کورونا وائرس پر سوال و جواب

نئے کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے سامعین کے ذہنوں میں بہت سے بنیادی سوالات موجود ہیں۔ این ایچ کے، کے ماہرین اس بارے میں سامعین کے سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔

سوال نمبر 531: اومی کرون کی ذیلی متغیر قسم XBB.1.5 کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
2۔ خطرات کا تخمینہ

این ایچ کے کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس سلسلے میں متغیر قِسم اومی کرون کی XXB.1.5 نامی نئی ذیلی متغیر قِسم پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کورونا وائرس کی اس متغیر قِسم میں انسانی مدافعتی قوت سے بچ نکلنے کی فی الوقت سب سے زیادہ صلاحیت ہو سکتی ہے۔ آج ہمارے اس سلسلے کے دوسری قسط میں لاحق خطرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او، نے XXB.1.5 سے لاحق خطرات کا جائزہ 11 جنوری کو جاری کیا تھا۔ ادارے کے مطابق، اس ذیلی متغیر قِسم کے امریکہ میں بڑھنے کا نسبتاً زیادہ رجحان ظاہر ہوا ہے۔ ادارے نے مزید کہا ہے کہ اس حوالے سے مزید تجزیہ درکار ہے۔

ادارے نے بتایا ہے کہ آزمائش کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ کووِڈ انفیکشن یا ویکسینوں سے حاصل شدہ اینٹی باڈیز سے اس ذیلی متغیر قِسم میں بچ نکلنے کی صلاحیت گزشتہ متغیر اقسام کے مقابلے میں زیادہ پائی گئی ہے۔

ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انفیکشن کے بعد شدید بیمار ہونے والے افراد کی شرح سے متعلق انسانوں پر آزمائش کے اعداد و شمار ابھی تک دستیاب نہیں ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے مزید کہا کہ اُسے XXB.1.5 میں کسی ایسی جینیاتی تبدیلی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے جس کا تعلق شدت میں ممکنہ تبدیلی سے بتایا جاتا ہو۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ اگرچہ اُس کے پاس ابھی تک صرف محدود ڈیٹا دستیاب ہے، لیکن’’ XXB.1.5 عالمی سطح پر انفیکشن کے کیسز بڑھانے میں کردار ادا کر سکتی ہے‘‘۔

یہ معلومات 31 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 530: اومی کرون کی ذیلی متغیر قسم XBB.1.5 کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
1- امریکہ میں تیزی سے پھیلاؤ

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ متغیر قِسم اومی کرون کی ایک ذیلی متغیر قسم XBB.1.5، دسمبر کے اواخر سے امریکہ میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ کورونا وائرس کی اب تک کی متغیر اقسام میں سے مدافعتی قوت سے سب سے زیادہ بچ سکنے والی قِسم ہو سکتی ہے۔ XBB.1.5 سے متعلق ہمارے اس سلسلے کی پہلی قسط میں آج ہم آپ کو بتائیں گے یہ ذیلی قسم امریکہ میں اور دنیا بھر میں کس طرح پھیل رہی ہے۔

XBB.1.5 کی جڑ XBB میں ہے، جسے نئے اتصال سے وجود میں آنے والا وائرس کہا جاتا ہے جو اومی کرون BA.2 کی دو متغیر ذیلی اقسام کا جینیاتی ڈیٹا لیے ہوتا ہے۔ 2022 کے موسمِ بہار سے ذیلی متغیر قِسم BA.2 پوری دنیا میں پھیل گئی تھی۔

امریکہ میں، دسمبر 2022 سے نیویارک اور دیگر مشرقی ریاستوں میں کورونا وائرس ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آنے والے متاثرین میں XBB.1.5 سے متاثر ہونے والوں کا تناسب تیزی سے بڑھ گیا۔ اب یہ امریکہ بھر کے کورونا متاثرین میں وائرس کی غالب ذیلی متغیر قسم ہے۔ امریکی مرکز برائے بیماریوں کی روکتھام اور کنٹرول کا کہنا ہے کہ 21 جنوری تک کے ایک ہفتے میں ملک میں کووِڈ متاثرین میں اس کی شرح کا تخمینہ 49.1 فیصد ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ 11 جنوری تک، 38 ممالک میں XBB.1.5 سے تعلق رکھنے والے کووِڈ متاثرین کی اطلاع دی گئی تھی۔ جاپان میں بھی اس کے متاثرین کی اطلاع دی جاچکی ہے۔اس ذیلی متغیر قسم سے متعلق اعداد و شمار محدود ہیں، اسی دوران 19 جنوری کو جاری ہونے والی عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 2022 کے آخری ہفتے میں پوری دنیا میں رپورٹ ہونے والے کووِڈ کے مجموعی متاثرین میں سے 8.36 فیصد XBB قِسم کے تھے۔

یہ معلومات 30 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 529: کورونا وائرس کے پہلے متاثرہ فرد کی تصدیق کو 3 سال
5- آئندہ کون سے اقدامات کیے جانے چاہیئں؟

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کووِڈ-19 کے پہلے متاثرہ فرد کی تصدیق کو 3 سال گزر چکے ہیں۔ ہمارے اس حالیہ سلسلے میں اس عرصے کے دوران کورونا وائرس انفیکشنز میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ آج اس سلسلے کی آخری قسط میں حکومت کے مشاورتی پینل کے سربراہ اومی شِگیرُو بتا رہے ہیں کہ کورونا وائرس کا آئندہ کیسے سامنا کیا جانا چاہیے۔

جناب اومی نے کہا، ’’کووِڈ-19 صدی میں ایک بار جنم لینے والی متعدی بیماری ہے۔ سنہ 2003 میں نظام تنفس کی بیماری سیویئر اکیوٹ ریسپریٹری سینڈروم، سارس، دنیا بھر میں پھیلی تھی۔ اسے 21 ویں صدی کی پہلی عالمی وباء اور عوامی صحت کے لیے انتہائی خطرے کا باعث قرار دیا گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود بیماری پر صرف چھ ماہ میں قابو پا لیا گیا۔ تاہم، نیا کورونا وائرس نمودار ہونے کے تین سال بعد بھی نہ صرف سرگرم ہے بلکہ انسانوں کی قوت مزاحمت سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھنے والی وائرس کی نئی متغیر اقسام بھی سامنے آئی ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ نوجوانوں میں وائرس کے باعث بیماری کی انتہائی علامات شاذونادر ہی نمودار ہوتی ہیں، البتہ بعض افراد طویل مدت تک جاری رہنے والے ضمنی اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ وائرس سے براہ راست شدید نمونیا ہونے کے واقعات پہلے سے کم ہو گئے ہیں، لیکن وائرس کے باعث دل اور خون کی رگوں کے متاثر ہونے سے متعلق مزید شواہد سامنے آ رہے ہیں‘‘۔

جناب اومی مزید کہتے ہیں، ’’ہم سب کو کورونا وائرس کی خصوصیات کو اچھی طرح سمجھنا ہو گا اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر اقدامات اٹھانے پر غور کرنا ہو گا۔ اہم بات یہ ہے کہ طبی نظام کو برقرار رکھتے ہوئے معیشت اور معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھا جائے۔ ان دونوں مقاصد کے حصول کے لیے بہترین حکمت عملی تیار کرنے کی غرض سے تفصیلی بحث مباحثہ ضروری ہے‘‘۔

یہ معلومات 27 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 528: کورونا وائرس کے پہلے متاثرہ فرد کی تصدیق کو 3 سال
4- 24 گھنٹے کھلے رہنے والے عوامی مراکز صحت

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کووِڈ-19 کے پہلے متاثرہ فرد کی تصدیق کو 3 سال گزر چکے ہیں۔ عوامی صحت مراکز، وباء کے آغاز سے ہی عوام کو سہولت فراہم کر رہے ہیں، اور اس پورے عرصے کے دوران ان پر کام کا انتہائی دباؤ رہا ہے۔

جاپان بھر میں صحت کے مراکز متاثرین کی بڑھتی ہوئی مجموعی تعداد کا حساب لگانے، مریضوں کی صحت کی صورتحال پر نظر رکھنے اور ہسپتالوں میں داخلوں کو مربوط کرنے جیسے کاموں میں مصروف رہے ہیں۔

عالمی وباء کے آغاز پر، ٹوکیو کے کِیتا وارڈ کے ایک مرکزِ صحت کے کارکنوں نے بخار اور دیگر علامات والے لوگوں کے لئے فون پر مشاورت اور متاثرین سے لیے گئے نمونوں کو طبی مراکز تک پہنچانے جیسے فرائض انجام دیے۔

حکومت نے متاثرین کی کل تعداد کا حساب لگانے کی شرائط کو ستمبر میں آسان بنا دیا، اس سے مراکزِ صحت پر کام کا بوجھ تقریباً 70 فیصد تک کم ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے دباؤ کم ہوا، لیکن یہ کہ وہ آٹھویں لہر کے دوران ہسپتال میں داخلے مربوط کر رہے ہیں اور ٹیلی فون کرکے یا مریضوں کے گھر جا کر ان سے رابطہ کر رہے ہیں۔ اس لیے ان کا کہنا ہے کہ مریضوں کی صحت کی دیکھ بھال کرنے کے ان کے فرائض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عملے کو اختتامِ ہفتہ پر بھی کام کرنا پڑ رہا ہے۔

مرکزِ صحت کا کہنا ہے کہ وہ بہت دباؤ کا شکار تھے، اور انفیکشن کی دھماکہ خیز تعداد کی وجہ سے ان کے فرائض کو منہدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں، انہوں نے کچھ کاموں کے لیے نجی اداروں سے ذیلی معاہدہ کیا اور اس کے بعد یہ اہل کاروں کو مؤثر طریقے سے تعینات کرنے میں کامیاب رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عملہ پچھلے تین سالوں میں چوبیس گھنٹے کام کرتا رہا ہے اور اس کے پاس اس کو انتہائی سخت قرار دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

یہ معلومات 26 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 527: کورونا وائرس سے متاثرہ پہلے شخص کی تصدیق کو 3 سال
3- طبی نظام پر دباؤ

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کووِڈ-19 کے پہلے متاثرہ فرد کی تصدیق کو 3 سال گزر چکے ہیں۔ عالمی وباء کے آغاز کے بعد سے جب بھی انفیکشنز کی نئی لہر آتی ہے تو کورونا وائرس کے مریضوں کو قبول کرنے والے ہسپتالوں پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔

ٹوکیو کے ہاچی اوجی شہر میں واقع مِنامی تاما ہسپتال فروری 2020 میں یوکوہاما کی بندرگاہ پر لنگر انداز بحری جہاز کے مسافروں میں کلسٹر انفیکشن یعنی بڑی تعداد میں لوگوں کے انفیکشن سے متاثر ہو جانے کا پتہ چلنے کے بعد سے کورونا وائرس کے مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات مہیا کر رہا ہے۔

اس ہسپتال نے معتدل سے ہلکی تا معتدل تکالیف میں مبتلا کووِڈ مریضوں کے لیے اپنے 170 بستروں کا 14 فیصد یعنی 23 بستر مختص کر رکھے ہیں۔ یہاں اب تک کورونا وائرس کے 1 ہزار کے قریب مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔

گزشتہ سال کے آغاز سے وائرس کی متغیر قِسم اومی کرون کے پھیلاؤ کا باعث بننے والی چھٹی لہر کے بعد انفیکشن سے نمونیا کے باعث شدید بیمار ہونے والے مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

لیکن ہسپتال میں داخل ہونے والے کووِڈ کے مریضوں کی تعداد، مختص کردہ بستروں کی تعداد سے تجاوز کر جانے کے باعث، ہسپتال کے نظام پر دباؤ آیا ہے، جس کے نتیجے میں دیگر مریضوں کا علاج معالجہ متاثر ہوا ہے۔

انفیکشن کی موجودہ آٹھویں لہر کے دوران، دسمبر کے اوائل سے ہی کووِڈ کے مریضوں کے لیے دستیاب تمام بستر بھر چکے تھے۔ ہسپتال کی انتظامیہ کو کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے بستروں کا بندوبست کرنے کی غرض سے دیگر وارڈز کو جزوی طور پر بند کرنا پڑا۔ نتیجتاً ہسپتال کو کووِڈ کے سوا دیگر تکالیف میں مبتلا ہنگامی طبی امداد کے منتظر مریضوں کو علاج کی سہولت مہیا کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔

یہ ہسپتال عام طور پر 90 فیصد سے زائد ایسے مریضوں کا علاج کرتا ہے، جنہیں ہنگامی طبی امداد درکار ہو۔ لیکن رواں سال کے آغاز سے یہ شرح کم ہو کر 50 فیصد کے قریب آ گئی ہے۔

ہسپتال کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ انفیکشن کی ہر نئی لہر کے ساتھ ہسپتال میں دستیاب سہولیات پر دباؤ پڑنے سے مشکلات ہنوز جاری ہیں۔ اس عہدیدار کے مطابق، اگرچہ ہسپتال کو انفیکشن کنٹرول کرنے کے اقدامات جاری رکھنے کی ضرورت ہے، تاہم مزید مریضوں کو علاج کی سہولت مہیا کرنے کے لیے ہسپتال کو انفیکشن کنٹرول کرنے کے انتہائی اقدامات میں تبدیلی لانے کی غرض سے نئے طور طریقے سوچنا ہوں گے۔

یہ معلومات 25 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 526: کورونا وائرس سے متاثرہ پہلے فرد کی تصدیق کو 3 سال
2- کورونا وائرس کی نئی متغیر اور ذیلی متغیر اقسام سامنے آنے کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کووِڈ-19 کے پہلے متاثرہ فرد کی تصدیق کو 3 سال ہو چکے ہیں۔ اس دوران کورونا وائرس کی متغیر اور ذیلی متغیر اقسام متعدد بار سامنے آئی ہیں۔

جاپان میں مصدقہ طور پر پائی جانے والی کورونا وائرس کی پہلی قِسم اس عالمی وباء کے آغاز میں چین کے شہر وُوہان میں شناخت ہونے والی طرز کی تھی۔ 2020ء کے موسمِ بہار میں متغیر اقسام سامنے آنے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد یورپ میں غلبہ حاصل کرنے والی اقسام جاپان میں بھی پھیلیں۔

2022ء کے اوائل سے متغیر قِسم اومی کرون جاپان میں بڑے پیمانے پر پھیلتی رہی ہے۔ انتہائی متعدی ہونے کے باعث پہلے سے زیادہ لوگ اس متغیر قِسم سے متاثر ہوئے ہیں اور نتیجتاً اموات کی تعداد بھی بڑھی ہے۔

وائرس میں انسانی قوت مدافعت سے بچاؤ کی زیادہ اہلیت رکھنے والی اومی کرون کی کئی ذیلی متغیر اقسام پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں۔ جاپان میں عالمی وباء کی موجودہ آٹھویں لہر میں ذیلی متغیر قِسم BQ.1 کا تناسب بڑھتا رہا ہے۔

جاپان میں ذیلی متغیر قِسم XBB.1.5 کی موجودگی کی بھی تصدیق ہو چکی ہے۔ فی الوقت امریکہ میں پھیلنے والی یہ قِسم کہیں زیادہ وبائی ثابت ہونے کا خدشہ ہے۔

یونیورسٹی آف ٹوکیو کے انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے پروفیسر اور وائرس کے ماہر ساتو کے نے کہا ہے کہ ویکسینیشن سے حاصل شدہ قوت مدافعت سے بچنے کے لیے نئی ذیلی متغیر اقسام یکے بعد دیگرے نمودار ہو رہی ہیں۔

پروفیسر ساتو نے کہا ہے کہ وائرس کو بے اثر کر دینے والی اینٹی باڈیز کسی بھی دوسری قِسم کے مقابلے میں ذیلی متغیر قِسم XXB کے خلاف کم مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔

اُنہوں نے کہا، میں محسوس کرتا ہوں کہ کورونا وائرس کی متغیر اقسام کے خلاف لڑائی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ وباء کے خاتمے کی توقع کرنے کے بجائے اسے جاری رہنے کی اجازت دینے کے طریقے پر بات چیت کرنا اب ضروری ہے۔

یہ معلومات 24 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 525: کورونا وائرس کے پہلے متاثرہ فرد کی تصدیق کو 3 سال
1- کورونا وائرس انفیکشنز اور شرحِ اموات

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کووِڈ-19 کے پہلے متاثرہ فرد کی تصدیق ہوئے 3 سال ہو چکے ہیں۔ ہمارے اس نئے سلسلے میں ہم جائزہ لیں گے کہ اس دوران کورونا وائرس انفیکشنز میں کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں۔

امریکہ کی جونز ہاپکنز یونیورسٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 20 جنوری تک دنیا بھر میں کووِڈ-19 کے متاثرین کی مجموعی تعداد تقریباً 66 کروڑ 80 لاکھ رہی، جبکہ 67 لاکھ اموات ہوئی ہیں۔

جاپان میں کووِڈ-19 کا پہلا کیس تین سال قبل 15 جنوری کو رپورٹ ہوا تھا۔ جاپان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس سال 20 جنوری تک کووِڈ-19 کے متاثرین کی مجموعی تعداد تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ ہے اور 64 ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں۔

پچھلے ایک سال کے دوران یعنی جنوری 2022 میں اومی کرون کا پھیلاؤ شروع ہونے کے بعد سے، کووِڈ-19 کے متاثرین کی تعداد میں خصوصاً بڑا اضافہ ہوا ہے۔ سال 2022ء کے دوران کووِڈ-19 کے متاثرین کی کل تعداد ان پچھلے تین سالوں کے انفیکشنز کی مجموعی تعداد کا تقریباً 95 فیصد ہے۔

علاج اور ویکسینوں میں ہونے والی پیشرفتوں کی وجہ سے جاپان میں پچھلے تین سالوں کے دوران کووِڈ-19 کے مریضوں کی اموات کی شرح کافی حد تک کم ہوئی ہے۔

جنوری 2020 میں انفیکشنز کی پہلی لہر کے دوران اموات کی شرح 5.34 فیصد تھی۔ جنوری 2022 میں اومی کرون کے پھیلاؤ کے بعد، انفیکشن کی چھٹی لہر سے لے کر اس وقت جاری آٹھویں لہر تک اموات کی شرح کافی حد تک کم ہو کر 0.1 فیصد تک ہو گئی ہے۔

یہ معلومات 23 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 524: متعدی امراض کے قانون کے تحت کووِڈ-19 کی ازسرنو زمرہ بندی پر بحث
7- بحث کے ممکنہ نتائج

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں متعدی امراض سے متعلق قانون کے تحت کورونا وائرس کی ازسرِنو زمرہ بندی کے بارے میں بحث و مباحثہ شروع ہو چکا ہے۔ آج ہم اس بحث کے ممکنہ نتائج پر توجہ مرکوز کریں گے۔

وزارت صحت کے مطابق، کووِڈ-19 کی ازسرنو زمرہ بندی کے بارے میں بحث سمیٹنے اور حتمی نتائج جاری کرنے کے اوقات کار طے نہیں کیے گئے ہیں۔

طبی اخراجات برداشت کرنے سمیت وائرس کے نتیجے میں بیماری لاحق ہونے کے عمل جیسے امور پر ماہرین کے جائزوں کی بنیاد پر مزید ٹھوس بحث و مباحثہ کیے جانے کا امکان ہے۔ فی الوقت کووڈ-19 کو زمرہ نمبر 2 میں آنے والی بیماریوں کے برابر سمجھا جا رہا ہے اور اس کے علاج معالجے پر اٹھنے والے تمام اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے۔

مکمل سرکاری خرچ پر ویکسین کا ٹیکہ مفت لگانا جاری رکھنے یا نہ رکھنے پر بھی بحث ہونے کی توقع ہے۔

کووڈ-19 کو زمرہ نمبر 5 میں لانے کے لیے اس معاملے کو وزارت صحت کے ماہرین کے پینل میں بھجوانا پڑے گا اور وزارت کے متعلقہ قانون میں ترامیم کرنی پڑیں گی۔ کووڈ-19 کو زمرہ نمبر پانچ میں رکھے جانے کی صورت میں بھی حکومت طبی اخراجات برداشت کرنا جاری رکھنے کے لیے قدم اٹھا سکتی ہے۔

کووڈ-19 کے لیے نیا زمرہ تخلیق کیے جانے کی صورت میں متعدی بیماریوں پر قابو پانے کے قانون میں ترمیم درکار ہو گی اور اس کے لیے پارلیمان میں بحث و مباحثہ ضروری ہو گا۔

یہ معلومات 23 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 523: متعدی امراض کے قانون کے تحت کووِڈ-19 کی ازسرِنو زمرہ بندی پر بحث
6- دوائیں اور طبی نگہداشت

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں متعدی امراض سے متعلق قانون کے تحت کورونا وائرس کی ازسرِنو زمرہ بندی کے بارے میں بحث و مباحثہ شروع ہو چکا ہے۔ آج ہم دیکھیں گے کہ اس وقت جاپان میں کس قسم کی دوائیں اور کس طرح کی طبی نگہداشت دستیاب ہیں، اور ماہرین ان پر کس طرح کی تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔

جاپان میں شدید تکالیف پیدا ہونے کے خطرے والے مریضوں کے علاج کے لیے کووِڈ-19 کی دو دوائیں، لیگیوریو (Lagevrio) اور پیکسلووِڈ (Paxlovid) استعمال کی جا رہی تھیں۔ نومبر میں، وزارت صحت نے منہ سے لی جانے والی ایک دوا زوکووا (Xocova) کے ہنگامی استعمال کی منظوری دی، جو جاپان میں پہلی ایسی دوا ہے جو خطرے کی سطح سے قطع نظر کسی بھی مریض کو تجویز کی جا سکتی ہے۔ یہ دوا، ایک جاپانی دوا ساز کمپنی شی اونوگی نے تیار کی ہے۔

طبی نگہداشت کے حوالے سے، اب جاپان میں ہر طبی ادارہ کووڈ-19 کے مریضوں کو قبول کرسکتا ہے، بشرطیکہ انسدادِ انفیکشن کے لیے حسبِ ضرورت اقدامات کیے جاسکتے ہوں۔ اس سے کووڈ-19 کے مریضوں کو لینے والے ہسپتالوں اور کلینکس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

دریں اثنا، کچھ ماہرین تشویش کا اظہار کر رہے ہیں.
اکتوبر میں، توہوکُو یونیورسٹی کے پروفیسر اوشی تانی ہِتوشی، کیوتو یونیورسٹی کے پروفیسر نِشی اُورا ہِروشی اور دیگر محققین نے وزارت صحت کے ماہرین کے پینل کو کورونا وائرس کی وباء کے امکانات پر ایک رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے کورونا وائرس کی نئی متغیر اقسام کی وجہ سے انفیکشن کے اچانک اور دھماکہ خیز پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ ٹیکے لگانے میں توقع کے مطابق پیشرفت نہ ہونے کی صورت میں شرحِ اموات میں دوبارہ اضافے یا مریضوں کے شدید بیمار ہونے کے امکانات سے محتاط رہنے پر زور دیا ہے۔

ماہرین کے پینل کے سربراہ واکِیتا تاکاجی نے 30 نومبر کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہمیں کووڈ-19 سے ہمارے جسم کے مسائل میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ جناب واکِیتا نے کہا کہ کورونا وائرس انفیکشن نے سانس کے مسائل میں اضافہ کیا تھا لیکن حالیہ عرصے میں، ڈاکٹروں کو دل کی وریدوں کی حالتوں میں مزید پیچیدگیاں نظر آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ شاید کووِڈ ایک گردشی بیماری بن گیا ہے۔

یہ معلومات 22 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 522: متعدی امراض کے قانون کے تحت کووِڈ-19 کی ازسرِنو زمرہ بندی پر بحث
5- ویکسین لگوانے والوں کی شرح

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں متعدی امراض سے متعلق قانون کے تحت کورونا وائرس کی ازسرِنو زمرہ بندی کے بارے میں بحث و مباحثہ شروع ہو چکا ہے۔ نظرثانی کے اس عمل کے دوران آج اُن افراد کی لازمی غور طلب شرح پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے جو جاپان میں ویکسین لگوا چکے ہیں۔

کورونا وائرس کے انسدادی اقدامات کے لیے حکومت کی ذیلی کمیٹی کے سربراہ اومی شِگیرُو نے کہا ہے کہ اس اولین شرط کے تحت کووِڈ-19 کی ازسرِنو زمرہ بندی کے لیے بعض شرائط ضروری ہیں کہ وائرس کے خلاف اقدامات سماجی معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیے بغیر اٹھائے جائیں۔

انہوں نےجولائی میں این ایچ کے کو دیے گئے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے، ویکسین لگوانے والوں کی بلند شرح، کم قیمت اور آسانی سے دستیاب ادویات کی فراہمی اور مریضوں کا علاج معالجہ کرنے والے طبی اداروں کی کہیں زیادہ تعداد کو ان شرائط میں شامل قرار دیا۔

سب سے پہلے ویکسین لگوانے والے افراد کی شرح پر نظر دوڑاتے ہیں۔ جاپان کے وزیر اعظم کے دفتر کی ویب سائٹ کے مطابق، 20 دسمبر تک ملک کی 81.4 فیصد آبادی کووڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکہ، 80.4 فیصد آبادی دوسرا ٹیکہ اور 67.5 فیصد آبادی تیسرا ٹیکہ لگوا چکی تھی۔ لیکن متغیر قسم اومی کرون کو نشانہ بنانے والی ویکسین کا ٹیکہ لگوانے والوں کی شرح صرف 30.6 فیصد ہے۔ حکومت خواہشمند افراد کو سال کے اختتام تک یہ ویکسین لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ معلومات 21 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 521: متعدی امراض کے قانون کے تحت کووڈ 19 کی ازسرِنو زمرہ بندی پر بحث
4- وائرس سے شرحِ اموات میں تبدیلی

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں متعدی امراض سے متعلق قانون کے تحت کورونا وائرس کی ازسرِنو زمرہ بندی کے بارے میں بحث و مباحثہ شروع ہو چکا ہے۔ آج ہم وباء کے دوران وائرس سے شرحِ اموات میں تبدیلی پر نظر دوڑائیں گے کیونکہ بحث و مباحثے پر اثر انداز ہونے والا غالباً یہ کلیدی معاملہ ہو گا۔

جنوری 2020ء میں جاپان میں کورونا وائرس کا پہلی بار پتہ چلنے کے بعد اس انفیکشن کی پہلی لہر کے دوران شرحِ اموات 5.34 فیصد تھی۔ یہ شرح مذکورہ سال ہی کے موسمِ گرما میں انفیکشنز کی دوسری لہر کے دوران گر کر 0.93 فیصد ہو گئی تھی۔ اس کی جزوی وجہ شدید تکالیف سے دوچار مریضوں کے علاج کے بارے میں ہونے والی پیشرفت تھی۔

2021ء کے اوائل میں تیسری لہر کے دوران اموات کی شرح ایک بار پھر بڑھ کر 1.82 فیصد ہو گئی کیونکہ وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث طبّی ادارے حد سے زیادہ دباؤ میں آ گئے تھے۔ کورونا وائرس کی پہلی نمایاں تبدیلی، متغیر قِسم الفا کے پھیلاؤ کے بعد، 2021ء کے موسم بہار میں چوتھی لہر کے دوران مذکورہ شرح ذرا اور بڑھ کر 1.88 فیصد ہو گئی۔ 2021ء کے موسمِ گرما میں، معمولی تکلیف یا یہاں تک کہ کسی ظاہری علامت کے بغیر متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے پانچویں لہر کا سبب بننے والی متغیر قِسم ڈیلٹا پھوٹ پڑنے کے دوران اموات کی شرح کم ہو کر 0.32 فیصد ہو گئی۔

2022ء کے آغاز میں انتہائی متعدی متغیر قِسم اومی کرون کے پھیلاؤ کے باوجود چھٹی لہر کے دوران اموات کی شرح میں مزید کمی آئی۔ اموات کی تعداد تو بڑھی، لیکن وائرس سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے باعث شرحِ اموات کم ہو گئی۔

چھٹی لہر کے دوران اموات کی شرح 0.17 فیصد تھی۔ یہ شرح اس سال موسمِ گرما کے دوران ساتویں لہر میں مزید کم ہو کر 0.11 فیصد رہ گئی۔ اگرچہ شرحِ اموات گر چکی ہے، تاہم انتہائی متعدی متغیر قِسم اومی کرون کے پھیلاؤ کے سبب اس سال کورونا وائرس سے انتقال کر جانے والے لوگوں کی تعداد ریکارڈ 31 ہزار پر پہنچ چکی ہے۔ یہ اموات اُن تمام افراد کا تقریباً 60 فیصد ہیں جو وباء پھوٹ پڑنے کے آغاز کے بعد لگ بھگ تین سالوں میں جاپان میں وائرس سے لقمۂ اجل بنے ہیں۔

یہ معلومات 20 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 520: ازسرِنو زمرہ بندی پر بحث
3- زمرہ 5 کی ازسرِنو زمرہ بندی سے کیا تبدیلیاں آ سکتی ہیں؟

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں متعدی امراض سے متعلق قانون کے تحت کورونا وائرس کی ازسرِنو زمرہ بندی کے بارے میں بحث و مباحثہ شروع ہو چکا ہے۔ آج ہم دیکھیں گے کہ اگر موجودہ زمرہ بندی پر نظرثانی کر کے اسے زمرہ 5 میں شامل کر دیا جائے تو کیا تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں؟

فی الحال، صرف متعدی بیماریوں کے علاج کے لیے مختص کردہ طبی اداروں کو ہی ان مریضوں کو داخل کرنے کی اجازت ہے جو کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔ تاہم، اگر کووڈ-19 کو ازسرِنو زمرہ بندی کے بعد زمرہ 5 میں شامل کیا جاتا ہے تو عام ہسپتال بھی انہیں قبول کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ اس سے کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے دستیاب ہسپتالوں کے بستروں کی تعداد میں اضافہ اور مستقبل میں انفیکشن کے مزید پھیلنے پر ملک کے طبی نظام پر بوجھ کم ہونے کی توقع ہے۔

تاہم، یہ خدشات موجود ہیں کہ کچھ ہسپتال ناکافی انسدادِ انفیکشن اقدامات جیسی وجوہات کے تحت ہوسکتا ہے کہ کووِڈ-19 کے مریضوں کو قبول کرنے کے قابل نہ ہوں۔

علاج کے اخراجات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اِس وقت، ٹیسٹنگ اور ہسپتال میں داخل ہونے کے اخراجات سمیت تمام اخراجات حکومت کے ذمے ہیں۔ تاہم، ازسرِنو زمرہ بندی کے بعد لوگ طبی اخراجات کا ایک حصہ ادا کرنے کے پابند ہوں گے کیونکہ اب یہ ان کے عوامی طبی بیمے میں شامل نہیں ہوں گے۔ اس کی وجہ سے کچھ لوگ ڈاکٹروں کے پاس جانا ملتوی کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں تشخیص میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

