات کی طبی آزمائش کر رہی ہیں۔ اب توجہ اس جانب مرکوز ہے کہ آیا اس کا کوئی نیا علاج دریافت ہوگا یا نہیں۔ آج ہم کورونا وائرس ادویات پر اپنے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ڈیکسا میتھاسون پر توجہ مرکوز کریں گے۔

حکومت جاپان نے نئے کورونا وائرس کے علاج کیلئے چار ادویات کی منظوری دی ہے۔ وزارتِ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کے علاج کی دوا کے طور پر ڈیکسامیتھاسون کی جولائی 2020ء میں منظوری دی گئی۔ ڈیکسامیتھاسون، جو اسٹیرائیڈ یعنی نامیاتی مرکب دوا ہے، سوزش اور الرجی ردعمل کم کرنے میں مؤثر ہے۔ اسے گھٹیا نما سُوجن اور نمونیا کے شدید بیمار مریضوں کے علاج کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

برطانیہ میں ایک طبی آزمائش میں ثابت ہوا ہے کہ یہ دوا کووِڈ-19 کی شدید علامات والے مریضوں میں موت کا خطرہ کم کرتی ہے۔ جاپان میں ڈیکسامیتھاسون کو ریمڈیسیویر کے ساتھ ملا کر ہمہ گیر انداز میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی علاج سال 2020ء کے موسمِ بہار میں کورونا وائرس کی پہلی لہر کے بعد اموات کی شرح میں بڑی کمی کا سبب ہے۔

یہ معلومات 7 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 299: کورونا وائرس ادویات 1، ریمڈیسیوِیر

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور دوا ساز کمپنیاں کورونا وائرس کے خلاف ممکنہ طور پر کارآمد ادویات کی آزمائش کر رہی ہیں۔ اب توجہ اس جانب مرکوز ہے کہ آیا اس کا کوئی نیا علاج دریافت ہوگا یا نہیں۔ آج سے شروع کی جانے والے اس نئے سلسلے میں ہم ایسی دواؤں کا ایک ایک کر کے جائزہ لیں گے۔ آج کی پہلی قسط ریمڈیسیوِیر کے بارے میں ہے۔

جاپانی حکومت نے نئے کورونا وائرس کے علاج کے لیے 4 دواؤں کی منظوری دی ہے۔ وائرس کا توڑ کرنے والی دوا ریمڈیسیویر کی ہنگامی صورتحال کیلئے مئی 2020 میں خصوصی منظوری دی گئی۔ اس طرح یہ حکومت کی جانب سے منظور کی جانے والی 4 دواؤں میں سے پہلی ہے۔

ریمڈیسیویر ابتدائی طور پر ایبولا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھی۔ اسے ڈرپ کے ذریعے خون کی رگوں میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال صرف ان سنگین حالت والے مریضوں تک محدود تھا، جنہیں مثال کے طور پر مصنوعی تنفس کی مشین یا ای سی ایم او نامی دل اور پھیپھڑوں کی مشین لگی ہوئی ہو۔ لیکن جنوری 2021 میں حکومت نے نمونیا کی درمیانی علامات والے مریضوں کے لیے اس کے استعمال کی منظوری دی۔

یہ معلومات 6 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 298: بچوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کورونا وائرس انفیکشنز 5 ، کمرۂ جماعت کی بندش، حکومت نے پہلی بار ضوابط طے کر دیے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج بھی جاپان میں کورونا وائرس کے بچوں میں بڑھتے ہوئے انفیکشنز پر گفتگو جاری رکھی جائے گی۔ آج ہم اسکولوں میں ’’کمرۂ جماعت کی بندش اور اس جماعت کے بچوں کو اسکول آنے سے عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کرنے کے لیے وزارت تعلیم کے ضوابط‘‘ کا جائزہ لیں گے۔

اسکول میں زیرِ تعلیم کسی بچے یا عملے کے کسی فرد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد اس بچے کی مخصوص جماعت کو بند کرنے یا نہ کرنے کا اختیار اب تک بورڈ آف ایجوکیشن کو حاصل تھا، جو صورتحال کا جائزہ لینے اور متاثرہ اشخاص سے قریبی رابطے میں آنے والوں کی نشاندہی کرنے والے عوامی صحت مراکز سے مشورہ ملنے کے بعد یہ فیصلہ کرتے تھے۔ تاہم ہنگامی حالت نافذ کردہ علاقوں میں خاطر خواہ دباؤ کا سامنا کرنے والے عوامی صحت مراکز کے کام میں تاخیر ہونے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ وزارت صحت اور وزارت تعلیم نے اس معاملے پر غور و خوض کے بعد مخصوص فیصلے کے لیے معیاری رہنماء اصول طے کر دیے ہیں۔

ان معیاری رہنماء اصولوں میں، کسی متاثرہ شخص کی نشاندہی ہونے کی صورت میں اسکول کی طرف سے اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات بتائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اسکول کو متاثرہ شخص سے قریبی رابطے میں آنے والے یا کورونا وائرس ٹیسٹ کروانا لازمی قرار دیے جانے والے افراد کی فہرست تیار کرنی ہو گی۔

بتایا گیا ہے کہ ٹیسٹ کروانے کی ضرورت پڑنے والے افراد کا تعین کرنے میں مشکل پیش آنے کی صورت میں جماعت کے تمام بچوں کا کورونا وائرس ٹیسٹ کروانا چاہیے۔

مذکورہ رہنماء اصولوں میں بتایا گیا ہے کہ کمرۂ جماعت بند کیا جائے اور بچوں کو عارضی طور پر اسکول آنے سے روک دیا جائے، اگر:

ایک ہی کمرۂ جماعت میں کئی بچے وائرس سے متاثر پائے جائیں۔

صرف ایک بچے میں انفیکشن کی تصدیق ہو، لیکن کئی دیگر میں عام نزلہ زکام سے ملتی جلتی علامات ظاہر ہو رہی ہوں، یا کئی بچوں کے متاثرہ بچے سے قریبی رابطے میں آنے کی نشاندہی ہو اور کمرۂ جماعت میں وائرس کے پھیلنے کی شدید تشویش پائی جائے۔ کمرۂ جماعت کی بندش تقریباً پانچ تا سات دن تک جاری رہے گی۔

اس کے علاوہ، رہنماء اصولوں میں کہا گیا ہے کہ اگر ایک ہی سال کی جماعت کے کئی سیکشنوں کو بند کرنا پڑے اور وائرس کے اس جماعت کے تمام سیکشنوں میں پھیلنے کا قوی امکان موجود ہو تو اس جماعت کے تمام سیکشنوں کو بند کر دیا جائے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مختلف سالوں کی مختلف جماعتوں کو بند کرنے کی صورت میں پورے اسکول کو عارضی طور پر بند کر دیا جائے۔

یہ معلومات 3 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 297: بچوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کورونا وائرس انفیکشنز 4 ، کیا متغیر قِسم ڈیلٹا سے بچوں کے متاثر ہونے کا زیادہ امکان ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم بچوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق اپنے سلسلے کی چوتھی قسط پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ اب جبکہ وائرس کی متغیر قسم ڈیلٹا جاپان میں زیادہ عام ہو چکی ہے، تو کیا بچوں کے اس سے متاثر ہونے کا زیادہ امکان ہے؟

قومی ادارہ برائے متعدی امراض کے محققین نے اپریل سے جاپان میں وائرس ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آنے والے تمام افراد کے ڈیٹا کا ان کی عمر کے گروپوں کے لحاظ سے تجزیہ کیا ہے۔ انہوں نے پتہ لگایا کہ جولائی تک جب جاپان میں ڈیلٹا قسم غالب آ چکی تھی، 18 سال تک کے نوجوانوں میں شرح تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ تحقیق میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کے متاثرین کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ اس عمر کے افراد میں ویکسین لگوانے کے باعث متاثر ہونے کی شرح گر چکی تھی۔ محققین کے مطابق تجزیے کے نتائج سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ متغیر قسم ڈیلٹا بچوں کے لیے زیادہ خطرناک ہے۔

ہم نے مذکورہ قومی ادارے کے سربراہ اور وزارت صحت کے کورونا وائرس انفیکشن سے متعلق ماہرین کے پینل کے سربراہ واکِیتا تاکاجی سے دریافت کیا۔ جناب واکِیتا نے بتایا کہ وائرس سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ متاثرین کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہے، وائرس سے باہر متاثر ہونے والے بالغان، گھروں پر بچوں کو وائرس منتقل کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ توقع نہیں ہے کہ صورتحال موسمی فلُو کے وقت جیسی ہوگی، جب وائرس بچوں میں زیادہ منتقل ہوتا ہے۔

یہ معلومات 2 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 296: بچوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کورونا وائرس انفیکشنز 3 ، اسکولوں میں وائرس سے بڑے بچوں کے متاثر ہونے کا زیادہ امکان

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم بچوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق سلسلے کی تیسری قسط پیش کر رہے ہیں۔ وزارت صحت کی ایک حالیہ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسکولوں میں بڑی عمر کے بچوں میں وائرس سے متاثر ہونے کی شرح زیادہ ہے۔

وزارت کے حکام نے اپریل سے اواخرِ جولائی کے دوران 3 سے 18 سال کی عمر تک کے ایسے 6 ہزار 600 بچوں کا تجزیہ کیا جن کے وائرس ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا تھا اور جن کے متاثر ہونے کے راستوں کا حکام پتہ لگا سکے تھے۔ حکام نے اپنا تجزیہ، ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آنے والے تمام افراد کے اعداد و شمار کے وزارتی نظام کی بنیاد پر کیا۔ تجزیے کے نتائج وزارت کے تشکیل کردہ ماہرین کے ایک پینل کے 25 اگست کے اجلاس میں پیش کیے گئے۔

اس رپورٹ کے مطابق، 3 سے 5 سال تک کی عمر کے بچوں کی 59.8 فیصد تعداد گھروں پر وائرس سے متاثر ہوئی۔ 19.8 فیصد تعداد دن میں ان کی دیکھ بھال کرنے والے ڈے کیئر سینٹرز یا کسی بہبودی مرکز پر متاثر ہوئی۔ جبکہ ان کی 15.9 فیصد تعداد اسکول یا کنڈرگارٹن میں وائرس سے متاثر ہوئی۔ 6 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کی 76.6 فیصد تعداد گھروں پر اور 14.6 فیصد تعداد اسکولوں میں متاثر ہوئی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 13 سے 15 سال کی عمر کے بچوں میں گھروں پر وائرس سے متاثر ہونے والوں کی شرح 60 فیصد، جبکہ اسکولوں میں متاثر ہونے والوں کی شرح 33 فیصد تھی۔ سب سے زیادہ عمر کے یعنی 16 سے 18 سال کی عمر کے گروپ کے بچوں میں سے 45.7 فیصد اسکولوں میں جبکہ 39.4 فیصد گھروں پر وائرس سے متاثر ہوئے۔

تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں کُل متاثرہ بچوں میں سے 20 فیصد سے بھی کم تعداد کے وائرس سے متاثر ہونے کے ذریعے یا راستے کا پتہ چلایا جا سکا۔ رپورٹ کے مطابق، اس کے باوجود یہ رجحان واضح ہے کہ بچے جتنے بڑے ہوں گے، اسکولوں میں وائرس سے متاثر ہونے کا ان کا اتنا ہی زیادہ امکان ہوگا۔

یہ معلومات یکم ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 295: بچوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کورونا وائرس انفیکشنز 2 ، اسکول بند کرنے کیلئے مقامی حالات کو مدِ نظر رکھا جانا چاہیے: ماہرین امراضِ اطفال

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم بچوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے موضوع پر اپنے سلسلے کی دوسری قسط پیش کر رہے ہیں۔

جاپان میں چونکہ بچوں میں کووِڈ-19 انفیکشنز تیزی سے پھیل رہے ہیں، جاپان ماہرینِ امراضِ اطفال سوسائٹی اور جاپان ماہرینِ اطفال ایسوسی ایشن نے جمعرات کے روز ایک آن لائن اجلاس منعقد کیا اور اسکول کی سرگرمیوں سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وائرس کی انتہائی وبائی متغیر قِسم ڈیلٹا کا غلبہ ہو گیا ہے اور پہلے سے زیادہ بچے وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اسکولوں میں متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ٹیوشن مراکز سمیت تعلیمی جگہوں پر انسدادِ انفیکشن کے مکمل اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

اُنہوں نے کہا ہے کہ جب نئی مدت شروع ہو تو ملک بھر میں اسکولوں کو ایک ہی وقت میں بند کرنے کی ضرورت نہیں اور اسکول کو بند کرنے یا بچوں کے مخصوص الگ الگ اوقات میں پہنچنے کیلئے ہر علاقے کی صورتحال کو مدِ نظر رکھا جانا چاہیے۔ امراضِ اطفال کے ماہرین انتظامی حکام سے کہہ رہے ہیں کہ مخصوص اوقات کا ڈھانچہ اور دیگر معیارات پیش کریں۔

اگر بعض ایلیمنٹری اسکول بند ہوئے تو اس کے باعث کچھ والدین کو کام سے چھٹی لینا پڑے گی، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کام کی جگہوں پر مدد اور ادراک ضروری ہوگا۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ چونکہ 10 سال سے زیادہ کی عمر کے بچوں میں انفیکشن کی ماہیت بالغان سے مماثل ہے اس لیے بالخصوص سینیئر ہائی اسکولوں میں آن لائن تعلیم کو متحرک انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔

بغیر بُنائی والے کپڑے سے تیار کردہ قابلِ تلف ماسک وائرس کی منتقلی کی روکتھام کیلئے اہم ہیں۔ لیکن کیونکہ ایک بڑی مقدار استعمال کرنے کی ضرورت ہے، ماہرینِ امراض اطفال کے دونوں گروپوں کا کہنا ہے کہ گھر والوں پر معاشی بوجھ کم کرنے کیلئے بچوں کو مفت ماسک فراہم کرنے کے خیال پر غور کیا جانا چاہیے

جاپان ماہرینِ امراضِ اطفال سوسائٹی کے صدر اوکا آکیرا نے کہا ہے کہ بچوں کیلئے اسکول کی زندگی کو مستحکم کرنا بہت اہم ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر اسکول کی بندش جیسے اقدامات ہوتے ہیں تو ایلیمنٹری، جونیئر اور ہائی اسکولوں کیلئے مختلف اقدامات کی ضرورت ہے، لہٰذا ان میں سے ہر ایک کیلئے علیحدہ علیحدہ معیارات مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ معلومات 31 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 294: بچوں میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ 1 ، جاپان قومی انسٹیٹیوٹ برائے متعدی امراض کی جانب سے اسکولوں میں کورونا وائرس کی روک تھام کے بنیادی اقدامات کا اجراء

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج سے ہم بچوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے موضوع پر ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔

جاپان میں بچوں میں کووِڈ 19 متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں جاپان انسٹیٹیوٹ برائے متعدی امراض نے 25 اگست کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں اسکولوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے بنیادی اقدامات کا خلاصہ پیش کیا ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد اسکولوں میں کلسٹر انفیکشنز یا اجتماعی طور پر متاثر ہونے سے متعلق مذکورہ ادارے کا لیا گیا جائزہ ہے۔

وائرس کی ڈیلٹا نامی متغیر قسم کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 19 سال سے کم عمر بچوں میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن کئی پرائمری اسکولوں میں نسبتاً بڑے پیمانے پر پھیلاؤ اساتذہ میں ہوا ہے، جبکہ بچوں میں بڑے پیمانے پر یا اجتماعی طور پر متاثر ہونے کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔

رپورٹ میں ٹیوشن سینٹروں سمیت نرسری اسکولوں سے یونیورسٹیوں تک تمام تعلیمی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر طالبعلم کی طبعی حالت کو دیکھتے ہوئے ان کی نگرانی کریں۔ اسکولوں کو طبیعت خراب ہونے یا کسی اور وجہ سے غیر حاضر طالبعلم کی گھر پر کی جانے والی سرگرمیوں کی نگرانی کیلئے بھی مکمل اقدامات کرنے چاہیئں۔ رپورٹ میں یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ ان تمام اساتذہ کو جنہیں صحت کا کوئی مسئلہ نہ ہو، لازماً ویکسین لگوانی چاہیے۔

رپورٹ میں تعلیمی اداروں کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ ثقافتی یا کھیلوں کے میلے معطل یا منسوخ کریں، جو بہت سے لوگوں کے جمع ہونے کے باعث انتہائی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اسکولوں کی غیر نصابی سرگرمیوں کی غرض سے اپنے پریفیکچر سے باہر سفر کے لیے رپورٹ میں ہدایت کی گئی ہے کہ طلباء اپنی روانگی سے قبل تین روز کے اندر اندر پی سی آر ٹیسٹ کروائیں۔

رپورٹ میں اسکولوں کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ آن لائن کلاسوں کا انعقاد کرنے سمیت آئی سی ٹی ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جائے، اسکولوں میں ہوا کی آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ جانچنے والے آلات استعمال کیے جائیں، ایسی ایپس فعال انداز میں استعمال کی جائیں جو طلباء کی جسمانی حالت کا جائزہ لیتی رہیں اور جسمانی مدافعت کے ٹیسٹوں کا اہتمام کیا جائے۔

یہ معلومات 30 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 293: بڑے خریداری مراکز میں کورونا وائرس کے اجتماعی پھیلاؤ کے دوران مشاہدے میں آنے والے مشترکہ عوامل

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔

آج ہم بڑے خریداری مراکز پر کلسٹرز یعنی اجتماعی شکل میں کورونا وائرس انفیکشن کے دوران مشاہدے میں آنے والے بظاہر مشترکہ عوامل کا جائزہ لیں گے۔

جاپان میں قومی انسٹیٹیوٹ برائے متعدی امراض نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متاثرہ ڈیپارٹمنٹ اسٹوروں اور خریداری مراکز میں ماہرین روانہ کیے تاکہ انہیں عملے میں انفیکشن پھیلنے کی وجوہات معلوم کرنے میں معاونت فراہم کی جا سکے۔

ان خردہ فروشوں کا کہنا ہے کہ کلسٹر انفیکشنز کی وجوہات کی ابھی تک چھان بین کی جا رہی ہے اور ہر ایک خریداری مرکز کورونا وائرس کے انسدادی اقدامات کو تقویت دے رہا ہے۔

ان ماہرین نے تمام مراکز میں پائے گئے بڑے مشترکہ عوامل سے متعلق ایک رپورٹ مرتب کی ہے اور انفیکشنز کی روکتھام کے لیے اقدامات تجویز کیے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق، عملے کے بیشتر افراد مناسب طریقے سے ماسک تو لگا رہے ہیں، تاہم انہیں ہاتھ دھونے میں بہتری لانی ہو گی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بعض اوقات مرکز کی کچھ مخصوص منزلوں پر صارفین کا ہجوم رہتا ہے۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عملے کے متاثرہ اراکین کے ساتھ رابطے میں آنے والے افراد کا پتہ چلانے کے لیے پورے اقدامات نہ اٹھانے کے بعض واقعات بھی پیش آئے ہیں اور ایسے افراد کے لیے مناسب احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض اوقات عملے کے افراد کھانے پینے کی جگہوں یا طہارت خانوں میں ایک دوسرے کے انتہائی قریب جمع رہے تھے۔

اس میں سفارش کی گئی ہے کہ عموماً بھیڑ لگنے والے مقامات پر آنے والے افراد یا صارفین کی تعداد کو محدود کیا جائے۔ رپورٹ میں خردہ فروشوں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ارتکاز کی پیمائش کرتے ہوئے ہوا کی آمد و رفت بہتر بنانے کا طریقہ اختیار کرنے اور عملے کو کھانے پینے کی جگہوں میں کھانا کھاتے وقت یا طہارت خانے استعمال کرتے وقت ایک دوسرے سے بات چیت نہ کرنے کی تلقین کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔

یہ معلومات 27 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 292: گھر پر قرنطینہ کرنے والی کورونا وائرس سے متاثرہ حاملہ خاتون کے ہنگامی امداد طلب کرنے کے رہنماء خطوط

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کورونا وائرس متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی صورتحال کے دوران اب حاملہ خواتین بھی وائرس سے متاثر ہو رہی ہے۔ ٹوکیو سے ملحقہ چیبا پریفیکچر میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک حاملہ خاتون کو کسی ہسپتال میں جگہ دستیاب نہ ہونے کے باعث مجبوراً گھر پر ہی بچے کو جنم دینا پڑا اور قبل از وقت پیدا ہونے والا وہ بچہ مناسب طبی دیکھ بھال نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔ اس واقعے کے بعد جاپان کی علمِ زچگی اور امراضِ نسواں سوسائٹی اور جاپان کے زچگی کے ماہرین کی تنظیم نے حاملہ خواتین کے لیے ایسی علامات کی فہرست مرتب کی ہے جن کے ظاہر ہونے کی صورت میں انہیں طبی امداد کے عملے سے رابطہ کرنا چاہیے یا ایمبولینس طلب کرنی چاہیے۔ یہ رہنماء خطوط ان تنظیموں کی ویب سائٹس پر دستیاب ہیں۔

ان رہنما خطوط کے تحت گھر پر قرنطینہ کرنے والی کورونا وائرس سے متاثرہ حاملہ خاتون کو درج ذیل صورتوں میں ڈاکٹر یا مقامی عوامی طبی مرکز سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
• اسے ایک گھنٹے میں دو بار سے زائد سانس لینے میں دشواری پیش آئے۔
• جب واش روم تک چل کر جانے جیسی سرگرمیوں میں اس کی سانس پھول جائے۔
• جب اس کے دل کی دھڑکن 110 بار فی منٹ سے بڑھ جائے یا اس کی سانس ایک منٹ میں 20 بار یا اس سے زیادہ ہو جائے۔
• اس کے خون میں آکسیجن کی سطح 93 سے 94 فیصد ہو اور ایک گھنٹہ آرام کے باوجود معمول پر نہ آئے۔

مذکورہ رہنماء خطوط کے مطابق درج ذیل صورتوں میں فوری طور پر ایمبولینس طلب کی جانی چاہیے۔
• جب وہ سانس پھول جانے کے باعث چھوٹا سا جملہ بھی نہ بول سکے۔
• جب اس کے خون میں آکسیجن کی سطح 92 فیصد یا اس سے بھی کم ہو جائے۔

زچگی اور امراضِ نسواں کے ماہرین نے انتظامی اداروں سے بھی کہا ہے کہ وہ اوپر دیے گیے ہنگامی حالات نہ ہونے کی صورت میں بھی جن میں ہنگامی فون کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، حاملہ خواتین کو زچگی کے لیے متعلقہ سہولتوں والے ہسپتال منتقل کرنے میں مدد فراہم کریں۔

انہوں نے انتظامیہ سے ایسا ماحول تشکیل دینے کا بھی کہا ہے جس میں گھر پر قرنطینہ کرنے والی حاملہ خواتین خون میں آکسیجن کی سطحوں کی روزانہ جانچ کر سکیں۔

یہ معلومات 26 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 291: اکیلے رہنے والے افراد کے لیے گھر پر قرنطینہ کی احتیاطی تدابیر

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اب اپنے گھروں میں قرنطینہ کر رہی ہے۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ اگر آپ اکیلے رہتے ہیں اور آپ کے کورونا وائرس ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آ جاتا ہے، لیکن اپنے گھر پر قرنطینہ کے سوا آپ کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تو آپ کو کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

ہم نے یہ سوال بین الاقوامی یونیورسٹی برائے صحت و بہبود کے پروفیسر ماتسُوموتو تیتسُویا سے کیا۔ وہ متعدی امراض کی روک تھام کے احتیاطی اقدامات کے ماہر ہیں۔ پروفیسر ماتسُوموتو نے بتایا کہ اکیلے رہنے والے شخص کو دوستوں یا رشتہ داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنا چاہیے تاکہ رابطہ ختم ہونے کی صورت میں انہیں معلوم ہو جائے کہ مریض کی حالت زیادہ خراب ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ رابطہ بالمشافہ طور پر قریب سے ہی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ بعض افراد مرض کی علامات ظاہر ہونے کے بعد بھی برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہوں، چاہے انہیں عوامی صحت مرکز فون کرنے کی صورت میں وہاں کا فون ہمیشہ مصروف ہی ملے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ مریض طبیعت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں ایمبولینس بلانے کے لیے ہنگامی فون کرنے کے قابل نہ رہے۔ پروفیسر نے مزید کہا کہ ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے مریض کو ہنگامی صورتحال کے لیے پہلے ہی ایک سے زائد افراد کو اپنا رابطہ یا نمائندہ مقرر کر دینا چاہیے۔

پروفیسر ماتسُوموتو نے لوگوں کو خوراک، پینے کے پانی اور جراثیم کش ادویہ کا ذخیرہ کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے، تاکہ وائرس سے متاثر ہو جانے اور گھر پر قرنطینہ کرنے کی صورت میں یہ چیزیں کام آئیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے متاثر ہونے سے پہلے ایسا نہیں کیا انہیں چاہیے کہ وہ دوستوں یا رشتہ داروں کو فون کر کے کہیں کہ کھانے پینے کی، اور دیگر ضروری چیزیں گھر کے دروازے کے باہر رکھ جائیں۔

یہ معلومات 25 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 290: گھر پر قرنطینہ رہنے کے دوران کی احتیاطی تدابیر 2 ، اپنے گھر میں انفیکشنز کی روکتھام کے طریقے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی ایک ریکارڈ تعداد اب اپنے اپنے گھروں میں قرنطینہ میں ہے، یعنی دوسروں سے الگ تھلگ رہ رہی ہے۔ ماہرین کے ایک گروپ نے ٹوئیٹر پر ایسی ہنگامی علامات کے بارے میں پوسٹ کیا ہے جن سے متعلق فوری احتیاط ضروری ہے اور یہ کہ گھر میں قرنطینہ کے دوران وائرس کے اپنے گھر والوں تک پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا کِیا جانا چاہیے۔ ہم اسی موضوع پر دو حصوں پر مشتمل اپنے سلسلے کی دوسری قسط میں گھر پر وائرس منتقلی کی روکتھام کے طریقوں کا جائزہ لیں گے۔

انسدادِ کورونا وائرس کوششوں میں شریک صحت دیکھ بھال اور عوامی حفظانِ صحت کے ماہرین پر مشتمل مذکورہ گروپ نے گھر پر خاندان کے افراد کو وائرس سے متاثر ہونے سے بچانے کیلئے درج ذیل آٹھ نکات کی فہرست جاری کی ہے۔

1۔ مریض اور گھر کے دیگر افراد کو الگ الگ کمروں میں رہنا چاہیے۔
2۔ مریض اور مریض کی دیکھ بھال کرنے والے، دونوں کو ماسک پہننا چاہیے۔
3۔ مریض کی دیکھ بھال کرنے والا فرد جس قدر ممکن ہو ایک ہی ہونا چاہیے۔
4۔ مریض اور دیکھ بھال کرنے والے شخص کو بار بار اپنے ہاتھوں کو دھونا چاہیے۔
5۔ کمرے وغیرہ کو دن کے دوران جس قدر ممکن ہو ہوادار رکھیں۔
6۔ اکثر چھوئی جانے والی مشترکہ جگہوں وغیرہ کو صاف اور جراثیم سے پاک کریں۔
7۔ کپڑے وغیرہ رکھنے کی جگہوں اور کپڑوں کو دھوئیں۔
8۔ کچرے کو مضبوطی سے سربمہر کریں اور اسے باہر پھینکیں۔

مذکورہ گروپ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے بہت سے مریضوں کو صحت عامہ کے سرکاری مراکز سے کسی رابطے یا شفاخانوں کی جانب سے ایسی ہدایات کے بغیر ہی گھر میں قیام کرنا پڑ رہا ہے کہ کیا احتیاط کی جائے، لہٰذا انہوں نے سوچا کہ انہیں ضروری معلومات لوگوں تک پہنچانی چاہیئں۔

یہ معلومات 24اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 289: گھر پر قرنطینہ رہنے کے دوران کی احتیاطی تدابیر 1 ، ہنگامی علامات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی ایک ریکارڈ تعداد اب اپنے اپنے گھروں میں قرنطینہ میں ہے، یعنی دوسروں سے الگ تھلگ رہ رہی ہے۔ ماہرین کے ایک گروپ نے ٹوئیٹر پر ایسی ہنگامی علامات کے بارے میں پوسٹ کیا ہے جن سے متعلق فوری احتیاط ضروری ہے اور یہ کہ گھر میں قرنطینہ کے دوران وائرس کے اپنے گھر والوں تک پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا کِیا جانا چاہیے۔ ہم اسی موضوع پر دو حصوں پر مشتمل اپنے سلسلے میں گھر پر قرنطینہ کی احتیاطی تدابیر کا جائزہ لیں گے۔

کورونا کے پھیلاؤ کی روک تھام کی کوششوں میں شامل صحت عامہ کے ماہرین کے ایک رضاکار گروپ نے 17 اگست کو ٹوئیٹر پر ان نکات کی ایک فہرست پوسٹ کی ہے، جن کا گھر پر الگ تھلگ رہنے کے دوران خیال رکھنا چاہیے۔

اس گروپ نے انتباہی اشاروں کے طور پر 13 ایسی ہنگامی علامات کی ایک فہرست جاری کی ہے جن کے نمودار ہونے کی صورت میں فوراً ایمبولینس بلائی جانی چاہیے۔ درج ذیل 9 علامات ایسی ہیں جن کی مریض کو خود ہی جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔

1۔ ہونٹ نیلے پڑ جانا
2۔ سانس بھاری ہو جانا
3۔ سانس لینے میں اچانک دشواری
4۔ کوئی ہلکا سا کام کرنے پر بھی سانس لینے میں دشواری
5۔ سینے میں درد
6۔ لیٹی ہوئی حالت میں سانس نہ لے سکنا
7۔ سانس پھولنے کے ساتھ کاندھوں کا بھاری ہو جانا
8۔ اچانک سانس میں خرخراہٹ
9۔ نبض کی رفتار میں بے قاعدگی محسوس ہونا

ماہرین کی پوسٹ کردہ ہدایات میں متاثرہ شخص کے گھر والوں کو درج ذیل 4 علامات کا خیال رکھنے کا کہا گیا ہے۔

10۔ چہرہ واضح طور پر زرد ہو جانا
11۔ شکل اور رویہ معمول سے مختلف ہو جانا
12۔ آواز دینے یا چُھونے پر سست رد عمل
13۔ آواز دینے یا چُھونے پر کوئی رد عمل نہ ہونا

مذکورہ گروپ کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں طبی نظام پر بھاری دباؤ ہے وہاں اِن علامات میں سے کسی علامت کے ظاہر ہونے اور ایمبولینس بلانے کے باوجود مریض کو ہسپتال لے جانے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ گروپ کا مشورہ ہے کہ جب لوگ یہ تشویش محسوس کریں کہ اُن کی طبیعت زیادہ خراب ہوتی جا رہی ہے تو انہیں ڈاکٹر کو بلانا چاہیے۔ اس سلسلے میں اُس ڈاکٹر سے جس نے کورونا وائرس کی تشخیص کی ہے، یا مقامی صحت عامہ کے دفتر یا مقامی بلدیہ کی جانب سے فراہم کردہ کورونا وائرس ہاٹ لائن پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ معلومات 23 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 288: کورونا وائرس کی متغیر قسم ڈیلٹا کیا ہے؟ 4 ، یہ ایک دوسری متغیر قسم لمبڈا سے کس طرح مختلف ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس سلسلے میں دنیا بھر میں پھیلنے والی کووڈ 19 کی متغیر قسم ڈیلٹا پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم جائزہ لیں گے کہ کورونا وائرس کی ایک دوسری متغیر قسم لمبڈا کے مقابلے میں متغیر قسم ڈیلٹا کس طرح مختلف ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق متغیر قسم لمبڈا کی موجودگی کی سب سے پہلے تصدیق جنوبی امریکی ملک پیرو میں اگست 2020 میں ہوئی تھی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ متغیر قسم بنیادی طور پر پیرو، چلی اور ایکواڈور جیسے جنوبی امریکی ممالک میں پھیل رہی ہے۔

نئے کورونا وائرس کی دنیا بھر میں پائی جانے والی تمام متغیر اقسام کے جینیاتی تسلسل کا ریکارڈ رکھنے والی گِس ایڈ (GISAID) ویب سائٹ کے مطابق 15 اگست تک 34 ملکوں نے متغیر قسم لمبڈا پائے جانے کی اطلاع دی تھی۔ تاہم گزشتہ چار ہفتوں کے اعداد و شمار پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس متغیر قسم کی موجودگی کی بیشتر اطلاعات چلی سے موصول ہوئی ہیں۔

بعض جینیاتی تبدیلیوں کے باعث متغیر قسم لمبڈا اصل وائرس کے مقابلے میں ممکنہ طور پر زیادہ متعدی ہے یا وائرس کا اثر زائل کرنے والی اینٹی باڈیز کی اثر انگیزی کو کم کر سکتی ہے۔

لہٰذا عالمی ادارہ صحت نے اسے اُن متغیر اقسام کے زمرے وی او آئی میں شامل کیا ہے، جن پر نظر رکھی جائے گی۔ لیکن وائرس کی قابل تشویش سمجھی جانے والی متغیر اقسام کے زمرے وی او سی میں شامل متغیر اقسام ڈیلٹا اور الفا کے مقابلے میں لمبڈا وائرس اتنے وسیع پیمانے پر نہیں پھیل رہا۔ جاپان کے متعدی امراض کے ادارے نے وائرس کی متغیر قسم لمبڈا کو نہ تو وی او سی اور نہ ہی وی او آئی زمرے میں شامل کیا ہے۔

ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ متغیر قسم لمبڈا کس قدر متعدی ہے یا متاثرہ شخص کو کس حد تک سنگین بیماری میں مبتلا کر سکتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ وائرس کے خلاف اقدامات پر اس وائرس کے اثر انداز ہونے اور ویکسین کی اثر انگیزی کو کم کرنے کا پتہ چلانے کے لیے مزید مطالعاتی جائزے درکار ہوں گے۔

دراصل کورونا وائرس کی متغیر قسم ڈیلٹا کے مقابلے میں متغیر قسم لمبڈا کی موجودگی کا پہلے پتہ چلا تھا۔ لیکن متغیر قسم ڈیلٹا زیادہ تیزی سے پھیلی اور اب یہ کئی ملکوں میں فوری خطرے کا باعث بنی ہوئی ہے۔

یہ معلومات 20 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 287: کورونا وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا کیا ہے؟ 3 ، ویکسین کی اثر انگیزی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس سے بننے والی ایک متغیر قِسم ڈیلٹا سے متعلق سلسلے کی تیسری قسط میں آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ اس کے لیے ویکسین کس حد تک مؤثر ہے؟

رواں سال 27 جولائی کو عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ویکسین کے مؤثر ہونے کے حوالے سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، تجربہ گاہ میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جسم میں ویکسین کے باعث بننے والی اینٹی باڈیز کی تعداد متغیر قِسم ڈیلٹا کے خلاف کم ہوئی۔

تاہم، ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے ویکسین کی اثر انگیزی کم ہو جاتی ہے، کیونکہ موجودہ ویکسینیں انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، آسٹرازینیکا یا فائزر ویکسینوں کے حوالے سے وائرس کی متغیر اقسام الفا اور ڈیلٹا سے متعلق کیے گئے تقابلی جائزے سے معلوم ہوا کہ کورونا وائرس کی علامات یا اس کی دوسروں کو منتقلی کی روک تھام کے معاملے میں الفا کے مقابلے میں ڈیلٹا کے لیے ویکسینوں کی اثر انگیزی کم تھی، لیکن شدید بیمار ہونے کی روکتھام کے لحاظ سے دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں پایا گیا۔

یہ معلومات 19 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 286: کورونا وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا کیا ہے؟ 2 ، کیا یہ زیادہ شدید بیماری کا باعث بن سکتی ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا ایک ایسی انتہائی متعدی متغیر قسم ہے جو اس وقت دنیا بھر میں پھیل رہی ہے۔ ڈیلٹا سے متعلق سلسلے کی دوسری قسط میں آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کیا یہ متغیر قسم اصل وائرس کے مقابلے میں بیماری کی شدید علامات کا باعث بن سکتی ہے؟

اب تک یہ بات واضح طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے کہ آیا وائرس کی متغیر قسم ڈیلٹا زیادہ شدید بیماری کا باعث بن سکتی ہے یا نہیں۔ تاہم، عالمی ادارۂ صحت کے مطابق کینیڈا میں کورونا وائرس کے 2 لاکھ سے زائد متاثرین کے ڈیٹا کی بنیاد پر کی گئی ایک تحقیق کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ اصل وائرس کے مقابلے میں متغیر قِسم ڈیلٹا کے باعث متاثرہ شخص کے ہسپتال میں داخل ہونے کی امکانات میں 120 فیصد، انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل ہونے کے امکانات میں 287 فیصد اور موت کے امکانات میں 137 فیصد اضافہ ہوا۔

یہ معلومات 18 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 285: کووِڈ-19 کی متغیر قِسم ڈیلٹا کیا ہے؟ 1، یہ کتنی وبائی ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ متغیر قِسم ڈیلٹا، کورونا وائرس کی انتہائی وبائی قِسم ہے جو اس وقت دنیا بھر میں پھیل رہی ہے۔ آج متغیر قِسم ڈیلٹا سے متعلق ہمارے اس سلسلے کی پہلی قسط میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ یہ کتنی وبائی ہو سکتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا کی سب سے پہلے بھارت میں اکتوبر 2020ء میں اطلاع دی گئی تھی اور بعد ازاں اس کی دنیا بھر میں تصدیق ہو چکی ہے۔ اگست کے اوائل تک یہ 130سے زیادہ ملکوں اور خطوں میں دیکھنے میں آئی۔ ڈبلیو ٹی او نے اسے وی او سی یا ’’تشویش کی حامل متغیر قِسم‘‘ کی فہرست میں ڈال دیا ہے جنہیں تمام معلوم متغیر اقسام میں ممکنہ طور پر خطرناک ترین سمجھا جاتا ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ متغیر قِسم ڈیلٹا اصل متعدی وائرسوں اور متغیر قِسم الفا سے بھی زیادہ وبائی ہے جس کی سب سے پہلے برطانیہ میں تصدیق ہوئی تھی۔ جاپان کی وزارتِ صحت کے ماہرین کے پینل کے ایک اجلاس میں پیش کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ متغیر قِسم ڈیلٹا اصل وائرسوں کے مقابلے میں 1.87 گُنا زیادہ وبائی ہے اور متغیر قِسم الفا کی نسبت 1.3 گُنا زیادہ متعدی ہے۔ جاپان اور بیرونِ ملک دیگر مطالعات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ڈیلٹا روایتی وباؤں کے مقابلے میں تقریباً دو گُنا وبائی ہے اور متغیر قِسم الفا کی نسبت تقریباً 50 فیصد زیادہ متعدی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے یہ بھی بتایا ہے کہ چینی سائنسدانوں کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ متغیر قِسم ڈیلٹا سے متاثرہ لوگوں میں وائرس کی مقدار روایتی وباؤں سے متاثرہ لوگوں کے مقابلے میں ایک ہزار 200 گُنا زیادہ ہے۔ اس دریافت کا متغیر قِسم کی انتہائی متاثر کرنے کی صلاحیت سے کچھ تعلق ہو سکتا ہے۔

جاپان کے قومی انسٹیٹیوٹ برائے وبائی امراض نے 26 جولائی کو تخمینہ لگایا تھا کہ جولائی کے اختتام تک ٹوکیو اور تین ہمسایہ پریفیکچروں سائیتاما، چیبا اور کاناگاوا میں کورونا وائرس انفیکشن سے متاثرہ تقریباً 80 فیصد لوگ متغیر قِسم ڈیلٹا سے متاثر ہوئے جبکہ اوساکا، کیوتو اور ہیوگو پریفیکچر میں یہ تناسب تقریباً 40 فیصد تھا۔

یہ معلومات 17 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 284: کیا ویکسین بُوسٹرز ضروری ہیں؟ 5، کیا بُوسٹر کے طور پر مختلف قسم کی ویکسین استعمال کی جا سکتی ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ بعض ممالک میں ویکسین بُوسٹر یعنی اضافی ٹیکہ لگانے کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی موضوع کے ہمارے سلسلے میں ان سوالات کے جواب دیے جا رہے ہیں کہ آیا بُوسٹر ٹیکہ ضروری ہے یا نہیں اور یہ کتنا مؤثر ہے۔ آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کیا بُوسٹر یعنی اضافی ٹیکے کے طور پر کوئی مختلف قسم کی ویکسین استعمال کی جا سکتی ہے یا نہیں۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ہامادا آتسُوؤ کے مطابق ایسا کوئی طے شدہ ضابطہ نہیں ہے کہ بُوسٹر کے طور پر لگایا جانے والا ویکسین کا تیسرا ٹیکہ بھی اُسی قسم کا ہو جس قسم کی ویکسین کے پہلے دو ٹیکے لگائے گئے تھے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جانچنے کیلئے ایک طبی آزمائش کی جا رہی ہے کہ آیا دوسرے ٹیکے کے 10 سے 12 ہفتوں بعد لگایا جانے والا اضافی ٹیکہ جسم کے مدافعتی نظام کو تقویت دے گا یا نہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اضافی ٹیکے کے طور پر 7 اقسام کی ویکسینوں کا تقابلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پروفیسر ہامادا کا کہنا ہے کہ فائزر اور موڈرنا کی ویکسین کو ملا دینے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، کیونکہ دونوں ایم آر این اے قسم کی ویکسین ہیں۔ تاہم وہ ڈیٹا کے فقدان کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیتے ہیں کہ تیسرے ٹیکے سے متعلق مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت کی نشاندہی بھی کی ہے کہ وائرس کی متغیر اقسام کے لحاظ سے موجود ویکسینوں یا مؤثر پائی جانے والی نئی ویکسینوں کے استعمال پر غور کیا جانا چاہیے۔

یہ معلومات 16 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 283: کیا ویکسین کا بُوسٹر یعنی اضافی ٹیکہ ضروری ہے؟ 4، موڈرنا کی رائے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ بعض ملکوں میں کورونا ویکسین کے مقررہ ٹیکوں کے بعد بُوسٹر یعنی اضافی ٹیکہ لگائے جانے پر غور کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی موضوع پر ہمارے سلسلے میں اضافی ٹیکے کی ضرورت اور اس کے مؤثر ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ آج ہم امریکی بائیو ٹیک کمپنی موڈرنا کے جاری کردہ بیان کا جائزہ لیں گے۔

موڈرنا نے 5 اگست کو اپنی ویکسین کے مؤثر ہونے اور وائرس کی متغیر اقسام کے خلاف نئی ویکسین کی تیاری کے بارے میں تازہ ترین معلومات جاری کی ہیں۔

اس کمپنی نے کہا ہے کہ غالب امکان یہ ہے کہ اس کی کورونا ویکسین لگوانے والے افراد کو بڑی حد تک وائرس کی انتہائی متعدی متغیر قسم ڈیلٹا کی وجہ سے تیسرا ٹیکہ لگوانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

کمپنی نے کہا ہے کہ اس کی ویکسین ’’دوسرا ٹیکہ لگوانے کے بعد چھ ماہ تک مستقل 93 فیصد مؤثر پائی گئی ہے‘‘۔

لیکن کمپنی نے کہا ہے کہ اس کی ویکسین کی اثرانگیزی میں کمی واقع ہونے کی توقع ہے اور خاص کر وائرس کی متغیر قسم ڈیلٹا کے پھیلاؤ کے تناظر میں رواں سال کے دوسرے نصف حصے میں ’’بُوسٹر یعنی اضافی تیسرے ٹیکے کی ضرورت پیش آنے کا غالب امکان ہے‘‘۔

یہ معلومات 13 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 282: کیا ویکسین بُوسٹرز ضروری ہیں 3، مریضوں پر طبی آزمائش سے اینٹی باڈی ٹائٹرز میں اضافے کی غمازی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ بعض ممالک میں ویکسین بُوسٹرز فراہم کرنے کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس موضوع کے ہمارے سلسلے میں ایسے سوالات سے متعلق جوابات دیے جا رہے ہیں کہ آیا بُوسٹر ٹیکہ ضروری ہے اور کیا یہ مؤثر ہے۔

آج ہم کورونا ویکسین کی تیسری خوراک سے متعلق مریضوں پر کی گئی آزمائش کا جائزہ لیں گے، جو اینٹی باڈی ٹائٹرز کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

ویکسین تیار کرنے والے ادارے، ویکسین کے تیسرے ٹیکے کے مؤثر ہونے سے متعلق طبی آزمائش کر رہے ہیں۔ فائزر نے مریضوں پر اپنی آزمائش کے نتائج 28 جولائی 2021 کو شائع کیے تھے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ بُوسٹر یا تیسرا ٹیکہ وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا کے خلاف انٹی باڈیز کو بے اثر کر دینے کی سطحوں میں دوسری خوراک کے بعد کے مقابلے میں 18 سال سے 55 سال سے زائد عمر کے لوگوں میں پانچ گُنا اضافہ کرتا ہے۔ نتائج کے مطابق 65 سے 85 سال کی عمر کے افراد میں یہ اضافہ 11 گنا رہا۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ہامادا آتسُوؤ کا کہنا ہے کہ چونکہ ابھی صرف ایک ہی کمپنی کا ڈیٹا سامنے آیا ہے، اس لیے اس معاملے میں ابھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وائرس کی متغیر قسم ڈیلٹا کے خلاف قوت مدافعت بڑھانے کے لیے ممکن ہے کہ تیسرا ٹیکہ ضروری ہو۔

یہ معلومات 12 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 281: کیا ویکسین بُوسٹرز ضروری ہیں؟ 2 ، اسرائیل سے ایک رپورٹ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ بعض ممالک میں ویکسین بُوسٹرز فراہم کرنے کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس موضوع کے ہمارے سلسلے میں ایسے سوالات سے متعلق جوابات دیے جا رہے ہیں کہ آیا بُوسٹر ٹیکہ ضروری ہے اور کیا یہ حقیقتاً مؤثر ہے۔

آج ہم اسرائیل کی رپورٹ کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ کورونا ویکسین کی افادیت ایک مدت کے بعد ختم ہو گئی۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ کورونا وائرس ویکسین اسرائیل میں لگائی گئی۔ لیکن اس ملک میں محققین نے حال ہی میں رپورٹ دی ہے کہ وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا کے پھیلاؤ کے درمیان کورونا کی علامات کو روکنے کے لیے ویکسین کی اثر انگیزی جو مئی 2021 میں 94 فیصد تھی، جون میں کم ہو کر 64 فیصد رہ گئی۔ اس سے ملک میں بعض محققین کو یہ یقین ہو گیا کہ وقت کے ساتھ ویکسین کی تاثیر کم ہو جاتی ہے۔ حکومت نے تحفظ کو بڑھانے کے لیے لوگوں کو تیسرا ٹیکہ لگانا شروع کر دیا ہے۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ہامادا آتسُوؤ وائرس کی متغیر اقسام کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے تدارک کیلئے لگائی جانے والی موجودہ ویکسینوں سے ملنے والے تحفظ سے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کے اثرات تقریباً 6 ماہ بعد کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ انفلوئنزہ ویکسینیں جن میں کورونا ویکسینوں سے مختلف ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، اُن کے اثرات بھی تقریباً 6 ماہ بعد کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جناب ہامادا کا کہنا ہے کہ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے، تقریباً مذکورہ عرصے بعد ویکسین کا تیسرا ٹیکہ ضروری ہو سکتا ہے

