کورونا وائرس پر سوال و جواب

نئے کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے سامعین کے ذہنوں میں بہت سے بنیادی سوالات موجود ہیں۔ این ایچ کے، کے ماہرین اس بارے میں سامعین کے سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔

سوال نمبر178 : ویکسینیں 8 ، ایم آر این اے ویکسین کیا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسینیشن سے متعلق سلسلے کی آٹھویں قسط پیش کر رہے ہیں جس میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ ایم آر این اے ویکسین کیا ہے؟

جِین یا مورُوثہ ویکسین جس میں نئے کورونا وائرس سے جینیاتی لڑیاں ہوتی ہیں، اُسے تجارتی کر دیا گیا ہے۔ جاپان نے امریکہ کی ادویات ساز کمپنی فائزر اور جرمنی کی کمپنی بیون ٹیک کی مشترکہ طور پر تیار کردہ ویکسین استعمال کرتے ہوئے 17 فروری کو اپنا کووِڈ 19 ویکسین منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ یہ ویکسین اور امریکہ کی ادویات ساز کمپنی موڈرنا کی تیار کردہ ایک اور ویکسین، دونوں ایم آر این اے ویکسین ہیں جن میں جینیاتی مواد ہے۔

یہ ویکسین انسانی جسم میں ایم آر این اے انجکشن لگانے سے کام کرتی ہے جس میں وائرس کی سطح پر پائے جانے والے اسپائیک پروٹین سے جینیاتی معلومات ہوتی ہیں۔ یہ ایم آر این اے، انسانی خلیے میں اسپائیک پروٹینز بنانے کیلئے جینیاتی معلومات کے طور پر کام کرتے ہیں۔

جسم کا مدافعتی نظام ان اسپائیک پروٹینز کے خلاف بیشمار انٹی باڈیز یعنی خون میں مادے تخلیق کرنے کیلئے کام کرنے لگتا ہے۔ جب ایک حقیقی وائرس جسم میں داخل ہوتا ہے تو یہ مادے فوری طور پر حملہ کر دیتے ہیں۔

لیکن ایم آر این اے میں استحکام کی کمی ہوتی ہے۔ جب اسے ویکسین کے طور پر لگایا جاتا ہے تو یہ جلد ہی تحلیل ہوجاتا ہے اور جسم میں باقی نہیں رہتا۔

مزید برآں، کہا جاتا ہے کہ ایم آر این اے ویکسین نہایت محفوظ ہے کیونکہ یہ خلیے کے تخمدان میں داخل نہیں ہوتی جس میں انسانی مورُوثہ ہوتا ہے۔

یہ معلومات 17 فروری تک کی ہیں۔

سوال نمبر177 : ویکسینیں 7 ، جاپان کے ویکسینیشن منصوبے میں کن دیرینہ بیماریوں کو ترجیح دی گئی ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسینیشن سے متعلق سلسلے کی ساتویں قسط پیش کر رہے ہیں جس میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ کسی شخص کو پہلے سے لاحق وہ کونسی بیماریاں ہیں جنہیں جاپان کے کووِڈ 19 ویکسینیشن منصوبے میں ترجیح دی جائے گی۔

جاپان کی وزارت صحت نے بیماریوں کی ایک فہرست مرتب کی ہے جن میں دل اور گردے کے دیرینہ امراض، سانس کی بیماری، سرطان اور سوتے میں سانس کا متعدد بار رُک جانا جیسی بیماریوں کی وجہ بننے والی قوّت مدافعت کی کمزوری شامل ہیں۔ ایسے لوگ جو ہسپتال میں داخل ہیں یا اس طرح کی دیرینہ بیماریوں کیلئے معمولاً ڈاکٹر کے پاس جاتے ہوں، اُنہیں ترجیح دی جائے گی۔

انتظامیہ مریضوں کیلئے اُن کی طبّی حالت کا سرٹیفکیٹ طلب نہیں کرے گی۔ مریضوں کو صرف سوالنامہ پُر کرنا ہوگا۔

جن لوگوں کا وزن اور قد سے نکالی گئی قدر کا اشاریہ بی آیم آئی 30 یا اس سے زیادہ ہو، اُنہیں بھی ترجیح دی جائے گی۔ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ جاپان میں موٹاپے کے اس زمرے میں آنے والے بالغ لوگوں اور دیرینہ بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد تقریباً 82 لاکھ ہے۔

یہ معلومات 16 فروری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 176: ویکسینیں 6 ، پہلے کسے ویکسین لگائی جائے گی؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کا سوال یہ ہے کہ ویکسینیں سب سے پہلے کس کو لگیں گی؟

جاپان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ ترجیحی ترتیب کے مطابق ویکسین کے ٹیکے سب سے پہلے طبی کارکنان کو لگیں گے۔ اس کے بعد 65 سال یا اِس سے زائد عمر کے لوگوں کو اور پھر معمر افراد کے مراکز میں کام کرنے والے لوگوں اور پہلے سے بیماریوں میں مبتلا افراد کو ٹیکے لگائے جائیں گے۔

وزارت معمر افراد کی دیکھ بھال کے مراکز کے عملے کیلئے مخصوص شرائط کے تحت، معمر افراد کے ٹیکے لگانے کے وقت ایک ساتھ ہی ٹیکہ لگانے کی اجازت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ مثلاً اُس وقت جب ڈاکٹر ویکسین کا ٹیکہ لگانے کیلئے معمر افراد کے مراکز پر آئیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایسے مراکز پر انفیکشن کلسٹرز کی روکتھام کرنا ہے۔

ان شرائط میں یہ بات شامل ہے کہ مرکز میں روزانہ کی بنیاد پر معمر افراد کی نگرانی کرنے والا ڈاکٹر موجود ہو۔ یہ اس امر کو یقینی بنانے کیلئے ہے کہ مرکز میں معمر افراد کو ٹیکہ لگنے کے بعد وہاں اُن کی حالت پر نظر رکھنے کیلئے عملے کے اُس رکن کے بجائے کوئی موجود ہو جسے ویکسین لگائی جائے گی۔

ویکسین کے ٹیکے صرف اُن لوگوں کو لگائے جائیں گے جو یہ لگوانے کے خواہشمند ہوں۔ بعض معمّر افراد سے متعلق یہ تصدیق کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ وہ ٹیکہ لگوانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ ایسی صورت میں وزارت کہے گی کہ فیصلے اُن افراد کے اہلِ خانہ یا ڈاکٹروں کی مدد سے کیے جائیں۔

یہ معلومات 15 فروری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 175: ویکسینیں 5 ، ویکسینیشن کا طریقۂ کار

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ٹیکے لگانے کے جاپانی منصوبے میں ملک میں مقیم غیر ملکی بھی شامل ہیں اور وہ حکومتی اعانت سے فراہم کی جانے والی ویکسینیں لگوا سکتے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ ویکسینیشن کی جگہوں پر یہ ویکسینیں کس طرح لگائی جا رہی ہیں۔

بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کیلئے، جس شخص کو ویکسین لگوانی ہے پہلے وہ بلدیہ کی جانب سے لوگوں کے گھروں پر بھیجا گیا ایک کوپن استقبالیہ پر جمع کروائے گا اور اپنی شناخت کی تصدیق اپنے ڈرائیونگ لائسنس، انشورنس کارڈ یا دیگر طریقے سے کروائے گا۔

ویکسین لگوانے والا اپنی صحت کی حالت، ماضی کی طبی تفصیلات سے متعلق سوالنامہ لازمی پُر کرے گا اور اس بات کے تعین کیلئے ڈاکٹر سے معائنہ کروائے گا کہ اُسے ویکسین لگ سکتی ہے یا نہیں۔

اگر اس مرحلے تک کوئی مسائل نہ ہوں تو اُسے ویکسین کا ٹیکہ لگ سکتا ہے۔ ہر شخص کو ٹیکہ لگوانے میں دو منٹ تک کا وقت لگے گا۔

ٹیکہ لگوانے کے بعد اُسے ایک تصدیق نامہ ملے گا جس میں ٹیکہ لگنے کی تاریخ اور جو ویکسین لگی ہے اُس کا نام لکھا ہوگا۔ یہ تصدیق نامہ ویکسین کی دوسری خوراک کا ٹیکہ لگوانے کیلئے ضروری ہے۔

ویکسین لگوانے والے کیلئے یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ وہ ویکسین لگوانے کے بعد فوری طور پر گھر نہیں جا سکتا۔ وزارت صحت نے ویکسین لگوانے والوں سے درخواست کی ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد اُسی مقام پر اُن کی طبیعت کے مشاہدے کی غرض سے قائم کی گئی ایک مخصوص جگہ میں 15 منٹ سے زیادہ ٹھہریں۔

بیرونِ ملک ٹیکے لگانے کی طبّی آزمائشوں کے مطابق، جاپان کو فراہم کی جانے والی ویکسین کا ٹیکہ لگنے والے بعض افراد نے ویکسین لگوائے جانے کے بعد سر درد یا تھکاوٹ کی علامات ظاہر ہونے کی اطلاعات دی ہیں۔ ویکسین سے سخت الرجی ردعمل سمیت شدید اثر پذیری ردعمل کے غیر معمولی واقعات کی اطلاعات امریکہ اور دنیا بھر میں دیگر جگہوں پر بھی رپورٹ کی گئی ہیں۔

ویکسین لگائے جانے کی جگہوں پر امدادی مراکز قائم کیے جائیں گے تاکہ ویکسین لگوانے کے بعد طبیعت خراب محسوس کرنے والے کسی بھی شخص کی دیکھ بھال کی جا سکے۔

یہ معلومات 12 فروری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 174: ویکسینیں 4 ، ہم کورونا ویکسین کے ٹیکے کیسے اور کہاں سے لگواسکتے ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگوانے سے متعلق اپنے سلسلے کی چوتھی قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ جاپان میں کووِڈ 19 کی ویکسینوں کے ٹیکے کیسے اور کہاں لگائے جا رہے ہیں؟

باور کیا جاتا ہے کہ جاپان میں بلدیاتی حکومتیں ویکسینوں کے ٹیکے مرکزی حکومت کی رہنمائی کے تحت لگائیں گی۔ توقع ہے کہ ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے خواہشمند لوگوں نے جس بلدیاتی علاقے میں اپنی رہائش کا اندراج کروا رکھا ہے وہ وہاں سے ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

جو لوگ اپنے کام کی وجہ سے اپنے گھر سے دور مقیم ہیں یا جن لوگوں کو ہسپتال میں داخل کیا جا رہا ہے، انہیں استثنیٰ کے طور پر دیگر بلدیاتی علاقوں میں ٹیکے لگوانے کی اجازت ہے۔ ٹیکے لگوانے کیلئے درکار کوپنز بلدیاتی انتظامیہ کی جانب سے ڈاک کے ذریعے آپ کے گھر کے پتے پر پہنچا دیے جائیں گے۔ اگر آپ ان میں سے ایک کوپن ویکسین کے ٹیکے لگانے کی جگہ پر لائیں تو آپ کو ویکسین کا ٹیکہ مفت لگایا جائے گا۔

لیکن ضروری ہوگا کہ آپ وہاں جانے سے پہلے فون یا دیگر طریقوں سے وقت کا تعین کروا لیں۔ طبی ادارے، سماجی ہالز اور جمنازیم ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے مقامات ہوں گے۔ اگلی قسط میں ہم آپ کو ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے مخصوص طریقۂ کار بتائیں گے۔

یہ معلومات 4 فروری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 173: ویکسینیں 3 ، ویکسینیں کتنے عرصے کیلئے مؤثر ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگوانے سے متعلق اپنے سلسلے کی تیسری قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ کووِڈ 19 کی ویکسینوں سے ملنے والی قوت مدافعت کی میعاد کتنی ہے؟

جاپان اور بیرونِ ملک کووِڈ 19 کی کئی ویکسینیں تیار کی جا چکی ہیں یا تیار کی جا رہی ہیں۔ لیکن ابھی تک ہم یہ نہیں جانتے کہ ان کے اثر انداز ہونے کی صلاحیت کتنے عرصے تک قائم رہے گی کیونکہ بیرونی ملکوں میں ان کی طبی آزمائش اور حقیقتاً ویکسین کے ٹیکے لگانے کا ابھی محض آغاز ہوا ہے۔

جاپان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ یہ ویکسینیں ممکنہ طور پر نئے کورونا وائرس کی تبدیل شدہ اقسام کے خلاف بھی مؤثر ہیں۔ وزارت کے حکام نے کہا ہے کہ عام طور پر وائرس متواتر تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور معمولی تبدیلیوں سے ویکسینوں کی افادیت ختم ہو جانے کا غالب امکان نہیں ہے۔

آزمائش کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ فائزر ویکسین اور اس وقت دستیاب دیگر ویکسینوں کے ٹیکے، لگائے گئے افراد میں اینٹی باڈیز یعنی خون میں پیدا ہونے والے جراثیم کے خلاف مدافعتی مادے بڑھے جو کورونا وائرس کی تبدیل شدہ اقسام کے خلاف بھی کارگر رہے۔ حکام نے کہا ہے کہ وہ جاپان میں جاری آزمائش کے دوران ویکسینوں کی افادیت اور محفوظ ہونے کی تصدیق کریں گے جس میں ان کے کورونا کی تبدیل شدہ اقسام کے خلاف اثر انداز ہونے کی صلاحیت شامل ہے۔

یہ معلومات 3 فروری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 172: ویکسینیں 2 ، ویکسین کے ٹیکے لگوانا کیوں ضروری ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگوانے سے متعلق اپنے سلسلے کی دوسری قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ ویکسین کے ٹیکے لگوانا کیوں ضروری ہے؟

ویکسین کے ٹیکے لگانے کا مقصد لوگوں کو قوت مدافعت دینا یا اُن کے مدافعتی نظام کو تقویت دینا ہے۔ توقع ہے کہ اس سے انفرادی لحاظ سے لوگوں میں علامات بڑھنے یا شدید بیمار پڑ جانے کی روکتھام ہوگی۔ مزید برآں، توقع ہے کہ اس سے آبادیوں میں بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے گا۔

جاپان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ بیرونِ ملک طبی آزمائش کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ نئے کورونا وائرس کی ویکسینیں طبیعت شدید خراب ہو جانے یا بخار جیسی علامات کی روکتھام کیلئے مؤثر ہیں۔

اگر ویکسین کے ٹیکے لگانے سے شدید بیمار مریضوں اور بیماریوں سے ہونے والی اموات کی تعداد کم کرنے میں مدد مل سکے تو اس سے صحت دیکھ بھال کے نظام پر بوجھ میں کمی ہوگی۔

یہ معلومات 2 فروری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 171: ویکسینیں 1 ، غیر ملکیوں کیلئے ویکسینیشن

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسینوں سے متعلق اپنے سلسلے کی دوسری قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال جاپان میں مقیم غیر ملکیوں کو ویکسین کے ٹیکے لگانے سے متعلق ہے؟

جاپان میں مقیم غیر ملکی کورونا وائرس ویکسین کے ٹیکے اُن بلدیاتی علاقوں میں لگوا سکتے ہیں جہاں اُن کا نام رہائشی کے طور پر درج ہے۔

جاپان کا ویکسینیشن منصوبہ وزارت صحت کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد 17 فروری کو شروع ہو چکا ہے۔ طبی کارکنان سے ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز ہو کر اس کا دائرہ بتدریج معمر افراد تک پھیل جائے گا۔ اس کے بعد بیماریوں میں مبتلا لوگوں اور دیگر افراد کو ٹیکے لگائے جائیں گے۔ توقع ہے کہ معمر افراد کو ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز اپریل میں کسی وقت ہوگا۔

ویکسین کے ٹیکے لگائے جانے کی جگہیں اُصولی طور پر اُن بلدیات میں قائم کی جائیں گی جہاں لوگوں کا نام رہائشی کے طور پر درج ہے۔ حکومت یہ ٹیکے لگوانے کیلئے مطلوبہ کوپن لوگوں کے گھروں میں بھیجنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ویکسین کے ٹیکے مفت لگائے جائیں گے۔

یہ معلومات 17 فروری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 170: کارکنان کیلئے حکومت کا اعانتی فنڈ، درخواست کیسے دی جائے؟ -2

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم کورونا وائرس کی عالمی وباء کے باعث کام سے چھٹی لینے پر مجبور ہو جانے والے کارکنان کیلئے حکومت کے اعانتی فنڈ سے متعلق دو حصوں پر مشتمل سلسلے کی دوسری قسط پیش کر رہے ہیں۔ آج کا موضوع یہ ہے کہ اس اعانتی فنڈ کیلئے درخواست کیسے دی جائے اور معلومات کہاں سے حاصل کی جائیں؟

یہ منصوبہ چھوٹی اور درمیانے درجہ کی کمپنیوں کے اُن ملازمین کیلئے ہے جنہیں اُن کے آجران نے ہدایت دی ہو کہ عالمی وباء کے باعث کام سے چھٹی کریں اور جن کے آجران نے اُنہیں قانونی طور پر مطلوبہ وظائف نہیں دیے ہوں۔ ایسی کمپنیوں میں کام کرنے والے تکنیکی تربیتی کارکنان بھی اُجرت لینے کے مجاز ہیں۔

ایسے کارکنان نے چھٹی لینے سے قبل جتنی اُجرت کمائی تھی وہ اُس کا 80 فیصد وصول کر سکتے ہیں جس کی حد 11 ہزار ین یومیہ ہے۔ یہ اُجرت گزشتہ سال اپریل سے اُس وقتی دورانیے تک کیلئے وصول کی جا سکتی جب وہ کام نہیں کر سکے تھے۔ اس منصوبے میں ہنگامی حالت اُٹھائے جانے والے مہینے کے اگلے ماہ کے اختتام تک کے دورانیے کا احاطہ کیا جائے گا۔

وزارتِ محنت کی ویب سائٹ پر درخواست سے متعلق معلومات جاپانی، انگریزی، پرتگالی، ہسپانوی اور چینی زبان میں موجود ہیں۔ آرگنائزیشن فار ٹیکنیکل انٹرن ٹریننگ، او ٹی آئی ٹی کی ویب سائٹ پر چینی، ویتنامی، تگالوگ، انڈونیشیائی، تھائی، انگریزی، کمبوڈیائی اور برمی زبان میں معلومات دستیاب ہیں۔

اس منصوبے سے متعلق سوالات کے جوابات دینے کیلئے وزارت محنت کی مفت فون کی ایک سہولت صرف جاپانی زبان میں دستیاب ہے۔ اس کا ٹیلیفون نمبر 276-221-0120 ہے۔
اوقات: پیر تا جمعہ، صبح 8:30 سے رات 8 بجے تک۔
اختتامِ ہفتہ اور تعطیلات کے دوران: صبح 8:30 سے شام 5:15 تک۔

یہ معلومات 29 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

وزارت صحت، محنت اور بہبود کی ویب سائٹ کا پتہ:
https://www.mhlw.go.jp/stf/kyugyoshienkin.html#otoiawasesaki
(جاپانی، انگریزی، پرتگالی، ہسپانوی اور چینی زبان میں)
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے

آرگنائزیشن فار ٹیکنیکل انٹرن ٹریننگ کی ویب سائٹ کا پتہ:
https://www.otit.go.jp/CoV2_jissyu_seikatsu
(جاپانی، چینی، ویتنامی، تگالوگ، انڈونیشیائی، تھائی، انگریزی، کمبوڈیائی اور برمی زبان میں)
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے

سوال نمبر 169: کارکنان کیلئے حکومت کے اعانتی فنڈ کی مدت میں توسیع -1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم کورونا وائرس کی عالمی وباء کے باعث کام سے چھٹی لینے پر مجبور ہو جانے والے کارکنان کیلئے حکومت کے اعانتی فنڈ سے متعلق دو حصوں پر مشتمل سلسلے کی پہلی قسط پیش کر رہے ہیں۔

وزارتِ محنت نے کہا تھا کہ ایسے افراد جنہوں نے کورونا وائرس کی وباء کے باعث کام سے چھٹی لی اور جن کے آجران اُنہیں قانونی طور پر مطلوبہ وظائف ادا نہ کر سکیں، وہ 28 فروری تک یہ اعانت لینے کے مجاز ہیں۔ اب حکام کا کہنا ہے کہ اس اعانتی منصوبے میں ہنگامی حالت اُٹھائے جانے کے ماہ کے بعد اگلے مہینے کے اختتام تک کیلئے توسیع کر دی گئی ہے۔

جاپان کا محنت کشوں سے متعلقہ معیارات کا قانون یہ شرط عائد کرتا ہے کہ جب کمپنیاں خود اپنی وجوہات کی بناء پر اپنے ملازمین کو چھٹی لینے کی ہدایت کریں تو اُنہیں اُجرت کا کم از کم 60 فیصد معاوضہ ادا کرنا چاہیئے۔ لیکن بعض کمپنیاں ناکام ہوتے کاروبار اور دیگر وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے ادائیگیاں نہیں کرتیں۔ مذکورہ وزارت نے کارکنان پر زور دیا ہے کہ جب ایسا ہو تو وہ اعانتی منصوبے کے تحت مدد کیلئے درخواست دیں۔

یہ منصوبہ چھوٹی اور درمیانے درجہ کی کمپنیوں کے اُن کارکنان کیلئے ہے جنہیں گزشتہ سال اپریل کے بعد کبھی چھٹی لینے پر مجبور کیا گیا ہو۔ وہ چھٹی لینے سے قبل کمائی گئی اُجرت کا 80 فیصد حاصل کر سکتے ہیں جس کی یومیہ حد 11 ہزار ین ہے۔

اس اعانت کیلئے کارکنان یا کمپنیاں دونوں ہی درخواست دے سکتے ہیں۔ وزارت کے حکام لوگوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ آجر تعاون کنندہ نہ ہونے کی صورت میں بھی درخواست جمع کروائیں۔ اگلی قسط میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ درخواست کیسے دی جائے اور مزید معلومات کیلئے کس سے رابطہ کیا جائے۔

یہ معلومات 28 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 168: کیا 15 سال یا اس سے کم عمر کے بچوں کیلئے فائزر کی ویکسین استعمال کرنا ٹھیک ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے نقطۂ نظر کے بارے میں اپنے سلسلے کی ساتویں قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال 15 سال یا اس سے کم عمر بچوں کیلئے فائزر کی کورونا وائرس ویکسین کے ٹیکے لگانے سے متعلق ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے محکمۂ مامُونیت، ویکسینیں اور حیاتیات کی ڈائریکٹر کیتھرین اوبرائن نے 7 جنوری کو منعقدہ ایک اخباری کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے درج ذیل باتیں کہی تھیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر کمیٹی 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے اس ویکسین کا مشورہ نہیں دیتی کیونکہ عالمی ادارۂ صحت کے پاس ڈیٹا نہیں ہے۔

اوبرائن نے بتایا کہ طبی آزمائش میں ابھی تک 16 سال سے کم عمر بچوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے لیکن 12 سے 16 سال کی عمر کے بچوں میں اس کی افادیت کی جانچ کرنے کی غرض سے تحقیق جاری ہے، لہٰذا مستقبل میں مزید معلومات آنے والی ہیں۔

تاہم اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ویکسین کے ٹیکے لگانے کے ذمہ دار لوگ بچوں کے خاندانوں سے مشورے کے بعد ایسے بچوں کو ٹیکے لگانے کا انتخاب کر سکتے ہیں جنہیں دائمی بیماریاں ہوں یا کورونا وائرس انفیکشن سے بہت سنگین منفی نتیجے کا خطرہ درپیش ہو۔ لیکن اوبرائن نے زور دیا کہ عالمی ادارۂ صحت عموماً 16 سال سے کم عمر کے بچوں کیلئے کورونا ویکسین کے ٹیکے لگانے کا مشورہ نہیں دیتا۔