مزید یہ کہ لوگوں کی سرگرمیوں پر مزید پابندیاں نہیں لگائی جا سکیں گی۔ حکومت صرف لوگوں سے درخواست کر سکے گی کہ وہ متاثر ہونے پر ذمہ دارانہ انداز میں اقدامات کریں۔

جاپان میڈیکل ایسوسی ایشن کے انتظامی بورڈ کے ایک رکن کامایاچی ساتوشی نے کہا کہ وہ ایسے وقت میں سرکاری اخراجات میں بڑی کٹوتی کرنے کے منصوبے کے مخالف ہیں جب انفیکشن کے امکانات غیر یقینی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسے زمرہ 5 میں لے جانے کے بجائے صورتحال پر ردعمل کیلئے ایک نیا اقدام کرنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔

یہ معلومات 19 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 519: متعدی امراض کے قانون کے تحت کووڈ 19 کی ازسرِنو زمرہ بندی پر بحث
2-ازسرِنو زمرہ بندی اب کیوں؟

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں متعدی امراض سے متعلق قانون کے تحت کورونا وائرس کی ازسرِنو زمرہ بندی کے بارے میں بحث و مباحثہ شروع ہو چکا ہے۔ اس نئے سلسلے میں ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ اس سے سماجی پابندیوں اور طبی اخراجات کے بوجھ سمیت کیا تبدیلیاں آ سکتی ہیں؟

حکومت جاپان نے انفلوائنزا کی نئی قسم سے متعلقہ قوانین میں فروری 2020 میں ترمیم کی اور کووڈ-19 کو ’’وبائی انفلوائنزا (انفلوائنزا کی نئی قسم یا دوبارہ جنم لینے والے انفلوائنزا) کے درجے میں شمار کیا گیا۔ انفیکشن سے تکالیف بڑھنے کے خطرے اور دیگر خصوصیات کے مطابق اس درجے کو متعدی امراض کے قانون کے تحت درجہ دوئم کے تقریباً برابر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن درجہ دوئم کے انفیکشن کی وباء پھیلنے کے برعکس، حکومت کو انفیکشن کے انسداد کے لیے لوگوں کو گھروں پر رہنے پر زور دینے یا ہنگامی حالت نافذ کرنے جیسے پہلے سے سخت اقدامات کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

جاپان میں رواں سال کورونا وائرس سے انفیکشنز کی چھٹی اور ساتویں لہر میں متغیر قسم اومی کرون کا غلبہ رہا اور پھر ہمیں معلوم ہوا کہ اس سے مریضوں کی تکلیف کے شدت اختیار کرنے کا خطرہ کم ہے۔ دوسری جانب، جاپان نے اومی کرون کو نشانہ بنانے والی ویکسین کے ٹیکے بھی عوام کو لگانا شروع کر دیے۔ لہٰذا جاپانی حکومت نے ٹیسٹ میں وائرس سے متاثرہ پائے گئے افراد کے قرنطینہ کی مدت کو کم کر دیا، کورونا وائرس سے انفیکشن کی اطلاع دینے کے نظام کو سہل بنا دیا اور سرحدی پابندیوں میں بھی نرمی کر دی۔

جاپان کی پارلیمان نے متعدی بیماریوں سے متعلقہ قانون میں 2 دسمبر کو ایک اور ترمیم منظور کی ہے۔ ترمیم کی ایک اضافی شق حکومت پر زور دیتی ہے کہ وہ قانون کے تحت کووڈ-19 کی ازسرِنو درجہ بندی پر فوری تبادلۂ خیال کرے۔ وزارت نے عندیہ دیا ہے کہ کووڈ کا درجہ کم کرتے ہوئے موسمی فُلو کے درجے کے برابر یعنی درجہ پنجم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

یہ معلومات 16 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 518: متعدی امراض کے قانون کے تحت کووِڈ-19 کی ازسرِنو زمرہ بندی پر بحث
1-زمرہ بندی کی تعریف

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں متعدی امراض سے متعلق قانون کے تحت کورونا وائرس کی زمرہ بندی پر نظر ثانی کے بارے میں بحث و مباحثہ شروع ہو چکا ہے۔ اس نئے سلسلے میں ہم جائزہ لیں گے کہ اس سے سماجی پابندیوں اور طبی اخراجات کے بوجھ سمیت کیا تبدیلیاں آ سکتی ہیں؟

جاپان میں قانون کے تحت متعدی بیماریوں کو زمرہ ایک سے پانچ تک میں تقسیم کیا گیا ہے، جو ان کی متعدی سطح اور ان کے مریض کو شدید بیمار کرنے کے خطرات کے لحاظ سے ہے۔ قانون یہ بتاتا ہے کہ مرکزی اور مقامی حکومتیں کیا اقدامات کر سکتی ہیں۔

زمرہ 1 میں طاعون یا ایبولا جیسی بیماریاں شامل ہیں جو جان لیوا اور انتہائی خطرناک ہیں۔

زمرہ 2 میں تپ دق اور سانس کی بیماری، سارس جیسے امراض شامل ہیں، جو انتہائی متعدی ہیں اور لوگوں کو شدید بیمار ہونے کے خطرے سے دوچار کرتے ہیں۔ کووِڈ-19 کو فی الحال زمرہ 2 کے مساوی سمجھا جاتا ہے۔

جب لوگ اس زمرے کی بیماریوں سے متاثر ہوتے ہیں، تو طبی اداروں کو اپنے متاثرین کی کل تعداد کی اطلاع مقامی صحت کے حکام کو دینی لازمی ہوتی ہے۔ مقامی حکومتیں متاثرہ لوگوں کو مشورہ دے سکتی ہیں کہ وہ کام کو محدود کریں یا ہسپتال میں داخل ہوں۔ سرکاری رقوم ان کے طبی اخراجات کو مکمل طور پر پورا کرتی ہیں۔

زمرہ 5 میں موسمی فُلو اور آتشک جیسی بیماریاں شامل ہیں۔ مقامی حکومتیں متاثرہ افراد سے اپنے کام کو محدود کرنے یا انہیں ہسپتال میں داخل ہونے کے لیے نہیں کہہ سکتیں۔ انہیں اپنے طبی اخراجات کا کچھ حصہ لازماً ادا کرنا ہوتا ہے۔ مخصوص طبی ادارے زمرہ 5 کی بیماریوں والے لوگوں کو داخل کر سکتے ہیں۔ تمام طبی اداروں کو متاثرین کی کل تعداد کی اطلاع دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اطلاع دینے کی ضروریات بیماری کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں۔

یہ معلومات 15 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 517: زوکووا کی افادیت اور خصوصیات
7- ہنگامی منظوری کے نئے نظام کا اطلاق

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان کی وزارت صحت نے کووِڈ-19 کی منہ سے لی جانے والی دوا کے استعمال کی 22 نومبر کو ہنگامی منظوری دی۔ آج اس سلسلے کی آخری قسط میں ہم منظوری کے اس نئے نظام پر نظر دوڑائیں گے۔

جاپان میں نئی دوا یا ویکسین کے استعمال کی باضابطہ منظوری ایک طویل عمل ہے، جس میں دوا یا ویکسین کے جائزے سے لے کر منظوری تک عام طور پر ایک سال کا عرصہ لگتا ہے۔ ماہرین نے توجہ دلائی ہے کہ غیر ممالک کی نسبت جاپان میں ویکسین کی منظوری میں تاخیر کے پیچھے یہی طویل عمل کارفرما ہے۔

اس صورتحال میں بہتری لانے کے لیے جاپان میں ہنگامی منظوری کے نئے نظام کی مئی 2022 میں منظوری دی گئی، جس کا اطلاق کسی متعدی مرض کی وباء پھوٹنے اور کوئی متبادل ویکسین یا علاج دستیاب نہ ہونے جیسی ہنگامی صورتحال میں کیا جائے گا۔

وزارت صحت نے طے کیا کہ زوکووا پر نئے نظام کا اطلاق کیا جانا چاہیے۔ ماہرین کے ایک پینل نے منہ سے لی جانے والی اس نئی دوا کا جائزہ لیا۔ تاہم اس جائزے کے دوران ماہرین اس دوا کی منظوری دینے میں دو بار ناکام رہے اور انہوں نے دوا کی افادیت کے بارے میں احتیاط سے بات چیت کرنے کی ضرورت کی نشاندہی کی۔ لیکن نومبر میں بات چیت کے تیسرے دور میں ماہرین نے بالآخر اس دوا کے استعمال کی منظوری دے دی۔

یونیورسٹی آف ٹوکیو کے پروفیسر اور دوا یا ویکسین کی منظوری کے نظام پر دسترس رکھنے والے اونو شُن سُکے نے کہا ہے کہ ہنگامی منظوری کے نئے نظام میں دوا کی افادیت اور استعمال میں محفوظ ہونے کے بارے میں درکار معلومات کی فراہمی پر ماہرین اور حکام اتفاق رائے نہ کر سکے۔

ان کے خیال میں تبادلۂ خیال کے دوران ترتیب کا فقدان نظر آیا اور ماہرین کا نکتۂ نظر قدامت پسندانہ اور جزئیات پر مرکوز دکھائی دیا۔ چونکہ جائزے کا یہ عمل گزشتہ نظام کے تحت لیے جانے والے جائزوں جیسا ہی رخ اختیار کر گیا تھا، لہٰذا انہوں نے ’’منظوری کے عمل کی رفتار تیز کرنے‘‘ اور ’’دوا یا علاج کی افادیت اور استعمال میں محفوظ ہونے کی تصدیق‘‘ کے طریقے تلاش کرنے کے اہداف میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ معلومات 14 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 516: زوکووا کی افادیت اور خصوصیات
6- کووِڈ-19 کے علاج سے متعلق ماہر کی رائے

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان کی وزارت صحت نے کووڈ-19 کے علاج کے لیے منہ سے لی جانے والی نئی دوا زوکووا کی 22 نومبر کو ہنگامی منظوری دی ہے۔ آج کی قسط میں ہم اس موضوع پر ایک ماہر کی رائے پیش کر رہے ہیں کہ زوکووا کی منظوری سے ہم کیا توقع کر سکتے ہیں۔

کووِڈ-19 کے علاج کے ماہر آئیچی میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر موری شِیما تسُونے او کہتے ہیں چونکہ یہ پیشگوئی کرنا مشکل ہے کہ آیا کسی متاثرہ شخص میں صرف ہلکی تکالیف پیدا ہوں گی یا وہ شدید بیمار پڑ جائے گا، لہٰذا صحت کی دیکھ بھال میں صفِ اول میں مصروفِ عمل کارکنان ایسے علاج یا دوا کے منتظر تھے جو شدید تکالیف پیدا ہونے کے کم خطرے سے دوچار مریضوں کو دی جا سکے۔

زوکووا کی افادیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انسانوں پر آزمائشوں کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ زوکووا کھانسی یا بخار جیسی تکالیف کی شدّت کو کم کرنے کیلئے درکار دورانیے کو ایک روز تک کم کر سکتی ہے ۔یہ انسدادِ انفلوئنزا ادویات کی اثر پذیری کی سطح کے مساوی ہے اور موجودہ حالات میں اسے تسلی بخش سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ زوکووا جسم میں وائرس کی مقدار کو کم کر سکتی ہے، لہٰذا توقع ہے کہ یہ شدید تکالیف پیدا ہونے کی روکتھام کرے گی۔ نرسنگ ہوم اور ہسپتالوں میں، جہاں کئی لوگ شدید بیمار پڑنے کے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں، زوکووا تکالیف کے بگڑنے کی روکتھام کرے گی، انفیکشنز کے پھیلاؤ کو روکے گی اور اس طرح ان مراکز کو خدمات کی فراہمی جاری رکھنے میں مدد دے گی۔

اُنہوں نے درپیش مشکلات کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ زوکووا کو تکالیف پیدا ہونے کے تین روز کے اندر اندر لینے کی صورت میں اس کا بہت زیادہ مؤثر ہونا بتایا گیا ہے۔ قومی اور مقامی حکومتوں کیلئے اہم بات یہ ہے کہ وہ فوری تشخیص اوردوا کے ضرورتمندوں کو تیز رفتاری سے فراہمی کے وسائل مہیا کریں۔ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ جب دوا وسیع طور پر استعمال ہونے لگے تو اس کے بعد نگرانی جاری رکھی جائے تاکہ دیکھا جا سکے کہ کہیں یہ غیر متوقع شدید ضمنی اثرات تو پیدا نہیں کرتی اور آیا اس علاج کی مزاحمت کرنے والی نئی متغیر اقسام ظاہر ہوتی ہیں یا نہیں۔

یہ معلومات 13 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 515: زوکووا کی افادیت اور خصوصیات
5- منظوری کے بعد اقدامات میں تبدیلی؟

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان کی وزارت صحت نے کووڈ-19 کے علاج کے لیے منہ سے لی جانے والی نئی دوا زوکووا کی 22 نومبر کو ہنگامی منظوری دی ہے۔ یہ کسی جاپانی کمپنی کی تیار کردہ منہ سے لی جانے والی پہلی دوا ہے۔ جو بات اس کو دوسری دواؤں سے مختلف بناتی ہے وہ یہ ہے کہ اسے معمولی تکالیف کے شکار وہ مریض استعمال کرسکتے ہیں جن کے شدید بیمار پڑنے کا زیادہ امکان نہ ہو۔ آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ اس دوا کی منظوری کے بعد، وائرس کے خلاف ہمارے اقدامات میں کیا تبدیلی آنی چاہیے۔

کورونا وائرس پھیلنے کے آغاز کو تقریباً تین سال ہو چکے ہیں۔ ابتدائی دنوں سے ہی ویکسین اور ادویات کو وائرس کے خلاف جنگ میں دو ستون سمجھا جاتا رہا ہے۔

بہت سے لوگوں نے ویکسین لگوالی ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ وائرس کو متاثرہ لوگوں میں سنگین علامات پیدا ہونے کا باعث نہ بننے دیا جائے۔ انفیکشن کے ابتدائی مراحل میں استعمال کی جا سکنے والی دوائیں، شدید بیمار ہونے والے لوگوں کی تعداد کو کم کر سکتی ہیں۔

یہ بات بہت اہم ہے کہ اب منہ سے لی جانے ایک والی دوا، جسے استعمال کرنا آسان ہوتا ہے، دستیاب ہو گئی ہے کیونکہ ہمیں ابھی بھی کورونا وائرس کے ساتھ رہنا ہے۔

لیکن ہمیں ویکسین اور استعمال میں آسان دوا، دونوں دستیاب ہونے کی صورت میں بھی اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انفیکشن سے کوئی بھی سنگین علامات پیدا نہیں ہوں گی۔ ماہرین ہم پر زور دے رہے ہیں کہ ہم ماسک پہننے اور پُرہجوم اور بند جگہوں سے گریز جیسے ضروری سمجھے جانے والے اقدامات جاری رکھیں۔ وہ ویکسین لگوانے کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہیں۔

یہ معلومات 12 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 514: زوکووا کی افادیت اور خصوصیات
4- زوکووا کب دستیاب ہو گی؟

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان کی وزارت صحت نے کووڈ-19 کے علاج کے لیے منہ سے لی جانے والی نئی دوا زوکووا کی 22 نومبر کو ہنگامی منظوری دی ہے۔ آج ہم طبی اداروں کو اس دوا کے تقسیم کے نظام الاوقات پر نظر دوڑائیں گے۔

وزارت صحت نے 10 لاکھ افراد کے علاج کے لیے درکار خوراکیں حاصل کرنے کی غرض سے زوکووا بنانے والی جاپانی ادویات ساز کمپنی شی اونوگی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ وزارت نے ابتدائی طور پر دسمبر کے اوائل میں طبی اداروں کو دوا کی وسیع تر فراہمی شروع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم دوا کی فراہمی کی تاریخ کو مقررہ وقت سے پہلے کر کے 28 نومبر کر دیا گیا۔

تاہم یہ دوا، حاملہ خواتین، یا ممکنہ حاملہ خواتین کو نہیں دی جا سکتی اور بعض مخصوص ادویات استعمال کرنے والے مریضوں کو بھی یہ دوا دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ وزارت ان پابندیوں کے پیشِ نظر، حفاظتی اقدام کے تحت، پہلے دو ہفتوں کے قریب عرصے کے لیے اس دوا کی فراہمی کو، علاج کے لیے امریکی کمپنی فائزر کی دوا پیکسلووِڈ تجویز کرنے والے طبی اداروں اور ادویات فروشوں تک محدود کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پیکسلووِڈ بھی زوکووا کی طرح ہی کام کرتی ہے۔

وزارت کے مطابق، یہ عرصہ گزرنے کے بعد زوکووا کی فراہمی کے لیے کوئی خاص شرائط نہیں ہوں گی۔ وزارت ایک نظام تیار کرے گی جس کے تحت یہ دوا پریفیکچر کی حکومت کے مقرر کردہ طبی اداروں اور ادویات فروشوں کی طرف سے تجویز اور تیار کی جائے گی۔ وزارت کے مطابق، مقرر کردہ مراکز کے ناموں کی فہرست مقامی حکومتوں اور دیگر کی ویب سائٹوں پر جاری کر دی جائے گی۔

یہ معلومات 9 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 513: زوکووا کی تاثیر اور اس کی خصوصیات
3- یہ دوا کس طرح کام کرتی ہے؟

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان کی وزارت صحت نے کووِڈ-19 کی منہ سے لی جانے والی نئی دوا، زوکووا، کے استعمال کی 22 نومبر کو ہنگامی منظوری دی ہے۔ آج ہم اس بات پر توجہ مرکوز کریں گے کہ یہ دوا کس طرح کام کرتی ہے۔

جب کوئی شخص کورونا وائرس کا شکار ہوتا ہے تو، وائرس اس کے جسم کے خلیوں میں داخل ہونے اور اس کے جینومک یعنی لونیتی آر این اے کی نقل تیار کرکے افزائش پاتا ہے۔ نئی دوا زوکووا ایک انزائم کے استعمال کو روک کر نقل کے اس عمل کو دباتی ہے، جو وائرس کی نقل کے لیے ناگزیر ہے۔

یہ عمل امریکی کمپنی فائزر کی تیار کردہ منہ سے لی جانے والی دوا پیکسلووِڈ کی طرح ہی کام کرتا ہے۔ جن مریضوں نے طبی آزمائش میں حصہ لیا، انہیں پانچ روز تک دن میں ایک بار زوکووا دی گئی۔ چوتھے دن، وائرس ابتدائی مقدار کے تقریباً 30 ویں حصے تک کم ہو گیا، اور اس کے کوئی شدید مضر اثرات ظاہر نہیں ہوئے۔

زوکووا کو اومی کرون کی دیگر ذیلی متغیر اقسام کے ساتھ ساتھ متغیر قسم BA.5 کے لیے بھی انتہائی مؤثر پایا گیا جو ابھی تک غالب ہے۔

دریں اثناء، جیسا کہ جانوروں پر تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ زوکووا جنین کو متاثر کرتی ہے، اس لیے حاملہ خواتین اور حاملہ ہونے کے امکانات والی خواتین اس دوا کا استعمال نہیں کر سکتیں۔ وزارت صحت دیرینہ بیماریوں میں مبتلا لوگوں پر بھی زور دے رہی ہے کہ وہ یہ دوا لیتے وقت احتیاط برتیں، کیونکہ دوسری دواؤں کے ساتھ استعمال کرنے سے اس کے مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔

یہ معلومات 8 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 512: زوکووا کی افادیت اور خصوصیات
2- دوا کی افادیت

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان کی وزارتِ صحت نے منہ سے لی جانے والی کووِڈ-19 کی نئی دوا زوکووا کے ہنگامی استعمال کی 22 نومبر کومنظوری دی ہے۔ حالیہ سلسلے میں زوکووا کی خصوصیات اور افادیت پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

زوکووا منہ سے لی جانے والی کووِڈ-19 کی ایک گولی یا دوا ہے جسے جاپان کی ادویات ساز کمپنی شی اونوگی نے تیار کیا ہے۔ اسے معمولی تکالیف میں مبتلا مریضوں کے علاج کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کووِڈ-19 کی گزشتہ دوائیں سنگین بیماری کے خطرے سے دوچار مریضوں کیلئے تھیں لیکن زوکووا کو ایسے مریض بھی لے سکتے ہیں جنہیں سنگین بیمار ہونے کا کم خطرہ درپیش ہو۔

جاپان ابھی تک کووِڈ-19 کی نو دواؤں کی منظوری دے چکا ہے جن میں گولیاں اور رگوں کے ذریعے دی جانے والی ڈِرپ شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ کو ہلکی سے معتدل نوعیت کی تکالیف سے دوچار مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کا استعمال ذیابیطس، سانس کی تکلیف یا موٹاپے جیسی بیماریوں میں مبتلا ایسے مریضوں تک ہی محدود تھا جن کی بیماری شدت اختیار کرنے کا انتہائی خطرہ ہو۔ شدید بیماری کے کم خطرے سے دوچار افراد پر ان دواؤں کی طبّی آزمائش نہیں کی گئی تھی اور ان کی فراہمی بھی محدود تھی۔

زوکووا کو تامی فُلو کی طرح موسمیاتی فُلو کے علاج کیلئے عمومی طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔ اسے 12 سال یا اس سے بڑی عمر کے لوگوں کے علاج کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں تکلیف بڑھنے کا کم خطرہ درپیش ہو۔

وزارت صحت کے ماہرین کے پینل نے زوکووا کے استعمال کی منظوری 22 نومبر کو دی تھی۔ اس پینل نے دوا سے بخار اور کورونا وائرس کی دیگر تکالیف کم ہونے پر مبنی طبّی ڈیٹا کی بنیاد پر دوا کے مؤثر ہونے کا اندازہ لگایا تھا۔ زوکووا ملکی ساختہ پہلی کووِڈ-19 دوا ہے جس کی جاپان میں منظوری دی گئی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ زوکووا کی منظوری کے نتیجے میں طبّی اداروں کو کووِڈ دواؤں کی فراہمی مستحکم بنیادوں پر کی جا سکے گی۔

یہ معلومات 6 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 511: زوکووا کی افادیت اور خصوصیات
1- زوکووا کیا ہے؟

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان کی وزارتِ صحت نے منہ سے لی جانے والی کووِڈ-19 کی نئی دوا زوکووا کے ہنگامی استعمال کی 22 نومبر کومنظوری دی ہے۔ حالیہ سلسلے میں زوکووا کی خصوصیات اور افادیت پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

زوکووا منہ سے لی جانے والی کووِڈ-19 کی ایک گولی یا دوا ہے جسے جاپان کی ادویات ساز کمپنی شی اونوگی نے تیار کیا ہے۔ اسے معمولی تکالیف میں مبتلا مریضوں کے علاج کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کووِڈ-19 کی گزشتہ دوائیں سنگین بیماری کے خطرے سے دوچار مریضوں کیلئے تھیں لیکن زوکووا کو ایسے مریض بھی لے سکتے ہیں جنہیں سنگین بیمار ہونے کا کم خطرہ درپیش ہو۔

جاپان ابھی تک کووِڈ-19 کی نو دواؤں کی منظوری دے چکا ہے جن میں گولیاں اور رگوں کے ذریعے دی جانے والی ڈِرپ شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ کو ہلکی سے معتدل نوعیت کی تکالیف سے دوچار مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کا استعمال ذیابیطس، سانس کی تکلیف یا موٹاپے جیسی بیماریوں میں مبتلا ایسے مریضوں تک ہی محدود تھا جن کی بیماری شدت اختیار کرنے کا انتہائی خطرہ ہو۔ شدید بیماری کے کم خطرے سے دوچار افراد پر ان دواؤں کی طبّی آزمائش نہیں کی گئی تھی اور ان کی فراہمی بھی محدود تھی۔

زوکووا کو تامی فُلو کی طرح موسمیاتی فُلو کے علاج کیلئے عمومی طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔ اسے 12 سال یا اس سے بڑی عمر کے لوگوں کے علاج کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں تکلیف بڑھنے کا کم خطرہ درپیش ہو۔

وزارت صحت کے ماہرین کے پینل نے زوکووا کے استعمال کی منظوری 22 نومبر کو دی تھی۔ اس پینل نے دوا سے بخار اور کورونا وائرس کی دیگر تکالیف کم ہونے پر مبنی طبّی ڈیٹا کی بنیاد پر دوا کے مؤثر ہونے کا اندازہ لگایا تھا۔ زوکووا ملکی ساختہ پہلی کووِڈ-19 دوا ہے جس کی جاپان میں منظوری دی گئی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ زوکووا کی منظوری کے نتیجے میں طبّی اداروں کو کووِڈ دواؤں کی فراہمی مستحکم بنیادوں پر کی جا سکے گی۔

یہ معلومات 6 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 510: کورونا وائرس انفیکشن کی آٹھویں لہر کا نقطۂ عروج
7- انفیکشنزکے پھیلاؤ کی روکتھام کرنا

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا جاپان میں انفیکشنز کی آٹھویں لہر آ چکی ہے؟ اس حالیہ سلسلے میں ہم انفیکشنز کی آئندہ متوقع صورتحال اور ممکنہ انسدادی اقدامات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

وزارت صحت کا ماہرین کا پینل 12 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ان لوگوں سے، جو کورونا وائرس کی ویکسین کی پہلی دو خوراکیں لے چکے ہیں، کہہ رہا ہے کہ سال کے آخر تک ذیلی متغیر قسم اومی کرون کے خلاف ویکسین لگوا لیں تاکہ طبی اداروں کو دباؤ کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔

ماہرین کا پینل، شیر خوار بچوں اور پرائمری اسکول کے بچوں کو بھی ویکسین لگوانے کی اپیل کر رہا ہے۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کے پروفیسر ہامادا آتسُواو کے مطابق، کچھ لوگ یہ سوچ سکتے ہیں کہ ویکسینیشنز مؤثر نہیں ہیں کیونکہ وائرس کی نئی متغیر اقسام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ قوت مدافعت سے بچ جاتی ہیں، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔

پروفیسر ہامادا کے مطابق، متغیر قسم اومی کرون کو ہدف بنانے والی ویکسینیں، ممکنہ طور پر ذیلی متغیر اقسام BQ.1 اور XBB کے خلاف مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں، جو آنے والے مہینوں میں پھیل سکتی ہیں۔ وہ لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ موسم سرما میں آٹھویں لہر کی تیاری کے لیے سال کے آخر تک ویکسین لگوا لیں۔

وہ لوگوں کو یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ چہرے کے ماسک پہننے، ہاتھ دھونے اور بھیڑ والی جگہوں سے گریز کرنے جیسی احتیاطی تدابیر جاری رکھیں۔

پروفیسر ہامادا نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ دعوتوں میں شرکت کرتے ہیں یا اختتامِ سال و سالِ نو کی تقریبات کے لیے اپنے آبائی شہر جاتے ہیں لیکن انفیکشن کی صورت حال کے لحاظ سے انہیں اپنے منصوبے منسوخ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالات پر نظر رکھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔

یہ معلومات 5 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 509: کورونا وائرس انفیکشن کی آٹھویں لہر کا نقطۂ عروج
6- انفلوائنزا اور کورونا وائرس انفیکشنز کا ایک ساتھ پھیلاؤ

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا جاپان میں انفیکشنز کی آٹھویں لہر آ چکی ہے؟ اس حالیہ سلسلے میں ہم انفیکشنز کی آئندہ متوقع صورتحال اور ممکنہ انسدادی اقدامات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

بعض ماہرین کے مطابق، موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ کورونا وائرس اور انفلوائنزا، دونوں وباؤں کے ایک ساتھ پھیلاؤ سے نمٹنے کی تیاری کی جانی چاہیے۔

حالیہ عرصے میں جاپان میں انفلوائنزا کے مریضوں کی تعداد، کورونا وباء کے پھیلاؤ سے قبل کے مقابلے میں کم رہی ہے۔ مقررہ طبی اداروں میں ایک ہفتے میں فُلو کے اوسطاً ایک سے زائد مریض آنے کی اطلاع ملنے پر ملک بھر میں انفلوائنزا کی وباء پھیلنے کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ 20 نومبر تک کے ہفتے میں یہ تعداد 0.11 تھی۔

کرۂ ارض کے جنوبی حصے میں واقع ملک آسٹریلیا میں رواں موسمِ سرما کے مہینوں مئی اور جون میں انفلوائنزا کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، گزشتہ چند ہفتوں میں امریکہ اور کینیڈا میں بھی فُلو کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ادارے کے مطابق یورپ میں اگرچہ یہ تعداد ابھی کم ہے، لیکن اس میں اضافے کا رجحان ہے۔

کیوتو یونیورسٹی کے پروفیسر نِشی اُورا ہِروشی کہتے ہیں کہ جاپان میں فُلو انتہائی سست رفتاری سے پھیل رہا ہے اور فُلو کے متاثرین کا نقطۂ عروج کم سے کم موسم سرما کی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھلنے پر ہو سکتا ہے۔ وہ توقع ظاہر کرتے ہیں کہ کورونا وائرس انفیکشنز کی آٹھویں لہر اور فُلو کے کیسز کا نقطۂ عروج ایک ساتھ نہیں ہو گا۔

یہ معلومات 2 دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 508: انفیکشن کی آٹھویں لہر کا نقطۂ عروج
5- اختتامِ سال اور سالِ نو کی چھٹیوں کے دوران وباء کے پھیلاؤ کے امکانات

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا جاپان میں انفیکشنز کی آٹھویں لہر آ چکی ہے؟ اس حالیہ سلسلے میں ہم انفیکشنز کی آئندہ متوقع صورتحال اور ممکنہ انسدادی اقدامات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

اختتام سال اور سالِ نو کی تعطیلات کا موسم قریب آنے کے ساتھ ہی، توقع ہے کہ لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ گھلنے ملنے کے مواقع بڑھ جائیں گے۔

اب جب کہ جاپان نے اپنے سرحدی کنٹرول کے اقدامات میں نرمی کی ہے، ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کے پروفیسر ہامادا آتسُواو نے بیرونِ ملک انفیکشن کی صورتحال پر نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

نومبر کے وسط میں، انفیکشنز نہ صرف جاپان بلکہ جنوبی کوریا، انڈونیشیاء اور ملائیشیاء سمیت مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیاء میں بھی پھیلے ہیں۔ پروفیسر ہامادا نے امریکہ میں انفیکشنز کے ممکنہ دوبارہ پھیلاؤ سے خبردار کیا ہے جہاں نومبر کے اواخر میں یومِ تشکّر منایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس وقت قطر میں جاری ورلڈ کپ کے اثرات سے بھی خبردار کیا ہے۔

پروفیسر ہامادا کا کہنا تھا کہ امریکہ میں ماضی میں یومِ تشکّر کے قریب نئے متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا تھا، کیونکہ یہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب بہت سے خاندان اکٹھے ہوتے اور مل کر کھانا کھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اندازاً دنیا بھر سے تقریباً 12 لاکھ افراد عالمی فٹبال کپ کے مقابلے دیکھنے کے لیے قطر جائیں گے۔ ٹوکیو یا بیجنگ میں ہونے والے اولمپک اور پیرالمپک کھیلوں کے مقابلے اس عالمی کپ کا انعقاد کہیں زیادہ نرم پابندیوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی کپ مقابلوں کے دوران انفیکشنز پھیل سکتے ہیں۔ پروفیسر ہامادا نے کہا کہ وہ اس امکان کو رد نہیں کر سکتے کہ وہاں پر شائقین انفیکشن سے متاثر ہو سکتے ہیں اور وائرس کو واپس اپنے آبائی ممالک میں لے جا سکتے ہیں، جس کے بعد ان کی آبادیوں میں وباء پھیل سکتی ہے۔