یہ معلومات 11 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 280: کیا ویکسین بُوسٹرز ضروری ہیں؟ 1، دو مرتبہ ویکسین کے ٹیکے لگوانے کی افادیت

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ بعض ممالک ویکسین کے بُوسٹرز فراہم کرنے پر غور کرنے کی غرض سے مصروفِ عمل ہیں۔ ہمارے اس سلسلے میں اس بارے میں سوالات کے جوابات دیے جائیں گے کہ آیا بُوسٹر ٹیکہ ضروری ہے اور اسکی افادیت ہے۔ آج ہم دو مرتبہ ٹیکہ لگائے جانے کی افادیت کا جائزہ لیں گے۔

جاپان کی جانب سے منظور کردہ تمام تین ویکسینوں فائزر-بیون ٹیک، موڈرنا اور آسٹرازینیکا کی دو خوراکیں چند ہفتوں کے وقفے سے لگائے جانے کی ضرورت ہے۔اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ90 فیصد کیسز میں فائزر اور موڈرنا پروٹوٹائپک وائرس سے بیماری کے بڑھنے یا سنگین ہوجانے کی روکتھام میں مؤثر ہیں۔ یہ تناسب آسٹرازینیکا کیلئے تقریباً 90 فیصد ہے۔

بین الاقوامی طبی جریدے ’’نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن ‘‘ کے جولائی 2021ء کے شمارے میں شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق وائرس کی متغیر قِسم الفا کے خلاف فائزر 93.7 فیصد مؤثر اور آسٹرازینیکا 74.5فیصد مؤثر ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متغیر قِسم ڈیلٹا کے خلاف فائزر 88.0 فیصد مؤثر اور آسٹرازینیکا 67.0 فیصد مؤثر ہے۔

اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ ویکسینوں نے سنگین کیسز کی روکتھام میں مدد دی تاہم یہ انفیکشنز کی روکتھام میں اتنی ہی مؤثر نہ تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے باوجود بھی ہوسکتا ہے کہ بعض کیسز میں’ ہرڈ امیونٹی‘ کا حصول نہ ہوسکے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ فائزر ویکسین وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا سے ہسپتال میں داخل ہونے کی روکتھام میں 96 فیصد مؤثر ہے جبکہ آسٹرازینیکا 92 فیصد مؤثر ہے۔

یہ معلومات 10 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 279: ویکسینیشن اور جھوٹی افواہیں 5

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اگرچہ کورونا وائرس کی ویکسین لگوانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن کئی افراد ابھی تک ویکسین لگوانے کے بارے میں متذبذب ہیں یا ان کے ذہنوں میں ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے بارے میں بے بنیاد معلومات اور جھوٹی افواہیں خاص کر سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہیں۔ ویکسین سے متعلق جھوٹی افواہوں کے بارے میں ہمارے سلسلے کے آج آخری حصے میں انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

صارفین کے جھوٹی معلومات یا افواہوں سے گمراہ ہونے کی روکتھام کے لیے انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والی کمپنیاں اقدامات کر رہی ہیں۔ ایسی ہی ایک کمپنی’یاہو جاپان‘ جھوٹی معلومات کے براہ راست خاتمے کے لیے معتبر معلومات فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے۔ یاہو کی ویب سائٹ کے ہوم پیج پر صارفین کی طرف سے بڑے پیمانے پر دیکھے جانے والے خبروں والے حصے کی موضوعات کی فہرست میں اب ویکسین کے بارے میں جھوٹی معلومات، افواہوں کا جائزہ لینے والے مضامین اور طبی ماہرین کی پیشہ ورانہ وضاحت یا آراء کے خلاصے پر مبنی مضامین دکھائے جاتے ہیں۔

آن لائن سرچ کرتے وقت یاہو سب سے اوپر پیغام دیتا ہے کہ یہ معلومات کس سرکاری ادارے کی طرف سے جاری کی گئی ہیں یا معلومات سائنسی شواہد کی بنیاد پر ہیں۔ مثال کے طور پر ’’vaccine‘‘ کے لفظ کے ساتھ کلیدی الفاظ ’’deaths‘‘ یا ’’side effects‘‘ سرچ کرتے وقت سب سے اوپر ظاہر ہونے والے لنک میں جاپان کی وزارت صحت کی ویب سائٹ پر سوال و جواب کا مضمون اور ویکسین لگوانے کے بعد طبیعت کی ناسازی سے نمٹنے کے طریقوں کے بارے میں کئی طبی ماہرین کے تعاون سے لکھا گیا یاہو کا اپنا مضمون اور ویڈیو نظر آئے گی۔

یاہو کے کارپوریٹ افسر کاتااوکا ہیروشی کہتے ہیں کہ ویکسینیشن پروگرام کے بھرپور انداز میں آگے بڑھنے کے ساتھ ویکسینوں کے بارے میں لوگوں کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا ثبوت سرچ کیے جانے والے کلیدی الفاظ اور انٹرنیٹ پر صارفین کے زیر مطالعہ رہنے والے مضامین سے بھی ملتا ہے۔ جناب کاتااوکا کہتے ہیں چونکہ لوگوں کے لیے ویکسین کے بارے میں معلومات کے معتبر ہونے کا پتہ چلانا بہت مشکل ہے، اس لیے قابل بھروسہ معلومات کا جامع خلاصہ اور معتبر معلومات کو آسان فہم انداز میں پیش کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جناب کاتااوکا کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی لوگوں کی پریشانیوں، تفکرات کو دور کرنے اور ان کے سوالات کا جواب دینے میں مدد فراہم کرنا جاری رکھنے کی امید رکھتی ہے۔

یہ معلومات 6 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 278: ویکسینیشن اور جھوٹی افواہیں 4 ، جھوٹی افواہوں کی مثالیں - 3

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اب پہلے سے زیادہ لوگ ویکسین لگوا رہے ہیں تاہم بہت سے لوگ ابھی تک ویکسین لگوانے سے متعلق فکر مند ہیں یا شک میں مبتلا ہیں۔ ویکسینیشن سے متعلق بے بنیاد معلومات اور جھوٹی افواہیں، خصوصاً سوشل میڈیا پر پھیلی رہی ہیں۔

آج ہم ویکسینیشن کے بارے میں جھوٹی افواہوں کے موضوع پر اپنے سلسلے کی چوتھی قسط میں اُن افواہوں سے متعلق کچھ مزید مثالیں پیش کر رہے ہیں جو پھیلائی جا رہی ہیں۔

جھوٹی افواہ نمبر 5 : ’’ویکسینوں میں مائیکرو چپس ہوتی ہیں‘‘۔

سوشل میڈیا اور دیگر جگہوں پر پھیلی ہوئی ایک غلط معلومات یہ ہے کہ ویکسینوں میں لوگوں کو کنٹرول کرنے کیلئے مائیکروچپس ہیں۔ کورونا وائرس ویکسینوں کے اجزائے ترکیبی، ویکسین بنانے والی کمپنیوں اور جاپان کی وزارت صحت اور امریکہ کی خوراک و ادویات کی انتظامی ایجنسی جیسے کئی ملکوں کےصحت سے متعلقہ اداروں کی ویب سائٹس پر دیئے گئے ہیں۔ ان سے یہ بات عیاں ہے کہ ویکسینوں میں مائیکروچپس نہیں ہیں۔

جھوٹی افواہ نمبر 6 : ’’ویکسینوں سے مقناطیس آپ کے جسم سے چپکتا ہے‘‘۔
سوشل میڈیا پر موجود جھوٹی معلومات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ویکسینیں مقناطیس کو آپ کے جسم سے چپکا دیتی ہیں۔ بیماریوں پر کنٹرول اور روک تھام کے امریکی مرکز کا کہنا ہے کہ ویکسین میں کوئی مقناطیسی اجزاء شامل نہیں ہیں۔ یہ مرکز اس دعوے کی واضح تردید کرتا ہے۔

یہ معلومات 5 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 277: ویکسینیشن اور جھوٹی افواہیں ، 3 جھوٹی افواہوں کی مثالیں - 2

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔
اب پہلے سے زیادہ لوگ ویکسین لگوا رہے ہیں تاہم بہت سے لوگ ابھی تک ویکسین لگوانے سے متعلق فکر مند ہیں یا شک میں مبتلا ہیں۔ ویکسینیشن سے متعلق بے بنیاد معلومات اور جھوٹی افواہیں خصوصاً سوشل میڈیا پر پھیل رہی ہیں۔ آج ہم ویکسینوں سے متعلق جھوٹی افواہوں کے موضوع پر اپنے سلسلے کی تیسری قسط میں اُن افواہوں کی چند مثالیں متعارف کروائیں گے جو پھیلائی جا رہی ہیں۔

جھوٹی افواہ نمبر 3 : ’’ویکسینیں جینیاتی معلومات کو تبدیل کر دیتی ہیں‘‘۔

بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی غلط معلومات میں سے ایک یہ ہے کہ ویکسین کے اجزاء ٹیکہ لگوانے کے طویل عرصے کے بعد بھی ہمارے جسم میں موجود رہتے ہیں اور جسم کی جینیاتی معلومات کو تبدیل کرتے ہیں۔ جاپان کی وزارت صحت نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا ہے کہ فائزر بیون ٹیک اور موڈرنا ویکسین میں استعمال کیا جانے والا ایم آر این اے، جسم میں داخل ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد الگ الگ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ، اس کا ہمارے ڈی این اے کے ساتھ ملاپ نہیں ہو سکتا۔ وزارت کے مطابق یہ بات درست نہیں ہے کہ ویکسینیں ہماری جینیاتی معلومات تبدیل کر سکتی ہیں۔

جھوٹی افواہ نمبر 4 : ’’ویکسینیں انفیکشن کا باعث بنتی ہیں‘‘۔
ایسی غلط معلومات بھی گردش کر رہی ہیں کہ معمر لوگوں کے بہبودی مراکز میں کورونا وائرس ویکسین لگوانے کے بعد عمر رسیدہ افراد یکے بعد دیگرے موت کا شکار ہوئے ہیں۔ ویکسینوں میں کوئی وائرس نہیں ہوتا، لہٰذا یہ کسی انفیکشن کا باعث نہیں بن سکتیں۔ وزارت صحت کے مطابق، یہ بات مصدقہ نہیں ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد کسی مخصوص بیماریوں سے مرنے والوں کی شرح میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

وزارت صحت نے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے پھیلنے والی ایسی افواہوں سے بھی محتاط رہنے پر زور دیا ہے جس میں ٹیکہ لگوانے کے بعد ہونے والی موت کا ذمہ دار ویکسین کو قرار دیا گیا ہے۔ وزارت لوگوں سے کہہ رہی ہے کہ وہ ویکسین لگنے کے بعد کی اموات سے متعلق حکومت کو دی جانے والی اطلاعات کے غلط معنی نہ نکالیں، کیونکہ ان اعداد و شمار میں وہ تمام اموات شامل ہیں جن کا ویکسین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ معلومات 4 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 276: ویکسینیشن اور جھوٹی افواہیں 2 ، جھوٹی افواہوں کی مثالیں - 1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اب پہلے سے زیادہ لوگ ویکسین لگوا رہے ہیں تاہم بہت سے لوگ ابھی تک ویکسین لگوانے سے متعلق فکر مند ہیں یا شک میں مبتلا ہیں۔ ویکسینیشن سے متعلق بے بنیاد معلومات اور جھوٹی افواہیں خصوصاً سوشل میڈیا پر پھیل رہی ہیں۔ آج ہم ویکسینوں سے متعلق جھوٹی افواہوں کے موضوع پر اپنے سلسلے کی دوسری قسط میں اُن افواہوں کی چند مثالیں متعارف کروائیں گے جو پھیلائی جا رہی ہیں۔

جھوٹی افواہ 1 : ’’ویکسینوں کی وجہ سے بانجھ پن ہو جاتا ہے‘‘۔
وسیع پیمانےپر پھیلی ہوئی ایک غلط اطلاع یہ ہے کہ ویکسینوں کے باعث بانجھ پن ہو جاتا ہے۔ اس جھوٹی افواہ میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ویکسینیشن کے نتیجے میں بننے والی انٹی باڈیز، پلیسنٹا یعنی اس عضو پر منفی اثر ڈالتی ہیں جس سے بچہ ماں کے پیٹ میں خوراک اور آکسیجن حاصل کرتا ہے۔ کورونا وائرس ویکسینوں کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ یہ پہلے ہی معلوم ہو چکا ہے کہ انٹی باڈیز پلیسنٹا سے تعلق رکھنے والے پروٹین پر حملہ نہیں کرتیں۔ جاپان میں ویکسینیشن کے نگران وزیر کونو تارو نے بھی زور دیا ہے کہ اس بات کو ثابت کرنے کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے کہ ویکسینوں سے بانجھ پن ہو جاتا ہے۔

جھوٹی افواہ 2 : ’’ویکسینوں سے اسقاطِ حمل ہو جاتا ہے‘‘
ایک اور جھوٹی افواہ یہ ہے کہ جب حاملہ خواتین کو ویکسین لگائی جاتی ہے تو اس سے اسقاطِ حمل ہو جاتا ہے۔ جاپان کی وزارتِ صحت نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا ہے کہ ایسا کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے کہ جس سے ویکسین لگنے والی خواتین میں اسقاطِ حمل بڑھنے کا پتہ چلتا ہو۔ امریکی مرکز برائے امراض کنٹرول اور روکتھام کے تحقیق کاروں کے ایک گروپ کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کا ڈیٹا بھی موجود ہے۔ حمل سے رہنے کے دوران کورونا وائرس ویکسین لگوانے والی 35 ہزار سے زائد خواتین کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اسقاطِ حمل، مردہ بچے کی پیدائش، وقت سے پہلے پیدائش اور پیدائش کے وقت وزن کم ہونے کی شرح، عالمی وباء سے پہلے حاملہ خواتین میں جو شرح تھی اس سے مختلف نہیں ہے۔

یہ معلومات 3اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 275: ویکسینیشن اور جھوٹی افواہیں 1 ، جھوٹی افواہوں سے کیسے نمٹا جائے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسینیشن کے بارے میں جھوٹی افواہوں سے نمٹنے کے سلسلے کی پہلی قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے ساتھ ساتھ اب بھی کئی لوگ اس بارے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ سوشل میڈیا نے ویکسینیشن سے متعلق بے بنیاد معلومات اور جھوٹی افواہیں پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔

15 جولائی کو منعقدہ ایک آن لائن مباحثے کا موضوع یہی تھا کہ اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے؟ اپریل سے جولائی 2021 کے درمیان ویکسینیشن سے متعلقہ جھوٹی افواہیں اور بے بنیاد معلومات پر مبنی ٹوئیٹس میں 8 گنا اضافہ ہوا، یہ بتاتے ہوئے انٹرنیشنل یونیورسٹی آف جاپان کے پروفیسر یاماگُچی شِن اِچی نے وضاحت کی ویکسینیشن سے متعلق افواہیں کس طرح انتہائی تیز رفتاری سے پھیل گئیں۔

پروفیسر یاماگُچی نے یکطرفہ طور پر درست معلومات کے پھیلاؤ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ایک کیس کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ذرائع ابلاغ کی جانب سے حقائق سے متعلق اطلاعاتی ذرائع کے مستند ہونے کی جانچ پڑتال پر مبنی مضامین جاری کیے جانے کے بعد کس طرح جھوٹی افواہوں کی مذمت میں سوشل میڈیا پوسٹس میں اضافہ ہوا۔

اس کے بعد انٹرنیٹ کمپنیوں کے اٹھائے گئے اقدامات متعارف کروائے گئے۔ ٹوئیٹر کے ایک اہلکار نے کمپنی کی جانب سے ایسے نظام کے نفاذ کی تفصیل بتائی کہ کس طرح کورونا وائرس سے متعلق غلط فہمی پھیلانے والی پوسٹس پر مخصوص نشان لگا دیا جاتا ہے، جس کے بعد لوگ ان پوسٹس کا جواب نہیں دے سکتے اور نہ ہی لائک یا دوبارہ ٹویٹ کرسکتے ہیں۔

بعد ازاں، سوشل میڈیا ایپ لائن کے ایک ملازم نے اپنی کمپنی کے اس نظام کی تفصیل بتائی جس میں کمپنی نے استعمال کنندگان کیلئے مرکزی یا مقامی حکومتوں کے باضابطہ اکاؤنٹس سے براہ راست معلومات فراہم کرنے کا انتظام کیا ہے۔

اس مباحثے میں جاپان کے ویکسینیشن کے نگران وزیر کونو تارو کا ایک وڈیو پیغام دکھایا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن کے بارے میں انٹرنیٹ گمراہ کُن اطلاعات سے بھرا ہوا ہے۔ جناب کونو کے مطابق حکومت کو اس بات پر انتہائی تشویش ہے کہ ان غلط معلومات نے کس طرح غلط فہمیاں پیدا کر دی ہیں اور خصوصاً نوجوان نسل میں ویکسین لگوانے سے متعلق ضرورت سے زیادہ تشویش کو کیسے جنم دیا ہے۔ ویکسینیشن کے نگران وزیر کے مطابق غلط اطلاعات میں اکثر ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے جو لوگوں میں تشویش پیدا کرے، مثلاً ’ہمیں دوا ساز کمپنیوں سے خفیہ اطلات ملی ہیں‘ وغیرہ۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ درست اطلاعات کی بنیاد پر ویکسین لگوانے پر غور کریں۔

اس سلسلے کی اگلی قسط میں ہم جھوٹی افواہوں کی مخصوص مثالیں متعارف کروائیں گے۔

یہ معلومات 2 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 274: ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں کیلئے انسداد وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 9، ذرائع ابلاغ کے لیے اقدامات، حصہ دوم

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں سے متعلق ضوابط کی نویں قسط پیش کر رہے ہیں۔ آج اُن اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے جن پر ذرائع ابلاغ کے ارکان عمل کریں گے۔

ذرائع ابلاغ کے ارکان کے لیے ترتیب دیے گیے ضوابط کے مطابق، انہیں جاپان کے لیے روانگی کے 96 گھنٹوں کے اندر اندر دو الگ الگ دنوں میں کووڈ 19 کا ٹیسٹ دو بار لازماً کروانا ہوگا۔ جاپان آمد کے بعد پہلے 14 روز تک انہیں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور وہ کھیلوں کے مقابلوں کے مقامات اور دیگر صرف اُن مقامات تک ہی جا سکیں گے جو انہوں نے آنے سے قبل جمع کروائے گئے اپنی سرگرمیوں کے منصوبے میں بیان کیے ہیں۔ پلے بک کے مطابق، ان کے جاپان میں قیام کے دوران ان کے اسمارٹ فون کے جی پی ایس فنکشن کو استعمال کرتے ہوئے ان تمام جگہوں کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا جہاں وہ جائیں گے۔

اس پلے بک میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے لیے ان کے کام کے لحاظ سے ٹیسٹوں کی تعداد اور وقفے کی فہرست بھی دی گئی ہے۔ مثلاً مقابلوں کے دوران کھلاڑیوں اور عہدیداروں کے انتہائی قریب جانے والے نشریاتی اداروں کے ارکان اور فوٹوگرافرز کو روزانہ ٹیسٹ کروانا ہوگا۔ کھلاڑیوں اور عملے کے افراد کے ساتھ کبھی کبھار رابطے میں آنے والے لوگوں کو ہر چار روز بعد ٹیسٹ کروانا ہوگا، جبکہ کھلاڑیوں اور عملے کے افراد کے ساتھ انتہائی کم رابطے یا بالکل رابطے میں نہ آنے والوں کو ہر سات روز بعد ٹیسٹ کروانا ہوگا۔

پلے بک میں درج شدہ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اجازت ناموں کی منسوخی یا مالیاتی پابندیوں جیسی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے جاپان میں قیام کا اجازت نامہ بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

یہ معلومات 21 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 273: ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں کے لیے انسدادِ وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 8 ، ذرائع ابلاغ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس کے بارے میں سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں کے موقع پراٹھائے جانے والے انسدادِ کورونا وائرس اقدامات کی معلومات سے متعلق آٹھویں قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں جس میں اُن اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی جن پر ذرائع ابلاغ کے ارکان عمل کریں گے۔

اولمپک کھیلوں کی کوریج کیلئے غیرملکی ذرائع ابلاغ کا عملہ جاپان آ رہا ہے۔

ٹوکیو اولمپک کھیلوں کی انتظامی کمیٹی نے 21 جون تک بتایا تھا کہ توقع ہے کہ تقریباً 200 ملکوں اور خطہ جات کے ذرائع ابلاغ کی لگ بھگ دو ہزار تنظیموں سے 16 ہزار سے زائد میڈیا ارکان آئیں گے۔

اس کمیٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ توقع ہے کہ جاپانی اور غیرملکی ذرائع ابلاغ کے 70 سے 80 فیصد نمائندوں کو کھیلوں سے قبل ویکسین لگ چکی ہوگی۔

ذرائع ابلاغ کے ارکان کیلئے پلے بُک میں کہا گیا ہے کہ وہ جاپان میں ابتدائی 14 روز لازمی طور پر عوامی نقل و حمل کے ذرائع استعمال نہیں کریں گے اور انہیں صرف کھیلوں کے مراکز اور اُن مقامات پر جانے کی اجازت ہے جو انہوں نے اپنی سرگرمی کے منصوبے میں بیان کیے ہیں۔

لیکن بعض ذرائع ابلاغ ایسی پابندیوں کی مخالفت کا اظہار کر رہے ہیں۔ امریکہ کے 10 ذرائع ابلاغ نے مشترکہ طور پر انتظامی کمیٹی کو ایک احتجاجی مراسلہ بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی سرگرمیاں محدود ہوں گی۔

ایسی آراء کے جواب میں کمیٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر سخت اقدامات ضروری ہیں اور یہ کہ یہ اقدامات کھیلوں کے تمام شرکاء اور جاپان میں لوگوں کیلئے اہم ہیں۔ کمیٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کی آزادی کا احترام کرے گی اور جس قدر ممکن ہو سکا صحافیوں کیلئے رپورٹنگ کرنے کا عمل ہموار بنائے گی۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کیلئے اپنی سرگرمیوں کے دوران مکمل انسدادِ وائرس اقدامات کرنا ایک چیلنج ہے۔

ذرائع ابلاغ کی جانب سے جو اقدامات کیے جائیں گے ہم اُن سے متعلق اگلی قسط میں مزید معلومات آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔

یہ معلومات 20 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 272: ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں کیلئے انسدادِ وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 7، ایتھلیٹس ولیج میں رویوں سے متعلق ضوابط

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں کے شرکاء کی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط کی ساتویں قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا خصوصی موضوع ایتھلیٹس ولیج میں کھلاڑیوں کا رویہ ہے۔

اولمپک اور پیرالمپک کھیلوں میں ایتھلیٹس ولیج کہلانے والا علاقہ ان کھیلوں کا ایک ایسا علامتی علاقہ ہوتا ہے جہاں تمام کھلاڑی قومیت، نسل یا اپنے کھیلوں کے شعبے سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں۔ تاہم، اس بار ٹوکیو اولمپک کھیلوں کیلئے کورونا وائرس انفیکشن کے پھیلاؤ کی روک تھام کی غرض سے کھلاڑیوں کی نقل و حرکت اور رویوں سے متعلق غیر معمولی ضوابط نافذ ہیں۔

اب تک کے اولمپک کھیلوں میں ہر ملک خود یہ طے کرتا تھا کہ اس کا دستہ اولمپک ولیج میں کب تک قیام کرے گا۔ لیکن ٹوکیو گیمز میں کھلاڑی ایتھلیٹس ولیج میں اپنے قیام کو محدود کرنے کے پابند ہیں۔ اولمپک کھلاڑی اپنے مقابلے سے 5 روز قبل ولیج میں داخل ہو سکیں گے اور مقابلوں کے اختتام کے 2 روز کے اندر اندر انہیں وہاں سے لازمی نکلنا ہوگا۔ پیرالمپک کے کھلاڑی اپنے مقابلوں سے 7 روز قبل ایتھلیٹس ولیج میں داخل ہو سکیں گے۔

کھلاڑیوں کے لیے ولیج میں قیام کے دوران بھی کئی ضوابط لاگو کیے گئے ہیں۔ کھلاڑیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ جسمانی رابطے مثلاً ہاتھ ملانے یا گلے ملنے سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ وہ ایسے بند مقامات پر بھی جمع نہ ہوں جہاں ہوا کی آمد و رفت مناسب نہ ہو، ہجوم ہو اور نشستیں وغیرہ قریب قریب ہوں۔

ٹوکیو 2020 پلے بکس میں دیے گئے ضوابط کے مطابق انہیں ایتھلیٹس ولیج کے فٹنس سینٹر میں ٹریننگ کے دوران ماسک پہننا ہوگا۔ کھانے کے مرکزی کمرے میں کھلاڑیوں کو ایک دوسرے سے کم از کم 2 میٹر کا فاصلہ رکھنا ہوگا اور انہیں کہا جائے گا کہ جس قدر ممکن ہو سکے کھانا اکیلے کھائیں۔

کھلاڑیوں کو ماضی کے اولمپک یا پیرالمپک مقابلوں وغیرہ کے بعد اپنے کمرے میں الکحل والے مشروبات پینے کی اجازت دی گئی تھی۔ ٹوکیو گیمز کیلئے انتظامی کمیٹی نے کمروں کے اندر شراب پینے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن عوامی مقامات اور ولیج کے پارک وغیرہ میں لوگوں کو گروپ کی شکل میں پینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اگلی قسط میں ہم ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد سے متعلق پلے بُکس میں وضع کردہ معلومات آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔

یہ معلومات 19 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 271: ٹوکیو گیمز کے لیے انسدادِ وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 6 ، ضوابط کی تعمیل نہ کرنے کی صورت میں انضباطی کارروائی

نئے کورونا وائرس کے بارے میں این ایچ کے سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ٹوکیو اولمپکس اور پیرالمپکس کے لیے کورونا وائرس کے انسدادی اقدامات کی تفصیل پر مبنی ٹوکیو 2020 پلے بُکس یعنی ٹوکیو 2020 ضوابط کے حوالے سے ہمارے اس سلسلے کی چھٹی قسط میں آج ہم ان ضوابط کی تعمیل نہ کرنے والے اتھلیٹس اور گیمز سے متعلقہ دیگر افراد کو درپیش ممکنہ نتائج پر توجہ مرکوز کریں گے۔

پلے بُکس میں کہا گیا ہے کہ ان ضوابط کی تعمیل نہ کرنے والوں کو انضباطی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماسک لگانے کے حوالے سے قصداً بدتہذیبی کا مظاہرہ کرنے، پیش کردہ سفری منصوبے سے ہٹ کر دوسرے مقامات کے دورے کرنے اور کووڈ 19 کے ٹیسٹ کروانے سے انکار کرنے سمیت دیگر کو ضوابط کی خلاف ورزی شمار کیا گیا ہے۔

کسی ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی کی اطلاع ملنے کی صورت میں تحقیقات کی جائیں گی۔ خلاف ورزی کی تصدیق ہونے پر گیمز کی انتظامی کمیٹی، بین الاقوامی اولمپک کمیٹی اور دوسری متعلقہ تنظیمیں اس معاملے پر مشاورت کریں گی، جس کا نتیجہ گیمز میں شرکت کی منظوری کی منسوخی، نااہلی اور مالی پابندیوں سمیت انضباطی کارروائی کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے۔ ان ضوابط میں لکھا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جاپانی حکام سخت انتظامی اقدامات اٹھا سکتے ہیں، جن میں 14 روز ازخود قرنطینہ میں رہنا یا جاپان میں قیام کے اجازت نامے کی منسوخی شامل ہے۔

یہ معلومات 16 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 270: ٹوکیو گیمز کے لیے انسدادِ وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 5، نئے کورونا وائرس کا ٹیسٹ 2

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں کے موقع پراٹھائے جانے والے انسدادِ کورونا وائرس اقدامات کی معلومات سے متعلق پانچویں قسط پیش کر رہے ہیں۔ آج کا خصوصی موضوع بھی کھلاڑیوں کا وائرس ٹیسٹ ہے۔

ٹوکیو 2020 پلے بُکس میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے ضوابط کی تفصیل دی گئی ہے۔ اس میں وائرس کے ٹیسٹ کیلئے تفصیلی منصوبہ بھی شامل ہے۔

اِن پلے بکس میں دیے گئے ضوابط کے مطابق کھلاڑیوں، کوچز اور عملے کے دیگر افراد کے جاپان پہنچنے پر ہوائی اڈے پر کیے جانے والے ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آنے کے باوجود ان کے لیے بنیادی طور پر روزانہ کووڈ 19 ٹیسٹ کروانا لازمی ہے۔

پہلے صبح 9 یا شام 6 بجے ان کے منہ سے لیے گئے لعاب کے ذریعے ان کا کوانٹی ٹیٹِوسِلویا انٹی جین ٹیسٹ کیا جائے گا۔ اس ٹیسٹ کا نتیجہ غیر واضح یا مثبت ہونے کی صورت میں لعاب کے اُسی نمونے کو استعمال کرتے ہوئے پی سی آر ٹیسٹ کیا جائے گا۔

اس عمل کا حتمی نتیجہ آنے میں تقریباً 12 گھنٹے لگنے کی توقع ہے۔ لعاب کے ذریعے کیے گئے پی سی آر ٹیسٹ کا نتیجہ بھی غیر واضح یا مثبت آنے کی صورت میں متعلقہ شخص کو اولمپک و پیرالمپک ولیج میں قائم کووڈ 19 کلینک میں ناک کے اندرونی حصے سے حاصل کردہ مواد کے ذریعے پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا۔ اس ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آنے کی صورت میں وہ شخص کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا مجاز ہوگا۔

ٹوکیو 2020 انتظامی کمیٹی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ٹیسٹ کے عمل کے کھیلوں پر اثرات کو کم سے کم رکھنے پر پوری توجہ دی ہے۔

کھلاڑی اور منتظمین کے ٹیسٹ کے لیے منہ کے لعاب کے نمونے ہر ٹیم کے کووڈ 19 رابطہ افسر کی نگرانی میں ہی لیے جائیں گے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ منتظمین اس معاملے میں کوئی دھوکہ دہی نہ ہونے کو کیسے یقینی بنائیں گے؟

انتظامی کمیٹی اور بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ لعاب کے نمونے لینے کے عمل کی مکمل نگرانی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وہ کسی پیشگی اطلاع کے بغیر اچانک معائنے کرنے پر بھی غور کریں گے۔

اس سلسلے کی اگلی قسط میں ہم بتائیں گے کہ کھلاڑیوں اور ٹیم کے عہدیداروں کو پلے بکس میں دیئے گئے ضوابط کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں کن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ معلومات 15 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 269: ٹوکیو گیمز کیلئے انسدادِ وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 4 ، نئے کورونا وائرس کا ٹیسٹ 1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم کورونا وائرس کے اُن اقدامات سے متعلق چوتھی قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں جو ٹوکیو اولمپک اور پیرالمپک کھیلوں کے موقع پر خصوصاً کھلاڑیوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ سے متعلق اٹھائے جائیں گے۔

ٹوکیو 2020ء پلے بُکس میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روکتھام کیلئے مقرر کردہ ضوابط بیان کیے گئے ہیں جن میں وائرس ٹیسٹنگ کا تفصیلی منصوبہ شامل ہے۔

اس پلے بُک میں بتایا گیا ہے کہ جاپان روانہ ہونے والے کھلاڑیوں، کوچز اور ٹیم کے دیگر ارکان کو جاپان روانہ ہونے والی پرواز سے قبل 96 گھنٹے کے اندر اندر کووِڈ-19 کے دو ٹیسٹ علیحدہ علیحدہ دنوں میں لازمی کروانا ہوں گے۔ان دو ٹیسٹوں میں سے کم از کم ایک لازمی طور پر روانگی سے 72 گھنٹے پہلے کروانا ہوگا۔

شرکاء سے کہا جائے گا کہ وہ حکومتِ جاپان کے منظور کردہ پی سی آر ٹیسٹ یا کمیتی انٹی جین ٹیسٹ، کیو اے ٹی کراوئیں جو تھوک کے نمونوں یا پھر روئی والی نلی سے ناک کے اندر سے لیے گئے سواب نمونے استعمال کر کے انجام دیے جائیں۔

انہیں جاپان پہنچنے پر ہوائی اڈے پر بھی لازماً ٹیسٹ کروانا ہوگا۔ اس ٹیسٹ کے نتیجے کیلئے انہیں ہوائی اڈے پر انتظار کرنا ہوگا۔ اگر ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آنے کی تصدیق ہوئی تو انہیں دوبارہ وائرس ٹیسٹ کیلئے اولمپک ولیج میں قائم بخار کے بیرونی مریض مرکز پر لے جایا جائے گا۔

اگلی قسط میں ہم جاپان میں اولمپک کھیلوں کے شرکاء کے قیام کے دوران کے کورونا وائرس ٹیسٹنگ کے عمل کا جائزہ لینا جاری رکھیں گے جس کی تفصیل پلے بُک میں بیان کی گئی ہے۔

یہ معلومات 6 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 268: ٹوکیو گیمز کیلئے انسدادِ وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 3 ، کھلاڑیوں کی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط 2

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں کے شرکاء کے جاپان پہنچنے کے بعد کی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط کی کتاب کیا کہتی ہے؟ آج ہم اس سلسلے کی دوسری قسط پیش کررہے ہیں۔

ٹوکیو 2020 پلے بکس میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ضوابط بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں شرکاء کے جاپان میں قیام کے دوران کی جا سکنے والی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط بھی شامل ہیں۔

کھلاڑیوں اور کوچز کو کہیں آنے جانے کے لیے بنیادی طور پر عوامی نقل و حمل کے ذرائع استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ لازماً تنظیموں کی فراہم کردہ گاڑیوں کی خدمات ہی استعمال کریں گے اور اگر وہ یہ خدمات استعمال نہیں کرسکتے تو انہیں لازماً چارٹرڈ یا مخصوص شدہ ٹیکسیاں استعمال کرنی ہوں گی۔

جب شرکاء مخصوص رہائشی سہولت ’ایتھلیٹس ولیج‘ کے باہر اپنے قیام کا بندبست کریں تو ایسی صورت میں انہیں بنیادی طور پر کسی فرد کی فراہم کردہ رہائش گاہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ شرکاء کی جانب سے خود انتظام کردہ رہائشگاہ کے انتظامی کمیٹی کی مقررہ شرائط پر پورا نہ اترنے کی صورت میں ان سے کوئی اور رہائش گاہ تلاش کرنے کی درخواست کی جائے گی۔

جہاں تک کھانے وغیرہ کی بات ہے تو ایتھلیٹس ولیج میں رہائش پذیر شرکاء کو لازماً وہیں پر یا کھیلوں کے مقامات پر کھانا، کھانا ہوگا۔ دیگر افراد کھیلوں کے مقامات یا اپنی رہائشی سہولت کے ریستوران میں کھانا کھائیں گے۔ انہیں روم سروس کے ذریعے اپنے کمرے میں کھانا منگوانے کی بھی اجازت ہوگی۔

اگلی قسط میں ہم پلے بک یا ضوابط کی کتاب میں دیئے گئے کورونا وائرس ٹیسٹ کے طریقۂ کار کا جائزہ لیں گے۔

یہ معلومات 5 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 267: ٹوکیو گیمز کے لیے انسدادِ وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 2 ، کھلاڑیوں کی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط 1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کا جواب دے رہا ہے۔ آج ہم اس موضوع پر پہلا حصہ پیش کر رہے ہیں کہ ٹوکیو اولمپک اور پیرالمپک کھیلوں میں طبع آزمائی کے لیے جاپان میں آمد کے بعد کھلاڑیوں کی سرگرمیوں سے متعلقہ ضوابط کی کتاب میں کیا درج ہے؟

ٹوکیو 2020 پلے بُکس میں وہ ضوابط درج ہیں جن کا مقصد کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ ان میں جاپان میں قیام کے دوران شرکاء کی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط شامل ہیں۔

کھلاڑیوں اور کوچز کے لیے ضروری ہے کہ وہ جاپان میں آمد سے قبل، ’’ایکٹیویٹی پلان‘‘ نامی دستاویز مکمل کر کے اسے انتظامی کمیٹی کے سپرد کریں۔ اس میں انہیں جاپان میں اپنے پہلے 14 روز کی سرگرمیوں کی تفصیل بتانا لازمی ہے جس میں قیام گاہوں کا پتہ اور ان مقامات کی تفصیل بھی درج کرنا ہو گی جہاں ان کے جانے کا ارادہ یا امکان ہے۔ ساتھ ہی انہیں اپنا نام اور پاسپورٹ کی تفصیل بھی درج کرنا ہے۔ شرکاء کے لیے ایک ایسی ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کرنا ضروری ہے جو ان کی صحت کی نگرانی کے مقصد سے بنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں COCOA یعنی کانٹیکٹ کنفرمینگ ایپ بھی ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کرنی ہے۔ ان کے لیے لازمی ہے کہ اپنے اسمارٹ فون کی لوکیشن انفارمیشن سروسز اور لوکیشن ہِسٹری بھی آن کریں۔

کھلاڑیوں اور کوچز پر لازم ہے کہ وہ جاپان میں آمد کے بعد اپنے ’’ایکٹیویٹی پلان‘‘ پر عمل کریں۔ اگر وہ اپنے قیام کے پہلے تین روز میں اپنے کھیلوں سے متعلق سرگرمیاں انجام دیتے ہیں تو ایسا کڑی نگرانی میں کرنا ہو گا۔ اس میں نگران کی موجودگی یا جی پی ایس ڈیٹا کے استعمال کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ان کی نقل و حرکت، رہائشی سہولیات اور پریکٹس کے مقامات تک محدود رہے گی اور انہیں سیاحتی مقامات جیسی دیگر جگہوں پر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

یہ معلومات 2 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 266: ٹوکیو اولمپک کھیلوں کیلئے انسداد وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 1 ، یکم جولائی سے نافذالعمل ضوابط

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارا آج کا سوال یہ ہے کہ ٹوکیو اولمپکس و پیرالمپکس کے لیے کس قسم کے انسداد وائرس اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی اور ٹوکیو اولمپکس و پیرالمپکس کی انتظامی کمیٹی نے 15 جون کو ٹوکیو پلے بُکس 2020 کے تیسرے اور حتمی ورژن کا اعلان کر دیا ہے جن میں کھلاڑیوں سمیت گیمز کے تمام شرکاء کے لیے انسداد کورونا وائرس ضوابط کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، جن کی پابندی ان کے لیے لازمی ہے۔ پلے بُکس کا پہلا ورژن فروری میں جبکہ دوسرا اپریل میں جاری کیا گیا تھا۔

اس تیسرے اور حتمی ورژن میں مختلف ضوابط اور اقدامات کی وضاحت کے لیے اضافی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

مثال کے طور پر، مذکورہ تازہ ترین ورژن میں کھلاڑیوں کے لیے روزانہ کورونا ٹیسٹ کے طریقۂ کار کا خاکہ وضع کیا گیا ہے جن کا مقصد ان کے مقابلوں کے شیڈول پر پڑنے والے اثرات کو کم سے کم کرنا ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کورونا وائرس کی قابل تشویش متغیر اقسام سے نمٹنے کے لیے جاپان میں داخلے کے وقت کے اقدامات کو مزید سخت کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پلے بک میں دیے گئے ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں ممکنہ نتائج کے طور پر مالی پابندیوں کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ خلاف ورزی کے دیگر ممکنہ نتائج میں کھیلوں کیلئے نااہلی اور جاپان میں قیام کے اجازت نامے کی منسوخی بھی شامل ہیں۔

پلے بکس میں دیے گئے ضوابط کا نفاذ جمعرات یکم جولائی سے شرع ہو گیا ہے اور ان میں تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔

اگلی قسط میں ہم گیمز کے شرکاء کے جاپان پہنچنے کے بعد کی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط کا جائزہ لیں گے۔

یہ معلومات یکم جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 265: کیا کووِڈ 19 کے لیے کوئی خاص غذا یا سپلیمینٹ کارآمد ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارا آج کا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی خاص غذا یا سپلیمینٹ کووڈ 19 کے معاملے میں کارآمد ہے؟

جاپان کی صارف اُمور ایجنسی نے کورونا وائرس سے بچاؤ میں کارآمد ہونے کی دعویدار آن لائن فروخت ہونے والی مصنوعات سے متعلق اپریل اور مئی میں کیے گئے جائزے کے نتائج 25 جون کو جاری کیے۔ یہ ادارہ گزشتہ سال سے ایسے سروے کر رہا ہے۔

اس ادارے کے حکام کو پتہ چلا کہ 49 مصنوعات کے لیبل یا اشتہارات غیر مناسب ہیں۔

مثال کے طور پر ایسے ہی ایک قابلِ اعتراض اشتہار میں کہا گیا تھا کہ آپ وٹامن ڈی سپلیمینٹ لینے کی صورت میں کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہوں گے۔ ایک اور اشتہار میں اس بات کی تصدیق کا دعویٰ کیا گیا تھا کہ جاپانی پھل یعنی کاکی کی ترشی کی حامل کینڈی کورونا وائرس کو غیر مؤثر کر دیتی ہے۔ اسی طرح ایک اور اشتہار میں کہا گیا تھا کہ سیاہ پھپھوندی کی ایک قسم سے تیار کی جانے والی چا گا چائے کورونا وائرس کے خلاف کارآمد ہے۔

حکام کے مطابق، ان اشتہارات میں کیے گئے دعوؤں کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ غلط فہمی پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے ایسی مصنوعات فروخت کرنے والے 13 کاروباری اداروں کو مصنوعات کے لیبل اور اشتہارات میں بہتری کی ہدایت کی۔ صارف اُمور ایجنسی کے حکام اپنی ویب سائٹ پر ایسے اشتہارات کے نمونے بھی لگا رہے ہیں اور صارفین سے کہہ رہے ہیں کہ وہ غلط فہمی کا باعث بننے والے دعوؤں سے خبردار رہیں۔

اس ادارے کے اشیائے خوردنی کے لیبل کے شعبے کے سربراہ نِشی کاوا کواِچی کا کہنا ہے کہ ایسے کئی اجزاء پر تحقیق موجود ہے جس میں محققین کا دعویٰ ہے کہ یہ کووڈ 19 کے لیے کارآمد ہیں۔ لیکن یہ ساری تحقیق زندہ اجسام کے بجائے صرف تجربہ گاہ میں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کسی نے بھی حقیقتاً مذکورہ خوراک یا سپلیمینٹ کو کھا کر اسے کارآمد ثابت نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارہ چاہتا ہے کہ صارفین تحمل سے کام لیں اور وائرس سے بچاؤ کی دیگر مستند سفارشات کو اپنائیں۔

یہ معلومات 30 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 264: وہ بخار توڑ اور درد کُش ادویات جنہیں ویکسین لگوانے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے 2 ، حاملہ خواتین یا جو لوگ پہلے سے زیرِ علاج ہیں انہیں محتاط ہونا چاہیے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان کی وزارتِ صحت نے پہلی بار یہ رہنمائی فراہم کی ہے کہ کسی شخص کو کورونا وائرس ویکسین لگوانے کے بعد بخار ہو جانے کی صورت میں کون سی دوا استعمال کی جا سکتی ہے۔ آج ہمارا سوال یہ ہے کہ انٹی پائیریٹکس یا پین کلرز یعنی بخار توڑ یا درد کو ختم کرنے والی دوائیں لیتے وقت کسے محتاط ہونا چاہیے؟

اگر کسی شخص کو کورونا وائرس ویکسین لگوانے سے بخار ہو جائے جو اکثر ایک یا دو روز کے اندر اندر ہو جاتا ہے، تو وہ شخص ضرورت پڑنے کی صورت میں بخار توڑ یا درد ختم کرنے والی دوائیں لے سکتا ہے اور اس کی طبیعت کی نگرانی کی جائے گی۔

تاہم وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ جب مداوا کرنے کی غرض سے بخارتوڑ اور درد دور کرنے والی دوائیں لیں تو انہیں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے مطابق ان میں وہ لوگ شامل ہیں جیسا کہ ایسی خواتین جو حاملہ ہیں یا بچے کو اپنا دودھ پلا رہی ہیں، پہلے سے زیرِ علاج لوگ، کوئی بھی شخص جسے دواؤں یا دیگر مواد سے الرجی ردعمل ہوتا ہو یا اُسے دمہ ہو، ایسے معمر افراد اور مریض جو معدے کے السر یا دیگر بیماریوں کیلئے زیرِ علاج ہوں۔ وزارت ایسے لوگوں پر زور دے رہی ہے کہ وہ خود اپنے ڈاکٹروں یا دواؤں کے ماہرین سے مشاورت کریں۔

وزارت کے مطابق، اگر لوگوں میں سخت تکلیف یا شدید بخار جیسی سنگین علامات پیدا ہو جائیں یا علامات طویل وقت تک جاری رہیں تو ایسی صورت میں انہیں صحت دیکھ بھال کے ماہرین سے بھی مشورہ کرنا چاہیے۔

وزارتِ صحت نے مشورہ دیا ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد درد یا بخار جیسی علامات سے بچاؤ کیلئے بخارتوڑ یا درد ختم کرنے والی دواؤں کو بار بار استعمال نہ کیا جائے۔

یہ معلومات 29 جُون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 263: وہ بخار توڑ اور درد کُش ادویات جنہیں ویکسین لگوانے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے 1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان کی وزارت صحت نے پہلی مرتبہ اس بارے میں رہنمائی فراہم کی ہے کہ کورونا وائرس ویکسین لگوانے کے بعد بخار وغیرہ جیسی کوئی علامات سامنے آنے کی صورت میں کونسی دوائیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ آج ہم اس سوال پر توجہ مرکوز کریں گے کہ کورونا وائرس ویکسین لگوانے کے بعد کون کون سی بخار توڑ یا درد کُش ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔

ویکسین لگوانے کے بعد اکثر ایک یا دو روز کے اندر بخار ہو جاتا ہے۔ اپنی کیفیت کا جائزہ لیتے ہوئے بوقتِ ضرورت کوئی دوا استعمال کی جا سکتی ہے۔

وزارت صحت کے مطابق، ویکسینیشن کے بعد لی جا سکنے والی دواؤں میں ایسیٹامینوفین، اِیبُوپروفین اور لوکسوپروفین شامل ہیں۔ وزارت نے ایسی معلومات جاری نہیں کیں۔ لیکن جون کے اوائل میں کئی دوا فروش اسٹوروں کے منتظمین نے اطلاع دی تھی کہ ان کے پاس ڈاکٹری نسخے کے بغیر فروخت کی جا سکنے والی ایسیٹامینوفین کی حامل ادویات کا ذخیرہ کم ہو رہا ہے۔ اس کے بعد وزارت صحت نے فوری طور پر اپنی ویب سائٹ پر یہ نئی اطلاعات فراہم کیں کہ ایسیٹامینوفین کے علاوہ عام فروخت والی دیگر دوائیں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ وزارت نے یہ اطلاع ملک بھر کی دوا ساز صنعت سے متعلقہ تنظیموں اور دوا فروشوں کو بھی فراہم کیں۔

تاہم، وزارت کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین یا کسی اور مخصوص صورتحال والے افراد اپنے ڈاکٹر یا دواؤں کے ماہرین سے رجوع کریں، کیونکہ ان کے معاملے میں بعض اجزاء والی دوائیں استعمال کرنا غیرمناسب ہو سکتا ہے۔