یہ معلومات 27 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 167: ویکسین کی قوت مدافعت یا اثر کتنے عرصے برقرار رہے گا؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے نقطۂ نظر کے بارے میں اپنے سلسلے کی چھٹی قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ ویکسین کا اثر کتنے عرصے برقرار رہے گا؟

عالمی ادارۂ صحت کے محکمۂ مامُونیت، ویکسینیں اور حیاتیات کی ڈائریکٹر کیتھرین اوبرائن نے 7 جنوری کو منعقدہ ایک اخباری کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے درج ذیل بیان دیا تھا۔

اُنہوں نے بتایا کہ طبی آزمائش موسمِ بہار میں شروع ہوئی تھی اور ہم ابھی تک ان ویکسینوں کے استعمال کے ابتدائی ایام میں ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ قوت مدافعت یا اثر کتنے عرصے تک رہے گا، اسے مذکورہ طبی آزمائش میں شریک لوگوں کو دیکھتے رہنے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ لہٰذا عالمی ادارۂ صحت ابھی تک جواب نہیں جانتا۔

اوبرائن نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت کی امید اور توقعات یہ ہیں کہ قوت مدافعت یا اثر دیرپا ہوگا۔ اُنہوں نے بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت اُن لوگوں کا مشاہدہ بھی کر رہا ہے جو قدرتی طور پر کووِڈ 19 سے متاثر ہوئے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس سے کچھ اشارہ مل جائے گا کہ قدرتی انفیکشن کی قوت مدافعت یا اثر کتنے عرصے رہتا ہے اور شاید اس کا اطلاق ویکسین سے متعلقہ اثر پر بھی کیا جائے گا۔ اُنہوں نے یہ بات دہرائی کہ اس موقع پر یہ بتانا قبل از وقت ہے کہ اثر کتنے عرصے رہے گا۔

یہ معلومات 26 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 166: کیا ویکسین لگوانے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کیلئے مختلف اقسام کی ویکسینیں لگوانا درست ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے نقطۂ نظر کے بارے میں اپنے سلسلے کی پانچویں قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ کیا ویکسین لگوانے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کیلئے مختلف اقسام کی ویکسینیں لگوانا کوئی مسئلے کی بات تو نہیں ہے؟

عالمی ادارۂ صحت کے محکمۂ مامُونیت، ویکسینیں اور حیاتیات کی ڈائریکٹر کیتھرین اوبرائن نے 7 جنوری کو منعقدہ ایک اخباری کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے درج ذیل بیان دیا تھا۔

اوبرائن نے بتایا کہ بعض ممالک میں ایک سے زیادہ ویکسینیں پہلے ہی استعمال کی جا رہی ہیں۔ اُنہوں نے تسلیم کیا کہ مختلف ویکسینوں کو ملانے اور مطابقت سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔ لیکن اُن کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص پہلی خوراک کے طور پر فائزر کی ویکسین لگوائے تو اُسے دوسری خوراک بھی فائزر کی ہی ویکسین لگوانی چاہیے۔ اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت اس بات سے آگاہ ہے کہ بعض ملکوں میں پہلی اور دوسری خوراک کیلئے مختلف ویکسینیں استعمال کی جا رہی ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ تحقیق کا بہت اہم دائرۂ کار ہے اور عالمی ادارۂ صحت سفارشات دینے کی غرض سے اس قسم کی تحقیق کو ترجیح دے گا۔

یہ معلومات 25 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 165: چھوٹے کاروباروں کیلئے اعانتی پروگراموں کیلئے درخواست دینے کی مدت میں 15 فروری تک توسیع

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم عالمی وباء کے تناظر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کو ان کے کاروبار قائم رکھنے اور کرائے کی ادائیگی کیلئے حکومت کے اعانتی پروگرام سے متعلق بتا رہے ہیں۔

وزارتِ معیشت، تجارت اور صنعت نے کہا ہے کہ کاروباری اداروں کو اعانتوں کیلئے 15 فروری تک درخواستیں جمع کروانے کی اجازت ہوگی بشرطیکہ وہ اپنی درخواست سے متعلق جنوری کے اختتام تک مطلع کر دیں۔ اس سے پہلے درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ 15 جنوری تھی۔

حکومت کا "کاروبار قائم رکھنے کا اعانتی پروگرام" ایسے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو 20 لاکھ ین تک کی معاونت فراہم کرتا ہے جن کی آمدنی کورونا وائرس کے نتیجے میں کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔ "کاروباری جگہ کے کرائے کیلئے اعانتی پروگرام" ایسے کاروباری اداروں کو کرائے کی ادائیگی میں مدد دینے کیلئے رقم فراہم کرتا ہے۔

وزارت نے کہا ہے کہ وہ اعانتی پروگراموں کو توسیع نہیں دے رہی۔ لیکن اس کا کہنا ہے کہ ایسے کاروباری اداروں کو مد نظر رکھتے ہوئے جنہیں دوسری ہنگامی حالت کے نفاذ کے باعث مطلوبہ دستاویزات کی تیاری میں مشکلات پیش آ رہی ہوں، اُس نے درخواست دینے کی مدت کو 15 فروری تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم کاروباری اداروں کیلئے لازم ہوگا کہ پہلے وہ توسیع شدہ دورانیے میں درخواستیں جمع کروانے کی مختصر وجوہات سے 31 جنوری تک مطلع کریں۔

یہ معلومات 22 جنوری تک کی ہیں۔
مذکورہ معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 164: جو لوگ کسی انفیکشن سے شفایاب ہو چکے ہیں کیا انہیں ویکسین کے ٹیکے لگوانے چاہیئں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے نقطۂ نظر کے بارے میں اپنے سلسلے کی چوتھی قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ جو لوگ کسی انفیکشن سے شفایاب ہو چکے ہوں انہیں ویکسین کے ٹیکے لگوانے چاہیئں یا نہیں؟

عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین کے تزویراتی مشاورتی گروپ برائے مامُونیت کے عملی گروپ کے سربراہ علیہندرو کراویوتو نے اس معاملے سے متعلق 7 جنوری کو منعقدہ ایک آن لائن اخباری کانفرنس میں درج ذیل باتیں کیں۔

اُنہوں نے بتایا کہ یہ تجویز عالمی ادارۂ صحت کی بڑی سفارشات میں سے ایک تھی کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ جو لوگ کووِڈ سے متاثر ہوئے، جن کی پی سی آر یا انٹیجین ٹیسٹ سے تصدیق ہو چکی ہے، انہیں ویکسین کے ٹیکے لگانے سے علیحدہ نہیں کر دینا چاہیے۔ کراویوتو نے نشاندہی کی کہ وہ نہیں جانتے کہ قدرتی اثر کسی شخص کو کتنے عرصے تک وائرس سے دوبارہ متاثر ہونے سے محفوظ رکھے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ 6 جنوری کو جاری ہونے والی ایک دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ لوگ 8 ماہ تک محفوظ رہے لیکن یہ ڈیٹا لوگوں کو ویکسین کے ٹیکے نہ لگانے کیلئے کافی نہیں ہے۔

دوسری جانب، اُنہوں نے مزید کہا کہ اگر ایک بار انفیکشن سے متاثر ہو جانے والا شخص کچھ انتظار کرنا اور یہ چاہے کہ دیگر جن لوگوں کو خطرہ لاحق ہے اُنہیں پہلے ویکسین لگا دی جائے تو اس بات کا فیصلہ ہر شخص خود ذاتی طور پر کرے گا۔

اسی اخباری کانفرنس میں عالمی ادارۂ صحت کے محکمۂ مامُونیت، ویکسینیں اور حیاتیات کی ڈائریکٹر کیتھرین اوبرائن نے کہا کہ دنیا نے ویکسین ابھی شروع کی ہے اور ہر ملک نے اسے انتہائی بلند ترین ترجیحی گروپ سے لگانا شروع کیا ہے۔ اس بات کا امکان کافی کم ہی ہے کہ کوئی شخص جو وائرس سے متاثر ہو چکا ہوا وہ چھ ماہ میں دوبارہ وائرس کا شکار ہو جائے۔ تاہم اوبرائن کا کہنا تھا کہ عالمی ادارۂ صحت یہ رائے نہیں دے رہا کہ دراصل ویکسین لگانے کے منصوبے میں ایسے کسی شخص کو شامل نہ کیا جائے یا اُسے ویکسین لگانے میں تاخیر کی جائے۔

یہ معلومات 21 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 163: جو لوگ پہلے ہی سے بیماری میں مبتلا ہوں کیا انہیں ویکسین کے ٹیکے لگوانے چاہیئں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے نقطۂ نظر کے بارے میں سلسلے کی تیسری قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ جو لوگ پہلے ہی سے بیماری کی حالت میں ہوں انہیں ویکسین کے ٹیکے لگوانے چاہیئں یا نہیں؟

عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین کے تزویراتی مشاورتی گروپ برائے مامُونیت کے عملی گروپ کے سربراہ علیہندرو کراویوتو نے 7 جنوری کو منعقدہ ایک آن لائن اخباری کانفرنس میں درج ذیل باتیں کیں۔

جناب کراویوتو کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ویکسین کے ٹیکے لگائے جانے چاہیئں یا نہیں، اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ پہلے ہی سے کس قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ کوئی بھی شخص جسے کسی بھی ویکسین سے شدید الرجی ہو جاتی ہے اُسے یہ ویکسین نہیں لگوانی چاہیے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ اگر کسی کو خوراک یا دیگر مصنوعات سے الرجی ہوتی ہو تو انہیں ویکسین استعمال کرنے سے کوئی غیر موافق علامت نہیں ہوتی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ وہ ایسی جگہ پر ویکسین کے ٹیکے لگانے کا مشورہ دیتے ہیں جہاں شدید الرجی ردعمل کا مؤثر انداز میں اور فوری طور پر علاج کیا جا سکتا ہو۔

اسی اخباری کانفرنس میں عالمی ادارۂ صحت کے محکمۂ مامُونیت، ویکسینیں اور حیاتیات کی ڈائریکٹر کیتھرین اوبرائن نے درج ذیل باتیں کہیں۔

اوبرائن نے کہا کہ ایسے لوگ جو طویل عرصے سے بیماری میں مبتلا ہوں، امراضِ قلب، طویل عرصے سے پیپھڑے کے عارضے میں مبتلا لوگ، ذیابیطس یا موٹاپے کے شکار افراد وہ لوگ ہیں جو دراصل کووِڈ 19 انفیکشن سے سنگین اثرات پڑنے کے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان بیماری میں مبتلا لوگوں کو ٹیکے لگائے جائیں۔

عالمی ادارۂ صحت کی ڈائریکٹر نے کہا کہ اُن کے پاس ابھی تک اس بارے میں ڈیٹا نہیں ہے کہ آیا ویکسین کے ٹیکے لگانے سے حاملہ خواتین کو تشویش لاحق ہوتی ہے یا نہیں۔ تاہم اُنہوں نے زور دیا کہ اس امر پر یقین کر لینا بلاجواز ہے کہ ویکسینیں حاملہ خاتون یا جو نوزائیدہ بچہ رو رہا ہے اُس کیلئے نقصان دہ ہوگی۔ اُنہوں نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت مشورہ دیتا ہے کہ سفارش کے بلند ترین گروپ میں موجود خواتین، خصوصاً وہ جو صحت کارکنان ہیں، اپنے ویکسین فراہم کنندہ سے بات کریں اور تبادلۂ خیال کریں کہ کووِڈ 19 سے انہیں کیا خطرہ ہے اور اگر وہ کوئی اہم خطرہ ہو تو وہ پیشرفت کر کے ویکسین کا ٹیکہ لگوا سکتی ہیں۔

اوبرائن نے کہا کہ ایچ آئی وی انفیکشن کے شکار لوگوں کو ویکسین کا ٹیکہ لگوانا چاہیے اور کوئی بھی شخص جسے ایسے امراض ہوں جو اُسے سنگین بیماری کے خطرے سے دوچار کر سکتے ہوں، اُن کیلئے ویکسین کا ٹیکہ لگوانا بہتر ہے۔

یہ معلومات 20 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 162: کیا ویکسین کے ٹیکے لگانا وائرس کی متغیر قِسم کے خلاف کارگر ہوتا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے نقطۂ نظر کے بارے میں سلسلے کی دوسری قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ویکسین کا ٹیکہ کورونا وائرس کی متغیر قِسم کے خلاف کارگر ہے؟

دنیا کورونا وائرس کی تبدیل شدہ اقسام کا تیزی سے پھیلاؤ دیکھ رہی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے محکمۂ مامُونیت، ویکسینیں اور حیاتیات کی ڈائریکٹر کیتھرین اوبرائن نے 7 جنوری کو ایک آن لائن اخباری کانفرنس میں درج ذیل باتیں کہی ہیں۔

اوبرائن نے کہا کہ جب ویکسینیں تیار کی گئیں اور ان کی آزمائش کی گئی تو ان کی کئی وائرسوں کی مختلف اقسام کے خلاف جانچ کی گئی۔

اُنہوں نے بتایا کہ وائرس ہر وقت تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور یہ وائرس سے متعلقہ عام بات ہے۔ اوبرائن نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آیا وائرس اس طریقے سے تبدیل ہوتا ہے یا نہیں کہ یا تو خود بیماری ہی پر اثر ڈالتا ہو یا علاج معالجے کو متاثر کرتا ہو، یا پھر اس صورت میں آیا یہ ویکسینوں پر اثر ڈالتا ہے یا نہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ہم دنیا بھر میں ابھرتی ہوئی دو طرح کی متغیر اقسام کے بارے میں سنتے چلے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے منتقلی سے متعلق تشویش پائی جاتی ہے اور یہ کہ اس بارے میں تشخیص جاری ہے کہ آیا موجودہ ویکسینوں پر کسی بھی طور سے اثر پڑے گا یا نہیں۔

تاہم اُنہوں نے کہا کہ جو بات وہ بالکل اعتماد سے کہہ سکتی ہیں وہ یہ ہے کہ ہمیں ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل میں جس قدر تیزی سے ممکن ہو سکے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جیسی تبدیلیاں ان متغیر اقسام میں دیکھی جا رہی ہیں وہ غالباً ویکسینوں کا اثر تبدیل نہیں کریں گی۔

یہ معلومات 19 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 161: عالمی مجموعی صورتحال کیسی ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم نے ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے نقطۂ نظر کے بارے میں ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ دنیا بھر میں ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل کا آغاز ہو گیا ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ عمومی طور پر موجودہ عالمی صورتحال کیسی ہے؟

عالمی ادارۂ صحت کے محکمۂ مامُونیت، ویکسینیں اور حیاتیات کی ڈائریکٹر کیتھرین اوبرائن نے 7 جنوری کو ایک آن لائن اخباری کانفرنس میں گفتگو کی۔

اُنہوں نے کہا "چیزیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی ہیں۔ ہم اب اس مرحلے میں ہیں کہ ایسی کئی ویکسینیں اب موجود ہیں جنہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ واقعی کارگر ہیں۔

محترمہ برائن نے کہا کہ اُن میں سے کچھ کی تو کئی ملکوں میں منظوری دیدی گئی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ اب ویکسینوں کے ٹیکے بالخصوص زیادہ آمدنی والے ملکوں میں لگائے جا رہے ہیں اور توقع ہے کہ جلد ہی کم اور متوسط آمدنی والوں ملکوں میں بھی لگتے ہوئے دیکھے جائیں گے۔

اوبرائن کا کہنا تھا کہ ایسی کم از کم تین ویکسینیں ہیں جن کی جانچ ویکسین ڈیٹا کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ ترین معیارات کی صلاحیت والے ضابطہ جاتی نگرانوں نے کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ نگران تحفظ، اثر انگیزی اور ویکسین کی تیاری کے معیار کے ڈیٹا کا جائزہ لیتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ آسٹرازینیکا، موڈرنا اور فائزر کی تیار کردہ تین ایسی ویکسینیں ہیں جن کی منظوری بہترین معیار کی کم از کم ایک انتظامیہ نے دیدی ہے۔

محترمہ اوبرائن نے کہا کہ ایسی ویکسینیں بھی ہیں جن کی افادیت کے نتائج اعلانیہ جاری کر دیے گئے ہیں اور اُن کے ڈیٹا کے جائزے کا عمل ابھی تک جاری ہے۔ اُنہوں نے وضاحت کی کہ سِنوفارم اور سِنوویک جیسی ویکسینیں چین کی تیار کردہ ہیں اور ایک روسی ویکسین ہے جسے گمالیا انسٹیٹیوٹ نے تیار کیا ہے۔

اوبرائن کا کہنا تھا وہ سمجھتی ہیں کہ اہم ترین بات یہ ہے کہ ایسی ویکسینوں کی حقیقتاً بڑی پائپ لائن ہے جو انسانی طبی آزمائشوں سے گزر کر آ رہی ہیں اور ہم آئندہ آنے والے ہفتوں و مہینوں کے دوران خاصا متحرک ماحول دیکھتے رہیں گے۔ اُنہوں نے بتایا کہ ضابطہ جاتی نگران اس امر کی تصدیق کریں گے کہ آیا ان ویکسینوں کی عام آبادی میں استعمال کی غرض سے اجازت دینے کیلئے ڈیٹا معقول ہے یا نہیں۔

یہ معلومات 18 جنوری تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 160: ہنگامی حالت کے خاتمے پر کیا ہوتا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان کی جانب سے دوسری ہنگامی حالت کے اعلان سے متعلق گزشتہ ہفتے سے ایک سلسلہ پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے، "حکومت کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالت 7 فروری تک نافذ رہے گی۔ اس کے بعد کیا ہوگا؟"

کورونا وائرس سے متعلق ردعمل پر حکومت کے مشاورتی پینل کے سربراہ اومی شگیرُو نے 14 جنوری کو ایوانِ بالا کی کابینہ کمیٹی کے ایک اجلاس میں اس معاملے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر توقع کے مطابق 7 فروری کے قریب پہنچنے والے دنوں میں انفیکشنز کی تعداد کم ہو رہی ہو تو ہنگامی حالت کے تحت جو اقدامات نافذ کیے گئے ہیں ان میں بتدریج نرمی کی جا سکتی ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اگر نئے متاثرین کی تعداد ہموار رہے یا معمولی اضافہ ہو رہا ہو یا صرف بہت ہی معتدل تناسب سے کمی آ رہی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ ہنگامی حالت کے اقدامات ناکافی ہیں اور انسدادِ انفیکشن کے زیادہ ٹھوس اقدامات درکار ہوں گے۔

مشاروتی پینل کے سربراہ نے کہا ہے کہ موجودہ اقدامات کے مؤثر پن کا اندازہ لگانے کیلئے ماہرین انفیکشن کی صورتحال کی نگرانی کریں گے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس تخمینے کا یہ فیصلہ کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ کس قسم کے خاص مضبوط تر اقدامات کیے جانے چاہیئں۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر ایک طریقہ کاروباری اداروں سے یہ درخواست کرنا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی کاروباری سرگرمیوں کو عارضی طور پر معطل کر دیں۔ جناب اومی نے عندیہ دیا کہ مشاورتی پینل، انفیکشن کی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک ایسے منظر نامے کا قیاس کرے گا جس میں موجودہ ہنگامی حالت نے متوقع نتائج پیدا نہیں کیے اور مطلوبہ اضافی اقدامات پر تبادلۂ خیال کرے گا۔

براہِ مہربانی نوٹ فرمالیں کہ یہ معلومات 15 جنوری تک کی ہے۔

مذکورہ معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 152: جاپان میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم اس بارے میں بتا رہے ہیں کہ جاپان میں ہنگامی حالت کیا ہے؟

ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کورونا وائرس کے ردعمل میں ایک خصوصی قانون کی بنیاد پر کیا جانے والا اقدام ہے۔ اگر ملک میں وائرس تیزی سے پھیلے اور یہ لوگوں کی زندگی یا معیشت پر بہت زیادہ اثرات مرتب کر سکتا ہو تو وزیر اعظم ہنگامی حالت کا اعلان کر سکتا ہے۔ ہنگامی حالت کا دورانیہ اور اسے نافذ کیے جانے والے علاقے مخصوص کیے جائیں گے۔

مخصوص کردہ علاقوں کے پریفیکچروں کے گورنر شہریوں سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ باہر نکلنے سے گریز کریں اور انفیکشنز کے پھیلاؤ کی روکتھام کیلئے تعاون کریں۔ لوگوں کے ذریعۂ معاش کو قائم رکھنے کیلئے ضروری حالات میں اس سے استثنیٰ ہوگا۔

گورنر یہ کہنے یا اسکولوں کو بند کرنے یا ایسے ڈیپارٹمنٹ اسٹوروں جیسی جگہوں کا استعمال محددو کرنے کی ہدایت دے سکیں گے جہاں بہت سے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اگر بالخصوص ایسے اقدامات ضروری ہوں تو گورنر کے پاس عارضی طبی مراکز کیلئے زمین یا عمارات کو مالکان کی رضامندی کے بغیر استعمال کرنے کا اختیار بھی ہوگا۔

ہنگامی حالات میں گورنر نقل و حمل کی کمپنیوں سے طبی مصنوعات یا آلات پہنچانے کی درخواست یا انہیں ہدایت کر سکتے ہیں، یا جب ضروری ہو تو مفاد عامہ کیلئے طبی مصنوعات منتقل کروا سکتے ہیں۔

گزشتہ اپریل میں، اُس وقت کے وزیر اعظم آبے شنزو نے سات پریفیکچروں ٹوکیو، کاناگاوا، سائیتاما، چیبا، اوساکا، ہیوگو اور فُوکُو اوکا میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں، ہنگامی حالت کو وسعت دے کر پورے ملک میں نافذ کر دیا گیا۔

یہ معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 151: بچوں سے متعلق سوالات: باہر جاتے وقت اور دوستوں کے ساتھ کھیلتے وقت کس امر سے متعلق محتاط ہونا چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج ہماری بارہویں قسط میں سوال یہ ہے کہ کیا بچوں کو گھر سے باہر جانے اور دوستوں کے ساتھ کھیل کود سے گریز کرنا چاہیے؟

ماہرین بتاتے ہیں کہ بچوں کیلئے گھر سے باہر جانے اور دوستوں کے ساتھ کھیل کود سے گریز کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جبتک کہ وہ انفیکشن کی روکتھام کی تدابیر پر عمل کریں۔ بچے کی ذہنی اور جسمانی نشو و نما کیلئے کھیلنا کودنا بہت ضروری ہے۔ لہٰذا اگر انفیکشن میں کمی کیلئے تدابیر پر عمل کیا جا رہا ہے تو اُن کا دوستوں کے ساتھ کھیل کود کیلئے باہر جانا ٹھیک ہے۔

اسکول کی تعطیلات کے دوران گھومنے پھرنے کیلئے باہر جانے کی منصوبہ بندی کرتے وقت اپنے بلدیاتی ادارے اور جس جگہ آپ جانا چاہتے ہیں وہاں کی انفیکشن صورتحال کی جانچ پڑتال کرنا یاد رکھیں۔ یہ تصدیق بھی کر لیں کہ دونوں جگہوں پر انتظامیہ نے سفر سے گریز کرنے کی درخواست تو نہیں کر رکھی۔