یہ معلومات یکم دسمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 507: کورونا وائرس کی آٹھویں لہر کا نقطۂ عروج
4- مصنوعی ذہانت کی مدد سے پیشگوئی

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا جاپان میں انفیکشنز کی آٹھویں لہر آ چکی ہے؟ اس حالیہ سلسلے میں ہم انفیکشنز کی آئندہ متوقع صورتحال اور ممکنہ انسدادی اقدامات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

ناگویا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر ہِراتا آکی ماسا اور ان کی ٹیم نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے، BQ.1 اور وائرس کی بعض دیگر نئی متغیر اقسام کے پھیلاؤ کے مفروضے پر آئندہ کے انفیکشنز کے بارے میں پیشگوئی کی ہے۔ یہ پیشگوئی ویکسینوں کی افادیت اور لوگوں کی نقل و حرکت کے بارے میں دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

اگر فرض کر لیا جائے کہ BQ.1اور بعض دیگر نئی متغیر اقسام وائرس پھیلانے میں BA.5 کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ طاقتور ہیں اور انسانوں کو گزشتہ انفیکشنز سے حاصل شدہ مدافعتی قوت نئی متغیر اقسام کا اثر روکنے میں ناکام رہتی ہے، تو دسمبر کے وسط میں ٹوکیو میں نئے یومیہ انفیکشنز کی ہفتہ وار یومیہ اوسط تعداد 30 ہزار کے قریب اور ساتویں لہر کے نقطۂ عروج سے تجاوز کرتی ہوئی جنوری کے وسط میں 36 ہزار کے قریب ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اس صورتحال میں ٹوکیو میں جنوری کے وسط سے فروری کے اوائل تک یومیہ اموات کی تعداد 20 یا 20 سے زائد ہو گی۔

BQ.1 اور بعض دیگر نئی متغیر اقسام پرانی اقسام جتنی ہی متعدی ہونے اور گزشتہ انفیکشنز سے حاصل ہونے والی قوت مدافعت کے نئی متغیر اقسام کے خلاف کسی حد تک مؤثر ثابت ہونے کی صورت میں ٹوکیو میں نئے انفیکشنز کی تعداد جنوری کے وسط میں لگ بھگ 25 ہزار کے نقطۂ عروج پر پہنچ جائے گی۔

پروفیسر ہِراتا کہتے ہیں کہ BQ.1 اور دیگر نئی متغیر اقسام کے ممکنہ اثرات کے لحاظ سے نئے متاثرین کی تعداد جلد تیزی سے بڑھنا شروع ہو سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سماجی اور اقتصادی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے اور درجۂ حرارت کم ہونے سے، فی الواقع انفیکشنز کی تعداد کو بڑھنے سے روکنے میں کوئی عنصر مانع نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نئی متغیر اقسام انتہائی متعدی ہونے اور انسانی قوت مدافعت سے بچ نکلنے کی استعداد حاصل کرنے کی صورت میں غالب امکان ہے کہ اختتامِ سال کے قریب نئے متاثرین کی تعداد میں خاطر خواہ رفتار سے اضافہ ہو گا۔

یہ معلومات 30 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 506: انفیکشن کی آٹھویں لہر کا نقطۂ عروج
3- کورونا وائرس کی نئی ذیلی متغیر اقسام

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا جاپان میں انفیکشنز کی آٹھویں لہر آ چکی ہے؟ اس سلسلے میں ہم انفیکشنز کی آئندہ متوقع صورتحال اور ممکنہ انسدادی اقدامات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

اومی کرون کی BQ.1 جیسی ذیلی متغیر اقسام کا ممکنہ پھیلاؤ بڑی تشویش کا باعث ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا غالب امکان ہے کہ یہ ذیلی متغیر اقسام گزشتہ انفیکشنز اور ویکسینیشن کے ذریعے جسم کو حاصل کردہ قوتِ مدافعت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ امریکہ میں متغیر قِسم BA.5 کی جگہ اومی کرون کی نئی ذیلی متغیر اقسام لینا شروع کر رہی ہیں۔

بلدیۂ عظمیٰ ٹوکیو کی جانب سے 24 نومبر کو جاریکردہ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ 80.1 فیصد متاثرین BA.5 سے متاثر تھے، لہذا اس متغیر قسم کو اس ماہ دیگر اقسام پر غلبہ حاصل تھا۔ لیکن دیگر ذیلی متغیر اقسام میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے جن میں سے BQ.1.1 کا تناسب 6.2 فیصد، BN.1 کا 4.2 فیصد، BF.7، BA.2.75، BQ.1 کا دو فیصد کی حد کے اندر، BA.2 اور XXB دونوں کا تقریباً ایک ایک فیصد، اور BQ.4.6 کا 0.3 فیصد تھا۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کے پروفیسر ہامادا آتسُواو کہتے ہیں کہ اس وقت توجہ اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام XXB اور BQ.1 پر مرکوز ہے، لیکن یہ کہ XXB دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر نہیں پھیلی ہے۔ امریکہ اور یورپی ملکوں میں BA.5 کی جگہ BQ.1 لے رہی ہے۔

پروفیسر ہامادا نے کہا ہے کہ امریکہ اور یورپی ملکوں میں وسط نومبر تک کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ نہیں ہو رہا تھا۔ لیکن اُن کا کہنا تھا کہ کئی نئی ذیلی متغیر اقسام جاپان میں آ جانے کی صورت میں ملک میں آٹھویں لہر کا نکتہ عروج بلند ہو سکتا ہے۔ اُنہوں نے خبردار کیا ہے کہ جاپان کو انفیکشنز کی نگرانی جاری رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اُسے دسمبر میں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ معلومات 29 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 505: انفیکشن کی آٹھویں لہر کا نقطۂ عروج
2- انفیکشنز کے ایک اور پھیلاؤ کے اشارے

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا جاپان میں انفیکشنز کی آٹھویں لہر آ چکی ہے؟ اس سلسلے میں ہم انفیکشنز کی آئندہ متوقع صورتحال اور انسدادی اقدامات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

اپنی پہلی قسط میں، ہم نے جاپان میں انفیکشنز کے تازہ ترین پھیلاؤ پر توجہ مرکوز کی جس میں اومی کرون کی ذیلی متغیر قِسم BA.5 شامل ہے۔

یورپ میں اکتوبر میں BA.5 کے متاثرین میں ایک اور اضافہ دیکھا گیا۔ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں قائم ایک تحقیقی ٹیم کے زیرِ انتظام سائنسی آن لائن اشاعت ’ہماری دنیا اعداد و شمار کی روشنی میں‘ کے مطابق، اکتوبر کے وسط میں جرمنی میں ہر دس لاکھ کی آبادی میں روزانہ نئے متاثرین کی سات دن کی اوسط یومیہ تعداد 1,300 تک پہنچ گئی۔ یہ تعداد جولائی میں پچھلے انفیکشنز کے عروج سے تجاوز کر گئی۔ اسی دوران فرانس میں یہ تعداد تقریباً 840 تھی، جو جولائی کے بعد سب سے زیادہ تعداد تھی۔

17 نومبر کو، وزارت صحت کے ماہرین کے پینل کے سربراہ پروفیسر واکِیتا تاکاجی نے کہا کہ ذیلی متغیر قسم BA.5 کے ذریعے انفیکشن کا جاری پھیلاؤ سال کے اختتام سے پہلے عروج پر پہنچ سکتا ہے۔

کیوتو یونیورسٹی کے پروفیسر نِشی اُرا ہِیروشی وزارتِ صحت کے پینل کے رکن اور ریاضیاتی علمِ وبائی امراض کے ماہر ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ انفیکشن کے عروج پر پہنچنے کے بعد کمی غالباً آہستہ اور بتدریج ہوگی، کیونکہ انفیکشنز، ہوکائیدو کی طرح ہر علاقے میں پھیل رہے ہیں۔

یہ معلومات 28 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 504: کورونا وائرس کی آٹھویں لہر کا نقطۂ عروج
1- انفیکشنز اب کیوں پھیل رہے ہیں؟

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تعداد تقریباً دو ماہ کے عرصے میں پہلی بار 15 نومبر کو ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ کیا جاپان میں انفیکشنز کی آٹھویں لہر آ چکی ہے؟ آج سے شروع ہونے والے ہمارے اس نئے سلسلے میں آئندہ کی متوقع صورتحال اور انسدادی اقدامات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

سوال یہ ہے کہ انفیکشنز کے نئے متاثرین کی تعداد اب کیوں بڑھ رہی ہے؟ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سوال کا سراغ شاید انفیکشنز کے حالیہ پھیلاؤ میں پنہاں ہے، جو بڑے شہروں کے بجائے دوسرے علاقوں سے شروع ہو رہا ہے۔ حالیہ دنوں تک انفیکشنز کا زور اکثر بڑی آبادی والے علاقے بلدیۂ عظمیٰ ٹوکیو سے شروع ہو کر، یہاں سے سفر کرنے والوں کے ذریعے ملک بھر کے دیگر علاقوں میں پھیلتا رہا ہے۔ لیکن اس مرتبہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ، ٹوکیو سے بہت دور ہوکائیدو اور توہوکُو جیسے علاقوں سے شروع ہوا ہے۔

وزارت صحت کے ماہرین کے پینل نے 17 نومبر کو منعقدہ اجلاس میں اس رجحان سے متعلق اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔ ماہرین نے کہا کہ ساتویں لہر کے دوران BA.5 سے متاثرہ افراد کی بڑی تعداد والے علاقوں میں رہائشیوں کی بلند شرح پہلے ہی قوت مدافعت حاصل کر چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ BA.5 سے متاثرہ افراد کی کم تعداد والے علاقوں میں، جہاں قوت مدافعت حاصل کرنے والے رہائشیوں کی شرح کم ہے، انفیکشن اب پھیل رہا ہے۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کے پروفیسر ہامادا آتسُواو کہتے ہیں کہ متاثرین کی تعداد میں موجودہ اضافے کو ساتویں لہر کے باقی ماندہ اثرات گردانا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بڑے شہروں میں بھی متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لیکن چھوٹے علاقائی شہروں کی نسبت یہاں انفیکشن پھیلنے کا رجحان اتنا واضح نہیں ہے۔ پروفیسر ہامادا کے مطابق، ساتویں لہر کا ’’ٹمٹماتا شعلہ‘‘ ان علاقوں میں زور پکڑ رہا ہے، جہاں اس نے نسبتاً کم لوگوں کو متاثر کیا ہے اور جہاں رہنے والوں کی بڑی تعداد قوت مدافعت سے محروم ہے۔

یہ معلومات 25 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 503: اومی کرون کی نئی ذیلی متغیر اقسام
5- یہ وائرس کے موجودہ پھیلاؤ پر کیسے اثر ڈالتی ہیں؟

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اب اومی کرون کی BQ.1.1 اور XBB جیسی نئی ذیلی متغیر اقسام کے پھیلاؤ کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ آج اس سلسلے کی آخری قسط میں ہم متعدی امراض کے ماہرین کی آراء پیش کرتے ہوئے، ان نئی متغیر اقسام سے جاپان میں انفیکشن کے پھیلاؤ کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیں گے۔

جاپان کے قومی انسٹیٹیوٹ برائے متعدی امراض کے محققین نے کہا ہے کہ اب تک کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا کہ XBB یا BQ.1.1 کے باعث کووِڈ-19 کا مرض سنگین ہوتا ہو۔ تاہم، وہ کہتے ہیں کہ کچھ ایسے مطالعات ہیں جو جسم کی قوت مدافعت سے بچنے کی ان ذیلی متغیر اقسام کی صلاحیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ان کی نگرانی جاری رکھیں گے۔

جاپان میں 11 اکتوبر کو نئے متاثرین کی سات روزہ اوسط تعداد 26,000 کے لگ بھگ تھی۔ اور پھر یہ تعداد بتدریج بڑھ کر 22 نومبر کو تقریباً 88,000 تک پہنچ گئی۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کے پروفیسر ہامادا آتسُواو کا کہنا ہے کہ ذیلی متغیر قسم BA.5 کے مقابلے میں BQ.1 جسمانی قوت مدافعت سے بچنے کی زیادہ صلاحیت کی حامل ہے، اور چاہے آپ پہلے وائرس سے متاثر ہو چکے ہوں یا ویکسین لگوا چکے ہوں، تب بھی آپ کو دوبارہ انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہے۔ لہٰذا، اگر موسم سرما میں ذیلی قسم پھیل جاتی ہے، تو اس بات کا امکان ہے کہ متاثرین کی تعداد بڑھ جائے گی۔ پروفیسر ہامادا کا کہنا ہے کہ چونکہ متغیر قِسم اومی کرون کو ہدف بنانے والی ویکسینیں اب دستیاب ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ لوگ یہ لگوالیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ ذیلی متغیر اقسام BA.5، BQ.1 اور XBB سب کا تعلق متغیر قِسم اومی کرون سے ہے، اس لیے اومی کرون کو ہدف بنانے والی ویکسین کی خوراک کے ذریعے، آپ ان کے خلاف تحفظ حاصل کرنے کی توقع کر سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے رواں موسم سرما میں سنگین کیسز کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ معلومات 24 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 502: اومی کرون کی نئی ذیلی متغیر اقسام
4- کیا وائرس میں تبدیلی کا عمل جاری رہے گا؟

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اومی کرون کی BQ.1، BQ.1.1 اور XBB جیسی نئی ذیلی متغیر اقسام سامنے آنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ کیا نئی ذیلی متغیر اقسام یکے بعد دیگرے سامنے آتی رہیں گی؟ آج اس سلسلے میں چند معلومات اور ایک ماہر کی رائے پیش کی جا رہی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او، نے نئی ذیلی متغیر اقسام میں دیکھے جانے والے ایک دلچسپ قدرتی مظہر کی جانب 26 اکتوبر کو توجہ دلائی ہے۔ مختلف مقامات اور عرصے میں ظاہر ہونے کے باوجود ان میں تبدیلی کا ایک مشترکہ عنصر پایا جاتا ہے۔ اسے ’’اتصالی ارتقاء‘‘ کہا جاتا ہے، جس میں ارتقائی عمل سے گزرنے والے مختلف نامیاتی اجسام بالآخر مشترکہ خصوصیات حاصل کر لیتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق باور کیا جاتا ہے کہ نئی ذیلی متغیر اقسام میں جزوی تبدیلیوں کا عمل، انسانوں سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے ہے، اور یہ کہ ان میں مزید تبدیلیاں بھی آ سکتی ہے۔

ناگاساکی یونیورسٹی کے پروفیسر اور وائرسوں کے مطالعے سے متعلق سائنس کے ماہر فُرُوسے یُوکی کے مطابق، اب جبکہ کہا جا رہا ہے کہ دنیا کی آدھی آبادی کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون سے متاثر ہو چکی ہے، ممکن ہے کہ بڑے پیمانے پر حاصل ہونے والی قوت مدافعت سے بچنے کے لیے مختلف ذیلی متغیر اقسام نے تبدیل ہو کر مشترکہ خصوصیات حاصل کر لی ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ کورونا وائرس پہلے ہی کافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے اور ہمیں معلوم نہیں ہے کہ آیا یہ انسانوں سے مطابقت پیدا کرے گا یا تبدیلی کا عمل جاری رکھے گا۔

یہ معلومات 23 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 501: اومی کرون کی نئی ذیلی متغیر اقسام
3- ذیلی متغیر قِسم XBB

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اومی کرون کی نئی ذیلی متغیر اقسام دنیا بھر میں پھیلنا شروع ہو رہی ہیں۔ آج ہم ذیلی متغیر قِسم XBB کا جائزہ لیں گے جو سنگاپور اور دیگر مقامات پر پھیل رہی ہے۔

سنگاپور اور بھارت میں XBB کے باعث تکالیف کا شکار ہونے والے کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

سنگاپور کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 9 اکتوبر تک کے ہفتے کے دوران XBB سے مقامی متاثرہ افراد کی تعداد کا تناسب دیگر کی نسبت زیادہ ہو گیا۔ یہ تناسب ایک ہفتے قبل 22 فیصد سے بڑھ کر اب 54 فیصد ہو گیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او، کے مطابق، اکتوبر کے اواخر تک 35 ملکوں میں XBB کی شناخت ہو چکی تھی۔ اس ادارے کے ماہرین کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ اگرچہ XBB سے انفیکشن ہونے کے پہلے سے زیادہ خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اومی کرون کی اس وقت گردش کرتی دیگر ذیلی متغیر اقسام کے مقابلے میں اس ذیلی متغیر قِسم سے ہونے والی تکالیف کی سنگینی یا قوتِ مدافعت سے اس کے بچنے کا تناسب زیادہ ہے۔

اس گروپ نے یہ بھی کہا ہے کہ دوبارہ انفیکشن میں مبتلا ہونے والے بنیادی طور وہ متاثرین تھے، جنہیں اومی کرون آنے سے پہلے دور میں انفیکشن ہو چکا تھا اور اومی کرون کی دیگر ذیلی اقسام کے مدافعتی قوت کے ردعمل سے بچنے کے ضمن میں کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

سنگاپور میں XBB سے متاثرہ افراد کی تعداد، اس ذیلی متغیر قِسم کے اکتوبر میں عروج پر پہنچنے کے بعد سے کم ہو رہی ہے۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کے پروفیسر ہامادا آتسُواو نے بتایا کہ سنگاپور سے اُس کے ہمسایہ ملکوں میں XBB انفیکشنز کا کوئی بڑا پھیلاؤ نہیں ہوا۔ اُنہوں نے بتایا کہ یہ ذیلی متغیر قِسم جاپان میں بھی پائی گئی ہے لیکن متاثرین کی تعداد کم ہے۔ لہٰذا اس کے پھیلاؤ سے متعلق تشویش کی سطح پہلے ہی کی طرح بلند نہیں ہے۔

یہ معلومات 22 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 500: اومی کرون کی نئی ذیلی متغیر اقسام
2- اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام بی کیو 1 اور بی کیو 1.1

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اومی کرون کی نئی ذیلی متغیر اقسام اب دنیا بھر میں پھیلنا شروع ہو رہی ہیں۔ اس سلسلے میں آج ہم اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام بی کیو 1 اور بی کیو 1.1 کا جائزہ لیں گے، جو امریکہ اور دیگر مقامات پر پھیل رہی ہیں۔

رواں سال موسم گرما میں، جاپان بنیادی طور پر ذیلی قسم BA.5 کی وجہ سے ہونے والے کووِڈ انفیکشن کی لہر کا شکار ہوا۔ BQ.1 سطحی تبدیلیوں کے ساتھ BA.5 کی ایک ذیلی قسم ہے، اور BQ.1.1 میں ایک اضافی سطحی تبدیلی ہے۔ امریکہ میں 29 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں BQ.1 تقریباً 14 فیصد نئے انفیکشنز کا باعث بنی، جبکہ BQ.1.1 کی وجہ سے 13.1 فیصد نئے انفیکشن ہوئے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ اکتوبر کے اوائل تک BQ.1 اور اس کی ذیلی متغیر اقسام 65 ممالک میں رپورٹ ہوئیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے ایک ماہر گروپ کا کہنا ہے کہ نئی ذیلی متغیر اقسام کا تناسب بڑھ رہا ہے اور زیادہ امکان ہے کہ ان کے اضافی تغیرات نے اومی کرون کی دیگر زیرِ گردش اقسام کو قوت مدافعت سے فرار کا فائدہ دیا ہو۔ لیکن گروپ کا کہنا ہے کہ اس وقت بیماری کی شدت میں اضافے یا قوت مدافعت سے فرار کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر قوت مدافعت سے فرار ہونے کے فائدے کا مطلب ہے ویکسینیشن کے بعد انفیکشن کا امکان یا دوبارہ انفیکشن کا زیادہ خطرہ، لیکن اس کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے بنیادی یا اومی کرون کی ذیلی قسم کو ہدف بنانے والی ویکسینوں کے ذریعے تحفظ، انفیکشن کے خلاف کم ہوگیا ہو لیکن شدید بیماری کے خلاف تحفظ پر کوئی بڑا اثر نہیں دیکھا گیا ہے۔

یہ معلومات 21 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 499: اومی کرون کی نئی ذیلی متغیر اقسام
1۔ اومی کرون کی نئی ذیلی متغیر اقسام کا پھیلاؤ

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ دنیا بھر میں اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام کا پھیلاؤ اب باقاعدہ طور پر جاری ہے۔ ہمارے اس نئے سلسلے میں نئی متغیر اقسام سے شدید بیمار پڑنے کے خطرات کے ساتھ ساتھ موجودہ دستیاب ویکسینوں کے مؤثر ہونے پر بھی بات کی جائے گی۔

جاپان میں اس موسم گرما میں اومی کرون کی متغیر قسم BA.5 کے باعث کووڈ انفیکشنز کی ساتویں لہر آئی۔ اگرچہ دنیا بھر میں دیگر کے مقابلے میں BA.5 زیادہ کثرت سے پھیلی ہے، لیکن اس کے مجموعی تناسب میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ اُدھر، اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام BQ.1، BQ.1.1، اور XBB کے باعث دنیا بھر میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کے پروفیسر اور متعدی امراض کے ماہر ہامادا آتسُواو کہتے ہیں کہ اگرچہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ مستقبل میں وائرس کی کونسی متغیر قسم دیگر کے مقابلے میں زیادہ کثرت سے پھیلے گی، لیکن ان تمام متغیر اقسام میں انسانوں کے مدافعتی ردعمل سے بچ نکلنے میں بہتری آنے کے ساتھ ان کی انسانی خلیوں سے منسلک ہونے کی صلاحیت ایک جیسی ہے۔ پروفیسر ہامادا کہتے ہیں کہ نئی متغیر اقسام جنم لینے کی صورت میں بھی ہمیں احتیاط سے جائزہ لینا ہو گا کہ آیا وہ ہمارے مدافعتی ردعمل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں یا نہیں اور یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ان میں دوسرے افراد کو منتقل ہونے اور بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت کتنی ہے۔

یہ معلومات 18 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 498: چار سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے کورونا ویکسینیشن
8- ماہرین کی آراء

این ایچ کے، کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کا جواب دے رہا ہے۔ جاپان نے 6 ماہ سے 4 سال کی عمر کے بچوں کے لیے اکتوبر میں کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگانے کے عمل کا آغاز کیا ہے۔ آج چھوٹے بچوں کی ویکسینیشن کے بارے میں ہمارے اس سلسلے کی آخری قسط میں ماہرین کی آراء پیش کی جا رہی ہیں۔

ہم نے دو ماہرین سے پوچھا کہ ہمیں اپنے بچوں کے لیے ویکسینیشن کا کس طرح توجہ دینی چاہیے۔

نیگاتا یونیورسٹی کے پروفیسر سائتو آکی ہِیکو کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچوں کے لیے چہرے کے ماسک پہننے اور ہاتھ دھونے جیسی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا مشکل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس عمر کے گروپ کے لیے کووِڈ-19 سے متاثر ہونے کی ابتداء کو فعال طور پر روکنے اور سنگین بیماری کے امکان سے بچنے کا واحد ذریعہ ویکسینیشن ہے۔

کِتاساتو یونیورسٹی کے پروفیسر ناکایاما تیتسُواو کہتے ہیں کہ ضمنی اثرات ویکسین لگوانے کے منفی پہلوؤں میں سے ایک ہیں۔ لیکن اُنہوں نے مزید کہا کہ ویکسین نہ لگوانے سے ایسی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں جو موت کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔ پیچیدگیوں کی مثالوں میں ایکیوٹ انسیفیلوپیتھی کہلانے ذہنی عارضہ اور مایوکارڈائٹس شامل ہے، جو دل کے پٹھّے کی سوزش ہے۔

جناب ناکایاما لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ فوائد اور خطرات کا موازنہ کریں اور سائنسی حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔

جاپان امراضِ اطفال سوسائٹی بھی چھ ماہ سے چار سال کی عمر کے بچوں کے لیے ویکسینیشن کی سفارش کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کووِڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے فوائد ضمنی اثرات کے خطرات سے کہیں زیادہ ہیں۔

یہ معلومات 14 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 497: چار سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے ویکسینیشن
7۔ وہ بچے جن کو کورونا وائرس اور دیگر ٹیکے لگ چکے ہیں

این ایچ کے، کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کا جواب دے رہا ہے۔ جاپان نے 6 ماہ سے 4 سال کی عمر کے بچوں کے لیے اکتوبر میں کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگانے کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ آج، ہم آپ کو کورونا وائرس سے متاثر ہو چکنے والے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے اور ایک سے زیادہ ویکسینیشن کے محفوظ ہونے کے بارے میں بتائیں گے۔

ماہرین اُن بچوں کو بھی کووِڈ ویکسین لگوانے کی سفارش کرتے ہیں جو ماضی میں اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہوں۔

نیگاتا یونیورسٹی کے پروفیسر سائتو آکی ہیکو کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو انفیکشن ہو جائے تو بھی اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ اگر اُسکی علامات ہلکی تھیں تو اُس نے کافی حد تک قوت مدافعت پیدا کر لی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ بھی جانا جا چکا ہے کہ نئے کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز کی مقدار، گزرتے وقت کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔ جناب سائتو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد ویکسین لگوانے سے جسم میں قوت مدافعت کی کافی مقدار کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ جہاں تک ٹیکہ لگوانے کے وقت کا تعلق ہے، جناب سائتو کا کہنا ہے کہ جب علامات ماند پڑ جائیں اور بچے اپنی معمول کی صحت پر لوٹ آئیں تو ٹیکہ لگانا مناسب ہے۔

کووڈ کے خلاف حفاظتی ٹیکے بچوں میں دیگر ویکسینوں کے ساتھ بھی لگائے جا سکتے ہیں۔ ایک ہی دن کووڈ ویکسین اور انفلوئنزا کی ویکسین لینے میں بھی کوئی عار نہیں ہے۔ جبکہ دیگر ویکسینوں اور کووڈ کی ویکسین کے درمیان اصولی طور پر کم از کم دو ہفتوں کا وقفہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

جہاں تک یہ سوال ہے کہ بچوں میں کن ویکسینوں کو ترجیح دی جانی چاہیے، تو نیگاتا یونیورسٹی کے پروفیسر سائتو کا کہنا ہے کہ جن ویکسینوں کا معمول کی ویکسینوں کے طور پر تعین کیا جا چکا ہے، ان کے ٹیکے لگانے کے اوقات کار بھی پہلے سے طے شدہ ہیں۔ وہ والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ بنیادی طور پر اُسی طے شدہ اوقات کار پر عمل کریں اور اِن دیگر حفاظتی ٹیکوں سے دو ہفتے پہلے یا دو ہفتے بعد، کووڈ کی ویکسین لگوانے کی منصوبہ بندی کریں۔

یہ معلومات 11 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 496: 4 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے کورونا ویکسینیشن
6- بچوں میں سنگین کیسز

این ایچ کے، کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کا جواب دے رہا ہے۔ جاپان نے 6 ماہ سے 4 سال کی عمر تک کے بچوں کے لیے کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگانے کے عمل کا آغاز اکتوبر میں کیا۔ اس سلسلے میں آج ہم چھوٹے بچوں کو ویکسین لگانے کی ضرورت کے ایک حوالے کے طور پر اُن بچوں کو ویکسین کا ٹیکہ لگانے کی رائے کا جائزہ لیں گے، جن میں کورنا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد سنگین علامات پیدا ہو رہی ہیں۔

جاپان طبِ اطفال سوسائٹی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 95 فیصد سے زیادہ بچوں میں صرف ہلکی علامات پائی گئیں۔ لیکن متغیر قِسم اومی کرون کے پھیلنے کے بعد جیسے جیسے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد بڑھی، بچوں میں اموات اور سنگین متاثرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔

قومی انسٹیٹیوٹ برائے متعدی امراض نے 20 سال سے کم عمر کے 41 نوجوانوں کا ایک جائزہ لیا جو اس سال جنوری اور اگست کے درمیان اُس وقت کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انتقال کرگئے جب زیادہ تر لوگ متغیر قِسم اومی کرون سے متاثر ہوئے تھے۔ مذکورہ ادارے نے 29 اموات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور پتہ چلا کہ چار سال یا اس سے کم عمر کے 14 ایسے بچوں کی بھی موت واقع ہوئی جن میں سے چھ کو کوئی دیرینہ بیماری نہیں تھی۔

6 ماہ سے چار سال کی عمر کے بچوں میں سنگین متاثرین سے متعلق خاص طور پر کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ لیکن جاپان سوسائٹی برائے انتہائی نگہداشت علمِ طب نے اس سال مارچ سے اگست تک ملک بھر کے ہسپتالوں میں بچوں کے بستر استعمال کرنے والے 20 سال سے کم عمر کے کورونا وائرس کے مریضوں کا عمر اور علامات کے لحاظ سے ڈیٹا اکٹھا کیا۔

سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اعتدال سے شدید علامات سے متاثر ہونے والوں کے طور پر کل 220 افراد کا اندراج کیا گیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ انہیں آکسیجن دینے یا مصنوعی تنفس کے آلات کی مدد کی ضرورت تھی۔ ان میں 6 سال یا اس سے کم عمر یعنی اسکول جانے سے پہلے کی عمر کے بچوں کا تناسب 58.6 فیصد تھا۔ سوسائٹی کا کہنا ہے کہ جن بچوں میں شدید علامات پیدا ہوئیں ان میں سے بہت سے بچے شدید انسیفیلوپیتھی، یعنی دماغ کے مرض سے متاثر ہوئے، جس میں دماغ سُوج جاتا ہے اور شعور کو کمزور کر سکتا ہے۔ نمونیا اور پٹھوں کے سکڑنے کی وجہ سے تشنج کا شکار ہو جانے کے واقعات بھی زیادہ تھے۔

یہ معلومات 10 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 495: چار سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے ویکسینیشن
5- کیا باز تخلیقی عمل پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

این ایچ کے، کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کا جواب دے رہا ہے۔ جاپان نے 6 ماہ سے 4 سال کی عمر تک کے بچوں کے لیے اکتوبر میں کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگانے کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ آج ہم جائزہ لیں گے کہ آیا ویکسینیشن سے انسان کے باز تخلیقی عمل پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

امریکی ادویات ساز کمپنی فائزر کی تیار کردہ کورونا وائرس ویکسین جاپان میں بچوں کو ٹیکہ لگانے میں استعمال کی جا رہی ہے۔ یہ mRNA کہلائی جانے والی ایک نئی قسم کی ویکسین ہے۔ mRNA پروٹین کا مرکب بنانے کی ترکیب کا کام کرتی ہے۔ جب کسی شخص کو mRNA ویکسین کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے تو کورونا وائرس پروٹین کا ایک حصہ اُس شخص کے جسم کے خلیوں کے اندر بن جاتا ہے۔ یہ پروٹین انٹی باڈیز پیدا کرنے کیلئے جسم کے مدافعتی نظام کے عمل کو حرکت میں لاتا ہے۔