وزارت نے یہ معلومات بھی فراہم کی ہیں کہ بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں یہ کیسے معلوم کیا جائے کہ یہ علامات ویکسین لگوانے یا کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔ وزارت کے مطابق کھانسی، گلے میں درد، ذائقے یا بُو کا محسوس نہ ہونا اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات کی وجہ کورونا وائرس بھی ہو سکتا ہے۔ ویکسین لگوانے کی وجہ سے ہونے والے بخار کے ساتھ عام طور پر یہ علامات نہیں ہوتیں۔

یہ معلومات 28 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 262: کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کا منصوبہ کیا ہے؟ 12 ، vasovagal syncope کیا ہے؟ اس کا علاج کس طرح سے کیا جا سکتا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کا جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ان کے ملازمین اور طلبا کو ویکسین کے ٹیکے لگانے کے منصوبے سے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس منصوبے پر 21 جون سے مکمل پیمانے پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ آج اس سلسلے کی بارہویں قسط میں ہم نے ایک ماہر سے vasovagal syncope کے بارے میں پوچھا جو ٹیکہ لگوانے کے بعد وقوع پذیر ہو سکتی ہے۔

عمومی طور پر جانا جاتا ہے کہ حفاظتی ٹیکہ لگوانے سے ایک ردعمل ہو سکتا ہے جوvasovagal syncope کہلاتا ہے۔ یہ ردعمل دراصل ٹیکے کی تکلیف اور ذہنی دباؤ کے اشتراک سے جنم لیتا ہے۔ اسکی علامات میں سر چکرانا اور دم گھٹنا شامل ہیں۔
چیبا شہر کے ایناگے وارڈ میں ایک کلینک نے تقریباً پانچ ہزار افراد کو نئے کورونا وائرس کے حفاظتی ٹیکے لگائے ہیں، جن میں سے بیشتر افراد عمر رسیدہ تھے۔ اس مرکز کے ایک ڈاکٹر کوچی فومیو کا کہنا ہے کہ مئی میں 60 کے پیٹے کی ایک خاتون ٹیکہ لگوانے کے بعد انتظار گاہ میں تشریف رکھنے کے دوران خود کو بیمار محسوس کرنے لگیں۔

انکی نبض دھیمی پڑ گئی اور نیم بیہوشی طاری ہو گئی۔ تاہم ایسی کوئی علامات نہیں تھیں جو ظاہر کریں کہ ان میں الرجی ردعمل پیدا ہو گیا ہو۔ ڈاکٹر کوچی نے ان کی اس حالت کی بطور vasovagal syncope تشخیص کی، جس میں تکلیف اور ذہنی دباؤ، فشارِ خون میں کمی لاتا ہے، اور نتیجتاً سر چکرانے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ عملے نے فوری طور پر اقدامات کیے جن میں خاتون کو بستر پر لٹانا شامل تھا۔ پھر تقریباً پندرہ منٹ میں خاتون کی حالت بہتر ہوئی اور بعد ازاں وہ گھر چلی گئیں۔ ڈاکٹر کوچی کا کہنا ہے کہ نوجوان لوگوں میں vasovagal syncope کی وقوع پذیری کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انفلوئنزا کے حفاظتی ٹیکے بھی بعض افراد میں ایسی ہی علامات کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ درست علاج کی صورت میں بعد ازاں یہ علامات ختم ہو جائیں گی۔ انہوں نے ویکسین کا ٹیکہ لگوانے والوں کو تاکید کی ہے کہ ٹیکہ لگوانے کے بعد کچھ دیر وہیں ٹھہرے رہیں تاکہ ممکنہ پیچیدگی کے لیے ان پر نگاہ رکھی جا سکے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ٹیکہ لگوانے سے قبل کی شب ٹھیک سے نیند پوری کر لی جائے اور اپنی جسمانی حالت بھی اچھی رکھی جائے تو اس سے بھی مدد ملے گی۔

یہ معلومات 25 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 261: کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کا منصوبہ کیا ہے؟ 11 ، ماہرین کو نوجوانوں میں ویکسینیشن سے توقعات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اپنے اس سلسلے میں ہم کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ملازمین، عملے اور طلباء کو ویکسین لگانے سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ 21 جون سے بھرپور انداز میں شروع ہو چکا ہے۔ آج ہم اس سلسلے کی گیارہویں قسط میں ماہرین سے اس امید سے متعلق دریافت کر رہے ہیں کہ یہ منصوبہ نوجوانوں میں ویکسینیشن کے فروغ کا سبب بنے گا۔

جاپان کے قومی مرکز برائے عالمی صحت اور ادویات سے تعلق رکھنے والے کُوتسُونا ساتوشی، کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد سنگین صورتحال کا شکار ہونے والے کئی مریضوں کی دیکھ بھال کرتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انفیکشن کا پھیلاؤ اکثر نوجوانوں سے شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے کے تحت کئی نوجوان ویکسین لگوائیں گے اور اس سے وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار کم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ لوگ یہ خیال کر سکتے ہیں کہ نوجوانوں میں بیماری کی زیادہ سنگین علامات پیدا ہونے کا امکان کم ہوتا ہے، اس لیے یہ بے معنی اقدام ہے۔ تاہم، کورونا وائرس کی جو متغیر اقسام اب پھیل رہی ہیں اُن کے باعث شدید بیمار ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ضمنی اثرات کے بارے میں بھی خدشات ہیں۔ جناب کُوتسُونا نوجوانوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ویکسین لگوانے پر غور کریں۔

نوجوان افراد میں انجکشن کے درد کے ساتھ ذہنی دباؤ کے باعث vasovagal syncope یعنی دل کی شریانوں کی حرکت متاثر ہو جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس سے ان کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، انہیں سانس لینے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے یا چکر آنے لگتے ہیں۔ ایسا صرف کورونا ویکسین ہی نہیں بلکہ ہر ویکسین کے معاملے میں ہوتا ہے۔

جناب کُوتسُونا نے کہا کہ ان کے مرکز پر قبل ازیں کیے گئے ایک جائزے سے معلوم ہوا تھا کہ ویکسین لگوانے کے بعد تقریباً 200 یا 300 افراد میں سے ایک فرد میں مذکورہ کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس صورتحال سے بچنے کی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً ویکسین لگانے کے مرکز میں ویکسین لگوانے والے شخص کو ویکسین لگاتے وقت پرسکون ماحول فراہم کیا جائے یا اُسے لٹا دیا جائے اور وہ آرام دہ حالت میں ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس تجربے سے پہلے بھی گزرنے والا شخص طبی عملے کو اس بارے میں بتائے تو اس سلسلے میں تیاریاں کی جا سکتی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اس وجہ سے ویکسین لگانے میں تذبذب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مناسب اقدامات کے ذریعے کم وقت میں صورتحال پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

یہ معلومات 24 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 260: کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کا منصوبہ کیا ہے؟ 10 ، ویکسین لگانے والے اداروں کے لیے ماہرین کے رہنماء خطوط

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہم کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ملازمین، عملے اور طلباء کو ویکسین لگانے سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ 21 جون سے بھرپور انداز میں شروع ہو چکا ہے۔ آج ہم اُن رہنماء خطوط کا جائزہ لیں گے جو ماہرین نے اِن کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کے لیے مرتب کیے ہیں۔

21 جون کو طبی ماہرین نے دو پیشہ ورانہ تنظیموں کے ساتھ مل کر ان کی ویب سائٹس پر کمپنیوں کے لیے کووڈ 19 ویکسینیشن کے رہنماء خطوط جاری کیے۔ یہ دو تنظیمیں ’’جاپانی سوسائٹی برائے سفر و صحت‘‘ اور ’’جاپان سوسائٹی برائے پیشہ ورانہ صحت‘‘ ہیں۔

مذکورہ رہنماء خطوط میں ویکسین لگانے والی کمپنیوں کو انتہائی شاذونادر ہونے والے شدید الرجی ردعمل صورتحال سمیت ہر قسم کے ضمنی اثرات کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوان نسل میں الرجی سے متعلقہ ردعمل کافی عام ہے، اس لیے انہیں ویکسینیشن مراکز پر اس سے نمٹنے کی ابتدائی دواؤں کی کِٹس وغیرہ کا مکمل بندوبست رکھنا چاہیے۔

ان رہنماء خطوط میں مزید کہا گیا ہے کہ بخار وغیرہ سمیت بیشتر ضمنی اثرات ایک یا دو دن میں ختم ہو جاتے ہیں۔ تاہم، ویکسین کی دوسری خوراک کے بعد ہونے والے ضمنی اثرات عام طور پر پہلی خوراک کے بعد کے ضمنی اثرات کے مقابلے میں زیادہ شدید ہوتے ہیں۔ انہوں نے کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دوسری بار ویکسین لگوانے والے ملازمین کے ممکنہ طور پر کام سے چھٹی لینے کا خیال کرتے ہوئے ایک ہی کام سے متعلقہ افراد کو الگ الگ تاریخوں میں ویکسین لگانے وغیرہ جیسے اقدامات کریں۔

اس کے علاوہ رہنماء خطوط میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ویکسین لگوانے والے ملازمین کی ذاتی معلومات کا تحفظ کیسے کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہر شخص اپنی مرضی سے ویکسین لگوا رہا ہے۔

رہنماء خطوط مرتب کرنے والی ٹیم کے سربراہ ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ہامادا آتسُوؤ ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ تعلیمی اور کاروباری اداروں کی جانب سے ویکسین لگانا وسیع ہو جانے کی صورت میں یہ عمل وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے میں کلیدی حیثیت کا حامل ہوگا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ منتظمین کو ضمنی اثرات کے لیے زیادہ محتاط رہنا ہوگا۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کمپنیاں ویکسین لگانے کا آغاز کرنے سے قبل رہنماء خطوط کا اچھی طرح سے مطالعہ کریں۔

یہ معلومات 23 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 259: کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کا منصوبہ کیا ہے؟ 9، کیا اس منصوبے کے تحت ویکسین لگوانے والے ملازمین یا طلباء سے ویکسینیشن کی فیس وصول کی جائے گی؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے اپنے ملازمین یا طلباء کو ویکسین لگانے سے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ وزارت صحت نے اس منصوبے سے متعلق لوگوں کی طرف سے موصولہ سوالات کی بنیاد پر ’’اکثر پوچھے جانے والے سوالات اور ان کے جوابات‘‘ مرتب کر کے جاری کر دیے ہیں۔ آج ہمارا سوال یہ ہے کہ آیا کمپنیاں یا یونیورسٹیاں اُن لوگوں سے ویکسینیشن کے اخراجات ادا کرنے کا کہیں گی جو ویکسین لگوا رہے ہیں؟

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جاپان کے ٹیکہ لگانے کے قانون کے تحت کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین کے ٹیکے لگانے کا عمل عارضی ویکسینیشن ہے لہٰذا کمپنیاں اور یونیورسٹیاں اُن لوگوں سے اخراجات وصول نہیں کر سکتیں جو ویکسین کا ٹیکہ لگوا رہے ہیں۔ اس وزارت نے کہا ہے کہ کمپنیاں اور یونیورسٹیاں ویکسین لگانے کیلئے مطلوبہ طبی عملے اور مراکز کا حصول یقینی بنانے کی خود ذمہ دار ہیں۔ اُس کے مطابق یہ بات مذکورہ اداروں کیلئے مناسب نہیں ہے کہ وہ ویکسین کا ٹیکہ لگانے والے ملازمین یا دیگر سے ویکسینیشن کے اخراجات کا کچھ حصہ برداشت کرنے کیلئے کہیں۔ تاہم، کمپنیاں اور یونیورسٹیاں اخراجات کا کچھ حصہ خود برداشت کرنے کیلئے آزاد ہیں۔ اگر ویکسینیشن منصوبہ کئی کمپنیوں اور یونیورسٹیوں نے مشترکہ طور پر انجام دینا ہے تو ایسی صورت میں وہ اخراجات کو آپس میں بانٹنے کا انتخاب کر سکتی ہیں۔

یہ معلومات 22 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 258: کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کا منصوبہ کیا ہے؟ 8، کیا قرب و جوار کے رہائشی بھی اس منصوبے کے تحت ویکسین لگوانے کے مجاز ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ملازمین اور طلباء کو ویکسین لگانے سے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ وزارت صحت نے اس منصوبے سے متعلق لوگوں کی طرف سے موصولہ سوالات کی بنیاد پر ’’اکثر پوچھے جانے والے سوالات اور ان کے جوابات‘‘ مرتب کر کے جاری کر دیے ہیں۔ آج ہم دیکھیں گے کہ آیا ان اداروں کے قرب و جوار میں رہنے والے افراد بھی اس منصوبے کے تحت ویکسین لگوا سکتے ہیں؟

وزارت نے اکثر پوچھے جانے والے سوالات میں نشاندہی کی ہے کہ ویکسین لگانے والے اداروں کیلئے ضروری ہے کہ وہ ویکسین لگوانے والے افراد کی ذاتی معلومات کا مناسب انتظام کریں اور ایسا بندوبست کریں کہ وہ ویکسین کی دوسری خوراک بھی لگا سکیں۔ چنانچہ، وزارت نے کمپنیوں اور یونیورسٹیوں سے کہا ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ بہت احتیاط کے ساتھ کریں کہ کون کون سے لوگ ان سے ویکسین لگوانے کے مجاز ہیں۔

اس سوال پر کہ ویکسین لگوانے والے افراد کو کسی قسم کے ضمنی اثرات کا سامنا کرنے کی صورت میں آیا حکومت ضروری طبی آلات اور عملہ فراہم کرے گی یا نہیں، وزارت کا جواب تھا کہ کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کو اپنے طور پر ان چیزوں کا بندوبست کرنا ہوگا۔ وزارت نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ پیشگی طور پر طبی اداروں سے مشاورت کر کے ضرورت پڑ سکنے والے آلات اور دواؤں کا انتظام کریں اور ابتدائی طبی امداد کے سامان کا اچھی طرح بندوبست کر لیں تاکہ کسی بھی وقت ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کیلئے تیار ہوں۔

وزارت نے یہ بھی کہا ہے کہ تمام تیاریاں مکمل ہونے کی صورت میں وہ مقررہ تاریخ سے پہلے بھی ویکسین لگانے کا آغاز کر سکتے ہیں۔

یہ معلومات 21 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 257: کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کا تیارکردہ ویکسینیشن منصوبہ کیا ہے؟ 7، کیا اس منصوبے کے تحت جاپان میں غیر ملکی کارکن ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے مجاز ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہماری توجہ ٹیکہ لگانے کے منصوبے پر مرکوز ہے جس میں حکومت، کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کو اُن کے عملے اور طلباء کو ویکسین کے ٹیکے لگانے کی اجازت دیتی ہے۔ آج ہم جانیں گے کہ کون کون لوگ اس منصوبے کے تحت ٹیکے لگوانے کے مجاز ہیں۔

وزارتِ صحت نے کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے موصول شدہ سوالات کی بنیاد پر کورونا وائرس ویکسینیشن ایف اے کیو یعنی کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگانے سے متعلق اکثر پوچھے جانے والے سوالات اور ان کے جوابات کا اجراء کیا ہے۔

اس ایف اے کیو کے مطابق، ٹیکہ لگوانے کے مجاز افراد سے متعلق کہا گیا ہے کہ کمپنیوں کو ناصرف اپنے ملازمین بلکہ اپنی متعلقہ کمپنیوں کے عملے کو بھی حفاظتی ٹیکے لگانے کی اجازت ہے اور یونیورسٹیاں بھی اپنے طلباء کو ٹیکے لگا سکتی ہیں۔

جاپان میں رہائش پذیر غیر ملکیوں سے متعلق ایف اے کیو میں درج ہے کہ ہر ایسا غیر ملکی جس کا جاپان کے بنیادی رہائشی رجسٹر میں اندراج ہے وہ اس منصوبے کیلئے مجاز ہے۔

وہ کارکن جنہیں ابھی ٹیکہ لگوانے کا کوپن نہیں ملا ہے، ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت کوپن کے بغیر بھی وہ مجاز ہیں۔ ایسی صورت میں ٹیکہ لگوانے سے پہلے کے سوالنامے میں ان کے پتے، نام، اور تاریخِ پیدائش کی تصدیق ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر کی جانی چاہیے۔ یہ سوالنامے اُن کمپنیوں یا یونیورسٹیوں کے پاس اُس وقت تک محفوظ رکھے جانے چاہیئں جہاں ٹیکے لگائے گئے ہوں جب تک کہ ٹیکہ لگوانے والے، بعد ازاں موصول شدہ ویکسینیشن کوپن ان کے حوالے نہ کر دیں۔

بعض کمپنیوں نے وزارت سے یہ سوال پوچھا کہ جب وہ اس منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیں تو آیا انہیں اپنے تمام ملازمین کو ٹیکہ لگانا لازمی ہے۔ اس بارے میں ایف اے کیو میں درج ہے کہ کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کے اس ذاتی فیصلے کا احترام کریں کہ آیا وہ ٹیکہ لگوانا چاہتے ہیں یا نہیں۔

یہ معلومات 18 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 256: کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کا منصوبہ 6، تمام کمپنیوں کو ویکسینوں کی فراہمی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارا یہ سلسلہ کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ملازمین، عملے اور طلباء کو ویکسین لگانے سے متعلق ہے۔ آج ہم کمپنیوں میں ویکسین لگانے کے بارے میں وزارت صحت کے مرتب کیے گئے رہنماء خطوط پر توجہ مرکوز کریں گے۔

جاپان کی وزارت صحت نے کمپنیوں اور یونیورسٹیوں میں 21 جون سے بھرپور پیمانے پر ویکسینیشن کے آغاز سے قبل کمپنیوں کے لیے رہنماء خطوط جاری کیے ہیں۔

ان رہنماء خطوط میں بتایا گیا ہے کہ کمپنیاں ملازمین کی ملازمت کے انداز سے قطع نظر اپنے تمام ملازمین کو چاہے وہ مستقل ہوں یا غیر مستقل، ویکسین لگائیں گی۔ کام کے مقامات پر کلسٹر یا بڑے پیمانے پر وائرس انفیکشن کی روک تھام کے بڑھتے ہوئے اقدامات کی نکتۂ نظر سے وزارت صحت کاروباری اداروں سے ملازمین کو ویکسین لگانے کا مناسب بندوبست کرنے کا کہہ رہی ہے جیسا کہ وائرس سے متاثر ہونے کے زیادہ امکانات والے افراد کو ترجیحی بنیاد پر ویکسین لگانا وغیرہ۔

رہنماء خطوط میں کمپنیوں سے ملازمین کی پیشگی رضامندی حاصل کرنے کا بھی کہا گیا ہے تاکہ کسی کو اس کی مرضی کے خلاف ویکسین نہ لگائی جائے۔ اس کے علاوہ ویکسین لگوانے والے افراد کی ذاتی معلومات کو کسی اور مقصد سے استعمال نہ کیے جانے کا بھی کہا گیا ہے۔

وزارت صحت نے کام کے مقامات پر ویکسین لگانے والی تمام کمپنیوں کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے متعلقہ دفتر کے قیام سمیت تمام ضروری انتظامات کریں۔

یہ معلومات 17 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 255: کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کا منصوبہ 5، کم از کم لازمی تعداد میں کمی ہو سکتی ہے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں حکومت نے ویکسینیشن کی سہولت فراہم کرنے کی خواہشمند کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے درخواستیں وصول کرنے کا آغاز 8 جون سے کیا۔ آج ہم ان اداروں کی جانب سے ویکسینیشن سے متعلق سلسلے میں ان مقامات پر ویکسین لگانے کے لیے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم تعداد میں ممکنہ نرمی کا جائزہ لیں گے۔

حکومت نے ان مقامات کی استعداد بڑھانے کی غرض سے ایسی یونیورسٹیوں اور کمپنیوں سے آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے جن کے ملازمین کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہو۔

وزیر صحت تامُورا نوری ہیسا نے 11 جُون کو ایوان زیریں کی ایک کمیٹی کے اجلاس میں اس کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ ایک ہزار یا اس سے زائد ملازمین والے ادارے ویکسین لگانے کے لیے طبی عملے یا ویکسین لگانے سے قبل کے طبی معائنوں مثلاً فون پر ڈاکٹروں سے رابطہ کرنے جیسے انتظامات ممکنہ طور پر جلد کر سکیں گے۔

تاہم، وزیر صحت نے یہ بھی کہا کہ ایک بار ویکسینیشن منصوبہ شروع ہو جانے کے بعد حکومت لازماً ابتدائی کم از کم تعداد کی شرط پر اصرار نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کے عہدیدار صورتحال کا قریبی جائزہ لیں گے اور جب ایسا لگا کہ ویکسینیشن مراکز کی انتظامیہ کم تعداد کو ویکسین لگا سکتی ہے تو مراکز کیلئے کم سے کم ایک ہزار افراد کی حد کو مزید کم کرنے پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صورتحال میں ممکنہ تبدیلیوں کے لحاظ سے لچکدار رویہ اپنانے کی تیاری کر رہی ہے۔

یہ معلومات 16 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 254: کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کا منصوبہ کیا ہے؟ 4 ، چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں میں صورتحال

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کی سہولت فراہم کرنے کی غرض سے درخواستیں دینے کا آغاز 8 جون سے ہوا۔ آج ہم چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں میں ویکسین منصوبوں کی صورتحال پر توجہ مرکوز کریں گے۔

حکومت نے یونیورسٹیوں اور ایک ہزار سے زائد ملازمین والی کمپنیوں کو ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز کرنے کی اجازت دے کر ویکسین لگانے کے عمل کی رفتار بڑھانے کا منصوبہ وضع کر دیا ہے۔ دریں اثناء، تنظیمیں درخواستوں کی دیکھ بھال کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں تاہم جہاں تک چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کی بات ہے تو انہیں ویکسین لگانے کیلئے طبی عملے کے حصول میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

ایسی کمپنیوں کے مطابق، اُن کے پاس اپنے دفتر میں کل وقتی پیشہ ورانہ طبی ماہر تعینات نہیں ہے۔ مزید برآں، ان تنظیمات کیلئے درخواستوں کی بڑی تعداد کو منظم کرنا مشکل ہوگا جو ایک ہزار سے تجاوز کر رہی ہے۔ چنانچہ ان تنظیمات میں بڑی کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کے مقابلے میں درخواستوں پر پیشرفت نہیں ہو رہی۔

اسی طرح کی صورتحال کے تناظر میں تقریباً ڈھائی ہزار سے زیادہ رکن تنظیمات والی ٹوکیو تنظیم برائے چھوٹے کاروباری منتظمین کا کہنا ہے کہ اُسے اپنے ارکان سے ویکسین لگانے کے مشترکہ منصوبے شروع کرنے کیلئے کئی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اس تنظیم کے مطابق ان کمپنیوں کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ طبی عملے کا حصول یقینی بنانا ہے۔ اس تنظیم کی جانب سے میڈیکل سوسائٹی کو معاونت فراہم کرنے کیلئے درخواست دیے جانے کے باجود زیادہ پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔

دیگر معاملات میں یہ مسائل شامل ہیں کہ ویکسینوں کے ضیاع کی روکتھام کیلئے درخواستوں کی تعداد کا درست طریقے سے کیسے اندازہ لگایا جائے اور ویکسین لگانے کے مراکز کے اخراجات کس طرح پورے کیے جائیں۔

مذکورہ تنظیم کے ایک ملازم کا کہنا ہے کہ ویکسینوں تک رسائی میں بڑی اور چھوٹی کمپنیوں کے درمیان فرق کی رفتار غالباً تیز ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کو شرائط پورا ہونے تک انتظار کرنے کے بجائے ویکسینوں کی فراہمی کا بندبست کرنے کی غرض سے لازماً اقدام کرنا ہوگا کیونکہ چھوٹی کمپنیوں کے ملازمین کو ویکسین لگانے کی ضرورت ہے جن میں سے کئی باہر جگہ پر ہیں اور دفتر میں کام نہیں کر رہے۔

یہ معلومات 15 جُون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 253: کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کا منصوبہ کیا ہے؟ 3 ، یونیورسٹیوں میں ویکسینیشن

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کے لیے درخواستیں دینے کا آغاز 8 جون سے ہوا۔ آج ہم ان اداروں کی جانب سے ویکسینیشن سے متعلق سلسلے میں یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کے منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

وزارت تعلیم نے یونیورسٹیوں سے رابطے کے لیے 4 جون کو تقریباً 40 ارکان پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی۔ اس ٹیم نے ملک بھر کی تقریباً 800 یونیورسٹیوں سے دریافت کیا کہ آیا وہ ویکسین لگانے کا کام انجام دیں گی۔ وزارت کے عہدیداروں کے مطابق وہ اس منصوبے کو تمام یونیورسٹیوں تک پھیلانے سے قبل تقریباً 20 یونیورسٹیوں کے لیے ایک معاونتی پروگرام شروع کرے گی۔

8 جون سے درخواستیں قبول کرنے کا آغاز ہوتے ہی یونیورسٹیوں کی جانب سے ٹیم سے سوالات کی بھرمار ہو گئی۔ بعض نے دریافت کیا کہ درخواست دینے کا طریقۂ کار کیا ہوگا یا اس کے لیے کون سے آلات درکار ہوں گے اور وہاں کن افراد کو ویکسین لگائی جائے گی۔ بعض یونیورسٹیاں ایسی ہیں جہاں طب سے متعلق کوئی شعبہ نہیں۔ بعض یونیورسٹیوں نے دریافت کیا کہ ان کے پاس ویکسین لگانے کی جگہ تو موجود ہے لیکن اس مقصد کے لیے طبی عملے کا انتظام کس طرح کیا جائے گا۔

وزارت تعلیم کے مطابق، جاپان کی تقریباً 40 فیصد یونیورسٹیوں میں طب، نرسنگ اور دانتوں کے شعبے ہیں۔ وزارت کے حکام ایسے طریقے تلاش کر رہے ہیں جن کے ذریعے یہ یونیورسٹیاں اپنے قریب ایسے شعبے نہ ہونے والی یونیورسٹیوں کے ساتھ تعاون کریں۔ وزارت کو توقع ہے کہ وہ یونیورسٹیوں کو ویکسینیشن مراکز کے طور پر استعمال کر کے نوجوانوں میں ویکسینیشن کی شرح میں اضافہ کر سکے گی۔ حکام، یونیورسٹوں میں موسمِ گرما کی تعطیلات کا بھی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کنڈرگارٹن، پرائمری، جونیئر و سینیئر ہائی اسکولوں اور خصوصی بچوں کے اسکولوں کے عملے کو مقامی یونیورسٹیوں میں ستمبر سے نئے کلاسوں کا آغاز ہونے سے قبل ویکسین لگائی جا سکے گی۔

وزارت کا منصوبہ ہے کہ غیر ملکی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے والے طلباء کو ان کی روانگی سے قبل مقامی یونیورسٹیوں میں کووڈ 19 ویکسین لگوانے کی اجازت دی جائے۔ وزارت کا منصوبہ ہے کہ ایسے افراد کو ویکسین لگوانے کا سرٹیفیکیٹ، وزیر تعلیم کی جانب سے انگریزی میں جاری کیا جائے۔

یہ معلومات 14 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 252: کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کا منصوبہ کیا ہے؟ 2 ، یہ منصوبہ کب شروع ہوگا؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کی سہولت فراہم کرنے کی غرض سے درخواستیں دینے کا آغاز 8 جون سے ہوا۔ ان اداروں کی جانب سے ویکسینیشن سے متعلق آج ہم کام کی جگہوں اور یونیورسٹیوں میں ویکسینیشنز کے موضوع پر اپنے سلسلے میں یہ جائزہ لیں گے کہ ایسے مقامات پر ویکسینیشن کا آغاز کب ہوگا؟

حکومت جاپان کمپنیوں اور یونیورسٹیوں میں 21 جون سے ویکسین لگانے کا عمل شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جن بلدیات میں معمر افراد کو ویکسین لگانے کا عمل ہموار انداز سے جاری ہے، وہاں ایسے مقامات پر مقررہ تاریخ سے قبل بھی ویکسینیشن شروع کی جا سکتی ہے۔ ویکسین لگانے والے طبی ادارے اس کام کے اخراجات متعلقہ بلدیات سے وصول کریں گے۔

جن افراد کو ویکسین لگائی جائے گی ان کی ذاتی معلومات، ویکسین لگانے کی تاریخ اور مقام وغیرہ جیسی معلومات حکومت کے ویکسینیشن ریکارڈ سسٹم VRS میں ڈالی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے ان مراکز کو ویکسین اور دیگر ضروری چیزوں کے ساتھ ساتھ خصوصی ٹیبلٹ کمپیوٹر بھی فراہم کیے جائیں گے۔ ڈاکٹر یا ذمہ دار عہدیدار ان ٹیبلیٹس کے ذریعے ویکسین لگانے کی تاریخ اور لگائی جانے والی خوراک کی تعداد جیسی متعلقہ معلومات کا اندراج کریں گے۔ یہ معلومات اُن بلدیات کو فراہم کی جائیں گی جہاں ویکسین لگوانے والا فرد رہتا ہے۔

وزارت صحت کے ماہرین کے ایک پینل کا کہنا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے کمپنیوں وغیرہ میں ویکسین لگانے کی کوششوں کے ذریعے جاپان بھر میں لوگوں کو ویکسین لگانے کے عمل میں تیزی لانے کی ضرورت ہے تاکہ جتنے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ممکن ہو سکے ویکسین لگائی جا سکے۔

یہ معلومات 11 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 251: کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کا منصوبہ کیا ہے؟ 1 ، کن شرائط کو پورا کرنا لازمی ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کی سہولت فراہم کرنے کی غرض سے درخواستیں دینے کا آغاز 8 جون سے ہوا۔ ان اداروں کی جانب سے ویکسین لگانے اور مقامی بلدیات کی جانب سے ویکسین لگانے میں کیا فرق ہے؟ اپنے اس سلسلے میں ہم اسی سوال پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔

حکومت کو توقع ہے کہ کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کو بھی ویکسین لگانے کے مقامات کے طور پر استعمال کرنے سے مقامی بلدیات پر بوجھ کم کرتے ہوئے لوگوں کو ویکسین لگانے کی رفتار میں اضافہ ہوگا۔ ویکسین لگانے کے لیے ان کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کو لازماً جگہ کا انتظام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے طور پر طبی عملے کا بندوبست بھی کرنا ہوگا تاکہ مقامی بلدیات کی جانب سے ویکسین لگانے کی کوششوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔

مقامی بلدیات، دوا ساز کمپنیوں فائزر اور بیون ٹیک کی تیار کردہ ویکسین استعمال کر رہی ہیں۔ جبکہ کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے موڈرنا کمپنی کی تیار کردہ ویکسین استعمال کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ایک شرط یہ ہے کہ ہر مقام پر تقریباً ایک ہزار افراد کو ویکسین لگائی جائے۔ انہیں ہر شخص کو دو مرتبہ ویکسین لگا کر ویکسینیشن کا عمل بھی لازماً مکمل کرنا ہوگا۔

کمپنیوں اور یونیوسٹیوں کو ویکسین لگانے کا آغاز کرنے سے قبل لازماً ایک معاہدے پر دستخط کرنا ہوں گے اور مقام کا کوڈ حاصل کرنا ہوگا۔ انہیں ویکسینیشن پروگرام کو ہموار انداز میں چلانے کے لیے ضروری معلومات بھی لازماً وزارت صحت کے وضع کردہ نظام ’V-SYS‘ میں ڈالنی ہوں گی۔ ان معلومات میں ویکسین لگانے والے ڈاکٹروں اور ویکسین و ویکسین کی مطلوبہ مقداروں کی دیکھ بھال کرنے والے نگرانوں کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ویکسین کو لازماً منفی 20 درجے سینٹی گریڈ کے فریزر میں ذخیرہ کرنا ہوگا۔ مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ان ضروری اقدامات کی تیاریوں کے لیے کچھ تعاون فراہم کر سکتی ہے۔

یہ معلومات 10 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 250: اولمپکس و پیرالمپکس سے قبل کے تربیتی کیمپس اور انسدادِ وائرس اقدامات 3 ، کھیلوں سے قبل کے تربیتی کیمپس کیوں ضروری ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آسٹریلیاء کی سوفٹ بال ٹیم اولمپکس سے قبل کے تربیتی کیمپ کے لیے یکم جُون کو جاپان پہنچ گئی۔ کورونا وائرس کی وباء کے باعث اولمپکس و پیرالمپکس کا انعقاد ایک سال کے لیے ملتوی کیے جانے کے بعد سے یہ جاپان پہنچنے والی پہلی ٹیم ہے۔ آج ہم اولمپکس سے قبل کے تربیتی کیمپس اور وائرس انفیکشن کی روک روکتھام کے موضوع پر پیش کیے جا رہے اپنے سلسلے میں اس بات کا جائزہ لیں گے کہ اولمپک کھیلوں سے قبل کے تربیتی کیمپس کیوں ضروری ہیں۔

اولمپکس اور پیرالمپکس میں شرکت کرنے والی غیر ملکی ٹیمیں عموماً مقابلوں کے آغاز سے پہلے ہی میزبان ملک پہنچ کر وہاں قیام کرتی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وقت کے فرق سے ذہن پر پڑنے والے اثرات پر قابو پایا جائے اور مقامی کھانوں اور آب و ہوا کا عادی ہوا جائے۔

سنہ 2016 میں جاپانی کھلاڑی ریو دے جنیرو اولمپکس شروع ہونے سے کوئی دو ہفتے قبل ہی ملک سے روانہ ہو گئے تھے اور انہوں نے برازیل یا امریکہ میں کیمپس منعقد کیے تھے جو یکساں ٹائم زون میں واقع ہے۔ جاپان اور برازیل کے درمیان وقت کا فرق 12 گھنٹے کا ہے۔

ٹوکیو گیمز کے لیے جاپان بھر کی 528 بلدیات نے غیر ملکی ٹیموں کے لیے میزبان علاقوں کے طور پر اندراج کروایا ہے۔ کئی بلدیات کھیلوں سے قبل کے تربیتی کیمپوں کے لیے غیر ملکی ٹیموں کا خیر مقدم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔ بعض ٹیموں نے اپنے سفر اور قیام کے دوران کورونا وائرس انفیکشن سے متاثر ہونے کا خطرہ کم کرنے کے لیے اس طرح کے کیمپس منسوخ کر دیے ہیں۔ تاہم، کابینہ دفتر کے مطابق اب بھی 100 سے زائد ٹیمیں کھیلوں سے قبل کے کیمپس کے انعقاد کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ بعض کھلاڑی جون سے جاپان آنا شروع ہو گئے ہیں، تاہم غالب امکان یہ ہے کہ ان کی اکثریت جولائی میں آئے گی۔

کھلاڑیوں کے ایسے پہلے دستے کے طور پر آسٹریلیاء کی سوفٹ بال ٹیم کے تقریباً 30 کھلاڑی یکم جون کو گُنما پریفیکچر کے اوتا شہر پہنچ گئے ہیں۔ اوتا شہر کے مقامی حکام نے بتایا ہے کہ تمام کھلاڑی اور عملے کے ارکان جاپان آنے سے قبل ویکسین لگوا چکے ہیں۔ اُن کا دورانِ قیام ہر روز پی سی آر ٹیسٹ ہو رہا ہے۔ کھلاڑیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ تربیت کے بال پارک جانے کے علاوہ اپنے ہوٹل میں ہی رہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹیم کے 45 روزہ قیام کے دوران وہ وائرس سے بچاؤ کے مکمل اقدامات کریں گے اور ٹیم کی معاونت کریں گے۔

یہ معلومات 9 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 249: اولمپکس  و پیرا لمپکس سے قبل کے تربیتی کیمپس اور انسدادِ کورونا وائرس اقدامات 2 ، میزبان شہروں وغیرہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آسٹریلیاء کی سوفٹ بال ٹیم جو مقابلے سے قبل کے تربیتی کیمپ کیلئے یکم جُون کو جاپان پہنچی ہے وہ کورونا وائرس کے باعث ٹوکیو گیمز کو معطل کیے جانے کے بعد سے جاپان پہنچنے والا پہلا وفد ہے۔ آج ہم انسدادِ انفیکشن اقدامات سے متعلق اپنے سلسلے میں اولمپکس و پیرالمپکس سے قبل کے تربیتی کیمپوں کے انعقاد کے حوالے سے ٹیموں کی میزبانی کرنے والی مقامی بلدیات کو جن اقدامات کی ضرورت ہے اُن پر توجہ مرکوز کریں گے۔

حکومت نے اولمپک کھیلوں سے قبل تربیتی کیمپوں کیلئے پہنچنے والے اولمپیئنز کی میزبانی کرنے والی مقامی بلدیات کیلئے انسدادِ انفیکشن رہنماء خطوط وضع کیے ہیں۔ ان رہنماء خطوط میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ میزبان کہلانے والے شہر یا قصبے وغیرہ غیرملکی وفود کا خیرمقدم کرنے کے کسی قدر ذمہ دار ہیں۔

ان رہنماء خطوط میں بتایا گیا ہے کہ اگر میزبان شہر یا قصبہ وغیرہ ہوائی اڈوں یا ایتھلیٹس ولیج سے دور ہوں تو انہیں لازماً چارٹرڈ پروازیں، چارٹرڈ شنکانسین بلٹ ٹرینیں یا نقل وحمل کے عوامی ذرائع کے علاوہ سفر کے دیگر ذرائع کا بندوبست کرنا ہوگا۔ غیرملکی وفود سے کہا گیا ہے کہ اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں کو عام لوگوں کی نسبت مختلف اوقات اور علیحدہ راستوں سے استعمال کیا جائے۔

اُن سے کہا جا رہا ہے کہ جب ٹیمیں اپنے میزبان شہر یا قصبے وغیرہ میں تربیت کریں تو وہ خصوصی طور پر تربیتی مراکز کی تخصیص کروائیں اور مقامی رہائشیوں کے ساتھ مشق کرنے سے گریز کریں۔ اُن سے درخواست کی گئی ہے کہ اپنی رہائش کی جگہوں پر ساری منزلوں یا عمارات کی تخصیص کروائیں اور باہر کے لوگوں سے بالمشافہ رابطے سے گریز کریں۔

وائرس کی متغیر اقسام کے انفیکشن سے بچنے کیلئے کھلاڑیوں اور ممکنہ طور پر کھلاڑیوں سے رابطہ کرنے والے مقامی حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر روز ٹیسٹ کروائیں۔ کھلاڑیوں اور رہائشیوں کے مابین باہمی تبادلے آن لائن ہوں گے تاکہ وہ ایک دوسرے سے بالمشافہ رابطے میں نہ آئیں۔

مرکزی حکومت نے انسدادِ انفیکشن کی لاگت پوری کرنے کی غرض سے پریفیکچروں کیلئے تقریباً 11 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی رقم مختص کی ہے۔ لیکن بعض مقامی بلدیات کا کہنا ہے کہ کیونکہ تبادلوں پر سخت پابندیاں ہیں اور اقدامات کو نافذ کرنے کا بوجھ بھاری ہے، لہٰذا یہ امر مشکل ہے۔

یہ معلومات 8 جُون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 248: اولمپکس و پیرالمپکس سے قبل کے تربیتی کیمپس اور انسدادِ کورونا وائرس اقدامات 1 ، کھلاڑیوں کے لیے خود کو قرنطینہ کرنے کا دورانیہ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آسٹریلیاء کی خواتین سوفٹ بال ٹیم اولمپکس سے قبل کے تربیتی کیمپ کے انعقاد کے لیے یکم جُون کو جاپان پہنچ چکی ہے۔ کورونا وائرس کی وباء کے باعث اولمپکس و پیرالمپکس کا انعقاد ایک سال کے لیے ملتوی کیے جانے کے بعد سے یہ تربیتی کیمپ کے لیے جاپان آنے والی پہلی غیر ملکی ٹیم ہے۔ آج سے شروع ہونے والے ایک نئے سلسلے میں ہم اولمپکس و پیرالمپکس سے قبل کے تربیتی کیمپوں کے انعقاد کے حوالے سے وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اقدامات پر توجہ مرکوز کریں گے۔

ٹوکیو اولمپکس و پیرالمپکس اور متعلقہ آزمائشی مقابلوں وغیرہ سے منسلک افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ جاپان کیلئے روانہ ہونے سے قبل کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروائیں اور جاپان پہنچتے ہی ہوائی اڈے پر اینٹیجن ٹیسٹ بھی کروائیں۔ انہیں جاپان پہنچنے کے اگلے روز سے آغاز کرتے ہوئے 14 روز تک قرنطینہ کرنے یعنی دوسروں سے الگ تھلگ رہنے کا بھی کہا گیا ہے۔

تاہم حکومت جاپان ان کے لیے ’’خصوصی غیر معمولی وجوہات‘‘ کے تحت قرنطینہ شرائط میں نرمی کی اجازت دے رہی ہے۔ کھلاڑی اور کوچ جاپان آنے کے اگلے روز سے بعض شرائط کے تحت تربیت جیسی اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر سکتے ہیں۔ ان شرائط میں جاپان آنے کے بعد مسلسل تین روز تک روزانہ کورونا ٹیسٹ کروانا شامل ہے۔ کھلاڑیوں اور کوچز کے علاوہ جن لوگوں کو نرمی دی گئی ہے انہیں اپنی سرگرمیاں شروع کرنے سے قبل تین روز قرنطینہ میں گزارنے ہوں گے۔ ٹوکیو گیمز کی انتظامی کمیٹی کے مطابق ان صورتوں میں انہیں تیسرے، آٹھویں اور چودہویں روز کورونا کا ٹیسٹ کروانا ہوگا۔

انتظامی کمیٹی کے مطابق، ٹوکیو گیمز اور متعلقہ آزمائشی مقابلوں وغیرہ کے لیے رواں سال یکم اپریل سے 16 مئی کے دوران 83 ممالک اور خطوں سے کُل ایک ہزار 649 افراد جاپان پہنچے ہیں۔ ان میں سے ایک ہزار 432 افراد یا تقریباً 85 فیصد کا قرنطینہ دورانیہ مختصر تھا۔ غوطہ زنی کے ایک آزمائشی ایونٹ میں حصہ لینے والے ایک کوچ اور کشتی رانی کے بین الاقوامی مقابلے کے ایک کوچ کے اس دوران لیے گئے کورونا ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے۔

اپنے طور پر قرنطینہ کے عرصے سے قطع نظر جاپان آنے والے تمام افراد لازماً 14 روز تک عوامی نقل و حمل کے ذرائع استعمال نہیں کر سکتے۔ ان پر یہ پابندی بھی ہے کہ وہ اپنی رہائش گاہ سے تربیت یا مقابلے کے یعنی اپنے کام سے متعلقہ مقام کے علاوہ کہیں نہیں جا سکتے۔ انتظامی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس نے جو بعض انتظامات کیے اُن میں ان کی رہائش گاہوں پر کمیٹی کے عملے کا تقرر کیا تھا۔ کمیٹی کے مطابق انہیں بلا اجازت باہر نکل جانے جیسی ضوابط کی خلاف ورزی کی کوئی اطلاعات نہیں ملیں۔

یہ معلومات 7 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 247: ویکسینیشن 4 ، ڈاکٹر اور مریض کے درمیان اتفاق رائے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کا ٹیکہ لگوانے سے قبل کے طبی معائنے سے متعلق اپنے سلسلے کی چوتھی قسط پیش کر رہے ہیں۔

ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے خواہشمند افراد کو ویکسینیشن سے قبل کے طبی معائنے کیلئے 14 سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ پُر کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ گزشتہ اقساط میں اس سوالنامے میں دیے گئے ہر سوال کی وضاحت پیش کی جا چکی ہے۔ ڈاکٹر اس سوالنامے اور ٹیکہ لگوانے کے خواہشمند فرد کے طبی معائنے کے نتائج کی بنیاد پر ویکسینیشن کے لیے اس کے مجاز ہونے یا نہ ہونے کا تعین کرتا ہے۔

کوئی بھی فرد ڈاکٹر کے معائنے اور وضاحت، اور ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے فوائد کے ساتھ ساتھ ضمنی اثرات کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کرنے کے بعد ویکسین لگوانے یا نہ لگوانے کا حتمی فیصلہ کر سکتا ہے۔

یہ سوالنامہ جاپانی زبان میں تحریر کیا گیا ہے۔ وزارت صحت نے انگریزی، عربی، چینی، فرانسیسی اور دیگر زبانوں میں اس سوالنامے کے ترجمے کا انتظام کر رکھا ہے۔ وزارت کی درخواست ہے کہ سوالنامہ پُر کرتے وقت اس ترجمے کو بھی ملاحظہ فرمالیجیے۔ فائرز-بیون ٹیک ویکسین کے بارے میں تعارفی کتابچہ بھی کئی زبانوں میں دستیاب ہے۔

یہ معلومات 4 جون تک کی ہیں۔
کووڈ-19 کیلئے ویکسینیشن سے قبل کے معائنے کا سوالنامہ وزارت صحت کی ویب سائٹ پر انگریزی، عربی زبان وغیرہ میں دستیاب ہے۔
ویب سائٹ کا ایڈریس درج ذیل ہے۔
https://www.mhlw.go.jp/stf/seisakunitsuite/bunya/vaccine_tagengo.html

سوال نمبر 246: ویکسینیشن 3 ، ویکسین لگانے سے قبل معائنے کے سوالات – حصہ دوم

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم جاپان میں ویکسین لگوانے سے قبل کے طبی معائنوں سے متعلق سلسلے کی دوسری قسط پیش کر رہے ہیں۔

جاپان میں ویکسین لگوانے کے خواہشمند افراد کو ویکسین لگوانے سے قبل 14 سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ پر کرنے کا کہا جاتا ہے۔ تمام سوالات کے جوابات ہاں یا نہیں میں دیے جانے ضروری ہیں۔ آج ہم آخری 7 سوالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

سوال نمبر 8 میں پوچھا جاتا ہے کہ آپ طبیعت میں کسی قسم کی خرابی تو نہیں محسوس کر رہے؟ ایسا ہونے کی صورت میں آپ کو اپنی حالت بیان کرنی ہوتی ہے۔

سوال نمبر 9 میں یہ دریافت کیا جاتا ہے کہ آپ کو کبھی کسی قسم کی بیماری کا دورہ یا اچانک لرزا تو طاری نہیں ہوا؟

دسواں سوال اس بارے میں ہے کہ کیا آپ کو کبھی کسی غذاؤں یا دوا سے الرجی جیسی شدید علامات تو ظاہر نہیں ہوئیں؟ اگر ایسا ہے تو آپ کو الرجی کا باعث بننے والی خوراک یا دوا کا نام لکھنا ہوتا ہے۔

سوال نمبر 11 میں پوچھا جاتا ہے کہ آپ کبھی کسی ویکسین کا ٹیکہ لگنے کے بعد بیمار تو نہیں ہوئے؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہو تو اُس ٹیکے اور اس کے بعد کی بیماری کی حالت کی تفصیل لکھنی ہوگی۔

سوال نمبر 12 میں خواتین سے دریافت کیا جاتا ہے کہ آیا ان کے حمل سے ہونے کا کوئی امکان تو نہیں، مثلاً ان کے ماہانہ ایام میں کوئی تاخیر وغیرہ تو نہیں؟ یا پھر وہ آجکل بچے کو دودھ تو نہیں پلا رہیں؟

سوال نمبر 13 میں پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے گزشتہ دو ہفتوں کے اندر کوئی ویکسین تو نہیں لگوائی؟ اگر لگوائی ہو تو اس کا نام اور لگوانے کی تاریخ لکھنی ہوتی ہے۔