باور کیا جاتا ہے کہ بند جگہوں پر کھیلنے کی نسبت باہر کھلی جگہ پر کھیلنے کودنے سے انفیکشن کا کم خطرہ ہوتا ہے۔ لیکن آپ کو درج ذیل نکات سے متعلق لازماً محتاط ہونا چاہیے۔
۔ جب بچوں کو نزلہ زکام کی طرح گلے میں خراش، کھانسی اور بخار جیسی علامات ہوں تو انہیں باہر کھیلنے کودنے سے گریز کرنا چاہیے۔
۔ بچوں کو چاہیے کہ ایسی چیزوں کو چُھونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو دھوئیں جنہیں کئی لوگ اکثر چُھوتے ہیں۔
۔ بچوں کو کھانے پینے سے پہلے بھی اپنے ہاتھ دھونے چاہیئں۔
۔ بچوں کو کھانا کھاتے وقت ایک دوسرے کا سامنا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

بند جگہوں پر کھیلنے کودنے سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے، لہٰذا درج ذیل نکات پر لازماً عمل کرنا چاہیے۔
۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وائرس سے واضح طور پر متاثرہ کوئی شخص بہت قریب نہیں ہے۔
۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ معمر افراد یا پہلے ہی سے انفیکشن کی ظاہری کیفیت کے حامل لوگ بہت قریب نہیں ہیں۔
۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے اور اُن کے اہلِ خانہ میں بھی نزلہ زکام جیسی کوئی علامات نہیں ہیں۔
۔ صرف چھوٹے گروپ ہی میں کھیلیں۔
۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے اپنے والدین کی اجازت سے کھیل کود رہے ہیں۔
۔ بچوں کو چاہیے کہ ایسی چیزوں کو چھونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو دھوئیں جنہیں کئی لوگ اکثر چھوتے ہیں۔
۔ بچوں کو کھانے پینے سے پہلے بھی اپنے ہاتھ دھونے چاہیئں۔
۔ بچوں کو کھانا کھاتے وقت ایک دوسرے کا سامنا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
۔ جگہ پر ہر گھنٹے میں کم از کم ایک بار ہوا کا اچھی طرح آنا جانا یقینی بنائیں۔

اگر آپ ایسی جگہ پر رہتے ہیں جہاں لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ باہر جانے سے گریز کریں تو بچوں کو درج ذیل تدابیر پر عمل کرنا چاہیے۔
۔ صرف اپنے بہن بھائی اور اپنے گھرانے ہی کے افراد کے ساتھ کھیلیں۔
۔ جب باہر جائیں تو اجنبی لوگوں سے ملنے سے گریز کریں۔

یہ معلومات 25 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 150: بچوں سے متعلق سوالات: کیا بچوں کو اسکول، کنڈرگارٹن یا دن کی دیکھ بھال کے مرکز جانے سے گریز کرنا چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج ہماری گیارہویں قسط میں سوال یہ ہے کہ کیا والدین کو بچوں کو اسکول، کنڈرگارٹن یا دن کی دیکھ بھال کے مرکز جانے دینے کے بجائے گھروں پر ہی رکھنا چاہیے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اُس وقت تک اسکولوں، کنڈرگارٹن یا دن کی دیکھ بھال کے مراکز سے رضاکارانہ طور پر دور رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے جب تک کہ بچہ طبیعت خراب محسوس نہ کرے یا وہ کسی ایسے شخص سے قریبی رابطے میں آیا ہو جس کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہو۔

ایسے علاقے جہاں کورونا وائرس کا کوئی بڑا پھیلاؤ دیکھنے میں نہیں آیا، وہاں متاثرہ بچوں میں سے کئی کو والدین جیسے ایک ہی گھر میں رہائش پذیر بالغ افراد سے وائرس انفیکشن ہوا۔ لیکن ایسی جگہوں پر وائرس منتقلی کے واقعات کی اطلاعات بھی ملتی رہی ہیں جہاں بچے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ لہٰذا اگر یہ تصدیق ہو جائے کہ وہاں کسی بچے کو وائرس انفیکشن ہوا ہے تو اسکولوں، کنڈرگارٹنز اور دن کی دیکھ بھال کے مراکز کو ایک مخصوص مدت کیلئے بند کیا جا سکتا ہے۔

وائرس پھوٹ پڑنے کے حالات کے مطابق مختلف ردعمل درکار ہوں گے، اس لیے براہِ مہربانی اُس بلدیاتی ادارے کی ہدایات پر عمل کیجیے جہاں آپ رہتے ہیں۔ اگر گھرانے میں کوئی شخص وائرس سے متاثر ہو جائے تو تصور کیا جائے گا کہ گھر کا بچہ یا بچے وائرس کے حامل شخص سے قریبی رابطے میں آئے ہوں گے۔ لہٰذا وہ لازماً گھر پر ہی رہیں۔ جاپان کی وزارتِ صحت بھی مشورہ دیتی ہے کہ اگر بچوں کو ہلکا بخار یا نزلہ زکام جیسی دیگر علامات ہوں تو وہ اسکول، کنڈرگارٹن اور دن کی دیکھ بھال کے مراکز جانے سے گریز کریں۔ یہ بات اہم ہے کہ اس مشورے پر ہر شخص عمل کرے۔

یہ معلوم ہو چکا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر کے متاثرہ بچے جن میں علامات ظاہر ہو رہی ہیں وہ وائرس کی نسبتاً بڑی مقدار خارج کرتے ہیں۔ یہ بھی مشہور ہے کہ کئی متاثرہ بچوں میں علامات مسلسل ظاہر ہی نہیں ہوتیں اور یہ کہ فضلے میں ایک طویل عرصے وائرس خارج ہوتا رہتا ہے۔ بچوں کے ارد گرد وقت صَرف کرنے والے بالغ لوگوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو دھونے اور ماسک پہننے جیسی مکمل تدابیر کرتے رہیں۔

یہ معلومات 24 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 149: بچوں سے متعلق سوالات: چہرے کے ماسک کیسے استعمال کریں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج ہماری دسویں قسط میں سوال یہ ہے کہ والدین کو اُن بچوں کیلئے کیا کرنا چاہیے جو چہرے کا ماسک نہیں پہن سکتے؟

ماہرین کہتے ہیں کہ وائرس سے متاثرہ مریض کے چھینکنے یا کھانسنے سے بکھرنے والے پانی کے ننھے قطروں کی براہِ راست زد میں آنے کے خلاف تحفظ کے نقطۂ نظر سے ماسک پہننا مؤثر تو ہے تاہم یہ امر غیر حقیقت پسندانہ ہے کہ دو سال سے کم عمر کے بچوں کو ماسک پہنایا جائے۔

چار سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کے معاملے میں، حالانکہ اس کا انحصار انفرادی شخص پر ہے، اس عمر کے گروپ کے بچوں کیلئے ماسک پہننا ناممکن ہے جبتک کہ والدین لازماً انہیں یہ نہ سکھائیں کہ ماسک کو صحیح طرح کیسے پہنا اور کیسے اُتارا جاتا ہے۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ کئی بچے اپنے گھروں کے اندر اپنے ہی والدین سے وائرس انفیکشن کا شکار ہوئے۔ بچوں کے وائرس سے متاثر ہونے کی روکتھام کیلئے والدین کیلئے اہم ہے کہ وہ خود وائرس سے متاثر نہ ہونے کیلئے انسدادِ انفیکشن تدابیر اختیار کریں۔ اگر خاندان کا ایک رکن وائرس سے متاثر ہو جائے تو متاثرہ فرد سے دو میٹر سے زیادہ کا فاصلہ برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

ماہرین زور دیتے ہیں کہ ہاتھوں کو دھونا اور اشیاء کو جراثیم سے پاک کرنا بھی اہم ہے کیونکہ بچے اپنے منہ، ناک یا آنکھوں سے، وائرس سے آلودہ ہو جانے والے کھلونوں اور کتابوں کو چھونے کی صورت میں وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ معلومات 23 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 148: کیا ماؤں کو چھاتی سےکم سن بچوں کو دودھ پلانا روک دینا چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج ہماری نویں قسط میں سوال یہ ہے کہ کیا ماؤں کو خود کو وائرس سے متاثرہ پائے جانے کی صورت میں کم سن بچوں کو چھاتی سے دودھ پلانا روک دینا چاہیے؟

ماہرین کہتے ہیں کہ ایک ماں کو کورونا ٹیسٹ مثبت آ جانے کی صورت میں بھی چھاتی سے دودھ پلانے سے مکمل دستبردار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ماں یہ انتخاب کر سکتی ہے کہ اپنی حالت اور ترجیحات کے مطابق آیا اپنے نوزائیدہ بچے کو چھاتی سے دودھ پلانا جاری رکھے یا نہیں۔

جب ماں وائرس سے متاثرہ ہو تو اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ چھونے یا کھانسی کے ذریعے وائرس اپنے کم سن بچے کو منتقل کر سکتی ہے۔ ایک رپورٹ آئی ہے کہ چھاتی کے دودھ میں کورونا وائرس کی جینز یعنی موروثہ پایا گیا ہے۔ لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا مذکورہ دودھ میں متعدی وائرس ہے۔ ماں کے دودھ میں کم سن بچوں کیلئے بہت سے فوائد ہیں اور انفیکشن کے خدشے کے باعث چھاتی سے دودھ پلانا روک دینے کا مشورہ معقول نہیں ہے۔

وائرس سے متاثرہ ماؤں کیلئے چھاتی سے دودھ پلانا جاری رکھنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک طریقہ تو چھاتی سے براہِ راست دودھ پلانے کا ہے اور دوسرا طریقہ ہے ماں کی چھاتی سے نکالا گیا دودھ بوتل کے ذریعے پلانا۔

کم سن بچے کو چھاتی سے براہِ راست دودھ پلانے سے پہلے ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے ہاتھ اچھی طرح دھوئے، انہیں جراثیم سے پاک کرے اور ماسک پہنے۔

ماں کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ اپنی چھاتی سے دودھ نکالنے سے قبل اپنے ہاتھوں کو دھوئے اور اپنے ہاتھوں، چھاتی اور چھاتی پمپ کو جراثیم سے پاک کرے۔ اس کے بعد ایسا کوئی شخص جو وائرس سے متاثرہ نہیں ہے، اُسے چاہیے کہ دودھ کو ایک بوتل میں ڈالے اور کمسن بچے کو پلائے۔

یہ معلومات 22 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 147: کیا بچوں کا معائنوں اور سرجری کیلئے ہسپتال میں داخلہ ملتوی کر دیا جانا چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج ہماری آٹھویں قسط میں سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں نئے کورونا وائرس کے علاوہ دیگر بیماریوں کیلئے معائنوں اور سرجری کی غرض سے اپنے بچوں کا ہسپتال میں داخلہ ملتوی کر دینا چاہیے؟

ماہرین نے کہا ہے کہ آپ کو بچوں کی بیماری کیلئے معائنوں اور علاج کو ترجیح دینی چاہیے اور بچوں کے ہسپتال میں داخلے سے قبل اُن کی صحت کی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔

جاپان میں ہسپتال کورونا وائرس کے مریضوں اور دیگر بیماریوں میں مبتلا لوگوں کوعلیحدہ علیحدہ سنبھالتے ہیں۔ آپ کو اُس ہسپتال سے تصدیق کرنا چاہیے جہاں آپ کے بچے کو متوقع طور پر داخل کیا جانا ہے، اسی دوران دراصل ہو سکتا ہے آپ کو دوبارہ یقین دہانی ہو جائے کہ آپ کا بچہ اس مرکز میں محفوظ ہوگا۔

توقع کی جا رہی ہے کہ کورونا وائرس انفیکشنز جاری رہیں گے، لہٰذا آپ کو چاہیے کہ اپنے بچے کی بیماری کے علاج اور معائنوں کو ترجیح دیں۔ اگر ہسپتال میں داخلے کی تاریخ پہلے ہی طے ہو چکی ہے تو پھر آپ کو داخلے سے دو ہفتے پہلے اپنے بچے کی صحت کی صورتحال سے متعلق خاص طور پر محتاط ہونا چاہیے اور ایسے طرزِ عمل سے گریز کرنا چاہیے جو انفیکشن کے خطرے کا سبب بنے۔ اگر بچے کی طبیعت ٹھیک نہیں یا وہ نزلہ و زکام کی علامات ظاہر ہونے والے لوگوں سے رابطے میں چلا آ رہا ہو تو ہسپتال میں اُس کے داخلے پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔

یہ معلومات 21 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 146: ہمیں کن صورتوں میں بچے کو فوراً ہسپتال لے جانا پڑے گا؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج ہماری ساتویں قسط میں سوال یہ ہے کہ کیا کورونا وائرس سے بچوں کے متاثر ہو جانے کی صورت میں انہیں ہسپتال میں داخل کروا دینا چاہیے؟ کیا ہسپتال میں داخل رہنے کے دوران والدین کو اپنے بچے سے ملنے یا اس کے ساتھ قیام کی اجازت ہے؟

ماہرین کا جواب جاپان میں صورتحال کی مناسبت سے ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ جب بچے کورونا وائرس سے متاثر ہوتے ہیں تو بیشتر کیسز میں معمولی علامات ہوتی ہیں اور طبی تناظر سے انہیں ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مگر ایسی صورتیں بھی ہیں جن میں بچے کو قانون کے مطابق ہسپتال میں لازمی داخل کرنا ہوتا ہے۔

اگر بچے کو وائرس گھر کے اندر والدین سے لگا ہو تو والدین اور بچہ دونوں کو بیک وقت ہسپتال میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ اگر والدین وائرس سے متاثر نہیں ہوئے تو ہو سکتا ہے کہ قرنطینہ مقاصد سے بچے کو اکیلا ہسپتال میں داخل کیا جائے۔

بچے کے ہسپتال میں داخل رہنے کے دوران والدین کو اپنے بچے کی دیکھ بھال کرنے کی اجازت دینے سے متعلق فیصلہ اسباب کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ حالات کے مطابق کیا جائے گا جن میں بچے کی عمر اور ہسپتال کی صورتحال شامل ہیں۔

اگر کسی بچے کو بیماری سے چھٹکارا مل جانے کے بعد بحالی صحت کے دوران گھر یا مقررہ مرکز میں قیام کی تلقین کی گئی ہو تو والدین کو بچے کے تندرست ہو جانے کے بعد بھی لازماً بذریعۂ فون عوامی صحت مرکز سے مشاورت کرنی ہوگی اور صحت معائنے جاری رکھنے ہوں گے۔

معمولی علامات کیلئے معیاری اصول کا تعین لازماً ایک طبی ماہر کرے گا ۔ان میں یہ شامل ہے کہ انفرادی شخص توانا ہو، مشروبات پی سکتا ہو اور وہ کسی دقّت کے بغیر سانس لے رہا ہو۔

اگر ایک بچہ بیمار محسوس کرے اور اُسے ہسپتال داخل کرنے کی ضرورت ہو تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ والدین یا تو وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں یا یہ قرار دے دیا گیا ہے کہ وہ وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں ہو سکتا ہے کہ والدین کو ہسپتال میں آنے یا اُنہیں اپنے بچے سے ملنے کی اجازت نہ دی جائے۔ ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈاکٹر سے مشورہ کریں کہ ایک دوسرے سے رابطہ کیسے کیا جائے کیونکہ یہ کئی طرح کے عوامل کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے جن میں والدین کے کورونا وائرس سے پہلے ہی شفایاب ہو جانے جیسی مخصوص حالت سمیت ہسپتال کی صورتحال اور انفیکشنز کی علاقائی صورتحال وغیرہ شامل ہیں۔

یہ معلومات 18 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 145: کیا شیر خوار بچوں کے معائنوں اور ویکسینیشن میں کچھ وقت کیلئے تاخیر کی جانی چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج ہماری چھٹی قسط میں سوال ایک سرپرست کی جانب سے ہے کہ کیا شیر خوار بچوں کیلئے طبی معائنوں اور ویکسینیشن میں کچھ وقت کیلئے تاخیر کی جانی چاہیے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان میں شیر خوار بچوں کے باقاعدہ معائنوں کا مقصد ایک مخصوص عمر کے بچوں پر اثر انداز ہو سکنے والے امراض اور مسائل کی فوری تشخیص کرنا ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ہے کہ بچوں کو مطلوبہ علاج معالجہ جس قدر جلد ممکن ہو سکے ملنا شروع ہو جائے۔ بچوں کو وبائی امراض سے متاثر ہونے سے پہلے ہی ٹیکے لگانا بھی انتہائی اہم ہے۔ انسدادِ کورونا وائرس اقدامات کرنا اہم ہے۔ لیکن ماہرین نے کہا ہے کہ اگر ہم نے بچوں کو ہسپتال لے جانے سے گریز کیا تو اس سے وہ دیگر ایسی سنگین بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہو جائیں گے جنہیں روکا جا سکتا ہے، لہٰذا گریز نہیں کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق ہر چند ماہ میں ہم نئے متاثرین میں دفعتاً اضافہ دیکھتے رہیں گے۔ ایسا ہونے کی صورت میں اگر والدین نے ہر مرتبہ اپنے بچوں کو معائنوں اور ویکسین لگوانے کیلئے لانے سے گریز کیا تو یہ بہت مسئلہ بن جانے والی بات ہوگی۔

وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ بعض بلدیات نے علاقے میں انفیکشن کی صورتحال کے تناظر میں شیرخوار بچوں کیلئے معائنوں کی فراہمی کے اپنے طریقے تبدیل کر دیئے ہیں۔ ایسی مثالیں بھی ہیں جن میں ٹیکہ لگوانے کا موقع کھو دینے والے بچوں کو بنیادی طور پر مقرر کردہ دورانیے کے بعد بھی ویکسینیشن مہیا کی جا رہی ہے تاکہ وہ بعد میں ٹیکہ لگواسکیں۔ ماہرین نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ معلومات کے حصول کیلئے عوامی صحت دفتر سے رابطہ کریں۔

چاہے گروپ ہو یا ایک فرد، بچے اور ان کے سرپرستوں کو چاہیے کہ جب وہ معائنوں یا ویکسین لگوانے کیلئے جائیں تو کورونا وائرس انفیکشن سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کریں۔ اُنہیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ گھر سے روانہ ہونے سے قبل انہیں بخار یا کھانسی جیسی علامات نہ ہوں۔ بچے کے ہمراہ جو بالغ افراد ہوں اُن کیلئے ہاتھوں کو دھونا اور ماسک پہننا قطعی لازمی ہے۔ بچے کے بہن بھائی اور دادا، دادی وغیرہ کو معائنے یا ویکسین لگوانے کی جگہ پر لے جانے سے بھی جس قدر ممکن ہو سکے گریز کریں۔ محقیقین نے بتایا ہے کہ نیا کورونا وائرس فضلے میں خارج ہو سکتا ہے۔ براہ مہربانی ڈائپرز کو معائنوں اور ویکسینیشن کی جگہوں کے ساتھ ساتھ طبی مراکز میں بھی تبدیل نہ کریں۔

یہ معلومات 17 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 144: کیا بچوں کو ہسپتال میں کسی سے ملاقات کیلئے جانے سے گریز کرنا چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج پانچویں قسط میں سوال ایک سرپرست کی جانب سے ہے کہ کیا بچوں کو ہسپتال میں لوگوں سے ملاقات کیلئے جانے سے گریز کرنا چاہیے؟

ماہرین نے کہا ہے کہ ملاقات کی غرض سے ہسپتال آنے والوں کیلئے ہر ہسپتال کے خود اپنے رہنماء اصول ہیں، لہٰذا ہر ایک کو پیشگی معلوم کرلینا چاہیے۔ اگر ملاقات کی اجازت ہو تو بچوں کو چاہیے کہ وہ گھر پر ہی اپنے درجۂ حرارت کی جانچ اور اس بات کی تصدیق کر لیں کہ ان میں کھانسی، ناک بہنے، اسہال یا قے ہونے جیسی علامات نہیں ہیں۔

انہیں ملاقات کیلئے مریض کے پاس جانے سے پہلے ہاتھوں کو دھونے اور ماسک پہننے جیسے انفیکشن کی روکتھام کے بنیادی اقدامات پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔

یہ معلومات 16 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 143: کن حالتوں میں بچے کو فوری طور پر ہسپتال لانا ضروری ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ بچوں کو نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج چوتھی قسط میں، ہمارا سوال یہ ہے کہ جب ہمیں یہ شبہ ہو جائے کہ بچے کی علامات شاید نئے کورونا وائرس کی وجہ سے ہیں تو کیا ہمیں اُسے فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی ضرورت ہے؟

ماہرین نے بتایا کہ یکم اگست تک جاپان میں متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ بیشتر حالتوں میں بچوں کو گھر پر اپنے سرپرستوں سے وائرس انفیکشن ہوا یا وہ گھر سے باہر اُس وقت متاثر ہوئے جب وہ گروپ سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے۔

وزارتِ صحت کے مطابق، وائرس سے اُن لوگوں کے بھی متاثر ہونے کا کافی امکان ہے جو کسی ایسے شخص کے بہت قریب رہے ہوں جس کا بعد ازاں کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہو، یا ایسے شخص کے ساتھ طویل وقت رہے ہوں۔ انہیں قریبی رابطے کہا جاتا ہے۔ مقامی عوامی صحت حکام ہر ایسے معاملے کا جائزہ لیتے ہیں اور تعین کرتے ہیں کہ آیا یہ شخص درحقیقت قریبی رابطے میں تھا یا نہیں۔

ماہرین نے سرپرستوں کو تلقین کی ہے کہ جب بچے میں کچھ علامات ظاہر ہوں یا وہ کسی متاثرہ شخص سے قریبی رابطے میں رہا ہو تو سب سے پہلے مقامی عوامی صحت مرکز سے رابطہ کریں۔

انہوں نے ایسے بچوں کو شفاخانوں یا ہنگامی دیکھ بھال کے مراکز نہ لانے کا مشورہ دیا ہے جن سے متعلق شبہ ہو کہ وہ متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ان جگہوں پر وہ انفیکشن کی تصدیق کیلئے ٹیسٹ نہ کروا سکیں۔

پی سی آر ٹیسٹ کیسے اور کہاں کروائے جائیں، یہ عمل رہائش کے علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہے۔ لہٰذا لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ مقامی عوامی صحت مراکز کی جانب سے جاریکردہ اطلاعات پر نظر رکھیں۔

بعض ہسپتالوں نے متاثرہ فرد ظاہر ہونے والی علامات کے حامل مریضوں کیلئے علیحدہ اوقات کار اور داخلی راستے مقرر کیے ہیں۔ یہ اقدام دیگر مریضوں کو وائرس سے متاثر ہونے سے بچانے کیلئے ہے۔ وہاں جانے والوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ہسپتال سے پیشگی معلومات حاصل کریں۔

جب بچوں کو کسی مخصوص وجہ کے بغیر کچھ وقت کیلئے بخار ہو، سانس لینے میں مشکل ہو، کھا یا پی نہ سکیں یا سُست ہو جائیں تو اس بات کا خاصا امکان ہے کہ وہ اگر کووِڈ 19 نہیں تو پھر بھی کسی نہ کسی قسم کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ماہرین کا سرپرستوں کو مشورہ ہے کہ فوری طور پر طبی ماہرین سے رابطہ کریں۔

یہ معلومات 15 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 142: جب بچے پہلے سے عوارض میں مبتلا ہوں تو کیا ہوتا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اس امر کے بارے میں دریافت کرتے آ رہے ہیں کہ نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