جاپان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ mRNA ٹوٹ جائے گا اور چند منٹوں سے کئی روز کے دوران ہمارے جسم سے ہٹ جائے گا۔

وزارت نے یہ بھی کہا ہے کہ ویکسین میں موجود mRNA جینیاتی معلومات رکھنے والے ڈی این اے میں شامل نہیں ہو گی۔

انسانی جسم خود اپنا mRNA، ڈی این اے سے بناتا ہے، لیکن جینیاتی معلومات کا بہاؤ یکطرفہ ہونے کی وجہ سے mRNA سے ڈی این اے نہیں بنایا جا سکتا۔

چنانچہ ماہرین کا خیال ہے کہ جب کوئی فرد mRNA ویکسین کا ٹیکہ لگواتا ہے تو اس بات کوئی خطرہ نہیں ہوتا کہ mRNA کی جینیاتی معلومات مقررہ وقت سے زیادہ جسم میں باقی رہ جائے گی، یا یہ معلومات تولیدی مادے یا بیضے میں چلی جائے گی۔

یہ معلومات 9 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 494: چار سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے ویکسینیشن

4- سنگین ضمنی اثرات کے کیا خطرات ہیں؟

این ایچ کے، کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کا جواب دے رہا ہے۔ جاپان نے 6 ماہ سے 4 سال کی عمر تک کے بچوں کے لیے اکتوبر میں کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگانے کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ آج ہم ویکسینیشن کے سنگین ضمنی اثرات کے خطرے کا جائزہ لیں گے۔

ڈاکٹروں نے نوجوان مردوں میں کووِڈ ویکسینوں کے غیرمعمولی اور سنگین ضمنی اثرات کے طور پر، خصوصاً 13 سے 29 سال تک کی عمر کے مردوں میں دل کے پٹّھے کی سوزش یا دل کے گرد لپٹی جھلّی میں سوزش کی اطلاع دی ہے۔

اُنہوں نے 6 ماہ سے 4 سال کے درمیان کی عمر کے بچوں میں دل کی ایسی حالتوں جیسے خطرے سے متعلق تسلی بخش ڈیٹا پیش نہیں کیا ہے۔ تاہم، جاپان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اگست کے اواخر تک 6 ماہ سے 4 سال تک کی عمر کے اُن تقریباً چھ لاکھ بچوں میں ایسی حالتوں کی اطلاع نہیں دی گئی جنہوں نے فائزر ویکسین کے ٹیکے لگوائے تھے۔

جہاں تک جاپان کی بات ہے تو 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویکسین لگوانے والے فی 10 لاکھ بچوں میں دل کی تکالیف کے دو سے تین مشکوک متاثرین کی اطلاع دی گئی۔

ہم نے کِتا ساتو یونیورسٹی کے پروفیسر ناکایاما تیتسُواو سے اس بارے میں پوچھا، جو ویکسینوں کے ماہر ہیں۔ پروفیسر ناکایاما نے بتایا کہ 13 سے 29 سال کی عمر کے مردوں کے مقابلے میں نوعمر بچوں میں اس طرح کی دل کی تکالیف کا پیدا ہونے کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر تکلیف ہو بھی جائے تو بیشتر بچوں میں صرف ہلکی علامات ہوتی ہیں اور وہ مکمل طور پر ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

تاہم، پروفیسر ناکایاما نے کہا کہ اگر ویکسینیشن کروانے کے کئی روز کے اندر اندر ایسا لگے کہ بچوں کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے یا وہ سینے میں درد کی شکایت کریں تو یہ دونوں دل کے پٹّھے یا جھلّی میں سوزش کی مشتبہ علامات ہیں۔ ایسی صورت میں سرپرستوں کو چاہیے کہ اُنہیں فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس معائنے کیلئے لے جائیں۔

یہ معلومات 8 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 493: 4 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے کورونا ویکسینیشن
3- ضمنی اثرات

این ایچ کے، کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کا جواب دے رہا ہے۔ جاپان نے 6 ماہ سے 4 سال کی عمر تک کے بچوں کے لیے اکتوبر میں کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگانے کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ آج ہم ویکسینیشن کے ضمنی اثرات کا جائزہ لیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ضمنی اثرات ہلکے یا معتدل اور عارضی ہوتے ہیں چنانچہ سنگین حفاظتی خدشات کا سبب نہیں بنتے۔

فائزر نے اپنے طبی جائزوں میں، ٹیکے لگائے گئے بچوں پر ضمنی اثرات کا ایک ہفتے تک مشاہدہ کیا۔ اسے معلوم ہوا کہ دو سے چار سال کی عمر کے بچوں میں سے 5.1 فیصد کو اوسطاً تین ٹیکوں کے بعد 38 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ بخار ہوا۔ 26.6 فیصد نے تھکاوٹ، 2.7 فیصد نے قے اور 6.5 فیصد نے اسہال کی شکایت کی۔ چھ ماہ سے ایک سال تک کی عمر کے بچوں میں 7.1 فیصد کو 38 ڈگری یا اس سے زیادہ بخار ہوا۔ 21.5 فیصد میں بھوک میں کمی کی علامات ظاہر ہوئیں، اور 47.4 فیصد چڑچڑے ہو گئے اور ان کا مزاج خراب ہو گیا۔

نیگاتا یونیورسٹی کے پروفیسر سائیتو آکی ہِیکو، جو ویکسینوں کے ماہر ہیں، کہتے ہیں کہ اگرچہ درست موازنہ مشکل ہے، لیکن بڑوں کے مقابلے میں چھ ماہ سے چار سال کی عمر کے بچوں میں ضمنی اثرات اکثر کم ہوتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس عمر کے گروپ میں ضمنی اثرات کی وقوع پذیری کی شرح پانچ سے 11 سال یا 12 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کے مقابلے میں کم یا ان جیسی ہی ہوتی ہے۔

یہ معلومات 7 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 492: 4 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے ویکسینیشن
2- ویکسینیشن کی اثر پذیری

این ایچ کے، کورونا وائرس کے بارے میں سوالات کا جواب دے رہا ہے۔ جاپان نے 6 ماہ سے 4 سال کی عمر تک کے بچوں کے لیے اکتوبر میں کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگانے کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ آج ہم اس عمر کے گروپ میں ٹیکے لگانے کی تاثیر پر ایک نظر ڈالیں گے۔

امید کی جاتی ہے کہ چھوٹے بچوں میں علامات کو پیدا ہونے سے روکنے میں ویکسینیشن مؤثر ثابت ہو گی۔ ادویات ساز کمپنی فائزر نے 6 ماہ سے 4 سال کی عمر کے بچوں پر عملی طبی آزمائش کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب تین ٹیکے لگائے گئے تو ان بچوں کے جسم میں اینٹی باڈیز یعنی وائرس کے خلاف مدافعت کرنے والے اجسام کی سطح اتنی ہی ہو گئی جو ان سے بڑی عمر کے بچوں اور بالغان پر کی گئی عملی طبی آزمائش میں دیکھی گئی تھی۔

کمپنی نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور یورپ میں 6 ماہ سے 4 سال کی عمر کے 1,100 سے زیادہ بچوں پر بھی اُس وقت ایسی آزمائش کی جب اومی کرون کی متغیر قسم غالب تھی۔ بچوں کو ویکسین یا اسکی جگہ عضویاتی نمکین محلول والا بے ضرر مادہ دیا گیا۔

جب کمپنی نے انفیکشنز کی صورت حال کا موازنہ کیا تو پتا چلا کہ 17 جون 2022 تک کے نتائج کے مطابق ویکسین لگائے گئے 794 بچوں میں سے 13 متاثر ہوئے تھے، جبکہ بے ضرر محلول دیے گئے 351 بچوں میں سے 21 متاثر ہوئے تھے۔ اس کا کہنا ہے کہ تین خوراکوں کے بعد، یہ ویکسین علامات کو روکنے میں 73.2 فیصد مؤثر رہی۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچے اتنے نہیں تھے کہ اس حد تک تجزیہ کر سکیں کہ آیا ویکسین سنگین بیماری کو روک سکتی ہے۔

کِیتاساتو یونیورسٹی کے پروفیسرناکایاما تیتسُواو، جو ویکسین کے ماہر ہیں، وہ توقع ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ویکسین سنگین بیماری کو روکنے میں کافی حد تک کارگر ثابت ہو گی کیونکہ یہ علامات میں شدت پیدا ہونے سے روکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کے مطابق اعداد و شمار مختلف ہیں، لیکن 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں میں سنگین بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین 40 سے 80 فیصد موثر بتائی گئی ہے۔

یہ معلومات 4 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 491: 4 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے کورونا ویکسینیشن
1- وضاحت

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ 6 ماہ سے 4 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے کووڈ-19 کے خلاف ٹیکہ لگانے کی عوامی مہم اکتوبر میں شروع ہوئی۔ اس سلسلے میں، ہم اس بارے میں بات کریں گے کہ آیا چھوٹے بچوں کے لیے ویکسینیشن کارآمد ہے اور کیا اس کے مضر اثرات کا کوئی خطرہ ہے۔ آج ہم آپ کو ویکسینیشن کی تفصیلات بتائیں گے۔

ویکسین امریکی دوا ساز کمپنی فائزر نے تیار کی ہے۔ ویکسین کی فی خوراک مقدار بالغوں کی ویکسین کا دسواں حصہ اور 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی ہے۔ یہ وائرس کی روایتی قسم پر مبنی ہے۔ اس میں ذیلی قسم اومی کرون سے نکالے گئے اجزاء شامل نہیں ہیں۔

یہ ویکسین مفت ہے، اور اس کی لاگت مکمل طور پر سرکاری رقم سے پوری کی جائے گی۔

مکمل ویکسینیشن کے لیے ویکسین کی خوراک کے تین ٹیکے ضروری ہیں، پہلی خوراک کے بعد دوسری خوراک 3 ہفتوں میں، اور تیسری خوراک اس کے کم از کم 8 ہفتے بعد لگے گی۔

اصولی طور پر، بچوں کو مقامی کلینک وغیرہ، یا کچھ مقامی حکومتوں کی طرف سے قائم کردہ گروپ ویکسینیشن مرکز پر ویکسین لگوانے کے لیے ان کی رہائشی بلدیات کی جانب سے ویکسینیشن کا کوپن ملے گا۔

وزارت صحت، بچوں میں انفیکشن کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سنگین کیسز اور متغیر قسم اومی کرون کے پھیلاؤ کے دوران ویکسین کے مصدقہ طور پر مؤثر اور محفوظ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے، 6 ماہ سے 4 سال تک کی عمر کے بچوں کو ویکسین لگوانے کی تاکید کرتی ہے۔ ویکسین لگوانا لازمی نہیں اور نہ لگوانے کی صورت میں کوئی جرمانہ نہیں ہے۔ یہ فیصلہ کرنا بچوں اور ان کے والدین پر منحصر ہے کہ وہ ویکسین لگوائیں یا نہیں۔

یہ معلومات 3 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 490: انفلوئنزا اور کورونا وائرس کی وباء کا بیک وقت پھیلاؤ
7- دوہرے پھیلاؤسے کس طرح نبٹا جائے؟

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں ماہرین اس موسمِ سرما میں کورونا وائرس اور انفلوئنزا کے بیک وقت پھیلنے کے امکانات کے بارے میں تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔ آج کورونا وائرس اور انفلوئنزا کے بیک وقت پھیلاؤ پر ہمارے اس سلسلے کی ساتویں اور آخری قسط میں ہم اس امر کا جائزہ لیں گے کہ ایسے امکان کی روکتھام کیلئے ہمیں کس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔

کورونا وائرس اور انفلوئنزا ایسے وبائی امراض ہیں جو بڑی حد تک نظامِ تنفس کو متاثر کرتے ہیں اور ان کے انفیکشن کے راستے یکساں ہیں۔ لہٰذا ان دونوں بیماریوں کی روکتھام کیلئے اٹھائے جانے والےاقدامات میں زیادہ فرق نہیں ہے۔

سب سے پہلے تو یہ کہ آپ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اپنے ہاتھوں اور انگلیوں کو جراثیم کش محلول وغیرہ سے پاک کریں اور جب آپ بند جگہوں پر ہوں اور قریب میں موجود لوگوں سے بات کریں تو ایسے مواقع پر چہرے کا ماسک پہنیں۔ ریستورانوں اور مے خانوں جیسی جگہوں میں ہوا کی آمدورفت کا مکمل خیال رکھنا بھی بہت اہم ہے۔

دوسری بات یہ کہ جب آپ کو بخار یا دیگر علامات کا سامنا ہو تو آپ کو اسکول اور کام پر جانے سے گریز اور دوسرے لوگوں سے رابطہ کرنے سے بچنا چاہیے۔ مناسب آرام کرنا بھی بہت اہم ہے۔

ماہرین لوگوں پر زور دے رہے ہیں کہ کورونا وائرس اور انفلوئنزا کے بیک وقت پھیلنے کی صورت میں انفیکشنز کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کیلئے یہ بنیادی احتیاطی تدابیر کرنا جاری رکھیں۔

یہ معلومات 2 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 489: انفلوئنزا اور کورونا وائرس کی وباء کا بیک وقت پھیلاؤ
6- ویکسینیشن کیلئے زور

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں ماہرین کورونا وائرس اور انفلوئنزا کے بیک وقت پھیلنے کے امکانات کے بارے میں تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔ آج ہم اس امر کے بارے میں ماہرین کے خیالات آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں کہ ہم کورونا وائرس اور انفلوئنزا، دونوں کے بیک وقت پھیلاؤ کے خلاف ویکسینیشن کروا کر خود کو کیسے بچا سکتے ہیں۔

یہ بات مشہور ہے کہ کورونا وائرس اور انفلوئنزا، دونوں کی ویکسینیں انفیکشن سے بچاؤ میں مؤثر ہیں۔ ویکسین لگے شخص کے وائرس سے متاثر ہو جانے کی صورت میں بھی یہ ویکسینیں شدید تکالیف پیدا ہونے کے خطرے کو بڑی حد تک کم کر دیتی ہیں۔

توہوکُو یونیورسٹی کے پروفیسر اوساکا کین، وزارتِ صحت کے ماہرین کے پینل کے رُکن بھی ہیں۔ پروفیسر اوساکا نے بتایا ہے کہ کورونا وائرس اور انفلوئنزا کی ویکسینیں ایک ہی وقت میں لگوانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بعض طبّی ادارے دونوں ویکسینیں ایک ہی وقت میں لگانے کی پیشکش کر رہے ہیں اور یہ کہ اہم بات یہ ہے کہ موسمِ سرما آنے سے قبل ہی دونوں ویکسینیں لگوالی جائیں۔

پروفیسر اوساکا نے ہر کسی پر زور دیا ہے کہ کورونا وائرس ویکسین کا تیسرا یا چوتھا بُوسٹر ٹیکہ اور فُلو کا ٹیکہ لگوالیں۔

وزارتِ صحت کے پینل کے سربراہ واکِیتا تاکاجی نے کہا ہے کہ اومی کرون کی متغیر اقسام کو نشانہ بنانے والی کورونا وائرس ویکسینیں لگوانے اور اس کے ساتھ ساتھ انفلوئنزاکی ویکسین لگوانے میں تیزی سے پیشرفت کرنا انتہائی اہم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے ہم انفیکشنز کے پھیلاؤ کو کم سے کم کرسکتے ہیں اور شدید بیمار پڑ جانے والے مریضوں کی تعداد کو محدود کرسکتے ہیں۔

یہ معلومات یکم نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 488: انفلوئنزا اور کورونا وائرس کی وباء کا بیک وقت پھیلاؤ
5- شدید بخار کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں ماہرین کورونا وائرس اور انفلوئنزا کے بیک وقت پھیلنے کے امکانات کے بارے میں تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ ایسی دوہری وباء کے دوران شدید بخار کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

جاپانی حکومت نے 13 اکتوبر کو سفارشات پیش کی تھیں کہ مثلاً جب بخار وغیرہ کے باعث آپ طبیعت ٹھیک محسوس نہ کریں تو آپ کو کیا کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں بخار کا علاج معالجہ کرنے والی کلینک یا گھریلو ڈاکٹر سے فوری رابطہ خصوصاً ان لوگوں کے لیے تجویز کیا جاتا ہے جن میں سنگین علامات پیدا ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، جیسا کہ 12 سال یا اس سے کم عمر کے بچے، حاملہ خواتین، دیرینہ امراض میں مبتلا لوگ اور معمر افراد۔ ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ کورونا وائرس اور انفلوئنزا کے ٹیسٹ کروائیں اور پھر نتائج کے لحاظ سے ضروری ادویات کے نسخے حاصل کرنے سمیت مناسب علاج معالجہ کروائیں۔

تاہم، جن لوگوں میں شدید تکالیف پیدا ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے، جیسا کہ نوجوان افراد، انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ اینٹیجن ٹیسٹ کٹس کا استعمال کرتے ہوئے تصدیق کریں کہ وہ گھر یا کسی اور جگہ پر کورونا وائرس سے متاثر تو نہیں ہوئے ہیں۔ اگر نتیجہ منفی ہے، تو ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ فون یا آن لائن خدمات کے ذریعے یا اپنے گھریلو ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور اگر ضروری ہو تو فُلو کی روکتھام کی ادویات کا نسخہ حاصل کریں۔

ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آنے والے افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ ہیلتھ فالو اپ مرکز میں اس کی اطلاع دیں اور گھر پر ہی آرام کریں۔ لیکن اگر آپ کی علامات شدید ہیں اور آپ ڈاکٹر سے ملنا چاہتے ہیں، تو آپ کو بخار کا علاج معالجہ کرنے والی کلینک یا اپنے گھریلو معالج کے پاس جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

ماہرین بخار کے توڑ کی ادویات اور ٹیسٹ کٹس تیار رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ آپ خود ہی بخار کا علاج کر سکیں۔

یہ معلومات 31 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 487: انفلوئنزا اور کورونا وائرس کی وباء کا بیک وقت پھیلاؤ
4- کس قسم کی صورتحال کی توقع کی جا سکتی ہے؟

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں، کورونا وائرس اور انفلوئنزا کے بیک وقت پھیلنے کے امکانات پر خدشات اُبھر رہے ہیں۔ آج کی قسط میں، ہم اس پہلو کا جائزہ لیں گے کہ ایسا ہونے کے نتیجے میں کس قسم کی صورتحال کی توقع کی جا سکتی ہے۔

جاپان میں اس سال جولائی سے ستمبر تک انفیکشن کی ساتویں لہر تھی۔ یہ لہر اب تک کی سب سے بڑی تھی، جس میں تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ افراد متاثر ہوئے اور تقریباً 13 ہزار 500 اموات ہوئیں۔ دریں اثنا، قومی انسٹیٹیوٹ برائے متعدی امراض کا تخمینہ ہے کہ 2018 کے موسم خزاں سے 2019 کے موسم بہار تک انفلوئنزا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ رہی تھی۔

کورونا وائرس انفیکشن کی ساتویں لہر کے دوران، بخار میں مبتلا لوگوں کے لیے بیرونی مریضوں کی سہولیات والے طبی اداروں میں مریضوں کی بھر مار ہو گئی تھی۔ اس سے لوگوں کے لیے طبی اداروں اور صحت عامہ کے مراکز سے رابطہ کرنا مشکل ہو گیا۔ کئی علاقوں میں مریضوں کو ہسپتالوں میں داخل کروانا مشکل ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ شدید بیمار ہونے کے خطرے سے دوچار لوگوں کو ہسپتالوں میں پہنچنے کے لیے ہنگامی ٹرانسپورٹ کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر دوہری وباء پھیلتی ہے تو ایسی ہی یا اس سے بھی بدتر صورتحال جنم لے سکتی ہے۔

کووِڈ-19 اور فُلو ایک جیسی علامات ظاہر کرنے والے امراض ہیں جیسے تیز بخار، کھانسی، گلے کی سوزش اور جوڑوں کا درد۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ مریضوں کا معائنہ کیے بغیر کسی ایک کی تشخیص کرنا مشکل ہے۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ بیرونی مریضوں کی سہولیات میں تشخیص کے لیے آنے والے بخار کے مریضوں کی بھیڑ لگ جائے گی اور طبی خدمات دباؤ میں آ جائیں گی۔

توہو یونیورسٹی کے پروفیسر تاتیدا کازُوہیرو حکومت کے کورونا وائرس مشاورتی پینل کے رکن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکام کو اُس سے بھی بدترین صورت حال کی توقع رکھنی چاہیے، جب ساتویں لہر کے دوران آؤٹ پیشنٹ کی سہولیات اس سے کہیں زیادہ مغلوب ہو گئی تھیں۔

یہ معلومات 28 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 486: انفلوئنزا اور کورونا وائرس کی وباء کا بیک وقت پھیلاؤ
3- دونوں وباؤں کے ایک ساتھ پھیلاؤ کا زیادہ امکان کیوں ہے؟

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس اور انفلوئنزا کی وباء کے ایک ساتھ پھیلاؤ کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آج ہم اس کی وجوہات کی وضاحت کریں گے۔

جاپان میں تین سالوں میں پہلی بار فُلو پھیلنے کی پیشگوئی کرنے والے متعدی امراض کے ماہرین درج ذیل وجوہات بتاتے ہیں۔

سب سے پہلے، امریکہ، یورپ اور بہت سے دوسرے ممالک نے 2022 کے موسم بہار سے موسم گرما کے دوران کووِڈ-19 کی پابندیوں کو دوبارہ نرم کرنا، اور آمد و رفت کو کھولنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سفر میں تیزی سے تحریک پیدا ہوئی ہے۔

چونکہ جاپان نے بھی اکتوبر سے ملک میں داخلے کی پابندیوں میں نمایاں طور پر نرمی کر دی ہے، اس لیے لوگوں کے بڑھتے ہوئے بہاؤ سے ممکنہ طور پر کورونا وائرس اور انفلوئنزا دونوں کے پھیلاؤ میں آسانی کا زیادہ امکان ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ جاپان میں گزشتہ دو موسموں میں فُلو کی کوئی بڑی وباء نہیں دیکھی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں میں اس کے وائرس کے خلاف قوت مدافعت نہیں ہے۔

ماہرین کی طرف سے جاریکردہ ایک دستاویز میں خبردار کیا گیا ہے کہ لوگوں میں اینٹی باڈی کی کم سطح انفلوئنزا کی سنگین وباء کا باعث بن سکتی ہے۔

ان وجوہات کی بناء پر انفلوئنزا کووڈ-19 کی ممکنہ آٹھویں لہر کے ساتھ مل کر، اس موسم سرما میں ملک میں شدید مسئلے کا باعث بن سکتا ہے۔

دریں اثنا، جاپان میں لوگوں کے باہمی رابطے مکمل طور پر وباء سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں آئے ہیں۔ اس لیے یہ اب بھی ممکن ہے کہ حالات اتنے خراب نہ ہوں جتنے پچھلے کچھ موسموں میں تھے۔

یہ معلومات 27 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 485: انفلوئنزا اور کورونا وائرس کی وباء کا بیک وقت پھیلاؤ
2- گزشتہ دو سالوں کی صورتحال

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ متعدی بیماریوں کے ماہرین جاپان میں رواں موسم سرما کے دوران کورونا وائرس اور انفلوئنزا کی وباؤں کے ممکنہ بیک وقت پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

کورونا وائرس کی عالمی وباء کے آغاز کے بعد گزشتہ دو سالوں میں موسم سرما کے دوران کووِڈ اور انفلوئنزا کے بیک وقت پھیلاؤ کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ آج ہم اس کے اسباب کا جائزہ لیں گے۔

کورونا وائرس کی عالمی وباء سے قبل جاپان میں ہر موسم سرما میں موسمی انفلوئنزا کی وباء پھیلتی رہی ہے۔ محکمۂ صحت کے حکام کے تخمینے کے مطابق ہر سال اس وباء کے باعث ایک سے دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

لیکن کورونا وائرس کا پھیلاؤ شروع ہونے کے بعد انفلوئنزا سے متاثرہ افراد کی تعداد تیزی سے کم ہو گئی ہے۔ جاپان کے قومی انسٹیٹیوٹ برائے متعدی امراض کے مطابق، ملک بھر کے 5 ہزار کے قریب طبی اداروں کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2020 کے موسم سرما سے 2021 کے اوائل تک یہ تعداد تقریباً 14 ہزار اور اگلے موسم سرما میں 3 ہزار کے قریب تھی۔

انفلوئنزا جاپان میں موسم سرما میں پھیلتا ہے، لیکن دراصل انتہائی گنجان آباد گرم مرطوب یا نیم گرم مرطوب موسم والے جنوب مشرقی ایشیائی اور افریقی ملکوں میں یہ سارا سال نظر آتا ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ وائرس لوگوں کی نقل و حرکت کے ذریعے سرحد پار دوسرے ممالک منتقل ہوتا ہے۔ موسم سرما کے دوران جاپان کے موسمی حالات یہاں وائرس کے بہ آسانی پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ غالباً سرحدی کنٹرول اور سماجی فاصلے جیسی کورونا وائرس کی احتیاطی پابندیوں کے باعث انفلوئنزا گزشتہ دو سالوں کے موسم سرما میں نہیں پھیل سکا تھا۔

یہ معلومات 26 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 484: انفلوئنزا اور کورونا وائرس کی وباؤں کا بیک وقت پھیلاؤ
1- ماہرین کی جانب سے انتہائی امکان کا انتباہ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں رواں سال کے موسمِ گرما سے کورونا وائرس کے نئے یومیہ متاثرین کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ کورونا وائرس کے خلاف سرحدی پابندیاں 11 اکتوبر کو نمایاں طور پر کم کر دی گئی ہیں۔ ملک بھر میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے حکومت کا ایک سفری اعانتی منصوبہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ تاہم، وبائی امراض کے ماہرین اس موسمِ سرما کے دوران کورونا وائرس اور انفلوئنزا کے ایک ساتھ ممکنہ پھیلاؤ سے متعلق تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم اس امر پر آپ کی خدمت میں معلومات پیش کریں گے کہ کس قسم کی صورتحال کا قیاس کیا گیا ہے، اس پر کس طرح قابو پایا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ صورتحال سے نبٹنے کیلئے حکومت کے اقدامات کیا ہوں گے۔

کورونا وائرس کی عالمی وباء کے آغاز کے بعد سے گزشتہ دو سالوں کے موسمِ سرما کے دوران کووِڈ اور انفلوئنزا کی وباؤں کے ایک ساتھ پھیلاؤ کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ سال 2022ء اور پچھلے سالوں کے موسم سرما میں کیا فرق ہے؟

عالمی وباء پر قابو پانے کی کوششوں کی قیادت کرنے والے کئی ماہرین نے وزارت صحت کے ماہرین کے پینل کو انفیکشن کے آئندہ امکانات سے متعلق ایک مشترکہ دستاویز 5 اکتوبر کو جمع کرائی۔ اس دستاویز میں اکتوبر اور مارچ 2023ء کے درمیان 6 ماہ کے عرصے میں کورونا وائرس انفیکشن پھیلنے اور ساتھ ہی موسمیاتی انفلوئنزا پھوٹ پڑنے کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اس کے جواب میں، ماہرین کے پینل نے نشاندہی کی کہ انہیں ایسے ممکنہ بیک وقت پھیلاؤ سے نبٹنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

حکومت کے کورونا وائرس مشاورتی پینل نے انفلوئنزا اور کورونا وائرس، دونوں وباؤں کے پھیلاؤ سے نبٹنے کی تیاری کی غرض سے 13 اکتوبر کو اقدامات کا ایک مجموعہ مرتب کیا ہے۔ یہ اقدامات اس مفروضے کی بنیاد پر ترتیب دیے گئے ہیں کہ کورونا وائرس متاثرین کی یومیہ تعداد 4 لاکھ 50 ہزار ہو گی اور انفلوئنزا میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد بڑھکر یومیہ 3 لاکھ ہو جائے گی، اس طرح دونوں وباؤں کے متاثرین کی بلند ترین مجموعی یومیہ تعداد 7 لاکھ 50 ہزار تک ہو گی۔

یہ معلومات 25 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 483: اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام کو ہدف بنانے والی دو قسم کی ویکسینیں
3- ٹیکہ لگانے کا جدول

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان نے اکتوبر میں اپنی آبادی کو کورونا وائرس کی ذیلی متغیر قسم اومی کرون بی اے 5 کو ہدف بنانے والی ویکسین کا ٹیکہ لگانا شروع کیا۔ اس کے ساتھ ہی لوگوں کو بی اے 1 ذیلی متغیر قسم کو ہدف بنانے والی ویکسینیں بھی لگائی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں، ہم آپ کے لیے ان دو اقسام کی ویکسین کا ٹیکہ لگانے کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔
آج کی تیسری اور آخری قسط میں ہم ویکسین لگانے کے شیڈول یا جدول کا جائزہ لیں گے۔

12 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ایسے تمام لوگ جو کم از کم تین ماہ قبل روایتی قسم کی ویکسین دو بار لگوا چکے ہیں، وہ اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام کو ہدف بناتے والی یہ ویکسین لگوانے کے مجاز ہیں۔

وزارت صحت کا تخمینہ ہے کہ اس سال کے دوران، تقریباً ایک کروڑ افراد نئی قسم کی ویکسین لگوانے کے مستحق ہوں گے۔

وزارت، نومبر کے اواخر تک ملک بھر کی بلدیات کو BA.1 اور BA.5 کے لیے فائزر ویکسین اور BA.1 کے لیے موڈرنا ویکسین پر مشتمل کُل تقریباً 9 کروڑ 90 لاکھ خوراکیں فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس کے علاوہ، BA.1 کے لیے موڈرنا ویکسین کی 50 لاکھ خوراکیں کام کی جگہ پر لگانے کے لیے محفوظ کر لی گئی ہیں۔ یہ سال کے اواخر اور نئے سال کی تعطیلات کے دوران، انفیکشن کی آٹھویں لہر کے ممکنہ حملے کی تیاری کے طور پر ہے۔ وزارت کے مطابق، وہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے خواہشمند تمام افراد کو لازماً ویکسین لگ جائے۔