سوال نمبر 14 میں آپ سے دریافت کیا جاتا ہے کہ آیا آپ اس روز ویکسین لگوانے سے متعلق کچھ پوچھنا چاہتے ہیں۔

کل ہم ویکسین لگوانے سے قبل کے طبی معائنوں سے متعلق مزید معلومات آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔

یہ معلومات 3 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 245: ویکسینیشن 2 ، ویکسین لگوانے سے قبل معائنے کے سوالات – حصہ اول

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم جاپان میں ویکسین لگوانے سے قبل کے طبی معائنوں سے متعلق سلسلے کی دوسری قسط پیش کر رہے ہیں۔

جاپان میں ویکسین لگوانے کے خواہشمند افراد کو ویکسین لگوانے سے قبل 14 سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ پر کرنے کیلئے کہا جاتا ہے۔ تمام سوالات کے جوابات ہاں یا نہیں میں دیے جانے ضروری ہیں۔ آج ہم پہلے 7 سوالات کا جائزہ لیں گے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا آپ کووڈ 19 ویکسین پہلی بار لگوا رہے ہیں؟ اگر آپ پہلے ویکسین لگوا چکے ہیں تو اس کی تاریخ بتانا پڑتی ہے۔

سوال نمبر 2 میں پوچھا جاتا ہے کہ آپ جس شہر، قصبے یا گاؤں میں رہائشی کے طور پر رجسٹر ہیں، کیا ویکسین کے کوپن پر اسی علاقے کا نام درج ہے؟

تیسرے سوال میں یہ دریافت کیا جاتا ہے کہ آیا آپ نے کووڈ 19 ویکسین سے متعلق تمام ہدایات پڑھ لی ہیں اور اس کے اثرات اور مضر ضمنی اثرات کو سمجھ لیا ہے؟

سوال نمبر 4 میں پوچھا جاتا ہے کہ آیا آپ کا تعلق ویکسین لگوانے کے لیے کسی زیادہ ترجیح کے حامل گروپ سے ہے۔ اگر ایسا ہے تو آپ کو اپنے متعلقہ گروپ پر نشان لگانا ہوتا ہے۔ یہ گروپ طبی عملے وغیرہ، 65 سال یا اس سے زائد عمرکے لوگ، 60 سے 64 سال کی عمر کے لوگ، بزرگوں کی دیکھ بھال کے مرکز کے کارکنان وغیرہ اور دیرینہ بیماری میں مبتلا لوگوں کے ہیں۔ کسی دیرینہ بیماری کے شکار شخص سے اس مرض کا نام لکھنے کا کہا جاتا ہے۔

سوال نمبر 5 میں یہ پوچھا جاتا ہے کہ آیا آپ کسی بیماری میں مبتلا ہیں اور اس کا علاج معالجہ کروا رہے ہیں یا کوئی دوا استعمال کر رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو آپ کو فارم میں لکھی ہوئی بیماریوں اور علاج میں سے متعلقہ بیماری اور علاج کے خانے پر نشان لگانا ہوتا ہے۔ اگر آپ کی بیماری اُس فہرست میں درج نہیں ہے تو آپ کو اپنی بیماری کا نام اور کیے جانے والے علاج کے بارے میں لکھنے کا کہا جاتا ہے۔

سوال نمبر 6 میں دریافت کیا جاتا ہے کہ کیا آپ کا علاج کرنے والے ڈاکٹر نے آپ کو اُس دن ویکسین لگوانے کی اجازت دی ہے؟

اور 7 ویں سوال میں یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ کو گزشتہ ایک ماہ کے دوران بخار یا کوئی اور بیماری ہوئی ہے؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہو تو آپ کو اس بیماری کا نام لکھنا ہوتا ہے۔

ہم اگلی قسط میں سوالنامے کے مزید سات سوالات کے بارے میں بات کریں گے۔

یہ معلومات 2 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 244: ویکسینیشن۔ 1 ویکسینیشن سے پہلے کا معائنہ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم جاپان میں ویکسین کے ٹیکے لگوانے سے پہلے کے ابتدائی طبی معائنوں سے متعلق اپنے سلسلے کی پہلی قسط پیش کر رہے ہیں۔

جاپان میں کوئی بھی شخص جو ویکسین لگوانا چاہتا ہے اُسے ایک ابتدائی معائنہ کروانا ہوگا۔ آپ کو ایک سوالنامہ پُر کرنا ہوگا اور اپنی صحت کی موجودہ حالت اور آپ کو پہلے جو بیماریاں تھیں اُن سے متعلق سوالات کے جواب دینے ہوں۔ نگران ڈاکٹر سوالنامے کی جانچ کرے گا اور اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا آپ ویکسین کا ٹیکہ لگانے کے مجاز ہیں یا نہیں۔

سب سے پہلے آپ اپنا پتہ، نام، ٹیلیفون نمبر، تاریخِ پیدائش، جنس اور اس کے ساتھ ساتھ معائنے سے قبل لیا گیا جسمانی درجۂ حرارت بھی لکھیں گے۔ اس کے بعد توقع ہے کہ آپ 14 سوالات کے جواب مثبت یا منفی میں دیں گے۔

سوالنامہ جاپانی زبان میں تحریر کردہ ہے۔ تاہم وزارت صحت کی ویب سائٹ پر غیرملکی زبانوں میں بھی دستیاب ہے جسے آپ فارم بھرنے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔

اگلی قسط میں ہم اُن سوالات کے متن سے متعلق کچھ معلومات پیش کریں گے جن کا جواب باور کیا جاتا ہے کہ آپ سوالنامے میں دیں گے۔

یہ معلومات یکم جُون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 243: جاپان میں کورونا وائرس ویکسینیشن میں تاخیر کی وجہ کیا ہے؟۔ 8 غیر سُود مند آغاز

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم جاپان میں ویکسین لگانے کی رفتار سست ہونے کی وجوہات سے متعلق سلسلے کی آٹھویں قسط پیش کر رہے ہیں۔

وزارت صحت کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے کورونا وائرس ویکسین کی تیاری کیلئے جاپان کی کوششوں کو آغاز ہی سے نا موافق قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جاپانی عوام ماضی کی کئی دہائیوں سے کسی بھی قسم کی ویکسین لگوانے کے لیے عموماً خدشات کا شکار رہے ہیں، جس کی بڑی وجہ ماضی کے ویکسین لگانے کے منصوبوں کے باعث صحت سے متعلق پیدا ہونے والے خطرات رہے ہیں۔ مذکورہ عہدیدار کا کہنا تھا کہ بعض جاپانی دوا ساز کمپنیوں نے قانونی چارہ جوئی کے بلند خدشات، ویکسین کو محفوظ رکھنے کے لیے مخصوص درجۂ حرارت سے متعلقہ مسائل اور اس کے قابل استعمال ہونے کے مختصر دورانیوں کے باعث خود کو اس کی تیاری کے کام سے الگ کر لیا۔ عہدیدار کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ مقامی دوا ساز کمپنیاں انسانی وسائل اور تکنیکی صلاحیتوں کے معاملے میں اپنے حریفوں سے ہار رہی ہیں۔

اب تک 4 مقامی کمپنیوں نے اپنی ویکسین مصنوعات کے طبّی تجربات کا آغاز کیا ہے۔ ان میں سے بعض کو توقع ہے کہ وہ سال رواں کے اختتام سے قبل حکومتی منظوری حاصل کر لیں گی۔

جاپان کو ویکسینوں کے حصول میں مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے۔

تاہم، جاپانی حکومت کا یہ مؤقف برقرار ہے کہ ویکسین کی دستیاب خوراکوں کی تعداد کے تقابلی لحاظ سے جاپان اُن دیگر ملکوں کے مقابلے میں لازماً بہت پیچھے نہیں ہے جہاں انفیکشن کی صورتحال کم و بیش جاپان جیسی ہی ہے۔

یہ معلومات 31 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 242: جاپان میں کورونا وائرس ویکسینیشن میں تاخیر کی وجہ کیا ہے؟ -7 ویکسین کی تیاری کے معاونتی نظام میں فرق

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم جاپان میں ویکسین کے ٹیکے لگانے کی رفتار سست ہونے کی وجوہات سے متعلق سلسلے کی ساتویں قسط پیش ہے۔

ویکسینوں کی تیاری میں جاپان اور دیگر ملکوں کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔

اس کی وجہ ادویات بنانے کی کوشش کرنے والی اُن کمپنیوں کو غیر ملکی حکومتوں سے ملنے والی معاونت کے نظام کو قرار دیا جا سکتا ہے جو ایسی ادویات تیار کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو ہو سکتا ہے کہ منافع بخش تو نہ ہوں لیکن انہیں ملک کے لیے اہم سمجھا جاتا ہو۔

سینٹ ماریانّا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے پروفسیر کُونی شیما ہیرویُوکی برطانیہ اور سوئیڈن کی مثال پیش کرتے ہیں، جن کی حکومتوں نے بڑے پیمانے پر فروخت کی توقع نہ ہونے والی اینٹی بائیوٹکس تیار کرنے والی کمپنیوں کو مخصوص حد تک مالی امداد مہیا کرنے کے لیے ایک نظام شروع کیا ہے۔ ان ملکوں میں ایک ڈھانچہ قائم ہے جو قومی سلامتی سے منسلک طبی دیکھ بھال کو فعال انداز میں سرکاری معاونت فراہم کرتا ہے۔

ماہرین نے ویکسینوں سے متعلق عوام کے رویے میں فرق کو ایک دوسری وجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ میں دی جانے والی خبروں کے انداز پر بھی کسی حد تک اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

یونیورسٹی آف ٹوکیو کے گریجویٹ اسکول آف میڈیسن کے ایک پراجیکٹ کی محقق ساکاموتو ہارُوکا کے مطابق، کئی جاپانی بنیادی طور پر ویکسین کے بارے میں مستقلاً ہچکچاہٹ کے احساسات رکھتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ نے بھی اپنی رپورٹس میں ان جذبات کو ہوا دی۔ محترمہ ساکاموتو نے کہا کہ اس کے نتیجے میں یہاں ایک ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے جس میں کئی افراد ویکسین کا ٹیکہ لگوانے میں غیر ممالک کے مقابلے میں کافی محتاط طرزِ عمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

یہ معلومات 28 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 241: جاپان میں کورونا وائرس ویکسینیشن میں تاخیر کی وجہ کیا ہے؟ -6 مقامی ویکسینوں کی تیاری کی آہستہ رفتار

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم جاپان میں ویکسین لگانے میں سُست رفتاری کی وجوہات سے متعلق سلسلے کی چھٹی قسط پیش ہے۔

کئی ماہرین نے جاپان میں ویکسینیشن کی سست رفتاری کی ایک وجہ یہ بتائی کہ جاپان نے اب تک مقامی طور پر ویکسین تیار نہیں کی ہے۔

ٹوکیو یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ برائے میڈیکل سائنس کے پروفیسر اِشی ای کین کا کہنا ہے کہ مقامی ویکسین تیار کرنے میں سست رفتاری کی، مناسب حکومتی حمایت نہ ہونے سمیت کئی وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق اس مسئلے کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ پروفیسر اِشی ای اس وقت ایک جاپانی ادویات ساز کمپنی کے ساتھ مل کر مقامی طور پر ایم آر این اے کورونا ویکسین کی تیاری کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

پروفیسر اِشی ای کا کہنا ہے کہ امریکی اور یورپی حکومتوں نے سنہ 2020 کے اوائل میں ہی کووِڈ 19 ویکسین تیار کرنے کے لیے بجٹوں میں سے کھربوں ین کی رقم خرچ کی، جبکہ جاپان نے تقریباً اُنہی دنوں میں اس مقصد کے لیے صرف 10 ارب ین کے لگ بھگ رقم تقسیم کی۔ وہ کہتے ہیں کہ اِس امر نے ویکسین کی تیاری میں ایک بڑا فرق پیدا کر دیا۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ کی حکومتوں نے ویکسین کی تیاری کے منصوبوں کے لیے مریضوں پر آزمائش کی غرض سے مراکز مخصوص کرنے اور ویکسین کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے کارخانوں کے حصول میں مکمل تعاون کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نگرانی کے اداروں نے مجموعی کام میں تیزی لانے کے لیے جانچ کا عمل اُس وقت سے شروع کر دیا تھا جب ویکسین ابھی تحقیق و ترقی کے مرحلے میں تھی۔ جبکہ اُن کا کہنا تھا کہ جاپانی حکومت نے ایسے کوئی غیر معمولی اقدامات نہیں کیے۔

پروفیسر اِشی ای کے مطابق، جاپانی حکومت یہ سمجھنے میں ناکام رہی کہ وبائی امراض کی ویکسین کی ہنگامی تیاری، قومی سلامتی اور سفارتکاری کے لیے کتنی اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جاپان، 20 برس قبل سے ہی وائرس انفیکشن پھوٹ پڑنے سے متعلق بنیادی تحقیق میں امریکہ اور یورپ سے کافی پیچھے ہے۔

یہ معلومات 27 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 240: جاپان میں کورونا وائرس ویکسینیشن میں تاخیر کی وجہ کیا ہے؟ -5 احتیاط اور رفتار میں توازن کرنا

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم جاپان میں ویکسین لگانے کی رفتار سست ہونے کی وجوہات سے متعلق سلسلے کی پانچویں قسط پیش کر رہے ہیں۔

ویکسینیں عموماً مختلف قِسم کے لوگوں کو لگائی جاتی ہیں، چنانچہ اُن کی رضامندی حاصل کرنے کا عمل نہایت احتیاط کا متقاضی ہے۔ یہ کہنا آسان نہیں ہے کہ جاپان میں ویکسین کو محض اس لیے جلدی سے منظور کر لیا جانا چاہیے کہ یہ دیگر ممالک میں منظوری حاصل کر چکی ہے۔ دوسری جانب، یہ آراء موجود ہیں کہ اگر ویکسین کی بیرون ملک آزمائش میں ایشیائی باشندوں پر آزمائش کا مناسب ڈیٹا موجود ہو تو ایسی صورت میں مقامی طور پر آزمائش کو آسان بنانے پر غور کیا جانا چاہیے۔

اس بحران میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ احتیاط اور رفتار میں توازن کیسے کیا جائے۔ حکومت کا ابتداء میں کہنا تھا کہ اس نے ویکسین کی کم مقدار دستیاب ہونے کے باوجود ویکسین لگانے کا آغاز کر دیا ہے۔ لیکن اب حکومت کا کہنا ہے کہ مئی سے یہ مسئلہ حل ہوتا جا رہا ہے اور مستقبل میں ویکسینیشن کے حوالے سے بھی کوئی بڑا خدشہ نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کے مطابق شہریوں کو ہموار انداز میں ویکسین لگانے کا کام اب بلدیات یا مقامی حکومتوں کا ہے اور وہ ایسی کوششوں میں تعاون کا ارادہ رکھتی ہے۔

ویکسین کی منظوری سے لے کر اس کی تقسیم اور ٹیکے لگانے کے ہر مرحلے کا تعلق ماضی کے تجربات اور چیلنجوں سے ہے۔ لیکن ویکسینیشن پروگرام کا ایک بڑا مسئلہ نسبتاً جلد سامنے آ رہا ہے۔ جاپان میں ویکسینیشن کی رفتار سست ہونے کی وجوہات سے متعلق سلسلے کی اگلی قسط میں ہم جاپان میں تیار ہونے والی مقامی ویکسینوں کا جائزہ لیں گے۔

یہ معلومات 26 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 239: جاپان میں کورونا وائرس ویکسینیشن میں تاخیر کی وجہ کیا ہے؟ -4 ملک میں طبی آزمائشیں

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم جاپان میں سُست رفتار ویکسینیشن کی وجوہات پر اپنے سلسلے کی چوتھی قسط پیش کر رہے ہیں۔

برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کے ایک گروپ اور دیگر کے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیل میں 63 فیصد لوگ 11 مئی تک ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگوا چکے تھے۔ یہ تناسب برطانیہ میں 52 فیصد، امریکہ میں 46 فیصد اور جاپان میں 2.91 فیصد تھا۔

اس ڈیٹا میں جن ملکوں اور خطوں کو شامل کیا گیا اُن میں جاپان 131 ویں نمبر پر ہے۔

برطانیہ نے ٹیکے لگانے کا اپنا منصوبہ دسمبر میں فائزر - بیون ٹیک ویکسین کے ساتھ شروع کیا تھا۔ جاپان نے ویکسینیشن کا کام تقریباً دو ماہ بعد شروع کیا۔ سوال یہ ہے کہ اس فرق کی وجہ کیا ہے؟

فائزر نے جاپان میں اپنی ویکسین کے استعمال کی اجازت کیلئے درخواست گزشتہ دسمبر میں جمع کروائی تھی۔ ویکسین کے طبی تجربات بیرونِ ملک پہلے ہی انجام دیے جا چکے تھے۔ لیکن جاپانی لوگوں پر ڈیٹا کی جانچ کی غرض سے جاپان میں اضافی طبی تجربات 160 افراد پر کیے گئے۔ لہٰذا اضافی آزمائشوں کے نتائج آنے تک جاپان کو انتظار کرنا پڑا تھا۔

جاپان کی وزارت صحت کے ایک عہدیدار جو ویکسینیشن منصوبے میں شامل ہیں، اُنہوں نے ہمیں بتایا کہ اگر جاپان، ملک میں طبی تجربات کو چھوڑ دیتا تو ویکسینیشن زیادہ تیز رفتاری سے پیشرفت کر چکی ہوتی۔ اس عہدیدار نے بتایا کہ مذکورہ طبی تجربات اُن عوامل میں سے ایک ہے جس نے جاپان کے ویکسینیشن منصوبے میں تاخیر کی۔

لیکن وزارت صحت کے عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ اُس وقت ویکسین کے ضمنی اثرات سے متعلق دنیا میں کسی بھی جگہ کافی معلومات دستیاب نہیں تھیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر جلد بازی میں ویکسین کی منظوری غیر متوقع سطح پر سنگین ضمنی اثرات کا سبب بنتی تو اس سے ہر چیز میں گڑ بڑ پیدا ہوگی۔

مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ جاپان میں طبی آزمائشیں بھی پارلیمان میں تبادلۂ خیال کے نتیجے میں ہوئیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ دیکھنے کا انتظار کرتے ہوئے کہ دیگر ممالک میں معاملات کا نتیجہ کیا نکلے گا، جاپان میں اضافی تجربات کیا جانا درست تھا۔

یہ معلومات 25 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 238: جاپان میں کورونا وائرس ویکسینیشن میں تاخیر کی وجہ کیا ہے؟3 - یکجا نظام کی عدم موجودگی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم جاپان میں ویکسین لگانے کی رفتار سست ہونے کی وجوہات سے متعلق سلسلے کی تیسری قسط پیش کر رہے ہیں۔

بعض ماہرین ویکسین لگانے کی رفتار سُست ہونے کے مسئلے کی وجہ ویکسینیشن کا انتظام کرنے کا ملک گیر یکجا نظام نہ ہونے کو قرار دے رہے ہیں۔ جاپان میں اس کام کا زیادہ تر بوجھ بلدیات کے کاندھوں پر ہے، کیونکہ بعض دیگر ممالک کے برعکس جاپان میں ویکسین لگانے والے افراد کا ریکارڈ رکھنے اور اس کے طریقۂ کار کے بارے میں کوئی مرکزی نظام موجود نہیں ہے۔

بلدیات یا مقامی حکومتیں اپنے شہریوں کے رہائشی ریکارڈ کی بنیاد پر یہ طے کرتی ہیں کہ کون سے افراد ویکسین لگانے کے مجاز ہیں اور اس بنیاد پر انہیں کوپن بھیجتی ہیں۔ جن افراد کو کوپن موصول ہوتے ہیں، انہیں فون یا انٹرنیٹ کے ذریعے بکنگ کروانی ہوتی ہے۔ وہ ویکسینیشن کی مرکز پر جاتے ہیں، کوپن دیتے ہیں اور ویکسین لگواتے ہیں۔

ہم نے نیگاتا یونیورسٹی کے پروفیسر سائیتو آکی ہِکو سے اس بارے میں رائے لی۔ وہ امریکہ کے کئی اداروں میں تحقیق کار رہے ہیں اور وہاں ویکسین منصوبوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ ان کے مطابق جاپان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے تمام کام مقامی حکومتوں کے سپرد کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں ہنگامی حالت نافذ ہونے کے باوجود حکومت کا کووِڈ 19 ویکسینیشن منصوبہ ویسا ہی ہے جیسا مثال کے طور پر جرمن خسرہ کے اضافی ٹیکوں کے وقت اختیار کیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ مرکزی حکومت کو مثلاً ’مائی نمبر‘ نامی ہر شہری کے ذاتی شناختی نمبر نظام کو استعمال کرتے ہوئے طریقۂ کار کو آسان بنانا چاہیے تھا، لیکن حکومت نے ایسی کوئی تیاری نہیں کی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بعض ممالک ایک ڈیجیٹل نظام کے ساتھ شہریوں کی ویکسینیشن کے ریکارڈ کی نگرانی کرنے سے کووِڈ 19 ویکسینیشن کا کارآمد آغاز کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان کو بھی ایسے ہی نظام کی ضرورت ہے، تاہم حکومت نے اب تک ایسا کوئی نظام نہیں بنایا۔

یہ معلومات 24 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 237: بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے لیے بکنگ کا آغاز ۔ 3

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان نے ٹوکیو اور اوساکا میں 24 مئی سے کھولے جانے والے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے مراکز پر ویکسین کے ٹیکے لگانے کے لیے بکنگ یعنی تخصیص کروانے کا آغاز پیر کے روز سے کر دیا ہے۔ یہ تخصیص ٹوکیو اور اس کے تین ہمسایہ پریفیکچروں کے ساتھ ساتھ اوساکا اور اس سے ملحقہ دو پریفیکچروں میں رہنے والے معمر شہریوں کے لیے ہے۔

آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے لیے درکار طریقۂ کار کے لحاظ سے مرکزی حکومت کے زیر انتظام بڑے پیمانے پر ویکسینیشنز اور مقامی حکومتوں کے تحت ویکسین کے ٹیکے لگانے والے پروگراموں میں فرق سے متعلق معلومات فراہم کریں گے۔

مرکزی حکومت کے تحت ٹوکیو اور اوساکا میں کھولے جانے والے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے مراکز ایک آزاد نظام کے تحت کام کرتے ہیں اور مقامی حکومتوں کے تحت چلائے جانے والے ویکسین کے ٹیکے لگانے کے پروگراموں سے قطعی مختلف ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے مجاز افراد یا تو مرکزی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ان مراکز یا پھر مقامی حکومت کے تحت چلنے والے پروگراموں کے تحت ویکسین کے ٹیکے لگوا سکتے ہیں۔ فیصلہ کرنے کا اختیار ویکسین لگوانے والے شخص کو حاصل ہے کہ وہ ویکسینیشن کے لیے کس نظام کو منتخب کرتا ہے۔

لیکن ایسے افراد جو پہلے ہی مقامی حکومت کی زیر نگرانی چلنے والے پروگراموں کے ذریعے ویکسین کا پہلا ٹیکہ لگوا چکے ہوں وہ ویکسین کا دوسرا ٹیکہ لگوانے کے لیے مرکزی حکومت کے تحت چلنے والے ویکسینیشن مراکز کا انتخاب نہیں کر سکیں گے۔

مرکزی اور مقامی حکومتوں کے تحت چلنے والے نظاموں کیلئے تخصیص کروانے کے نظام آپس میں منسلک نہیں ہیں۔ لہٰذا اگر کسی شخص نے مرکزی حکومت اور مقامی حکومت دونوں کی ویب سائٹس پر ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے لیے تخصیص کی ہے تو اسے اُن میں سے ایک تخصیص کو منسوخ کر دینا چاہیے۔

کچھ لوگوں کے لیے اپنے طور پر تخصیص کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ جس رہائشی علاقے میں وہ رہتے ہیں اس کی بلدیاتی حکومت کی جانب سے دیا گیا ویکسینیشن کوپن نمبر استعمال کرتے ہوئے طریقۂ کار کو مکمل کرنے کیلئے اپنے اہل خانہ، رشتہ داروں یا دوستوں سے درخواست کریں۔

دریں اثناء، صارف امور کی ایجنسی ویکسین کے ٹیکے لگوانے میں دھوکہ دہی سے خبردار کر رہی ہے۔

ملک بھر میں صارف امور کے مراکز کو ذاتی مالی معلومات اور دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مشکوک ٹیلی فون کالز آنے کی کئی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ یہ کالز کرنے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ویکسین کے ٹیکے لگوانے کی تخصیص کروانے میں مدد کیلئے خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

یہ معلومات 21 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 236: بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے لیے بکنگ کا آغاز – 2
بکنگ کا جَدول کیا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان نے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مراکز پر ویکسین لگوانے کے لیے بکنگ یعنی تخصیص کروانے کا آغاز پیر کے روز سے کر دیا ہے۔ یہ مراکز 24 مئی سے ٹوکیو اور اوساکا میں کھلیں گے جو ٹوکیو اور اس کے گرد واقع 3 پریفیکچروں اور اسی طرح اوساکا اور اس سے ملحقہ 2 پریفیکچروں کے رہائشیوں کے لیے ہیں۔

آج اس موضوع کے حصہ دوم میں ویکسین لگوانے کے لیے تخصیص کروانے کے اوقات کار کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔

بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے ان مراکز پر ویکسین لگانے کا کام 24 مئی سے تقریباً 3 ماہ یعنی اگست کے اختتام تک ہوگا۔ مذکورہ جَدول 6 جون تک تخصیص کروانے کیلئے طے کیا گیا ہے۔ 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد تخصیص کروانے کے مجاز ہوں گے۔

بہت سے لوگوں کے ایک ساتھ ویب سائٹ تک رسائی کرنے سے پیدا ہونے والے مسائل سے بچنے کے لیے 17 مئی سے ایک ہفتے تک صرف ٹوکیو کے 23 اضلاع کے افراد اور اوساکا شہر کے معمر افراد ہی تخصیص کروانے کے مجاز ہوں گے۔ اس کے بعد مرحلہ وار مزید علاقوں کو شامل کرتے ہوئے 24 مئی سے پورے ٹوکیو اور پورے اوساکا پریفیکچر کے معمر افراد مذکورہ ویب سائٹ کے ذریعے وقت مخصوص کروا سکیں گے۔ 31 مئی سے ویکسین کے لیے تخصیص کی یہ سہولت ٹوکیو سے ملحقہ 3 پریفیکچروں سائیتاما، کاناگاوا اور چیبا کے معمر شہریوں اور اسی طرح اوساکا پریفیکچر کے ہمسایہ پریفیکچروں کیوتو اور ہیوگو کے معمر شہریوں کو بھی حاصل ہو جائے گی۔

24 سے 30 مئی کے عرصے کے لیے ٹوکیو اور اوساکا دونوں مقامات پر تمام اوقات کے لیے تخصیص مکمل ہو چکی ہے۔

اس مدت کے بعد انہی علاقوں میں بسنے والے مگر رہائشی سند نہ رکھنے والے معمر شہری ویکسینیشن کے لیے تخصیص کروا سکیں گے۔ منتظمیں سوچ رہیں ہیں کہ رہائش کی تصدیق اس طرح کی جائے کہ لوگوں سے ویکسین کے کوپنز اور ڈاک سے بھیجے گئے خطوط وغیرہ پیش کرنے کا کہا جائے جن پر پتہ لکھا ہوا ہو۔

بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ان مراکز پر ویکسین کی پہلی خوراک کے لیے تخصیص صرف انٹرنیٹ کے ذریعے قبول کی جائے گی۔ دوسری خوراک یا دوسری بار ویکسین لگانے کی تاریخ پہلی ویکسین لگانے کے بعد ان مراکز پر ہی دیدی جائے گی۔

یہ معلومات 20 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 235: بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے لیے بکنگ کا آغاز – 1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان نے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مراکز پر ویکسین لگوانے کے لیے بکنگ یعنی تخصیص کروانے کا آغاز پیر کے روز سے کر دیا ہے۔ یہ مراکز 24 مئی سے ٹوکیو اور اوساکا میں کھلنے والے ہیں جو ٹوکیو اور اس کے گرد واقع 3 پریفیکچروں اور اسی طرح اوساکا اور اس سے ملحقہ 2 پریفیکچروں کے رہائشیوں کے لیے ہوں گے۔

آج ہم ان مراکز پر ویکسین لگوانے کے طریقۂ کار کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

کسی بھی شخص کو ویکسین لگوانے کیلئے تخصیص کروانے یا وقت لینے کے لیے اپنے رہائشی علاقے کی بلدیہ کی جانب سے بھیجے جانے والے کوپن کی ضرورت ہوگی۔ تخصیص صرف انٹرنیٹ کے ذریعے ہی کرائی جا سکے گی۔ اس مقصد کے لیے اُسے مخصوص ویب سائٹ پر جا کر اپنی تاریخ پیدائش، کوپن نمبر اور دیگر معلومات فراہم کرنی ہوں گی۔

بعض بلدیات میں 65 سال اور اس سے زائد عمر کے معمر افراد کو ویکسین لگانے کا آغاز اپریل میں ہوا تھا۔ کچھ مقامی حکومتیں صحت کے زیادہ مسائل کا شکار افراد کو اب بھی ترجیح دے رہی ہیں۔ مثال کے طور پر بعض بلدیات نے ویکسین لگوانے کے کوپن اب تک صرف 75 سال یا اس سے زائد عمر کے لوگوں کو ہی بھیجے ہیں۔

ان بلدیاتی علاقوں میں رہنے والے 65 سے 74 سال کی عمر کے افراد بڑے پیمانے پر ویکسینیشن پروگرام کے لیے مجاز ہونے کے باوجود ابھی اس کیلئے تخصیص نہیں کروا سکتے۔ بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مراکز کے ذمہ دار وزارت دفاع کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے افراد کے لیے افسوس ہے، تاہم وہ کوپن نمبر کے بغیر ویکسینیشن کے لیے تخصیص نہیں کر سکتے کیونکہ حکومت ان نمبروں کے ذریعے ویکسین لگوانے والے افراد کا ریکارڈ رکھنا چاہتی ہے۔

دریں اثناء، حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ اپنے علاقے کی کلینک اور بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مراکز دونوں جگہ پر ویکسینیشن کیلئے تخصیص کروالیں۔ حکام کے مطابق ایسا ہونے کی روکتھام کیلئے جانچ کا کوئی آلہ نہیں لگا ہوا ہے۔ وہ لوگوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ ایسی صورت میں دونوں میں سے ایک تخصیص کو منسوخ کر دیں کیونکہ ایسا نہ کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ ویکسین کی ایک قیمتی خوراک ضائع ہوسکتی ہے۔

یہ معلومات 19 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 234: جاپان میں کورونا وائرس ویکسینیشنز میں تاخیر کی وجہ کیا ہے؟ – 2
برابری سے متعلق سوالات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم جاپان میں کورونا ویکسینیشن میں سست رفتاری کی وجوہات سے متعلق اپنے سلسلے کی دوسری قسط پیش کر رہے ہیں۔

بعض ماہرین نے مقامی بلدیات کو ویکسینیں تقسیم کرنے کے مرکزی حکومت کے طریقے کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔ حکومت نے اُصولی طور پر ملک بھر میں تمام پریفیکچروں کو ویکسینیں مساوی طور پر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لگتا تھا کہ یہ ایک منصفانہ فیصلہ ہے جو عوامی مفاہمت حاصل کرلے گا۔ لیکن بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تصور کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔

کِتاساتو یونیورسٹی کے پروفیسر ناکایاما تیتسواو کا کہنا ہے کہ چونکہ تقسیم مساوی ہے تو ہر مقامی بلدیہ کو ویکسین کی خوراکوں کی صرف ایک چھوٹی مقدار فراہم کی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کیلئے ضروری ہے کہ کم مقداریں وصول کرتے ہوئے اپنے ویکسینیشن منصوبوں میں پیشرفت کریں۔ پروفیسر ناکایاما نے بتایا کہ مقامی حکومتوں کیلئے یہ پہلا تجربہ ہے اور اگر اُنہیں یہ نہیں معلوم کہ کب اور کتنی خوراکیں پہنچیں گی تو طبی عملے کا حصول یقینی بنانے جیسی تیاریاں کرنا مشکل ہے۔

دیگر ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ بلند خطرے والے شعبوں کو ترجیح دی جانی چاہیے کیونکہ انفیکشنز کی صورتحال خطے کے لحاظ سے مختلف ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ یہ بات اگرچہ غیرجانبداری کے تصور کے خلاف جاتی ہے تاہم ویکسینیشن منصوبہ زیادہ تسلی بخش انداز میں پیشرفت کر سکتا ہے۔

یہ معلومات 18 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 233: جاپان میں کورونا وائرس ویکسینیشن میں تاخیر کی وجوہات کیا ہیں؟ – 1 کیا مرکزی حکومت مقامی بلدیات پر بہت زیادہ ذمہ داری ڈال رہی ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔

دنیا بھر کے ممالک میں کورونا وائرس ویکسینیشن پروگراموں پر پیشرفت جاری ہے۔ بعض ممالک تقریباً اپنی نصف آبادی کو ویکسین لگا چکے ہیں جبکہ جاپان میں اب تک آبادی کے صرف چند فیصد حصے کو ہی ویکسین لگائی گئی ہے۔

آج ہم جاپان کے کورونا وائرس ویکسینیشن پروگرام میں تاخیر کی وجوہات کے سلسلے کی پہلی قسط پیش کر رہے ہیں۔

کیوتو شہر میں عمر رسیدہ افراد کو ویکسین لگانے کا آغاز 11 مئی سے ہوا۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے فیملی ڈاکٹروں سے رابطہ کر کے ویکسین لگوانے کا وقت لیں۔ لیکن اس اعلان سے کلینکوں پر فون کالوں کی بھرمار ہو گئی۔ کئی لوگ تو وقت لینے کے لیے خود ہی کلینک جا پہنچے۔ ایک کلینک کے کھلنے سے قبل ہی اس کے سامنے 100 افراد کی قطار لگ گئی تھی۔

گزشتہ سال دسمبر میں حکومت جاپان نے متعلقہ قوانین کے تحت یہ طے کیا تھا کہ شہریوں کو ویکسین لگانے کی بنیادی ذمہ داری مقامی بلدیات کی ہوگی۔ اس کے نتیجے میں ہر بلدیہ میں ویکسینیشن کے اوقات کار اور تخصیص کے طریقۂ کار مختلف ہیں۔ بلدیاتی حکام بہتر سے بہتر طریقۂ کار تلاش کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

بلدیات کو اس مقصد کے لیے مناسب تعداد میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی دستیابی میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔ بعض بلدیات حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ اس نے سارا بوجھ مقامی بلدیاتی حکام پر ڈال دیا ہے۔

بلدیات کو ان معلومات کی کمی کی وجہ سے بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں کہ انہیں کب اور کتنی مقدار میں ویکسین فراہم کی جائے گی۔ ان معلومات کے بغیر بلدیاتی عہدیدار ویکسینیشن پروگرام کی ترتیب تشکیل دینے کا آغاز نہیں کر سکتے۔

ٹوکیو کے ایک ضلعے کے بلدیاتی عہدیدار نے کئی بلدیات کو درپیش مسئلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بزرگ شہریوں کو ویکسین لگانے میں جب اتنی افراتفری اور مشکلات سامنے آئی ہیں تو یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ عام لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو ویکسین لگاتے وقت کیا صورتحال ہوگی۔ مذکورہ عہدیدار نے تجویز دی کہ بلدیات کو پہلے رابطہ کرنے والوں کو پہلے وقت دینے کے بجائے خود کو موصول ہونے والی ویکسین کی حتمی تعداد کے لحاظ سے ویکسین لگانے کے کوپن کا کوٹہ طے کرنا چاہیے۔ تاہم عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ اس طریقۂ کار سے ویکسینیشن کے عمل میں نسبتاً آہستہ پیشرفت ہوگی، لہٰذا کسی متوازن یا بہتر طریقۂ کار کا انتخاب آسان نہیں۔

یہ معلومات 17 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 232: کورونا وائرس کی بھارتی متغیر قسم کیا ہے؟ 2

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم وائرس کی سب سے پہلے بھارت میں دریافت ہونے والی متغیر قسم سے متعلق سلسلے کا دوسرا حصہ پیش کر رہے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او کے مطابق بھارت میں شناخت کی جانے والی وائرس کی متغیر قسم 11 مئی تک 49 ملکوں اور خطوں میں پائی گئی ہے۔ ان ملکوں میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جاپان شامل ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بھارتی متغیر قسم میں یا تو تین کلیدی تغیرات ’ایل 452 آر‘ ، ’پی 681 آر‘ اور ’ای 484 کیو‘ ہیں یا دو تغیرات ’ایل 452 آر‘ اور ’پی 681 آر‘ ہیں۔

جاپان کے قومی ادارۂ متعدی امراض کے محققین اور دیگر کا کہنا ہے کہ L452R متغیر کی حامل کورونا وائرس کی تبدیل شدہ قسم پہلے دریافت کی گئی اقسام کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ سرایت پذیر بتائی گئی ہے۔ یہ متغیر قسم زیادہ تر امریکی ریاست کیلیفورنیا میں پھیلی ہے۔

لیکن محققین کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا یہ متغیر وائرس درحقیقت دوسری اقسام کے مقابلے میں زیادہ متعدی ہے یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سلسلے میں مسلسل تحقیق ضروری ہے۔

نئے کورونا وائرس کی دو یا اس سے زیادہ متغیر اقسام ہونا غیر معمولی بات نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ متغیر اقسام وائرس کے متعدی پن کو متاثر کرتی ہیں یا نہیں۔

مثال کے طور پر برطانیہ میں سب سے پہلے پائی جانے والی وائرس کی قسم، جو جاپان کے کانسائی سمیت مختلف علاقوں میں پھیلتی رہی ہے، اس کی اسپائیک پروٹین میں کم سے کم پانچ متغیر اقسام ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ان متغیرات میں سے ایک N501Y کی بدولت وائرس زیادہ متعدی ہو جاتا ہے، جس سے تشویش جنم لے رہی ہے۔

جنوبی افریقہ اور برازیل میں شناخت کی جانے والی کورونا وائرس کی اقسام کی بھی کئی متغیر اقسام ہیں۔ مثال کے طور پر متغیر قسم N501Y کے ساتھ ساتھ E484K، جو انسانی جسم میں موجود قوت مدافعت کی سطح کم کر سکتی ہیں۔

یہ معلومات 14 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 231: کورونا وائرس کی بھارتی متغیر قسم کیا ہے؟ – 1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او نے 10 مئی کی اخباری کانفرنس میں بتایا کہ معلومات کے مطابق بھارت میں وائرس کی پہلی بار دریافت ہونے والی متغیر قسم انتہائی تیزی سے پھیلنے والی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے اس کا زمرہ ’توجہ کا مرکز متغیر قسم‘ سے تبدیل کر کے ’خدشات کی حامل متغیر قسم‘ کر دیا ہے اور اب وہ اس کی نگرانی مزید سخت کر دے گا۔ آج ہم سب سے پہلے بھارت میں دریافت ہونے والی وائرس کی اس متغیر قسم کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اپریل سے دھماکہ خیز اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجوہات وائرس کی متغیر قسم کے ساتھ ساتھ مذہبی تہواروں، سیاسی جلسوں میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت اور سماجی فاصلے جیسے انفیکشن کی روک تھام کے مناسب اقدامات کی کمی کو قرار دیا گیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بھارتی متغیر قسم میں یا تو تین کلیدی تغیرات ’ایل 452 آر، ’پی 681 آر‘ اور ’ای 484 کیو‘ ہیں یا دو تغیرات ’ایل 452 آر‘ ، اور ’پی 681 آر‘ ہیں۔

ان تغیرات میں امینو ایسڈ کی ’اسپائک پروٹین‘ نامی تبدیلی مشترک ہے۔ یہ تغیرات وائرس کو زیادہ سرایت پذیر بناتے ہیں اور جسم کی قوت مدافعت کو کم کرتے ہیں۔ اس تبدیل شدہ قسم پر مزید تحقیق ابھی جاری ہے۔

برطانیہ کے عوامی صحت حکام نے 7 مئی کو بتایا کہ لگتا ہے کہ بھارتی متغیر قسم کی پھیلنے کی سطح برطانوی متغیر قسم کے برابر ہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم سے مریض کے شدید بیمار پڑ جانے یا ویکسینوں کا اثر زائل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

یہ معلومات 13 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 230: ویکسین 54 : فائزر اور موڈرنا ویکسینز کا موازنہ – 5

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہم فائزر بیون ٹیک اور موڈرنا کی تیار کردہ ویکسینز میں فرق اور ان کی مشابہتوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آج ہم ان کے ممکنہ ضمنی اثرات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

جاپان کی وزارت صحت و محنت کے مطالعاتی گروپ نے ویکسین کے ضمنی اثرات سے متعلق وزارت کے تشکیل کردہ ماہرین کے پینل کے 30 اپریل کو ہونے والے اجلاس میں فائزر ویکسین پر درج ذیل رپورٹ پیش کی۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تھکاوٹ کا شکار ہونے والوں کی شرح فائزر ویکسین کی پہلی خوراک لگائے جانے والوں میں 23.2 فیصد اور دوسری خوراک کے بعد یہ شرح 69.6 فیصد تھی جبکہ سر درد کا شکار ہونے والوں کی شرح پہلی خوراک کے بعد 21.2 فیصد اور دوسری خوراک کے بعد 53.7 فیصد تھی۔ اسی طرح 37.5 درجہ سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجے کا بخار 3.3 فیصد افراد کو ایک بار ویکسین لگانے کے بعد جبکہ 38.4 فیصد کو دوسری بار لگانے کے بعد ہوا۔

موڈرنا ویکسین سے متعلق امریکی مرکز برائے امراض کنٹرول اور روکتھام نے 18 سے 64 سال کی عمر کے افراد پر طبی آزمائش کے نتائج جاری کیے ہیں۔

مرکز کے مطابق، ویکسین کی پہلی خوراک کے بعد 38.5 فیصد افراد نے اور دوسری خوراک کے بعد 67.6 فیصد افراد نے تھکاوٹ کی شکایت کی۔ سر درد کی شکایت پہلی خوراک کے بعد 35.4 فیصد اور دوسری خوراک کے بعد 62.8 فیصد افراد کو ہوئی۔ اسی طرح بخار ہونے کی اطلاع پہلی خوراک کے بعد 0.9 فیصد جبکہ دوسری خوراک کے بعد 17.4 فیصد افراد نے دی۔

یہ معلومات 12 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 229 ویکسین 53 : فائزر اور موڈرنا ویکسینوں کا موازنہ ۔ 4

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ اس وقت ہم فائزر–بیون ٹیک اور موڈرنا کی تیار کردہ ویکسینوں کے درمیان فرق اور مشابہتوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آج ہم کورونا وائرس کے خلاف ان کی اثر انگیزی پر توجہ مرکوز کریں گے۔

یہ دونوں ویکسینیں سب سے پہلے برطانیہ میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی اُس متغیر قسم کے خلاف انتہائی مؤثر پائی گئی ہیں جو اب تیزی کے ساتھ جاپان اور کئی دوسرے ملکوں میں پھیل رہی ہے۔

فائزر-بیون ٹیک اور دیگر کی جانب سے شائع کردہ ایک دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ایک لیباریٹری تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ فائزر–بیون ٹیک ویکسین پہلے برطانیہ اور برازیل میں دریافت ہونے والی وائرس کی متغیر اقسام پر قابو پانے میں اتنی ہی مؤثر ہوگی جتنی کہ یہ گزشتہ اقسام پر قابو پانے میں مؤثر ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ ویکسین پہلے جنوبی افریقہ میں دریافت کی گئی متغیر قسم کے خلاف تحفظ میں بھی اگرچہ کم مؤثر انداز میں تاہم کافی حد تک مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

فائزر کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین اسرائیل میں انتہائی مؤثر ثابت ہوئی جہاں وائرس کی برطانوی متغیر قسم پھیل رہی تھی۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ جنوبی افریقہ میں کی گئی طبی آزمائش کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ویکسین پہلے اس ملک میں دریافت ہونے والی متغیر قسم کے خلاف کافی تحفظ فراہم کرتی ہے۔

موڈرنا اور دیگر کی طرف سے شائع کی گئی دستاویز کے مطابق ایک لیباریٹری تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ موڈرنا ویکسین برطانوی متغیر قسم کے خلاف بالکل اُتنی ہی کارگر ہے جتنی اس سے پہلے کی وائرس اقسام کے خلاف کارگر ہے۔ تاہم جہاں تک جنوبی افریقہ کی متغیر قسم کی بات ہے تو ویکسین سے پیدا شدہ انٹی باڈیز کو بے اثر کر دینے کا حجم گزشتہ اقسام میں مشاہدہ کی گئی سطحوں کے تقریباً چھٹے حصے تک کم اور برازیلی متغیر قسم کیلئے تقریبا تین حصے کم ہوا۔ لیکن موڈرنا کا کہنا ہے کہ یہ سطحیں متغیر اقسام کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کیلئے کافی ہیں۔

مندرجہ بالا معلومات 11 مئی تک کی ہیں۔
یہ معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر بھی دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 228 ویکسین 52 : فائزر اور موڈرنا ویکسینز کا موازنہ – 3

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہم نے دو امریکی ادیات ساز کمپنیوں فائزر اور موڈرنا کی تیار کردہ ویکسینز میں فرق اور ان کی مشابہتوں کا جائزہ لیا۔ آج ہم ان کی افادیت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

فائزر اور موڈرنا دونوں کی ویکسینز تجرباتی مراحل میں انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ حقیقی طور پر ویکسین لگائے گئے افراد میں بھی اس کی افادیت ظاہر ہوئی ہے۔

انسانوں پر تجربات کے نتائج کی بنیاد پر مرتب کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، فائزر کی ویکسین لگوانے والے افراد میں کورونا وائرس کی علامات پیدا ہونے کے خطرے میں 95 فیصد کمی واقع ہوئی۔

دنیا بھر میں سب سے تیز رفتاری سے ویکسین لگانے والے ممالک میں سے ایک، اسرائیل کے ویکسینیشن پروگرام کے نتائج سے متعلق ایک جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فائزر ویکسین لگانے سے کورونا وائرس کی علامات پیدا ہونے کے خطرے میں 94 فیصد کمی ہوئی۔ اس سے سنگین علامات ظاہر ہونے کے امکانات میں بھی 92 فیصد کمی واقع ہوئی اور بغیر علامات والے انفیکشن سمیت انفیکشن کے امکانات 92 فیصد تک کم ہوئے۔

انسانوں پر تجربات کے نتائج شامل کرنے والے ایک مقالے کے مطابق، موڈرنا ویکسین سے مرض کی علامات پیدا ہونے کے خطرے میں 94.1 فیصد تک کمی آئی۔

یہ معلومات 10 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 227 ویکسین 51 : فائزر اور موڈرنا ویکسینز کا موازنہ – 2

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہم ویکسینز میں فرق اور ان کی مشترکہ خصوصیات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آج ہم بڑی امریکی ادویات ساز کمپنی فائزر اور امریکہ ہی کی ایک دوسری کمپنی موڈرنا کی تیار کردہ ویکسینز کو ذخیرہ کرنے کے طریقے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

ان دونوں ویکسینز کی بنیاد جینیاتی معلومات کے حامل مادے ’ایم آر این اے‘ پر ہے۔ ان ویکسینوں میں ایم آر این اے، لِپِڈ یعنی شحم چربی کی پتلی تہہ میں لپٹے ہوتے ہیں۔ تاہم، یہ تہہ غیر مستحکم ہوتی ہے اور آسانی سے تباہ ہو سکتی ہے۔ چنانچہ ان ویکسینز کو محفوظ طور پر رکھنے کے لیے سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔

ابتدا میں فائزر کا کہنا تھا کہ اس کی ویکسین فریزر میں منفی 60 سے منفی 90 درجے سینٹی گریڈ کے درمیان ہو۔ تاہم، بعد میں جاپان کی وزارت صحت نے فائزر کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر ان شرائط میں نرمی کر دی۔ وزارت کے مطابق، ویکسین کو منفی 15 سے منفی 25 درجہ سینٹی گریڈ پر 14 دن تک ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ انجکشن لگانے کے لیے مائع حالت میں لانے کے بعد ویکسین کو ریفریجریٹر میں 2 سے 8 درجہ سینٹی گریڈ تک رکھا جا سکتا ہے اور اسے لازماً 5 روز کے اندر اندر استعمال کرنا ہو گا۔

امریکی مرکز برائے امراض کنٹرول و روک تھام کے مطابق، موڈرنا ویکسین کو فریزرز میں منفی 50 سے منفی 15 درجہ سینٹی گریڈ کے درمیان رکھا جانا چاہیے۔ اسے طبی اداروں تک پہنچنے کے بعد ریفریجریٹروں میں 2 سے 8 درجہ سینٹی گریڈ کے درمیان 30 دن تک رکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً انجکشن لگانے سے قبل ویکسین کو کمرے کے درجۂ حرارت میں مائع حالت میں لانے کی ضرورت ہوگی۔ ویکسین لگانے سے پہلے اس کی مہر بند شیشیوں کو 24 گھنٹے تک کمرے کے عام درجۂ حرارت پر 8 سے 25 درجہ سینٹی گریڈ کے درمیان رکھا جا سکتا ہے۔

یہ معلومات 7 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 226 ویکسین 50 : فائزر اور موڈرنا ویکسینز کا موازنہ – 1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپانی حکومت نے امریکی دوا ساز کمپنیوں فائزر و موڈرنا اور برطانوی ادویات ساز کمپنی آسٹرا زینیکا سے ویکسین لینے کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

ان میں سے فائزر بیون ٹیک اور موڈرنا کی تیار کردہ ویکسینوں کی بنیاد ایک قسم کے جینیاتی مادے میسینجر آر این اے پر ہے۔ انہیں ’میسینجر آر این اے ویکسینز‘ یا مختصراً ’ایم آر این اے ویکسینز‘ کہا جاتا ہے۔

آج ہم جاپان کی وزارت صحت، امریکی مرکز برائے امراض کنٹرول و روکتھام اور خود دوا ساز کمپنیوں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ویکسینز کے فرق اور ان کی مشترکہ خصوصیات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

یہ دونوں ویکسینز انجکشن کے ذریعے پٹھوں کے درمیان داخل کی جاتی ہیں۔ اس تکنیک میں ویکسین چربی کی تہہ کے نیچے موجود پٹھوں میں داخل کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے انجکشن کی سوئی کو بازو کے اوپری حصے میں کندھے کے قریب درست زاویے سے داخل کیا جاتا ہے۔

جاپان میں ویکسین کو جسم میں پہنچانے کے لیے انفلوئنزا وغیرہ کی مانند جِلد اور پٹھوں کے درمیان دوا داخل کرنے والی ہائپو ڈرمک سرنجیں استعمال کی جاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جسم ہائپو ڈرمک سرنج کے مقابلے میں پٹھوں کے درمیان انجکشن کے طریقے سے ویکسین کو زیادہ تیزی سے جذب کرتا ہے۔

فائزر ویکسین کو دو خوراکوں کی شکل میں انجکشن کے ذریعے لگایا جاتا ہے۔ دوسری خوراک عام طور پر پہلی خوراک کے تین ہفتوں بعد دی جاتی ہے۔

موڈرنا ویکسین کو بھی دو خوراکوں کی صورت میں لگایا جاتا ہے۔ تاہم، اس میں دوسری خوراک عام طور پر پہلی خوراک کے چار ہفتوں بعد دی جاتی ہے۔

یہ معلومات 6 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر178 : ویکسینیں 8 ، ایم آر این اے ویکسین کیا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسینیشن سے متعلق سلسلے کی آٹھویں قسط پیش کر رہے ہیں جس میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ ایم آر این اے ویکسین کیا ہے؟

جِین یا مورُوثہ ویکسین جس میں نئے کورونا وائرس سے جینیاتی لڑیاں ہوتی ہیں، اُسے تجارتی کر دیا گیا ہے۔ جاپان نے امریکہ کی ادویات ساز کمپنی فائزر اور جرمنی کی کمپنی بیون ٹیک کی مشترکہ طور پر تیار کردہ ویکسین استعمال کرتے ہوئے 17 فروری کو اپنا کووِڈ 19 ویکسین منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ یہ ویکسین اور امریکہ کی ادویات ساز کمپنی موڈرنا کی تیار کردہ ایک اور ویکسین، دونوں ایم آر این اے ویکسین ہیں جن میں جینیاتی مواد ہے۔

یہ ویکسین انسانی جسم میں ایم آر این اے انجکشن لگانے سے کام کرتی ہے جس میں وائرس کی سطح پر پائے جانے والے اسپائیک پروٹین سے جینیاتی معلومات ہوتی ہیں۔ یہ ایم آر این اے، انسانی خلیے میں اسپائیک پروٹینز بنانے کیلئے جینیاتی معلومات کے طور پر کام کرتے ہیں۔

جسم کا مدافعتی نظام ان اسپائیک پروٹینز کے خلاف بیشمار انٹی باڈیز یعنی خون میں مادے تخلیق کرنے کیلئے کام کرنے لگتا ہے۔ جب ایک حقیقی وائرس جسم میں داخل ہوتا ہے تو یہ مادے فوری طور پر حملہ کر دیتے ہیں۔

لیکن ایم آر این اے میں استحکام کی کمی ہوتی ہے۔ جب اسے ویکسین کے طور پر لگایا جاتا ہے تو یہ جلد ہی تحلیل ہوجاتا ہے اور جسم میں باقی نہیں رہتا۔

مزید برآں، کہا جاتا ہے کہ ایم آر این اے ویکسین نہایت محفوظ ہے کیونکہ یہ خلیے کے تخمدان میں داخل نہیں ہوتی جس میں انسانی مورُوثہ ہوتا ہے۔

یہ معلومات 17 فروری تک کی ہیں۔

سوال نمبر177 : ویکسینیں 7 ، جاپان کے ویکسینیشن منصوبے میں کن دیرینہ بیماریوں کو ترجیح دی گئی ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسینیشن سے متعلق سلسلے کی ساتویں قسط پیش کر رہے ہیں جس میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ کسی شخص کو پہلے سے لاحق وہ کونسی بیماریاں ہیں جنہیں جاپان کے کووِڈ 19 ویکسینیشن منصوبے میں ترجیح دی جائے گی۔

جاپان کی وزارت صحت نے بیماریوں کی ایک فہرست مرتب کی ہے جن میں دل اور گردے کے دیرینہ امراض، سانس کی بیماری، سرطان اور سوتے میں سانس کا متعدد بار رُک جانا جیسی بیماریوں کی وجہ بننے والی قوّت مدافعت کی کمزوری شامل ہیں۔ ایسے لوگ جو ہسپتال میں داخل ہیں یا اس طرح کی دیرینہ بیماریوں کیلئے معمولاً ڈاکٹر کے پاس جاتے ہوں، اُنہیں ترجیح دی جائے گی۔

انتظامیہ مریضوں کیلئے اُن کی طبّی حالت کا سرٹیفکیٹ طلب نہیں کرے گی۔ مریضوں کو صرف سوالنامہ پُر کرنا ہوگا۔

جن لوگوں کا وزن اور قد سے نکالی گئی قدر کا اشاریہ بی آیم آئی 30 یا اس سے زیادہ ہو، اُنہیں بھی ترجیح دی جائے گی۔ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ جاپان میں موٹاپے کے اس زمرے میں آنے والے بالغ لوگوں اور دیرینہ بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد تقریباً 82 لاکھ ہے۔

یہ معلومات 16 فروری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 176: ویکسینیں 6 ، پہلے کسے ویکسین لگائی جائے گی؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کا سوال یہ ہے کہ ویکسینیں سب سے پہلے کس کو لگیں گی؟

جاپان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ ترجیحی ترتیب کے مطابق ویکسین کے ٹیکے سب سے پہلے طبی کارکنان کو لگیں گے۔ اس کے بعد 65 سال یا اِس سے زائد عمر کے لوگوں کو اور پھر معمر افراد کے مراکز میں کام کرنے والے لوگوں اور پہلے سے بیماریوں میں مبتلا افراد کو ٹیکے لگائے جائیں گے۔

وزارت معمر افراد کی دیکھ بھال کے مراکز کے عملے کیلئے مخصوص شرائط کے تحت، معمر افراد کے ٹیکے لگانے کے وقت ایک ساتھ ہی ٹیکہ لگانے کی اجازت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ مثلاً اُس وقت جب ڈاکٹر ویکسین کا ٹیکہ لگانے کیلئے معمر افراد کے مراکز پر آئیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایسے مراکز پر انفیکشن کلسٹرز کی روکتھام کرنا ہے۔

ان شرائط میں یہ بات شامل ہے کہ مرکز میں روزانہ کی بنیاد پر معمر افراد کی نگرانی کرنے والا ڈاکٹر موجود ہو۔ یہ اس امر کو یقینی بنانے کیلئے ہے کہ مرکز میں معمر افراد کو ٹیکہ لگنے کے بعد وہاں اُن کی حالت پر نظر رکھنے کیلئے عملے کے اُس رکن کے بجائے کوئی موجود ہو جسے ویکسین لگائی جائے گی۔

ویکسین کے ٹیکے صرف اُن لوگوں کو لگائے جائیں گے جو یہ لگوانے کے خواہشمند ہوں۔ بعض معمّر افراد سے متعلق یہ تصدیق کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ وہ ٹیکہ لگوانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ ایسی صورت میں وزارت کہے گی کہ فیصلے اُن افراد کے اہلِ خانہ یا ڈاکٹروں کی مدد سے کیے جائیں۔

یہ معلومات 15 فروری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 175: ویکسینیں 5 ، ویکسینیشن کا طریقۂ کار

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ٹیکے لگانے کے جاپانی منصوبے میں ملک میں مقیم غیر ملکی بھی شامل ہیں اور وہ حکومتی اعانت سے فراہم کی جانے والی ویکسینیں لگوا سکتے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ ویکسینیشن کی جگہوں پر یہ ویکسینیں کس طرح لگائی جا رہی ہیں۔

بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کیلئے، جس شخص کو ویکسین لگوانی ہے پہلے وہ بلدیہ کی جانب سے لوگوں کے گھروں پر بھیجا گیا ایک کوپن استقبالیہ پر جمع کروائے گا اور اپنی شناخت کی تصدیق اپنے ڈرائیونگ لائسنس، انشورنس کارڈ یا دیگر طریقے سے کروائے گا۔

ویکسین لگوانے والا اپنی صحت کی حالت، ماضی کی طبی تفصیلات سے متعلق سوالنامہ لازمی پُر کرے گا اور اس بات کے تعین کیلئے ڈاکٹر سے معائنہ کروائے گا کہ اُسے ویکسین لگ سکتی ہے یا نہیں۔

اگر اس مرحلے تک کوئی مسائل نہ ہوں تو اُسے ویکسین کا ٹیکہ لگ سکتا ہے۔ ہر شخص کو ٹیکہ لگوانے میں دو منٹ تک کا وقت لگے گا۔

ٹیکہ لگوانے کے بعد اُسے ایک تصدیق نامہ ملے گا جس میں ٹیکہ لگنے کی تاریخ اور جو ویکسین لگی ہے اُس کا نام لکھا ہوگا۔ یہ تصدیق نامہ ویکسین کی دوسری خوراک کا ٹیکہ لگوانے کیلئے ضروری ہے۔

ویکسین لگوانے والے کیلئے یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ وہ ویکسین لگوانے کے بعد فوری طور پر گھر نہیں جا سکتا۔ وزارت صحت نے ویکسین لگوانے والوں سے درخواست کی ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد اُسی مقام پر اُن کی طبیعت کے مشاہدے کی غرض سے قائم کی گئی ایک مخصوص جگہ میں 15 منٹ سے زیادہ ٹھہریں۔

بیرونِ ملک ٹیکے لگانے کی طبّی آزمائشوں کے مطابق، جاپان کو فراہم کی جانے والی ویکسین کا ٹیکہ لگنے والے بعض افراد نے ویکسین لگوائے جانے کے بعد سر درد یا تھکاوٹ کی علامات ظاہر ہونے کی اطلاعات دی ہیں۔ ویکسین سے سخت الرجی ردعمل سمیت شدید اثر پذیری ردعمل کے غیر معمولی واقعات کی اطلاعات امریکہ اور دنیا بھر میں دیگر جگہوں پر بھی رپورٹ کی گئی ہیں۔

ویکسین لگائے جانے کی جگہوں پر امدادی مراکز قائم کیے جائیں گے تاکہ ویکسین لگوانے کے بعد طبیعت خراب محسوس کرنے والے کسی بھی شخص کی دیکھ بھال کی جا سکے۔

یہ معلومات 12 فروری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 174: ویکسینیں 4 ، ہم کورونا ویکسین کے ٹیکے کیسے اور کہاں سے لگواسکتے ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگوانے سے متعلق اپنے سلسلے کی چوتھی قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ جاپان میں کووِڈ 19 کی ویکسینوں کے ٹیکے کیسے اور کہاں لگائے جا رہے ہیں؟

باور کیا جاتا ہے کہ جاپان میں بلدیاتی حکومتیں ویکسینوں کے ٹیکے مرکزی حکومت کی رہنمائی کے تحت لگائیں گی۔ توقع ہے کہ ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے خواہشمند لوگوں نے جس بلدیاتی علاقے میں اپنی رہائش کا اندراج کروا رکھا ہے وہ وہاں سے ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

جو لوگ اپنے کام کی وجہ سے اپنے گھر سے دور مقیم ہیں یا جن لوگوں کو ہسپتال میں داخل کیا جا رہا ہے، انہیں استثنیٰ کے طور پر دیگر بلدیاتی علاقوں میں ٹیکے لگوانے کی اجازت ہے۔ ٹیکے لگوانے کیلئے درکار کوپنز بلدیاتی انتظامیہ کی جانب سے ڈاک کے ذریعے آپ کے گھر کے پتے پر پہنچا دیے جائیں گے۔ اگر آپ ان میں سے ایک کوپن ویکسین کے ٹیکے لگانے کی جگہ پر لائیں تو آپ کو ویکسین کا ٹیکہ مفت لگایا جائے گا۔

لیکن ضروری ہوگا کہ آپ وہاں جانے سے پہلے فون یا دیگر طریقوں سے وقت کا تعین کروا لیں۔ طبی ادارے، سماجی ہالز اور جمنازیم ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے مقامات ہوں گے۔ اگلی قسط میں ہم آپ کو ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے مخصوص طریقۂ کار بتائیں گے۔

یہ معلومات 4 فروری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 173: ویکسینیں 3 ، ویکسینیں کتنے عرصے کیلئے مؤثر ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگوانے سے متعلق اپنے سلسلے کی تیسری قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ کووِڈ 19 کی ویکسینوں سے ملنے والی قوت مدافعت کی میعاد کتنی ہے؟

جاپان اور بیرونِ ملک کووِڈ 19 کی کئی ویکسینیں تیار کی جا چکی ہیں یا تیار کی جا رہی ہیں۔ لیکن ابھی تک ہم یہ نہیں جانتے کہ ان کے اثر انداز ہونے کی صلاحیت کتنے عرصے تک قائم رہے گی کیونکہ بیرونی ملکوں میں ان کی طبی آزمائش اور حقیقتاً ویکسین کے ٹیکے لگانے کا ابھی محض آغاز ہوا ہے۔

جاپان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ یہ ویکسینیں ممکنہ طور پر نئے کورونا وائرس کی تبدیل شدہ اقسام کے خلاف بھی مؤثر ہیں۔ وزارت کے حکام نے کہا ہے کہ عام طور پر وائرس متواتر تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور معمولی تبدیلیوں سے ویکسینوں کی افادیت ختم ہو جانے کا غالب امکان نہیں ہے۔

آزمائش کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ فائزر ویکسین اور اس وقت دستیاب دیگر ویکسینوں کے ٹیکے، لگائے گئے افراد میں اینٹی باڈیز یعنی خون میں پیدا ہونے والے جراثیم کے خلاف مدافعتی مادے بڑھے جو کورونا وائرس کی تبدیل شدہ اقسام کے خلاف بھی کارگر رہے۔ حکام نے کہا ہے کہ وہ جاپان میں جاری آزمائش کے دوران ویکسینوں کی افادیت اور محفوظ ہونے کی تصدیق کریں گے جس میں ان کے کورونا کی تبدیل شدہ اقسام کے خلاف اثر انداز ہونے کی صلاحیت شامل ہے۔

یہ معلومات 3 فروری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 172: ویکسینیں 2 ، ویکسین کے ٹیکے لگوانا کیوں ضروری ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگوانے سے متعلق اپنے سلسلے کی دوسری قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ ویکسین کے ٹیکے لگوانا کیوں ضروری ہے؟

ویکسین کے ٹیکے لگانے کا مقصد لوگوں کو قوت مدافعت دینا یا اُن کے مدافعتی نظام کو تقویت دینا ہے۔ توقع ہے کہ اس سے انفرادی لحاظ سے لوگوں میں علامات بڑھنے یا شدید بیمار پڑ جانے کی روکتھام ہوگی۔ مزید برآں، توقع ہے کہ اس سے آبادیوں میں بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے گا۔

جاپان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ بیرونِ ملک طبی آزمائش کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ نئے کورونا وائرس کی ویکسینیں طبیعت شدید خراب ہو جانے یا بخار جیسی علامات کی روکتھام کیلئے مؤثر ہیں۔

اگر ویکسین کے ٹیکے لگانے سے شدید بیمار مریضوں اور بیماریوں سے ہونے والی اموات کی تعداد کم کرنے میں مدد مل سکے تو اس سے صحت دیکھ بھال کے نظام پر بوجھ میں کمی ہوگی۔

یہ معلومات 2 فروری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 171: ویکسینیں 1 ، غیر ملکیوں کیلئے ویکسینیشن

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسینوں سے متعلق اپنے سلسلے کی دوسری قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال جاپان میں مقیم غیر ملکیوں کو ویکسین کے ٹیکے لگانے سے متعلق ہے؟

جاپان میں مقیم غیر ملکی کورونا وائرس ویکسین کے ٹیکے اُن بلدیاتی علاقوں میں لگوا سکتے ہیں جہاں اُن کا نام رہائشی کے طور پر درج ہے۔

جاپان کا ویکسینیشن منصوبہ وزارت صحت کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد 17 فروری کو شروع ہو چکا ہے۔ طبی کارکنان سے ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز ہو کر اس کا دائرہ بتدریج معمر افراد تک پھیل جائے گا۔ اس کے بعد بیماریوں میں مبتلا لوگوں اور دیگر افراد کو ٹیکے لگائے جائیں گے۔ توقع ہے کہ معمر افراد کو ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز اپریل میں کسی وقت ہوگا۔

ویکسین کے ٹیکے لگائے جانے کی جگہیں اُصولی طور پر اُن بلدیات میں قائم کی جائیں گی جہاں لوگوں کا نام رہائشی کے طور پر درج ہے۔ حکومت یہ ٹیکے لگوانے کیلئے مطلوبہ کوپن لوگوں کے گھروں میں بھیجنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ویکسین کے ٹیکے مفت لگائے جائیں گے۔

یہ معلومات 17 فروری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 170: کارکنان کیلئے حکومت کا اعانتی فنڈ، درخواست کیسے دی جائے؟ -2

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم کورونا وائرس کی عالمی وباء کے باعث کام سے چھٹی لینے پر مجبور ہو جانے والے کارکنان کیلئے حکومت کے اعانتی فنڈ سے متعلق دو حصوں پر مشتمل سلسلے کی دوسری قسط پیش کر رہے ہیں۔ آج کا موضوع یہ ہے کہ اس اعانتی فنڈ کیلئے درخواست کیسے دی جائے اور معلومات کہاں سے حاصل کی جائیں؟

یہ منصوبہ چھوٹی اور درمیانے درجہ کی کمپنیوں کے اُن ملازمین کیلئے ہے جنہیں اُن کے آجران نے ہدایت دی ہو کہ عالمی وباء کے باعث کام سے چھٹی کریں اور جن کے آجران نے اُنہیں قانونی طور پر مطلوبہ وظائف نہیں دیے ہوں۔ ایسی کمپنیوں میں کام کرنے والے تکنیکی تربیتی کارکنان بھی اُجرت لینے کے مجاز ہیں۔

ایسے کارکنان نے چھٹی لینے سے قبل جتنی اُجرت کمائی تھی وہ اُس کا 80 فیصد وصول کر سکتے ہیں جس کی حد 11 ہزار ین یومیہ ہے۔ یہ اُجرت گزشتہ سال اپریل سے اُس وقتی دورانیے تک کیلئے وصول کی جا سکتی جب وہ کام نہیں کر سکے تھے۔ اس منصوبے میں ہنگامی حالت اُٹھائے جانے والے مہینے کے اگلے ماہ کے اختتام تک کے دورانیے کا احاطہ کیا جائے گا۔

وزارتِ محنت کی ویب سائٹ پر درخواست سے متعلق معلومات جاپانی، انگریزی، پرتگالی، ہسپانوی اور چینی زبان میں موجود ہیں۔ آرگنائزیشن فار ٹیکنیکل انٹرن ٹریننگ، او ٹی آئی ٹی کی ویب سائٹ پر چینی، ویتنامی، تگالوگ، انڈونیشیائی، تھائی، انگریزی، کمبوڈیائی اور برمی زبان میں معلومات دستیاب ہیں۔

اس منصوبے سے متعلق سوالات کے جوابات دینے کیلئے وزارت محنت کی مفت فون کی ایک سہولت صرف جاپانی زبان میں دستیاب ہے۔ اس کا ٹیلیفون نمبر 276-221-0120 ہے۔
اوقات: پیر تا جمعہ، صبح 8:30 سے رات 8 بجے تک۔
اختتامِ ہفتہ اور تعطیلات کے دوران: صبح 8:30 سے شام 5:15 تک۔

یہ معلومات 29 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

وزارت صحت، محنت اور بہبود کی ویب سائٹ کا پتہ:
https://www.mhlw.go.jp/stf/kyugyoshienkin.html#otoiawasesaki
(جاپانی، انگریزی، پرتگالی، ہسپانوی اور چینی زبان میں)
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے

آرگنائزیشن فار ٹیکنیکل انٹرن ٹریننگ کی ویب سائٹ کا پتہ:
https://www.otit.go.jp/CoV2_jissyu_seikatsu
(جاپانی، چینی، ویتنامی، تگالوگ، انڈونیشیائی، تھائی، انگریزی، کمبوڈیائی اور برمی زبان میں)
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے

سوال نمبر 169: کارکنان کیلئے حکومت کے اعانتی فنڈ کی مدت میں توسیع -1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم کورونا وائرس کی عالمی وباء کے باعث کام سے چھٹی لینے پر مجبور ہو جانے والے کارکنان کیلئے حکومت کے اعانتی فنڈ سے متعلق دو حصوں پر مشتمل سلسلے کی پہلی قسط پیش کر رہے ہیں۔

وزارتِ محنت نے کہا تھا کہ ایسے افراد جنہوں نے کورونا وائرس کی وباء کے باعث کام سے چھٹی لی اور جن کے آجران اُنہیں قانونی طور پر مطلوبہ وظائف ادا نہ کر سکیں، وہ 28 فروری تک یہ اعانت لینے کے مجاز ہیں۔ اب حکام کا کہنا ہے کہ اس اعانتی منصوبے میں ہنگامی حالت اُٹھائے جانے کے ماہ کے بعد اگلے مہینے کے اختتام تک کیلئے توسیع کر دی گئی ہے۔

جاپان کا محنت کشوں سے متعلقہ معیارات کا قانون یہ شرط عائد کرتا ہے کہ جب کمپنیاں خود اپنی وجوہات کی بناء پر اپنے ملازمین کو چھٹی لینے کی ہدایت کریں تو اُنہیں اُجرت کا کم از کم 60 فیصد معاوضہ ادا کرنا چاہیئے۔ لیکن بعض کمپنیاں ناکام ہوتے کاروبار اور دیگر وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے ادائیگیاں نہیں کرتیں۔ مذکورہ وزارت نے کارکنان پر زور دیا ہے کہ جب ایسا ہو تو وہ اعانتی منصوبے کے تحت مدد کیلئے درخواست دیں۔

یہ منصوبہ چھوٹی اور درمیانے درجہ کی کمپنیوں کے اُن کارکنان کیلئے ہے جنہیں گزشتہ سال اپریل کے بعد کبھی چھٹی لینے پر مجبور کیا گیا ہو۔ وہ چھٹی لینے سے قبل کمائی گئی اُجرت کا 80 فیصد حاصل کر سکتے ہیں جس کی یومیہ حد 11 ہزار ین ہے۔

اس اعانت کیلئے کارکنان یا کمپنیاں دونوں ہی درخواست دے سکتے ہیں۔ وزارت کے حکام لوگوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ آجر تعاون کنندہ نہ ہونے کی صورت میں بھی درخواست جمع کروائیں۔ اگلی قسط میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ درخواست کیسے دی جائے اور مزید معلومات کیلئے کس سے رابطہ کیا جائے۔

یہ معلومات 28 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 168: کیا 15 سال یا اس سے کم عمر کے بچوں کیلئے فائزر کی ویکسین استعمال کرنا ٹھیک ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے نقطۂ نظر کے بارے میں اپنے سلسلے کی ساتویں قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال 15 سال یا اس سے کم عمر بچوں کیلئے فائزر کی کورونا وائرس ویکسین کے ٹیکے لگانے سے متعلق ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے محکمۂ مامُونیت، ویکسینیں اور حیاتیات کی ڈائریکٹر کیتھرین اوبرائن نے 7 جنوری کو منعقدہ ایک اخباری کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے درج ذیل باتیں کہی تھیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر کمیٹی 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے اس ویکسین کا مشورہ نہیں دیتی کیونکہ عالمی ادارۂ صحت کے پاس ڈیٹا نہیں ہے۔

اوبرائن نے بتایا کہ طبی آزمائش میں ابھی تک 16 سال سے کم عمر بچوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے لیکن 12 سے 16 سال کی عمر کے بچوں میں اس کی افادیت کی جانچ کرنے کی غرض سے تحقیق جاری ہے، لہٰذا مستقبل میں مزید معلومات آنے والی ہیں۔

تاہم اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ویکسین کے ٹیکے لگانے کے ذمہ دار لوگ بچوں کے خاندانوں سے مشورے کے بعد ایسے بچوں کو ٹیکے لگانے کا انتخاب کر سکتے ہیں جنہیں دائمی بیماریاں ہوں یا کورونا وائرس انفیکشن سے بہت سنگین منفی نتیجے کا خطرہ درپیش ہو۔ لیکن اوبرائن نے زور دیا کہ عالمی ادارۂ صحت عموماً 16 سال سے کم عمر کے بچوں کیلئے کورونا ویکسین کے ٹیکے لگانے کا مشورہ نہیں دیتا۔

یہ معلومات 27 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 167: ویکسین کی قوت مدافعت یا اثر کتنے عرصے برقرار رہے گا؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے نقطۂ نظر کے بارے میں اپنے سلسلے کی چھٹی قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ ویکسین کا اثر کتنے عرصے برقرار رہے گا؟

عالمی ادارۂ صحت کے محکمۂ مامُونیت، ویکسینیں اور حیاتیات کی ڈائریکٹر کیتھرین اوبرائن نے 7 جنوری کو منعقدہ ایک اخباری کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے درج ذیل بیان دیا تھا۔

اُنہوں نے بتایا کہ طبی آزمائش موسمِ بہار میں شروع ہوئی تھی اور ہم ابھی تک ان ویکسینوں کے استعمال کے ابتدائی ایام میں ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ قوت مدافعت یا اثر کتنے عرصے تک رہے گا، اسے مذکورہ طبی آزمائش میں شریک لوگوں کو دیکھتے رہنے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ لہٰذا عالمی ادارۂ صحت ابھی تک جواب نہیں جانتا۔

اوبرائن نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت کی امید اور توقعات یہ ہیں کہ قوت مدافعت یا اثر دیرپا ہوگا۔ اُنہوں نے بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت اُن لوگوں کا مشاہدہ بھی کر رہا ہے جو قدرتی طور پر کووِڈ 19 سے متاثر ہوئے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس سے کچھ اشارہ مل جائے گا کہ قدرتی انفیکشن کی قوت مدافعت یا اثر کتنے عرصے رہتا ہے اور شاید اس کا اطلاق ویکسین سے متعلقہ اثر پر بھی کیا جائے گا۔ اُنہوں نے یہ بات دہرائی کہ اس موقع پر یہ بتانا قبل از وقت ہے کہ اثر کتنے عرصے رہے گا۔

یہ معلومات 26 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 166: کیا ویکسین لگوانے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کیلئے مختلف اقسام کی ویکسینیں لگوانا درست ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے نقطۂ نظر کے بارے میں اپنے سلسلے کی پانچویں قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ کیا ویکسین لگوانے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کیلئے مختلف اقسام کی ویکسینیں لگوانا کوئی مسئلے کی بات تو نہیں ہے؟

عالمی ادارۂ صحت کے محکمۂ مامُونیت، ویکسینیں اور حیاتیات کی ڈائریکٹر کیتھرین اوبرائن نے 7 جنوری کو منعقدہ ایک اخباری کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے درج ذیل بیان دیا تھا۔

اوبرائن نے بتایا کہ بعض ممالک میں ایک سے زیادہ ویکسینیں پہلے ہی استعمال کی جا رہی ہیں۔ اُنہوں نے تسلیم کیا کہ مختلف ویکسینوں کو ملانے اور مطابقت سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔ لیکن اُن کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص پہلی خوراک کے طور پر فائزر کی ویکسین لگوائے تو اُسے دوسری خوراک بھی فائزر کی ہی ویکسین لگوانی چاہیے۔ اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت اس بات سے آگاہ ہے کہ بعض ملکوں میں پہلی اور دوسری خوراک کیلئے مختلف ویکسینیں استعمال کی جا رہی ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ تحقیق کا بہت اہم دائرۂ کار ہے اور عالمی ادارۂ صحت سفارشات دینے کی غرض سے اس قسم کی تحقیق کو ترجیح دے گا۔

یہ معلومات 25 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 165: چھوٹے کاروباروں کیلئے اعانتی پروگراموں کیلئے درخواست دینے کی مدت میں 15 فروری تک توسیع

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم عالمی وباء کے تناظر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کو ان کے کاروبار قائم رکھنے اور کرائے کی ادائیگی کیلئے حکومت کے اعانتی پروگرام سے متعلق بتا رہے ہیں۔

وزارتِ معیشت، تجارت اور صنعت نے کہا ہے کہ کاروباری اداروں کو اعانتوں کیلئے 15 فروری تک درخواستیں جمع کروانے کی اجازت ہوگی بشرطیکہ وہ اپنی درخواست سے متعلق جنوری کے اختتام تک مطلع کر دیں۔ اس سے پہلے درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ 15 جنوری تھی۔

حکومت کا "کاروبار قائم رکھنے کا اعانتی پروگرام" ایسے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو 20 لاکھ ین تک کی معاونت فراہم کرتا ہے جن کی آمدنی کورونا وائرس کے نتیجے میں کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔ "کاروباری جگہ کے کرائے کیلئے اعانتی پروگرام" ایسے کاروباری اداروں کو کرائے کی ادائیگی میں مدد دینے کیلئے رقم فراہم کرتا ہے۔

وزارت نے کہا ہے کہ وہ اعانتی پروگراموں کو توسیع نہیں دے رہی۔ لیکن اس کا کہنا ہے کہ ایسے کاروباری اداروں کو مد نظر رکھتے ہوئے جنہیں دوسری ہنگامی حالت کے نفاذ کے باعث مطلوبہ دستاویزات کی تیاری میں مشکلات پیش آ رہی ہوں، اُس نے درخواست دینے کی مدت کو 15 فروری تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم کاروباری اداروں کیلئے لازم ہوگا کہ پہلے وہ توسیع شدہ دورانیے میں درخواستیں جمع کروانے کی مختصر وجوہات سے 31 جنوری تک مطلع کریں۔

یہ معلومات 22 جنوری تک کی ہیں۔
مذکورہ معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 164: جو لوگ کسی انفیکشن سے شفایاب ہو چکے ہیں کیا انہیں ویکسین کے ٹیکے لگوانے چاہیئں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے نقطۂ نظر کے بارے میں اپنے سلسلے کی چوتھی قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ جو لوگ کسی انفیکشن سے شفایاب ہو چکے ہوں انہیں ویکسین کے ٹیکے لگوانے چاہیئں یا نہیں؟

عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین کے تزویراتی مشاورتی گروپ برائے مامُونیت کے عملی گروپ کے سربراہ علیہندرو کراویوتو نے اس معاملے سے متعلق 7 جنوری کو منعقدہ ایک آن لائن اخباری کانفرنس میں درج ذیل باتیں کیں۔

اُنہوں نے بتایا کہ یہ تجویز عالمی ادارۂ صحت کی بڑی سفارشات میں سے ایک تھی کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ جو لوگ کووِڈ سے متاثر ہوئے، جن کی پی سی آر یا انٹیجین ٹیسٹ سے تصدیق ہو چکی ہے، انہیں ویکسین کے ٹیکے لگانے سے علیحدہ نہیں کر دینا چاہیے۔ کراویوتو نے نشاندہی کی کہ وہ نہیں جانتے کہ قدرتی اثر کسی شخص کو کتنے عرصے تک وائرس سے دوبارہ متاثر ہونے سے محفوظ رکھے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ 6 جنوری کو جاری ہونے والی ایک دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ لوگ 8 ماہ تک محفوظ رہے لیکن یہ ڈیٹا لوگوں کو ویکسین کے ٹیکے نہ لگانے کیلئے کافی نہیں ہے۔

دوسری جانب، اُنہوں نے مزید کہا کہ اگر ایک بار انفیکشن سے متاثر ہو جانے والا شخص کچھ انتظار کرنا اور یہ چاہے کہ دیگر جن لوگوں کو خطرہ لاحق ہے اُنہیں پہلے ویکسین لگا دی جائے تو اس بات کا فیصلہ ہر شخص خود ذاتی طور پر کرے گا۔

اسی اخباری کانفرنس میں عالمی ادارۂ صحت کے محکمۂ مامُونیت، ویکسینیں اور حیاتیات کی ڈائریکٹر کیتھرین اوبرائن نے کہا کہ دنیا نے ویکسین ابھی شروع کی ہے اور ہر ملک نے اسے انتہائی بلند ترین ترجیحی گروپ سے لگانا شروع کیا ہے۔ اس بات کا امکان کافی کم ہی ہے کہ کوئی شخص جو وائرس سے متاثر ہو چکا ہوا وہ چھ ماہ میں دوبارہ وائرس کا شکار ہو جائے۔ تاہم اوبرائن کا کہنا تھا کہ عالمی ادارۂ صحت یہ رائے نہیں دے رہا کہ دراصل ویکسین لگانے کے منصوبے میں ایسے کسی شخص کو شامل نہ کیا جائے یا اُسے ویکسین لگانے میں تاخیر کی جائے۔

یہ معلومات 21 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 163: جو لوگ پہلے ہی سے بیماری میں مبتلا ہوں کیا انہیں ویکسین کے ٹیکے لگوانے چاہیئں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے نقطۂ نظر کے بارے میں سلسلے کی تیسری قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ جو لوگ پہلے ہی سے بیماری کی حالت میں ہوں انہیں ویکسین کے ٹیکے لگوانے چاہیئں یا نہیں؟

عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین کے تزویراتی مشاورتی گروپ برائے مامُونیت کے عملی گروپ کے سربراہ علیہندرو کراویوتو نے 7 جنوری کو منعقدہ ایک آن لائن اخباری کانفرنس میں درج ذیل باتیں کیں۔

جناب کراویوتو کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ویکسین کے ٹیکے لگائے جانے چاہیئں یا نہیں، اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ پہلے ہی سے کس قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ کوئی بھی شخص جسے کسی بھی ویکسین سے شدید الرجی ہو جاتی ہے اُسے یہ ویکسین نہیں لگوانی چاہیے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ اگر کسی کو خوراک یا دیگر مصنوعات سے الرجی ہوتی ہو تو انہیں ویکسین استعمال کرنے سے کوئی غیر موافق علامت نہیں ہوتی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ وہ ایسی جگہ پر ویکسین کے ٹیکے لگانے کا مشورہ دیتے ہیں جہاں شدید الرجی ردعمل کا مؤثر انداز میں اور فوری طور پر علاج کیا جا سکتا ہو۔

اسی اخباری کانفرنس میں عالمی ادارۂ صحت کے محکمۂ مامُونیت، ویکسینیں اور حیاتیات کی ڈائریکٹر کیتھرین اوبرائن نے درج ذیل باتیں کہیں۔

اوبرائن نے کہا کہ ایسے لوگ جو طویل عرصے سے بیماری میں مبتلا ہوں، امراضِ قلب، طویل عرصے سے پیپھڑے کے عارضے میں مبتلا لوگ، ذیابیطس یا موٹاپے کے شکار افراد وہ لوگ ہیں جو دراصل کووِڈ 19 انفیکشن سے سنگین اثرات پڑنے کے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان بیماری میں مبتلا لوگوں کو ٹیکے لگائے جائیں۔

عالمی ادارۂ صحت کی ڈائریکٹر نے کہا کہ اُن کے پاس ابھی تک اس بارے میں ڈیٹا نہیں ہے کہ آیا ویکسین کے ٹیکے لگانے سے حاملہ خواتین کو تشویش لاحق ہوتی ہے یا نہیں۔ تاہم اُنہوں نے زور دیا کہ اس امر پر یقین کر لینا بلاجواز ہے کہ ویکسینیں حاملہ خاتون یا جو نوزائیدہ بچہ رو رہا ہے اُس کیلئے نقصان دہ ہوگی۔ اُنہوں نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت مشورہ دیتا ہے کہ سفارش کے بلند ترین گروپ میں موجود خواتین، خصوصاً وہ جو صحت کارکنان ہیں، اپنے ویکسین فراہم کنندہ سے بات کریں اور تبادلۂ خیال کریں کہ کووِڈ 19 سے انہیں کیا خطرہ ہے اور اگر وہ کوئی اہم خطرہ ہو تو وہ پیشرفت کر کے ویکسین کا ٹیکہ لگوا سکتی ہیں۔

اوبرائن نے کہا کہ ایچ آئی وی انفیکشن کے شکار لوگوں کو ویکسین کا ٹیکہ لگوانا چاہیے اور کوئی بھی شخص جسے ایسے امراض ہوں جو اُسے سنگین بیماری کے خطرے سے دوچار کر سکتے ہوں، اُن کیلئے ویکسین کا ٹیکہ لگوانا بہتر ہے۔

یہ معلومات 20 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 162: کیا ویکسین کے ٹیکے لگانا وائرس کی متغیر قِسم کے خلاف کارگر ہوتا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے نقطۂ نظر کے بارے میں سلسلے کی دوسری قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ویکسین کا ٹیکہ کورونا وائرس کی متغیر قِسم کے خلاف کارگر ہے؟

دنیا کورونا وائرس کی تبدیل شدہ اقسام کا تیزی سے پھیلاؤ دیکھ رہی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے محکمۂ مامُونیت، ویکسینیں اور حیاتیات کی ڈائریکٹر کیتھرین اوبرائن نے 7 جنوری کو ایک آن لائن اخباری کانفرنس میں درج ذیل باتیں کہی ہیں۔

اوبرائن نے کہا کہ جب ویکسینیں تیار کی گئیں اور ان کی آزمائش کی گئی تو ان کی کئی وائرسوں کی مختلف اقسام کے خلاف جانچ کی گئی۔

اُنہوں نے بتایا کہ وائرس ہر وقت تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور یہ وائرس سے متعلقہ عام بات ہے۔ اوبرائن نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آیا وائرس اس طریقے سے تبدیل ہوتا ہے یا نہیں کہ یا تو خود بیماری ہی پر اثر ڈالتا ہو یا علاج معالجے کو متاثر کرتا ہو، یا پھر اس صورت میں آیا یہ ویکسینوں پر اثر ڈالتا ہے یا نہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ہم دنیا بھر میں ابھرتی ہوئی دو طرح کی متغیر اقسام کے بارے میں سنتے چلے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے منتقلی سے متعلق تشویش پائی جاتی ہے اور یہ کہ اس بارے میں تشخیص جاری ہے کہ آیا موجودہ ویکسینوں پر کسی بھی طور سے اثر پڑے گا یا نہیں۔

تاہم اُنہوں نے کہا کہ جو بات وہ بالکل اعتماد سے کہہ سکتی ہیں وہ یہ ہے کہ ہمیں ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل میں جس قدر تیزی سے ممکن ہو سکے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جیسی تبدیلیاں ان متغیر اقسام میں دیکھی جا رہی ہیں وہ غالباً ویکسینوں کا اثر تبدیل نہیں کریں گی۔

یہ معلومات 19 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 161: عالمی مجموعی صورتحال کیسی ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم نے ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے نقطۂ نظر کے بارے میں ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ دنیا بھر میں ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل کا آغاز ہو گیا ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ عمومی طور پر موجودہ عالمی صورتحال کیسی ہے؟

عالمی ادارۂ صحت کے محکمۂ مامُونیت، ویکسینیں اور حیاتیات کی ڈائریکٹر کیتھرین اوبرائن نے 7 جنوری کو ایک آن لائن اخباری کانفرنس میں گفتگو کی۔

اُنہوں نے کہا "چیزیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی ہیں۔ ہم اب اس مرحلے میں ہیں کہ ایسی کئی ویکسینیں اب موجود ہیں جنہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ واقعی کارگر ہیں۔

محترمہ برائن نے کہا کہ اُن میں سے کچھ کی تو کئی ملکوں میں منظوری دیدی گئی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ اب ویکسینوں کے ٹیکے بالخصوص زیادہ آمدنی والے ملکوں میں لگائے جا رہے ہیں اور توقع ہے کہ جلد ہی کم اور متوسط آمدنی والوں ملکوں میں بھی لگتے ہوئے دیکھے جائیں گے۔

اوبرائن کا کہنا تھا کہ ایسی کم از کم تین ویکسینیں ہیں جن کی جانچ ویکسین ڈیٹا کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ ترین معیارات کی صلاحیت والے ضابطہ جاتی نگرانوں نے کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ نگران تحفظ، اثر انگیزی اور ویکسین کی تیاری کے معیار کے ڈیٹا کا جائزہ لیتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ آسٹرازینیکا، موڈرنا اور فائزر کی تیار کردہ تین ایسی ویکسینیں ہیں جن کی منظوری بہترین معیار کی کم از کم ایک انتظامیہ نے دیدی ہے۔

محترمہ اوبرائن نے کہا کہ ایسی ویکسینیں بھی ہیں جن کی افادیت کے نتائج اعلانیہ جاری کر دیے گئے ہیں اور اُن کے ڈیٹا کے جائزے کا عمل ابھی تک جاری ہے۔ اُنہوں نے وضاحت کی کہ سِنوفارم اور سِنوویک جیسی ویکسینیں چین کی تیار کردہ ہیں اور ایک روسی ویکسین ہے جسے گمالیا انسٹیٹیوٹ نے تیار کیا ہے۔

اوبرائن کا کہنا تھا وہ سمجھتی ہیں کہ اہم ترین بات یہ ہے کہ ایسی ویکسینوں کی حقیقتاً بڑی پائپ لائن ہے جو انسانی طبی آزمائشوں سے گزر کر آ رہی ہیں اور ہم آئندہ آنے والے ہفتوں و مہینوں کے دوران خاصا متحرک ماحول دیکھتے رہیں گے۔ اُنہوں نے بتایا کہ ضابطہ جاتی نگران اس امر کی تصدیق کریں گے کہ آیا ان ویکسینوں کی عام آبادی میں استعمال کی غرض سے اجازت دینے کیلئے ڈیٹا معقول ہے یا نہیں۔

یہ معلومات 18 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 160: ہنگامی حالت کے خاتمے پر کیا ہوتا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان کی جانب سے دوسری ہنگامی حالت کے اعلان سے متعلق گزشتہ ہفتے سے ایک سلسلہ پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے، "حکومت کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالت 7 فروری تک نافذ رہے گی۔ اس کے بعد کیا ہوگا؟"

کورونا وائرس سے متعلق ردعمل پر حکومت کے مشاورتی پینل کے سربراہ اومی شگیرُو نے 14 جنوری کو ایوانِ بالا کی کابینہ کمیٹی کے ایک اجلاس میں اس معاملے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر توقع کے مطابق 7 فروری کے قریب پہنچنے والے دنوں میں انفیکشنز کی تعداد کم ہو رہی ہو تو ہنگامی حالت کے تحت جو اقدامات نافذ کیے گئے ہیں ان میں بتدریج نرمی کی جا سکتی ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اگر نئے متاثرین کی تعداد ہموار رہے یا معمولی اضافہ ہو رہا ہو یا صرف بہت ہی معتدل تناسب سے کمی آ رہی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ ہنگامی حالت کے اقدامات ناکافی ہیں اور انسدادِ انفیکشن کے زیادہ ٹھوس اقدامات درکار ہوں گے۔

مشاروتی پینل کے سربراہ نے کہا ہے کہ موجودہ اقدامات کے مؤثر پن کا اندازہ لگانے کیلئے ماہرین انفیکشن کی صورتحال کی نگرانی کریں گے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس تخمینے کا یہ فیصلہ کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ کس قسم کے خاص مضبوط تر اقدامات کیے جانے چاہیئں۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر ایک طریقہ کاروباری اداروں سے یہ درخواست کرنا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی کاروباری سرگرمیوں کو عارضی طور پر معطل کر دیں۔ جناب اومی نے عندیہ دیا کہ مشاورتی پینل، انفیکشن کی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک ایسے منظر نامے کا قیاس کرے گا جس میں موجودہ ہنگامی حالت نے متوقع نتائج پیدا نہیں کیے اور مطلوبہ اضافی اقدامات پر تبادلۂ خیال کرے گا۔

براہِ مہربانی نوٹ فرمالیں کہ یہ معلومات 15 جنوری تک کی ہے۔

مذکورہ معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 152: جاپان میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم اس بارے میں بتا رہے ہیں کہ جاپان میں ہنگامی حالت کیا ہے؟

ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کورونا وائرس کے ردعمل میں ایک خصوصی قانون کی بنیاد پر کیا جانے والا اقدام ہے۔ اگر ملک میں وائرس تیزی سے پھیلے اور یہ لوگوں کی زندگی یا معیشت پر بہت زیادہ اثرات مرتب کر سکتا ہو تو وزیر اعظم ہنگامی حالت کا اعلان کر سکتا ہے۔ ہنگامی حالت کا دورانیہ اور اسے نافذ کیے جانے والے علاقے مخصوص کیے جائیں گے۔