آج تیسری قسط میں، ہمارا سوال یہ ہے کہ جب بچہ دمہ کے عارضے یا دیگر بیماریوں میں پہلے ہی سے مبتلا ہو تو ہمیں خاص طور پر کس بات کی احتیاط کرنی چاہیے؟

ماہرین نے بتایا کہ عام طور پر جب بچے ان عوارض میں پہلے سے مبتلا ہوں تو وہ تنفسی وائرس انفیکشنز سے بہت بیمار پڑ سکتے ہیں۔ تاہم، یہ بھی جانا جاتا ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی کم فیصدی تعداد کو دمہ کا مرض ہے۔ مذکورہ بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خطرات اور ان پر کیا ردعمل کیا جائے، یہ بیماری کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ لہٰذا لوگوں کو تجویز کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ڈاکٹروں سے مشورہ کریں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ بیماری میں مبتلا افراد کے اہلِ خانہ اور ارد گرد جو لوگ ہیں وہ محتاط رہیں اور انفیکشن کا شکار نہ ہوں۔

یہ معلومات 14 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 141: بچوں کو انفیکشن سے کیسے بچایا جائے؟ (2)

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم اپنے سلسلے کی دوسری قسط اس سوال کا جواب دینے کیلئے آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں کہ آپ اپنے بچوں کو کووِڈ 19 سے متاثر ہونے سے کس طرح بچا سکتے ہیں۔

ہم نے جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے گفتگو کی ہے۔ اس دوسری قسط میں ہم نے پوچھا کہ آیا ایسے واقعات ہوئے یا نہیں جن میں بچہ وائرس سے متاثر ہو جانے کے بعد شدید بیمار پڑ گیا ہو۔

ان ماہرین نے بتایا کہ وائرس سے شدید بیمار پڑنے کے کیسز بالغ افراد کی نسبت بچوں میں کم تھے۔ تاہم بالغان کی طرح بچوں میں بھی عملِ تنفس سے متعلقہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ دو سال سے کم عمر کے بچوں میں شدید علامات پیدا ہو سکتی ہیں اور اُن پر لازماً احتیاط کے ساتھ نظر رکھی جانی چاہیے۔

یورپ اور امریکہ میں یہ اطلاعات تھیں کہ تقریباً 10 سال کی عمر کے بچے چند روز کے بخار اور پھر پیٹ کی تکالیف، قے اور جلد پر لال دھبے پڑ جانے کے بعد قلب کے مسائل سے متاثر ہو رہے ہیں۔ جاپان میں ابھی تک ایسے چند ہی کیسز کی اطلاعات ملی ہیں۔

یہ معلومات 11 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 140: بچوں کو انفیکشن سے کیسے بچایا جائے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج ہم اس سوال کا جواب دینے کیلئے اپنے سلسلے کی پہلی قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں کہ آپ اپنے بچوں کو کووِڈ 19 سے متاثر ہونے سے کس طرح بچا سکتے ہیں۔

ہم نے جاپان طبِ اطفال سوسائٹی اور قومی مرکز برائے اطفال صحت اور نشو و نما کے ماہرین سے اُن علامات کے بارے میں پوچھا جو بچوں میں وائرس سے متاثر ہو جانے کی صورت میں پیدا ہو سکتی ہیں۔

ان ماہرین نے بتایا کہ اُنہوں نے دریافت کیا ہے کہ بچے بھی بالغ افراد کی طرح ہی وائرس سے متاثر ہونے کی زد میں ہیں، البتہ یکم اگست تک متاثرہ بچوں کی تعداد بالغان کی نسبت کم تھی۔

جاپان میں متعدد بچے اپنے گھروں پر ہی وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہیں بخار اور خشک کھانسی ہوئی۔ لیکن ناک سے پانی بہنے اور ناک بند ہو جانے جیسی بالائی تنفسی حصے سے متعلقہ علامات نسبتاً بہت کم بچوں میں ظاہر ہوئیں۔

بچے بالکل بالغان کی طرح ہی لمبے عرصے بخار سے متاثر ہوتے ہیں۔ بعض بچوں میں نمونیا کی اطلاعات تھیں۔

کچھ بچوں میں قے، پیٹ کی تکالیف، اسہال اور نظام ہضم سے متعلقہ دیگر علامات بھی پیدا ہوئیں۔

بچوں کی صرف ایک قلیل تعداد خوشبو یا ذائقہ محسوس کرنے سے محروم ہوئی۔ یہ علامات بالغان میں اکثر و بیشتر دیکھی جا رہی ہیں۔

لیکن والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں میں اس طرح کی گڑ بڑ سے اب بھی چوکنا رہیں۔ ایسی علامات کی اطلاع اپنی شکایات کا اظہار کرنے کی اہلیت کے حامل 13 سے 19 سال کی عمر کے بعض مریضوں نے دی ہے۔

ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ ہو سکتا ہے کچھ بچوں میں علامات ظاہر ہی نہ ہوں۔ اُنہوں نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ اپنے بچوں کا احتیاط کے ساتھ مشاہدہ کریں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی طبیعت کی وضاحت ٹھیک طور پر کرنے سے قاصر ہوں۔

یہ معلومات 10 دسمبر تک کی ہیں۔
مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 136: گھروں میں انفیکشن سے بچاؤ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ "گھر میں کسی فرد کے متاثر ہونے کے بعد وائرس کی منتقلی کو کیسے روکا جائے؟"، آج ہم اس سلسلے کا پانچواں حصہ پیش کر رہے ہیں۔

ہم نے جاپانی ایسوسی ایشن برائے متعدی امراض کے ڈاکٹر تیراشیما تاکیشی سے پوچھا کہ کورونا وائرس کو اپنے ساتھ گھر لانے سے ہم کیسے بچ سکتے ہیں۔

جناب تیراشیما نے ہمیں بتایا کہ گھر کو خطرے کی شدت کے اعتبار سے مختلف حصوں میں تقسیم کرنا اہم ہے۔
انہوں نے گھر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی۔ خطرناک ترین "انتباہی حصے" میں داخلی ہال شامل ہے جہاں سے لوگ گھر میں آتے ہی گزرتے ہیں۔ "مشترکہ حصہ" وہ جگہیں ہیں جہاں گھر کے افراد مختلف اشیاء کا استعمال مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ "نجی حصہ" بیڈ روم اور ذاتی کمروں پر مشتمل ہوتا ہے۔

آج ہم "نجی حصے" سے متعلق بات کریں گے جہاں گھر کے افراد آرام کرتے ہیں۔

جناب تیراشیما نے کہا کہ ہمیں ہر قیمت پر اس حصے میں وائرس کی ترسیل کو روکنے کے لئے احتیاط برتنی چاہئے۔
ایک چیز جس کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے وہ ہے ہمارے اسمارٹ فونز۔ جب ہم گھر سے باہر اپنے اسمارٹ فون کو چھوتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ فون کی سکرین پر وائرس لگ جائے اور بلآخر ہمارے بیڈ روم تک پہنچ جائے۔ لہذا ٹچ اسکرین رکھنے والے آلات کو باقاعدگی سے صاف کرنا ضروری ہے۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 135: گھروں میں انفیکشن سے بچاؤ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ "گھر میں کسی فرد کے متاثر ہونے کے بعد وائرس کی منتقلی کو کیسے روکا جائے؟"، آج ہم اس سلسلے کا چوتھا حصہ پیش کر رہے ہیں۔

ہم نے جاپانی ایسوسی ایشن برائے متعدی امراض کے ڈاکٹر تیراشیما تاکیشی سے پوچھا کہ کورونا وائرس کو اپنے ساتھ گھر لانے سے ہم کیسے بچ سکتے ہیں۔

اس سے قبل جناب تیراشیما نے ہمیں بتایا کہ داخلی ہال سمیت "انتباہی حصے" کو کیسے محفوظ رکھا جائے۔ آج ہم "مشترکہ حصے" پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جہاں گھر کے افراد مختلف اشیاء کا استعمال مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ان میں غسل خانہ اور بیٹھک شامل ہے۔ جناب تیراشیما تولیے جیسی چیزوں کا اشتراک نہ کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔ تمام افراد کے استعمال میں آنے والے بٹن اور ریموٹ کنٹرول جیسی اشیاء کو بار بار جراثیم سے پاک کرنا چاہیئے۔

جناب تیراشیما نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہم کھانے کے لئے بیٹھنے اور کھانا پیش کرنے کے انداز کو تبدیل کرکے وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھانے کی میز پر آمنے سامنے بیٹھنے سے گریز کرنا چاہئے اور اگر ممکن ہو تو ایک دوسرے کے بہت قریب آنے سے بچنے کے لئے وتری انداز میں بیٹھنا چاہئے۔ جناب تیراشیما بڑی پلیٹوں میں اکھٹے کھانا کھانے میں بھی احتیاط برتنے کی تاکید کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے پرہیز ضروری ہے کیونکہ چوپ اسٹک وغیرہ مل کر استعمال کرنے سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ کھانا انفرادی حصوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ ہر شخص اپنی پلیٹ سے کھا سکے۔

اگلی بار ہم آپ کو بتائیں گے کہ بیڈ روم جیسے "نجی حصے" میں ہوتے ہوئے آپ کو کیا ذہن میں رکھنا چاہیئے۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 134: گھروں میں انفیکشن سے بچاؤ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ "گھر میں کسی فرد کے متاثر ہونے کے بعد وائرس کی منتقلی کو کیسے روکا جائے؟"، آج ہم اس سلسلے کا تیسرا حصہ پیش کر رہے ہیں۔

ہم نے جاپانی ایسوسی ایشن برائے متعدی امراض کے ڈاکٹر تیراشیما تاکیشی سے پوچھا کہ کورونا وائرس کو اپنے ساتھ گھر لانے سے ہم کیسے بچ سکتے ہیں۔

جناب تیراشیما نے ہمیں بتایا کہ گھر کو خطرے کی شدت کے اعتبار سے مختلف حصوں میں تقسیم کرنا اہم ہے۔
انہوں نے گھر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی۔ خطرناک ترین "انتباہی حصے" میں داخلی ہال شامل ہے جہاں سے لوگ گھر میں آتے ہی گزرتے ہیں۔ "مشترکہ حصہ" وہ جگہیں ہیں جہاں گھر کے افراد مختلف اشیاء کا استعمال مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ "نجی حصہ" بیڈ روم اور ذاتی کمروں پر مشتمل ہوتا ہے۔

جب کوئی شخص گھر آتا ہے تو اسے دروازے پر "انتباہی حصے" میں رکنا چاہئے اور اپنا کوٹ دیوار پر لٹکا کر ڈسپوزایبل ماسک کو کچرے کے ڈبے میں پھینک دینا چاہئے۔
جناب تیراشیما نے کہا کہ لوگوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے کوٹ اور ماسک، جو وائرس سے آلودہ ہوسکتے ہیں، کو گھر کے اندر لانے سے گریز کریں بلکہ انہیں داخلی دروازے پر چھوڑا جائے۔

اگلی بار ہم آپ کو بتائیں گے کہ جب آپ "مشترکہ حصے" میں ہوں تو آپ کو کس چیز کا دھیان رکھنا چاہئے۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 133: گھروں میں انفیکشن سے بچاؤ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ "گھر میں کسی فرد کے متاثر ہونے کے بعد وائرس کی منتقلی کو کیسے روکا جائے؟" آج ہم اس سلسلے کا دوسرا حصہ پیش کر رہے ہیں۔

اس سے قبل ہم نے گھر کے کسی فرد کے وائرس سے متاثر ہونے سے متعلق پانچ نکات پیش کیے جن میں متاثرہ شخص کو الگ کمرے میں رکھنا شامل ہے۔

تاہم اگر آپ کسی چھوٹے اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں تو متاثرہ شخص کے لئے پورا کمرا مختص کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ہم نے ٹوکیو کے علاقے سومیدا میں صحت عامہ کے مراکز کی سربراہ نیشی زوکا ایتارو سے اس بارے میں پوچھا۔ جناب نیشی زوکا نے کہا کہ متاثرہ شخص سے ایک میٹر کے فاصلے کو برقرار رکھنے کی کوشش اور قریب سے، آمنے سامنے بات چیت سے پرہیز ضروری ہے تاکہ منہ سے نکلنے والی بوندوں سے بچا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ گھروں میں کورونا وائرس سے پاک ماحول پیدا کرنے کے لئے کمروں کی ہوا باقاعدگی سے تبدیل کریں اور جب ضروری ہو تو ہیومیڈیفائر استعمال کریں۔

جناب نیشی زوکا نے مزید کہا کہ بہتر یہ ہے کہ گھر میں اس معاملے پر پہلے سے مشورہ کیا جائے کہ اگر کسی کو انفیکشن ہوتا ہے تو کیا اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ان معاملات میں یہ بھی شامل ہے کہ والدین کو انفیکشن ہونے کی صورت میں بچوں کی دیکھ بھال کون کرے گا اور اگر دیکھ بھال کرنے والوں کو انفیکشن ہوتا ہے تو بزرگ افراد کا خیال کون رکھے گا۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 132: گھروں میں انفیکشن سے بچاؤ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہمارا آج کا سوال یہ ہے کہ "گھر میں کسی فرد کے متاثر ہونے کے بعد وائرس کی منتقلی کو کیسے روکا جائے؟"

19 نومبر کو جب پہلی بار ٹوکیو میں انفیکشن کی یومیہ تعداد 500 سے متجاوز ہوئی تھی تو ٹوکیو کی گورنر کوئیکے یُورِیکو نے لوگوں کو گھر پر مکمل اقدامات کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگست کے بعد سےانفیکشن پھیلنے کا مرکز رہائش گاہیں ثابت ہوئی ہیں اور ایک بار جب وائرس وہاں داخل ہو جائے تو اسے پھیلنے سے روکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

ٹوکیو میں صحت عامہ کے ایک مرکز کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بہت سے کیسز میں اکثر اوقات گھر سے باہر جانے والے بالغ افراد وائرس اپنے ساتھ لاتے ہیں جس سے بچے یا معمّر افراد متاثر ہوتے ہیں۔

انفیکشن کی روکتھام سے متعلق اقدامات کے ماہرین نے گھر کے کسی فرد میں علامات ظاہر ہونے کی صورت میں بعض تجاویز کی نشاندہی کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ممکن ہو تو مریض کو الگ کمرے میں رہنا چاہیئے اور اس کے ساتھ ساتھ دیکھ بھال کرنے والے کو بھی ماسک پہننا چاہیئے۔

اُن کا گھر کے تمام افراد کے لئے مشورہ ہے کہ بار بار ہاتھ دھوئے جائیں اور کھانا الگ الگ پلیٹوں میں کھایا جائے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن جگہوں کو اکثر چُھوا جاتا ہے اُنہیں جراثیم سے پاک کرنا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ کمروں کی ہوا کو باقاعدگی سے تبدیل کیا جائے۔

مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 128: کورونا وائرس کا پھیلاؤ اور نئے سال کے موقع پر عبادت گاہوں اور مندروں کے دورے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کا سوال ہے کہ، "جاپان میں بہت سے لوگ نئے سال کے موقع پر عبادت گاہوں اور مندروں کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں انفیکشن کے پھیلاؤ کو کیسے روکا جاسکتا ہے؟"

کورونا وائرس سے متعلق ماہرین پر مشتمل ایک حکومتی پینل نے 12 نومبر کو منعقدہ ایک اجلاس میں نئے سال کے موقع پر عبادت گاہوں اور مندروں کے دوروں کے لئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں کابینہ سیکرٹریٹ نے ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر مرتب کردہ اقدامات پیش کیے۔

اس میں بتایا گیا ہے کہ زائرین انفیکشن سے بچنے کے لئے ماسک پہننے اور ہاتھوں کو جراثیم سے پاک کرنے جیسے بنیادی اقدامات کو اچھی طرح سے انجام دیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو عبادت گاہوں اور مندروں میں بھیڑ سے متعلق معلومات دینے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اور ان سے باری باری جانے کی درخواست کی جائے۔ اس میں تجویز ہے کہ مندروں اور عبادتگاہوں پر عملے کو مامور کرنا چاہئے تاکہ زائرین کے مابین سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جائے۔ اس کا کہنا ہے کہ زائرین سے کہا جائے کہ وہ احاطے میں کھانے پینے سے پرہیز کریں اور کھانا گھر لے جائیں۔ اُن سے اونچی آواز میں بات نہ کرنے کو کہا جائے۔

اس میں عبادتگاہوں اور مندروں کے آس پاس بھیڑ لگانے، قریبی رابطے کا ماحول پیدا کرنے اور تنگ جگہیں بنانے سے روکنے کے لئے اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں زائرین کو ایک سے زیادہ ٹرین اسٹیشنوں میں تقسیم کرنا اور انہیں عبادتگاہوں اور مندروں میں بھیڑ کی صورتحال سے آگاہ کرنا شامل ہے۔

ایک نیوز کانفرنس میں، پینل کے سربراہ اومی شیگے رو نے کہا کہ عبادتگاہوں اور مندروں کے کھلے احاطوں میں خاموشی سے عبادت کرنے میں انفیکشن کا کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے دوروں سے پہلے یا اس کے بعد دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ اکٹھا ہونا، کھانا کھانا یا اُن کے ساتھ شراب پینا زیادہ خطرناک عمل ہے۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اگر ممکن ہو تو وہ اپنے نئے سال کے دورے 4 جنوری کو یا بعد میں کریں تاکہ رش سے بچا جا سکے۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 127: خطرناک صورتحال کی پانچ اقسام

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہمارا آج کا سوال یہ ہے کہ "خطرناک صورتحال کی وہ کونسی پانچ اقسام ہیں جن کا تذکرہ اکثر خبروں میں آتا ہے؟"

کورونا وائرس کی وبا سے متعلق جاپانی حکومت کے مشاورتی پینل نے حال ہی میں ایسی پانچ خطرناک صورتوں سے خبردار کیا ہے جو اکثر کلسٹر انفیکشن کا باعث بنتی ہیں۔

اُن کی فہرست یہ ہے۔
1۔ شراب نوشی کی محافل
2۔ لوگوں کا بڑی تعداد میں کئی گھنٹوں تک اکھٹے کھانا پینا
3۔ ماسک پہنے بغیر ایک دوسرے سے بات چیت کرنا
4۔ محدود جگہ میں زیادہ افراد کا رہنا
5۔ کام کی جگہ پر وقفوں کے دوران سگریٹ نوشی یا میل جول

اس سے قبل ہم نے پہلی تین حالتوں کا جائزہ لیا، آج ہم آخری دو کے بارے میں بات کریں گے۔

سب سے پہلے، زیادہ افراد کے محدود جگہ میں رہنے سے متعلق بات کرتے ہیں۔ اب تک ہاسٹلز کے کمروں اور بیت الخلا میں انفیکشن کے ممکنہ واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طویل دورانیے تک تنگ جگہ پر مختلف افراد کا اکھٹا ہونا ایسے حالات کو جنم دیتا ہے جن سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اور اب کام کی جگہ پر وقفوں کے دوران سگریٹ نوشی اور میل جول کا جائزہ لیتے ہیں۔ حال ہی میں سگریٹ نوشی کے کمروں، ریسٹ رومز اور کپڑے تبدیل کرنے والے کمروں میں انفیکشن کے مشتبہ واقعات سامنے آئے ہیں۔ جب لوگ دفاتر وغیرہ میں وقفہ کرتے ہیں تو وہ اکثر حفاظتی تدابیر کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور ماحول میں تبدیلی کی وجہ سے بھی انفیکشن کا خطرہ بڑھتے دیکھا گیا ہے۔

حکومت کا مشاورتی پینل لوگوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ سماجی اجتماعات کے دوران حفاظتی اقدامات پر دھیان دیں۔ خصوصاً جب محفل میں شراب نوشی بھی شامل ہو تو یہ پینل لوگوں سے گزارش کرتا ہے کہ وہ کم حلقۂ احباب کے ساتھ محفلوں کے اوقات کم رکھیں۔ اس کے علاوہ رات دیر گئے شراب پینے سے گریز اور اعتدال میں پینے کی تاکید کی گئی ہے۔

مزید یہ کہ ایسے اجتماعات میں بیٹھنے کے انداز پر پینل لوگوں کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے وتری طور پر بیٹھیں اور آمنے سامنے یا کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھنے سے بچیں۔ پینل لوگوں کو بات کرتے وقت ماسک پہننے اور چہرے کے حفاظتی شیلڈ کے استعمال میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیتا ہے جو انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے میں کم مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

حکومت کے مشاورتی پینل کے سربراہ، اومی شِیگیرُو کا کہنا ہے کہ اب تک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے طرز عمل سے متعلق شعور میں تبدیلی انتہائی ضروری ہے۔ جناب اومی نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ پینل کے پیغام کو قابل ادراک انداز میں پھیلائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہ بات سمجھائی جاسکے۔

مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 126: خطرناک صورتحال کی پانچ اقسام

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہمارا آج کا سوال ہے کہ "خطرناک صورتحال کی وہ کونسی پانچ اقسام ہیں جن کا تذکرہ اکثر خبروں میں آتا ہے؟"

کورونا وائرس کی وبا سے متعلق جاپانی حکومت کے مشاورتی پینل نے حال ہی میں ایسی پانچ خطرناک صورتوں سے خبردار کیا ہے جو اکثر کلسٹر انفیکشن کا باعث بنتی ہیں۔

اُن کی فہرست یہ ہے۔
1۔ شراب نوشی کے محافل
2۔ لوگوں کا بڑی تعداد میں کئی گھنٹوں تک اکھٹے کھانا پینا
3۔ ماسک پہنے بغیر ایک دوسرے سے بات چیت کرنا
4۔ محدود جگہ میں زیادہ افراد کا رہنا
5۔ کام کی جگہ پر وقفوں کے دوران سگریٹ نوشی یا میل جول

ان میں سے آج ہم پہلے تین حالات کا جائزہ لیں گے۔
پہلے شراب نوشی کے لئے سماجی اجتماعات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
لوگ شراب پیتے وقت پرجوش ہوجاتے ہیں اور اونچی آواز میں بولنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ اس طرح کے اجتماعات کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد محدود جگہ میں اکھٹی بیٹھتی ہے۔ اس کے علاوہ، ایسے حالات میں اکثر لوگ گلاس اور چوپ اسٹک مل کر استعمال کرتے ہیں جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اب بات کرتے ہیں زیادہ لوگوں کا طویل دورانیے تک اکھٹے کھانے پینے سے متعلق۔ عام طور پر فوری کھانا کھانے کے مقابلے میں بارز اور نائٹ کلبز میں یا رات گئے شراب خانوں میں وقت گزارنے کے دوران انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب پانچ یا پانچ سے زیادہ افراد اکھٹے کھانا کھاتے ہیں تو وہ زور سے بولتے ہیں اور اُن کے منہ سے زیادہ بوندیں نکلتی ہیں۔

ماسک پہنے بغیر قریبی فاصلے سے آپس میں بات چیت لوگوں کے منہ سے نکلنے والی بوندوں کے ایک دوسرے تک پہنچنے کا باعث بنتی ہے جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لوگوں کو سفر کے دوران گاڑیوں یا بسوں کے اندر بھی گفتگو میں احتیاط برتنے کو کہا گیا ہے۔

اگلی بار ہم دو مزید ایسی حالتوں کا جائزہ لیں گے جن میں کام کی جگہ پر وقفے کے دوران سگریٹ نوشی اور میل جول اور محدود جگہ میں ایک ساتھ وقت گزارنا شامل ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر68: کاراؤکے کی صنعت کے لئے رہنماء اُصول (2)