یہ معلومات 24 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 482: اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام کو نشانہ بنانے والی کورونا وائرس کی دو ویکسینیں
2- کونسی ویکسین زیادہ مؤثر ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان نے اومی کرون کی ذیلی متغیر قسم BA.5 کو نشانہ بنانے والی کورونا وائرس ویکسین کے ٹیکے اکتوبر سے عوام کو لگانا شروع کر دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ذیلی متغیر قسم BA.1 کو نشانہ بنانے والی ویکسین کے ٹیکے بھی لوگوں کو لگائے جا رہے ہیں۔ اس حالیہ سلسلے میں ان دونوں اقسام کی ویکسینوں کے ٹیکے لگانے کے بارے میں معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ BA.5 یا BA.1 کو نشانہ بنانے والی ویکسینوں میں سے کونسی ویکسین لگوانی چاہیے؟ وزارت صحت کے مطابق، دونوں ویکسینوں میں اومی کرون کی ذیلی متغیر قسم کے اجزاء موجود ہیں اور گزشتہ ویکسینوں کے مقابلے میں دونوں ان ذیلی متغیر اقسام کے خلاف کہیں زیادہ مؤثر ہیں۔ وزارت کے خیال میں تازہ ترین ویکسینیں مستقبل کی متغیر اقسام کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہوں گی۔ وزارت نے مزید کہا ہے کہ ان دونوں ویکسینوں کے مؤثر ہونے کے بارے میں موازنے کے لیے فی الحال اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، لہٰذا لوگوں کو جلد از جلد دونوں میں سے کوئی بھی دستیاب ویکسین لگوا لینی چاہیے۔

کِتاساتو یونیورسٹی کے پروفیسر اور ویکسین کے ماہر ناکایاما تیتسُواو نے کہا ہے، ’’حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ پھیلنے والی ذیلی متغیر قسم BA.5 سے انفیکشن کی روکتھام کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد میں تکلیف کی علامات نمودار ہونے سے روکنے کے لیے تازہ ترین ویکسینیں زیادہ مؤثر ہیں۔ ذیلی متغیر اقسام BA.5 اور BA.1 کے درمیان فرق اتنا نمایاں نہیں ہے، جتنا عام وائرس اور اس کی گزشتہ متغیر اقسام کے درمیان ہے۔ ذیلی متغیر قسم BA.1 کو نشانہ بنانے والی ویکسین بھی تکلیف میں شدت پیدا ہونے سے روکنے میں اُتنی ہی مؤثر ثابت ہو گی۔ BA.1 ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے لیے ڈاکٹر سے پہلے ہی وقت لینے والوں کو میرے خیال میں اسی ویکسین کا ٹیکہ لگوا لینا چاہیے۔

یہ معلومات 21 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 481: اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام کو ہدف بنانے والی دو قسم کی ویکسینیں
1- کیا ہم انتخاب کر سکتے ہیں؟

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان نے اکتوبر میں اپنی آبادی کو کورونا وائرس کی اومی کرون کی ذیلی متغیر قسم بی اے 5 کو ہدف بنانے والی ویکسین کا ٹیکہ لگانا شروع کیا۔ اس کے ساتھ ہی، بی اے 1 ذیلی قسم کو ہدف بنانے والی ویکسین بھی لگائی جا رہی ہے۔
اس سلسلے میں، ہم آپ کے لیے ان دو اقسام کی ویکسینوں کا ٹیکہ لگانے کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے۔

جاپان کی وزارت صحت ویکسین لگانے کا بندوبست کرنے والی مقامی حکومتوں پر زور دے رہی ہے کہ پہلے ختم ہونے کی تاریخ والی ویکسین استعمال کریں۔ اس کا مطلب ہے، جب ذیلی متغیر قسم 5BA. کو ہدف بنانے والی ویکسین کو، ویکسینیشن کے مقام پر پہنچایا جاتا ہے جبکہ اُس مقام پر ابھی BA.1 کو ہدف بنانے والی ویکسین کا ذخیرہ موجود ہو، تو ویکسین لگانے والے ڈاکٹروں سے کہا جاتا ہے کہ پہلے ختم ہونے والی تاریخ والی آخری ویکسین پہلے استعمال کریں، تاکہ ویکسین ضائع نہ ہوں۔

اب سوال یہ ہے کہ آیا ویکسین لگوانے والے افراد اُس ویکسین کا انتخاب کر سکتے ہیں، جو وہ لگوانا چاہتے ہیں۔

وزارت صحت نے مقامی حکومتوں کو بتایا ہے کہ یہ ان پر منحصر ہے کہ آیا وہ ٹیکے لگوانے والے لوگوں کو بتائیں یا نہیں کہ وہ کون سی قسم کی ویکسین لگوانے جا رہے ہیں۔
تاہم، وزارت اس بات پر زور دیتی ہے کہ، اس کے ویکسینیشن پلان کے مطابق، ہر مقامی حکومت کو رہائشیوں کو ٹیکہ لگانے کے لیے BA.1 اور BA.5 کو ہدف بنانے والی ویکسین کی مجموعی کافی مقدار ملے گی۔

یہ معلومات 20 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 480: کورونا وائرس انفیکشن کی اطلاع دینے کا سہل بنایا گیا نظام
7 ۔ حکومت کا مؤقف

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس متاثرین کی اطلاع دینے کے سہل بنائے گئے نظام کا 26 ستمبر سے جاپان بھر میں اطلاق ہو گیا ہے۔

اس حالیہ سلسلے میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ اطلاع دینے کا نظام کس طرح تبدیل ہوا ہے اور اس میں کون سے خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔ آج ہم نظام میں تبدیلی کے بارے میں حکومت کے مؤقف کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔

جاپان کے وزیر صحت کاتو کاتسُونوبُو نے کورونا وائرس متاثرین کی اطلاع دینے کے سہل بنائے گئے نظام کی خوبیوں اور خامیوں پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ اس نظام کو دیگر کے مقابلے میں جلد متعارف کروانے والی بلدیاتی حکومتوں نے اپنے طبی دیکھ بھال کے نظام پر بوجھ کم ہونے کی اطلاع دی ہے۔ لیکن دوسری جانب، نئے نظام کے باعث ٹیسٹ میں کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے افراد کی آئندہ صحت کا احوال اور اتا پتہ وغیرہ معلوم کرنے کے لیے معلومات کا ریکارڈ رکھنے کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔ ان مریضوں کی حالت پہلے سے زیادہ خراب ہو جانے کی صورت میں، مناسب علاج معالجے یا انہیں ہسپتال میں داخل کرنے کے انتظامات کرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے‘‘۔ جناب کاتو نے مزید کہا کہ وزارت، بلدیاتی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور کورونا وائرس کے خلاف اقدامات پر بلارکاوٹ عملدرآمد کے لیے ضرورت پڑنے پر اس نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔

کورونا وائرس سے نبٹنے کے اقدامات کے نگران وزیر یاماگی وا دائی شِیرو نے کہا کہ موسم خزاں اور موسم سرما کے دوران جاپان میں انفیکشنز کی آٹھویں لہر آ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کورونا وائرس اور انفلوائنزا وائرس سے بیک وقت انفیکشن ہونے کے کیسز بھی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ایسی صورتحال پیدا ہونے کی صورت میں اس سے مناسب انداز میں نبٹنے کے لیے احتیاط سے تیاری کرنے کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا، ’’ضروری اقدامات پر تفصیلی بحث مباحثہ کروانا اور ٹھوس منصوبہ تیار کرنا ضروری ہے‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرتے وقت ماہرین سے مشورہ کیا جائے گا اور اس سے معاشرے پر پڑنے والے اثرات پر غور کیا جائے گا۔

یہ معلومات 7 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 479: کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاع دینے کا آسان کردہ نظام
6- نئے نظام سے متعلق خدشات

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس متاثرین کی اطلاع دینے کے سہل بنائے گئے نظام کا 26 ستمبر سے جاپان بھر میں اطلاق ہو گیا ہے۔

اس حالیہ سلسلے میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ اطلاع دینے کا نظام کس طرح تبدیل ہوا ہے اور اس میں کون سے خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔ آج ہم ایک ماہر کے اس خدشے پر توجہ مرکوز کریں گے کہ اس تبدیلی سے انفیکشن کی صورتحال کا تفصیلی تجزیہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔

تبدیلی سے پہلے، جن افراد کا وائرس ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا ہو، ان سب لوگوں کے پتے، ان میں علامات پیدا ہونے کی تاریخ اور ان کے انفیکشن کے ممکنہ راستوں سمیت، تمام تفصیلی معلومات کا وزارت صحت کے HER-SYS ڈیٹا بیس پر اندراج کیا جاتا تھا۔ ماہرین تفصیلات کا تجزیہ کرنے کے لیے اس ڈیٹا کا استعمال کرتے تھے، مثلاً متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد کہاں ہے، انفیکشن کے عام راستے، اور کس علاقے میں وائرس کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ حکومت اس تجزیے کی بنیاد پر کورونا وائرس کے اپنے اقدامات مرتب کرتی رہی ہے۔

لیکن ان پریفیکچروں میں جنہوں نے ملک گیر عمل درآمد سے قبل اطلاع دینے کا سہل بنایا گیا نظام متعارف کروایا، ڈیٹا بیس میں اندراج کیے جانے والے کورونا وائرس متاثرین کی تعداد ان لوگوں کی اصل تعداد سے بہت کم ہو گئی ہے جن کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا تھا۔

کیوتو یونیورسٹی کے پروفیسر نِشی اُورا ہِروشی، کورونا وائرس کے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوری طور پر اُس شرح کا تعین کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک شخص کے وائرس سے کتنے مزید افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب اس بات کا تجزیہ نہیں کر سکیں گے کہ انسدادِ انفیکشن اقدامات کی فعالیت اور لوگوں کی نقل و حرکت میں ہونے والی تبدیلیاں انفیکشن کی صورت حال کو کیسے متاثر کرتی ہیں۔

پروفیسر نِشی اُورا یہ بھی بتاتے ہیں کہ اب متاثرہ افراد کے ویکسینیشن کے ریکارڈ کو سہل کردہ نظام کے تحت رپورٹ نہیں کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ویکسین کی افادیت اور وائرس کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والے لوگوں کے تناسب کا مطالعہ کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے باعث ویکسین کے بوسٹر شاٹ لگانے کے مناسب وقت کا تعین بھی متاثر ہوگا۔

پروفیسر نِشی اُورا کا کہنا ہے کہ کثیر پرتوں والا ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اس پر بات چیت کی ضرورت ہے کہ اس سے کس قسم کے خطرے کی تشخیص ممکن ہے۔

یہ معلومات 6 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 478: کورونا وائرس انفیکشن کی اطلاع دینے کا سہل بنایا گیا نظام
5 ۔ عالمی وباء کے خلاف حکومتی اقدامات میں رد و بدل

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس متاثرین کی اطلاع دینے کے سہل بنائے گئے نظام کا 26 ستمبر سے جاپان بھر میں اطلاق ہو گیا ہے۔

اس حالیہ سلسلے میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ اطلاع دینے کا نظام کس طرح تبدیل ہوا ہے اور اس میں کون سے خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔ آج ہم اس عالمی وباء کے خلاف حکومت کے اقدامات میں وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیں گے۔

حکومت جاپان نے وائرس کی زیادہ پھیلنے والی متغیر اقسام اور ان کی خصوصیات میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ویکسین کے ٹیکے لگانے میں پیشرفت کو مدنظر رکھتے ہوئے کورونا وائرس کی عالمی وباء کے خلاف پالیسی میں رد و بدل کیا ہے۔ مثال کے طور پر حکومت نے حالات تبدیل ہونے پر، انفیکشن سے ظاہری طور پر متاثر نظر نہ آنے والے مریضوں کو گھر پر رہتے ہوئے روبصحت ہونے کی اجازت دینے اور لوگوں کی گھر سے باہر نقل و حرکت اور کاروباری سرگرمیوں پر پابندیوں کی پالیسی پر نظرثانی کی ہے۔

جاپان میں کورونا وائرس کی دیگر اقسام کے مقابلے میں متغیر قسم اومی کرون کے زیادہ پھیلنے کے دوران حکومت نے نئی پابندیاں عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ ماہرین کو معلوم ہوا تھا کہ وائرس کی متغیر قسم کی وجہ سے نوجوانوں میں انفیکشن کے شدت اختیار کرنے کا خطرہ کم ہے۔ ماہرین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ انفیکشن شراب خانوں اور ریستورانوں میں نہیں بلکہ بنیادی طور پر گھروں، اسکولوں اور معمر افراد کے مراکز میں پھیل رہا تھا۔ لہٰذا حکومت نے سماجی اور معاشی سرگرمیوں پر کوئی قدغن عائد کیے بغیر انفیکشنز کے مزید پھیلاؤ کا سدباب کرنے کا راستہ اختیار کیا۔

اس کے بعد سے جاپان میں وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کو نشانہ بنانے والی ویکسین کے ٹیکے لگائے جا رہے ہیں اور دنیا بھر کے کئی ملکوں نے سماجی اور معاشی سرگرمیوں کو وباء پھیلنے سے پہلے کی سطح تک بتدریج لے جانا شروع کر دیا ہے۔ ان حالات کے باعث، حکومت نے انفیکشن کی اطلاع دینے کے نظام کو سہل بنانے، معمر اور انتہائی خطرے سے دوچار گروپ سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کے لیے پہلے سے زیادہ طبی وسائل مہیا کرنے، مریضوں کے قرنطینہ کی مدت کم کرنے اور سمندر پار سے آنے والوں پر جاپان داخلے کی پابندیاں کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت نے انفیکشن میں ایک بار پھر اضافہ ہونے پر بھی، ملک کے طبی اور عوامی صحت کے اداروں میں خدمات کی فراہمی جاری رہنا یقینی بناتے ہوئے، سماجی اور معاشی سرگرمیوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ تاہم، ماہرین کی آراء اور انفیکشن کی عالمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، کورونا وائرس کے ساتھ گزر بسر والے اس دور میں انفیکشن کے خلاف پالیسی پر نظرثانی کی جاتی رہے گی۔

یہ معلومات 5 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 477: کورونا وائرس انفیکشن کی اطلاع دینے کا سہل بنایا گیا نظام
4- عوامی صحت کے مراکز پر بوجھ

این ایچ کے، کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی اطلاع دینے کے سہل بنائے گئے نظام کا 26 ستمبر سے اطلاق ہو گیا ہے۔

حالیہ سلسلے میں، ہم آپ کو یہ بتائیں گے کہ اطلاع دینے کا نظام کس طرح تبدیل ہوا ہے اور کیا خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔آج ہم ٹوکیو میں عوامی صحت کے ایک مرکز کے سربراہ سے اس سوال پر گفتگو پیش کر رہے ہیں کہ آیا اس نئے نظام سے طبّی اداروں اور عوامی صحت مراکز کے بوجھ میں کمی ہو گی یا نہیں۔

مائیدا ہِدے او ٹوکیو کے کِتا وارڈ میں عوامی صحت مرکز کے سربراہ ہیں۔ وہ کورونا وائرس سے متعلق حکومت کے مقرر کردہ ماہرین کے پینل کے رکن بھی ہیں۔

اُنہوں نے بتایا کہ انفیکشنز کی ساتویں لہر میں اتنی زیادہ تعداد میں لوگ وائرس سے متاثر ہوئے کہ ہر ایک کو ڈاکٹر سے مشورے کا موقع نہ مل سکا۔اُن کا کہنا ہے کہ اطلاع دینے کے نظام کو سہل بنانے کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ معمر افراد اور دیرینہ عوارض میں مبتلا لوگ زیادہ آسانی کے ساتھ کلینک اور ہسپتال جا سکیں گے۔

جہاں تک عوامی صحت کے مراکز پر بوجھ کی بات ہے تو جناب مائیدا نے کہا کہ آسان کام کا حجم بڑے پیمانے پر کم ہو جائے گا۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اب معمولی تکالیف محسوس کرنے والوں کی تفصیلات درج نہیں کی جاتیں، لہٰذا کسی کی حالت خراب ہونے اور اسے مدد کی ضرورت پیش آنے کی صورت میں مرکز کو تمام تفصیلات معلوم کرنے کا پیچیدہ کام سرانجام دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ کام کا بوجھ حقیقتاً کم ہو گیا ہے۔

سہل کردہ نظام کے تحت، ایسے افراد جن کی طبیعت سے متعلق تفصیلی اطلاع نہیں دی گئی، وہ بیماری کے بعد کی دیکھ بھال کے مراکز میں اندراج کروا سکتے ہیں۔ اگر گھر پر رہنے کے دوران اُن کی طبیعت مزید خراب ہو جائے تو وہ ایک مرکز سے رابطہ اور مشاورت کے بعد کسی طبّی ادارے میں بھیجے جا سکتے ہیں۔

ٹوکیو میں، 64 سال یا اس سے کم عمر ایسے افراد جن کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہو، وہ بھی مدد حاصل کرنے کیلئے بلدیاتی حکومت کے نظام میں آن لائن اپنا اندراج کروا سکتے ہیں۔

لیکن کِتا وارڈ کے جناب مائیدا کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ جنہیں آن لائن رابطہ کرنے میں دشواری ہو انہیں طبّی اداروں یا بخار کا علاج کرنے والے کلینک سے رابطہ کرنے اور وہاں جانے میں پس و پیش سے کام نہیں لینا چاہیے۔

یہ معلومات 4 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 476: کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاع دینے کا سہل بنایا گیا نظام
3- ہلکی علامات والے مریضوں کا انتظام

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان بھر میں کورونا وائرس متاثرین کی اطلاع دینے کے سہل بنائے گئے نظام کا 26 ستمبر سے اطلاق ہو گیا ہے۔

اس حالیہ سلسلے میں، ہم آپ کو یہ بتائیں گے کہ اطلاع دینے کا نظام کس طرح تبدیل ہوا اور کیا خدشات لاحق ہوسکتے ہیں۔ آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ حکام، ہلکی یا بغیر علامات والے متاثرین سے کس طرح باخبر رہنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

آسان کردہ اس نظام کے تحت، ہلکی یا بغیر علامات والے لوگ جن کے خود کیے گئے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا ہو وہ ’ہیلتھ فالو اپ سینٹرز‘ میں اندراج کروا سکیں گے اور کسی طبی ادارے سے مشورہ کیے بغیر گھر پر ہی بحالیٔ صحت شروع کر سکیں گے۔

وہ اپنے گھروں سے دور رہائش یا کھانے کی ترسیل جیسی مدد حاصل کر سکیں گے۔ اگر گھر میں بحالیٔ صحت کے دوران ان کی حالت بگڑ جاتی ہے تو وہ فالو اپ سینٹرز سے رابطہ کر سکیں گے یا ان سے مشورہ کر سکیں گے۔ ایسی صورت میں انہیں کسی طبی ادارے میں بھیج دیا جائے گا۔

چونکہ صحت عامہ کے مراکز اب پہلے کی طرح لوگوں کے حالات کی نگرانی نہیں کر سکیں گے، اس لیے حکام گھر میں مریضوں کی حالت بگڑ جانے پر طبی اداروں سے ان کا تیزی کے ساتھ رابطہ کروانے کی کوششیں کریں گے۔

حکام کو فالو اپ مراکز اور دیگر امدادی مراکز کو معلومات کی فراہمی اور انفیکشن سے بچاؤ کے اقدامات کو فروغ دینے، اور لوگوں کو خود سے الگ تھلگ رہنے کے لیے کہنے جیسے چیلنج کا سامنا ہے۔

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ تفصیلی اطلاع دینے کی ضروریات کو کم کرنے سے کلسٹرز یا اجتماعی طور پر متاثر ہونے کی شناخت مشکل ہو جائے گی۔ وزارت پریفیکچروں پر زور دے رہی ہے کہ وہ معمر لوگوں اور دیگر زیادہ خطرے والے افراد کی دیکھ بھال کے مراکز اور بلند خطرے والے دیگر اداروں میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کرتے رہیں۔

یہ معلومات 3 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 475: کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاع دینے کا سہل بنایا گیا نظام
2- مریضوں کی تعداد معلوم کرنے کا طریقہ

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کے مریضوں کی اطلاع دینے کا سہل بنایا گیا نظام 26 ستمبر کو لاگو ہو گیا ہے۔

اس حالیہ سلسلے میں، ہم آپ کو بتائیں گے کہ اطلاع دینے کا نظام کس طرح تبدیل ہوا ہے اور اس میں کون سے خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔ آج ہم جائزہ لیں گے کہ حکام نئے متاثرہ افراد کی تعداد معلوم کرنے کے لیے کیا منصوبہ رکھتے ہیں۔

حکومت جاپان نے کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے پھیلاؤ کے دوران طبی اداروں کا بوجھ کرنے اور معمر اور انتہائی خطرے سے دوچار مریضوں کی طبی دیکھ بھال کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرنے کی خاطر، کورونا وائرس متاثرین کی اطلاع دینے کا سہل کردہ نظام متعارف کروایا ہے۔

اب تک طبی ادارے تمام مریضوں کے نام، اُن میں ظاہر ہونے والی علامات اور ان سے رابطے کی معلومات جیسی تمام تفصیلات کی اطلاع دینے کے لیے’’HER-SYS‘‘ کہلائے جانے والا حکومتی نظام استعمال کرتے تھے۔ نئے نظام کے تحت اداروں کو صرف 65 سال اور اس سے زائد عمر کے ساتھ ساتھ ہسپتال داخل ہونے کے مستحق انتہائی خطرے سے دوچار مریضوں کے بارے میں اطلاع دینا ضروری ہو گا۔

انتہائی خطرے سے دوچار نہ ہونے والے مریضوں سمیت عمر کے ہر گروپ سے تعلق رکھنے والے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد ’’HER-SYS‘‘ نظام کے تحت جمع کرنا جاری رکھا جائے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر متاثرہ افراد کو گھر پر روبصحت ہونے میں مدد دینے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی اینٹی جین کِٹ کی انٹرنیٹ پر فروخت پر سے پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ پریفیکچروں کی مقامی حکومتوں نے صحت کے مراکز قائم کیے ہیں اور وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے خلاف ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام کو امید ہے کہ ان اقدامات سے آئندہ وائرس کے پھیلاؤ کا تدارک کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ معلومات 30 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 474: کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاع دینے کا سہل بنایا گیا نظام
1- کیا چیز آسان کی گئی ہے؟

کورونا وائرس سوال و جواب (474)
کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاع دینے کا سہل بنایا گیا نظام
1- کیا چیز آسان کی گئی ہے؟

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس متاثرین کی اطلاع دینے کے لیے آسان کردہ نظام کے تحت، جس کا اطلاق 26 ستمبر سے ہوگیا ہے، اب ملک بھر کے طبی اداروں کیلئے جاپانی حکومت کو صرف اُن مریضوں کی تفصیلات بتانے کی ضرورت ہے جن کے شدید بیمار ہونے کا بہت زیادہ خطرہ ہے۔

اس سلسلے میں، ہم آپ کو بتائیں گے کہ اطلاع دینے کا نظام کس طرح تبدیل ہوا ہے اور اس میں کیا خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔ آج ہم دیکھیں گے کہ اطلاع دینے کے اس نظام کو کس طرح آسان بنایا گیا ہے۔

طبی اداروں پر بوجھ کو کم کرنے کے لیے، مرکزی حکومت نے اطلاع دینے کی ضرورت کو درج ذیل کیلئے محدود کر دیا ہے:
* پینسٹھ سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگ۔
* وہ افراد جنہیں ہسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت ہے۔
* حاملہ خواتین اور دوسرے لوگ جن کے شدید بیمار ہونے کا زیادہ خطرہ ہے۔

ان کے علاوہ جہاں تک وائرس کے حامل دیگر افراد کا تعلق ہے، طبی اداروں کو صرف ان کی کل تعداد اور عمر کے جن گروپوں سے اُن کا تعلق ہے اُن کی اطلاع دینے کی ضرورت ہے۔

اطلاع کے پرانے نظام میں، طبی مراکز کے لیے ضروری تھا کہ وہ تمام متاثرہ افراد کا ریکارڈ، جن کی انہوں نے شناخت کی ہے، ایک سرکاری کمپیوٹر نیٹ ورک میں درج کریں۔ جن پریفیکچروں نے آسان کردہ نظام اپنایا ہے ان کا کہنا ہے کہ ان کے طبی اداروں پر بوجھ کم ہو گیا ہے۔

لیکن ڈاکٹر اور دیگر ماہرین نیٹ ورک تیار کرنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہیں تاکہ ہلکے بیمار مریضوں کی حالت خراب ہونے کی صورت میں وہ ڈاکٹروں کو جلد دکھا سکیں۔

مرکزی حکومت پریفیکچر کی انتظامیہ پر زور دے رہی ہے کہ وہ ایسے انتظامات کریں اور ہلکی علامات والے مریضوں کو بھی کہیں کہ وہ خود کو مخصوص مدت کے لیے الگ تھلگ رکھیں۔

یہ معلومات 29 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 473: خود کو الگ تھلگ کرنے کی مختصر کردہ مدّت: خطرات اور احتیاط کے توجہ طلب نکات
5- وائرس کی منتقلی کا خطرہ کم کرنا

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان نے 7 ستمبر سے کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے قرنطینہ یا خود کو الگ تھلگ کرنے کی مدت کو پہلے سے کم کرتے ہوئے دس کے بجائے سات روز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں، مذکورہ فیصلے کی بنیاد بننے والے بعض اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں۔ آج ہم وائرس کی منتقلی کا خطرہ کم کرنے کے لیے ضروری اقدامات پر توجہ مرکوز کریں گے۔

وزارت صحت کے ماہرین کے پینل کے سربراہ واکِیتا تاکاجی نے کہا ہے کہ متاثرہ شخص کے الگ تھلگ رہنے کی مدت کا دورانیہ کم کرنے کے بعد بھی وائرس منتقلی کے باقی رہ جانے والے خطرات کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک فرد کو وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے اپنے طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی تاکہ خطرے کو کم کیا جا سکے۔

اجلاس کے شرکاء نے زور دیا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد علامات ظاہر ہونے کے بعد دسویں روز تک وائرس دوسروں کو منتقل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے گھر سے باہر جاتے ہوئے وائرس کی منتقلی کے تدارک کے لیے زیادہ محتاط رہنے پر زور دیا۔ ماہرین نے طبی دیکھ بھال کے کارکنان یا معمر افراد کے مراکز کے عملے سمیت، انتہائی خطرے سے دوچار افراد سے روزانہ رابطے میں آنے والوں کو معمول سے زیادہ احتیاط برتنے پر زور دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان افراد کو کام پر لوٹنے سے پہلے ٹیسٹ کروا کر جسم میں وائرس موجود نہ ہونے کی ضرور تصدیق کروا لینی چاہیے۔

وزارت صحت نے ملک بھر کی بلدیاتی حکومتوں پر بھی زور دیا ہے کہ وائرس سے متاثرہ شہریوں کو علامات ظاہر ہونے کے دسویں روز تک احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے کی تلقین کریں۔ ان افراد کو اپنا درجۂ حرارت چیک کرتے ہوئے جسمانی حالت میں رونما ہونے والی کسی بھی تبدیلی پر نظر رکھنے، معمر افراد جیسے انتہائی خطرے سے دوچار افراد سے رابطہ کرنے سے گریز کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کے مراکز کے غیر ضروری دوروں، اور کھانے پینے سے متعلق وائرس کی منتقلی کے انتہائی خطرے سے دوچار مقامات اور اجتماعات سے گریز کرنے اور ماسک لگانے جیسے اقدامات پر عمل کرنا چاہیے۔

متاثرہ شخص کا الگ تھلگ رہنے کا دورانیہ کم تو کر دیا گیا ہے، لیکن اس کا کورونا وائرس کی خصوصیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمیں ذہن میں رکھنا ہو گا کہ علامات ظاہر ہونے کے ساتویں روز کے بعد بھی دوسروں کو وائرس کی منتقلی کا خطرہ موجود رہتا ہے اور ہمیں اس کے مطابق اقدامات کرنے ہوں گے۔

یہ معلومات 28 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 472: خود کو الگ تھلگ کرنے کی مختصر کردہ مدّت: خطرات اور احتیاط کے توجہ طلب نکات
4- ماہرین کی آراء

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومتِ جاپان نے 7 ستمبر سے کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے پابندیوں میں نرمی کر دی ہے، جن میں قرنطینہ یا خود کو الگ تھلگ رکھنے کی مدّت کو مختصر کر کے اب 10 روز کے بجائے 7 روز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں، ہم اس اقدام کی سائنسی بنیاد اور تحفظ پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ آج کی قسط میں ہم ماہرین کی آراء کا جائزہ لیں گے۔

7 ستمبر کو وزارت صحت کے زیر اہتمام ماہرین کے اجلاس میں قرنطینہ یا الگ تھلگ رہنے کی مختصر کردہ مدّت پر آراء منقسم تھیں۔

قرنطینہ کی مدت کم کرنے کی منظوری دینے والوں کا کہنا تھا، یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ مریض میں علامات ظاہر ہونے سے سات روز کے دوران وائرس سب سے زیادہ متعدی ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طبّی اور سماجی ذمہ داریوں کی تعمیل کے لیے بھی یہ اقدام ضروری ہے۔

اُدھر، پالیسی میں تبدیلی کی مخالفت کرنے والے ماہرین نے کہا کہ تبدیلی سے ممکنہ خطرے کا اندازہ لگانے کے لیے بحث نہیں کروائی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انفیکشن کا خطرہ 10 فیصد سے زائد ہوتے ہوئے بھی قرنطینہ یا الگ تھلگ رہنے کی مدت ختم کرنا سائنسی طے شدہ حدود سے تجاوز ہے۔

بعض ماہرین نے کہا کہ ہسپتالوں اور دیکھ بھال کے مراکز میں معمّر افراد کیلئے الگ تھلگ رہنے کی مدّت کو کم نہیں کیا جانا چاہیے۔

کیوتو یونیورسٹی کے پروفیسر نِشی اُرا ہِیروشی نے تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آٹھویں روز سے انفیکشن کی روکتھام کے اقدامات پر عملدرآمد کے لحاظ سے حالات میں کافی تبدیلی واقع ہو گی۔ لہٰذا انفیکشن کی صورتحال کے اثرات کو عددی طور پر پیش کرنا مشکل ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ کسی مریض سے وائرس دوسروں کو منتقل ہونے والوں کی شرح کم سے کم ضرور بڑھ جائے گی۔

پروفیسر نِشی اُرا نے کہا کہ نتیجتاً وائرس کی آئندہ لہر آنے کی صورت میں مریضوں کی تعداد پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھے گی اور اس سے طبّی خدمات کے شعبے پر دباؤ آ سکتا ہے یا ایمبولینس کی سہولت سے استفادہ کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

یہ معلومات 27 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 471: خود کو الگ تھلگ کرنے کی مختصر کردہ مدّت: خطرات اور احتیاط کے توجہ طلب نکات
3- آٹھویں روز کے بعد وائرس منتقلی کے خطرات

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومتِ جاپان نے 7 ستمبر سے کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے پابندیوں میں نرمی کر دی ہے، جن میں قرنطینہ یا خود کو الگ تھلگ رکھنے کی مدّت کو مختصر کر کے اب 10 روز کے بجائے 7 روز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں، ہم کچھ ایسے اعداد و شمار آپ کی خدمت میں پیش کریں گے، جن کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ آج کی قسط میں ہم آٹھویں روز کے بعد وائرس کی منتقلی کے خطرے پر توجہ مرکوز کریں گے۔