مخصوص کردہ علاقوں کے پریفیکچروں کے گورنر شہریوں سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ باہر نکلنے سے گریز کریں اور انفیکشنز کے پھیلاؤ کی روکتھام کیلئے تعاون کریں۔ لوگوں کے ذریعۂ معاش کو قائم رکھنے کیلئے ضروری حالات میں اس سے استثنیٰ ہوگا۔

گورنر یہ کہنے یا اسکولوں کو بند کرنے یا ایسے ڈیپارٹمنٹ اسٹوروں جیسی جگہوں کا استعمال محددو کرنے کی ہدایت دے سکیں گے جہاں بہت سے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اگر بالخصوص ایسے اقدامات ضروری ہوں تو گورنر کے پاس عارضی طبی مراکز کیلئے زمین یا عمارات کو مالکان کی رضامندی کے بغیر استعمال کرنے کا اختیار بھی ہوگا۔

ہنگامی حالات میں گورنر نقل و حمل کی کمپنیوں سے طبی مصنوعات یا آلات پہنچانے کی درخواست یا انہیں ہدایت کر سکتے ہیں، یا جب ضروری ہو تو مفاد عامہ کیلئے طبی مصنوعات منتقل کروا سکتے ہیں۔

گزشتہ اپریل میں، اُس وقت کے وزیر اعظم آبے شنزو نے سات پریفیکچروں ٹوکیو، کاناگاوا، سائیتاما، چیبا، اوساکا، ہیوگو اور فُوکُو اوکا میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں، ہنگامی حالت کو وسعت دے کر پورے ملک میں نافذ کر دیا گیا۔

یہ معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 151: بچوں سے متعلق سوالات: باہر جاتے وقت اور دوستوں کے ساتھ کھیلتے وقت کس امر سے متعلق محتاط ہونا چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج ہماری بارہویں قسط میں سوال یہ ہے کہ کیا بچوں کو گھر سے باہر جانے اور دوستوں کے ساتھ کھیل کود سے گریز کرنا چاہیے؟

ماہرین بتاتے ہیں کہ بچوں کیلئے گھر سے باہر جانے اور دوستوں کے ساتھ کھیل کود سے گریز کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جبتک کہ وہ انفیکشن کی روکتھام کی تدابیر پر عمل کریں۔ بچے کی ذہنی اور جسمانی نشو و نما کیلئے کھیلنا کودنا بہت ضروری ہے۔ لہٰذا اگر انفیکشن میں کمی کیلئے تدابیر پر عمل کیا جا رہا ہے تو اُن کا دوستوں کے ساتھ کھیل کود کیلئے باہر جانا ٹھیک ہے۔

اسکول کی تعطیلات کے دوران گھومنے پھرنے کیلئے باہر جانے کی منصوبہ بندی کرتے وقت اپنے بلدیاتی ادارے اور جس جگہ آپ جانا چاہتے ہیں وہاں کی انفیکشن صورتحال کی جانچ پڑتال کرنا یاد رکھیں۔ یہ تصدیق بھی کر لیں کہ دونوں جگہوں پر انتظامیہ نے سفر سے گریز کرنے کی درخواست تو نہیں کر رکھی۔

باور کیا جاتا ہے کہ بند جگہوں پر کھیلنے کی نسبت باہر کھلی جگہ پر کھیلنے کودنے سے انفیکشن کا کم خطرہ ہوتا ہے۔ لیکن آپ کو درج ذیل نکات سے متعلق لازماً محتاط ہونا چاہیے۔
۔ جب بچوں کو نزلہ زکام کی طرح گلے میں خراش، کھانسی اور بخار جیسی علامات ہوں تو انہیں باہر کھیلنے کودنے سے گریز کرنا چاہیے۔
۔ بچوں کو چاہیے کہ ایسی چیزوں کو چُھونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو دھوئیں جنہیں کئی لوگ اکثر چُھوتے ہیں۔
۔ بچوں کو کھانے پینے سے پہلے بھی اپنے ہاتھ دھونے چاہیئں۔
۔ بچوں کو کھانا کھاتے وقت ایک دوسرے کا سامنا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

بند جگہوں پر کھیلنے کودنے سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے، لہٰذا درج ذیل نکات پر لازماً عمل کرنا چاہیے۔
۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وائرس سے واضح طور پر متاثرہ کوئی شخص بہت قریب نہیں ہے۔
۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ معمر افراد یا پہلے ہی سے انفیکشن کی ظاہری کیفیت کے حامل لوگ بہت قریب نہیں ہیں۔
۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے اور اُن کے اہلِ خانہ میں بھی نزلہ زکام جیسی کوئی علامات نہیں ہیں۔
۔ صرف چھوٹے گروپ ہی میں کھیلیں۔
۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے اپنے والدین کی اجازت سے کھیل کود رہے ہیں۔
۔ بچوں کو چاہیے کہ ایسی چیزوں کو چھونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو دھوئیں جنہیں کئی لوگ اکثر چھوتے ہیں۔
۔ بچوں کو کھانے پینے سے پہلے بھی اپنے ہاتھ دھونے چاہیئں۔
۔ بچوں کو کھانا کھاتے وقت ایک دوسرے کا سامنا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
۔ جگہ پر ہر گھنٹے میں کم از کم ایک بار ہوا کا اچھی طرح آنا جانا یقینی بنائیں۔

اگر آپ ایسی جگہ پر رہتے ہیں جہاں لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ باہر جانے سے گریز کریں تو بچوں کو درج ذیل تدابیر پر عمل کرنا چاہیے۔
۔ صرف اپنے بہن بھائی اور اپنے گھرانے ہی کے افراد کے ساتھ کھیلیں۔
۔ جب باہر جائیں تو اجنبی لوگوں سے ملنے سے گریز کریں۔

یہ معلومات 25 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 150: بچوں سے متعلق سوالات: کیا بچوں کو اسکول، کنڈرگارٹن یا دن کی دیکھ بھال کے مرکز جانے سے گریز کرنا چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج ہماری گیارہویں قسط میں سوال یہ ہے کہ کیا والدین کو بچوں کو اسکول، کنڈرگارٹن یا دن کی دیکھ بھال کے مرکز جانے دینے کے بجائے گھروں پر ہی رکھنا چاہیے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اُس وقت تک اسکولوں، کنڈرگارٹن یا دن کی دیکھ بھال کے مراکز سے رضاکارانہ طور پر دور رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے جب تک کہ بچہ طبیعت خراب محسوس نہ کرے یا وہ کسی ایسے شخص سے قریبی رابطے میں آیا ہو جس کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہو۔

ایسے علاقے جہاں کورونا وائرس کا کوئی بڑا پھیلاؤ دیکھنے میں نہیں آیا، وہاں متاثرہ بچوں میں سے کئی کو والدین جیسے ایک ہی گھر میں رہائش پذیر بالغ افراد سے وائرس انفیکشن ہوا۔ لیکن ایسی جگہوں پر وائرس منتقلی کے واقعات کی اطلاعات بھی ملتی رہی ہیں جہاں بچے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ لہٰذا اگر یہ تصدیق ہو جائے کہ وہاں کسی بچے کو وائرس انفیکشن ہوا ہے تو اسکولوں، کنڈرگارٹنز اور دن کی دیکھ بھال کے مراکز کو ایک مخصوص مدت کیلئے بند کیا جا سکتا ہے۔

وائرس پھوٹ پڑنے کے حالات کے مطابق مختلف ردعمل درکار ہوں گے، اس لیے براہِ مہربانی اُس بلدیاتی ادارے کی ہدایات پر عمل کیجیے جہاں آپ رہتے ہیں۔ اگر گھرانے میں کوئی شخص وائرس سے متاثر ہو جائے تو تصور کیا جائے گا کہ گھر کا بچہ یا بچے وائرس کے حامل شخص سے قریبی رابطے میں آئے ہوں گے۔ لہٰذا وہ لازماً گھر پر ہی رہیں۔ جاپان کی وزارتِ صحت بھی مشورہ دیتی ہے کہ اگر بچوں کو ہلکا بخار یا نزلہ زکام جیسی دیگر علامات ہوں تو وہ اسکول، کنڈرگارٹن اور دن کی دیکھ بھال کے مراکز جانے سے گریز کریں۔ یہ بات اہم ہے کہ اس مشورے پر ہر شخص عمل کرے۔

یہ معلوم ہو چکا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر کے متاثرہ بچے جن میں علامات ظاہر ہو رہی ہیں وہ وائرس کی نسبتاً بڑی مقدار خارج کرتے ہیں۔ یہ بھی مشہور ہے کہ کئی متاثرہ بچوں میں علامات مسلسل ظاہر ہی نہیں ہوتیں اور یہ کہ فضلے میں ایک طویل عرصے وائرس خارج ہوتا رہتا ہے۔ بچوں کے ارد گرد وقت صَرف کرنے والے بالغ لوگوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو دھونے اور ماسک پہننے جیسی مکمل تدابیر کرتے رہیں۔

یہ معلومات 24 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 149: بچوں سے متعلق سوالات: چہرے کے ماسک کیسے استعمال کریں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج ہماری دسویں قسط میں سوال یہ ہے کہ والدین کو اُن بچوں کیلئے کیا کرنا چاہیے جو چہرے کا ماسک نہیں پہن سکتے؟

ماہرین کہتے ہیں کہ وائرس سے متاثرہ مریض کے چھینکنے یا کھانسنے سے بکھرنے والے پانی کے ننھے قطروں کی براہِ راست زد میں آنے کے خلاف تحفظ کے نقطۂ نظر سے ماسک پہننا مؤثر تو ہے تاہم یہ امر غیر حقیقت پسندانہ ہے کہ دو سال سے کم عمر کے بچوں کو ماسک پہنایا جائے۔

چار سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کے معاملے میں، حالانکہ اس کا انحصار انفرادی شخص پر ہے، اس عمر کے گروپ کے بچوں کیلئے ماسک پہننا ناممکن ہے جبتک کہ والدین لازماً انہیں یہ نہ سکھائیں کہ ماسک کو صحیح طرح کیسے پہنا اور کیسے اُتارا جاتا ہے۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ کئی بچے اپنے گھروں کے اندر اپنے ہی والدین سے وائرس انفیکشن کا شکار ہوئے۔ بچوں کے وائرس سے متاثر ہونے کی روکتھام کیلئے والدین کیلئے اہم ہے کہ وہ خود وائرس سے متاثر نہ ہونے کیلئے انسدادِ انفیکشن تدابیر اختیار کریں۔ اگر خاندان کا ایک رکن وائرس سے متاثر ہو جائے تو متاثرہ فرد سے دو میٹر سے زیادہ کا فاصلہ برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

ماہرین زور دیتے ہیں کہ ہاتھوں کو دھونا اور اشیاء کو جراثیم سے پاک کرنا بھی اہم ہے کیونکہ بچے اپنے منہ، ناک یا آنکھوں سے، وائرس سے آلودہ ہو جانے والے کھلونوں اور کتابوں کو چھونے کی صورت میں وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ معلومات 23 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 148: کیا ماؤں کو چھاتی سےکم سن بچوں کو دودھ پلانا روک دینا چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج ہماری نویں قسط میں سوال یہ ہے کہ کیا ماؤں کو خود کو وائرس سے متاثرہ پائے جانے کی صورت میں کم سن بچوں کو چھاتی سے دودھ پلانا روک دینا چاہیے؟

ماہرین کہتے ہیں کہ ایک ماں کو کورونا ٹیسٹ مثبت آ جانے کی صورت میں بھی چھاتی سے دودھ پلانے سے مکمل دستبردار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ماں یہ انتخاب کر سکتی ہے کہ اپنی حالت اور ترجیحات کے مطابق آیا اپنے نوزائیدہ بچے کو چھاتی سے دودھ پلانا جاری رکھے یا نہیں۔

جب ماں وائرس سے متاثرہ ہو تو اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ چھونے یا کھانسی کے ذریعے وائرس اپنے کم سن بچے کو منتقل کر سکتی ہے۔ ایک رپورٹ آئی ہے کہ چھاتی کے دودھ میں کورونا وائرس کی جینز یعنی موروثہ پایا گیا ہے۔ لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا مذکورہ دودھ میں متعدی وائرس ہے۔ ماں کے دودھ میں کم سن بچوں کیلئے بہت سے فوائد ہیں اور انفیکشن کے خدشے کے باعث چھاتی سے دودھ پلانا روک دینے کا مشورہ معقول نہیں ہے۔

وائرس سے متاثرہ ماؤں کیلئے چھاتی سے دودھ پلانا جاری رکھنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک طریقہ تو چھاتی سے براہِ راست دودھ پلانے کا ہے اور دوسرا طریقہ ہے ماں کی چھاتی سے نکالا گیا دودھ بوتل کے ذریعے پلانا۔

کم سن بچے کو چھاتی سے براہِ راست دودھ پلانے سے پہلے ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے ہاتھ اچھی طرح دھوئے، انہیں جراثیم سے پاک کرے اور ماسک پہنے۔

ماں کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ اپنی چھاتی سے دودھ نکالنے سے قبل اپنے ہاتھوں کو دھوئے اور اپنے ہاتھوں، چھاتی اور چھاتی پمپ کو جراثیم سے پاک کرے۔ اس کے بعد ایسا کوئی شخص جو وائرس سے متاثرہ نہیں ہے، اُسے چاہیے کہ دودھ کو ایک بوتل میں ڈالے اور کمسن بچے کو پلائے۔

یہ معلومات 22 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 147: کیا بچوں کا معائنوں اور سرجری کیلئے ہسپتال میں داخلہ ملتوی کر دیا جانا چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج ہماری آٹھویں قسط میں سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں نئے کورونا وائرس کے علاوہ دیگر بیماریوں کیلئے معائنوں اور سرجری کی غرض سے اپنے بچوں کا ہسپتال میں داخلہ ملتوی کر دینا چاہیے؟

ماہرین نے کہا ہے کہ آپ کو بچوں کی بیماری کیلئے معائنوں اور علاج کو ترجیح دینی چاہیے اور بچوں کے ہسپتال میں داخلے سے قبل اُن کی صحت کی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔

جاپان میں ہسپتال کورونا وائرس کے مریضوں اور دیگر بیماریوں میں مبتلا لوگوں کوعلیحدہ علیحدہ سنبھالتے ہیں۔ آپ کو اُس ہسپتال سے تصدیق کرنا چاہیے جہاں آپ کے بچے کو متوقع طور پر داخل کیا جانا ہے، اسی دوران دراصل ہو سکتا ہے آپ کو دوبارہ یقین دہانی ہو جائے کہ آپ کا بچہ اس مرکز میں محفوظ ہوگا۔

توقع کی جا رہی ہے کہ کورونا وائرس انفیکشنز جاری رہیں گے، لہٰذا آپ کو چاہیے کہ اپنے بچے کی بیماری کے علاج اور معائنوں کو ترجیح دیں۔ اگر ہسپتال میں داخلے کی تاریخ پہلے ہی طے ہو چکی ہے تو پھر آپ کو داخلے سے دو ہفتے پہلے اپنے بچے کی صحت کی صورتحال سے متعلق خاص طور پر محتاط ہونا چاہیے اور ایسے طرزِ عمل سے گریز کرنا چاہیے جو انفیکشن کے خطرے کا سبب بنے۔ اگر بچے کی طبیعت ٹھیک نہیں یا وہ نزلہ و زکام کی علامات ظاہر ہونے والے لوگوں سے رابطے میں چلا آ رہا ہو تو ہسپتال میں اُس کے داخلے پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔

یہ معلومات 21 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 146: ہمیں کن صورتوں میں بچے کو فوراً ہسپتال لے جانا پڑے گا؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج ہماری ساتویں قسط میں سوال یہ ہے کہ کیا کورونا وائرس سے بچوں کے متاثر ہو جانے کی صورت میں انہیں ہسپتال میں داخل کروا دینا چاہیے؟ کیا ہسپتال میں داخل رہنے کے دوران والدین کو اپنے بچے سے ملنے یا اس کے ساتھ قیام کی اجازت ہے؟

ماہرین کا جواب جاپان میں صورتحال کی مناسبت سے ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ جب بچے کورونا وائرس سے متاثر ہوتے ہیں تو بیشتر کیسز میں معمولی علامات ہوتی ہیں اور طبی تناظر سے انہیں ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مگر ایسی صورتیں بھی ہیں جن میں بچے کو قانون کے مطابق ہسپتال میں لازمی داخل کرنا ہوتا ہے۔

اگر بچے کو وائرس گھر کے اندر والدین سے لگا ہو تو والدین اور بچہ دونوں کو بیک وقت ہسپتال میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ اگر والدین وائرس سے متاثر نہیں ہوئے تو ہو سکتا ہے کہ قرنطینہ مقاصد سے بچے کو اکیلا ہسپتال میں داخل کیا جائے۔

بچے کے ہسپتال میں داخل رہنے کے دوران والدین کو اپنے بچے کی دیکھ بھال کرنے کی اجازت دینے سے متعلق فیصلہ اسباب کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ حالات کے مطابق کیا جائے گا جن میں بچے کی عمر اور ہسپتال کی صورتحال شامل ہیں۔

اگر کسی بچے کو بیماری سے چھٹکارا مل جانے کے بعد بحالی صحت کے دوران گھر یا مقررہ مرکز میں قیام کی تلقین کی گئی ہو تو والدین کو بچے کے تندرست ہو جانے کے بعد بھی لازماً بذریعۂ فون عوامی صحت مرکز سے مشاورت کرنی ہوگی اور صحت معائنے جاری رکھنے ہوں گے۔

معمولی علامات کیلئے معیاری اصول کا تعین لازماً ایک طبی ماہر کرے گا ۔ان میں یہ شامل ہے کہ انفرادی شخص توانا ہو، مشروبات پی سکتا ہو اور وہ کسی دقّت کے بغیر سانس لے رہا ہو۔

اگر ایک بچہ بیمار محسوس کرے اور اُسے ہسپتال داخل کرنے کی ضرورت ہو تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ والدین یا تو وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں یا یہ قرار دے دیا گیا ہے کہ وہ وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں ہو سکتا ہے کہ والدین کو ہسپتال میں آنے یا اُنہیں اپنے بچے سے ملنے کی اجازت نہ دی جائے۔ ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈاکٹر سے مشورہ کریں کہ ایک دوسرے سے رابطہ کیسے کیا جائے کیونکہ یہ کئی طرح کے عوامل کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے جن میں والدین کے کورونا وائرس سے پہلے ہی شفایاب ہو جانے جیسی مخصوص حالت سمیت ہسپتال کی صورتحال اور انفیکشنز کی علاقائی صورتحال وغیرہ شامل ہیں۔

یہ معلومات 18 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 145: کیا شیر خوار بچوں کے معائنوں اور ویکسینیشن میں کچھ وقت کیلئے تاخیر کی جانی چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج ہماری چھٹی قسط میں سوال ایک سرپرست کی جانب سے ہے کہ کیا شیر خوار بچوں کیلئے طبی معائنوں اور ویکسینیشن میں کچھ وقت کیلئے تاخیر کی جانی چاہیے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان میں شیر خوار بچوں کے باقاعدہ معائنوں کا مقصد ایک مخصوص عمر کے بچوں پر اثر انداز ہو سکنے والے امراض اور مسائل کی فوری تشخیص کرنا ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ہے کہ بچوں کو مطلوبہ علاج معالجہ جس قدر جلد ممکن ہو سکے ملنا شروع ہو جائے۔ بچوں کو وبائی امراض سے متاثر ہونے سے پہلے ہی ٹیکے لگانا بھی انتہائی اہم ہے۔ انسدادِ کورونا وائرس اقدامات کرنا اہم ہے۔ لیکن ماہرین نے کہا ہے کہ اگر ہم نے بچوں کو ہسپتال لے جانے سے گریز کیا تو اس سے وہ دیگر ایسی سنگین بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہو جائیں گے جنہیں روکا جا سکتا ہے، لہٰذا گریز نہیں کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق ہر چند ماہ میں ہم نئے متاثرین میں دفعتاً اضافہ دیکھتے رہیں گے۔ ایسا ہونے کی صورت میں اگر والدین نے ہر مرتبہ اپنے بچوں کو معائنوں اور ویکسین لگوانے کیلئے لانے سے گریز کیا تو یہ بہت مسئلہ بن جانے والی بات ہوگی۔

وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ بعض بلدیات نے علاقے میں انفیکشن کی صورتحال کے تناظر میں شیرخوار بچوں کیلئے معائنوں کی فراہمی کے اپنے طریقے تبدیل کر دیئے ہیں۔ ایسی مثالیں بھی ہیں جن میں ٹیکہ لگوانے کا موقع کھو دینے والے بچوں کو بنیادی طور پر مقرر کردہ دورانیے کے بعد بھی ویکسینیشن مہیا کی جا رہی ہے تاکہ وہ بعد میں ٹیکہ لگواسکیں۔ ماہرین نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ معلومات کے حصول کیلئے عوامی صحت دفتر سے رابطہ کریں۔

چاہے گروپ ہو یا ایک فرد، بچے اور ان کے سرپرستوں کو چاہیے کہ جب وہ معائنوں یا ویکسین لگوانے کیلئے جائیں تو کورونا وائرس انفیکشن سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کریں۔ اُنہیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ گھر سے روانہ ہونے سے قبل انہیں بخار یا کھانسی جیسی علامات نہ ہوں۔ بچے کے ہمراہ جو بالغ افراد ہوں اُن کیلئے ہاتھوں کو دھونا اور ماسک پہننا قطعی لازمی ہے۔ بچے کے بہن بھائی اور دادا، دادی وغیرہ کو معائنے یا ویکسین لگوانے کی جگہ پر لے جانے سے بھی جس قدر ممکن ہو سکے گریز کریں۔ محقیقین نے بتایا ہے کہ نیا کورونا وائرس فضلے میں خارج ہو سکتا ہے۔ براہ مہربانی ڈائپرز کو معائنوں اور ویکسینیشن کی جگہوں کے ساتھ ساتھ طبی مراکز میں بھی تبدیل نہ کریں۔

یہ معلومات 17 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 144: کیا بچوں کو ہسپتال میں کسی سے ملاقات کیلئے جانے سے گریز کرنا چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج پانچویں قسط میں سوال ایک سرپرست کی جانب سے ہے کہ کیا بچوں کو ہسپتال میں لوگوں سے ملاقات کیلئے جانے سے گریز کرنا چاہیے؟

ماہرین نے کہا ہے کہ ملاقات کی غرض سے ہسپتال آنے والوں کیلئے ہر ہسپتال کے خود اپنے رہنماء اصول ہیں، لہٰذا ہر ایک کو پیشگی معلوم کرلینا چاہیے۔ اگر ملاقات کی اجازت ہو تو بچوں کو چاہیے کہ وہ گھر پر ہی اپنے درجۂ حرارت کی جانچ اور اس بات کی تصدیق کر لیں کہ ان میں کھانسی، ناک بہنے، اسہال یا قے ہونے جیسی علامات نہیں ہیں۔

انہیں ملاقات کیلئے مریض کے پاس جانے سے پہلے ہاتھوں کو دھونے اور ماسک پہننے جیسے انفیکشن کی روکتھام کے بنیادی اقدامات پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔

یہ معلومات 16 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 143: کن حالتوں میں بچے کو فوری طور پر ہسپتال لانا ضروری ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج چوتھی قسط میں، ہمارا سوال یہ ہے کہ جب ہمیں یہ شبہ ہو جائے کہ بچے کی علامات شاید نئے کورونا وائرس کی وجہ سے ہیں تو کیا ہمیں اُسے فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی ضرورت ہے؟

ماہرین نے بتایا کہ یکم اگست تک جاپان میں متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ بیشتر حالتوں میں بچوں کو گھر پر اپنے سرپرستوں سے وائرس انفیکشن ہوا یا وہ گھر سے باہر اُس وقت متاثر ہوئے جب وہ گروپ سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے۔

وزارتِ صحت کے مطابق، وائرس سے اُن لوگوں کے بھی متاثر ہونے کا کافی امکان ہے جو کسی ایسے شخص کے بہت قریب رہے ہوں جس کا بعد ازاں کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہو، یا ایسے شخص کے ساتھ طویل وقت رہے ہوں۔ انہیں قریبی رابطے کہا جاتا ہے۔ مقامی عوامی صحت حکام ہر ایسے معاملے کا جائزہ لیتے ہیں اور تعین کرتے ہیں کہ آیا یہ شخص درحقیقت قریبی رابطے میں تھا یا نہیں۔

ماہرین نے سرپرستوں کو تلقین کی ہے کہ جب بچے میں کچھ علامات ظاہر ہوں یا وہ کسی متاثرہ شخص سے قریبی رابطے میں رہا ہو تو سب سے پہلے مقامی عوامی صحت مرکز سے رابطہ کریں۔

انہوں نے ایسے بچوں کو شفاخانوں یا ہنگامی دیکھ بھال کے مراکز نہ لانے کا مشورہ دیا ہے جن سے متعلق شبہ ہو کہ وہ متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ان جگہوں پر وہ انفیکشن کی تصدیق کیلئے ٹیسٹ نہ کروا سکیں۔

پی سی آر ٹیسٹ کیسے اور کہاں کروائے جائیں، یہ عمل رہائش کے علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہے۔ لہٰذا لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ مقامی عوامی صحت مراکز کی جانب سے جاریکردہ اطلاعات پر نظر رکھیں۔

بعض ہسپتالوں نے متاثرہ فرد ظاہر ہونے والی علامات کے حامل مریضوں کیلئے علیحدہ اوقات کار اور داخلی راستے مقرر کیے ہیں۔ یہ اقدام دیگر مریضوں کو وائرس سے متاثر ہونے سے بچانے کیلئے ہے۔ وہاں جانے والوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ہسپتال سے پیشگی معلومات حاصل کریں۔

جب بچوں کو کسی مخصوص وجہ کے بغیر کچھ وقت کیلئے بخار ہو، سانس لینے میں مشکل ہو، کھا یا پی نہ سکیں یا سُست ہو جائیں تو اس بات کا خاصا امکان ہے کہ وہ اگر کووِڈ 19 نہیں تو پھر بھی کسی نہ کسی قسم کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ماہرین کا سرپرستوں کو مشورہ ہے کہ فوری طور پر طبی ماہرین سے رابطہ کریں۔

یہ معلومات 15 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 142: جب بچے پہلے سے عوارض میں مبتلا ہوں تو کیا ہوتا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج تیسری قسط میں، ہمارا سوال یہ ہے کہ جب بچہ دمہ کے عارضے یا دیگر بیماریوں میں پہلے ہی سے مبتلا ہو تو ہمیں خاص طور پر کس بات کی احتیاط کرنی چاہیے؟

ماہرین نے بتایا کہ عام طور پر جب بچے ان عوارض میں پہلے سے مبتلا ہوں تو وہ تنفسی وائرس انفیکشنز سے بہت بیمار پڑ سکتے ہیں۔ تاہم، یہ بھی جانا جاتا ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی کم فیصدی تعداد کو دمہ کا مرض ہے۔ مذکورہ بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خطرات اور ان پر کیا ردعمل کیا جائے، یہ بیماری کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ لہٰذا لوگوں کو تجویز کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ڈاکٹروں سے مشورہ کریں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ بیماری میں مبتلا افراد کے اہلِ خانہ اور ارد گرد جو لوگ ہیں وہ محتاط رہیں اور انفیکشن کا شکار نہ ہوں۔

یہ معلومات 14 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 141: بچوں کو انفیکشن سے کیسے بچایا جائے؟ (2)

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم اپنے سلسلے کی دوسری قسط اس سوال کا جواب دینے کیلئے آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں کہ آپ اپنے بچوں کو کووِڈ 19 سے متاثر ہونے سے کس طرح بچا سکتے ہیں۔

ہم نے جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے گفتگو کی ہے۔ اس دوسری قسط میں ہم نے پوچھا کہ آیا ایسے واقعات ہوئے یا نہیں جن میں بچہ وائرس سے متاثر ہو جانے کے بعد شدید بیمار پڑ گیا ہو۔

ان ماہرین نے بتایا کہ وائرس سے شدید بیمار پڑنے کے کیسز بالغ افراد کی نسبت بچوں میں کم تھے۔ تاہم بالغان کی طرح بچوں میں بھی عملِ تنفس سے متعلقہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ دو سال سے کم عمر کے بچوں میں شدید علامات پیدا ہو سکتی ہیں اور اُن پر لازماً احتیاط کے ساتھ نظر رکھی جانی چاہیے۔

یورپ اور امریکہ میں یہ اطلاعات تھیں کہ تقریباً 10 سال کی عمر کے بچے چند روز کے بخار اور پھر پیٹ کی تکالیف، قے اور جلد پر لال دھبے پڑ جانے کے بعد قلب کے مسائل سے متاثر ہو رہے ہیں۔ جاپان میں ابھی تک ایسے چند ہی کیسز کی اطلاعات ملی ہیں۔

یہ معلومات 11 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 140: بچوں کو انفیکشن سے کیسے بچایا جائے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم اس سوال کا جواب دینے کیلئے اپنے سلسلے کی پہلی قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں کہ آپ اپنے بچوں کو کووِڈ 19 سے متاثر ہونے سے کس طرح بچا سکتے ہیں۔

ہم نے جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اُن علامات کے بارے میں پوچھا جو بچوں میں وائرس سے متاثر ہو جانے کی صورت میں پیدا ہو سکتی ہیں۔

ان ماہرین نے بتایا کہ اُنہوں نے دریافت کیا ہے کہ بچے بھی بالغ افراد کی طرح ہی وائرس سے متاثر ہونے کی زد میں ہیں، البتہ یکم اگست تک متاثرہ بچوں کی تعداد بالغان کی نسبت کم تھی۔

جاپان میں متعدد بچے اپنے گھروں پر ہی وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہیں بخار اور خشک کھانسی ہوئی۔ لیکن ناک سے پانی بہنے اور ناک بند ہو جانے جیسی بالائی تنفسی حصے سے متعلقہ علامات نسبتاً بہت کم بچوں میں ظاہر ہوئیں۔

بچے بالکل بالغان کی طرح ہی لمبے عرصے بخار سے متاثر ہوتے ہیں۔ بعض بچوں میں نمونیا کی اطلاعات تھیں۔

کچھ بچوں میں قے، پیٹ کی تکالیف، اسہال اور نظام ہضم سے متعلقہ دیگر علامات بھی پیدا ہوئیں۔

بچوں کی صرف ایک قلیل تعداد خوشبو یا ذائقہ محسوس کرنے سے محروم ہوئی۔ یہ علامات بالغان میں اکثر و بیشتر دیکھی جا رہی ہیں۔

لیکن والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں میں اس طرح کی گڑ بڑ سے اب بھی چوکنا رہیں۔ ایسی علامات کی اطلاع اپنی شکایات کا اظہار کرنے کی اہلیت کے حامل 13 سے 19 سال کی عمر کے بعض مریضوں نے دی ہے۔

ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ ہو سکتا ہے کچھ بچوں میں علامات ظاہر ہی نہ ہوں۔ اُنہوں نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ اپنے بچوں کا احتیاط کے ساتھ مشاہدہ کریں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی طبیعت کی وضاحت ٹھیک طور پر کرنے سے قاصر ہوں۔

یہ معلومات 10 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 136: گھروں میں انفیکشن سے بچاؤ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ "گھر میں کسی فرد کے متاثر ہونے کے بعد وائرس کی منتقلی کو کیسے روکا جائے؟"، آج ہم اس سلسلے کا پانچواں حصہ پیش کر رہے ہیں۔

ہم نے جاپانی ایسوسی ایشن برائے متعدی امراض کے ڈاکٹر تیراشیما تاکیشی سے پوچھا کہ کورونا وائرس کو اپنے ساتھ گھر لانے سے ہم کیسے بچ سکتے ہیں۔

جناب تیراشیما نے ہمیں بتایا کہ گھر کو خطرے کی شدت کے اعتبار سے مختلف حصوں میں تقسیم کرنا اہم ہے۔
انہوں نے گھر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی۔ خطرناک ترین "انتباہی حصے" میں داخلی ہال شامل ہے جہاں سے لوگ گھر میں آتے ہی گزرتے ہیں۔ "مشترکہ حصہ" وہ جگہیں ہیں جہاں گھر کے افراد مختلف اشیاء کا استعمال مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ "نجی حصہ" بیڈ روم اور ذاتی کمروں پر مشتمل ہوتا ہے۔

آج ہم "نجی حصے" سے متعلق بات کریں گے جہاں گھر کے افراد آرام کرتے ہیں۔

جناب تیراشیما نے کہا کہ ہمیں ہر قیمت پر اس حصے میں وائرس کی ترسیل کو روکنے کے لئے احتیاط برتنی چاہئے۔
ایک چیز جس کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے وہ ہے ہمارے اسمارٹ فونز۔ جب ہم گھر سے باہر اپنے اسمارٹ فون کو چھوتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ فون کی سکرین پر وائرس لگ جائے اور بلآخر ہمارے بیڈ روم تک پہنچ جائے۔ لہذا ٹچ اسکرین رکھنے والے آلات کو باقاعدگی سے صاف کرنا ضروری ہے۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 135: گھروں میں انفیکشن سے بچاؤ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ "گھر میں کسی فرد کے متاثر ہونے کے بعد وائرس کی منتقلی کو کیسے روکا جائے؟"، آج ہم اس سلسلے کا چوتھا حصہ پیش کر رہے ہیں۔

ہم نے جاپانی ایسوسی ایشن برائے متعدی امراض کے ڈاکٹر تیراشیما تاکیشی سے پوچھا کہ کورونا وائرس کو اپنے ساتھ گھر لانے سے ہم کیسے بچ سکتے ہیں۔

اس سے قبل جناب تیراشیما نے ہمیں بتایا کہ داخلی ہال سمیت "انتباہی حصے" کو کیسے محفوظ رکھا جائے۔ آج ہم "مشترکہ حصے" پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جہاں گھر کے افراد مختلف اشیاء کا استعمال مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ان میں غسل خانہ اور بیٹھک شامل ہے۔ جناب تیراشیما تولیے جیسی چیزوں کا اشتراک نہ کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔ تمام افراد کے استعمال میں آنے والے بٹن اور ریموٹ کنٹرول جیسی اشیاء کو بار بار جراثیم سے پاک کرنا چاہیئے۔

جناب تیراشیما نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہم کھانے کے لئے بیٹھنے اور کھانا پیش کرنے کے انداز کو تبدیل کرکے وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھانے کی میز پر آمنے سامنے بیٹھنے سے گریز کرنا چاہئے اور اگر ممکن ہو تو ایک دوسرے کے بہت قریب آنے سے بچنے کے لئے وتری انداز میں بیٹھنا چاہئے۔ جناب تیراشیما بڑی پلیٹوں میں اکھٹے کھانا کھانے میں بھی احتیاط برتنے کی تاکید کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے پرہیز ضروری ہے کیونکہ چوپ اسٹک وغیرہ مل کر استعمال کرنے سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ کھانا انفرادی حصوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ ہر شخص اپنی پلیٹ سے کھا سکے۔

اگلی بار ہم آپ کو بتائیں گے کہ بیڈ روم جیسے "نجی حصے" میں ہوتے ہوئے آپ کو کیا ذہن میں رکھنا چاہیئے۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 134: گھروں میں انفیکشن سے بچاؤ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ "گھر میں کسی فرد کے متاثر ہونے کے بعد وائرس کی منتقلی کو کیسے روکا جائے؟"، آج ہم اس سلسلے کا تیسرا حصہ پیش کر رہے ہیں۔

ہم نے جاپانی ایسوسی ایشن برائے متعدی امراض کے ڈاکٹر تیراشیما تاکیشی سے پوچھا کہ کورونا وائرس کو اپنے ساتھ گھر لانے سے ہم کیسے بچ سکتے ہیں۔

جناب تیراشیما نے ہمیں بتایا کہ گھر کو خطرے کی شدت کے اعتبار سے مختلف حصوں میں تقسیم کرنا اہم ہے۔
انہوں نے گھر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی۔ خطرناک ترین "انتباہی حصے" میں داخلی ہال شامل ہے جہاں سے لوگ گھر میں آتے ہی گزرتے ہیں۔ "مشترکہ حصہ" وہ جگہیں ہیں جہاں گھر کے افراد مختلف اشیاء کا استعمال مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ "نجی حصہ" بیڈ روم اور ذاتی کمروں پر مشتمل ہوتا ہے۔

جب کوئی شخص گھر آتا ہے تو اسے دروازے پر "انتباہی حصے" میں رکنا چاہئے اور اپنا کوٹ دیوار پر لٹکا کر ڈسپوزایبل ماسک کو کچرے کے ڈبے میں پھینک دینا چاہئے۔
جناب تیراشیما نے کہا کہ لوگوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے کوٹ اور ماسک، جو وائرس سے آلودہ ہوسکتے ہیں، کو گھر کے اندر لانے سے گریز کریں بلکہ انہیں داخلی دروازے پر چھوڑا جائے۔

اگلی بار ہم آپ کو بتائیں گے کہ جب آپ "مشترکہ حصے" میں ہوں تو آپ کو کس چیز کا دھیان رکھنا چاہئے۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 133: گھروں میں انفیکشن سے بچاؤ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ "گھر میں کسی فرد کے متاثر ہونے کے بعد وائرس کی منتقلی کو کیسے روکا جائے؟" آج ہم اس سلسلے کا دوسرا حصہ پیش کر رہے ہیں۔

اس سے قبل ہم نے گھر کے کسی فرد کے وائرس سے متاثر ہونے سے متعلق پانچ نکات پیش کیے جن میں متاثرہ شخص کو الگ کمرے میں رکھنا شامل ہے۔

تاہم اگر آپ کسی چھوٹے اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں تو متاثرہ شخص کے لئے پورا کمرا مختص کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ہم نے ٹوکیو کے علاقے سومیدا میں صحت عامہ کے مراکز کی سربراہ نیشی زوکا ایتارو سے اس بارے میں پوچھا۔ جناب نیشی زوکا نے کہا کہ متاثرہ شخص سے ایک میٹر کے فاصلے کو برقرار رکھنے کی کوشش اور قریب سے، آمنے سامنے بات چیت سے پرہیز ضروری ہے تاکہ منہ سے نکلنے والی بوندوں سے بچا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ گھروں میں کورونا وائرس سے پاک ماحول پیدا کرنے کے لئے کمروں کی ہوا باقاعدگی سے تبدیل کریں اور جب ضروری ہو تو ہیومیڈیفائر استعمال کریں۔

جناب نیشی زوکا نے مزید کہا کہ بہتر یہ ہے کہ گھر میں اس معاملے پر پہلے سے مشورہ کیا جائے کہ اگر کسی کو انفیکشن ہوتا ہے تو کیا اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ان معاملات میں یہ بھی شامل ہے کہ والدین کو انفیکشن ہونے کی صورت میں بچوں کی دیکھ بھال کون کرے گا اور اگر دیکھ بھال کرنے والوں کو انفیکشن ہوتا ہے تو بزرگ افراد کا خیال کون رکھے گا۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 132: گھروں میں انفیکشن سے بچاؤ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہمارا آج کا سوال یہ ہے کہ "گھر میں کسی فرد کے متاثر ہونے کے بعد وائرس کی منتقلی کو کیسے روکا جائے؟"

19 نومبر کو جب پہلی بار ٹوکیو میں انفیکشن کی یومیہ تعداد 500 سے متجاوز ہوئی تھی تو ٹوکیو کی گورنر کوئیکے یُورِیکو نے لوگوں کو گھر پر مکمل اقدامات کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگست کے بعد سےانفیکشن پھیلنے کا مرکز رہائش گاہیں ثابت ہوئی ہیں اور ایک بار جب وائرس وہاں داخل ہو جائے تو اسے پھیلنے سے روکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

ٹوکیو میں صحت عامہ کے ایک مرکز کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بہت سے کیسز میں اکثر اوقات گھر سے باہر جانے والے بالغ افراد وائرس اپنے ساتھ لاتے ہیں جس سے بچے یا معمّر افراد متاثر ہوتے ہیں۔

انفیکشن کی روکتھام سے متعلق اقدامات کے ماہرین نے گھر کے کسی فرد میں علامات ظاہر ہونے کی صورت میں بعض تجاویز کی نشاندہی کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ممکن ہو تو مریض کو الگ کمرے میں رہنا چاہیئے اور اس کے ساتھ ساتھ دیکھ بھال کرنے والے کو بھی ماسک پہننا چاہیئے۔

اُن کا گھر کے تمام افراد کے لئے مشورہ ہے کہ بار بار ہاتھ دھوئے جائیں اور کھانا الگ الگ پلیٹوں میں کھایا جائے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن جگہوں کو اکثر چُھوا جاتا ہے اُنہیں جراثیم سے پاک کرنا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ کمروں کی ہوا کو باقاعدگی سے تبدیل کیا جائے۔

مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 128: کورونا وائرس کا پھیلاؤ اور نئے سال کے موقع پر عبادت گاہوں اور مندروں کے دورے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کا سوال ہے کہ، "جاپان میں بہت سے لوگ نئے سال کے موقع پر عبادت گاہوں اور مندروں کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں انفیکشن کے پھیلاؤ کو کیسے روکا جاسکتا ہے؟"

کورونا وائرس سے متعلق ماہرین پر مشتمل ایک حکومتی پینل نے 12 نومبر کو منعقدہ ایک اجلاس میں نئے سال کے موقع پر عبادت گاہوں اور مندروں کے دوروں کے لئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں کابینہ سیکرٹریٹ نے ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر مرتب کردہ اقدامات پیش کیے۔

اس میں بتایا گیا ہے کہ زائرین انفیکشن سے بچنے کے لئے ماسک پہننے اور ہاتھوں کو جراثیم سے پاک کرنے جیسے بنیادی اقدامات کو اچھی طرح سے انجام دیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو عبادت گاہوں اور مندروں میں بھیڑ سے متعلق معلومات دینے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اور ان سے باری باری جانے کی درخواست کی جائے۔ اس میں تجویز ہے کہ مندروں اور عبادتگاہوں پر عملے کو مامور کرنا چاہئے تاکہ زائرین کے مابین سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جائے۔ اس کا کہنا ہے کہ زائرین سے کہا جائے کہ وہ احاطے میں کھانے پینے سے پرہیز کریں اور کھانا گھر لے جائیں۔ اُن سے اونچی آواز میں بات نہ کرنے کو کہا جائے۔

اس میں عبادتگاہوں اور مندروں کے آس پاس بھیڑ لگانے، قریبی رابطے کا ماحول پیدا کرنے اور تنگ جگہیں بنانے سے روکنے کے لئے اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں زائرین کو ایک سے زیادہ ٹرین اسٹیشنوں میں تقسیم کرنا اور انہیں عبادتگاہوں اور مندروں میں بھیڑ کی صورتحال سے آگاہ کرنا شامل ہے۔

ایک نیوز کانفرنس میں، پینل کے سربراہ اومی شیگے رو نے کہا کہ عبادتگاہوں اور مندروں کے کھلے احاطوں میں خاموشی سے عبادت کرنے میں انفیکشن کا کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے دوروں سے پہلے یا اس کے بعد دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ اکٹھا ہونا، کھانا کھانا یا اُن کے ساتھ شراب پینا زیادہ خطرناک عمل ہے۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اگر ممکن ہو تو وہ اپنے نئے سال کے دورے 4 جنوری کو یا بعد میں کریں تاکہ رش سے بچا جا سکے۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 127: خطرناک صورتحال کی پانچ اقسام

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہمارا آج کا سوال یہ ہے کہ "خطرناک صورتحال کی وہ کونسی پانچ اقسام ہیں جن کا تذکرہ اکثر خبروں میں آتا ہے؟"

کورونا وائرس کی وبا سے متعلق جاپانی حکومت کے مشاورتی پینل نے حال ہی میں ایسی پانچ خطرناک صورتوں سے خبردار کیا ہے جو اکثر کلسٹر انفیکشن کا باعث بنتی ہیں۔

اُن کی فہرست یہ ہے۔
1۔ شراب نوشی کی محافل
2۔ لوگوں کا بڑی تعداد میں کئی گھنٹوں تک اکھٹے کھانا پینا
3۔ ماسک پہنے بغیر ایک دوسرے سے بات چیت کرنا
4۔ محدود جگہ میں زیادہ افراد کا رہنا
5۔ کام کی جگہ پر وقفوں کے دوران سگریٹ نوشی یا میل جول

اس سے قبل ہم نے پہلی تین حالتوں کا جائزہ لیا، آج ہم آخری دو کے بارے میں بات کریں گے۔

سب سے پہلے، زیادہ افراد کے محدود جگہ میں رہنے سے متعلق بات کرتے ہیں۔ اب تک ہاسٹلز کے کمروں اور بیت الخلا میں انفیکشن کے ممکنہ واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طویل دورانیے تک تنگ جگہ پر مختلف افراد کا اکھٹا ہونا ایسے حالات کو جنم دیتا ہے جن سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اور اب کام کی جگہ پر وقفوں کے دوران سگریٹ نوشی اور میل جول کا جائزہ لیتے ہیں۔ حال ہی میں سگریٹ نوشی کے کمروں، ریسٹ رومز اور کپڑے تبدیل کرنے والے کمروں میں انفیکشن کے مشتبہ واقعات سامنے آئے ہیں۔ جب لوگ دفاتر وغیرہ میں وقفہ کرتے ہیں تو وہ اکثر حفاظتی تدابیر کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور ماحول میں تبدیلی کی وجہ سے بھی انفیکشن کا خطرہ بڑھتے دیکھا گیا ہے۔

حکومت کا مشاورتی پینل لوگوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ سماجی اجتماعات کے دوران حفاظتی اقدامات پر دھیان دیں۔ خصوصاً جب محفل میں شراب نوشی بھی شامل ہو تو یہ پینل لوگوں سے گزارش کرتا ہے کہ وہ کم حلقۂ احباب کے ساتھ محفلوں کے اوقات کم رکھیں۔ اس کے علاوہ رات دیر گئے شراب پینے سے گریز اور اعتدال میں پینے کی تاکید کی گئی ہے۔

مزید یہ کہ ایسے اجتماعات میں بیٹھنے کے انداز پر پینل لوگوں کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے وتری طور پر بیٹھیں اور آمنے سامنے یا کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھنے سے بچیں۔ پینل لوگوں کو بات کرتے وقت ماسک پہننے اور چہرے کے حفاظتی شیلڈ کے استعمال میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیتا ہے جو انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے میں کم مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

حکومت کے مشاورتی پینل کے سربراہ، اومی شِیگیرُو کا کہنا ہے کہ اب تک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے طرز عمل سے متعلق شعور میں تبدیلی انتہائی ضروری ہے۔ جناب اومی نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ پینل کے پیغام کو قابل ادراک انداز میں پھیلائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہ بات سمجھائی جاسکے۔

مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 126: خطرناک صورتحال کی پانچ اقسام

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہمارا آج کا سوال ہے کہ "خطرناک صورتحال کی وہ کونسی پانچ اقسام ہیں جن کا تذکرہ اکثر خبروں میں آتا ہے؟"

کورونا وائرس کی وبا سے متعلق جاپانی حکومت کے مشاورتی پینل نے حال ہی میں ایسی پانچ خطرناک صورتوں سے خبردار کیا ہے جو اکثر کلسٹر انفیکشن کا باعث بنتی ہیں۔

اُن کی فہرست یہ ہے۔
1۔ شراب نوشی کے محافل
2۔ لوگوں کا بڑی تعداد میں کئی گھنٹوں تک اکھٹے کھانا پینا
3۔ ماسک پہنے بغیر ایک دوسرے سے بات چیت کرنا
4۔ محدود جگہ میں زیادہ افراد کا رہنا
5۔ کام کی جگہ پر وقفوں کے دوران سگریٹ نوشی یا میل جول