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہم انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے اور سماجی اور معاشی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے مابین توازن قائم کرنے سے متعلق صنعتوں کے کردار پر اپنی بات جاری رکھیں گے۔

آج دوسری قسط میں ہم کاراؤکے کی صنعت میں متعارف کردہ رہنماء اُصولوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

جاپان میں کاراؤکے کی صنعت سے وابستہ تین تنظیموں نے مشترکہ طور پر انفیکشن سے بچاؤ کے اقدامات سے متعلق رہنما اصول مرتب کیے ہیں۔

ان رہنماء اُصولوں میں متعلقہ منتظمین سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ ہر کمرے کو ہوادار بنائیں، صارفین کی تعداد کو اصل گنجائش کی نصف تک محدود رکھیں، انہیں آمنے سامنے بٹھانے سے گریز کیا جائے اوراُن کے درمیان کم از کم ایک میٹر یا اگر ممکن ہو تو دو میٹر کا فاصلہ رکھا جائے اور مائیکروفون اور ریموٹ کنٹرول کو بار بار جراثیم سے پاک کیا جائے۔

ان رہنماء اُصولوں میں صارفین کو ماسک پہننے کا کہا گیا ہے سوائے اس وقت جب وہ کھا یا پی رہے ہوں۔ مزید یہ کہ گانے والے افراد سے کم از کم دو میٹر دور رہا جائے۔

جاپان کاراؤکے باکس ایسوسی ایشن کے ایک اہلکار، کاتو شِنجی نے بتایا کہ کاراؤکے کی صنعت کو بطورِ ثقافت اب ایسے بحران کا سامنا ہے جس میں اس کی بقاء کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ رہنماء اُصول ناکافی ثابت ہوئے تو ایسوسی ایشن زیادہ سخت اقدامات کو شامل کرنے پر غور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ صارفین کو فکر سے پاک اور محفوظ ماحول کی فراہمی کے لئے کام کر رہے ہیں۔

یہ معلومات 28 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 49: کیا ہسپانوی فلو نامی وبا تین لہروں میں واقع ہوئی تھی؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس کے بارے میں سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کا سوال ہے کہ ’’میں نے سنا ہے کہ ہسپانوی فلو کی وبا تین لہروں میں واقع ہوئی تھی۔ مجھے اس کے بارے میں مزید بتائیں۔‘‘

1918 انفلوئنزا کی عالمگیر وبا جسے ہسپانوی فلو بھی کہا جاتا ہے، اس کی وجہ انفلوئنزا وائرس کی ایک نئئ قسم تھی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ اس وقت تقریبا 50 کروڑ افراد یا اس وقت کی عالمی آبادی کا تقریبا ایک چوتھائی حصہ اس میں مبتلا تھا اور اس سے 4 کروڑ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ہسپانوی فلو سب سے پہلے 1918 کے موسم بہار میں عالمی سطح پر پھیل گیا اور گرمیوں میں ختم ہوا۔ لیکن 1918 کے موسم خزاں میں اس کی دوسری لہر آئی اور پھر 1919 کے آغاز میں ایک تیسری لہر رونما ہوئی۔

دوسری لہر سب سے زیادہ مہلک سمجھی جاتی ہے جس سے پوری دنیا میں کم سے کم 2 کروڑ اموات ہوئیں۔

جاپان میں، ہسپانوی فلو کی وباء 1918 کے موسم خزاں اور 1921 کے موسم بہار کے درمیان تین لہروں میں پھوٹ پڑی تھی۔ اس وقت کی وزارت داخلہ کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ مجموعی طور پر تقریبا، 2 کروڑ 38 لاکھ افراد اس سے متاثر ہوئے تھے اور تین لاکھ نوے ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

جاپان میں 1918 کے موسم خزاں میں شروع ہونے والی پہلی لہر سے سب سے زیادہ نقصان ہوا جس سے 2 کروڑ 12 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور دو لاکھ ساٹھ ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔ 1919 کے موسم خزاں میں آنے والی دوسری لہر سے 24 لاکھ افراد متاثر اور ایک لاکھ تیس ہزار اموات ہوئیں۔ تاہم، دوسری لہر میں اموات کی شرح سب سے زیادہ تھی۔

ماہرین آج انتباہ کر رہے ہیں کہ نئے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کی بھی ہسپانوی فلو کی طرح دوسری اور تیسری لہر آسکتی ہے۔

یہ معلومات 24 جون کی ہیں اور این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور ایس این ایس پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 48: نئے کورونا وائرس کی افزائش کیسے ہوتی ہے؟

این ایچ کے کے ماہرین نئے کورونا وائرس کے بارے میں سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔
آج سوال ہے کہ ’’کونسے حالات میں نئے کورونا وائرس کی افزائش ہوتی ہے؟ کیا وہ صرف ہمارے جسم کے اندر ہی نمو پا سکتے ہیں؟‘‘

ہم نے سینٹ ماریانا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی پروفیسر کونیشیما ہیرو یوکی سے رابطہ کیا۔ وہ متعدی امراض کے ماہر ہیں۔ جناب کونیشیما کا کہنا ہے کہ وائرس اور بیکٹیریا مائیکرو اورگنزم یا یک خلوی جاندار ہیں جو بیماری کا سبب بنتے ہیں۔

بیکٹیریا ایک خلیے سے بنی زندگی کی ایک ابتدائی شکل ہے جو خود افزائش کرنے کے قابل ہے۔

وائرس بیکٹیریا سے کافی چھوٹا ہوتا ہے۔ وہ جین یا نیوکلک ایسڈ اور حفاظتی کوٹنگ پر مشتمل ہوتا ہے لیکن ان کا کوئی خلیہ نہیں ہوتا۔ وائرس خود سے افزائش کے قابل نہیں ہوتا ہے۔ وہ صرف متاثرہ انسان یا جانور کے زندہ خلیوں کے اندر ہی تولید پا سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ نیا کورونا وائرس دیوار اور دوسری سطحوں پر اپنی تعداد میں اضافہ نہیں کر سکتا۔ لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ وائرس کچھ عرصہ کے لئے ایسی سطح پر اپنی بیمار کرنے والی صلاحیت کو برقرار رکھتا ہے۔

پروفیسر کونیشیما کا کہنا ہے کہ جب آپ گھر سے باہر ہوتے ہیں تو دروازوں کے دستوں اور ریلنگ جیسی آلودہ سطحوں کو چھوتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انفیکشن سے بچنے کے لئے دفتر یا اپنے گھر پہنچ کر کھانا کھانے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو الکحل والے جراثیم کش محلول یا صابن کے ساتھ صاف کرنا چاہیئے۔

یہ معلومات 24 جون کی ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 47: کیا کیش کے تبادلے سے آپ وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کا سوال ہے کہ کیا کیش کے تبادلے سے آپ وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں؟

آئچی میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر میکامو ہیروشیگے جو انفیکشن پر قابو پانے میں مہارت رکھتے ہیں کا کہنا ہے کہ یہ بات وائرس کے حجم پر منحصر ہے۔ تاہم اُن کا کہنا ہے کہ اگر کسی کے ہاتھ پر وائرس موجود ہے اور وہ سکے یا کرنسی نوٹ کو چھوتے ہیں تو یہ فرض کر لینا بہتر ہے کہ وائرس کرنسی پر کچھ وقت کے لئے موجود رہے گا۔ انفیکشن سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ منہ یا ناک کو چھونے سے قبل اپنے ہاتھوں کو صابن سے دھو لیں یا الکحل یا دیگر سینیٹائزر کے ساتھ صاف کر لیں۔ پروفیسر صاحب خریدی گئی اشیا کو چھونے کے بعد بھی ان اقدامات کی سفارش کرتے ہیں۔

یہ معلومات 23 جون کی ہیں اور این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور ایس این ایس پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 46: کورونا وائرس مختلف اشیا پر کتنے عرصے کے لئے موجود رہتا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کا سوال ہے کہ "نیا کورونا وائرس مختلف اشیاء کی سطحوں پر کتنے عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے؟"

امریکا کے قومی ادارہ برائے صحت اور دیگر تنظیموں کے محققین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ مختلف اشیاء کی سطحوں سے یہ وائرس کافی حد تک غائب ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تانبے پر چار گھنٹوں کے بعد اور گتے پر چوبیس گھنٹوں کے بعد اس وائرس کا پتہ نہیں لگایا جاسکا۔

تاہم، وائرس 72 گھنٹوں تک پلاسٹک پر اور 48 گھنٹوں تک سٹینلیس سٹیل پر موجود رہا۔

یہ معلومات 22 جون کی ہیں اور این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور ایس این ایس پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 45: اگر وائرس کو منجمد کیا جائے تو کیا ہوتا ہے؟

این ایچ کے کے ماہرین نئے کورونا وائرس کے بارے میں سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔
آج کا سوال ہے کہ ’’جب وائرس ٹھنڈک سے جم جاتا ہے تو اس میں کیا تبدیلی واقع ہوتی ہے؟‘‘

ہم نے ٹوکیو ہیلتھ کیئر یونیورسٹی پوسٹ گریجویٹ اسکول کی پروفیسر سوگاوارا ایریسا سے بات کی جو انفیکشن کی روک تھام میں مہارت رکھتی ہیں۔

اگرچہ ابھی بھی نئے کورونا وائرس کی خصوصیات کے بارے میں بہت کچھ معلوم نہیں ہے لیکن کورونا وائرس کی ایک اور قسم، سارس وائرس کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر تحقیق ہوچکی ہے۔

اس تحقیق کے مطابق، 56 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ نسبتاً گرم ماحول میں سارس وائرس ہلاک ہوگیا تھا لیکن یہ منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم درجہ حرارت پر تقریبا تین ہفتوں تک زندہ رہنے میں کامیاب رہا تھا۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ نیا کورونا وائرس گرمی کے خلاف کمزور جبکہ کم درجہ حرارت میں نسبتاً مضبوط ہو سکتا ہے۔

محترمہ سوگاوارا کا کہنا ہے کہ، مثال کے طور پر، اگر نیا کورونا وائرس بازار سے خریدے سودا سلف کی سطح پر موجود ہو، تو اندازہ ہے کہ یہ طویل مدت تک فریج اور فریزر میں زندہ رہ سکے گا۔ لہذا لوگوں کے لئے مشورہ ہے کہ وہ فریج یا فریزر میں رکھنے سے پہلے اشیا کی باہری سطح کو جراثیم سے پاک کریں اور کھانا پکانے سے پہلے اور بعد میں اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھوئیں۔ محترمہ سوگاوارا کا کہنا ہے کہ کھانے کی زیادہ تر چیزوں کو اگر گرم کیا جائے تو اُنہیں محفوظ طریقے سے کھایا جا سکتا ہیں۔

یہ معلومات 19 جون کی ہیں۔
ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 44: کیا بنے بنائے کھانوں کے پیکٹ پر موجود وائرس کو مائیکرو ویو اووَن کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس کے بارے میں سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کا سوال ہے کہ ’’اگر بنے بنائے کھانوں کے پیکٹ پر وائرس موجود ہو تو کیا ہم اسے مائیکرو ویو اووَن میں گرم کرکے ختم کرسکتے ہیں؟‘‘

مائیکرو ویو اووَن کھانے کے اندر موجود پانی کے مالیکیولز کو حرکت دینے کے لئے برقی مقناطیسی لہروں کا استعمال کرتے ہیں۔

انفیکشن سے بچاؤ کی ماہر اور ٹوکیو ہیلتھ کیئر یونیورسٹی پوسٹ گریجویٹ اسکول کی پروفیسر سوگاوارا ایریسا کا کہنا ہے کہ مائیکرو ویو اووَن میں اگر خاص حد تک کھانا گرم کیا گیا ہے تو یہ کھانے میں محفوظ ہے۔

لیکن وہ بتاتی ہیں کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اووَن پیکٹ کی سطح کو بھی اس قدر گرم کرتا ہے جس کی وجہ سے اُس پر موجود وائرس بیمار کرنے کی اپنی صلاحیت کھو دیتا ہے۔

محترمہ سوگاوارا کا کہنا ہے کہ کھانا پکانے اور کھانے سے پہلے اور بعد میں بار بار ہاتھ دھونا ضروری ہے۔

یہ معلومات 18 جون کی ہیں اور این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور ایس این ایس پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 43: کیا بی سی جی ویکسین استعمال کرنے والے ممالک میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد کم ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس کے بارے میں سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کا سوال ہے کہ ’’کیا یہ سچ ہے کہ جن ممالک میں تپ دق کے لئے بی سی جی ویکسین استعمال کی جاتی ہے وہاں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد کم ہے؟‘‘۔

بی سی جی ویکسین بیکٹیریا کی کمزور قسم سے تیار کی گئی ہے جو گائے میں تپ دق کا سبب بنتی ہے اور یہ اس بیکٹیریا سے مشابہ ہے جو انسانوں میں اس بیماری کا سبب بنتی ہے۔ جاپان میں تمام بچوں کو ایک سال کی عمر سے پہلے بی سی جی کے ٹیکے لگوائے جاتے ہیں۔ بی سی جی ویکسی نیشن کی پالیسیاں ممالک اور علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں۔ امریکا اور اٹلی ان ممالک میں شامل ہیں جہاں بی سی جی ویکسی نیشن کا کوئی ہمہ گیر پروگرام موجود نہیں ہے۔

جاپان سے باہر کچھ محققین نے نشاندہی کی ہے کہ جن علاقوں میں بی سی جی کے ٹیکے لگوانے کا معمول موجود ہے وہاں کورونا وائرس سے کم اموات ہوئی ہیں۔ آسٹریلیا اور نیدرلینڈ میں یہ مطالعہ کرنے کے لئے کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں کہ آیا کورونا وائرس کے انفیکشن کی روک تھام اور علامات کو شدید ہونے سے بچانے میں بی سی جی مددگار ہے یا نہیں۔

جاپانی سوسائٹی برائے ویکسینولوجی نے 3 اپریل کو اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کیا۔

سوسائٹی کا کہنا ہے کہ وائرس کے خلاف بی سی جی کی افادیت کی ابھی سائنسی طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور وہ فی الحال وائرس سے بچاؤ کے اقدام کے طور پر اس کی ویکسینیشن کی سفارش نہیں کرتی۔

سوسائٹی کا کہنا ہے کہ کچھ بزرگ افراد جنہیں بی سی جی کے ٹیکے نہیں لگوائے گئے تھے، وہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے یہ ٹیکے لگانے کی درخواست کر رہے ہیں۔ لیکن سوسائٹی کا کہنا ہے کہ بی سی جی ویکسین بچوں کے لئے ہے اور بوڑھوں کے لئے اس کی افادیت اور محفوظ ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

سوسائٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مقصد کے علاوہ بی سی جی کے استعمال میں اضافے سے بچنے کی ضرورت ہے، جس سے نوزائیدہ بچوں کو ویکسین کی مستحکم رسد میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

یہ معلومات 17 جون کی ہیں اور این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور ایس این ایس پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 42: انسانی جلد پر کورونا وائرس کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس کے بارے میں سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ آج کے دو سوالات یہ ہیں: ’’انسانی جلد پر کورونا وائرس سے کیا اثر ہوتا ہے؟‘‘ اور ’’کیا بغیر علامات پیدا کیے یہ وائرس جسم میں رہ سکتا ہے؟‘‘

ہم نے پروفیسر کونیشیما ہیرویوکی سے دریافت کیا جو سینٹ ماریانا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں متعدی امراض کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک یہ وائرس کسی زندہ جانور کے خلیوں میں داخل ہو کر انفیکٹ نہیں کرتا، یہ اپنی تعداد میں اضافہ نہیں کر سکتا۔

نیا کورونا وائرس بنیادی طور پر لوگوں کو ان کی ناک یا منہ میں جھلیوں کے ذریعے متاثر کرتا ہے اور ان کے گلے، پھیپھڑوں اور دیگر اعضا کے خلیوں میں اپنی تعداد بڑھاتے ہیں۔ اگر یہ وائرس آپ کے ہاتھوں یا پیروں کی جلد پر ہے تو یہ تعداد میں بڑھ نہیں سکتا۔

لیکن اگر آپ کے ہاتھوں پر وائرس ہے اور آپ اپنی آنکھوں، ناک یا منہ کو ہاتھ لگائیں تو آپ متاثر ہوسکتے ہیں۔ کسی شخص کی جلد پر موجود وائرس کو صابن سے دھویا جاسکتا ہے لہذا لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے چہرے کو چھونے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئے یا الکحل جیسے جراثیم کُش محلول کا استعمال کریں۔

لاکڑا کاکڑا نامی بیماری کا سبب بننے والے ہرپیز جیسے بعض وائرس انسان کے صحت یاب ہونے کے بعد بھی انسانی جسم میں باقی رہتا ہے۔ لیکن عام طور پر، کورونا وائرس کی صورتحال مختلف ہے۔ اگر کوئی کورونا وائرس سے متاثر ہوتا ہے اور علامات ظاہر ہوتی ہیں تو بلآخر اس شخص کا مدافعتی نظام متحرک ہوتا ہے اور وائرس جسم سے غائب ہوجاتا ہے۔

یہ معلومات 15 جون تک کی ہیں اور این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور ایس این ایس پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 41: کیا کورونا وائرس کو الٹرا وائیلٹ ریز یا اوزون گیس کے ذریعے مارا جا سکتا ہے؟

اس کارنر میں ہم سامعین کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔ آج کا سوال ہے کہ کیا سورج کی الٹرا وائیلٹ ریز یا جراثیم کُش اوزون گیس کے ذریعے نئے کورونا وائرس کو ختم کیا جا سکتا ہے؟

ہم نے ہیروشیما یونیورسٹی کے پروفیسر اوہگے ہیروکی سے بات کی جو متعدی امراض کے ماہر ہیں۔ پروفیسر صاحب کے مطابق ایسے امکانات موجود ہیں کہ بہت ساری بیماریوں کی وجہ بننے والے وائرس اور بیکٹیریا کے خلاف مخصوص ویو لینتھ والے تیز تر الٹرا وائیلٹ ریز استعمال کر کے اِن کی بیمار کرنے والی صلاحیت کو کم کیا جا سکتا ہے۔

توقع ہے کہ ایسے آلات کے عملی استعمال کا آغاز ہو چکا ہے جو انتہائی مؤثر الٹرا وائیلٹ ریز خارج کرتے ہیں اور جو نئے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے میں کارآمد ثابت ہوں گے۔ ہیروشیما یونیورسٹی ہسپتال میں، کورونا وائرس کے ڈسچارج ہونے والے مریضوں کے کمروں میں ایک آلہ استعمال کیا جا رہا ہے جو اسی نوعیت کی الٹرا وائیلٹ ریز خارج کرتا ہے۔

دریں اثنا، خیال کیا جاتا ہے کہ سورج کی روشنی اس طرح کے وائرس کو ہلاک کرنے میں کارآمد نہیں ہے جو مذکورہ آلے سے ختم ہوسکتے ہیں۔ حتیٰ کہ سورج کی روشنی بھی الٹرا وائیلٹ شعاع ہے اور اس میں مختلف شدت کی کرنیں ہوتی ہیں لیکن اُن کی شدت ان آلات کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

جہاں تک اوزون گیس کا تعلق ہے، جاپانی یونیورسٹیوں کے محققین کے ایک گروپ کے مئی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، انھوں نے معلوم کیا کہ تقریبا ایک گھنٹے تک انتہائی گاڑھی اوزون گیس میں رکھنے کے بعد نئے کورونا وائرس کی بیمار کرنے والی صلاحیت کم ہوگئی۔ پروفیسر اوہگے کہتے ہیں کہ اس تجربے میں استعمال ہونے والی اوزون گیس کی کثافت 1 پی پی ایم اور 6 پی پی ایم کے درمیان تھی جو انسانوں کے لئے نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔

اوزون گیس کے ذریعے بدبو اور جراثیم ختم کرنے والے عمومی استعمال کے آلات اتنی بلند کثافت میں اوزون گیس کا استعمال نہیں کرتے۔ لیکن اس کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی کہ آیا کمزور کثافت میں اوزون گیس نئے کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لئے مؤثر ہے یا نہیں۔

جاپان کا صارفین کے معاملات سے متعلق ادارہ صارفین پر زور دے رہا ہے کہ وہ آلات ساز کمپنیوں سے اس بات کی تصدیق کریں کہ آیا ان کے پاس اس دعوی کے لئے سائنسی بنیاد موجود ہے کہ اوزون گیس استعمال کرنے والے آلات سمیت ان کی مصنوعات کورونا وائرس کے خلاف مؤثر ہیں۔

یہ معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور ایس این ایس پر بھی دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 40: گرمیوں میں ماسک کے استعمال میں کیا احتیاط کرنی چاہئے؟

ہم نئے کورونا وائرس سے متعلق آپ کے سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ "گرمیوں کے دوران ماسک پہننے میں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں؟"

شمالی نصف کرہ میں شدید گرمی کا موسم قریب آ رہا ہے۔ صحت، محنت اور بہبود کی وزارت کا کہنا ہے کہ رواں سال لُو لگنے سے بچنے کے لئے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ متعدد افراد کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے ماسک کا استعمال کر رہے ہیں۔

وزارت لوگوں کو مشورہ دیتی ہے کہ اگر مناسب سماجی فاصلہ (کم از کم دو میٹر) موجود ہے تو اپنا ماسک اتاریں۔ وزارت لوگوں سے یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ وہ ماسک پہن کر سخت کام یا ورزش سے گریز کریں۔ وزارت لوگوں کو بار بار پانی پینے کی سفارش بھی کرتی ہے خواہ وہ پیاسے نہ بھی ہوں۔

ہیٹ اسٹروک کے بارے میں علم رکھنے والے نِپون میڈیکل گریجویٹ اسکول کے پروفیسر یوکوبوری شوجی کا کہنا ہے کہ ماسک پہننے سے ضروری نہیں ہے کہ انسان ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوجائے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ماسک پہننے سے سانس لینا مشکل ہوتا ہے۔ ایسے اعداد و شمار موجود ہیں جو ماسک پہنے جانے پر دل کی دھڑکن اور سانس لینے کی شرح میں 10 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ پروفیسر یوکوبوری نے بتایا کہ ورزش کے اضافی بوجھ یا ہوا کے درجہ حرارت میں اضافے سے ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

پروفیسر یوکوبوری کا کہنا ہے کہ ہوا میں منہ سے نکلنے والی بوندوں کی ممکنہ منتقلی کو روکنا ضروری ہے، لیکن بوڑھے افراد یا تنہا رہنے والے افراد کو ہیٹ اسٹروک سے خاص طور پر محتاط رہنا چاہئے۔ گھر سے باہر موجود لوگوں کو وہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کم بھیڑ والے مقامات پر اپنے ماسک اتاریں اور آرام کریں جیسے کسی درخت کے نیچے وغیرہ۔ وہ پسینہ آنے کی صورت میں ماسک بدلنے کی بھی سفارش کرتے ہیں کیونکہ گیلے ماسک سے کم ہوا گزر پاتی ہے۔

یہ معلومات 11 جون کی ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا ایس این ایس سے کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 39: ائیرکنڈیشنر استعمال کرتے وقت ہمیں کس چیز سے محتاط رہنا چاہئے؟

این ایچ کے کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ "ائیرکنڈیشنر استعمال کرتے وقت ہمیں کس چیز سے محتاط رہنا چاہئے؟"