نومبر 2021 اور جنوری 2022 کے درمیان جاپان کے قومی ادارۂ متعدی امراض کے ذریعے لیے گئے ایک سروے (جس پر ہم نے پچھلی قسط میں بھی نظر دوڑائی تھی) میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ جن لوگوں میں علامات پیدا ہوئی ہیں ان میں وائرس کتنے عرصے تک موجود رہا۔

علامات ظاہر ہونے والے دن کو صفر واں دن گنتے ہوئے، پہلے دن 96.3 فیصد مریضوں میں وائرس کا پتہ چلا، چوتھے دن 60.3 فیصد اور 7 ویں دن 23.9 فیصد میں۔ یہ تناسب آٹھویں دن کم ہو کر 16.0 فیصد رہا، جبکہ 9 ویں دن 10.2 فیصد پر اور 10 ویں دن 6.2 فیصد پر آگیا۔ یہ مسلسل کم ہوتے ہوئے 11 ویں دن 3.6 فیصد پر، 12 ویں دن 2.0 فیصد، 13 ویں دن 1.1 فیصد اور 14 ویں دن 0.6 فیصد تک گر گیا۔

دوسرے الفاظ میں، یہ وائرس 8 ویں دن، 10 فیصد سے زیادہ مریضوں میں پایا گیا، جب نئے ضابطے کے تحت ان کی خود کو قرنطینہ میں رکھنے کی مدت ختم ہو چکی تھی۔

کیوتو یونیورسٹی کے پروفیسر نِشی اُورا ہِیروشی نے 7 ستمبر کو ماہرین کے ایک اجلاس میں امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سمیت ایک گروپ کے مطالعے کے نتائج پیش کیے۔ مذکورہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 5 ویں دن وائرس 50 فیصد سے زیادہ مریضوں میں اور 8 ویں دن 25 فیصد مریضوں موجود تھا۔ پروفیسر نِشی اُورا نے خبردار کیا ہے کہ علامات ظاہر ہونے کے بعد ایک خاص مدت گزر جانے کے باوجود بھی وائرس کے پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔

یہ معلومات 26 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 470: قرنطینہ مدت میں کمی: خطرات اور احتیاط
2 ۔ سائنسی بنیاد

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان نے کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے قرنطینہ یا خود کو الگ تھلگ رکھنے کی مدت میں 7 ستمبر سے کمی کر دی ہے۔ اس سلسلے میں، اس اقدام کی سائنسی بنیاد اور سلامتی پر معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ظاہری علامات یا تکالیف میں مبتلا افراد کے خود اپنے انتظامات کے تحت قرنطینہ یا الگ تھلگ رہنے کی مدت کو 10 سے کم کر کے 7 روز کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کس قسم کے اعداد و شمار کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

وزارت صحت کے ماہرین کے 7 ستمبر کو منعقدہ اجلاس میں کورونا وائرس کی ظاہری علامات یا تکالیف میں مبتلا 59 افراد سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے گئے۔

وائرس سے متاثر ہونے کی ظاہری علامات نمودار ہونے کے ’’ دن زیرو‘‘ سے ساتویں تا تیرہویں روز کے درمیان وائرس کی مقدار تیسرے روز تک کی مقدار کا تقریباً چھٹا حصہ رہ گئی تھی۔ یہ اعداد و شمار جاپان کے قومی ادارۂ متعدی امراض نے اومی کرون کی ذیلی متغیر قسم BA.1 کے پھیلاؤ کے دوران نومبر 2021 سے جنوری 2022 کے درمیان لیے گئے مطالعاتی جائزے میں جمع کیے تھے۔

محققین کے مطابق ساتویں روز کے بعد بھی اگرچہ مریض وائرس پھیلانے کا باعث بنتے ہیں لیکن دیگر کو بیماری منتقل ہونے کا خطرہ کم رہ جانے کا امکان ہے۔

یہ معلومات 23 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 469: خود کو الگ تھلگ کرنے کی مختصر کردہ مدّت: خطرات اور احتیاط کے توجہ طلب نکات
1- پچھلے ضوابط میں تبدیلیاں

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپانی حکومت نے 7 ستمبر سے کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے پابندیوں میں نرمی کر دی ہے، جن میں خود کو الگ تھلگ کرنے کی مختصر کردہ مدّتیں بھی شامل ہیں۔ وائرس سے متاثر ہونے کی علامات والے افراد کو اب 10 روز کے بجائے 7 روز کے لیے قرنطینہ یا الگ تھلگ رہنے کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں، ہم آپ کے لیے سائنسی بنیاد، تحفظ کی بنیادوں، اور نئے قوانین کے بارے میں ماہرین کی آراء پیش کریں گے۔

7 ستمبر کے بعد سے، خود کو الگ تھلگ کرنے کے نئے اصول درج ذیل ہیں:

 علامات کے حامل افراد
اگر علامات میں بہتری کے بعد کم از کم 24 گھنٹے گزر چکے ہوں، تو الگ تھلگ رہنے کا دورانیہ علامات کے پیدا ہونے کے 8 دن بعد ختم ہو جائے گا۔

 علامات نہ ہونے والے افراد
اگر 5 ویں روز ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آتا ہے، تو الگ تھلگ رہنے کی مدت ابتدائی جانچ کے 6 روز بعد ختم ہو جائے گی۔
تاہم، وہ لوگ جو بزرگوں کے ساتھ رابطے میں آتے ہیں یا دوسروں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں، انہیں انسدادِ انفیکشن کے مکمل اقدامات کرنے چاہیئں۔ علامات والے افراد علامات ظاہر ہونے کے بعد 10 روز تک اور علامات ظاہر نہ ہونے والے افراد 7 روز تک وائرس دوسروں میں منتقل کر سکتے ہیں۔

 ہسپتال میں داخل مریض اور دیکھ بھال کے مراکز میں موجود بزرگ افراد کیلئے کوئی تبدیلی نہیں۔ اگر علامات میں بہتری کے بعد کم از کم 72 گھنٹے گزر چکے ہوں، تو الگ تھلگ رہنے کا دورانیہ علامات ظاہر ہونے کے 11 روز بعد ختم ہو جائے گا۔

یہ معلومات 22 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 468: انسداد کورونا وائرس ادویات سے متعلق تازہ ترین معلومات
5- ابتداً دیگر بیماریوں کے لیے بنائی گئی ادویات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس حالیہ سلسلے میں کووِڈ-19 کے انسداد کے لیے ادویات کے بارے میں تازہ ترین معلومات اور طریقۂ علاج سمیت ان ادویات کی اثر پذیری پر بات کی جا رہی ہے۔ آج ابتدائی طور پر دیگر بیماریوں کے لیے تیار کردہ ادویات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

انسدادِ وائرس دوا ریمڈیسیور ابتدائی طور پر ایبولا کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھی۔ جاپان میں کورونا وائرس کے مریضوں کے ہنگامی بنیادوں پر پہلے علاج کے لیے اس دوا کے استعمال کی مئی 2020 میں منظوری دی گئی۔ ابتدا میں اس دوا کو معتدل سے شدید بیمار مریضوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ مارچ 2022 میں وزارت صحت نے اس دوا کے استعمال کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے اسے شدید بیمار ہونے کے خطرے سے دوچار ہلکی سے معتدل علامات کے حامل مریضوں کے لیے استعمال کرنے کی بھی اجازت دے دی۔

جولائی 2020 میں وزارت صحت نے اسٹیرائیڈ دوا ڈیکسامیتھاسون کو بھی کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی۔ اس سے پہلے یہ دوا بنیادی طور پر شدید نمونیا یا گٹھیا کے مریضوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ یہ دوا کووِڈ-19 کی معتدل سے شدید تکلیف سے دوچار مریضوں کو نمونیا ہونے اور اضافی آکسیجن کی ضرورت پیش آنے کی صورت میں ان کے علاج کے لیے استعمال کی جائے گی۔

اپریل 2021 میں منظور شدہ، سوزش دور کرنے والی دوا بیری سٹی نِب بھی کورونا وائرس کے معتدل سے شدید تکلیف سے دوچار مریضوں کو دی جاتی ہے۔ شروع میں گولی کی شکل میں یہ دوا گٹھیا اور جوڑوں کے ورم میں مبتلا مریضوں کو پلائی جاتی تھی۔ جاپان میں اس دوا کے استعمال پر پابندی ہے کہ اسے صرف ریمڈیسیور کے ساتھ ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے گٹھیا اور جوڑوں کے ورم کے انسداد کی توسیلی زُماب کے نام سے بھی مشہور دوا ایکٹمرا کے استعمال کی جنوری 2022 میں منظوری دی گئی تھی۔ یہ دوا کووڈ کی معتدل سے شدید تکلیف سے دوچار مریضوں کے علاج کے لیے اسٹیرائیڈ کے ساتھ استعمال کی جاتی ہے۔

یہ معلومات 2 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 467: انسدادِ کورونا وائرس ادویات کی تازہ ترین معلومات
4- اینٹی باڈی علاج

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس حالیہ سلسلے میں ہم کووڈ-19 کی ادویات اور اس کے علاج، اور ان کی اثرانگیزی سے متعلق تازہ ترین معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ آج ہم اینٹی باڈی علاج کے بارے میں بتائیں گے۔

اینٹی باڈی ادویات میں انسانی ساختہ اینٹی باڈیز کورونا وائرس کی سطح پر اسپائک پروٹین کے ساتھ لپٹ جاتی ہیں جو وائرس کو انسانی خلیوں میں داخل ہونے سے روکتی ہیں۔ جاپان کی وزارت صحت کے پینل نے جولائی 2021 میں COVID-19 کے علاج کے لیے ایک اینٹی باڈی کاکٹیل ’روناپریو‘ کی منظوری دی تھی۔ یہ جاپان میں COVID-19 کی ہلکی علامات والے مریضوں کے استعمال کے لیے منظوری دی جانے والی پہلی دوا تھی۔ یہ وائرس کو بے اثر کرنے والی دو اینٹی باڈیز دواؤں ’کیسِیریوِیمیب‘ اور ’اِمڈیوِیمیب‘ کا ایک مجموعہ ہے، جس کو انجیکشن یا ڈرپ کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔ ستمبر 2021 میں، وزارت کے پینل نے ایک اور اینٹی باڈی دوا ’زیوُوڈی‘ کے استعمال کی اجازت دی، جسے عام طور پر ’سوٹرووِیمیب‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ دوا ایک قسم کی اینٹی باڈی پر مشتمل ہوتی ہے اور مریضوں کو ڈرپ کے ذریعے دی جاتی ہے۔

یہ دونوں دوائیں، معمر مریضوں یا ایسے مریضوں کو دی جاتی ہیں جنہیں بنیادی طور پر نمونیا سمیت ہلکی سے معتدل دیرینہ علامات ہوتی ہیں، لیکن شدید علامات پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

کووِڈ-19 کی علامات ظاہر ہونے کے سات روز کے اندر انہیں ایک بار دوا دی جاتی ہے۔ پینل نے احتیاطی استعمال کی بھی منظوری دی ہے، جو کہ کمزور مدافعتی نظام کی وجہ سے متاثر ہونے کی صورت میں شدید بیمار ہونے کے خطرے والے قریبی رابطوں میں اینٹی باڈیز کی صورت میں دی جاتی ہیں۔

تجربات کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ جن مریضوں کو ’روناپریو‘ دوا دی گئی تھی ان کے ہسپتال میں داخل ہونے یا مرنے کا خطرہ تقریباً 70 فیصد کم تھا۔ تجربات سے پتہ چلا ہے کہ جن لوگوں کو’زیوُوڈی‘ دی گئی تھی ان میں یہ خطرہ تقریباً 85 فیصد کم تھا۔

لیکن اینٹی باڈی ادویات میں خامیاں بھی ہیں۔ وہ وائرس کی تبدیل شدہ نئی اقسام کے لیے اکثر زیادہ مؤثر نہیں ہوتیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ موجودہ اینٹی باڈی ادویات انفیکشن کے تازہ ترین عروج کی ذمہ دار اومی کرون کی متغیر اقسام کے خلاف نمایاں طور پر کم مؤثر ہیں۔ وزارت صحت کے کووِڈ-19 کے علاج کے تازہ ترین رہنماء خطوط میں ڈاکٹروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف اس صورت میں اینٹی باڈی ادویات استعمال کرنے پر غور کریں جب کوئی دوسرا راستہ نہ ہو۔

30 اگست کو جاپان نے اینٹی باڈی کے علاج کے لیے’ایوُشیلڈ‘ نامی ایک نئی دوا کی بھی منظوری دی جسے برطانوی دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا نے تیار کیا ہے۔ اسے بنیادی طور پر کمزور مدافعتی نظام والے لوگوں کے لیے سنگین بیماری یا علامات کو روکنے کی غرض سے استعمال کیا جائے گا۔

یہ معلومات یکم ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 466: انسداد کورونا وائرس ادویات کی تازہ ترین معلومات
3- زوکووا

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس حالیہ سلسلے میں انسداد کورونا وائرس ادویات کی اثر انگیزی سمیت ان سے متعلق تازہ ترین معلومات پیش کی جا رہی ہیں۔ آج ہم دوا زوکووا پر توجہ مرکوز کریں گے۔

جاپان کی ادویات ساز کمپنی شی اونوگی نے اپنی دوا زوکووا کی منظوری کے لیے حکام کو درخواست دیدی ہے۔ یہ دوا کووڈ-19 سے شدید بیمار ہونے کے کم خطرے سے دوچار ہونے کی صورت میں بھی، ہلکی علامات والے مریض استعمال کر سکتے ہیں۔

یہ دوا وائرس کے جینیاتی خاکے کا کام کرنے والے آر این اے کی نقل تیار کرنے کی ذمہ دار انزائم کی صلاحیت روکتی ہے۔

کمپنی نے جنوری سے فروری تک دوا کی انسانوں پرکی گئی طبی آزمائش کے نتائج رواں سال اپریل میں جاری کیے تھے۔ اس آزمائش میں وائرس سے متاثرہ ہلکی سے معتدل علامات والے 12 سال سے لے کر 70 سال سے کم عمر کے 428 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔

اس ادویات ساز کمپنی کے مطابق مریضوں کو دوا کی روزانہ ایک خوراک دی گئی۔ تیسرے دن کے بعد کھانسی، گلے میں سوزش، ناک بہنے اور بخار جیسی کیفیت سمیت پانچ تکالیف میں مبتلا افراد کے گروپ میں، کوئی بھی اثر نہ کرنے والی دوا لینے والوں کے مقابلے میں بہتری نظر آئی۔

شی اونوگی نے یہ بھی کہا ہے کہ دوا لینے والے مریضوں میں متعدی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی شرح میں کوئی بھی اثر نہ کرنے والی دوا لینے والے مریضوں کے مقابلے میں 90 فیصد کمی آئی۔

لیکن کمپنی نے بتایا ہے کہ اسہال اور الٹیاں آنے سمیت 12 اقسام کی تکالیف میں مبتلا مریضوں میں، کوئی بھی اثر نہ کرنے والی دوا لینے والوں کے گروپ کے مقابلے میں کوئی خاص فرق نہیں دیکھا گیا۔

وزارت صحت کے ایک پینل کے جون اور جولائی میں منعقدہ اجلاس میں اس دوا کے مؤثر اور استعمال میں محفوظ ہونے کا جائزہ لیا گیا۔ اگرچہ پینل کے بعض اراکین نے کہا کہ بیماری کو سنگین صورت اختیار کرنے سے روکنے میں دوا کے مؤثر ہونے کا قیاس کیا جا سکتا ہے، تاہم وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کی تکالیف کم کرنے میں دوائی کے مؤثر ہونے پر شبہات کا اظہار کیا گیا۔

پینل نے دوا کی منظوری دینے یا نہ دینے کے بارے میں فیصلہ ملتوی کر دیا اور دوا کا جائزہ لینا جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

شی اونوگی نے کہا ہے کہ انسانوں پر طبی آزمائش کے حتمی مرحلے کے نتائج ستمبر کے آخر تک جاری کیے جائیں گے۔

یہ معلومات 31 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 465: انسدادِ کورونا وائرس ادویات سے متعلق تازہ ترین معلومات
2- پکسلووِڈ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حالیہ سلسلے میں ہم آپ کیلئےجاپان میں منظور شدہ ادویات کی اثرانگیزی سمیت تازہ ترین معلومات پیش کریں گے۔

حکومتِ جاپان نے ابھی تک کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کیلئے، جن میں ہلکی علامات والے لوگ بھی شامل ہیں، منہ سے لی جانے والی دو ادویات کی منظوری دی ہے۔ ان میں سے ایک لیگیورِیو ہے جسے بڑے امریکی دوا ساز ادارے مرک نے تیار کیا ہے اور دوسری دوا، امریکہ ہی کی دوا ساز کمپنی فائزر کی پکسلووِڈ ہے۔

ان دونوں دواؤں کو شدید تکالیف پیدا ہونے کے خطرے سے دوچار مریضوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ خلیوں میں وائرس کے کئی گنا بڑھ جانے کو روکنے کیلئے مؤثر ہیں۔

فائزر کا کہنا ہے کہ انسانوں پر اس کی طبّی آزمائشوں کے تجزیوں سے پتہ چلا ہے کہ پکسلووِڈ ایسے مریضوں کے ہسپتال میں داخل ہونے یا موت کے خطرے کو 89 فیصد کم کرتی ہے جن کا تکلیف شروع ہونے کے تین روز کے اندر علاج کیا گیا ہو اور تکلیف شروع ہونے کے پانچ روز کے اندر یہ دوائی لیے جانے کی صورت میں یہ خطرے کو 88 فیصد گھٹاتی ہے۔

اس کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پکسلووِڈ اور کوئی بھی اثر نہ رکھنے والی دوائی کے علاج سے پیدا ہونے والے ضمنی اثرات میں کوئی قابل ذکر فرق نہیں تھا اور ان میں سے بیشتر کی شدّت معمولی تھی۔ اس دوا کے پیکٹ میں شامل کی گئی وضاحت کے مطابق، اسے شدید بیمار ہونے کے خطرے سے دوچار، کووِڈ-19 کی ہلکی سے معتدل علامات کے حامل بالغ اور 12 سال یا اس سے زیادہ عمر کے متاثرہ بچوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور اسے پانچ روز تک روزانہ دو مرتبہ لینا چاہیے۔

پکسلووِڈ کو وسیع پیمانے پر استعمال نہیں کیا جاتا کیونکہ ایسی 40 اقسام کی ادویات ہیں جنہیں اس کے ساتھ لینا ممنوع ہے۔ گردوں کی خرابی کے شکار بعض مریضوں میں دوا کی خوراک میں کمی بیشی کی بھی ضرورت ہے۔

وزارت صحت نے کہا ہے کہ 20 لاکھ افراد کیلئے دوا کی مطلوبہ خوراکیں حاصل کر لی گئی ہیں جبکہ 26 جولائی تک تقریباً 17 ہزار 600 افراد کو یہ دوا دیدی گئی تھی۔ باور کیا جا رہا ہے کہ وائرس میں تغیر آنے کی صورت میں بھی لیگیورِیو کی طرح پکسلووِڈ کی اثر پذیری میں محض معمولی تبدیلی واقع ہو گی اور یہ تبدیل شدہ وائرس کے خلاف بھی مؤثر ہو گی۔

یہ معلومات 30 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 464: انسدادِ کورونا وائرس ادویات سے متعلق تازہ ترین معلومات
1- لیگیورِیو

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج سے ہم انسدادِ کورونا وائرس ادویات سے متعلق ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ اس کی پہلی قسط میں ہم جاپان میں منظور شدہ دواؤں اور ان کی اثر انگیزی کے بارے میں بتائیں گے۔

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس کے مریضوں، جن میں ہلکی علامات والے افراد بھی شامل ہیں، اُن کے علاج کے لیے اب تک کھانے والی دو ادویات کی منظوری دی ہے۔ یہ ادویات امریکہ کی بڑی دواساز کمپنی مرک کی تیار کردہ لیگیورِیو اور امریکہ ہی کی فائزر کمپنی کی تیار کردہ پکسلووِڈ ہے۔ یہ دونوں دوائیں ایسے مریضوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جن میں سنگین علامات پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

لیگیورِیو نے جس کا عام یا جنرک نام مولنُوپِراویر ہے، 24 دسمبر 2021 کو جاپانی حکومت سے خصوصی ہنگامی منظوری حاصل کی۔ یہ دوا آر این اے کو کاپی کرنے کے ذمہ دار ایک اینزائم یا خامرے کی صلاحیت کو روک کر وائرس کو انسانی جسم کے اندر پھیلنے سے روکتی ہے، جو وائرس کے ایک خاکے کے طور پر کام کرتی ہے۔

دوا کے پیکٹ میں موجود تفصیلات اور دیگر معلومات کے مطابق، اس دوا کا ہدف 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہلکی سے معتدل علامات والے ایسے مریض ہیں جن کے شدید بیمار ہونے کا خطرہ ہے۔ ان میں معمر اور وہ افراد شامل ہیں جو موٹے یا ذیابیطس کے مریض ہیں۔ دوا کو علامات شروع ہونے کے پانچ روز کے اندر اندر، یومیہ دو بار پانچ دن لینے کی سفارش کی جاتی ہے۔ لیکن جَنین پر ممکنہ اثرات کی وجہ سے یہ اُن خواتین کو نہیں دینی چاہیے جو حاملہ ہیں یا حاملہ ہوسکتی ہیں۔ لیگیورِیو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ زیادہ خطرے والے مریضوں کے لیے ہسپتال میں داخل ہونے یا موت کے خطرے کو 30 فیصد تک کم کرتی ہے۔ منفی واقعات کی تعداد پلاسِیبو گروپ اور دوائی دیے گئے گروپ میں یکساں پائی گئی۔

جاپان میں لیگیورِیو دوا، اب تک 3 لاکھ 80 ہزار سے زائد لوگوں کو دی جا چکی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اب وہ اس دوا کو مستحکم طریقے سے فراہم کر سکتی ہے کیونکہ پیداواری نظام قائم ہو چکا ہے۔ حکومت دوا کی پوری قیمت کی ادائیگی کرتی ہے اور مریضوں پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑتا۔

یہ معلومات 29 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 463: اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام کو ہدف بنانے والی کورونا وائرس ویکسینیں
5- فی الوقت دستیاب ویکسینوں کا چوتھا ٹیکہ کتنا مؤثر ہے-2

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس حالیہ سلسلے میں اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام کو نشانہ بنانے والی ویکسینوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم فی الوقت دستیاب ویکیسنوں کی چوتھی خوراک کے مؤثر ہونے کے بارے میں جاپان میں جمع کیے گئے اعداد و شمار پر رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔

ٹوکیو میٹروپولیٹن انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس نے ویکسین کا چوتھا ٹیکہ لگوانے والے طبی کارکنان سے حاصل کیے گئے خون کے نمونوں میں وائرس کا اثر زائل کرنے والی اینٹی باڈیز کی سطح سے متعلق اعداد و شمار جولائی میں شائع کیے تھے۔

60 سے 69 اور 70 سے 79 سال کے درمیان کی عمر کے ان افراد کے اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگوانے والوں میں چار ماہ بعد وائرس کا اثر زائل کرنے والی اینٹی باڈیز کی سطح کو اگر ایک گراف پر ظاہر کیا جائے تو اس گراف کا وسطی عدد 855 تھا، جو چوتھا ٹیکہ لگوانے کے بعد بڑھ کر 3 ہزار 942 ہو گیا۔

ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگوانے کے بعد لوگوں میں اوسطاً وائرس کا اثر زائل کرنے والی اینٹی باڈیز کی سطح دوسرے ٹیکے کے بعد کی سطح کے مقابلے میں نسبتاً بلند پائی گئی۔ لیکن مختلف افراد کی اینٹی باڈیز کی سطح میں وسیع فرق پایا گیا۔ تاہم، ویکسین کا چوتھا ٹیکہ لگوانے کے بعد ہر فرد میں اینٹی باڈیز بڑھ کر بلند سطح تک پہنچ گئیں۔

اس عالمی وباء سے متعلق ماہرین کے سرکاری پینل میں شامل توہو یونیورسٹی کے پروفیسر تاتیدا کازُوہیرو کہتے ہیں کہ اومی کرون سے ہٹ کر وائرس کی کوئی دوسری متغیر قسم آئندہ سب سے زیادہ پھیل سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ویکسین کا تیسرا ٹیکہ ابھی تک نہ لگوانے والے اور چوتھا ٹیکہ لگوانے کے لیے ویکسین کا کوپن وصول کرنے والے افراد کو ممکنہ حد تک جلد از جلد ویکسین کا ٹیکہ لگوا لینا چاہیے تاکہ وائرس کا موجودہ پھیلاؤ روکا جا سکے۔

باور کیا جاتا ہے کہ موجودہ دستیاب ویکسینوں کے کئی ٹیکے لگوانے سے کورونا وائرس کے مریضوں کی بیماری کو شدت اختیار کرنے سے روکا جا سکتا ہے اور کسی حد تک انفیکشنز کی روکتھام بھی کی جا سکتی ہے۔ جسم کے مدافعتی نظام، وائرسوں اور متعدی امراض کے ماہرین اتفاق کرتے ہیں کہ باری آنے پر ویکسین کا ٹیکہ جلد از جلد لگوانے پر غور کرنا چاہیے اور ویکسین کی قِسم کے بارے میں بلاضرورت کسی تردد میں نہیں پڑنا چاہیے۔

یہ معلومات 26 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 462: کورونا وائرس کی ذیلی متغیر قسم اومی کرون کو ہدف بنانے والی ویکسینیں
4- چوتھی خوراک کی اثر انگیزی-1

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہم وائرس کی ذیلی متغیر قسم اومی کرون کو ہدف بنانے والی ویکسینوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آج ہم ویکسین کی چوتھی خوراک کی اثر انگیزی سے متعلق امریکہ اور اسرائیل میں مرتب کردہ ڈیٹا کے بارے میں بتائیں گے۔

دنیا بھر سے ملنے والی رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ چوتھی ویکسین، ہسپتال میں داخل ہونے اور موت کے خطرے کو کم کرنے میں انتہائی مؤثر ہے۔

اسرائیل میں محققین کے ایک گروپ نے 29 ہزار سے زائد طبّی کارکنوں میں چوتھی ویکسین کی تاثیر کا تجزیہ کیا۔ نتائج 2 اگست کو ایک طبی جریدے، جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئے۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 5 ہزار 300 سے زائد طبّی کارکنوں میں سے، جنہیں جنوری میں اُس وقت چوتھی ویکسین لگی تھی جب وائرس کی اومی کرون ذیلی اقسام تیزی سے پھیل رہی تھیں، 368 بعد میں وائرس سے متاثر ہوئے۔ لیکن 24 ہزار سے زیادہ افراد جن کو تین بار ویکسین کا ٹیکہ لگایا گیا تھا، اُن میں سے 4 ہزار 802 میں وائرس پایا گیا تھا۔ مختصر یہ کہ تین بار ویکسین لگوانے والوں میں انفیکشن کی شرح 19.8 فیصد تھی۔ لیکن ویکسین کی چوتھی خوراک لگوانے والے افراد میں یہ شرح کم تھی جو 6.9 فیصد پر تھی۔

بیماریوں پر کنٹرول اور روک تھام کے امریکی ادارے سی ڈی سی نے 10 ریاستوں میں بالغ افراد میں بی اے 2 سمیت اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام کے پھیلاؤ کے دوران ایم آر این اے کووِڈ-19 ویکسینوں کے مؤثر ہونے کا جائزہ لیا۔ اس کے نتائج، جو جولائی میں رپورٹ کیے گئے تھے، ظاہر کرتے ہیں کہ 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں میں، ہسپتال میں داخل ہونے سے روکنے میں ویکسین کی اثر انگیزی تیسری خوراک کے چار ماہ سے زائد عرصے بعد 55 فیصد تھی۔ لیکن چوتھی خوراک کے ایک ہفتے سے زائد عرصے کے بعد یہ شرح 80 فیصد تک بڑھ گئی۔ سی ڈی سی لوگوں پر زور دے رہا ہے کہ سفارش کیے جانے کی صورت میں بلا تاخیر اضافی خوراک لگوائیں۔

یہ معلومات 25 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 461: اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام کو ہدف بنانے والی کورونا وائرس ویکسینیں
3- ویکسین کا ٹیکہ کب لگوایا جائے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام کو نشانہ بنانے والی ویکسینوں کے بارے میں ہمارے اس سلسلے میں آج ہم کورونا ویکسین کی اگلی بُوسٹر یعنی اضافی خوراک پر توجہ مرکوز کریں گے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت جاپان اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام کو نشانہ بنانے والی کورونا وائرس ویکسینیں زیادہ سے زیادہ اکتوبر کے وسط سے لگانا شروع کر دے گی۔ لہٰذا ویکسین کا تیسرا یا چوتھا ٹیکہ نہ لگوانے والے افراد سوچ میں پڑ سکتے ہیں کہ اس نئی ویکسین آنے کا انتظار کریں یا موجودہ ویکسین کا ہی ٹیکہ لگوالیں۔

وزیراعظم کے دفتر کی ویب سائٹ کے مطابق 22 اگست تک 8 کروڑ 10 لاکھ 10 ہزار کے قریب افراد یعنی آبادی کا 64 فیصد حصہ ویکسین کے تین ٹیکے لگوا چکا تھا۔ ویب سائٹ کا مزید کہنا ہے کہ معمر جیسے 2 کروڑ 15 لاکھ 40 ہزار افراد کو ویکسین کا چوتھا ٹیکہ بھی لگا دیا گیا ہے، جنہیں اسے جلد لگوانے کی سفارش کی گئی تھی۔

وزارت صحت کے ویکسین لگوانے سے متعلق ماہرین کے پینل کے سربراہ، قومی انسٹیٹیوٹ برائے متعدی امراض کے ڈائریکٹر جنرل واکیتا تاکاجی نے 10 اگست کو نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام کو نشانہ بنانے والی ویکسین اکتوبر کے وسط سے دستیاب ہونے کی صورت میں بھی یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ آیا ہر ایک فرد کو فوری ٹیکہ لگانے کے لیے ویکسین کی مطلوبہ مقدار دستیاب ہو گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ اومی کرون انفیکشنز کو شدت اختیار کرنے سے روکنے کے لیے موجودہ ویکسینیں مؤثر ہیں، لہٰذا ویکسین کا تیسرا یا چوتھا ٹیکہ دستیاب ہونے کی صورت میں لوگوں کو جلد لگوانے پر غور کرنا چاہیے۔

یہ معلومات 24 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 460: اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام کو ہدف بنانے والی کورونا وائرس ویکسینیں
2- نئی ویکسینیں کتنی مؤثر ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہم کورونا وائرس کی اُن نئی ویکسینوں کا جائزہ لے رہے ہیں جن کا ہدف اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام ہیں۔ آج ہم ان ویکسینوں کی اثر انگیزی پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