ان میں سے آج ہم پہلے تین حالات کا جائزہ لیں گے۔
پہلے شراب نوشی کے لئے سماجی اجتماعات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
لوگ شراب پیتے وقت پرجوش ہوجاتے ہیں اور اونچی آواز میں بولنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ اس طرح کے اجتماعات کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد محدود جگہ میں اکھٹی بیٹھتی ہے۔ اس کے علاوہ، ایسے حالات میں اکثر لوگ گلاس اور چوپ اسٹک مل کر استعمال کرتے ہیں جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اب بات کرتے ہیں زیادہ لوگوں کا طویل دورانیے تک اکھٹے کھانے پینے سے متعلق۔ عام طور پر فوری کھانا کھانے کے مقابلے میں بارز اور نائٹ کلبز میں یا رات گئے شراب خانوں میں وقت گزارنے کے دوران انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب پانچ یا پانچ سے زیادہ افراد اکھٹے کھانا کھاتے ہیں تو وہ زور سے بولتے ہیں اور اُن کے منہ سے زیادہ بوندیں نکلتی ہیں۔

ماسک پہنے بغیر قریبی فاصلے سے آپس میں بات چیت لوگوں کے منہ سے نکلنے والی بوندوں کے ایک دوسرے تک پہنچنے کا باعث بنتی ہے جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لوگوں کو سفر کے دوران گاڑیوں یا بسوں کے اندر بھی گفتگو میں احتیاط برتنے کو کہا گیا ہے۔

اگلی بار ہم دو مزید ایسی حالتوں کا جائزہ لیں گے جن میں کام کی جگہ پر وقفے کے دوران سگریٹ نوشی اور میل جول اور محدود جگہ میں ایک ساتھ وقت گزارنا شامل ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر68: کاراؤکے کی صنعت کے لئے رہنماء اُصول (2)

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے اور سماجی اور معاشی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے مابین توازن قائم کرنے سے متعلق صنعتوں کے کردار پر اپنی بات جاری رکھیں گے۔

آج دوسری قسط میں ہم کاراؤکے کی صنعت میں متعارف کردہ رہنماء اُصولوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

جاپان میں کاراؤکے کی صنعت سے وابستہ تین تنظیموں نے مشترکہ طور پر انفیکشن سے بچاؤ کے اقدامات سے متعلق رہنما اصول مرتب کیے ہیں۔

ان رہنماء اُصولوں میں متعلقہ منتظمین سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ ہر کمرے کو ہوادار بنائیں، صارفین کی تعداد کو اصل گنجائش کی نصف تک محدود رکھیں، انہیں آمنے سامنے بٹھانے سے گریز کیا جائے اوراُن کے درمیان کم از کم ایک میٹر یا اگر ممکن ہو تو دو میٹر کا فاصلہ رکھا جائے اور مائیکروفون اور ریموٹ کنٹرول کو بار بار جراثیم سے پاک کیا جائے۔

ان رہنماء اُصولوں میں صارفین کو ماسک پہننے کا کہا گیا ہے سوائے اس وقت جب وہ کھا یا پی رہے ہوں۔ مزید یہ کہ گانے والے افراد سے کم از کم دو میٹر دور رہا جائے۔

جاپان کاراؤکے باکس ایسوسی ایشن کے ایک اہلکار، کاتو شِنجی نے بتایا کہ کاراؤکے کی صنعت کو بطورِ ثقافت اب ایسے بحران کا سامنا ہے جس میں اس کی بقاء کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ رہنماء اُصول ناکافی ثابت ہوئے تو ایسوسی ایشن زیادہ سخت اقدامات کو شامل کرنے پر غور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ صارفین کو فکر سے پاک اور محفوظ ماحول کی فراہمی کے لئے کام کر رہے ہیں۔

یہ معلومات 28 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 49: کیا ہسپانوی فلو نامی وبا تین لہروں میں واقع ہوئی تھی؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس کے بارے میں سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کا سوال ہے کہ ’’میں نے سنا ہے کہ ہسپانوی فلو کی وبا تین لہروں میں واقع ہوئی تھی۔ مجھے اس کے بارے میں مزید بتائیں۔‘‘

1918 انفلوئنزا کی عالمگیر وبا جسے ہسپانوی فلو بھی کہا جاتا ہے، اس کی وجہ انفلوئنزا وائرس کی ایک نئئ قسم تھی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ اس وقت تقریبا 50 کروڑ افراد یا اس وقت کی عالمی آبادی کا تقریبا ایک چوتھائی حصہ اس میں مبتلا تھا اور اس سے 4 کروڑ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ہسپانوی فلو سب سے پہلے 1918 کے موسم بہار میں عالمی سطح پر پھیل گیا اور گرمیوں میں ختم ہوا۔ لیکن 1918 کے موسم خزاں میں اس کی دوسری لہر آئی اور پھر 1919 کے آغاز میں ایک تیسری لہر رونما ہوئی۔

دوسری لہر سب سے زیادہ مہلک سمجھی جاتی ہے جس سے پوری دنیا میں کم سے کم 2 کروڑ اموات ہوئیں۔

جاپان میں، ہسپانوی فلو کی وباء 1918 کے موسم خزاں اور 1921 کے موسم بہار کے درمیان تین لہروں میں پھوٹ پڑی تھی۔ اس وقت کی وزارت داخلہ کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ مجموعی طور پر تقریبا، 2 کروڑ 38 لاکھ افراد اس سے متاثر ہوئے تھے اور تین لاکھ نوے ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

جاپان میں 1918 کے موسم خزاں میں شروع ہونے والی پہلی لہر سے سب سے زیادہ نقصان ہوا جس سے 2 کروڑ 12 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور دو لاکھ ساٹھ ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔ 1919 کے موسم خزاں میں آنے والی دوسری لہر سے 24 لاکھ افراد متاثر اور ایک لاکھ تیس ہزار اموات ہوئیں۔ تاہم، دوسری لہر میں اموات کی شرح سب سے زیادہ تھی۔

ماہرین آج انتباہ کر رہے ہیں کہ نئے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کی بھی ہسپانوی فلو کی طرح دوسری اور تیسری لہر آسکتی ہے۔

یہ معلومات 24 جون کی ہیں اور این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور ایس این ایس پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 48: نئے کورونا وائرس کی افزائش کیسے ہوتی ہے؟

این ایچ کے کے ماہرین نئے کورونا وائرس کے بارے میں سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔
آج سوال ہے کہ ’’کونسے حالات میں نئے کورونا وائرس کی افزائش ہوتی ہے؟ کیا وہ صرف ہمارے جسم کے اندر ہی نمو پا سکتے ہیں؟‘‘

ہم نے سینٹ ماریانا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی پروفیسر کونیشیما ہیرو یوکی سے رابطہ کیا۔ وہ متعدی امراض کے ماہر ہیں۔ جناب کونیشیما کا کہنا ہے کہ وائرس اور بیکٹیریا مائیکرو اورگنزم یا یک خلوی جاندار ہیں جو بیماری کا سبب بنتے ہیں۔

بیکٹیریا ایک خلیے سے بنی زندگی کی ایک ابتدائی شکل ہے جو خود افزائش کرنے کے قابل ہے۔

وائرس بیکٹیریا سے کافی چھوٹا ہوتا ہے۔ وہ جین یا نیوکلک ایسڈ اور حفاظتی کوٹنگ پر مشتمل ہوتا ہے لیکن ان کا کوئی خلیہ نہیں ہوتا۔ وائرس خود سے افزائش کے قابل نہیں ہوتا ہے۔ وہ صرف متاثرہ انسان یا جانور کے زندہ خلیوں کے اندر ہی تولید پا سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ نیا کورونا وائرس دیوار اور دوسری سطحوں پر اپنی تعداد میں اضافہ نہیں کر سکتا۔ لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ وائرس کچھ عرصہ کے لئے ایسی سطح پر اپنی بیمار کرنے والی صلاحیت کو برقرار رکھتا ہے۔

پروفیسر کونیشیما کا کہنا ہے کہ جب آپ گھر سے باہر ہوتے ہیں تو دروازوں کے دستوں اور ریلنگ جیسی آلودہ سطحوں کو چھوتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انفیکشن سے بچنے کے لئے دفتر یا اپنے گھر پہنچ کر کھانا کھانے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو الکحل والے جراثیم کش محلول یا صابن کے ساتھ صاف کرنا چاہیئے۔

یہ معلومات 24 جون کی ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 47: کیا کیش کے تبادلے سے آپ وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کا سوال ہے کہ کیا کیش کے تبادلے سے آپ وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں؟

آئچی میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر میکامو ہیروشیگے جو انفیکشن پر قابو پانے میں مہارت رکھتے ہیں کا کہنا ہے کہ یہ بات وائرس کے حجم پر منحصر ہے۔ تاہم اُن کا کہنا ہے کہ اگر کسی کے ہاتھ پر وائرس موجود ہے اور وہ سکے یا کرنسی نوٹ کو چھوتے ہیں تو یہ فرض کر لینا بہتر ہے کہ وائرس کرنسی پر کچھ وقت کے لئے موجود رہے گا۔ انفیکشن سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ منہ یا ناک کو چھونے سے قبل اپنے ہاتھوں کو صابن سے دھو لیں یا الکحل یا دیگر سینیٹائزر کے ساتھ صاف کر لیں۔ پروفیسر صاحب خریدی گئی اشیا کو چھونے کے بعد بھی ان اقدامات کی سفارش کرتے ہیں۔

یہ معلومات 23 جون کی ہیں اور این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور ایس این ایس پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 46: کورونا وائرس مختلف اشیا پر کتنے عرصے کے لئے موجود رہتا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کا سوال ہے کہ "نیا کورونا وائرس مختلف اشیاء کی سطحوں پر کتنے عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے؟"

امریکا کے قومی ادارہ برائے صحت اور دیگر تنظیموں کے محققین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ مختلف اشیاء کی سطحوں سے یہ وائرس کافی حد تک غائب ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تانبے پر چار گھنٹوں کے بعد اور گتے پر چوبیس گھنٹوں کے بعد اس وائرس کا پتہ نہیں لگایا جاسکا۔

تاہم، وائرس 72 گھنٹوں تک پلاسٹک پر اور 48 گھنٹوں تک سٹینلیس سٹیل پر موجود رہا۔

یہ معلومات 22 جون کی ہیں اور این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور ایس این ایس پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 45: اگر وائرس کو منجمد کیا جائے تو کیا ہوتا ہے؟

این ایچ کے کے ماہرین نئے کورونا وائرس کے بارے میں سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔
آج کا سوال ہے کہ ’’جب وائرس ٹھنڈک سے جم جاتا ہے تو اس میں کیا تبدیلی واقع ہوتی ہے؟‘‘

ہم نے ٹوکیو ہیلتھ کیئر یونیورسٹی پوسٹ گریجویٹ اسکول کی پروفیسر سوگاوارا ایریسا سے بات کی جو انفیکشن کی روک تھام میں مہارت رکھتی ہیں۔

اگرچہ ابھی بھی نئے کورونا وائرس کی خصوصیات کے بارے میں بہت کچھ معلوم نہیں ہے لیکن کورونا وائرس کی ایک اور قسم، سارس وائرس کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر تحقیق ہوچکی ہے۔

اس تحقیق کے مطابق، 56 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ نسبتاً گرم ماحول میں سارس وائرس ہلاک ہوگیا تھا لیکن یہ منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم درجہ حرارت پر تقریبا تین ہفتوں تک زندہ رہنے میں کامیاب رہا تھا۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ نیا کورونا وائرس گرمی کے خلاف کمزور جبکہ کم درجہ حرارت میں نسبتاً مضبوط ہو سکتا ہے۔

محترمہ سوگاوارا کا کہنا ہے کہ، مثال کے طور پر، اگر نیا کورونا وائرس بازار سے خریدے سودا سلف کی سطح پر موجود ہو، تو اندازہ ہے کہ یہ طویل مدت تک فریج اور فریزر میں زندہ رہ سکے گا۔ لہذا لوگوں کے لئے مشورہ ہے کہ وہ فریج یا فریزر میں رکھنے سے پہلے اشیا کی باہری سطح کو جراثیم سے پاک کریں اور کھانا پکانے سے پہلے اور بعد میں اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھوئیں۔ محترمہ سوگاوارا کا کہنا ہے کہ کھانے کی زیادہ تر چیزوں کو اگر گرم کیا جائے تو اُنہیں محفوظ طریقے سے کھایا جا سکتا ہیں۔

یہ معلومات 19 جون کی ہیں۔
ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 44: کیا بنے بنائے کھانوں کے پیکٹ پر موجود وائرس کو مائیکرو ویو اووَن کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس کے بارے میں سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کا سوال ہے کہ ’’اگر بنے بنائے کھانوں کے پیکٹ پر وائرس موجود ہو تو کیا ہم اسے مائیکرو ویو اووَن میں گرم کرکے ختم کرسکتے ہیں؟‘‘

مائیکرو ویو اووَن کھانے کے اندر موجود پانی کے مالیکیولز کو حرکت دینے کے لئے برقی مقناطیسی لہروں کا استعمال کرتے ہیں۔

انفیکشن سے بچاؤ کی ماہر اور ٹوکیو ہیلتھ کیئر یونیورسٹی پوسٹ گریجویٹ اسکول کی پروفیسر سوگاوارا ایریسا کا کہنا ہے کہ مائیکرو ویو اووَن میں اگر خاص حد تک کھانا گرم کیا گیا ہے تو یہ کھانے میں محفوظ ہے۔

لیکن وہ بتاتی ہیں کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اووَن پیکٹ کی سطح کو بھی اس قدر گرم کرتا ہے جس کی وجہ سے اُس پر موجود وائرس بیمار کرنے کی اپنی صلاحیت کھو دیتا ہے۔

محترمہ سوگاوارا کا کہنا ہے کہ کھانا پکانے اور کھانے سے پہلے اور بعد میں بار بار ہاتھ دھونا ضروری ہے۔

یہ معلومات 18 جون کی ہیں اور این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور ایس این ایس پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 43: کیا بی سی جی ویکسین استعمال کرنے والے ممالک میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد کم ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس کے بارے میں سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کا سوال ہے کہ ’’کیا یہ سچ ہے کہ جن ممالک میں تپ دق کے لئے بی سی جی ویکسین استعمال کی جاتی ہے وہاں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد کم ہے؟‘‘۔

بی سی جی ویکسین بیکٹیریا کی کمزور قسم سے تیار کی گئی ہے جو گائے میں تپ دق کا سبب بنتی ہے اور یہ اس بیکٹیریا سے مشابہ ہے جو انسانوں میں اس بیماری کا سبب بنتی ہے۔ جاپان میں تمام بچوں کو ایک سال کی عمر سے پہلے بی سی جی کے ٹیکے لگوائے جاتے ہیں۔ بی سی جی ویکسی نیشن کی پالیسیاں ممالک اور علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں۔ امریکا اور اٹلی ان ممالک میں شامل ہیں جہاں بی سی جی ویکسی نیشن کا کوئی ہمہ گیر پروگرام موجود نہیں ہے۔

جاپان سے باہر کچھ محققین نے نشاندہی کی ہے کہ جن علاقوں میں بی سی جی کے ٹیکے لگوانے کا معمول موجود ہے وہاں کورونا وائرس سے کم اموات ہوئی ہیں۔ آسٹریلیا اور نیدرلینڈ میں یہ مطالعہ کرنے کے لئے کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں کہ آیا کورونا وائرس کے انفیکشن کی روک تھام اور علامات کو شدید ہونے سے بچانے میں بی سی جی مددگار ہے یا نہیں۔

جاپانی سوسائٹی برائے ویکسینولوجی نے 3 اپریل کو اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کیا۔

سوسائٹی کا کہنا ہے کہ وائرس کے خلاف بی سی جی کی افادیت کی ابھی سائنسی طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور وہ فی الحال وائرس سے بچاؤ کے اقدام کے طور پر اس کی ویکسینیشن کی سفارش نہیں کرتی۔

سوسائٹی کا کہنا ہے کہ کچھ بزرگ افراد جنہیں بی سی جی کے ٹیکے نہیں لگوائے گئے تھے، وہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے یہ ٹیکے لگانے کی درخواست کر رہے ہیں۔ لیکن سوسائٹی کا کہنا ہے کہ بی سی جی ویکسین بچوں کے لئے ہے اور بوڑھوں کے لئے اس کی افادیت اور محفوظ ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

سوسائٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مقصد کے علاوہ بی سی جی کے استعمال میں اضافے سے بچنے کی ضرورت ہے، جس سے نوزائیدہ بچوں کو ویکسین کی مستحکم رسد میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

یہ معلومات 17 جون کی ہیں اور این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور ایس این ایس پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 42: انسانی جلد پر کورونا وائرس کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس کے بارے میں سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کے دو سوالات یہ ہیں: ’’انسانی جلد پر کورونا وائرس سے کیا اثر ہوتا ہے؟‘‘ اور ’’کیا بغیر علامات پیدا کیے یہ وائرس جسم میں رہ سکتا ہے؟‘‘

ہم نے پروفیسر کونیشیما ہیرویوکی سے دریافت کیا جو سینٹ ماریانا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں متعدی امراض کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک یہ وائرس کسی زندہ جانور کے خلیوں میں داخل ہو کر انفیکٹ نہیں کرتا، یہ اپنی تعداد میں اضافہ نہیں کر سکتا۔

نیا کورونا وائرس بنیادی طور پر لوگوں کو ان کی ناک یا منہ میں جھلیوں کے ذریعے متاثر کرتا ہے اور ان کے گلے، پھیپھڑوں اور دیگر اعضا کے خلیوں میں اپنی تعداد بڑھاتے ہیں۔ اگر یہ وائرس آپ کے ہاتھوں یا پیروں کی جلد پر ہے تو یہ تعداد میں بڑھ نہیں سکتا۔

لیکن اگر آپ کے ہاتھوں پر وائرس ہے اور آپ اپنی آنکھوں، ناک یا منہ کو ہاتھ لگائیں تو آپ متاثر ہوسکتے ہیں۔ کسی شخص کی جلد پر موجود وائرس کو صابن سے دھویا جاسکتا ہے لہذا لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے چہرے کو چھونے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئے یا الکحل جیسے جراثیم کُش محلول کا استعمال کریں۔

لاکڑا کاکڑا نامی بیماری کا سبب بننے والے ہرپیز جیسے بعض وائرس انسان کے صحت یاب ہونے کے بعد بھی انسانی جسم میں باقی رہتا ہے۔ لیکن عام طور پر، کورونا وائرس کی صورتحال مختلف ہے۔ اگر کوئی کورونا وائرس سے متاثر ہوتا ہے اور علامات ظاہر ہوتی ہیں تو بلآخر اس شخص کا مدافعتی نظام متحرک ہوتا ہے اور وائرس جسم سے غائب ہوجاتا ہے۔

یہ معلومات 15 جون تک کی ہیں اور این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور ایس این ایس پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 41: کیا کورونا وائرس کو الٹرا وائیلٹ ریز یا اوزون گیس کے ذریعے مارا جا سکتا ہے؟

اس کارنر میں ہم سامعین کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔ آج کا سوال ہے کہ کیا سورج کی الٹرا وائیلٹ ریز یا جراثیم کُش اوزون گیس کے ذریعے نئے کورونا وائرس کو ختم کیا جا سکتا ہے؟

ہم نے ہیروشیما یونیورسٹی کے پروفیسر اوہگے ہیروکی سے بات کی جو متعدی امراض کے ماہر ہیں۔ پروفیسر صاحب کے مطابق ایسے امکانات موجود ہیں کہ بہت ساری بیماریوں کی وجہ بننے والے وائرس اور بیکٹیریا کے خلاف مخصوص ویو لینتھ والے تیز تر الٹرا وائیلٹ ریز استعمال کر کے اِن کی بیمار کرنے والی صلاحیت کو کم کیا جا سکتا ہے۔

توقع ہے کہ ایسے آلات کے عملی استعمال کا آغاز ہو چکا ہے جو انتہائی مؤثر الٹرا وائیلٹ ریز خارج کرتے ہیں اور جو نئے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے میں کارآمد ثابت ہوں گے۔ ہیروشیما یونیورسٹی ہسپتال میں، کورونا وائرس کے ڈسچارج ہونے والے مریضوں کے کمروں میں ایک آلہ استعمال کیا جا رہا ہے جو اسی نوعیت کی الٹرا وائیلٹ ریز خارج کرتا ہے۔

دریں اثنا، خیال کیا جاتا ہے کہ سورج کی روشنی اس طرح کے وائرس کو ہلاک کرنے میں کارآمد نہیں ہے جو مذکورہ آلے سے ختم ہوسکتے ہیں۔ حتیٰ کہ سورج کی روشنی بھی الٹرا وائیلٹ شعاع ہے اور اس میں مختلف شدت کی کرنیں ہوتی ہیں لیکن اُن کی شدت ان آلات کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

جہاں تک اوزون گیس کا تعلق ہے، جاپانی یونیورسٹیوں کے محققین کے ایک گروپ کے مئی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، انھوں نے معلوم کیا کہ تقریبا ایک گھنٹے تک انتہائی گاڑھی اوزون گیس میں رکھنے کے بعد نئے کورونا وائرس کی بیمار کرنے والی صلاحیت کم ہوگئی۔ پروفیسر اوہگے کہتے ہیں کہ اس تجربے میں استعمال ہونے والی اوزون گیس کی کثافت 1 پی پی ایم اور 6 پی پی ایم کے درمیان تھی جو انسانوں کے لئے نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔

اوزون گیس کے ذریعے بدبو اور جراثیم ختم کرنے والے عمومی استعمال کے آلات اتنی بلند کثافت میں اوزون گیس کا استعمال نہیں کرتے۔ لیکن اس کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی کہ آیا کمزور کثافت میں اوزون گیس نئے کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لئے مؤثر ہے یا نہیں۔

جاپان کا صارفین کے معاملات سے متعلق ادارہ صارفین پر زور دے رہا ہے کہ وہ آلات ساز کمپنیوں سے اس بات کی تصدیق کریں کہ آیا ان کے پاس اس دعوی کے لئے سائنسی بنیاد موجود ہے کہ اوزون گیس استعمال کرنے والے آلات سمیت ان کی مصنوعات کورونا وائرس کے خلاف مؤثر ہیں۔

یہ معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور ایس این ایس پر بھی دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 40: گرمیوں میں ماسک کے استعمال میں کیا احتیاط کرنی چاہئے؟

ہم نئے کورونا وائرس سے متعلق آپ کے سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ "گرمیوں کے دوران ماسک پہننے میں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں؟"

شمالی نصف کرہ میں شدید گرمی کا موسم قریب آ رہا ہے۔ صحت، محنت اور بہبود کی وزارت کا کہنا ہے کہ رواں سال لُو لگنے سے بچنے کے لئے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ متعدد افراد کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے ماسک کا استعمال کر رہے ہیں۔

وزارت لوگوں کو مشورہ دیتی ہے کہ اگر مناسب سماجی فاصلہ (کم از کم دو میٹر) موجود ہے تو اپنا ماسک اتاریں۔ وزارت لوگوں سے یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ وہ ماسک پہن کر سخت کام یا ورزش سے گریز کریں۔ وزارت لوگوں کو بار بار پانی پینے کی سفارش بھی کرتی ہے خواہ وہ پیاسے نہ بھی ہوں۔

ہیٹ اسٹروک کے بارے میں علم رکھنے والے نِپون میڈیکل گریجویٹ اسکول کے پروفیسر یوکوبوری شوجی کا کہنا ہے کہ ماسک پہننے سے ضروری نہیں ہے کہ انسان ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوجائے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ماسک پہننے سے سانس لینا مشکل ہوتا ہے۔ ایسے اعداد و شمار موجود ہیں جو ماسک پہنے جانے پر دل کی دھڑکن اور سانس لینے کی شرح میں 10 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ پروفیسر یوکوبوری نے بتایا کہ ورزش کے اضافی بوجھ یا ہوا کے درجہ حرارت میں اضافے سے ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

پروفیسر یوکوبوری کا کہنا ہے کہ ہوا میں منہ سے نکلنے والی بوندوں کی ممکنہ منتقلی کو روکنا ضروری ہے، لیکن بوڑھے افراد یا تنہا رہنے والے افراد کو ہیٹ اسٹروک سے خاص طور پر محتاط رہنا چاہئے۔ گھر سے باہر موجود لوگوں کو وہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کم بھیڑ والے مقامات پر اپنے ماسک اتاریں اور آرام کریں جیسے کسی درخت کے نیچے وغیرہ۔ وہ پسینہ آنے کی صورت میں ماسک بدلنے کی بھی سفارش کرتے ہیں کیونکہ گیلے ماسک سے کم ہوا گزر پاتی ہے۔

یہ معلومات 11 جون کی ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا ایس این ایس سے کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 39: ائیرکنڈیشنر استعمال کرتے وقت ہمیں کس چیز سے محتاط رہنا چاہئے؟

این ایچ کے کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ "ائیرکنڈیشنر استعمال کرتے وقت ہمیں کس چیز سے محتاط رہنا چاہئے؟"

جیسے ہی شمالی نصف کرہ میں موسم گرما کا موسم شروع ہوتا ہے کچھ لوگ ایئر کنڈیشن والی جگہوں پر ہوا کی تبدیلی سے متعلق پریشانی کا سامنا کرتے ہیں۔ گھریلو استعمال کے زیادہ تر ایئر کنڈیشنر گھر کے اندر کی ہوا کو دوبارہ استعمال کرتے ہیں اور ہوا کی تبدیلی یا وینٹیلیشن کی خصوصیت نہیں رکھتے۔ ائیر کنڈیشنر استعمال کرتے وقت بہت سے لوگ کھڑکیاں بند رکھتے ہیں۔

ٹوکیو پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر یاماموتو یوشی ہیدے جاپان آرکیٹیکچرل انسٹی ٹیوٹ کے ممبر بھی ہیں۔ عمارتوں میں وینٹیلیشن اُن کی مہارت کا بنیادی شعبہ ہے۔ وہ ائیر کنڈیشنگ اور قدرتی وینٹیلیشن کے امتزاج کا مشورہ دیتے ہیں۔

جناب یاماموتو چار موسموں والے علاقوں کے لئے موسم گرما کے آغاز میں، جب گرمی اتنی شدید نہیں ہوتی، ایئر کنڈیشنر کے استعمال کے وقت کھڑکیوں کو تھوڑا سا کھولنے کی سفارش کرتے ہیں تاکہ باہر کی ہوا کمرے میں داخل ہوتی رہے۔ اگر کمرہ بہت گرم ہوجائے تو ٹھنڈک بڑھانے کے لئے کھڑکیوں کو مختصر وقت کے لئے بند کریں یا اُن میں ہلکا درز رکھیں۔

شدید گرمی میں جب لُو لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جناب یاماموتو کھڑکیوں کو کھولنے کے بجائے گھر میں ہوا کی تبدیلی کے لئے نصب پنکھوں کے فعال استعمال کی سفارش کرتے ہیں جیسے کہ ٹوائلٹ یا کچن میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ شدید گرم علاقوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

زیادہ تر گھروں کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ جب وینٹیلیشن فین استعمال کیا جائے تو باہر کی ہوا گھر میں داخل ہو۔ اس طرح کھڑکیاں بند ہونے کے باوجود عمارت کے اندر اور باہر ہوا کا بہاؤ پیدا ہوگا۔ براہ کرم کسی ماہر سے پوچھیں کہ آپ کے گھر میں وینٹیلیشن کی سہولت کس انداز میں کام کرتی ہے۔

یہ معلومات 10 جون کی ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 38: غیر ملکی رہائشیوں کی رہنمائی کے لئے کثیر لسانی ہاٹ لائنز۔

این ایچ کے کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔

آج کا سوال جاپان میں مقیم غیر ملکی باشندوں کا ہے۔

سوال ہے کی "اگر مجھے کووِڈ 19 سے وابستہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑے یا میں ایسا کوئی مشاہدہ کروں تو مجھے کس سے مشورہ کرنا چاہئے؟"

براہ کرم کثیر لسانی مشاورتی مرکز سے رابطہ کریں۔

اس ویب سائٹ کے ذریعے دستیاب یوریسوئی ہاٹ لائن:
https://www.since2011.net/yorisoi/n2
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے


اس کا ٹول فری نمبر 0120279338 ہے۔

ایواتے، میاگی اور فُوکُوشیما پریفیکچر کے لئے ٹیلی فون نمبر 0120279226 پر رابطہ کریں۔

یا اُن کے فیس بک پیج پر جائیں:
https://www.facebook.com/yorisoi2foreign
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے


آپ کو مندرجہ ذیل ویب سائٹ پر بھی مدد ملے گی۔

بیک اسٹوریز: جاپان میں کورونا وائرس سے متعلق کثیر لسانی ہاٹ لائنز

https://www3.nhk.or.jp/nhkworld/en/news/backstories/1019
 
اگلا سوال ہے کہ "میرا ساتھی مجھ سے بدسلوکی کر رہا ہے۔ میں مدد کے لئے کس سے رجوع کروں؟"

گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والوں کی مدد کے لئے بہت سارے ذرائع موجود ہیں جن میں فون اور سوشل میڈیا کے ذریعہ مشاورت بھی شامل ہے۔ آپ موقع پر ترجمے کی خدمات اور پناہ گاہوں کی معلومات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر مشاورت 11 زبانوں میں 24 گھنٹے دستیاب ہے۔

براہ کرم https://soudanplus.jp/language.html ملاحظہ کریں۔
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے


سپاؤسل وائلنس کنسلٹنگ اینڈ سپورٹ سینٹر۔

صرف جاپانی زبان میں دستیاب اس سہولت کا فون نمبر 0570055210 ہے۔

یہ آپ کو قریب ترین مشاورتی مرکز سے جوڑتا ہے

گھریلو تشدد ہاٹ لائن پلس:

برائے مہربانی فون نمبر 0120279889 پر کال کریں لیکن یہ صرف جاپانی زبان میں دستیاب ہے۔

تیسرا سوال ہے کہ "میں حاملہ ہوں۔ کیا مجھے فکرمند ہونا چاہئے؟"

شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ حاملہ خواتین کو دوسرے صحت مند بالغوں کی نسبت شدید بیمار ہونے کا زیادہ خطرہ نہیں ہے۔ کورونا وائرس انفیکشن کے تیسرے مرحلے کے دوران میں وہی علامات اور شدت ہوسکتی ہے جیسا کہ غیر حاملہ خواتین میں ہوتی ہے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو حمل کے دوران کووڈ 19 کے بارے میں ضرورت سے زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن آپ کو روک تھام کے اقدامات کو جاری رکھنا چاہئے جیسے ہجوم سے گریز، باقاعدگی سے ہاتھ دھونا اور اپنی روزانہ کی جسمانی اور جذباتی صحت کا خیال رکھنا۔

مزید معلومات کے لئے مندرجہ ذیل کثیر لسانی ویب سائٹ پر جائیں:

https://share.or.jp/english/news/for_pregnant_womencovid-19_countermeasures.html
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے


ہمارے پروگرام ہارٹ نیٹ ٹی وی کے سادہ جاپانی ورژن کے لئے نیچے کلک کریں۔

https://www.nhk.or.jp/heart-net/article/339
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے

سوال نمبر 37: ویزے کی معیاد ختم ہونے کی صورت میں کیا میں کام جاری رکھ سکتا ہوں؟

این ایچ کے کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔

جاپان میں، غیر ملکی شہریوں کو رہائش کی حیثیت میں تبدیلی اور قیام کی مدت میں توسیع دونوں کے لئے ویزے کی تجدید کی درخواستوں پر تین ماہ کی توسیع دی جا رہی ہے۔

آج کا سوال جاپان میں مقیم غیر ملکی باشندوں کا ہے۔

سوال ہے کہ، کیا میں ویزے کی میعاد ختم ہونے پر بھی تین ماہ کی توسیع کی مدت کے دوران کام جاری رکھ سکتا ہوں؟

جواب ہے ’’ہاں‘‘۔ آپ کچھ شرائط کے تحت کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ امیگریشن سروسز ایجنسی نے 2 جون کو این ایچ کے ورلڈ کو مطلع کیا کہ اس خصوصی توسیعی مدت کے دوران آپ کو اپنی رہائش کی سابقہ حیثیت کے عین مطابق کام کرنے کی اجازت ہے۔ تاہم اگر آپ کو کام کی نوعیت اور آجر سمیت کسی شرط کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تو آپ کو پہلے امیگریشن سروسز ایجنسی سے مشورہ کرنا ہوگا۔

اگلا سوال یہ ہے کہ ’’اگر میں کام کرنے یا تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہوں تو کیا میں پارٹ ٹائم ورک پرمٹ کے ساتھ اپنی موجودہ ملازمت یا طالب علم کی حیثیت سے محروم ہوجاؤں گا؟

اس کا جواب ہے ’’نہیں‘‘۔ اگر آپ کورونا وائرس کے اثرات کی وجہ سے کام کرنے یا تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں تو آپ کی حیثیت منسوخ نہیں ہوگی۔ لیکن آپ کو یہ ثابت کرنے کے قابل ہونا چاہئے کہ آپ مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک سے متاثر ہوئے ہیں:

1. آپ کے آجر یا آپ کی اپنی کمپنی کو عارضی طور پر کاروباری عمل معطل کرنا پڑا ہے۔
2. آپ ریٹائر ہو چکے ہیں اور آن لائن کام تلاش کر رہے ہیں یا ملازمت آپ کی نظر میں ہے لیکن کمپنی جانے سے قاصر ہیں۔
3. آپ جس تعلیمی ادارے سے منسلک ہیں یا آپ جس ادارے میں داخلہ لے رہے تھے وہ بند ہے۔
4.آپ جس ادارے میں داخل تھے وہ بند ہے اور کسی دوسرے ادارے میں داخلے کے لئے ضروری طریقہ کار کو پورا نہیں کرسکتے ہیں۔
5. جب کووڈ 19 سمیت کسی بیماری کی وجہ سے آپ کا ہسپتال میں داخلہ طویل ہو جاتا ہے اور آپ کو چھٹی لینی پڑتی ہے۔

براہ کرم نیچے دیئے گئے صفحے کو ملاحظہ کریں جو صرف جاپانی زبان میں ہے اور اگر پھر بھی شک ہو تو براہ راست امیگریشن سروسز ایجنسی سے تصدیق کریں۔

http://www.moj.go.jp/content/001319592.pdf
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے


یہ معلومات 5 جون کی ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 36: عارضی ویزے کی معیاد ختم ہونے کی صورت میں کیا ہو گا؟

این ایچ کے کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔

آج کا سوال جاپان میں مقیم غیرملکی افراد نے پوچھا ہے۔ پہلا سوال ہے کہ ’’اگر میرے عارضی سیاحتی ویزے کی معیاد ختم ہو جائے اور میں اپنے ملک لوٹنے سے بھی قاصر ہوں تو ایسی صورتحال میں کیا ہو گا؟‘‘

آپ کو 90 دن کی توسیع دی جائے گی۔

تفصیلات کے لئے اس ویب سائٹ پر جائیں:
http://www.moj.go.jp/content/001316293.pdf
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے


اگلا سوال ہے کہ ’’اگر میرا ویزہ مارچ اور جولائی کے درمیان ختم ہوجاتا ہے تو کیا یہ خود بخود تین ماہ کی مدت کے لئے بڑھا دیا جائے گا؟‘‘

اس کا جواب ہے ’’نہیں‘‘۔ لیکن غیر ملکی شہریوں کو رہائش کی حیثیت میں تبدیلی اور قیام کی مدت میں توسیع دونوں کے لئے ویزے کی تجدید کی درخواستوں پر تین ماہ کی توسیع دی جارہی ہے۔ یہ اقدام امیگریشن کاؤنٹرز پر بھیڑ کو کم کرنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ صرف وہ لوگ اس کے اہل ہیں جن کے ویزے مارچ اور جولائی 2020 کے درمیان ختم ہوں گے۔ مطلب قیام کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ سے تین ماہ کے اندر درخواست دی جا سکتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر آپ کا ویزہ 11 مئی کو ختم ہوجاتا ہے تو آپ کو 11 اگست تک قیام میں توسیع کے لئے درخواست دینی ہوگی۔

دیگر زبانوں میں معلومات کے لئے اس ویب سائٹ پر جائیں:
http://www.moj.go.jp/content/001316300.pdf
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے


یہ معلومات 4 جون کی ہیں۔

ویزے کی درخواست کے طریقہ کار میں، خصوصاً کورونا وائرس کی صورتحال کے دوران، اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ چونکہ انفرادی معاملات مختلف ہوتے ہیں اس لیے اگر آپ کا کوئی سوال ہے تو برائے مہربانی امیگریشن آفس سے رابطہ کریں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 35: نیا کورونا وائرس کس درجہ حرارت پر زندہ رہ سکتا ہے؟

این ایچ کے کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ نیا کورونا وائرس کس درجہ حرارت پر زندہ رہ سکتا ہے اور کیا کھانا پکانے سے اسے مارا جا سکتا ہے؟

محققین کا کہنا ہے کہ نیا کورونا وائرس 37 ڈگری سیلسیئس پر ایک دن کے لئے زندہ رہ سکتا ہے لیکن 56 ڈگری سیلسیئس کی گرمی 30 منٹ کے اندر ہی اسے ہلاک کردیتی ہے۔

انہوں نے معلوم کیا ہے کہ 70 ڈگری درجہ حرارت پر پانچ منٹ کے اندر وائرس غائب ہو گیا۔

انفیکشن سے بچاؤ اور روک تھام کی جاپانی سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی سوگاوارا اریسا کا کہنا ہے کہ اس بات سے قطع نظر کہ کھانا گرم کیا گیا تھا یا نہیں، ابھی تک کھانے سے وائرس کی منتقلی کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ خاطر خواہ حرارت کے ساتھ کھانا پکانے سے وائرس ہلاک ہوجائے گا۔

یہ معلومات یکم جون کی ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 34: مکان کے کرائے کی ادائیگی میں مشکلات

این ایچ کے، کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔
آج کا سوال یہ ہے کہ کرائے کی ادائیگی میں مشکلات کی صورت میں کیا کرنا چاہیئے؟

ایسے لوگ جو عالمی وبا کی وجہ سے اپنی ملازمت سے محروم ہو چکے ہیں یا ان کو آمدنی میں کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ کرایہ ادا کرنے میں مالی مدد کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔
اس کے لئے اہلیت کا تعین گھریلو آمدنی اور بچت کا جائزہ لینے کے بعد کیا جاتا ہے۔
مالی امداد صرف کرائے میں مدد کے لئے دستیاب ہے۔ اس میں رہائشی قرضوں کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے۔

شرائط پوری ہونے پر 3 ماہ کا کرایہ دیا جاتا ہے جو زیادہ سے زیادہ 9 ماہ تک قابل حصول ہے۔
یہ امداد ہے جسے واپس کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

درخواست دینے سے پہلے میونسپل سیلف سپورٹ سینٹر کے ساتھ فون پر مشاورت ضروری ہے۔ مشاورت صرف جاپانی زبان میں دستیاب ہے۔

کال سینٹر صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک دستیاب ہے۔
فون نمبر 5572-23-0120 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ معلومات 25 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 33: جاپان میں مالی اعانتی پروگرام کے لئے درخواست کا طریقہ کار

سوال نمبر 33: جاپان میں مالی اعانتی پروگرام کے لئے درخواست کا طریقہ کار

این ایچ کے، کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔
آج کا سوال یہ ہے کہ جاپان میں کورونا وائرس کے مالی اعانتی پروگرام کے لئے کس طرح درخواست دی جائے؟

ہر پریفیکچر کی سوشل ویلفیئر کونسل نے اُن گھرانوں کے لئے فلاحی فنڈ سے قرضے کا نظام قائم کیا ہے جو کام رک جانے کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ قرضہ ہے اور اس کی واپسی لازمی ہے۔

’’چھوٹی رقم کا ہنگامی فنڈ‘‘ بنیادی طور پر ان گھرانوں کے لئے ہے جو عارضی طور پر کام رکنے کی وجہ سے آمدنی میں کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے لئے 2 لاکھ ین تک کا قرضہ دستیاب ہوگا۔

’’جنرل سپورٹ فنڈ‘‘ بنیادی طور پر ان گھرانوں کے لئے ہے جن کے افراد اب بے روزگار ہیں یا جن کی آمدنی میں کمی آئی ہے۔
دو یا دو سے زیادہ افراد پر مشتمل گھرانوں کے لئے قرض کی رقم کی حد 2 لاکھ ین ماہانہ ہے۔ ایک فرد کے گھر کے لئے یہ رقم ڈیڑھ لاکھ ین ہے۔
قرض کی مدت اصولی طور پر 3 ماہ کے لئے ہے۔
کال سینٹر صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک (صرف جاپانی زبان میں) دستیاب ہے۔ فون نمبر 1999-46-0120 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ معلومات 22 مئی تک کی ہیں۔
ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے کی جاسکتی ہے۔

اس ضمن میں مختلف زبانوں میں معلومات درج ذیل انٹرنیٹ سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
سادہ جاپانی:

https://www.mhlw.go.jp/content/000621849.pdf

انگریزی:
https://www.mhlw.go.jp/content/000621221.pdf

کوریائی:
https://www.mhlw.go.jp/content/000621222.pdf

آسان چینی:
https://www.mhlw.go.jp/content/000621223.pdf

ویتنامی:
https://www.mhlw.go.jp/content/000621224.pdf

پرتگالی:
https://www.mhlw.go.jp/content/000621225.pdf

ہسپانوی:
https://www.mhlw.go.jp/content/000621226.pdf

سوال نمبر 32: پالتو بلیوں سے وائرس پھیلنے کی رپورٹ

این ایچ کے کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔ آج کا سوال پالتو جانوروں کے کورونا وائرس انفیکشن کے بارے میں ہے۔ جب سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے کہ پالتو بلیوں کے مابین نیا کورونا وائرس پھیل سکتا ہے، لوگ معلومات کے لئے سوالات پوچھ رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف ٹوکیو کے انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں پروفیسر کاواوکا یوشی ہیرو اور وسکونسن یونیورسٹی کے دیگر افراد نے تین بلیوں کو کورونا وائرس سے متاثر کیا اور اُن کو صحتمند بلیوں کے پاس چھوڑ دیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ متاثرہ بلیوں میں کوئی علامت نہیں پائی گئی تاہم ناک میں موجود مواد کے نمونوں سے ان سب میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ تین بلیوں میں سے دو میں چھ دن تک وائرس کی موجودگی ثابت ہوئی۔

گروپ کا کہنا ہے کہ تین صحتمند بلیوں کو تین متاثرہ بلیوں کے پاس رکھا گیا اور تین سے چھ دن بعد اُن کا وائرس ٹیسٹ مثبت رہا جو وائرس پھیلنے کا ثبوت ہے۔

ٹیم کا کہنا ہے کہ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا وائرس نظام تنفس میں تیزی سے بڑھ سکتا ہے اور بلیوں کے مابین آسانی سے پھیل سکتا ہے۔

محققین کا مزید کہنا ہے کہ چونکہ متاثرہ بلیوں میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی اور مالک کو معلوم ہوئے بغیر ہی وائرس پھیل سکتا ہے اس لئے اُن کا مشورہ ہے کہ بلیوں کے مالکان اپنے پالتو جانوروں کو گھر کے اندر ہی رکھیں۔

یہ اعداد و شمار 21 مئی کے ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 31: ذائقہ نہ لگنے کی صورت میں کیا کرنا چاہیئے؟

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی امراض کی ماہر محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج سوال یہ ہے کہ جب ذائقہ محسوس نہ ہو تو کیا کرنا چاہیئے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے تقریباً 30 فیصد مریضوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں کھانے کا ذائقہ یا خوشبو محسوس نہ ہونے کی شکایت ہوتی ہے۔ اگر ایسی علامات ظاہر ہو جائیں تو وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ لیکن کسی دوسرے متعدی مرض میں مبتلا ہو جانے سے بھی اسی طرح کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا علامات کا تھوڑے عرصے تک مشاہدہ کرنے کے بعد اگر آپ کو مسلسل بخار ہو یا سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہتر ہے۔

مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 30: بچوں کا گھر سے باہر کھیلنے میں احتیاط

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی امراض کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال عالمی وبا کے دوران بچوں کے دوستوں کے ساتھ باہر کھیلنے میں موجود خطرات سے متعلق ہے۔

ملک بھر میں اسکولوں کی طویل بندش کے دوران بچوں کو وقت گزارنے کے لئے بعض ایلیمنٹری اور جونیئر ہائی اسکولوں نے کھیلوں کے میدان کھول دیئے ہیں۔ بہت سے والدین یہ سوچ رہے ہیں کہ آیا انفیکشن کے خطرات موجود ہیں یا نہیں اگرچہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے دوستوں کے ساتھ کھیلیں تاکہ کئی دن تک گھر میں رہنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے تناؤ کو کم کیا جاسکے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اب کوئی بڑی پریشانی نہیں ہو گی اگر والدین ان باتوں پر توجہ دیں جیسے کھیلنے کے دوران بچوں کی تعداد کو جتنا ممکن ہو کم رکھیں، کھیلنے کا دورانیہ زیادہ نہ ہو اور گھر آتے ساتھ ہی انھیں اپنے ہاتھ دھونے کا کہا جائے۔

یہ اعداد و شمار 13 مئی کے ہیں۔

ان معلومات کو این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سوال نمبر 29: جاپانی حکومت نے کورونا وائرس ٹیسٹ کے معیار میں کیا تبدیلی کی ہے؟

این ایچ کے کے نمائندے سامعین کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔ آج کا سوال ہے کہ ’’جاپانی حکومت نے کورونا وائرس ٹیسٹ کے معیار کو کس طرح تبدیل کیا ہے اور کیوں؟‘‘

جاپان کی وزارت صحت نے لوگوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ کے لئے اپنے معیار پر نظر ثانی کی ہے۔

گزشتہ معیار میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ صرف 37.5 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ چار دن تک بخار میں مبتلا رہنے والے افراد کو ہی مرکز صحت سے رابطہ کرنا چاہئے۔

نیا معیار مخصوص درجہ حرارت کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’جن لوگوں کو سانس لینے میں دشواری، شدید تھکاوٹ یا تیز بخار ہو‘‘ یا ’’جو چار دن یا زیادہ عرصے تک کھانسی، بخار اور زکام کی دیگر ہلکی علامات میں مبتلا ہوں‘‘ ان کو مدد کے لئے رابطہ کرنا چاہئے۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ گزشتہ معیار سخت ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ کرنے کی تعداد محدود ہے۔

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اُس کے پاس یومیہ 17 ہزار سے زائد ٹیسٹ کروانے کی صلاحیت موجود ہے۔ تاہم ٹیسٹ کرنے کی اصل یومیہ تعداد بہت کم یعنی 9 ہزار کے قریب ہے۔

سیندائی میڈیکل سنٹر میں وائرس ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر نیشی مُورا ہیدے کازُو کا کہنا ہے کہ یہ نیا معیار مددگار ثابت ہوگا۔

جناب نیشی مُورا کا کہنا ہے کہ ’’نئے معیار سے ڈاکٹروں کو نمونیا کے اُن مریضوں پر توجہ دینے میں مدد ملے گی جن کی بیماری شدید نہیں ہے لیکن اُس میں شدت آ سکتی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’ایک خدشہ یہ ہے کہ ٹیسٹ مناسب تعداد میں نہیں ہو پائیں گے، خاص طور پر ٹوکیو جیسے شہری علاقوں میں جہاں متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ مطلب، یہ طے کرنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ کن مریضوں کو ٹیسٹ کی انتہائی اشد ضرورت ہے۔