جیسے ہی شمالی نصف کرہ میں موسم گرما کا موسم شروع ہوتا ہے کچھ لوگ ایئر کنڈیشن والی جگہوں پر ہوا کی تبدیلی سے متعلق پریشانی کا سامنا کرتے ہیں۔ گھریلو استعمال کے زیادہ تر ایئر کنڈیشنر گھر کے اندر کی ہوا کو دوبارہ استعمال کرتے ہیں اور ہوا کی تبدیلی یا وینٹیلیشن کی خصوصیت نہیں رکھتے۔ ائیر کنڈیشنر استعمال کرتے وقت بہت سے لوگ کھڑکیاں بند رکھتے ہیں۔

ٹوکیو پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر یاماموتو یوشی ہیدے جاپان آرکیٹیکچرل انسٹی ٹیوٹ کے ممبر بھی ہیں۔ عمارتوں میں وینٹیلیشن اُن کی مہارت کا بنیادی شعبہ ہے۔ وہ ائیر کنڈیشنگ اور قدرتی وینٹیلیشن کے امتزاج کا مشورہ دیتے ہیں۔

جناب یاماموتو چار موسموں والے علاقوں کے لئے موسم گرما کے آغاز میں، جب گرمی اتنی شدید نہیں ہوتی، ایئر کنڈیشنر کے استعمال کے وقت کھڑکیوں کو تھوڑا سا کھولنے کی سفارش کرتے ہیں تاکہ باہر کی ہوا کمرے میں داخل ہوتی رہے۔ اگر کمرہ بہت گرم ہوجائے تو ٹھنڈک بڑھانے کے لئے کھڑکیوں کو مختصر وقت کے لئے بند کریں یا اُن میں ہلکا درز رکھیں۔

شدید گرمی میں جب لُو لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جناب یاماموتو کھڑکیوں کو کھولنے کے بجائے گھر میں ہوا کی تبدیلی کے لئے نصب پنکھوں کے فعال استعمال کی سفارش کرتے ہیں جیسے کہ ٹوائلٹ یا کچن میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ شدید گرم علاقوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

زیادہ تر گھروں کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ جب وینٹیلیشن فین استعمال کیا جائے تو باہر کی ہوا گھر میں داخل ہو۔ اس طرح کھڑکیاں بند ہونے کے باوجود عمارت کے اندر اور باہر ہوا کا بہاؤ پیدا ہوگا۔ براہ کرم کسی ماہر سے پوچھیں کہ آپ کے گھر میں وینٹیلیشن کی سہولت کس انداز میں کام کرتی ہے۔

یہ معلومات 10 جون کی ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 38: غیر ملکی رہائشیوں کی رہنمائی کے لئے کثیر لسانی ہاٹ لائنز۔

این ایچ کے کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔

آج کا سوال جاپان میں مقیم غیر ملکی باشندوں کا ہے۔

سوال ہے کی "اگر مجھے کووِڈ 19 سے وابستہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑے یا میں ایسا کوئی مشاہدہ کروں تو مجھے کس سے مشورہ کرنا چاہئے؟"

براہ کرم کثیر لسانی مشاورتی مرکز سے رابطہ کریں۔

اس ویب سائٹ کے ذریعے دستیاب یوریسوئی ہاٹ لائن:
https://www.since2011.net/yorisoi/n2
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے


اس کا ٹول فری نمبر 0120279338 ہے۔

ایواتے، میاگی اور فُوکُوشیما پریفیکچر کے لئے ٹیلی فون نمبر 0120279226 پر رابطہ کریں۔

یا اُن کے فیس بک پیج پر جائیں:
https://www.facebook.com/yorisoi2foreign
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے


آپ کو مندرجہ ذیل ویب سائٹ پر بھی مدد ملے گی۔

بیک اسٹوریز: جاپان میں کورونا وائرس سے متعلق کثیر لسانی ہاٹ لائنز

https://www3.nhk.or.jp/nhkworld/en/news/backstories/1019
 
اگلا سوال ہے کہ "میرا ساتھی مجھ سے بدسلوکی کر رہا ہے۔ میں مدد کے لئے کس سے رجوع کروں؟"

گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والوں کی مدد کے لئے بہت سارے ذرائع موجود ہیں جن میں فون اور سوشل میڈیا کے ذریعہ مشاورت بھی شامل ہے۔ آپ موقع پر ترجمے کی خدمات اور پناہ گاہوں کی معلومات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر مشاورت 11 زبانوں میں 24 گھنٹے دستیاب ہے۔

براہ کرم https://soudanplus.jp/language.html ملاحظہ کریں۔
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے


سپاؤسل وائلنس کنسلٹنگ اینڈ سپورٹ سینٹر۔

صرف جاپانی زبان میں دستیاب اس سہولت کا فون نمبر 0570055210 ہے۔

یہ آپ کو قریب ترین مشاورتی مرکز سے جوڑتا ہے

گھریلو تشدد ہاٹ لائن پلس:

برائے مہربانی فون نمبر 0120279889 پر کال کریں لیکن یہ صرف جاپانی زبان میں دستیاب ہے۔

تیسرا سوال ہے کہ "میں حاملہ ہوں۔ کیا مجھے فکرمند ہونا چاہئے؟"

شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ حاملہ خواتین کو دوسرے صحت مند بالغوں کی نسبت شدید بیمار ہونے کا زیادہ خطرہ نہیں ہے۔ کورونا وائرس انفیکشن کے تیسرے مرحلے کے دوران میں وہی علامات اور شدت ہوسکتی ہے جیسا کہ غیر حاملہ خواتین میں ہوتی ہے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو حمل کے دوران کووڈ 19 کے بارے میں ضرورت سے زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن آپ کو روک تھام کے اقدامات کو جاری رکھنا چاہئے جیسے ہجوم سے گریز، باقاعدگی سے ہاتھ دھونا اور اپنی روزانہ کی جسمانی اور جذباتی صحت کا خیال رکھنا۔

مزید معلومات کے لئے مندرجہ ذیل کثیر لسانی ویب سائٹ پر جائیں:

https://share.or.jp/english/news/for_pregnant_womencovid-19_countermeasures.html
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے


ہمارے پروگرام ہارٹ نیٹ ٹی وی کے سادہ جاپانی ورژن کے لئے نیچے کلک کریں۔

https://www.nhk.or.jp/heart-net/article/339
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے

سوال نمبر 37: ویزے کی معیاد ختم ہونے کی صورت میں کیا میں کام جاری رکھ سکتا ہوں؟

این ایچ کے کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔

جاپان میں، غیر ملکی شہریوں کو رہائش کی حیثیت میں تبدیلی اور قیام کی مدت میں توسیع دونوں کے لئے ویزے کی تجدید کی درخواستوں پر تین ماہ کی توسیع دی جا رہی ہے۔

آج کا سوال جاپان میں مقیم غیر ملکی باشندوں کا ہے۔

سوال ہے کہ، کیا میں ویزے کی میعاد ختم ہونے پر بھی تین ماہ کی توسیع کی مدت کے دوران کام جاری رکھ سکتا ہوں؟

جواب ہے ’’ہاں‘‘۔ آپ کچھ شرائط کے تحت کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ امیگریشن سروسز ایجنسی نے 2 جون کو این ایچ کے ورلڈ کو مطلع کیا کہ اس خصوصی توسیعی مدت کے دوران آپ کو اپنی رہائش کی سابقہ حیثیت کے عین مطابق کام کرنے کی اجازت ہے۔ تاہم اگر آپ کو کام کی نوعیت اور آجر سمیت کسی شرط کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تو آپ کو پہلے امیگریشن سروسز ایجنسی سے مشورہ کرنا ہوگا۔

اگلا سوال یہ ہے کہ ’’اگر میں کام کرنے یا تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہوں تو کیا میں پارٹ ٹائم ورک پرمٹ کے ساتھ اپنی موجودہ ملازمت یا طالب علم کی حیثیت سے محروم ہوجاؤں گا؟

اس کا جواب ہے ’’نہیں‘‘۔ اگر آپ کورونا وائرس کے اثرات کی وجہ سے کام کرنے یا تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں تو آپ کی حیثیت منسوخ نہیں ہوگی۔ لیکن آپ کو یہ ثابت کرنے کے قابل ہونا چاہئے کہ آپ مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک سے متاثر ہوئے ہیں:

1. آپ کے آجر یا آپ کی اپنی کمپنی کو عارضی طور پر کاروباری عمل معطل کرنا پڑا ہے۔
2. آپ ریٹائر ہو چکے ہیں اور آن لائن کام تلاش کر رہے ہیں یا ملازمت آپ کی نظر میں ہے لیکن کمپنی جانے سے قاصر ہیں۔
3. آپ جس تعلیمی ادارے سے منسلک ہیں یا آپ جس ادارے میں داخلہ لے رہے تھے وہ بند ہے۔
4.آپ جس ادارے میں داخل تھے وہ بند ہے اور کسی دوسرے ادارے میں داخلے کے لئے ضروری طریقہ کار کو پورا نہیں کرسکتے ہیں۔
5. جب کووڈ 19 سمیت کسی بیماری کی وجہ سے آپ کا ہسپتال میں داخلہ طویل ہو جاتا ہے اور آپ کو چھٹی لینی پڑتی ہے۔

براہ کرم نیچے دیئے گئے صفحے کو ملاحظہ کریں جو صرف جاپانی زبان میں ہے اور اگر پھر بھی شک ہو تو براہ راست امیگریشن سروسز ایجنسی سے تصدیق کریں۔

http://www.moj.go.jp/content/001319592.pdf
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے


یہ معلومات 5 جون کی ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 36: عارضی ویزے کی معیاد ختم ہونے کی صورت میں کیا ہو گا؟

این ایچ کے کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔

آج کا سوال جاپان میں مقیم غیرملکی افراد نے پوچھا ہے۔ پہلا سوال ہے کہ ’’اگر میرے عارضی سیاحتی ویزے کی معیاد ختم ہو جائے اور میں اپنے ملک لوٹنے سے بھی قاصر ہوں تو ایسی صورتحال میں کیا ہو گا؟‘‘

آپ کو 90 دن کی توسیع دی جائے گی۔

تفصیلات کے لئے اس ویب سائٹ پر جائیں:
http://www.moj.go.jp/content/001316293.pdf
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے


اگلا سوال ہے کہ ’’اگر میرا ویزہ مارچ اور جولائی کے درمیان ختم ہوجاتا ہے تو کیا یہ خود بخود تین ماہ کی مدت کے لئے بڑھا دیا جائے گا؟‘‘

اس کا جواب ہے ’’نہیں‘‘۔ لیکن غیر ملکی شہریوں کو رہائش کی حیثیت میں تبدیلی اور قیام کی مدت میں توسیع دونوں کے لئے ویزے کی تجدید کی درخواستوں پر تین ماہ کی توسیع دی جارہی ہے۔ یہ اقدام امیگریشن کاؤنٹرز پر بھیڑ کو کم کرنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ صرف وہ لوگ اس کے اہل ہیں جن کے ویزے مارچ اور جولائی 2020 کے درمیان ختم ہوں گے۔ مطلب قیام کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ سے تین ماہ کے اندر درخواست دی جا سکتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر آپ کا ویزہ 11 مئی کو ختم ہوجاتا ہے تو آپ کو 11 اگست تک قیام میں توسیع کے لئے درخواست دینی ہوگی۔

دیگر زبانوں میں معلومات کے لئے اس ویب سائٹ پر جائیں:
http://www.moj.go.jp/content/001316300.pdf
*این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ سے خارج ہو جائیں گے


یہ معلومات 4 جون کی ہیں۔

ویزے کی درخواست کے طریقہ کار میں، خصوصاً کورونا وائرس کی صورتحال کے دوران، اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ چونکہ انفرادی معاملات مختلف ہوتے ہیں اس لیے اگر آپ کا کوئی سوال ہے تو برائے مہربانی امیگریشن آفس سے رابطہ کریں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 35: نیا کورونا وائرس کس درجہ حرارت پر زندہ رہ سکتا ہے؟

این ایچ کے کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ نیا کورونا وائرس کس درجہ حرارت پر زندہ رہ سکتا ہے اور کیا کھانا پکانے سے اسے مارا جا سکتا ہے؟

محققین کا کہنا ہے کہ نیا کورونا وائرس 37 ڈگری سیلسیئس پر ایک دن کے لئے زندہ رہ سکتا ہے لیکن 56 ڈگری سیلسیئس کی گرمی 30 منٹ کے اندر ہی اسے ہلاک کردیتی ہے۔

انہوں نے معلوم کیا ہے کہ 70 ڈگری درجہ حرارت پر پانچ منٹ کے اندر وائرس غائب ہو گیا۔

انفیکشن سے بچاؤ اور روک تھام کی جاپانی سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی سوگاوارا اریسا کا کہنا ہے کہ اس بات سے قطع نظر کہ کھانا گرم کیا گیا تھا یا نہیں، ابھی تک کھانے سے وائرس کی منتقلی کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ خاطر خواہ حرارت کے ساتھ کھانا پکانے سے وائرس ہلاک ہوجائے گا۔

یہ معلومات یکم جون کی ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 34: مکان کے کرائے کی ادائیگی میں مشکلات

این ایچ کے، کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔
آج کا سوال یہ ہے کہ کرائے کی ادائیگی میں مشکلات کی صورت میں کیا کرنا چاہیئے؟

ایسے لوگ جو عالمی وبا کی وجہ سے اپنی ملازمت سے محروم ہو چکے ہیں یا ان کو آمدنی میں کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ کرایہ ادا کرنے میں مالی مدد کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔
اس کے لئے اہلیت کا تعین گھریلو آمدنی اور بچت کا جائزہ لینے کے بعد کیا جاتا ہے۔
مالی امداد صرف کرائے میں مدد کے لئے دستیاب ہے۔ اس میں رہائشی قرضوں کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے۔

شرائط پوری ہونے پر 3 ماہ کا کرایہ دیا جاتا ہے جو زیادہ سے زیادہ 9 ماہ تک قابل حصول ہے۔
یہ امداد ہے جسے واپس کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

درخواست دینے سے پہلے میونسپل سیلف سپورٹ سینٹر کے ساتھ فون پر مشاورت ضروری ہے۔ مشاورت صرف جاپانی زبان میں دستیاب ہے۔

کال سینٹر صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک دستیاب ہے۔
فون نمبر 5572-23-0120 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ معلومات 25 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 33: جاپان میں مالی اعانتی پروگرام کے لئے درخواست کا طریقہ کار

سوال نمبر 33: جاپان میں مالی اعانتی پروگرام کے لئے درخواست کا طریقہ کار

این ایچ کے، کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔
آج کا سوال یہ ہے کہ جاپان میں کورونا وائرس کے مالی اعانتی پروگرام کے لئے کس طرح درخواست دی جائے؟

ہر پریفیکچر کی سوشل ویلفیئر کونسل نے اُن گھرانوں کے لئے فلاحی فنڈ سے قرضے کا نظام قائم کیا ہے جو کام رک جانے کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ قرضہ ہے اور اس کی واپسی لازمی ہے۔

’’چھوٹی رقم کا ہنگامی فنڈ‘‘ بنیادی طور پر ان گھرانوں کے لئے ہے جو عارضی طور پر کام رکنے کی وجہ سے آمدنی میں کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے لئے 2 لاکھ ین تک کا قرضہ دستیاب ہوگا۔

’’جنرل سپورٹ فنڈ‘‘ بنیادی طور پر ان گھرانوں کے لئے ہے جن کے افراد اب بے روزگار ہیں یا جن کی آمدنی میں کمی آئی ہے۔
دو یا دو سے زیادہ افراد پر مشتمل گھرانوں کے لئے قرض کی رقم کی حد 2 لاکھ ین ماہانہ ہے۔ ایک فرد کے گھر کے لئے یہ رقم ڈیڑھ لاکھ ین ہے۔
قرض کی مدت اصولی طور پر 3 ماہ کے لئے ہے۔
کال سینٹر صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک (صرف جاپانی زبان میں) دستیاب ہے۔ فون نمبر 1999-46-0120 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ معلومات 22 مئی تک کی ہیں۔
ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے کی جاسکتی ہے۔

اس ضمن میں مختلف زبانوں میں معلومات درج ذیل انٹرنیٹ سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
سادہ جاپانی:

https://www.mhlw.go.jp/content/000621849.pdf

انگریزی:
https://www.mhlw.go.jp/content/000621221.pdf

کوریائی:
https://www.mhlw.go.jp/content/000621222.pdf

آسان چینی:
https://www.mhlw.go.jp/content/000621223.pdf

ویتنامی:
https://www.mhlw.go.jp/content/000621224.pdf

پرتگالی:
https://www.mhlw.go.jp/content/000621225.pdf

ہسپانوی:
https://www.mhlw.go.jp/content/000621226.pdf

سوال نمبر 32: پالتو بلیوں سے وائرس پھیلنے کی رپورٹ

این ایچ کے کے ماہرین سامعین کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔ آج کا سوال پالتو جانوروں کے کورونا وائرس انفیکشن کے بارے میں ہے۔ جب سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے کہ پالتو بلیوں کے مابین نیا کورونا وائرس پھیل سکتا ہے، لوگ معلومات کے لئے سوالات پوچھ رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف ٹوکیو کے انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں پروفیسر کاواوکا یوشی ہیرو اور وسکونسن یونیورسٹی کے دیگر افراد نے تین بلیوں کو کورونا وائرس سے متاثر کیا اور اُن کو صحتمند بلیوں کے پاس چھوڑ دیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ متاثرہ بلیوں میں کوئی علامت نہیں پائی گئی تاہم ناک میں موجود مواد کے نمونوں سے ان سب میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ تین بلیوں میں سے دو میں چھ دن تک وائرس کی موجودگی ثابت ہوئی۔

گروپ کا کہنا ہے کہ تین صحتمند بلیوں کو تین متاثرہ بلیوں کے پاس رکھا گیا اور تین سے چھ دن بعد اُن کا وائرس ٹیسٹ مثبت رہا جو وائرس پھیلنے کا ثبوت ہے۔

ٹیم کا کہنا ہے کہ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا وائرس نظام تنفس میں تیزی سے بڑھ سکتا ہے اور بلیوں کے مابین آسانی سے پھیل سکتا ہے۔

محققین کا مزید کہنا ہے کہ چونکہ متاثرہ بلیوں میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی اور مالک کو معلوم ہوئے بغیر ہی وائرس پھیل سکتا ہے اس لئے اُن کا مشورہ ہے کہ بلیوں کے مالکان اپنے پالتو جانوروں کو گھر کے اندر ہی رکھیں۔

یہ اعداد و شمار 21 مئی کے ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 31: ذائقہ نہ لگنے کی صورت میں کیا کرنا چاہیئے؟

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی امراض کی ماہر محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج سوال یہ ہے کہ جب ذائقہ محسوس نہ ہو تو کیا کرنا چاہیئے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے تقریباً 30 فیصد مریضوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں کھانے کا ذائقہ یا خوشبو محسوس نہ ہونے کی شکایت ہوتی ہے۔ اگر ایسی علامات ظاہر ہو جائیں تو وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ لیکن کسی دوسرے متعدی مرض میں مبتلا ہو جانے سے بھی اسی طرح کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا علامات کا تھوڑے عرصے تک مشاہدہ کرنے کے بعد اگر آپ کو مسلسل بخار ہو یا سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہتر ہے۔

مندرجہ بالا معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سوال نمبر 30: بچوں کا گھر سے باہر کھیلنے میں احتیاط

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی امراض کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال عالمی وبا کے دوران بچوں کے دوستوں کے ساتھ باہر کھیلنے میں موجود خطرات سے متعلق ہے۔

ملک بھر میں اسکولوں کی طویل بندش کے دوران بچوں کو وقت گزارنے کے لئے بعض ایلیمنٹری اور جونیئر ہائی اسکولوں نے کھیلوں کے میدان کھول دیئے ہیں۔ بہت سے والدین یہ سوچ رہے ہیں کہ آیا انفیکشن کے خطرات موجود ہیں یا نہیں اگرچہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے دوستوں کے ساتھ کھیلیں تاکہ کئی دن تک گھر میں رہنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے تناؤ کو کم کیا جاسکے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اب کوئی بڑی پریشانی نہیں ہو گی اگر والدین ان باتوں پر توجہ دیں جیسے کھیلنے کے دوران بچوں کی تعداد کو جتنا ممکن ہو کم رکھیں، کھیلنے کا دورانیہ زیادہ نہ ہو اور گھر آتے ساتھ ہی انھیں اپنے ہاتھ دھونے کا کہا جائے۔

یہ اعداد و شمار 13 مئی کے ہیں۔

ان معلومات کو این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سوال نمبر 29: جاپانی حکومت نے کورونا وائرس ٹیسٹ کے معیار میں کیا تبدیلی کی ہے؟

این ایچ کے کے نمائندے سامعین کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔ آج کا سوال ہے کہ ’’جاپانی حکومت نے کورونا وائرس ٹیسٹ کے معیار کو کس طرح تبدیل کیا ہے اور کیوں؟‘‘

جاپان کی وزارت صحت نے لوگوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ کے لئے اپنے معیار پر نظر ثانی کی ہے۔

گزشتہ معیار میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ صرف 37.5 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ چار دن تک بخار میں مبتلا رہنے والے افراد کو ہی مرکز صحت سے رابطہ کرنا چاہئے۔

نیا معیار مخصوص درجہ حرارت کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’جن لوگوں کو سانس لینے میں دشواری، شدید تھکاوٹ یا تیز بخار ہو‘‘ یا ’’جو چار دن یا زیادہ عرصے تک کھانسی، بخار اور زکام کی دیگر ہلکی علامات میں مبتلا ہوں‘‘ ان کو مدد کے لئے رابطہ کرنا چاہئے۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ گزشتہ معیار سخت ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ کرنے کی تعداد محدود ہے۔

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اُس کے پاس یومیہ 17 ہزار سے زائد ٹیسٹ کروانے کی صلاحیت موجود ہے۔ تاہم ٹیسٹ کرنے کی اصل یومیہ تعداد بہت کم یعنی 9 ہزار کے قریب ہے۔

سیندائی میڈیکل سنٹر میں وائرس ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر نیشی مُورا ہیدے کازُو کا کہنا ہے کہ یہ نیا معیار مددگار ثابت ہوگا۔

جناب نیشی مُورا کا کہنا ہے کہ ’’نئے معیار سے ڈاکٹروں کو نمونیا کے اُن مریضوں پر توجہ دینے میں مدد ملے گی جن کی بیماری شدید نہیں ہے لیکن اُس میں شدت آ سکتی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’ایک خدشہ یہ ہے کہ ٹیسٹ مناسب تعداد میں نہیں ہو پائیں گے، خاص طور پر ٹوکیو جیسے شہری علاقوں میں جہاں متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ مطلب، یہ طے کرنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ کن مریضوں کو ٹیسٹ کی انتہائی اشد ضرورت ہے۔

یہ اعداد و شمار 12 مئی کے ہیں۔

ان معلومات کی تصدیق این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے کی جاسکتی ہے۔

سوال نمبر 28: چہل قدمی یا ورزش کے لئے باہر جانے میں کن خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے؟

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی امراض کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ چہل قدمی یا ورزش کے لئے باہر جانے میں کن خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے؟