یہ اعداد و شمار 12 مئی کے ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 28: چہل قدمی یا ورزش کے لئے باہر جانے میں کن خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے؟

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی امراض کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ چہل قدمی یا ورزش کے لئے باہر جانے میں کن خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے؟

جاپان کے وزیر اعظم آبے شنزو نے ایک نیوز کانفرنس میں ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے کہا کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ جناب آبے نے یہ بھی کہا کہ باہر ٹہلنے یا سیر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جو شاید ہمیں متضاد لگا ہو۔ لیکن، محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ ہمیں ہنگامی حالت کے اعلان کا بنیادی مقصد نہیں بھولنا چاہئے اور لوگوں کو دوسروں سے کچھ فاصلہ اختیار کرنے کی ترغیب دینی چاہئے۔ اگر آپ کسی کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے چہل قدمی کرتے ہیں تو منہ سے نکلنے والی بوندیں ایک دوسرے تک پھیل سکتی ہیں جس سے بچنے کی ضرورت ہے۔ لیکن جب کوئی آس پاس نہ ہو تو تنہا باہر ورزش کرنا زیادہ سودمند ہے کیونکہ اس طرح بڑے خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔

ان معلومات کو این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سوال نمبر 27: سُپر مارکیٹ میں خریداری کے لئے احتیاطی تدابیر

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی امراض کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ سپر مارکیٹ میں خریداری کرتے وقت کونسی احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ ہمیں سپر مارکیٹ میں داخل ہونے سے پہلے ہتھیلیوں، انگلیوں اور کلائیوں سمیت ہاتھوں کو جراثیم کُش محلول سے ضرور صاف کرنا چاہئے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ کم رش کے وقت خریداری کے لئے جانا زیادہ موزوں ہے۔

ان معلومات کو این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سوال نمبر 25: گولف کھیلنے میں احتیاط۔

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی بیماریوں کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ گولف کورس میں کس طرح محتاط رہا جائے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ بعض لوگ سوچتے ہیں کہ گولف کھیلتے وقت انفیکشن کا کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ اسے کھلے ماحول میں کھیلا جاتا ہے۔ لیکن، بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ گولف کھیلنا بہت خطرناک ہے۔ گولف کورس کھلے میدان میں ہوتا ہے اور اسے بند جگہوں پر بنانا ناممکن ہے۔ تاہم ایک بڑے گروپ کی شکل میں لاکر رومز استعمال کرنا یا مل جُل کر کھانا کھانے سے یہ خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ہمیں اپنے چہرے کو ہاتھ سے چھونے کے بعد انفیکشن کے خطرے سے محتاط رہنا ہوگا خاص طور پر جب ہم نے اُن مقامات کو چھوا ہو جنہیں کئی نامعلوم افراد ہاتھ لگا چکے ہوں۔

ان معلومات کو این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سوال نمبر 24: مشترکہ گھر میں وائرس سے کیسے بچا جائے؟

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی بیماریوں کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ ایسی صورتحال سے کیسے نمٹا جائے جب ایک مشترکہ گھر میں رہنے والے افراد وائرس سے متاثر ہو جائیں۔

مشترکہ گھر میں رہنے والے ہر فرد کے پاس ذاتی بیڈ روم موجود ہوتا ہے تاہم وہ باورچی خانہ اور واش روم مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ اہم کام یہ ہے کہ کثرت سے چھوئے جانے والے مقامات، جیسے نلکے یا بلب وغیرہ کے بٹن کو ہلکے ڈٹرجنٹ یا اگر دستیاب ہو تو الکحل والے ڈس انفیکٹینٹ کے ساتھ جراثیم سے پاک کیا جائے۔

ان معلومات کو این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سوال نمبر 23: لفٹ استعمال کرنے میں احتیاط۔

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی بیماریوں کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال اُن چیزوں کے بارے میں ہے جن پر ہمیں لفٹ استعمال کرتے وقت دھیان دینا چاہئے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ چونکہ عمارتوں کی دسویں یا بیسویں منزل پر جانے کے لئے سیڑھیاں استعمال کرنا مشکل ہوتا ہے لہٰذا ہم انفیکشن سے بچنے کے لئے یہ کر سکتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کے ساتھ لفٹ استعمال نہ کریں اور لفٹ میں چڑھنے کے دوران لوگوں سے بات کرنے سے گریز کریں۔ اس طرح کے اقدامات سے انفیکشن کے امکانات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ محترمہ ساکاموتو کا مزید کہنا ہے کہ لفٹ کے بٹن دبانے کے بعد اپنے چہرے کو ہاتھوں سے نہ چھونا بہت اہم ہے۔ بٹن چھونے کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو صابن اور پانی سے ہاتھ دھونا بھی ضروری ہے۔

سوال نمبر 22: ماسک کی افادیت۔

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی بیماریوں کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال ڈسپوز ایبل ماسک کی افادیت اور سوتی کپڑے سے بنے دھونے کے قابل اور دوبارہ قابل استعمال ماسک سے متعلق ہے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مختلف تجربات جاری ہیں کہ کس طرح ماسک وائرس سے بچنے میں معاون ہیں. تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ کھانسی اور چھینک آنے پر آپ کے منہ سے نکلنے والی بوندیں روکنے کیلئے مختلف ماسک ایک حد تک موثر ہوتے ہیں۔ تاہم محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ کسی بھی طرح سے یہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے اور تھوڑی مقدار میں بوندیں باہر پھیل سکتی ہے۔ لہذا جب آپ کو کھانسنے اور چھینکنے کی شکایت ہو تو باہر جانے سے گریز زیادہ محفوظ ہے۔

سوال نمبر 21: بغیر علامات والے کورونا وائرس کے مریض۔

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی امراض کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال کورونا وائرس کے اُن مریضوں کے بارے میں ہے جن میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق کے باوجود علامات ظاہر نہیں ہوتے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ بعض مریض بغیر کوئی علامت ظاہر کیے خود ہی صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ چین کی ایک تحقیقی ٹیم کے مطابق سروے میں شامل نصف مریضوں میں یا تو کوئی علامت ظاہر ہی نہیں ہوئی یا پھر بہت ہی ہلکی علامات ظاہر ہوئیں۔ تاہم، محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ ہمیں تقریبا ایک ہفتہ مریضوں کا مشاہدہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان میں سے بعض آہستہ آہستہ شدید بیمار ہو جاتے ہیں۔

سوال نمبر 20: کیا الکحل کے مشروبات کو بطور سینیٹائزر استعمال کیا جا سکتا ہے؟

جاپان کی وزارت صحت نے فیصلہ کیا ہے کہ الکحل کے مشروبات کو سینیٹائزر کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ہونے والی سینیٹائزر کی قلت کو پورا کیا جاسکے۔

یہ فیصلہ طبی اور نگہداشت کے اداروں کے مطالبے پر کیا گیا ہے جو الکحل سے بنے جراثیم کُش سے صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

وزارت نے ان اداروں کو اپریل میں بتایا تھا کہ اگر انہیں مناسب سینیٹائزر نہیں مل پائے تو مشروبات بنانے والی کمپنیوں کی تیار کردہ شراب میں سے تیز الکحل والے مشروبات استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

الکحل کی 70 سے 83 فیصد تک کثافت والی شراب استعمال کی جاسکتی ہے۔ بعض ووڈکا شرابیں اس زمرے میں آتی ہیں۔

وزارت کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس سے زائد کثافت والے مشروب میں صفائی کی صلاحیت کم ہوتی ہے اور انہیں استعمال سے قبل ہلکا کر دینا چاہیئے۔ اُنہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ بنیادی طور پر طبی اداروں میں سینیٹائزر کی کمی کو دور کرنے کے لئے یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے۔

وہ عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے گھر میں محتاط انداز میں ہاتھ دھونے کا عمل جاری رکھیں۔

یہ معلومات 27 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 18: ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد کیا ہوتا ہے؟

پہلے بات کرتے ہیں ماسک کے بارے میں جن کی جاپان میں دستیابی دن بہ دن مشکل ہو رہی ہے۔
کورونا وائرس سے متعلق خصوصی اقدامات کے قانون کی بنیاد پر گورنر کمپنیوں سے مقامی حکومت کو ماسک اور دیگر ضروری سامان فروخت کرنے کی درخواست کرسکتے ہیں۔ اگر کمپنیاں ایسی درخواست پر عمل کرنے سے انکار کر دیں تو گورنر کو اس طرح کا سامان ضبط کرنے کی اجازت ہے۔

مرکزی حکومت نے پہلے ہی ہوکائیدو میں لوگوں کو ایک علیحدہ قانون، عوام کے حالات زندگی کو مستحکم کرنے کی غرض سے ہنگامی اقدامات کے لئے 1973 کے ضابطے کی بنیاد پر لوگوں اور طبی اداروں کو ماسک خرید کر دیئے ہیں۔ یہ قانون تیل کے عالمی بحران کے پیش نظر نافذ کیا گیا تھا۔

ہنگامی حالت میں گورنروں کو قانونی طور پر قابل نفاذ بعض اقدامات اٹھانے کی بھی اجازت ملتی ہے۔ عارضی طبی سہولیات کی تعمیر کے لئے گورنر مالکان کی رضامندی کے بغیر زمین اور عمارتیں استعمال کرسکتے ہیں۔ وہ کمپنیوں کو طبی سامان، کھانا اور دیگر ضروری سامان ذخیرہ کرنے کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔ اگر کمپنیاں حکم کی تعمیل نہیں کرتیں اورمثال کے طور پر مصنوعات کو چھپاتی یا پھینک دیتی ہیں تو انہیں چھ ماہ تک قید کی سزا یا تقریباً 2800 ڈالر تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ صرف ان دو اقدامات میں سزا بھی شامل ہیں۔

جاپان کی ہنگامی حالت میں بیرون ممالک میں نافذ لاک ڈاؤن کے برعکس چند قابل عمل اقدامات شامل ہیں۔ لیکن اس اعلان سے عوام اور کاروباری اداروں کو وباء پر قابو پانے کی کوشش میں تعاون کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔

اس سے جاپان کی طبی خدمات پر کیا اثر پڑے گا؟
میڈیکل ادارے ان سہولیات میں شامل نہیں ہیں جن کو گورنر بند کرنے کی درخواست کرسکتے ہیں، لہٰذا وہ کھلے رہیں گے۔ نیز، ہسپتال جانا ضروری سفر سمجھا جاتا ہے جس پر "گھر میں رہیں" کی درخواست کے تحت بھی پابندی نہیں ہوگی۔ تاہم مقامی حکومتیں اس وباء کی شدید ترین صورتحال پر مبنی تیاری کے لئے انتظامات کریں گی، جیسے اُن مراکز کا انتخاب کرنا جو بنیادی طور پر کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے مختص ہوں اور دوسرے مریضوں کو دیگر ہسپتالوں میں منتقل کرنا۔ جاپان کی وزارت صحت بھی ڈاکٹر کے ساتھ آن لائن مشاورت کیلئے مطلوبہ لوازمات آسان بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ فی الحال، ڈاکٹر سے روبرو ملاقات کے بعد ہی آن لائن مشاورتیں شروع ہوسکتی ہیں۔ لیکن وزارت شروع سے ہی آن لائن علاج کی اجازت دے گی۔

طبی دیکھ بھال کے مراکز کیسے متاثر ہونگے؟
ہنگامی حالت کے تابع صوبوں کے گورنر طبی دیکھ بھال کی اُن سہولیات کی بندش اور عوامل مختصر کرنے کی درخواست کرسکتے ہیں جو دن کی دیکھ بھال اور قلیل قیام کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ نگہداشت فراہم کرنے والے جو ادارے اپنی سہولیات بند کر رہے ہیں ان سے کہا جائے گا کہ وہ ضروری متبادل خدمات کی فراہمی جاری رکھیں، جیسا کہ صارفین کے گھروں پر عملہ بھیجنا۔ گورنر دیکھ بھال کی رہائشی سہولیات اور گھریلو نگہداشت فراہم کرنے والوں کی بندش کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔ ان مراکز سے کہا گیا ہے کہ مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنی خدمات جاری رکھیں۔

چائلڈ ڈے کیئر سہولیات کے بارے میں کیا احکامات ہیں؟
اگر وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہو تو گورنر چائلڈ ڈے کیئر سینٹروں کے استعمال کو محدود کرسکتے ہیں اور ممکنہ طور پر ایسی سہولیات کو عارضی طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔ حتٰی کہ نامزد علاقوں میں گورنر کی درخواست کے بغیر بھی ہر میونسپلٹی اپنے قبول کردہ بچوں کی تعداد کو کم کرنے کی ضرورت پر غور کر سکتی ہے۔ جو والدین گھر سے کام کر سکتے ہیں یا چھٹی لے سکتے ہیں، ان سے ڈے کیئر استعمال نہ کرنے کا کہا جائے گا۔ اگر کوئی بچہ یا نگہداشت کرنے والا متاثر ہوتا ہے یا جب اس علاقے میں متاثرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو بلدیات کے پاس بھی عارضی طور پر ڈے کیئر سہولیات بند کرنے کا اختیار موجود ہے۔ تاہم، مقامی حکومتیں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں یا ایسے والدین جو کام سے وقت نکالنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں یا ایسے لوگوں کے لئے بچوں کی نگہداشت کی فراہمی کے دیگر طریقوں کا جائزہ لیں گی جن کا کام معاشرے کو چلانے کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

اس کے بعد آتے ہیں مزدوری معیارات کے معائنہ دفاتر اور ملازمت کے تقرری مراکز۔
اصولی طور پر، روزگار سے وابستہ خدشات سے نمٹنے والی یہ سہولیات معمول کے مطابق کھلی رہیں گی۔ تاہم، ملازمت کے تقرری مراکز ہر علاقے میں انفیکشن کی صورتحال کے لحاظ سے اپنے کاموں کو کم کرسکتے ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ سروسز کا کیا ہوگا؟
7 اپریل کو وزیر اعظم آبے شنزو کے ہنگامی حالت کے اعلان سے قبل، وزیر ٹرانسپورٹ، اَکابا کازُویوشی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگر ہنگامی حالت کا اعلان کر بھی دیا گیا تو پھر بھی کام کو برقرار رکھنے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ اور رسد کی ضرورت ہوگی۔

یہ معلومات 8 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 17: ہنگامی حالت کا اعلان ہماری زندگیوں کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟

اس سوال کے جواب کے کئی حصے ہیں۔ پہلے باہر گھومنے پھرنے کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

مقررہ پریفیکچروں کے گورنر نامزد علاقوں کے رہائشیوں سے ایک مقررہ مدت تک غیر ضروری کام کے لئے باہر جانے سے باز رہنے کو کہہ سکتے ہیں۔

ان میں ہسپتال جانا، ضروریات زندگی کی خریداری اور کام پر جانا شامل نہیں۔ درخواست پر عمل لازمی نہیں ہے لیکن شہری تعاون کرنے اور پوری کوشش کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔

دوسرا حصہ اسکولوں کے بارے میں ہے۔

گورنر اسکولوں کو بند کرنے کا مطالبہ کرسکتے ہیں یا حکم دے سکتے ہیں۔ یہ گذشتہ ماہ نافذ کردہ خصوصی قانون پر مبنی احکامات ہیں۔

گورنروں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پریفیکچر کے ہائی اسکول بند کردیں۔

وہ مقامی حکومتوں کے زیر نگرانی نجی اسکولوں اور ایلی منٹری اور جونیئر ہائی اسکولوں کو بند کرنے کے لئے کہہ سکتے ہیں۔ اگر اسکولوں نے تعمیل نہ کی تو وہ بندش کا حکم بھی دے سکتے ہیں لیکن اس میں کوئی جرمانہ شامل نہیں ہے۔

اگلا حصہ سہولیات اور اسٹورز کے بارے میں ہے۔

یہ قانون گورنرز کو انفیکشن کا پھیلاؤ روکنے کے لئے سہولیات کے استعمال کو محدود کرنے کی درخواست کرنے کے اہل بناتا ہے۔

وہ بڑے پیمانے کے ان سہولیات کو محدود کرنے یا اس پر پابندی عائد کرنے کا بھی کہہ سکتے ہیں جن کا کُل رقبہ ایک ہزار مربع میٹر سے زیادہ ہو۔ اگر ضرورت پڑے تو اس سے چھوٹی سہولیات کو بھی ایسا ہی حکم دیا جا سکتا ہے۔

مندرجہ ذیل اُن سہولیات کی فہرست ہے جو اس زمرے میں آتی ہیں۔ تھیٹر اور سنیما گھر، مقامات برائے تقاریب، ڈپارٹمنٹ اسٹور، سپر مارکیٹ، ہوٹل اور سرائے، جم اور سوئمنگ پول، عجائب گھر، لائبریری، نائٹ کلب، ڈرائیونگ اسکول اور ٹیوشن اسکول۔

سپر مارکیٹوں کو اشیائے ضروریہ جیسے کھانے، دوا اور حفظان صحت کے لئے مخصوص حصے کھلے رکھنے کی اجازت ہو گی۔

اگر بعض سہولیات درخواست کی تعمیل نہیں کرتی ہیں تو گورنر انہیں ایسا کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔

وہ ان سہولیات کے نام مشتہر کریں گے جن کو ایسا حکم دیا گیا ہو۔

یہ حصہ تقریبات اور میلوں سے متعلق ہے۔

نئی قانون سازی کے تحت، گورنر ایونٹ کے منتظمین سے تقریبات کا انعقاد نہ کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔ اگر کسی منتظم نے تعمیل نہیں کی تو وہ انہیں روکنے کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔

گورنر پریفیکچر کی ویب سائٹ یا دیگر میڈیا پر اُن منتظمین کے نام مشتہر کر سکتے ہیں جن کو ایسا حکم دیا گیا ہو۔

رہائشی سہولیات اور خدمات

ہنگامی حالت کے اعلان سے ضروری رہائشی سہولیات متاثر نہیں ہوتی ہیں۔ بجلی، گیس اور پانی کی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں سے کہا جاتا ہے کہ وہ مستحکم فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے موثر اقدامات پر عمل درآمد کریں۔

ٹرانسپورٹ، ٹیلیفون، انٹرنیٹ اور ڈاک سے متعلق کمپنیوں کو کام جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔

اس قانون میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کام کو محدود کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ وزیر اعظم اور گورنرز کم سے کم ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ کا نظام چلانے کے اقدامات اُٹھا سکتے ہیں۔

یہ اعداد و شمار 7 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 16: اَویگان نامی دوا کورونا وائرس کے علاج میں کتنی مؤثر ہے؟

اَویگان کو فاویپیراویر بھی کہا جاتا ہے اور یہ نزلہ زکام کی دوا ہے جسے ایک جاپانی دوا ساز کمپنی نے چھ سال قبل تیار کیا تھا۔ لیبارٹری میں اس کی آزمائش کے دوران جانوروں پر مضر اثرات کی اطلاع ملی ہے، لہٰذا جاپانی حکومت نے حاملہ خواتین جیسے کچھ لوگوں کیلئے اس کے استعمال کی منظوری نہیں دی ہے۔ اب صرف حکومت کی طرف سے منظور شدہ کیسز میں ہی اَویگان کو نئے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو دیا جائے گا۔

ابھی تک ایسی کوئی اور معلوم دوا موجود نہیں ہے جو نئے کورونا وائرس کے مریضوں کا مؤثر طریقے سے علاج کر سکے لیکن امید ہے کہ نئے کورونا وائرس کے خلاف اَویگان مؤثر ثابت ہوگی جو انفلوئنزا وائرس کی طرح بڑھتا ہے۔ دنیا کے بہت سارے حصوں میں اس دوا کے اثرات کے بارے میں تحقیق کی جا رہی ہے۔

چینی حکومت نے دو طبی اداروں میں ہونے والی تحقیق کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ ایک تحقیق صوبہ گوانگ دونگ کے شینژین شہر میں 80 مریضوں پر کی گئی۔ جن لوگوں کو اَویگان نہیں دی گئی تھی، انکے ٹیسٹ کے نتائج مثبت سے منفی ہونے میں اوسطاً 11 دن لگے۔ جن افراد کو یہ دوا دی گئی اُن کو اوسطاً چار دن لگے۔ مریضوں کے ایکسرے سے پتہ چلتا ہے کہ اُن 62 فیصد افراد کی پھیپھڑوں کی حالت بہتر ہوئی جن کو اَویگان نہیں دی گئی جبکہ اَویگان استعمال کرنے والے افراد میں سے 91 فیصد کے پھیپھڑے بہتر ہوئے۔

چین کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نتائج نے اسے نئے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لئے اَویگان کو باضابطہ طور پر ایک دوا کے طور پر شامل کرنے کی طرف راغب کیا ہے۔

جاپان میں مارچ کے مہینے سے آئیچی پریفیکچر کے فوجیتا ہیلتھ یونیورسٹی ہسپتال جیسے اداروں میں ہلکی علامات یا علامات سے پاک 80 مریضوں پر طبی تحقیق جاری ہے۔ محققین موازنہ کر رہے ہیں کہ یہ دوا وائرس کے حجم کو کتنا کم کر سکتی ہے۔

اَویگان تیار کرنے والی جاپانی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سرکاری منظوری حاصل کرنے کے لئے طبّی آزمائشیں شروع کر دی ہیں۔ اگر اس دوا کے مؤثر اور محفوظ ہونے کی تصدیق ہو گئی تو کمپنی منظوری کے لئے حکومت کو درخواست دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ معلومات 6 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 15: کیا یہ وائرس چینی شہر وُوہان، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک میں تغیر پذیر ہو رہا ہے؟

مارچ کے اوائل میں ایک چینی تحقیقی گروپ نے دنیا بھر کے 100 سے زائد مریضوں سے لی گئیں کورونا وائرس جِینز کا تجزیہ کیا۔ ٹیم نے دو اقسام کی کورونا وائرس جِینز، ایل ٹائپ اور ایس ٹائپ میں فرق دریافت کیا۔

گروپ نے معلوم کیا کہ ایس ٹائپ میں چمگادڑوں میں پائے جانے والے کورونا وائرس سے ملتی جلتی جینیاتی ترتیب ہوتی ہے۔ ایل ٹائپ کا وائرس یورپی ممالک کے مریضوں میں عام طور پر پایا گیا تھا اور سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایس ٹائپ سے مختلف اس وائرس کی ایک نئی شکل ہے۔

رِتسُومیئکان یونیورسٹی کالج آف لائف سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ایتو ماساہیرو جو وائرس کی خصوصیات کا مطالعہ کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ کورونا وائرس آسانی سے اپنے اندر تبدیلی لاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کرنے اور وائرس کے بار بار پھیلاؤ کے دوران بھی متغیر ہوتا ہے۔

دریں اثناء، وائرس کے آسانی سے منتقل ہونے کے قابل بننے کے لئے خود میں تبدیلی لانے کے امکان سے متعلق جناب ایتو کا کہنا ہے کہ وائرس اب بھی اس مرحلے پر ہے جہاں اس کی جینیاتی ترتیب میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اگر ایل ٹائپ اور ایس ٹائپ کی جِینز میں فرق موجود ہے تو پھر بھی ان معلومات کا فقدان ہے کہ کون سی قسم زیادہ شدید علامات کا باعث بنتی ہے۔ جناب ایتو کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیماریوں کی شدت اور اموات کی شرح ممالک کے مابین مختلف ہے لیکن یہ باور کیا جاتا ہے کہ یہ تغیرات خود لوگوں کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں جس میں کسی ملک کی معمر آبادی کا تناسب، ثقافت اور کھانے کی عادات میں فرق شامل ہے۔

یہ معلومات 3 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 14: کیا کورونا وائرس سے نوجوان افراد شدید بیمار پڑ سکتے ہیں؟

ماہرین کا خیال تھا کہ عمر رسیدہ اور صحت کے مسائل سے دوچار افراد میں انفیکشن کے بعد شدید علامات ظاہر ہوتے ہیں۔ لیکن گذشتہ ماہ میڈیا نے یہ اطلاع دی تھی کہ برطانیہ میں ایک 21 سالہ خاتون اور فرانس میں ایک 16 سالہ لڑکی کی اس وائرس سے موت ہوگئی ہے۔ یہ دونوں افراد پہلے سے بیمار بھی نہیں تھے۔ حالیہ کیسز سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ نوجوان شدید بیمار ہو سکتے ہیں۔

جاپان میں بھی نسبتاً نوجوان افراد کے شدید بیمار ہونے کے واقعات دیکھے گئے ہیں۔ نیشنل سنٹر فار گلوبل ہیلتھ اینڈ میڈیسن کے ساتوشی کوتسونا نے بتایا کی اُن 30 سے زائد مریضوں میں سے، جن کا انھوں نے علاج کیا، 40 کے پیٹے کے ایک شخص میں شدید علامات پیدا ہوئیں حتیٰ کہ اُس کو پہلے سے کوئی بیماری بھی نہیں تھی۔

جناب کوتسونا نے بتایا کہ اس شخص کو پہلے کئی دن تک صرف بخار اور کھانسی ہوئی لیکن ایک ہفتہ کے بعد اسے شدید نمونیا ہوگیا اور سانس لینے میں تیزی سے دشواری کے باعث اسے ریسپائریٹر کی ضرورت پڑی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شخص بعد میں صحتیاب ہوا۔

جناب کوتسونا نے ہمیں بتایا کہ نوجوانوں کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اُنہیں کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ نوجوان افراد بھی شدید بیمار پڑ سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں جن میں 50 سال سے کم عمر کے افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے امریکی مراکز نے اطلاع دی ہے کہ 20 سے 44 سال کی عمر والے 2 سے 4 فیصد متاثرہ افراد انتہائی نگہداشت کے شعبے میں ہیں۔

یہ اعداد و شمار 2 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 13: کیا نیا کورونا وائرس گندے پانی سے پھیل سکتا ہے؟

2003 میں سارس نامی وائرس پھیلنے کے دوران، ہم نے سنا ہے کہ نالیوں سے پھوٹنے والے گندے پانی کے ذریعے وائرس پھیلنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ کورونا وائرس کی یہ نئی قسم سارس کورونا وائرس سے مشابہت رکھتی ہے۔

تو آج کا سوال ہے، کیا نیا کورونا وائرس بھی گندے پانی سے پھیل سکتا ہے؟

یہ نیا وائرس اور سارس وائرس دونوں کا تعلق کورونا وائرس کے ایک ہی خاندان سے ہے۔ وہ کورونا وائرس جس کی وجہ سے سارس پیدا ہوا تھا، نہ صرف گلے اور پھیپھڑوں میں بلکہ آنتوں میں بھی اپنی تعداد بڑھاتا ہے۔ 2003 میں جب سارس وائرس دنیا کے مختلف حصوں میں لوگوں میں پھیل گیا، ہانگ کانگ کی ایک رہائشی عمارت میں بڑے پیمانے پر انفیکشن کی اطلاع ملی۔ یہ شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بڑے پیمانے پر انفیکشن نکاسی آب کے پرانے پائپس سے خارج ہونے والی وائرس زدہ بوندوں کی وجہ سے ہوا ہے۔

توہکو میڈیکل اینڈ فارماسیوٹیکل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے انفیکشن سے بچاؤ کے اقدامات کے ماہر پروفیسر کاکو میتسو نے بتایا کہ حفظان صحت کے نسبتاً اعلی درجے کے حامل ممالک میں نکاسی آب کے پائپوں کے ذریعے وائرس پھیلنے کا خطرہ کم ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ وائرس بیت الخلا اور آس پاس کے مقامات کی سطح سے چمٹ جائے اور آپ اپنے ہاتھوں سے آلودہ سطح کو چھونے سے انفیکشن کا شکار ہو جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو فلش کرنے سے پہلے کموڈ کا ڈھکن بند کرنا چاہئے اور بیت الخلا کے استعمال کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھونا چاہیئے۔ ان کا کہنا ہے کہ نلکوں، واش اسٹینڈز اور دروازوں کے دستوں کو جراثیم کش محلول کے ساتھ اچھی طرح سے صاف کرکے لوگوں کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں حفظان صحت کو برقرار رکھنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔

یہ اعداد و شمار یکم اپریل کی ہیں۔

سوال نمبر 11: کیا صابن اور الکحل کے جراثیم کش اثرات ایک جیسے ہوتے ہیں؟

انفیکشن کنٹرول میں مہارت رکھنے والی ٹوکیو کے سینٹ لیوک انٹرنیشنل ہسپتال کی ساکاموتو فومی کا کہنا ہے کہ صابن ایک خاص حد تک مؤثر ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ صابن میں عام طور پر سرفیکٹنٹ ہوتے ہیں جو کورونا وائرس کے بیرونی لیپڈ جھلی کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وائرس کو کسی حد تک ختم کیا جا سکتا ہے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ الکحل بھی مؤثر ہے لیکن اگر آپ کے ہاتھ گندے ہیں تو بعض اوقات جراثیمی مادے کے اندر پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔

محترمہ ساکاموتو لوگوں کو تاکید کرتی ہیں کہ اپنے ہاتھوں کو صابن سے باقاعدگی سے دھوئیں۔

محترمہ ساکاموتو لوگوں سے صابن کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو باقاعدگی سے دھونے کی تاکید کرتی ہیں۔

سوال نمبر 10: ہم کن حالات میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ انفیکشن ختم ہو گیا ہے؟

شیگیرُو اومی نئے کورونا وائرس کے بارے میں حکومتی ماہرین کے پینل کے نائب سربراہ اور جاپان کمیونٹی ہیلتھ کئیر آرگنائزیشن کے صدر ہیں ۔ وہ ماضی میں عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او، میں متعدی امراض کے خلاف اقدامات کی سربراہی کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وبا کے خاتمے کا مطلب یہ ہے کہ انفیکشن کا سلسلہ رک گیا ہے اور کوئی متاثرہ مریض موجود نہیں ہے۔

اگر عالمی ادارہِ صحت کے معیار کے مطابق ایک مخصوص مدت کے دوران کسی نئے انفیکشن کی تصدیق نہ ہوئی ہو تو صحت حکام وبا کے خاتمے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر سارس نامی وباسنہ 2003 میں زیادہ تر چین اور ایشیا کے دیگر حصوں میں پھیلی۔ پہلے مریض کی تصدیق کے تقریباً 8 ماہ بعد ڈبلیو ایچ او نے اس کے خاتمے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب کسی مخصوص علاقے یا ملک میں عوام کو باہر نکلنے سے احتراز کی ہدایات جیسے اقدامات کے ذریعے انفیکشن کے پھیلاؤ پر مخصوص عرصے کے لیے قابو پایا جا سکتا ہے۔

تاہم علاقے کے باہر سے وائرس کے آنے سے انفیکشن دوبارہ پھیل سکتا ہے۔ مثال کے طور پر موسمی انفلوئینزا موسم سرما میں پھیلتا ہے اور اس میں عارضی طور پر کمی آتی ہے لیکن ابھی تک اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔

ویکسین اور ادویات، انفیکشن کا پھیلاؤ روکنے اور اسکی شدت کم کرنے کے لیے مؤثر ہیں۔ لیکن جناب اومی کا کہنا ہے کہ ویکسین اور ادویات کی دستیابی اور یہ کہ کیا مرض مکمل ختم ہو چکا ہے؟، دونوں الگ چیزیں ہیں۔

جناب اومی کا کہنا ہے کہ صحت حکام انفیکشن کے مکمل خاتمے کا مقصد حاصل کرنے کے لیے اس کو محدود رکھنے کی مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

یہ اعداد و شمار 27 مارچ کے ہیں۔

سوال نمبر 8: کیا جاپان نے کورونا وائرس کے انفیکشن کی روک تھام یا اس کے علاج کے لئے کوئی موثر دوا بنائی ہے؟

بدقسمتی سے ابھی ایسی کوئی دوا موجود نہیں ہے جو کورونا وائرس کے خلاف واضح طور پر موثر ثابت ہو، جیسے انفلوئنزا کے علاج کے لئے تامیفلو اور زوفلوزانامی ادویات ہیں۔ دوسرے ممالک کی طرح جاپان میں بھی ڈاکٹر علامات کے علاج پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جیسے مریضوں کو آکسیجن کا سہارا دینا اور پانی کی کمی کے لئے IV ڈرپ لگانا۔

اگرچہ اس وائرس کو ختم کرنے کی کوئی موثر دوا ابھی تیار نہیں ہوئی ہے، جاپان اور پوری دنیا میں ڈاکٹر دیگر بیماریوں کے علاج کے لئے دستیاب ادویات کا استعمال کر رہے ہیں کیونکہ وہ کورونا وائرس کے خلاف موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔

ایسی ہی ایک دوا ایویگان ہے جو زکام کے علاج کے لئے موثر ہے اور جسے چھ سال قبل ایک جاپانی دوا ساز کمپنی نے تیار کیا تھا۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دوا کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج میں موثر ثابت ہوئی ہے۔

جاپان کے نیشنل سنٹر فار گلوبل ہیلتھ اینڈ میڈیسن کا کہنا ہے کہ اُس نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریض کو ایڈز کے اوائل میں استعمال ہونے والی ایک اینٹی وائرل دوا دی ہے۔ وہاں کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ مریض کا بخار کم ہوا اور تھکن اور سانس کی دقت بہتر ہوئی۔

مختلف ممالک میں موثر دوا بنانے پر تحقیق جاری ہے۔ بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے امریکی مراکز کے محققین سمیت ایک گروپ نے اطلاع دی ہے کہ کورونا وائرس سے نمونیا میں مبتلا ایک شخص کو ایبولا کی ایک اینٹی وائرل دوائی دی جارہی ہے۔ محققین نے بتایا کہ اس شخص کی علامات دوا لینے کےایک دن بعد ہی بہتر ہونا شروع ہوگئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے آکسیجن لگانے کی ضرورت نہ رہی اور اس کا بخار کم ہوگیا تھا۔

تھائی لینڈ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ فلو اور ایڈز کی دوائیوں کے امتزاج سے ایک مریض کی حالت میں بہتری آئی ہے جو بعد میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہوگیا۔

تاہم،ان تمام واقعات میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ادویات کے محفوظ استعمال اور افادیت کا تعین کرنے کے لئے مزید طبی تحقیق ضروری ہے۔

یہ اعداد و شمار 25 مارچ کی ہیں۔

سوال نمبر 7: کیا بچے کورونا وائرس سے شدید بیمار پڑ سکتے ہیں؟

چین میں ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ بچے نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعدشدید بیمار ہوسکتے ہیں۔

چینی مرکز برائے انسداد و روک تھامِ امراض کے ماہرین کی ایک ٹیم کے 11 فروری تک ملک میں متاثرہ 44،672 افراد کے تجزیےسے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نو سال یا اس سے کم عمر کا کوئی بچہ اس انفیکشن سے ہلاک نہیں ہوا۔ صرف ایک ہی مریض کی نو عمری میں ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

ووہان یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے محققین کے ایک گروپ نے اطلاع دی ہے کہ 6 فروری تک مرکزی سرزمین چین میں ایک سے 11 ماہ کے 9 نوزائیدہ بچوں میں کورونا وائرس پایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی شدید بیمار نہیں ہوا۔

آئیچی میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر تسونیو موریشیما بچوں کے متعدی امراض کے ماہر ہیں۔ پروفیسر موریشیما کا کہنا ہے کہ یہ نیا وائرس چند حوالوں سے کورونا وائرس کی موجودہ اقسام سے مطابقت رکھتاہے اور نزلہ زکام کا اکثر شکار رہنے والے بچوں میں اس کے خلاف ایک خاص مدافعت پیدا ہو سکتی ہے۔

تاہم، پروفیسر موریشیما نے مزید کہا کہ ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے کیونکہ اسکولوں اور نرسری اسکولوں میں یہ انفیکشن تیزی سے پھیلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرپرستوں کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ بچے اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھوئیں اور اُن کے کمرے مناسب حد تک ہوا دار ہوں۔

یہ اعدادوشمار 24 مارچ تک کے ہیں۔


یہ سوال انڈونیشیا سے ہمارے سامع نوردیان سیہا نے پوچھا ہے۔

سوال نمبر 6: وائرس سے متاثر ہونے پر کن افراد میں شدید علامات پیدا ہوتی ہیں؟

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات میں بیشتر ایسے افراد ہیں جن کا مدافعتی نظام ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری اور ذیابیطس سمیت دیگر بیماریوں سے کمزور ہوتا ہے ۔

اس لئے خصوصاً کمزور مدافعتی نظام والے لوگوں کو نہ صرف نئے کورونا وائرس سے بلکہ موسمی انفلوئنزا جیسے عام انفیکشن سے بھی بچنا چاہئے۔

ان میں ایسے افراد شامل ہیں جن کو ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دل کی بیماری لاحق ہو یا پھر ایسے افراد جو قوت مدافعت کم کرنے والی ادویات استعمال کررہے ہیں، مثال کے طور پر بزرگ افراد اور گٹھیا کے مرض کا علاج کرنے والے افراد۔

محققین نے ابھی یہ معلوم نہیں کیا ہے کہ مریضوں کے دائمی عارضے کی سنگینی کا ان کے علامات کی شدت سے کیا تعلق ہے۔

حاملہ خواتین کے حوالے سے ایسی کوئی اطلاع موجود نہیں جس میں یہ تجویز کیا جائے کہ وہ کورونا وائرس کے لئے شدید خطرے کے زمرے میں آتے ہیں۔ لیکن عام طور پر اُن میں وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے اور اگر انھیں نمونیا ہو جائے تو ان میں شدید علامات پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

شیرخوار بچوں میں کورونا وائرس کس قسم کی علامات کا سبب بنتا ہے اس کے بارے میں بھی کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ اپنے ہاتھ دھونے اور ہجوم سے بچنے جیسے روک تھام کے اقدامات نہیں کرسکتے، ان کے سرپرستوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔

سوال نمبر 5: کورونا وائرس کا انفیکشن ہونے کے بعد کیا علامات ہوسکتی ہیں؟

ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم نے اس معاملے پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس ٹیم میں عالمی ادارہ صحت کے ماہرین بھی شامل ہیں۔ اس ٹیم نے اُن 55،924 افراد کی علامتوں کا تفصیلی تجزیہ کیا جن میں 20 فروری تک چین میں انفیکشن ہونے کی تصدیق ہوگئی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 87.9 فیصد مریضوں کو بخار تھا، 67.7 فیصد کھانسی میں مبتلا تھے، 38.1 فیصد لوگوں کو تھکاوٹ کی شکایت تھی، اور 33.4 فیصد بلغم کا شکار تھے۔ دیگر علامات میں سانس میں دقت، گلے کی سوزش اور سر درد شامل ہیں۔ متاثرہ افراد میں اوسطاً پانچ سے چھ دن میں علامات نمودار ہوئیں۔

متاثرہ افراد میں سے 80 فیصد میں علامات نسبتا ً معمولی تھیں۔ بعض لوگوں کو نمونیا نہیں ہوا ۔ متاثرہ افراد میں سے 13.8 فیصد شدید بیمار ہو گئے تھے اور انہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد اور ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس ، دل کی بیماریوں، سانس کی دائمی بیماریوں اور کینسر جیسے بنیادی طبی مسائل کے حامل افراد میں سنگین یا مہلک علامات پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ بچوں میں انفیکشن ہونے یا شدید بیمار ہونے کی اطلاعات کم ہیں۔ متاثرہ افراد کی کل تعداد میں صرف 2.4 فیصد 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تھے۔

نیشنل سینٹر برائے گلوبل ہیلتھ اینڈ میڈیسن کے ڈاکٹر ساتوشی کوتسُونا نے جاپان میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کیا ہے۔ جناب کوتسونا نے بتایا کہ انہوں نے جن مریضوں کا معائنہ کیا وہ بہتی ناک، گلے کی سوزش اور کھانسی کی بیماری میں مبتلا تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان سب کو تھکاوٹ کی شکایت تھی اور انہیں 37 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجے کا بخار ہوا جو ایک ہفتے تک جاری رہا۔ ڈاکٹر کوتسُونا نے کہا کہ بعض مریضوں کا بخار ایک ہفتے کے بعد زیادہ ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمی فلو یا دیگر وائرل متعدی بیماریوں کے مقابلے میں کورونا وائرس کی علامات زیادہ دیر تک رہتی ہیں۔

سوال نمبر 4: کپڑوں کو وائرس سے کیسے پاک کیا جائے؟

اس کے لئے پہلے ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا کپڑوں کو دھونے سےان پر موجود وائرس دھل جائے گا یا پھر اس مقصد کے لئے جراثیم کُش الکوحل استعمال کرنا پڑے گی۔ وبائی امراض کی روکتھام اور کنٹرول کے جاپانی ادارے کی ایریسا سُوگاوارا بتاتی ہیں کہ کپڑوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے جراثیم کُش الکوحل کی ضروت نہیں۔ وہ وضاحت کرتی ہیں کہ مروجہ طریقے سے کپڑے دھونے سے ان پر موجود وائرس دھل جاتا ہے۔ تاہم نیا کورونا وائرس بھی اس طریقے سے ختم ہو گا یا نہیں ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

جہاں تک اُن چیزوں کا تعلق ہے جن میں وائرس سے آلودہ ہونے کا خطرہ زیادہ ہو، مثلاً کھانستے یا چھینکتے وقت منہ پر رکھا جانے والے دستی رومال، ایسی اشیا کے بارے میں محترمہ سُوگا وارا کا مشورہ ہے کہ انہیں 15 سے 20 منٹ تک گرم پانی میں بھگوئیں۔

سوال نمبر 3: کورونا وائرس سے حاملہ خواتین کو کیا خطرات لاحق ہوتے ہیں؟

جاپان سوسائٹی برائے متعدی امراضِ زچہ و بچہ نے کورونا وائرس کے حوالے سے حاملہ اور ماں بننے کی خواہشمند خواتین کی رہنمائی کے لئے ایک دستاویز جاری کیا ہے۔

سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اب تک حاملہ خواتین میں کورونا وائرس کی وجہ سے نسبتاً شدید علامات ظاہر ہونے یا ماں کے پیٹ میں بچے کے اس وائرس سے متاثر ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

تاہم سوسائٹی متنبہ کرتی ہے کہ عموماً حاملہ خواتین کو اگر نمونیا ہو جائے تو وہ شدید بیمار ہو سکتی ہیں۔

یہ سوسائٹی حاملہ خواتین کو خصوصاً باہر جاتے وقت اور کھانا کھانے سے پہلے بہتے پانی کے ساتھ اچھی طرح ہاتھ دھونے اور الکحل والے جراثیم کُش محلول استعمال کرنے جیسے حفاظتی اقدامات اپنانے کا مشورہ دیتی ہے۔ دیگر تجاویز میں بخار اور کھانسی میں مبتلا افراد کو چُھونے سے گریز، حفاظتی ماسک پہننا اور ہاتھوں سے منہ یا ناک کو چُھونے سے اجتناب کرنا شامل ہے۔

یہ دستاویز مرتب کرنے والے نیہون یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے پروفیسر ساتوشی ہایا کاوا کہتے ہیں کہ وہ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ حاملہ خواتین تذبذب کا شکار ہیں تاہم ایسی خواتین کو صرف درست اور قابل اعتماد معلومات کی بنیاد پر عمل کرنا چاہیئے کیونکہ متعدی امراض پھیلنے کی صورت میں ہر قسم کی غلط افواہیں گردش کرنے لگتی ہیں۔

سوال نمبر 2: وائرس ہمیں کیسے منتقل ہوتا ہے؟ اور ہم وائرس سے خود کو کیسے بچا سکتے ہیں؟

ماہرین کا خیال ہے کہ موسمی فُلو یا عام نزلہ کی طرح، نیا کورونا وائرس بھی منہ کے پانی یا آلودہ سطح کو چھونے سے منتقل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب متاثرہ افراد کھانستے یا چھینکتے ہیں تو اُن کے منہ سے نکلنے والے قطروں کے ذریعے وائرس پھیلتا ہے۔ آلودہ دروازے کے دستے یا ٹرین میں لٹکے سہاروں کو چھونے اور پھر آلودہ ہاتھ سے ناک یا منہ کو چُھونے سے بھی انفیکشن ہو سکتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کورونا وائرس میں موسمی فُلو جتنی پھیلنے کی صلاحیت موجود ہے۔

کورونا وائرس انفیکشن کی روک تھام کے بنیادی اقدامات وہی ہیں جو موسمی فُلو کے خلاف اُٹھائے جاتے ہیں، یعنی ہاتھ دھونے اور کھانسی کے آداب پر عمل پیرا ہونا۔

لوگوں کو ہاتھ دھوتے وقت صابن استعمال کرنے اور ہاتھوں کے ہر حصے کو کلائی تک کم سے کم 20 سیکنڈ تک بہتے ہوئے پانی سے دھونے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یا پھر الکحل کے ہینڈ سینیٹائزر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ انفیکشن کے پھیلاؤ کو قابو کرنے کا ایک اہم ذریعہ کھانسی کے آداب ہیں۔ لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کو آلودہ بوندوں سے بچانے کے لئے ٹشو پیپر یا آستین سے اپنی ناک اور منہ کو ڈھانپ لیں۔ دیگر مؤثر اقدامات میں بھیڑ والی جگہوں سے اجتناب اور گھر کے اندر رہتے وقت کمرے کو ہوا دار رکھنے کے لئے کھڑکیاں کھولنا شامل ہیں۔

جاپان میں ہر ریلوے کمپنی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ بھری مسافر ٹرینوں کی کھڑکیاں کھولیں یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرین ایک خاص حد تک پہلے ہی ہوادار ہوتی ہیں کیونکہ مذکورہ کمپنیاں اسٹیشنوں پر رک کر مسافروں کو اتارنے یا سوار کرنے کے لئے دروازے کھولتی رہتی ہیں۔

سوال نمبر 1: کورونا وائرس کیا ہے؟

یہ وائرس انسانوں اور دیگر جانوروں کو متاثر کرتا ہے۔ عام طور پر یہ لوگوں کے درمیان پھیلتا ہے اور اس سے عام زکام کی علامات جیسا کہ کھانسی، بخار اور ناک بہنا پیدا ہوتی ہیں۔ اس وائرس کی چند اقسام نمونیا یا دیگر سنگین علامات کا باعث بن سکتی ہیں مثال کے طور پر مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سِنڈروم یا MERS نامی بیماری کا باعث بننے والی قِسم، جس کی 2012 میں پہلی بار تصدیق سعودی عرب میں ہوئی تھی۔

عالمگیر وبا کا باعث بننے والا یہ وائرس کورونا کی نئی قسم ہے۔ متاثرہ افراد میں بخار، کھانسی، تھکاوٹ، بلغم، سانس لینے میں دقّت، گلے کی سوزش اور سر درد جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔

تقریباً 80 فیصد مریض ہلکی علامات کا سامنا کرنے کے بعد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ لگ بھگ 20 فیصد مریضوں کو سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے نمونیا یا ایک سے زائد اندرونی اعضاء کا کام چھوڑ دینا۔

وہ لوگ جن کی عمر 60 برس سے زیادہ ہے یا جو ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کی بیماریوں، سانس کی بیماریوں یا کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں،اُن کی حالت نازک ہو سکتی ہے یا ان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ بچوں میں بھی انفیکشن کی اطلاع ملی ہے تاہم ان میں علامات نسبتا ًمعمولی ہیں۔
TOP