جاپان کے وزیر اعظم آبے شنزو نے ایک نیوز کانفرنس میں ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے کہا کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ جناب آبے نے یہ بھی کہا کہ باہر ٹہلنے یا سیر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جو شاید ہمیں متضاد لگا ہو۔ لیکن، محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ ہمیں ہنگامی حالت کے اعلان کا بنیادی مقصد نہیں بھولنا چاہئے اور لوگوں کو دوسروں سے کچھ فاصلہ اختیار کرنے کی ترغیب دینی چاہئے۔ اگر آپ کسی کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے چہل قدمی کرتے ہیں تو منہ سے نکلنے والی بوندیں ایک دوسرے تک پھیل سکتی ہیں جس سے بچنے کی ضرورت ہے۔ لیکن جب کوئی آس پاس نہ ہو تو تنہا باہر ورزش کرنا زیادہ سودمند ہے کیونکہ اس طرح بڑے خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔

ان معلومات کو این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سوال نمبر 27: سُپر مارکیٹ میں خریداری کے لئے احتیاطی تدابیر

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی امراض کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ سپر مارکیٹ میں خریداری کرتے وقت کونسی احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ ہمیں سپر مارکیٹ میں داخل ہونے سے پہلے ہتھیلیوں، انگلیوں اور کلائیوں سمیت ہاتھوں کو جراثیم کُش محلول سے ضرور صاف کرنا چاہئے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ کم رش کے وقت خریداری کے لئے جانا زیادہ موزوں ہے۔

ان معلومات کو این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سوال نمبر 25: گولف کھیلنے میں احتیاط۔

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی بیماریوں کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ گولف کورس میں کس طرح محتاط رہا جائے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ بعض لوگ سوچتے ہیں کہ گولف کھیلتے وقت انفیکشن کا کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ اسے کھلے ماحول میں کھیلا جاتا ہے۔ لیکن، بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ گولف کھیلنا بہت خطرناک ہے۔ گولف کورس کھلے میدان میں ہوتا ہے اور اسے بند جگہوں پر بنانا ناممکن ہے۔ تاہم ایک بڑے گروپ کی شکل میں لاکر رومز استعمال کرنا یا مل جُل کر کھانا کھانے سے یہ خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ہمیں اپنے چہرے کو ہاتھ سے چھونے کے بعد انفیکشن کے خطرے سے محتاط رہنا ہوگا خاص طور پر جب ہم نے اُن مقامات کو چھوا ہو جنہیں کئی نامعلوم افراد ہاتھ لگا چکے ہوں۔

ان معلومات کو این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سوال نمبر 24: مشترکہ گھر میں وائرس سے کیسے بچا جائے؟

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی بیماریوں کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ ایسی صورتحال سے کیسے نمٹا جائے جب ایک مشترکہ گھر میں رہنے والے افراد وائرس سے متاثر ہو جائیں۔

مشترکہ گھر میں رہنے والے ہر فرد کے پاس ذاتی بیڈ روم موجود ہوتا ہے تاہم وہ باورچی خانہ اور واش روم مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ اہم کام یہ ہے کہ کثرت سے چھوئے جانے والے مقامات، جیسے نلکے یا بلب وغیرہ کے بٹن کو ہلکے ڈٹرجنٹ یا اگر دستیاب ہو تو الکحل والے ڈس انفیکٹینٹ کے ساتھ جراثیم سے پاک کیا جائے۔

ان معلومات کو این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سوال نمبر 23: لفٹ استعمال کرنے میں احتیاط۔

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی بیماریوں کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال اُن چیزوں کے بارے میں ہے جن پر ہمیں لفٹ استعمال کرتے وقت دھیان دینا چاہئے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ چونکہ عمارتوں کی دسویں یا بیسویں منزل پر جانے کے لئے سیڑھیاں استعمال کرنا مشکل ہوتا ہے لہٰذا ہم انفیکشن سے بچنے کے لئے یہ کر سکتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کے ساتھ لفٹ استعمال نہ کریں اور لفٹ میں چڑھنے کے دوران لوگوں سے بات کرنے سے گریز کریں۔ اس طرح کے اقدامات سے انفیکشن کے امکانات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ محترمہ ساکاموتو کا مزید کہنا ہے کہ لفٹ کے بٹن دبانے کے بعد اپنے چہرے کو ہاتھوں سے نہ چھونا بہت اہم ہے۔ بٹن چھونے کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو صابن اور پانی سے ہاتھ دھونا بھی ضروری ہے۔

سوال نمبر 22: ماسک کی افادیت۔

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی بیماریوں کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال ڈسپوز ایبل ماسک کی افادیت اور سوتی کپڑے سے بنے دھونے کے قابل اور دوبارہ قابل استعمال ماسک سے متعلق ہے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مختلف تجربات جاری ہیں کہ کس طرح ماسک وائرس سے بچنے میں معاون ہیں. تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ کھانسی اور چھینک آنے پر آپ کے منہ سے نکلنے والی بوندیں روکنے کیلئے مختلف ماسک ایک حد تک موثر ہوتے ہیں۔ تاہم محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ کسی بھی طرح سے یہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے اور تھوڑی مقدار میں بوندیں باہر پھیل سکتی ہے۔ لہذا جب آپ کو کھانسنے اور چھینکنے کی شکایت ہو تو باہر جانے سے گریز زیادہ محفوظ ہے۔

سوال نمبر 21: بغیر علامات والے کورونا وائرس کے مریض۔

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی امراض کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال کورونا وائرس کے اُن مریضوں کے بارے میں ہے جن میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق کے باوجود علامات ظاہر نہیں ہوتے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ بعض مریض بغیر کوئی علامت ظاہر کیے خود ہی صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ چین کی ایک تحقیقی ٹیم کے مطابق سروے میں شامل نصف مریضوں میں یا تو کوئی علامت ظاہر ہی نہیں ہوئی یا پھر بہت ہی ہلکی علامات ظاہر ہوئیں۔ تاہم، محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ ہمیں تقریبا ایک ہفتہ مریضوں کا مشاہدہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان میں سے بعض آہستہ آہستہ شدید بیمار ہو جاتے ہیں۔

سوال نمبر 20: کیا الکحل کے مشروبات کو بطور سینیٹائزر استعمال کیا جا سکتا ہے؟

جاپان کی وزارت صحت نے فیصلہ کیا ہے کہ الکحل کے مشروبات کو سینیٹائزر کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ہونے والی سینیٹائزر کی قلت کو پورا کیا جاسکے۔

یہ فیصلہ طبی اور نگہداشت کے اداروں کے مطالبے پر کیا گیا ہے جو الکحل سے بنے جراثیم کُش سے صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

وزارت نے ان اداروں کو اپریل میں بتایا تھا کہ اگر انہیں مناسب سینیٹائزر نہیں مل پائے تو مشروبات بنانے والی کمپنیوں کی تیار کردہ شراب میں سے تیز الکحل والے مشروبات استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

الکحل کی 70 سے 83 فیصد تک کثافت والی شراب استعمال کی جاسکتی ہے۔ بعض ووڈکا شرابیں اس زمرے میں آتی ہیں۔

وزارت کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس سے زائد کثافت والے مشروب میں صفائی کی صلاحیت کم ہوتی ہے اور انہیں استعمال سے قبل ہلکا کر دینا چاہیئے۔ اُنہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ بنیادی طور پر طبی اداروں میں سینیٹائزر کی کمی کو دور کرنے کے لئے یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے۔

وہ عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے گھر میں محتاط انداز میں ہاتھ دھونے کا عمل جاری رکھیں۔

یہ معلومات 27 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 18: ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد کیا ہوتا ہے؟

پہلے بات کرتے ہیں ماسک کے بارے میں جن کی جاپان میں دستیابی دن بہ دن مشکل ہو رہی ہے۔
کورونا وائرس سے متعلق خصوصی اقدامات کے قانون کی بنیاد پر گورنر کمپنیوں سے مقامی حکومت کو ماسک اور دیگر ضروری سامان فروخت کرنے کی درخواست کرسکتے ہیں۔ اگر کمپنیاں ایسی درخواست پر عمل کرنے سے انکار کر دیں تو گورنر کو اس طرح کا سامان ضبط کرنے کی اجازت ہے۔

مرکزی حکومت نے پہلے ہی ہوکائیدو میں لوگوں کو ایک علیحدہ قانون، عوام کے حالات زندگی کو مستحکم کرنے کی غرض سے ہنگامی اقدامات کے لئے 1973 کے ضابطے کی بنیاد پر لوگوں اور طبی اداروں کو ماسک خرید کر دیئے ہیں۔ یہ قانون تیل کے عالمی بحران کے پیش نظر نافذ کیا گیا تھا۔

ہنگامی حالت میں گورنروں کو قانونی طور پر قابل نفاذ بعض اقدامات اٹھانے کی بھی اجازت ملتی ہے۔ عارضی طبی سہولیات کی تعمیر کے لئے گورنر مالکان کی رضامندی کے بغیر زمین اور عمارتیں استعمال کرسکتے ہیں۔ وہ کمپنیوں کو طبی سامان، کھانا اور دیگر ضروری سامان ذخیرہ کرنے کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔ اگر کمپنیاں حکم کی تعمیل نہیں کرتیں اورمثال کے طور پر مصنوعات کو چھپاتی یا پھینک دیتی ہیں تو انہیں چھ ماہ تک قید کی سزا یا تقریباً 2800 ڈالر تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ صرف ان دو اقدامات میں سزا بھی شامل ہیں۔

جاپان کی ہنگامی حالت میں بیرون ممالک میں نافذ لاک ڈاؤن کے برعکس چند قابل عمل اقدامات شامل ہیں۔ لیکن اس اعلان سے عوام اور کاروباری اداروں کو وباء پر قابو پانے کی کوشش میں تعاون کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔

اس سے جاپان کی طبی خدمات پر کیا اثر پڑے گا؟
میڈیکل ادارے ان سہولیات میں شامل نہیں ہیں جن کو گورنر بند کرنے کی درخواست کرسکتے ہیں، لہٰذا وہ کھلے رہیں گے۔ نیز، ہسپتال جانا ضروری سفر سمجھا جاتا ہے جس پر "گھر میں رہیں" کی درخواست کے تحت بھی پابندی نہیں ہوگی۔ تاہم مقامی حکومتیں اس وباء کی شدید ترین صورتحال پر مبنی تیاری کے لئے انتظامات کریں گی، جیسے اُن مراکز کا انتخاب کرنا جو بنیادی طور پر کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے مختص ہوں اور دوسرے مریضوں کو دیگر ہسپتالوں میں منتقل کرنا۔ جاپان کی وزارت صحت بھی ڈاکٹر کے ساتھ آن لائن مشاورت کیلئے مطلوبہ لوازمات آسان بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ فی الحال، ڈاکٹر سے روبرو ملاقات کے بعد ہی آن لائن مشاورتیں شروع ہوسکتی ہیں۔ لیکن وزارت شروع سے ہی آن لائن علاج کی اجازت دے گی۔

طبی دیکھ بھال کے مراکز کیسے متاثر ہونگے؟
ہنگامی حالت کے تابع صوبوں کے گورنر طبی دیکھ بھال کی اُن سہولیات کی بندش اور عوامل مختصر کرنے کی درخواست کرسکتے ہیں جو دن کی دیکھ بھال اور قلیل قیام کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ نگہداشت فراہم کرنے والے جو ادارے اپنی سہولیات بند کر رہے ہیں ان سے کہا جائے گا کہ وہ ضروری متبادل خدمات کی فراہمی جاری رکھیں، جیسا کہ صارفین کے گھروں پر عملہ بھیجنا۔ گورنر دیکھ بھال کی رہائشی سہولیات اور گھریلو نگہداشت فراہم کرنے والوں کی بندش کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔ ان مراکز سے کہا گیا ہے کہ مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنی خدمات جاری رکھیں۔

چائلڈ ڈے کیئر سہولیات کے بارے میں کیا احکامات ہیں؟
اگر وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہو تو گورنر چائلڈ ڈے کیئر سینٹروں کے استعمال کو محدود کرسکتے ہیں اور ممکنہ طور پر ایسی سہولیات کو عارضی طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔ حتٰی کہ نامزد علاقوں میں گورنر کی درخواست کے بغیر بھی ہر میونسپلٹی اپنے قبول کردہ بچوں کی تعداد کو کم کرنے کی ضرورت پر غور کر سکتی ہے۔ جو والدین گھر سے کام کر سکتے ہیں یا چھٹی لے سکتے ہیں، ان سے ڈے کیئر استعمال نہ کرنے کا کہا جائے گا۔ اگر کوئی بچہ یا نگہداشت کرنے والا متاثر ہوتا ہے یا جب اس علاقے میں متاثرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو بلدیات کے پاس بھی عارضی طور پر ڈے کیئر سہولیات بند کرنے کا اختیار موجود ہے۔ تاہم، مقامی حکومتیں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں یا ایسے والدین جو کام سے وقت نکالنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں یا ایسے لوگوں کے لئے بچوں کی نگہداشت کی فراہمی کے دیگر طریقوں کا جائزہ لیں گی جن کا کام معاشرے کو چلانے کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

اس کے بعد آتے ہیں مزدوری معیارات کے معائنہ دفاتر اور ملازمت کے تقرری مراکز۔
اصولی طور پر، روزگار سے وابستہ خدشات سے نمٹنے والی یہ سہولیات معمول کے مطابق کھلی رہیں گی۔ تاہم، ملازمت کے تقرری مراکز ہر علاقے میں انفیکشن کی صورتحال کے لحاظ سے اپنے کاموں کو کم کرسکتے ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ سروسز کا کیا ہوگا؟
7 اپریل کو وزیر اعظم آبے شنزو کے ہنگامی حالت کے اعلان سے قبل، وزیر ٹرانسپورٹ، اَکابا کازُویوشی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگر ہنگامی حالت کا اعلان کر بھی دیا گیا تو پھر بھی کام کو برقرار رکھنے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ اور رسد کی ضرورت ہوگی۔

یہ معلومات 8 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 17: ہنگامی حالت کا اعلان ہماری زندگیوں کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟

اس سوال کے جواب کے کئی حصے ہیں۔ پہلے باہر گھومنے پھرنے کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

مقررہ پریفیکچروں کے گورنر نامزد علاقوں کے رہائشیوں سے ایک مقررہ مدت تک غیر ضروری کام کے لئے باہر جانے سے باز رہنے کو کہہ سکتے ہیں۔

ان میں ہسپتال جانا، ضروریات زندگی کی خریداری اور کام پر جانا شامل نہیں۔ درخواست پر عمل لازمی نہیں ہے لیکن شہری تعاون کرنے اور پوری کوشش کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔

دوسرا حصہ اسکولوں کے بارے میں ہے۔

گورنر اسکولوں کو بند کرنے کا مطالبہ کرسکتے ہیں یا حکم دے سکتے ہیں۔ یہ گذشتہ ماہ نافذ کردہ خصوصی قانون پر مبنی احکامات ہیں۔

گورنروں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پریفیکچر کے ہائی اسکول بند کردیں۔

وہ مقامی حکومتوں کے زیر نگرانی نجی اسکولوں اور ایلی منٹری اور جونیئر ہائی اسکولوں کو بند کرنے کے لئے کہہ سکتے ہیں۔ اگر اسکولوں نے تعمیل نہ کی تو وہ بندش کا حکم بھی دے سکتے ہیں لیکن اس میں کوئی جرمانہ شامل نہیں ہے۔

اگلا حصہ سہولیات اور اسٹورز کے بارے میں ہے۔

یہ قانون گورنرز کو انفیکشن کا پھیلاؤ روکنے کے لئے سہولیات کے استعمال کو محدود کرنے کی درخواست کرنے کے اہل بناتا ہے۔

وہ بڑے پیمانے کے ان سہولیات کو محدود کرنے یا اس پر پابندی عائد کرنے کا بھی کہہ سکتے ہیں جن کا کُل رقبہ ایک ہزار مربع میٹر سے زیادہ ہو۔ اگر ضرورت پڑے تو اس سے چھوٹی سہولیات کو بھی ایسا ہی حکم دیا جا سکتا ہے۔

مندرجہ ذیل اُن سہولیات کی فہرست ہے جو اس زمرے میں آتی ہیں۔ تھیٹر اور سنیما گھر، مقامات برائے تقاریب، ڈپارٹمنٹ اسٹور، سپر مارکیٹ، ہوٹل اور سرائے، جم اور سوئمنگ پول، عجائب گھر، لائبریری، نائٹ کلب، ڈرائیونگ اسکول اور ٹیوشن اسکول۔

سپر مارکیٹوں کو اشیائے ضروریہ جیسے کھانے، دوا اور حفظان صحت کے لئے مخصوص حصے کھلے رکھنے کی اجازت ہو گی۔

اگر بعض سہولیات درخواست کی تعمیل نہیں کرتی ہیں تو گورنر انہیں ایسا کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔

وہ ان سہولیات کے نام مشتہر کریں گے جن کو ایسا حکم دیا گیا ہو۔

یہ حصہ تقریبات اور میلوں سے متعلق ہے۔

نئی قانون سازی کے تحت، گورنر ایونٹ کے منتظمین سے تقریبات کا انعقاد نہ کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔ اگر کسی منتظم نے تعمیل نہیں کی تو وہ انہیں روکنے کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔

گورنر پریفیکچر کی ویب سائٹ یا دیگر میڈیا پر اُن منتظمین کے نام مشتہر کر سکتے ہیں جن کو ایسا حکم دیا گیا ہو۔

رہائشی سہولیات اور خدمات

ہنگامی حالت کے اعلان سے ضروری رہائشی سہولیات متاثر نہیں ہوتی ہیں۔ بجلی، گیس اور پانی کی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں سے کہا جاتا ہے کہ وہ مستحکم فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے موثر اقدامات پر عمل درآمد کریں۔

ٹرانسپورٹ، ٹیلیفون، انٹرنیٹ اور ڈاک سے متعلق کمپنیوں کو کام جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔

اس قانون میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کام کو محدود کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ وزیر اعظم اور گورنرز کم سے کم ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ کا نظام چلانے کے اقدامات اُٹھا سکتے ہیں۔

یہ اعداد و شمار 7 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 16: اَویگان نامی دوا کورونا وائرس کے علاج میں کتنی مؤثر ہے؟

اَویگان کو فاویپیراویر بھی کہا جاتا ہے اور یہ نزلہ زکام کی دوا ہے جسے ایک جاپانی دوا ساز کمپنی نے چھ سال قبل تیار کیا تھا۔ لیبارٹری میں اس کی آزمائش کے دوران جانوروں پر مضر اثرات کی اطلاع ملی ہے، لہٰذا جاپانی حکومت نے حاملہ خواتین جیسے کچھ لوگوں کیلئے اس کے استعمال کی منظوری نہیں دی ہے۔ اب صرف حکومت کی طرف سے منظور شدہ کیسز میں ہی اَویگان کو نئے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو دیا جائے گا۔

ابھی تک ایسی کوئی اور معلوم دوا موجود نہیں ہے جو نئے کورونا وائرس کے مریضوں کا مؤثر طریقے سے علاج کر سکے لیکن امید ہے کہ نئے کورونا وائرس کے خلاف اَویگان مؤثر ثابت ہوگی جو انفلوئنزا وائرس کی طرح بڑھتا ہے۔ دنیا کے بہت سارے حصوں میں اس دوا کے اثرات کے بارے میں تحقیق کی جا رہی ہے۔

چینی حکومت نے دو طبی اداروں میں ہونے والی تحقیق کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ ایک تحقیق صوبہ گوانگ دونگ کے شینژین شہر میں 80 مریضوں پر کی گئی۔ جن لوگوں کو اَویگان نہیں دی گئی تھی، انکے ٹیسٹ کے نتائج مثبت سے منفی ہونے میں اوسطاً 11 دن لگے۔ جن افراد کو یہ دوا دی گئی اُن کو اوسطاً چار دن لگے۔ مریضوں کے ایکسرے سے پتہ چلتا ہے کہ اُن 62 فیصد افراد کی پھیپھڑوں کی حالت بہتر ہوئی جن کو اَویگان نہیں دی گئی جبکہ اَویگان استعمال کرنے والے افراد میں سے 91 فیصد کے پھیپھڑے بہتر ہوئے۔

چین کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نتائج نے اسے نئے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لئے اَویگان کو باضابطہ طور پر ایک دوا کے طور پر شامل کرنے کی طرف راغب کیا ہے۔

جاپان میں مارچ کے مہینے سے آئیچی پریفیکچر کے فوجیتا ہیلتھ یونیورسٹی ہسپتال جیسے اداروں میں ہلکی علامات یا علامات سے پاک 80 مریضوں پر طبی تحقیق جاری ہے۔ محققین موازنہ کر رہے ہیں کہ یہ دوا وائرس کے حجم کو کتنا کم کر سکتی ہے۔

اَویگان تیار کرنے والی جاپانی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سرکاری منظوری حاصل کرنے کے لئے طبّی آزمائشیں شروع کر دی ہیں۔ اگر اس دوا کے مؤثر اور محفوظ ہونے کی تصدیق ہو گئی تو کمپنی منظوری کے لئے حکومت کو درخواست دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ معلومات 6 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 15: کیا یہ وائرس چینی شہر وُوہان، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک میں تغیر پذیر ہو رہا ہے؟

مارچ کے اوائل میں ایک چینی تحقیقی گروپ نے دنیا بھر کے 100 سے زائد مریضوں سے لی گئیں کورونا وائرس جِینز کا تجزیہ کیا۔ ٹیم نے دو اقسام کی کورونا وائرس جِینز، ایل ٹائپ اور ایس ٹائپ میں فرق دریافت کیا۔

گروپ نے معلوم کیا کہ ایس ٹائپ میں چمگادڑوں میں پائے جانے والے کورونا وائرس سے ملتی جلتی جینیاتی ترتیب ہوتی ہے۔ ایل ٹائپ کا وائرس یورپی ممالک کے مریضوں میں عام طور پر پایا گیا تھا اور سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایس ٹائپ سے مختلف اس وائرس کی ایک نئی شکل ہے۔

رِتسُومیئکان یونیورسٹی کالج آف لائف سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ایتو ماساہیرو جو وائرس کی خصوصیات کا مطالعہ کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ کورونا وائرس آسانی سے اپنے اندر تبدیلی لاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کرنے اور وائرس کے بار بار پھیلاؤ کے دوران بھی متغیر ہوتا ہے۔

دریں اثناء، وائرس کے آسانی سے منتقل ہونے کے قابل بننے کے لئے خود میں تبدیلی لانے کے امکان سے متعلق جناب ایتو کا کہنا ہے کہ وائرس اب بھی اس مرحلے پر ہے جہاں اس کی جینیاتی ترتیب میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اگر ایل ٹائپ اور ایس ٹائپ کی جِینز میں فرق موجود ہے تو پھر بھی ان معلومات کا فقدان ہے کہ کون سی قسم زیادہ شدید علامات کا باعث بنتی ہے۔ جناب ایتو کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیماریوں کی شدت اور اموات کی شرح ممالک کے مابین مختلف ہے لیکن یہ باور کیا جاتا ہے کہ یہ تغیرات خود لوگوں کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں جس میں کسی ملک کی معمر آبادی کا تناسب، ثقافت اور کھانے کی عادات میں فرق شامل ہے۔

یہ معلومات 3 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 14: کیا کورونا وائرس سے نوجوان افراد شدید بیمار پڑ سکتے ہیں؟

ماہرین کا خیال تھا کہ عمر رسیدہ اور صحت کے مسائل سے دوچار افراد میں انفیکشن کے بعد شدید علامات ظاہر ہوتے ہیں۔ لیکن گذشتہ ماہ میڈیا نے یہ اطلاع دی تھی کہ برطانیہ میں ایک 21 سالہ خاتون اور فرانس میں ایک 16 سالہ لڑکی کی اس وائرس سے موت ہوگئی ہے۔ یہ دونوں افراد پہلے سے بیمار بھی نہیں تھے۔ حالیہ کیسز سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ نوجوان شدید بیمار ہو سکتے ہیں۔

جاپان میں بھی نسبتاً نوجوان افراد کے شدید بیمار ہونے کے واقعات دیکھے گئے ہیں۔ نیشنل سنٹر فار گلوبل ہیلتھ اینڈ میڈیسن کے ساتوشی کوتسونا نے بتایا کی اُن 30 سے زائد مریضوں میں سے، جن کا انھوں نے علاج کیا، 40 کے پیٹے کے ایک شخص میں شدید علامات پیدا ہوئیں حتیٰ کہ اُس کو پہلے سے کوئی بیماری بھی نہیں تھی۔

جناب کوتسونا نے بتایا کہ اس شخص کو پہلے کئی دن تک صرف بخار اور کھانسی ہوئی لیکن ایک ہفتہ کے بعد اسے شدید نمونیا ہوگیا اور سانس لینے میں تیزی سے دشواری کے باعث اسے ریسپائریٹر کی ضرورت پڑی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شخص بعد میں صحتیاب ہوا۔

جناب کوتسونا نے ہمیں بتایا کہ نوجوانوں کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اُنہیں کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ نوجوان افراد بھی شدید بیمار پڑ سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں جن میں 50 سال سے کم عمر کے افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے امریکی مراکز نے اطلاع دی ہے کہ 20 سے 44 سال کی عمر والے 2 سے 4 فیصد متاثرہ افراد انتہائی نگہداشت کے شعبے میں ہیں۔

یہ اعداد و شمار 2 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 13: کیا نیا کورونا وائرس گندے پانی سے پھیل سکتا ہے؟

2003 میں سارس نامی وائرس پھیلنے کے دوران، ہم نے سنا ہے کہ نالیوں سے پھوٹنے والے گندے پانی کے ذریعے وائرس پھیلنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ کورونا وائرس کی یہ نئی قسم سارس کورونا وائرس سے مشابہت رکھتی ہے۔

تو آج کا سوال ہے، کیا نیا کورونا وائرس بھی گندے پانی سے پھیل سکتا ہے؟

یہ نیا وائرس اور سارس وائرس دونوں کا تعلق کورونا وائرس کے ایک ہی خاندان سے ہے۔ وہ کورونا وائرس جس کی وجہ سے سارس پیدا ہوا تھا، نہ صرف گلے اور پھیپھڑوں میں بلکہ آنتوں میں بھی اپنی تعداد بڑھاتا ہے۔ 2003 میں جب سارس وائرس دنیا کے مختلف حصوں میں لوگوں میں پھیل گیا، ہانگ کانگ کی ایک رہائشی عمارت میں بڑے پیمانے پر انفیکشن کی اطلاع ملی۔ یہ شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بڑے پیمانے پر انفیکشن نکاسی آب کے پرانے پائپس سے خارج ہونے والی وائرس زدہ بوندوں کی وجہ سے ہوا ہے۔

توہکو میڈیکل اینڈ فارماسیوٹیکل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے انفیکشن سے بچاؤ کے اقدامات کے ماہر پروفیسر کاکو میتسو نے بتایا کہ حفظان صحت کے نسبتاً اعلی درجے کے حامل ممالک میں نکاسی آب کے پائپوں کے ذریعے وائرس پھیلنے کا خطرہ کم ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ وائرس بیت الخلا اور آس پاس کے مقامات کی سطح سے چمٹ جائے اور آپ اپنے ہاتھوں سے آلودہ سطح کو چھونے سے انفیکشن کا شکار ہو جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو فلش کرنے سے پہلے کموڈ کا ڈھکن بند کرنا چاہئے اور بیت الخلا کے استعمال کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھونا چاہیئے۔ ان کا کہنا ہے کہ نلکوں، واش اسٹینڈز اور دروازوں کے دستوں کو جراثیم کش محلول کے ساتھ اچھی طرح سے صاف کرکے لوگوں کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں حفظان صحت کو برقرار رکھنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔

یہ اعداد و شمار یکم اپریل کی ہیں۔

سوال نمبر 11: کیا صابن اور الکحل کے جراثیم کش اثرات ایک جیسے ہوتے ہیں؟

انفیکشن کنٹرول میں مہارت رکھنے والی ٹوکیو کے سینٹ لیوک انٹرنیشنل ہسپتال کی ساکاموتو فومی کا کہنا ہے کہ صابن ایک خاص حد تک مؤثر ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ صابن میں عام طور پر سرفیکٹنٹ ہوتے ہیں جو کورونا وائرس کے بیرونی لیپڈ جھلی کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وائرس کو کسی حد تک ختم کیا جا سکتا ہے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ الکحل بھی مؤثر ہے لیکن اگر آپ کے ہاتھ گندے ہیں تو بعض اوقات جراثیمی مادے کے اندر پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔

محترمہ ساکاموتو لوگوں کو تاکید کرتی ہیں کہ اپنے ہاتھوں کو صابن سے باقاعدگی سے دھوئیں۔

محترمہ ساکاموتو لوگوں سے صابن کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو باقاعدگی سے دھونے کی تاکید کرتی ہیں۔

سوال نمبر 10: ہم کن حالات میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ انفیکشن ختم ہو گیا ہے؟

شیگیرُو اومی نئے کورونا وائرس کے بارے میں حکومتی ماہرین کے پینل کے نائب سربراہ اور جاپان کمیونٹی ہیلتھ کئیر آرگنائزیشن کے صدر ہیں ۔ وہ ماضی میں عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او، میں متعدی امراض کے خلاف اقدامات کی سربراہی کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وبا کے خاتمے کا مطلب یہ ہے کہ انفیکشن کا سلسلہ رک گیا ہے اور کوئی متاثرہ مریض موجود نہیں ہے۔

اگر عالمی ادارہِ صحت کے معیار کے مطابق ایک مخصوص مدت کے دوران کسی نئے انفیکشن کی تصدیق نہ ہوئی ہو تو صحت حکام وبا کے خاتمے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر سارس نامی وباسنہ 2003 میں زیادہ تر چین اور ایشیا کے دیگر حصوں میں پھیلی۔ پہلے مریض کی تصدیق کے تقریباً 8 ماہ بعد ڈبلیو ایچ او نے اس کے خاتمے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب کسی مخصوص علاقے یا ملک میں عوام کو باہر نکلنے سے احتراز کی ہدایات جیسے اقدامات کے ذریعے انفیکشن کے پھیلاؤ پر مخصوص عرصے کے لیے قابو پایا جا سکتا ہے۔

تاہم علاقے کے باہر سے وائرس کے آنے سے انفیکشن دوبارہ پھیل سکتا ہے۔ مثال کے طور پر موسمی انفلوئینزا موسم سرما میں پھیلتا ہے اور اس میں عارضی طور پر کمی آتی ہے لیکن ابھی تک اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔

ویکسین اور ادویات، انفیکشن کا پھیلاؤ روکنے اور اسکی شدت کم کرنے کے لیے مؤثر ہیں۔ لیکن جناب اومی کا کہنا ہے کہ ویکسین اور ادویات کی دستیابی اور یہ کہ کیا مرض مکمل ختم ہو چکا ہے؟، دونوں الگ چیزیں ہیں۔

جناب اومی کا کہنا ہے کہ صحت حکام انفیکشن کے مکمل خاتمے کا مقصد حاصل کرنے کے لیے اس کو محدود رکھنے کی مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

یہ اعداد و شمار 27 مارچ کے ہیں۔

سوال نمبر 8: کیا جاپان نے کورونا وائرس کے انفیکشن کی روک تھام یا اس کے علاج کے لئے کوئی موثر دوا بنائی ہے؟

بدقسمتی سے ابھی ایسی کوئی دوا موجود نہیں ہے جو کورونا وائرس کے خلاف واضح طور پر موثر ثابت ہو، جیسے انفلوئنزا کے علاج کے لئے تامیفلو اور زوفلوزانامی ادویات ہیں۔ دوسرے ممالک کی طرح جاپان میں بھی ڈاکٹر علامات کے علاج پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جیسے مریضوں کو آکسیجن کا سہارا دینا اور پانی کی کمی کے لئے IV ڈرپ لگانا۔

اگرچہ اس وائرس کو ختم کرنے کی کوئی موثر دوا ابھی تیار نہیں ہوئی ہے، جاپان اور پوری دنیا میں ڈاکٹر دیگر بیماریوں کے علاج کے لئے دستیاب ادویات کا استعمال کر رہے ہیں کیونکہ وہ کورونا وائرس کے خلاف موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔

ایسی ہی ایک دوا ایویگان ہے جو زکام کے علاج کے لئے موثر ہے اور جسے چھ سال قبل ایک جاپانی دوا ساز کمپنی نے تیار کیا تھا۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دوا کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج میں موثر ثابت ہوئی ہے۔

جاپان کے نیشنل سنٹر فار گلوبل ہیلتھ اینڈ میڈیسن کا کہنا ہے کہ اُس نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریض کو ایڈز کے اوائل میں استعمال ہونے والی ایک اینٹی وائرل دوا دی ہے۔ وہاں کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ مریض کا بخار کم ہوا اور تھکن اور سانس کی دقت بہتر ہوئی۔

مختلف ممالک میں موثر دوا بنانے پر تحقیق جاری ہے۔ بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے امریکی مراکز کے محققین سمیت ایک گروپ نے اطلاع دی ہے کہ کورونا وائرس سے نمونیا میں مبتلا ایک شخص کو ایبولا کی ایک اینٹی وائرل دوائی دی جارہی ہے۔ محققین نے بتایا کہ اس شخص کی علامات دوا لینے کےایک دن بعد ہی بہتر ہونا شروع ہوگئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے آکسیجن لگانے کی ضرورت نہ رہی اور اس کا بخار کم ہوگیا تھا۔

تھائی لینڈ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ فلو اور ایڈز کی دوائیوں کے امتزاج سے ایک مریض کی حالت میں بہتری آئی ہے جو بعد میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہوگیا۔

تاہم،ان تمام واقعات میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ادویات کے محفوظ استعمال اور افادیت کا تعین کرنے کے لئے مزید طبی تحقیق ضروری ہے۔

یہ اعداد و شمار 25 مارچ کی ہیں۔

سوال نمبر 7: کیا بچے کورونا وائرس سے شدید بیمار پڑ سکتے ہیں؟

چین میں ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ بچے نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعدشدید بیمار ہوسکتے ہیں۔

چینی مرکز برائے انسداد و روک تھامِ امراض کے ماہرین کی ایک ٹیم کے 11 فروری تک ملک میں متاثرہ 44،672 افراد کے تجزیےسے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نو سال یا اس سے کم عمر کا کوئی بچہ اس انفیکشن سے ہلاک نہیں ہوا۔ صرف ایک ہی مریض کی نو عمری میں ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

ووہان یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے محققین کے ایک گروپ نے اطلاع دی ہے کہ 6 فروری تک مرکزی سرزمین چین میں ایک سے 11 ماہ کے 9 نوزائیدہ بچوں میں کورونا وائرس پایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی شدید بیمار نہیں ہوا۔

آئیچی میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر تسونیو موریشیما بچوں کے متعدی امراض کے ماہر ہیں۔ پروفیسر موریشیما کا کہنا ہے کہ یہ نیا وائرس چند حوالوں سے کورونا وائرس کی موجودہ اقسام سے مطابقت رکھتاہے اور نزلہ زکام کا اکثر شکار رہنے والے بچوں میں اس کے خلاف ایک خاص مدافعت پیدا ہو سکتی ہے۔

تاہم، پروفیسر موریشیما نے مزید کہا کہ ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے کیونکہ اسکولوں اور نرسری اسکولوں میں یہ انفیکشن تیزی سے پھیلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرپرستوں کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ بچے اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھوئیں اور اُن کے کمرے مناسب حد تک ہوا دار ہوں۔

یہ اعدادوشمار 24 مارچ تک کے ہیں۔


یہ سوال انڈونیشیا سے ہمارے سامع نوردیان سیہا نے پوچھا ہے۔

سوال نمبر 6: وائرس سے متاثر ہونے پر کن افراد میں شدید علامات پیدا ہوتی ہیں؟

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات میں بیشتر ایسے افراد ہیں جن کا مدافعتی نظام ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری اور ذیابیطس سمیت دیگر بیماریوں سے کمزور ہوتا ہے ۔

اس لئے خصوصاً کمزور مدافعتی نظام والے لوگوں کو نہ صرف نئے کورونا وائرس سے بلکہ موسمی انفلوئنزا جیسے عام انفیکشن سے بھی بچنا چاہئے۔

ان میں ایسے افراد شامل ہیں جن کو ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دل کی بیماری لاحق ہو یا پھر ایسے افراد جو قوت مدافعت کم کرنے والی ادویات استعمال کررہے ہیں، مثال کے طور پر بزرگ افراد اور گٹھیا کے مرض کا علاج کرنے والے افراد۔

محققین نے ابھی یہ معلوم نہیں کیا ہے کہ مریضوں کے دائمی عارضے کی سنگینی کا ان کے علامات کی شدت سے کیا تعلق ہے۔

حاملہ خواتین کے حوالے سے ایسی کوئی اطلاع موجود نہیں جس میں یہ تجویز کیا جائے کہ وہ کورونا وائرس کے لئے شدید خطرے کے زمرے میں آتے ہیں۔ لیکن عام طور پر اُن میں وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے اور اگر انھیں نمونیا ہو جائے تو ان میں شدید علامات پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

شیرخوار بچوں میں کورونا وائرس کس قسم کی علامات کا سبب بنتا ہے اس کے بارے میں بھی کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ اپنے ہاتھ دھونے اور ہجوم سے بچنے جیسے روک تھام کے اقدامات نہیں کرسکتے، ان کے سرپرستوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔

سوال نمبر 5: کورونا وائرس کا انفیکشن ہونے کے بعد کیا علامات ہوسکتی ہیں؟

ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم نے اس معاملے پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس ٹیم میں عالمی ادارہ صحت کے ماہرین بھی شامل ہیں۔ اس ٹیم نے اُن 55،924 افراد کی علامتوں کا تفصیلی تجزیہ کیا جن میں 20 فروری تک چین میں انفیکشن ہونے کی تصدیق ہوگئی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 87.9 فیصد مریضوں کو بخار تھا، 67.7 فیصد کھانسی میں مبتلا تھے، 38.1 فیصد لوگوں کو تھکاوٹ کی شکایت تھی، اور 33.4 فیصد بلغم کا شکار تھے۔ دیگر علامات میں سانس میں دقت، گلے کی سوزش اور سر درد شامل ہیں۔ متاثرہ افراد میں اوسطاً پانچ سے چھ دن میں علامات نمودار ہوئیں۔

متاثرہ افراد میں سے 80 فیصد میں علامات نسبتا ً معمولی تھیں۔ بعض لوگوں کو نمونیا نہیں ہوا ۔ متاثرہ افراد میں سے 13.8 فیصد شدید بیمار ہو گئے تھے اور انہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد اور ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس ، دل کی بیماریوں، سانس کی دائمی بیماریوں اور کینسر جیسے بنیادی طبی مسائل کے حامل افراد میں سنگین یا مہلک علامات پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ بچوں میں انفیکشن ہونے یا شدید بیمار ہونے کی اطلاعات کم ہیں۔ متاثرہ افراد کی کل تعداد میں صرف 2.4 فیصد 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تھے۔

نیشنل سینٹر برائے گلوبل ہیلتھ اینڈ میڈیسن کے ڈاکٹر ساتوشی کوتسُونا نے جاپان میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کیا ہے۔ جناب کوتسونا نے بتایا کہ انہوں نے جن مریضوں کا معائنہ کیا وہ بہتی ناک، گلے کی سوزش اور کھانسی کی بیماری میں مبتلا تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان سب کو تھکاوٹ کی شکایت تھی اور انہیں 37 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجے کا بخار ہوا جو ایک ہفتے تک جاری رہا۔ ڈاکٹر کوتسُونا نے کہا کہ بعض مریضوں کا بخار ایک ہفتے کے بعد زیادہ ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمی فلو یا دیگر وائرل متعدی بیماریوں کے مقابلے میں کورونا وائرس کی علامات زیادہ دیر تک رہتی ہیں۔

سوال نمبر 4: کپڑوں کو وائرس سے کیسے پاک کیا جائے؟

اس کے لئے پہلے ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا کپڑوں کو دھونے سےان پر موجود وائرس دھل جائے گا یا پھر اس مقصد کے لئے جراثیم کُش الکوحل استعمال کرنا پڑے گی۔ وبائی امراض کی روکتھام اور کنٹرول کے جاپانی ادارے کی ایریسا سُوگاوارا بتاتی ہیں کہ کپڑوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے جراثیم کُش الکوحل کی ضروت نہیں۔ وہ وضاحت کرتی ہیں کہ مروجہ طریقے سے کپڑے دھونے سے ان پر موجود وائرس دھل جاتا ہے۔ تاہم نیا کورونا وائرس بھی اس طریقے سے ختم ہو گا یا نہیں ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

جہاں تک اُن چیزوں کا تعلق ہے جن میں وائرس سے آلودہ ہونے کا خطرہ زیادہ ہو، مثلاً کھانستے یا چھینکتے وقت منہ پر رکھا جانے والے دستی رومال، ایسی اشیا کے بارے میں محترمہ سُوگا وارا کا مشورہ ہے کہ انہیں 15 سے 20 منٹ تک گرم پانی میں بھگوئیں۔

سوال نمبر 3: کورونا وائرس سے حاملہ خواتین کو کیا خطرات لاحق ہوتے ہیں؟

جاپان سوسائٹی برائے متعدی امراضِ زچہ و بچہ نے کورونا وائرس کے حوالے سے حاملہ اور ماں بننے کی خواہشمند خواتین کی رہنمائی کے لئے ایک دستاویز جاری کیا ہے۔

سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اب تک حاملہ خواتین میں کورونا وائرس کی وجہ سے نسبتاً شدید علامات ظاہر ہونے یا ماں کے پیٹ میں بچے کے اس وائرس سے متاثر ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

تاہم سوسائٹی متنبہ کرتی ہے کہ عموماً حاملہ خواتین کو اگر نمونیا ہو جائے تو وہ شدید بیمار ہو سکتی ہیں۔

یہ سوسائٹی حاملہ خواتین کو خصوصاً باہر جاتے وقت اور کھانا کھانے سے پہلے بہتے پانی کے ساتھ اچھی طرح ہاتھ دھونے اور الکحل والے جراثیم کُش محلول استعمال کرنے جیسے حفاظتی اقدامات اپنانے کا مشورہ دیتی ہے۔ دیگر تجاویز میں بخار اور کھانسی میں مبتلا افراد کو چُھونے سے گریز، حفاظتی ماسک پہننا اور ہاتھوں سے منہ یا ناک کو چُھونے سے اجتناب کرنا شامل ہے۔

یہ دستاویز مرتب کرنے والے نیہون یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے پروفیسر ساتوشی ہایا کاوا کہتے ہیں کہ وہ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ حاملہ خواتین تذبذب کا شکار ہیں تاہم ایسی خواتین کو صرف درست اور قابل اعتماد معلومات کی بنیاد پر عمل کرنا چاہیئے کیونکہ متعدی امراض پھیلنے کی صورت میں ہر قسم کی غلط افواہیں گردش کرنے لگتی ہیں۔

سوال نمبر 2: وائرس ہمیں کیسے منتقل ہوتا ہے؟ اور ہم وائرس سے خود کو کیسے بچا سکتے ہیں؟

ماہرین کا خیال ہے کہ موسمی فُلو یا عام نزلہ کی طرح، نیا کورونا وائرس بھی منہ کے پانی یا آلودہ سطح کو چھونے سے منتقل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب متاثرہ افراد کھانستے یا چھینکتے ہیں تو اُن کے منہ سے نکلنے والے قطروں کے ذریعے وائرس پھیلتا ہے۔ آلودہ دروازے کے دستے یا ٹرین میں لٹکے سہاروں کو چھونے اور پھر آلودہ ہاتھ سے ناک یا منہ کو چُھونے سے بھی انفیکشن ہو سکتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کورونا وائرس میں موسمی فُلو جتنی پھیلنے کی صلاحیت موجود ہے۔

کورونا وائرس انفیکشن کی روک تھام کے بنیادی اقدامات وہی ہیں جو موسمی فُلو کے خلاف اُٹھائے جاتے ہیں، یعنی ہاتھ دھونے اور کھانسی کے آداب پر عمل پیرا ہونا۔

لوگوں کو ہاتھ دھوتے وقت صابن استعمال کرنے اور ہاتھوں کے ہر حصے کو کلائی تک کم سے کم 20 سیکنڈ تک بہتے ہوئے پانی سے دھونے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یا پھر الکحل کے ہینڈ سینیٹائزر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ انفیکشن کے پھیلاؤ کو قابو کرنے کا ایک اہم ذریعہ کھانسی کے آداب ہیں۔ لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کو آلودہ بوندوں سے بچانے کے لئے ٹشو پیپر یا آستین سے اپنی ناک اور منہ کو ڈھانپ لیں۔ دیگر مؤثر اقدامات میں بھیڑ والی جگہوں سے اجتناب اور گھر کے اندر رہتے وقت کمرے کو ہوا دار رکھنے کے لئے کھڑکیاں کھولنا شامل ہیں۔

جاپان میں ہر ریلوے کمپنی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ بھری مسافر ٹرینوں کی کھڑکیاں کھولیں یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرین ایک خاص حد تک پہلے ہی ہوادار ہوتی ہیں کیونکہ مذکورہ کمپنیاں اسٹیشنوں پر رک کر مسافروں کو اتارنے یا سوار کرنے کے لئے دروازے کھولتی رہتی ہیں۔

سوال نمبر 1: کورونا وائرس کیا ہے؟

یہ وائرس انسانوں اور دیگر جانوروں کو متاثر کرتا ہے۔ عام طور پر یہ لوگوں کے درمیان پھیلتا ہے اور اس سے عام زکام کی علامات جیسا کہ کھانسی، بخار اور ناک بہنا پیدا ہوتی ہیں۔ اس وائرس کی چند اقسام نمونیا یا دیگر سنگین علامات کا باعث بن سکتی ہیں مثال کے طور پر مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سِنڈروم یا MERS نامی بیماری کا باعث بننے والی قِسم، جس کی 2012 میں پہلی بار تصدیق سعودی عرب میں ہوئی تھی۔

عالمگیر وبا کا باعث بننے والا یہ وائرس کورونا کی نئی قسم ہے۔ متاثرہ افراد میں بخار، کھانسی، تھکاوٹ، بلغم، سانس لینے میں دقّت، گلے کی سوزش اور سر درد جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔

تقریباً 80 فیصد مریض ہلکی علامات کا سامنا کرنے کے بعد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ لگ بھگ 20 فیصد مریضوں کو سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے نمونیا یا ایک سے زائد اندرونی اعضاء کا کام چھوڑ دینا۔

وہ لوگ جن کی عمر 60 برس سے زیادہ ہے یا جو ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کی بیماریوں، سانس کی بیماریوں یا کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں،اُن کی حالت نازک ہو سکتی ہے یا ان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ بچوں میں بھی انفیکشن کی اطلاع ملی ہے تاہم ان میں علامات نسبتا ًمعمولی ہیں۔
TOP