فائزر کمپنی نے اطلاع دی ہے کہ طبّی آزمائشوں میں، جن میں 56 سال اور اس سے زائد عمر کے 1,200 سے زائد افراد شریک تھے، ویکسین کی چوتھی خوراک کے طور پر اومی کرون سے مطابقت رکھنے والی ویکسین کے استعمال نے فائزر کی موجودہ ویکسین کے مقابلے میں ذیلی متغیر قِسم BA.1 کا اثر زائل کرنے والی اینٹی باڈیز کی مقدار میں1.56 گُنا اضافہ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس کی نئی ویکسین استعمال میں محفوظ ہے۔

موڈرنا کی جانب سے ماہرین کی طرف سے جانچ سے قبل جاریکردہ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں طبّی معائنوں سے ظاہر ہوا ہے کہ چوتھی خوراک کے لیے اومی کرون کی مناسبت سے تیار کردہ ویکسین کے استعمال نے موجودہ ویکسین کے مقابلے میں BA.1 کا اثر زائل کرنے والی اینٹی باڈیز میں 1.75 گُنا تک اضافہ کیا ہے۔

موڈرنا کا کہنا ہے کہ لگائی گئی ویکسین کے ضمنی اثرات بیشتر اوقات معمولی سے معتدل نوعیت کے رہے، جن میں 77 فیصد کو بازو اور انجکشن لگنے کی جگہ پر سوجن کی شکایت ہوئی، 55 فیصد کو تھکاوٹ اور 44 فیصد کو سر درد کی شکایت ہوئی۔

باور کیا جاتا ہے کہ یہ ویکسینیں، انفیکشنز کے موجودہ تیز اضافے کا باعث اومی کرون کی ذیلی متغیر قِسم BA.5 کا اثر زائل کرنے والی اینٹی باڈیز کو بڑھاتی ہیں۔

یہ معلومات 23 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 459: کورونا وائرس ویکسینیں جن کا ہدف متغیر قِسم اومی کرون
1- نئی ویکسین کس طرح کام کرتی ہے

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان کی وزارت صحت نے جلد از جلد اکتوبر کے اوائل سے نئی ویکسینیں فراہم کرنے کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے جو وائرس کی ذیلی متغیر قسم اومی کرون کو ہدف بنائے گی۔ اس سلسلے میں ہم نئی ویکسینوں کےنظام، ان کی افادیت اور پچھلی ویکسینوں کے بعد ضروری وقفے کا جائزہ لیں گے۔ آج ہم اس امر پر توجہ مرکوز کریں گے کہ نئی ویکسینیں کس طرح کام کرتی ہیں۔

یہ ویکسینیں فائزر اور موڈرنا تیار کر رہی ہیں۔ بائیویلنٹ نامی ویکسین، موجودہ کورونا وائرس ویکسینوں کے لیے استعمال ہونے والے اجزاء اور اومی کرون کی ذیلی متغیر قسم بی اے 1 سے نکالے گئے اجزاء کو یکجا کرتی ہے۔

فائزر اور موڈرنا کی تیار کردہ ویکسینیں جو اس وقت استعمال میں ہیں، جسم کو ’اسپائک پروٹین‘ پیدا کرنے کی طرف لے جاتی ہیں۔ اس سے جسم کا مدافعتی نظام ان اسپائک پروٹینز کے خلاف متعدد اینٹی باڈیز بناتا ہے اور جب کوئی حقیقی وائرس جسم میں داخل ہوتا ہے تو اس پر حملہ کر دیتا ہے۔

لیکن چونکہ کورونا وائرس مسلسل تبدیل ہو رہا ہے، اس لیے اسپائک پروٹین کی شکل بدل گئی ہے۔ اس سے انفیکشن اور علامات کے آغاز کو روکنے میں اومی کرون ذیلی اقسام کے خلاف ویکسینوں کی اثرانگیزی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ اسپائک پروٹینز کو موافق بنانے کے لیے متغیر قسم اومی کرون کی جینیاتی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے ویکسینوں کو جدید بنانے سے ویکسینوں کی افادیت میں بہتری آئے گی۔

یہ معلومات 22 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 458: کورونا وائرس متاثرین سے قریبی رابطے میں آنے والے افراد
9- پھر سے زور پکڑتے انفیکشنز کے خلاف احتیاطی تدابیر

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں کورونا وائرس متاثرین سے قریبی رابطے میں آنے والے افراد کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔ آج ہم انفیکشنز کے پھر سے بڑھنے کی صورت میں ملحوظ خاطر رکھی جانے والی احتیاطی تدابیر پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ متغیر قسم اومی کرون سے انفیکشن ہونے کے راستے کورونا وائرس کی دیگر اقسام جیسے ہی ہیں۔ اومی کرون، ننھے ننھے قطروں جن میں کھانسنے، چھینکنے یا گفتگو کے دوران منہ سے خارج ہونے والے انتہائی مہین مائع ذرات شامل ہیں، کے ذریعے خاص کر بند مقامات پر ایک سے دوسرے کو منتقل ہو سکتا ہے۔

ہم مکمل انسدادِ انفیکشن تدابیر اختیار کرتے ہوئے انفیکشن کی روکتھام کر سکتے ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ وائرس کی متغیر قِسم اومی کرون اہل خانہ میں انفیکشن پھیلانے کا نسبتاً زیادہ باعث بنتی ہے۔ لہٰذا گھر کے اندر مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ کورونا وائرس کی مختلف متغیر اقسام میں اومی کرون کا پھیلاؤ سب سے زیادہ ہونے کے بعد متاثرین سے قریبی رابطے میں آ جانے والے افراد کے لیے پابندیوں میں نرمی کر دی گئی ہے۔ تاہم ہر ایک فرد کے لیے وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد جاری رکھنا ناگزیر ہے۔

حکومت کے کورونا وائرس مشاورتی پینل کے سربراہ اومی شِگیرُو نے این ایچ کے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ انفیکشن کے انتہائی خطرے سے دوچار حالات اور مواقعوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ جناب اومی نے کہا ہے کہ پُر ہجوم یا ایسے مقامات پر جانے سے گریز کرنے کی کوشش کی جائے جہاں لوگ عام طور پر اونچی آواز میں گفتگو کرتے ہیں۔ وہ یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ معمر افراد سے ملاقات سے قبل کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرا لیا جائے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ہر فرد اس عالمی وباء کے دوران اپنے اپنے حاصل کردہ علم اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے انفیکشن کی روکتھام کے لیے اقدامات کرے۔

یہ معلومات 19 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 457: کورونا وائرس متاثرین سے قریبی رابطے والے افراد
8- قریبی رابطے والے افراد سے قریبی رابطے میں آنے والے افراد

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہم وائرس متاثرین سے قریبی رابطے والے افراد کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ آج ہم اس بات پر توجہ مرکوز کریں گے کہ متاثرہ فرد سے ’قریبی رابطے‘ والے افراد نامزد کیے جانے والے لوگوں سے قریبی رابطے میں آ جانے کی صورت میں آپ کو کیا کرنا چاہیے۔

اگر خاندان کا کوئی فرد کورونا وائرس کے مریض کا ’قریبی رابطہ‘ بن جائے تو کیا ہوتا ہے؟ ٹوکیو کی بلدیاتی حکومت کے متعدی بیماریوں کے نگران محکمے کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ’قریبی رابطوں کے قریبی رابطوں‘ کے بارے میں کوئی ضوابط نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلدیاتی حکومت ’قریبی رابطے‘ کے طور پر نامزد شخص کے علاوہ خاندان کے دیگر افراد کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں لگاتی۔ لیکن حکام کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اپنے آجروں اور اسکولوں سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ قریبی رابطوں کے حوالے سے کچھ اداروں کے اپنے اصول ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ’قریبی رابطوں‘ کے خاندان کے افراد ایسی صورت میں درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں کہ متعلقہ شخص متاثر تو ہوا ہے لیکن ابھی تک علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔

▽ تولیے کے مشترکہ استعمال سے گریز کریں، کھانا الگ سے کھائیں اور جہاں تک ممکن ہو خاندان کے دیگر افراد سے الگ رہنے کی کوشش کریں۔
▽گھر میں ماسک پہنیں اور احتیاط سے ہاتھ دھوئیں اور جراثیم سے پاک کریں۔
▽ ان جگہوں کو جراثیم سے پاک کریں جنہیں بار بار چھوا جاتا ہے، جیسے دروازوں کے ہینڈل اور برقی آلات کے ریموٹ کنٹرول۔
▽کمروں میں باقاعدگی سے ہوا کی آمدورفت یقینی بنائیں۔

ہمیں اپنے تحفظ کو کم کرنے کی ترغیب ملتی ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ وائرس کی دیگر اقسام کے مقابلے میں ذیلی قسم اومی کرون سے شدید بیمار ہونے کا خطرہ کم ہے۔ لیکن اگر خاندان میں بزرگ افراد یا پہلے سے بیماری کی حالت والے لوگ ہوں تو احتیاط کی ضرورت ہے۔

یہ معلومات 18 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 456: کورونا وائرس متاثرین سے قریبی رابطے والے افراد
7- از خود قرنطینہ مدت کے دوران کیا کرنا اور کیا نہیں کرنا ہے

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہم کورونا وائرس متاثرین سے ’قریبی رابطوں‘ کی وضاحت کر رہے ہیں۔ آج ہم اس بات پر توجہ مرکوز کریں گے کہ ازخود قرنطینہ کرنے والے افراد کو اپنی قرنطینہ مدت کے دوران کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔

ان افراد کو چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو غیر ضروری طور پر باہر جانے سے گریز کریں۔ اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو انفیکشن کے خلاف چہرے پر ماسک لگانے اور ہاتھ دھونے جیسے انسدادی اقدامات کرنے چاہیئں اور دیگر افراد سے رابطے میں آنے سے بچنا چاہیے۔ قرنطینہ دورانیے کے دوران انہیں کام پر یا اسکول نہیں جانا چاہیے۔

بلدیہ عظمیٰ ٹوکیو کے رہبر خطوط میں کہا گیا ہے:
▼ انہیں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے، کام پر اور اسکول جانے سے گریز کرنا چاہیے، اور گھر میں رہنا چاہیے۔
▼ انہیں ہر صبح اور شام اپنا جسمانی درجۂ حرارت چیک کرنا چاہیے۔
▼ اگر ان میں بخار اور کھانسی جیسی علامات نمودار ہوں تو اپنے خاندانی معالج یا ایسے طبی اداروں سے مشاورت کرنی چاہیے جو کورونا وائرس سے متعلق ٹیسٹنگ اور طبی دیکھ بھال فراہم کرتے ہیں۔
▼ جہاں تک ممکن ہو انہیں عوامی ذرائع نقل و حمل کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

ساکاموتو فُومیئے جو سینٹ لیوک کے ٹوکیو میں واقع بین الاقوامی ہسپتال میں ماہرِ متعدی امراض ہیں، وہ ان افراد کو مندرجہ ذیل چیزیں تیار کر لینے کا مشورہ دیتی ہیں۔ وہ ان چیزوں کو اس لیے مفید قرار دیتی ہیں کہ انفیکشنز کی انتہائی بڑھی ہوئی تعداد کے سبب ممکن ہے کہ وہ فوری طور پر معالجین کو نہ دکھا سکیں:
▼ میڈیکل اسٹوروں پر بغیر ڈاکٹری نسخے کے ملنے والی بخار توڑ اور درد رفع ادویات۔
▼ جسم میں پانی کی کمی دور کرنے والے مشروبات۔
▼ فوری طور پر قابلِ استعمال غذائی اشیاء جیسے جیلی کی طرح کے لیس دار مشروبات۔
▼ روزمرہ استعمال کی اشیاء کا وافر ذخیرہ۔
▼ اگر انہیں پہلے ہی سے دیگر طبی شکایات ہوں تو انکے علاج معالجے کی ادویات کی فالتو خوراکیں۔

وہ لوگوں کو یہ تلقین بھی کرتی ہیں کہ حفاظتی ٹیکے لگوا لیں اور یہ بھی پتا لگا رکھیں کہ اُن مقامی صحت حکام سے رابطہ کیسے کرنا ہے جن سے قرنطینہ دورانیے کے دوران مشاورت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

یہ معلومات 17 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 455: کورونا وائرس متاثرین سے قریبی رابطے والے افراد
6- کام کی جگہوں پر انفیکشن کے واقعات

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہم کورونا وائرس متاثرین سے ’قریبی رابطوں‘ کی وضاحت کر رہے ہیں۔ آج ہم اس بات پر توجہ مرکوز کریں گے کہ کام کی جگہوں پر انفیکشنز کے واقعات سے کیسے نبٹا جائے۔

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص کام کی جگہ پر وائرس سے متاثر ہو جائے تو متاثرہ شخص کے ساتھ کام کرنے والوں کیلئے گھر یا دیگر جگہوں پر خود کو قرنطینہ یا الگ تھلگ کرنا اُصولی طور پر ضروری نہیں ہے۔ لیکن متاثرہ شخص سے قریبی رابطے میں آ جانے والے افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ متاثرہ شخص سے خود کے قریبی رابطے میں آنے کے آخری روز سے تقریباً سات روز کیلئے زیادہ خطرے کی حامل سرگرمیوں سے گریز کریں جیسا کہ معمر افراد سے ملنا یا عمر رسیدہ افراد کے مراکز جانا، بہت سے لوگوں کے ساتھ کھانا پینا، اور بڑے پیمانے کی تقریبات میں شرکت کرنا۔

اگر لوگوں نے کام کی جگہ پر متاثرہ فرد کے ساتھ کھانا وغیرہ ماسک پہننے جیسے انسدادِ وائرس اقدامات کے بغیر کھایا ہو تو انہیں ترغیب دی گئی ہے کہ وہ انفیکشن کے پھیلاؤ کی روکتھام کی کوششیں کریں جیسا کہ پانچ روز کیلئے خود کو الگ تھلگ رکھنا اور رضاکارانہ طور پر انفیکشن ٹیسٹ کروانا۔

دریں اثناء، جب ایسی جگہوں پر لوگوں کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو جائے جہاں شدید بیمار پڑ جانے کے زیادہ خطرے کا شکار لوگ جمع ہوتے ہیں تو اضافی احتیاط کی ضرورت ہے۔ ان جگہوں میں طبّی ادارے اور معمر افراد کے مراکز شامل ہیں۔

ایسی صورتحال میں’ قریبی رابطوں‘ یعنی متاثرہ فرد سے نزدیکی رابطے میں آنے والے افراد کیلئے پانچ روز تک خود کو الگ تھلگ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر دوسرے اور تیسرے روز انٹی جین ٹیسٹ منفی آجائے تو ’قریبی رابطوں‘ والے لوگ، اہلِ خانہ میں قریبی رابطوں کے کیسز کی طرح تیسرے روز اپنا قرنطینہ یا الگ تھلگ رہنا ختم کر سکتے ہیں۔ اس رہنماء اُصول کا اطلاق نہ صرف ناگزیر کارکنان بلکہ تمام لوگوں پر ہو گا۔

وزارت نے کہا ہے کہ طبی کارکنان اور دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرنے والے لوگ ایسی صورت میں بھی کام کی جگہوں پر جا سکتے ہیں جب انہیں ’قریبی رابطہ‘ سمجھا جائے بشرطیکہ وہ روزانہ ٹیسٹ کروائیں اور نتائج منفی ہوں۔

یہ معلومات 16 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 454: کورونا وائرس متاثرین سے قریبی رابطے والے افراد
5-قرنطینہ کے بعد کی زندگی

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان نے وباء کے طویل ہونے کے تناظر میں حال ہی میں کورونا وائرس متاثرین سے متعلق اپنے رہنماء خطوط میں ترمیم کی ہے۔ اس سلسلے میں ہم کورونا وائرس متاثرین سے قریبی رابطوں کی وضاحت کر رہے ہیں۔ آج ہم اس بات پر توجہ مرکوز کریں گے کہ قرنطینہ دورانیے کے بعد کی زندگی کیسی ہونی چاہیے۔

جن لوگوں کو ’قریبی رابطے‘ کے طور پر نامزد کیا جا چکا ہے وہ خود کو الگ تھلگ کرنے کے پابند ہیں۔ لیکن پابندی ختم ہونے کے بعد وہ اپنے کام پر یا اسکول جا سکتے ہیں۔

13 جنوری کی ایک رپورٹ میں متعدی بیماریوں کے قومی انسٹیٹیوٹ برائے وبائی امراض کا کہنا ہے کہ جب لوگ کورونا کی متغیر قِسم اومی کرون سے متاثر ہوتے ہیں تو تین روز کے اندر علامات ظاہر ہونے کے امکانات 53.05 فیصد، پانچ روز کے اندر 82.65 فیصد اور سات روز کے اندر 94.53 فیصد ہوتے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ الگ تھلگ رہنے کی موجودہ پانچ روزہ مدت کسی شخص کے متاثرہ نہ ہونے کی تصدیق کرنے کے لیے کافی نہیں۔

لہٰذا، یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ ’قریبی رابطے‘ کے طور پر نامزد کردہ افراد اپنے جسمانی درجۂ حرارت اور صحت کی دیگر علامات کی احتیاط سے نگرانی کریں اور انفیکشن سے بچاؤ کے مکمل اقدامات کریں، جیسا کہ زیادہ خطرے والے مقامات سے گریز کرنا اور سات دن گزر جانے تک گروپوں میں کھانے پینے سے بچنا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس مدت کے بعد بھی لوگوں کو انسدادِ انفیکشن اقدامات جاری رکھنے چاہیئں۔

یہ معلومات 15 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 453:کورونا وائرس متاثرین سے قریبی رابطے والے افراد
4- گھر کے کسی اور فرد کے کورونا سے متاثر ہونے کی صورت میں کیا کرنا ہونا چاہیے؟

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہم کورونا وائرس متاثرین سے "قریبی رابطے" کی وضاحت کر رہے ہیں۔ آج ہم اس بات پر توجہ مرکوز کریں گے کہ گھر کے ایک فرد کے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد، کسی دوسرے فرد کے بھی متاثر ہونے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔

حکومتی رہنماء خطوط میں کہا گیا ہے کہ اگر خاندان میں کسی دوسرے فرد کو انفیکشن کی نشاندہی ہوتی ہے تو خاندان کے دیگر افراد کو الگ تھلگ رہنے کی مدت دوبارہ شروع کرنی ہوگی۔ فرض کرتے ہیں کہ کوئی بچہ متاثرہ پایا جاتا ہے اور ہلکی علامات کے ساتھ گھر میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ایسے معاملے میں ہدایات کیا کہتی ہیں۔

▼ اگر ٹیسٹ کا نتیجہ آنا باقی ہے، تب بھی جس دن بچّے میں علامات پیدا ہوئیں اسے صفر واں روز شمار کیا جائے گا، بشرطیکہ اس روز سے گھر میں انسدادِ انفیکشن کے اقدامات کیے گئے ہوں۔ باور کیا جاتا ہے کہ خاندان کے باقی افراد کو پانچویں روز تک خود کو الگ تھلگ کرنا ہے۔
▼ اگر انفیکشن کی تصدیق ہونے تک انسدادِ انفیکشن کے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے، تو مثبت نتیجہ سامنے آنے والا دن صفر واں روز شمار کیا جاتا ہے۔ اس تاریخ کے بعد خاندان کے باقی افراد کو پانچ روز کے لیے خود کو الگ تھلگ کرنا چاہیے۔

▼ متاثرہ بچّے کی بیماری کا دورانیہ 10 روز کے بعد ٹیسٹ کیے بغیر بھی ختم ہو جائے گا، جو کہ علامات کے پہلی بار ظاہر ہونے کے اگلے روز سے شروع ہو گا، بشرطیکہ علامات کے غائب ہونے کے بعد کم از کم 72 گھنٹے گزر چکے ہوں۔ علامات بگڑنے کی صورت میں، والدین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ صحت حکام سے رابطہ کریں اور مشورہ لیں۔

▼ اگر بچّے میں کوئی علامات پیدا نہیں ہوئیں تو جس دن نمونے لیے گئے تھے اسے صفر واں روز شمار کیا جائے گا اور بچے کے صحت یاب ہونے کی مدت ساتویں روز تک ہوگی۔ تاہم یہ بات ذہن نشین رہے کہ اگر انفیکشن کی تصدیق ہونے تک کوئی انسدادِ انفیکشن اقدامات موجود نہیں تھے، اس دن کو خاندان کے باقی افراد کے لیے خود سے الگ تھلگ رہنے کی مدت کے لیے صفرواں دن سمجھا جائے گا۔

یہ معلومات 12 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 452: کورونا وائرس متاثرین سے قریبی رابطے والے افراد
3- گھر کے کسی فرد کے کورونا سے متاثر ہونے کی صورت میں قرنطینہ کا عرصہ کتنا ہونا چاہیے؟

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہم کورونا وائرس متاثرین سے قریبی رابطے کی وضاحت کر رہے ہیں۔ آج ہم اس بات پر توجہ مرکوز کریں گے کہ گھر کے کسی فرد کے کورونا وائرس سے متاثر ہو جانے کی صورت میں، اس سے قریبی رابطے میں آنے والے افراد کو کتنا عرصہ گھر پر قرنطینہ میں یا دوسروں سے الگ تھلگ گزارنا چاہیے۔

جب گھر کے کسی فرد کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آتا ہے اور گھر کے دوسرے افراد کو "قریبی رابطوں" کے طور پر نامزد کیا جاتا ہے، تو انہیں گھر میں خود کو الگ تھلگ رہنے کے لیے کہا جاتا ہے۔

قریبی رابطوں کو قبل ازیں، اصولی طور پر سات روز میں اپنا قرنطینہ ختم کرنا ہوتا تھا۔ لیکن 22 جولائی سے وزارت صحت نے سماجی اور معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے خود کو الگ تھلگ کرنے کی مدت کو کم کر کے پانچ روز تک کر دیا۔

مندرجہ ذیل تین تاریخوں میں سے تازہ ترین کو صفر واں روز سمجھا جاتا ہے۔
- جس دن متاثرہ شخص میں علامات پیدا ہوئیں۔
- متاثرہ شخص میں کوئی علامات نہ ہونے کی صورت میں، جس دن کورونا وائرس ٹیسٹ کے لیے نمونے لیے گئے تھے۔
- جس دن متاثرہ شخص کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آنے کے بعد انسدادِ انفیکشن کے اقدامات کیے گئے تھے۔

متاثرہ شخص کے "قریبی رابطوں" کو پانچویں روز تک الگ تھلگ رہنے کی ضرورت ہے۔ چھٹے روز سے خود کو الگ تھلگ رکھنا ختم کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اگر قریبی رابطے والے افراد میں دوسرے اور تیسرے روز حکومت کے منظور شدہ اینٹیجن ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آتا ہے تو الگ تھلگ رہنے کی مدت تیسرے دن ختم کی جا سکتی ہے۔

اس معاملے میں انسدادِ انفیکشن کے اقدامات میں چہرے کے ماسک پہننا، ہاتھ دھونا، اور کمروں میں کثرت سے ہوا کی آمد و رفت کرنا شامل ہے۔ گھریلو ارکان کو مکمل طور پر علیحدہ کمرے استعمال کرکے متاثرہ شخص سے تمام رابطہ منقطع کرنے کی لازماً ضرورت نہیں ہے۔

اگر چھوٹے بچوں کے لیے چہرے کا ماسک پہننا مشکل ہو تو دوسرے اقدامات کریں جیسا کہ ان کے ہاتھ اچھی طرح دھلوائیں اور ایک دوسرے کے تولیے استعمال کرنے سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ، بنیادی انسداد انفیکشن کے اقدامات کیے جائیں، بشمول کمروں میں ہوا کی بہتر آمد و رفت اور جہاں تک ممکن ہو رابطے سے گریز کریں۔

یہ معلومات 11 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 451: کورونا وائرس متاثرین سے قریبی رابطے میں آنا
2ـ قریبی رابطوں کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپانی حکومت نے کورونا وائرس وباء کی موجودہ طویل لہر کے تناظر میں، کورونا وائرس سے متاثرہ افراد سے قریبی رابطے میں آنے سے متعلق اپنے رہبر خطوط پر حال ہی میں نظر ثانی کی ہے۔ اس سلسلے میں ہم ’’قریبی رابطوں‘‘ کی وضاحت کر رہے ہیں۔ آج ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ انکا تعین کس طرح سے کیا جاتا ہے۔

جب کوئی وباء پھیل رہی ہوتی ہے تو وزارت صحت بلدیات کو اجازت دیتی ہے کہ وہ لچکدار انداز میں تعین کریں کہ آیا کوئی فرد متاثرہ انسان سے قریبی رابطے میں آیا ہے یا نہیں۔ وزارت کے مطابق اس طرح کا تعین انفیکشن کے مقام کے حساب سے مختلف رہے گا۔

اگر متاثرہ فرد کسی گھرانے کا رکن ہو تو صحت حکام تعین کریں گے کہ قریبی رابطے میں آنے والے لوگ کون ہیں اور انہیں کہیں گے کہ وہ اپنی سرگرمیاں محدود کر لیں کیونکہ گھر کے افراد کو انفیکشن منتقل ہونے کا خطرہ کافی زیادہ ہے۔ تاہم صحت حکام ہر فرد کے انٹرویوز نہیں لیں گے۔

دوسری جانب گھرانوں کے مقابلے میں کام کی جگہ پر انفیکشن کا خطرہ نسبتاً کم باور کیا جاتا ہے، اس لیے صحت حکام کی جانب سے کام کی جگہ پر قریبی رابطے میں آنے والے تمام افراد کا تعین کیا جانا غیر متوقع ہے۔ اگر کام کے مقام پر کوئی فرد کووِڈ-19 میں مبتلا ہوتا ہے تو وہاں پر افراد کو خود سے تعین کرنا چاہیے کہ آیا وہ متاثرہ فرد سے قریبی رابطے میں آئے ہیں یا نہیں۔

اس کے برعکس، طبی مراکز کے ساتھ ساتھ عمر رسیدہ اور معذور افراد کے سہولتی مراکز میں صحت حکام قریبی رابطے میں آنے والوں کا فوری تعین کریں گے کیونکہ ان میں سے بہت سے افراد کو سنگین بیماری لاحق ہونے کا بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ نرسری اسکولوں، کنڈرگارٹنز، پرائمری اسکولوں اور ثانوی اسکولوں سے متعلق پالیسیوں کا تعین خود بلدیاتی حکومتوں اور تعلیمی بورڈز کو کرنا چاہیے۔ اسکول جانے سے کم عمر کے بچوں اور اسکول جانے والے بچوں کے لیے چہرے پر ماسک پہننے جیسے معاملات سے متعلق اقدامات میں فرق ہو سکتا ہے۔

یہ معلومات 10 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 450: کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کے قریبی رابطے
1- مفہوم

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جب وائرس بڑے پیمانے پر پھیل رہا ہو تو چاہے کوئی فرد جتنا بھی محتاط ہو، کوئی بھی وائرس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ جاپانی صحت حکام نے قریبی رابطوں میں آنے والے لوگوں کے طور پر مخصوص کردہ افراد کیلئے شرائط کو تبدیل کر دیا ہے تاکہ سماجی اور معاشی سرگرمیوں پر ان کے اثرات کم از کم ہوں۔ اس سلسلے میں، ہم وضاحت کریں گے کن لوگوں کو قریبی رابطوں والے افراد قرار دیا گیا ہے اور اُن کیلئے کیا کرنا ضروری ہے۔ آج ہم اس بات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں کہ ایسے افراد کا تعین کس طرح کیا گیا ہے۔

"قریبی رابطہ" ایک ایسا فرد ہے جو وائرس سے متاثرہ کسی شخص کے قریب رہا ہو یا اُس نے ایسے شخص کے موجودگی میں کچھ وقت گزارا ہو۔ باور کیا جاتا ہے کہ ایسے لوگ وائرس کی زد میں آئے اور اسی وجہ سے وہ وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

اس امر کے تعین کیلئے اُصولی معیار چند ہی ہیں کہ آپ "قریبی رابطہ" ہیں۔

-آپ تکالیف رونما سے دو روز کے درمیان اور تکالیف رونما ہونے کے 10 روز بعد کسی ایسے شخص سے لگ بھگ قریبی رابطے میں تھے جو وائرس سے متاثرہ ہوا تھا۔ لیکن اگر تکالیف شروع ہونے کے سات روز بعد دور نہ ہوں تو یہ دورانیہ تکالیف دور ہو جانے کے بعد تین روز بڑھ جاتا ہے۔ جب مریض میں تکلیف کی کوئی علامت نہ ہو تو دورانیہ اُن کے ٹیسٹ کروانے کے دو روز قبل سے شروع ہوتا ہے اور ٹیسٹ کروانے کے سات روز بعد ختم ہوتا ہے۔

-جب آپ نے مریض یا ایسی شے کو چُھوا جس پر مریض کے جسم کا سیال مادہ تھا تو آپ نے ماسک نہیں لگایا ہوا تھا۔ کسی مریض کو چُھو سکنے کے فاصلے کے اندر 15 منٹ سے زیادہ ٹھہرنا بھی آپ کو "قریبی رابطہ" بنا سکتا ہے۔

-اگر آپ کے اہلِ خانہ میں کوئی مریض ہو یا مریض کی دیکھ بھال کر رہے ہوں تو بھی ضروری نہیں کہ آپ کو "قریبی رابطہ" سمجھا جائے۔ آپ "قریبی رابطہ" قرار دیے جانے سے بچ سکتے ہیں بشرطیکہ آپ ایسے مکمل اقدامات کریں جو طبی اداروں اور نرسنگ ہومز میں کیے جاتے ہیں۔

-آپ کے کسی متاثرہ شخص کے نزدیک 15 منٹ سے زائد وقت گزارنے کے باوجود بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو "قریبی رابطہ" نہیں سمجھا جائے۔ یہ فیصلہ ایسے عوامل کو مدِ نظر رکھ کر کیا جاتا ہے جیسا کہ آیا آپ گفتگو کر رہے تھے، کیا کمرے میں ہوا کی آمدورفت اچھی تھی اور آیا آپ نے ماسک پہنا ہوا تھا یا نہیں۔

یہ معلومات 9 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 449: اومی کرون کی ذیلی متغیر قسم BA.5 کیا ہے؟
6- تشویش کی حامل مزید ذیلی متغیر اقسام

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام سے متعلق ہماری چھٹی قسط میں اومی کرون کی تشویش کی حامل دیگر ذیلی متغیر اقسام پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

جاپان میں اومی کرون کی ذیلی متغیر قسم BA.2.75 سے انفیکشن کے قرنطینہ میں پائے گئے کیسز کو چھوڑ کر ملک کے مغربی حصے میں واقع کوبے شہر میں اندرون ملک پہلے متاثرہ فرد کی 12 جولائی کو اطلاع دی گئی۔ جون میں پہلی بار بھارت میں اطلاع دیے جانے کے بعد برطانیہ، جرمنی اور امریکہ میں اس ذیلی متغیر قسم کے پائے جانے کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔

اطلاعات کے مطابق BA.5 کی طرح یہ ذیلی متغیر قسم انسانی مدافعتی ردعمل سے بچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں یہ قِسم BA.5 کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلی ہے۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ہامادا آتسُواو کے مطابق، BA.2 کے مقابلے میں BA.2.75 میں انسانی قوت مدافعت کے نظام سے بچ نکلنے کی زیادہ صلاحیت پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ مدافعتی قوت حاصل کرنے والے افراد کو انفیکشن ہونے کا زیادہ خطرہ درپیش ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے اسے تشویش کی حامل زیر مشاہدہ متغیر اقسام سے تعلق رکھنے والی یعنی (VOC-LUM) قرار دیا ہے۔ پروفیسر ہامادا کہتے ہیں کہ جاپان میں محکمۂ صحت کے حکام کو اس نئی ذیلی متغیر قسم کی خصوصیات پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔

یہ معلومات 20 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 446: اومی کرون کی ذیلی متغیر قِسم BA.5 کیا ہے؟
3- شدید تکلیف کے خطرات

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اومی کرون کی ذیلی متغیر قِسم BA.5 کے بارے میں ہمارے سلسلے کی تیسری قسط میں انفیکشن سے شدید بیمار پڑنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے اس بارے میں 6 جولائی کو اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں کہا ہے کہ BA.2 کے مقابلے میں BA.5 میں خاطر خواہ تبدیلی آنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ تاہم ادارے نے کہا ہے کہ کئی ملکوں میں متاثرین کی تعداد بڑھ گئی ہے اور ہسپتالوں میں داخل کیے جا رہے یا انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرِ علاج افراد کی تعداد کے ساتھ ساتھ مرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ جاری ہے۔

مزید برآں، بیماریوں کی روکتھام اور کنٹرول کے یورپی مرکز نے 13 جون کو جاری کردہ رپورٹ میں کہا تھا کہ اگرچہ اعداد و شمار محدود پیمانے پر دستیاب ہیں، لیکن وائرس کی نئی متغیر قِسم سے نسبتاً زیادہ لوگوں کی تکلیف میں شدت آنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انفیکشنز کی تعداد میں اضافہ ہونے کی صورت میں مزید اموات ہونے اور نسبتاً زیادہ افراد کو ہسپتال داخل ہونے کی ضرورت پیش آنے کا امکان ہے۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی میں بیرون ملک انفیکشن کے ماہر پروفیسر ہامادا آتسُواو کہتے ہیں کہ گزشتہ متغیر ذیلی اقسام کے مقابلے میں BA.5 ذرا زیادہ متعدی ہے اور مدافعت رکھنے والوں کو بھی یہ متغیر قِسم انفیکشن میں مبتلا کر سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ BA.2 کی جگہ نئی متغیر قِسم آنے سے انفیکشن سے متاثرین کی تعداد میں کچھ اضافہ ہونا ناگزیر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ زیادہ لوگوں کو انفیکشن ہونے کی صورت میں شدید بیمار پڑنے والے افراد کی تعداد بڑھ جائے گی، اس لیے ہمیں چوکنا رہنا چاہیے۔

یہ معلومات 15 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 445: اومی کرون کی ذیلی متغیر قسم بی اے 5 کیا ہے؟
2- اس کی خصوصیات

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اومی کرون کی ذیلی متغیر قسم بی اے 5 سے متعلق سلسلے کی اس دوسری قسط میں ہم اس ذیلی قسم کی خصوصیات پر توجہ مرکوز کریں گے۔

بی اے 5 میں ایل 452 آر تغیر اور اسپائک پروٹینز میں دیگر تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ وائرس کی سطح پر موجود اسپائک پروٹینز، وائرس کے خلیوں کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ ایل452آر منتقلی کو انسانی قوت مدافعت کے نظام سے بچنے میں مدد دیتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی جولائی کے اوائل میں جاری کردہ معلومات کے مطابق، بی اے 5 میں اینٹی باڈی کو بے اثر کرنے کی صلاحیت بی اے 1 کے مقابلے میں 7 گنا سے زیادہ کم ہوتی ہے۔

ماہرین کو یہ بھی خدشہ ہے کہ ویکسینیشن کے ذریعے قوت مدافعت میں ہونے والا اضافہ، وقت کے ساتھ کمزور ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے متاثرین کی تعداد میں حالیہ تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

جاپان میں کیوتو یونیورسٹی کے پروفیسر نِشی اُرا ہِروشی نے وزارتِ صحت کے ماہرین کے پینل کے 30 جون کو منعقدہ اجلاس میں کچھ اعداد و شمار پیش کیے تھے، جن سے اومی کرون کی ذیلی قسم بی اے 5 کے خلاف مدافعت رکھنے والے افراد کی شرح میں کمی ظاہر ہوتی ہے۔ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ جون کے اواخر میں 20 کے پیٹے کے 44.6 فیصد افراد میں یہ مدافعت موجود تھی۔ جبکہ 70 کے پیٹے کے صرف 37.4 فیصد افراد میں اس ذیلی قسم کے خلاف مدافعت پائی گئی۔

یہ معلومات 14 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 444: اومی کرون کی ذیلی متغیر قسم BA.5 کیا ہے؟
1- پھیلتا ہوا BA.5

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم اومی کرون کی ذیلی متغیر قسم BA.5 کے بارے میں اپنے سلسلے کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس کی پہلی قسط میں امریکہ اور یورپی ممالک میں زور پکڑنے والے وائرس کی اس نئی متغیر قِسم پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ وائرس کی یہ قِسم جاپان میں بھی پھیل رہی ہے۔

BA.5، اومی کرون کی ذیلی متغیر قِسم ہے، جس کی موجودگی کی سب سے پہلے تصدیق فروری 2022 میں جنوبی افریقہ میں ہوئی تھی۔ یہ وائرس مئی سے زیادہ تر امریکہ اور یورپ میں پھیل رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق جون کے وسط تک دنیا بھر میں نئے کورونا وائرس کے تصدیق شدہ تمام کیسز میں وائرس کی اس نئی قِسم سے ہونے والے متاثرین کی تعداد 40 فیصد کے قریب تھی۔

امریکی مرکز برائے امراض کنٹرول اور روکتھام نے اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں کہا ہے کہ 2 جولائی کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں نئے متاثرین میں BA.5 سے متاثرہ افراد کی شرح 53.6 فیصد تھی۔ اس ذیلی متغیر قسم کو دیگر کے علاوہ متاثرین کی تعداد میں حالیہ اضافے کی وجہ گردانا جا رہا ہے۔

برطانیہ میں محکمۂ صحت کے حکام نے 24 جون کو اعلان کیا تھا کہ پہلے زور پکڑنے والے وائرس کی متغیر قِسم BA.2 کے مقابلے میں BA.5 کے پھیلنے کی رفتار 35.1 فیصد زیادہ باور کی جا رہی ہے۔

کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے والے بلدیۂ عظمیٰ ٹوکیو کے ماہرین کے پینل کے مطابق، 27 جون تک کے ایک ہفتے کے دورانیے میں دارالحکومت میں انفیکشن کے تصدیق شدہ متاثرین کے 33.4 فیصد حصے کی وجہ ذیلی متغیر قسم BA.5 سمجھی جا رہی ہے۔

یہ معلومات 13 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 443: طویل مدتی کووِڈ
8- مریضوں کی مناسب طریقے سے دیکھ بھال کی اہمیت

این ایچ کے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ طویل مدتی کووِڈ کے ہمارے اس سلسلے کی آخری قسط میں ہم اُن مریضوں کو مناسب دیکھ بھال فراہم کرنے کی اہمیت کا جائزہ لیں گے جن میں بیماری کی علامات مسلسل موجود رہیں۔

ضمنی اثرات سمجھی جانے والی تکالیف کی حد اور ان کی وجوہات کے لحاظ سے طویل مدتی کووِڈ کے بارے میں ابھی تک کافی کچھ سمجھا نہیں جا سکا ہے۔ تاہم، طویل مدتی کووِڈ کے مریضوں کا علاج معالجہ کرنے والے دو ماہرین، ان تکالیف سے متاثرہ مریضوں کی دیکھ بھال کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

کوچی یونیورسٹی کے پروفیسر یوکویاما آکی ہِیتو کہتے ہیں کہ اس امر سے قطع نظر کہ علامتوں کا سبب کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ضمنی اثرات کے باعث مسلسل تکلیف میں ہیں اور وہ ان مریضوں سے مناسب طریقے سے پیش آنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

گِفُو یونیورسٹی کے پروفیسر شِموہاتا تاکایوشی کا ماننا ہے کہ بعض مریضوں کے دماغی خلیوں میں حقیقتاً سوزش ہو جاتی ہے اور کچھ مریض مسلسل جاری رہنے والی تکالیف کے ہاتھوں پریشان ہو کر جذبات کے اظہار میں انتہائی اتار چڑھاؤ کی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی تکالیف کی شدت مزید بڑھنے کا امکان رہتا ہے۔ پروفیسر شِموہاتا کہتے ہیں کہ علامات کی وجوہات سے قطع نظر ڈاکٹر اپنے مریضوں کو لازماً مناسب انداز میں مدد فراہم کریں۔ اُنہوں نے زور دیا ہے کہ مریضوں کو ضروری طبی امداد فراہم کرنے اور عوام کو صورتحال کا ادراک کرنے میں مدد دینے کی غرض سے حکومت کو چاہیے کہ وہ لازمی طور پر مناسب انداز میں تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کرے اور ایک طبی مرکز قائم کرے جو طویل مدتی کووِڈ کے علاج معالجے میں مہارت رکھتا ہو۔

یہ معلومات 12 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 442: طویل مدتی کووِڈ
7- متغیر قسم اومی کرون سےمتاثر ہونے کی صورت میں بعد از کووِڈ اثرات کا خطرہ کم ہے

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارا یہ تازہ ترین سلسلہ لانگ کووِڈ کہلانے والے کووِڈ سے متاثر ہونے کے بعد کے وسط یا طویل مدتی اثرات کے بارے میں ہے۔ آج ہم کورونا کی متغیر قسم اومی کرون سے متاثر ہونے والے افراد میں بعد کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔

ٹوکیو کی بلدیاتی حکومت نے جنوری سے اپریل تک کے 4 ماہ میں اومی کرون سے متاثر ہونے والے 2 ہزار سے زائد مریضوں کے طویل مدتی کووِڈ اثرات کا جائزہ لیا۔

جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ 38.6 فی صد مریضوں نے کھانسی، 34 فیصد نے تھکاوٹ، 10.6 فیصد نے ذائقے کی مشکلات، اور 9.5 فیصد مریضوں نے سونگھنے کی حس میں مشکلات کی شکایت کی۔

اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والے ماہرین کے مطابق، ان میں چکھنے یا سونگھنے کی حس کے مسائل یا بال گرنے کے واقعات، ڈیلٹا یا دیگر متغیر اقسام سے متاثر ہونے والی افراد کی نسبت کافی کم پائے گئے۔

جاپان کے قومی مرکز برائے عالمی صحت اور ادویات کے محققین کے ایک گروپ نے بھی اپنی تحقیق جاری کی ہے جس میں متغیر قسم اومی کرون اور ماضی میں پھیلی گئیں دیگر متغیر اقسام سے متاثرہ افراد کا، عمر، صنف اور ویکسین لگوانے یا نہ لگوانے کے لحاظ سے موازنہ کیا گیا تھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ اومی کرون سے متاثرہ افراد میں دوسری متغیر اقسام کے مقابلے میں طویل کووِڈ باور کی جانے والی علامات صرف ایک بٹہ دس تھیں۔

تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ چونکہ اومی کرون سے متاثر ہونے والوں کی کُل تعداد دیگر متغیر اقسام کی نسبت بہت زیادہ ہے، اس لیے زیادہ امکان یہ ہے کہ طویل کووِڈ سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

برطانوی حکومت کے جاری کردی ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ جن افراد نے ویکسین دو بار لگوائی تھی ان میں سے متغیر قسم اومی کرون سے متاثر ہونے کے بعد، متغیر قسم ڈیلٹا سے متاثر ہونے والوں کی نسبت طویل مدتی کووِڈ کی شکایت کرنے والے افراد کی شرح تقریباً 50 فیصد کم تھی۔

اس ڈیٹا میں ابھی تک ان رپورٹوں کو شامل نہیں کیا گیا کہ اومی کرون سے متاثر ہونے کی صورت میں کووِڈ سے متاثر ہونے کے بعد کے اثرات زیادہ طویل عرصے تک جاری رہیں گے۔

یہ معلومات 11 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 441: طویل مدتی کووِڈ
6- ’’برین فوگ‘‘ کیا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کووِڈ-19 سے متاثر ہونے کے بعد بھی جاری رہنے والی تکلیف یا ’’طویل مدتی کووِڈ‘‘ کے نام سے موسوم کووِڈ-19 کے وسط مدتی اور طویل مدتی اثرات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

طویل مدتی کووڈ کی سب سے عام مثالی علامت ’’برین فوگ‘‘ہے جس میں دماغ دھند میں گھرا ہوا اور پوری طرح کام سے قاصر محسوس ہوتا ہے۔ اعصابی نظام کے امراض کے ماہر اور طویل مدتی کووڈ کے علاج کے لیے وزارت صحت کی رہنماء کتاب مرتب کرنے والوں میں شامل گِفُو یونیورسٹی کے پروفیسر شِموہاتا تاکایوشی کہتے ہیں کہ ایم آر آئی یا خون کے ٹیسٹ میں اکثر اوقات غیر معمولی نتائج ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے ’’برین فوگ‘‘ کی تشخیص کرنا مشکل ثابت ہوتا ہے۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ یہ تکلیف لاحق ہونے کی وجوہات پر کی جانے والی تحقیق میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے۔ پروفیسر شِموہاتا کے مطابق، بیرونِ ملک جانوروں پر کیے گئے تجربات سے نشاندہی ہوئی ہے کہ وائرس سے انفیکشن ہونے پر پورے جسم میں سوزش یا ورم آنے کے عمل میں آٹو اینٹی باڈیز یا سائٹوکائینِس جیسے مادے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ آٹو اینٹی باڈیز متاثرہ شخص کے اپنے ہی جسم پر حملہ آور ہوتی ہیں، جبکہ سائٹوکائینِس، سوزش یا ورم کا باعث بنتے ہیں۔ پروفیسر شِموہاتا کے مطابق عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ یہ مادے خون کے بہاؤ کے ذریعے دماغ تک پہنچ کر سوزش یا ورم پیدا کرتے ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ اس تکلیف کا فی الوقت کوئی علاج معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ ڈاکٹر اس تکلیف کی علامات کی شدت کم کرنے کا ہی علاج کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس تکلیف کے لاحق ہونے کی وجوہات سمجھنے اور علاج کا بہتر طریقہ تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

یہ معلومات 8 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 440: طویل مدتی کووِڈ
5- بے علامتی، معمولی اثرات کے باوجود ممکنہ مابعد اثرات

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہم اس تازہ ترین سلسلے میں کووِڈ-19 سے متاثر ہونے کے بعد کے درمیانی اور طویل مدتی اثرات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، جنہیں لانگ کووِڈ یا طویل مدتی کووِڈ کہا جاتا ہے۔ آج ہم یہ حالت پیدا ہونے کے خطرات کا جائزہ لیں گے۔

امریکہ کی ییل یونیورسٹی میں مدافعتی حیاتیات کی پروفیسر اِیواساکی آکیکو کہتی ہیں کہ بعد کے اثرات پیدا ہونے کا خدشہ صرف اُن افراد تک محدود نہیں جو کورونا وائرس سے شدید متاثر ہوئے تھے۔

امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کووِڈ کے بعد کے اثرات سے متاثر ہونے والے 75 فیصد افراد جب وائرس سے متاثر ہوئے تو اُس وقت انہیں ہسپتال میں داخلے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ محققین کو یقین ہے کہ وائرس سے متاثر ہوتے وقت مرض کی علامات بہت ہلکی ہونے یا بالکل نہ ہونے والے افراد میں بھی طویل کووِڈ کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔

پرفیسر ایواساکی کے مطابق، اس کی سب سے زیادہ ممکنہ وضاحت یہ ہو سکتی ہے کہ کورونا وائرس جسم کے کسی حصے میں خاموشی سے موجود رہتا ہے اور سوزش پیدا کرتا ہے، جو بعد ازاں جسم کے کسی دوسرے عضو میں مرض کی علامات کا باعث بنتی ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ بعض کیسوں میں وائرس سے متاثر ہوتے وقت علامات بالکل ظاہر نہ ہونےوالے افراد میں بھی متاثر ہونے کے 2 یا 3 ماہ بعد ایسی علامات ظاہر ہوئیں جو طویل کووِڈ سے ملتی جلتی تھیں۔ ایسی رپورٹس بھی ہیں جن کے مطابق ویکسین لگوا چکے افراد میں بھی کم شرح میں لیکن طویل کووِڈ کی علامات والے افراد پائے گئے۔ تاہم، ان کی شرح مختلف رپورٹوں میں مختلف ہے۔ پروفیسر ایواساکی کہتی ہیں کہ ہم خود کو صرف اس لیے محفوظ نہیں سمجھ سکتے کہ ہم ویکسین لگوا چکے ہیں۔

یہ معلومات 7 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 439: طویل مدتی کووِڈ
4- طویل مدتی کووڈ کی علامات رُوپذیر ہونے کی وجہ کیا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس حالیہ سلسلے میں کووِڈ-19 سے متاثر ہونے کے بعد لاحق ہونے والی علامات یعنی طویل مدتی کووڈ کے نام سے موسوم انفیکشن کے وسط مدتی اور طویل مدتی اثرات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج کی قسط اس امر کے بارے میں ہے کہ ’’کووڈ-19 کے بعد کی حالت کی علامات کیسے رُوپذیر ہوتی ہیں۔

کووڈ 19 کے بعد لاحق ہونے والی علامات کے بارے میں ہم کس حد تک جانتے ہیں؟ امریکہ کی ییل یونیورسٹی میں مدافعتی ردعمل اور بیماری کے خلاف مدافعت کے حیاتیاتی پہلو کی ماہر پروفیسر محترمہ اِیواساکی آکیکو چار مفروضے پیش کرتی ہیں۔

1۔ انفیکشن کے باعث کھانسی آنے یا تیز بخار چڑھنے کی ابتدائی علامات دور ہونے کے باوجود وائرس کے باقی ماندہ ٹکڑے طویل عرصے تک جسم میں موجود رہتے ہیں اور سوزش کا باعث بنتے ہیں۔
2۔ جسم کی حفاظت پر مامور مدافعتی نظام اس پر حملہ کرتے ہیں۔
3۔ انفیکشن سے متاثرہ جسمانی اعضاء سست رفتاری سے گزشتہ حالت میں واپس آتے ہیں۔
4۔ کووڈ-19 شروع ہونے سے پہلے ہی جسم میں موجود ہرپ وائرس جیسے وائرسوں کو نئی زندگی مل جاتی ہے۔

پروفیسر اِیواساکی کے مطابق، یہ ممکن ہے کہ طویل مدتی کووڈ سے پیدا ہونے والی طرح طرح کی علامات کا سبب مذکورہ ایک یا ایک سے زائد عوامل ہوں۔

یہ معلومات 6 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 438: طویل مدتی کووِڈ
3- کووِڈ-19 کے بعد کی حالت کی علامات کیا ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں وسط اور طویل مدتی اثرات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے جنہیں کووِڈ-19 کے بعد کی حالت یا طویل مدتی کووِڈ کہا جاتا ہے۔ آج کی قسط اس بارے میں ہے کہ ’’ کووِڈ-19 کے بعد کی حالت کی کونسی تعریف طے کی گئی ہے"۔

عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او، کووڈ 19 سے ممکنہ یا مصدقہ متاثر ہونے والے مریضوں میں عام طور پر انفیکشن شروع ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر ظاہر ہونے اور کم سے کم دو ماہ جاری رہنے والی تکلیف کو کووڈ 19 کے بعد کی حالت قرار دیتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس تکلیف کی علامات اور اثرات کی کسی متبادل تشخیص سے توجیہہ پیش نہ کی جا سکتی ہو۔

تاہم، ایسی کئی اقسام کی علامات ہیں جو عالمی ادارۂ صحت کی تعریف پر پورا اترتی ہیں اور بعض ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا وہ سب ہی درحقیقت کورونا وائرس انفیکشن کے باعث پیدا ہوئی ہیں۔

کوچی یونیورسٹی کے پروفیسر یوکویاما آکی ہِیتو جنہوں نے جاپان کی وزارتِ صحت کی ایک تحقیقی ٹیم کی قیادت کی، وہ کہتے ہیں کہ "ہمارے سروے کے نتائج کے مطابق، اس بات کا تعین کرنا بہت مشکل ہے کہ آیا مذکورہ علامات کورونا وائرس انفیکشن کے مابعد اثرات ہیں یا نہیں، کیونکہ ہمارے پاس انفیکشن کا شکار ہوئے بغیر ایسی علامات کی شکایت کرنے والوں کا ڈیٹا نہیں ہے۔ تاہم، گردوں کے عکس میں غیرمعمولی پن ظاہر ہونے اور سانس لینے میں دشواری کی شکایت ہونے کی صورت میں غالب امکان ہے کہ مریض وائرس کے مابعد اثرات سے متاثر ہو رہے ہوں۔ لیکن نیند میں بے قاعدگی اور ذہنی صحت کے مسائل جیسی علامات میں یہ بتانا مشکل ہے کہ آیا ان کا سبب کورونا وائرس انفیکشن ہے یا نہیں۔ دیگر وجوہات کے باعث بھی ایسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں اور مناسب تشخیص نہ کیے جانے کی صورت میں مریض کی تکلیف بڑھ سکتی ہے۔ کووِڈ-19 کے بعد کی حالت کے طور پر بیان کی گئیں بعض تکالیف کی حقیقی وجہ دیگر بیماریاں ہو سکتی ہیں جن کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

پروفیسر یوکویاما آکی ہِیتو نے یقین ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی علامات کا صحت مند یا کورونا وائرس کے بغیر دیگر وجوہات کے باعث نمونیا سے متاثرہ افراد کی علامات سے موازنہ کر کے طویل مدتی کووڈ کو مستقبل میں درست انداز میں سمجھنا ضروری ہو جائے گا۔

یہ معلومات 5 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 437: طویل مدتی کووِڈ 2
2- وزارت صحت کی تحقیق

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارا یہ نیا سلسلہ اُن علامات کے بارے میں ہے، جنہیں طویل مدتی کووِڈ کا نام دیا گیا ہے۔ آج وزارتِ صحت کے جائزے سے متعلق دوسری قسط پیش کی جا رہی ہے۔

کےاو یونیورسٹی کے پروفیسر فُوکُوناگا کواِچی کی زیر قیادت وزارت صحت کی ایک تحقیقی ٹیم نے کووِڈ-19 کی ہلکی علامات والے ایک ہزار سے زائد مریضوں کا جائزہ لیا۔ محققین نے ان سے دریافت کیا کہ تشخیص کے ایک سال بعد وہ کن علامات سے پریشان ہوئے۔

محققین کو معلوم ہوا کہ 12.8 فیصد افراد کو متاثر ہونے کے ایک سال بھی جلد تھکاوٹ کا مسئلہ درپیش ہے۔ 8.6 فیصد کو سانس لینے میں دشواری تھی۔ 7.5 فیصد نے پٹھوں کے سکڑنے اور کمزور ہونے کی شکایت کی۔ 7.2 فیصد نے یادداشت کی کمزوری اور 7 فیصد نے نیند میں بے قاعدگی کا ذکر کیا۔ 6.4 فیصد نے جوڑوں میں درد جبکہ 5.5 فیصد نے پٹھوں میں درد کی شکایت کی۔ 5.4 فیصد نے سونگھنے کی حِس کے مسائل کا ذکر کیا تو 5.1 فیصد نے بال گرنے کی شکایت کی۔ 5 فیصد نے سردرد، 4.7 فیصد نے ذائقے کی حس، 4.6 فیصد نے کھانسی، 3.9 فیصد نے اعضاء کے سُن ہو جانے اور 3.6 فیصد مریضوں نے بصارت کے مسائل کی شکایت کی۔ مجموعی طور پر تقریباً 33 فیصد مریضوں نے کسی نہ کسی علامت سے متاثر ہونے کی شکایت کی۔

گزشتہ روز تفصیلی بیان کیے گئے جائزے کی طرح، محققین نے وائرس سے متاثر نہ ہونے والوں کا تقابلی جائزہ نہیں لیا۔ چنانچہ ان کے مطابق اس بات کی تصدیق نا ممکن ہے کہ ان میں سے ہر علامت کا تعلق کووِڈ-19 کے طویل مدتی اثرات سے ہے۔ ان علامات کے کئی طرح کے علاج آزمائے جا چکے ہیں، لیکن وہ تمام ہی خاص نوعیت کے علاج کی بجائے محض ان علامات کے علاج پر مشتمل ہیں۔

یہ معلومات 4 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 436: طویل مدتی کووڈ 1
وزارت صحت کی تحقیق-1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں 2022 کے ماہِ جون کے اختتام تک کورونا وائرس انفیکشنز کے 93 لاکھ سے زائد کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ کئی مریضوں کو صحت یابی کے بعد بھی خرابی صحت کے مسائل سے دوچار ہونا پڑا۔ ان مسائل کو ماہرین نے کورونا وائرس کے ضمنی اثرات یا طویل مدتی کووڈ قرار دیا ہے۔ آج اور بعد ازاں پیش کی جانے والی اقساط میں اب تک حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں طویل مدتی کووڈ قرار دیے جانے والے ضمنی اثرات اور ان کی شدت کی تفصیل پیش کی جائے گی۔

کوچی یونیورسٹی کے پروفیسر یوکویاما آکی ہیتو کی زیر قیادت وزارت صحت کی ایک تحقیقی ٹیم نے ستمبر 2021 تک ایک سالہ عرصے میں ملک بھر میں کووڈ کی معتدل یا شدید علامات کے باعث ہسپتال داخل ہونے والے 1 ہزار سے زائد مریضوں کا سروے کیا تھا۔ محققین نے ڈاکٹروں کی رپورٹوں اور سوالناموں کے مریضوں کی طرف سے جوابات کی روشنی میں ہر تین ماہ بعد ان کی صحت کو لاحق مسائل کا جائزہ لیا۔

انفیکشن کے تین ماہ بعد، سروے کردہ 50 فیصد کے قریب مریضوں نے پٹھوں میں کمزوری، 30 فیصد نے سانس لینے میں دشواری، 25 فیصد نے تھکاوٹ طاری ہونے، 20 فیصد سے زائد تعداد نے بے خوابی اور 18 فیصد کے قریب مریضوں نے توجہ مرکوز کرنے میں مشکل پیش آنے، پٹھوں میں درد اور کھانسی آنے کی شکایت کی۔ بعض نے ایک سے زائد علامات باقی رہنے کا بھی بتایا۔

کووڈ کے بعد ایسی علامات کی شکایت کرنے والوں کی تعداد وقت گزرنے کے ساتھ کم ہوتی گئی۔ انفیکشن کے ایک سال بعد، 10.1 فیصد افراد نے بے خوابی، 9.3 فیصد نے پٹھوں میں کمزوری، 6 فیصد نے سانس لینے میں دشواری، 5.3 فیصد نے توجہ مرکوز کرنے میں مشکل، 5 فیصد نے کھانسی آنے، 4.9 فیصد نے تھکاوٹ طاری ہونے اور 4.6 فیصد نے پٹھوں میں درد کی شکایت کی۔

مجموعی تعداد کے 13.6 فیصد افراد نے کوئی نہ کوئی شکایت باقی رہنے کا بتایا۔

محققین کے مطابق، کووڈ کے دوران سانس لینے میں انتہائی دشواری محسوس نہ کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ دشواری محسوس کرنے والے مریضوں میں بقیہ لوگوں سے زیادہ شدید طویل مدتی کووڈ ہونے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

یہ معلومات یکم جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 435: چہرے کے ماسک کا استعمال اور لُو سے بچاؤ کے اقدامات -3
صورتحال کے مطابق فیصلہ کریں

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس تازہ ترین سلسلے میں ہم درجۂ حرارت بڑھنے کے دوران لُو لگنے سے بچتے ہوئے ماسک کے مؤثر استعمال کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ آج ہم اس امر کا جائزہ لیں گے کہ اس بات کا فیصلہ کرتے ہوئے کہ مخصوص حالات میں ماسک پہنا جائے یا نہیں، کن باتوں کو مدِ نظر رکھا جائے۔

ہم نے اس بارے میں ناگویا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر اور عالمی ادارۂ صحت کی لُو لگنے کے خطرات کا مطالعہ کرنے والی ٹیم کے رکن ہیراتا آکی ماسا سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں لُو لگنے سے بچنے کیلئے مسلسل محتاط رہنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر اس موسم میں جب درجۂ حرارت اور ہوا میں نمی کا تناسب دونوں بہت بلند ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب لوگ ماسک پہنے ہوئے ہوں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں کتنی پیا س لگ رہی ہے جس کے باعث وہ پانی یا مشروبات وغیرہ کم پیتے ہیں۔ پروفیسر ہیراتا نے وضاحت کی کہ بتایا جاتا ہے کہ لُو اُس وقت لگتی ہے جب جسم میں پانی ختم ہو جاتا ہے اور آپ کا درجۂ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ وہ لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ شعوری طور پر کافی مقدار میں پانی یا مشروب وغیرہ پیتے رہیں کیونکہ جب آپ کافی مقدار میں پانی وغیرہ نہیں پیتے اور جسم میں پانی ختم ہونے کے قریب ہو جائے تو لُو لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس سوال پر کہ ماسک پہننے کے معاملے کو کیسے سنبھالا جائے، پروفیسر ہیراتا کہتے ہیں کہ اگر دوسرے لوگوں سے مناسب فاصلہ ہو تو ماسک اتارنے میں کوئی عار نہیں ہے جبکہ لوگوں کو ایسی جگہوں پر ماسک پہننا چاہیے جہاں انفیکشن ہونے کا خطرہ زیادہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اہم ترین بات یہ ہے کہ جگہ اور صورتحال کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔

یہ معلومات 14 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 434: چہرے کے ماسک کا استعمال اور لُو سے بچاؤ کے اقدامات-2
کیا ماسک کے اپنے خطرات ہیں؟

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے چہرے کے ماسک کا استعمال گرم موسم میں کچھ منفی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔ اس تازہ ترین سلسلے میں ہم درجۂ حرارت بڑھنے اور لُو لگنے سے بچتے ہوئے ماسک کے مؤثر استعمال کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا ماسک سے لُو لگنے کے خطرے میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں۔

ہم نے ناگویا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر اور عالمی ادارۂ صحت کی لُو لگنے کے خطرات کا مطالعہ کرنے والی ٹیم کے رکن ہیراتا آکی ماسا سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ماضی کے مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ماسک سے ڈھکے ہوئے یا اس کے ارد گرد کے حصوں کے علاوہ باقی جسم کے درجۂ حرارت پر اس کے انتہائی معمولی اثرات پڑتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ماسک لگائے ہوئے افراد کے جسم کے اندرونی درجۂ حرارت میں 0.06 سے 0.08 درجے سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوتا ہے، جو لُو لگنے کے معیار یا ایک درجے سینٹی گریڈ سے بہت کم ہے۔

پروفیسر ہیراتا کہتے ہیں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسک لگانے سے لُو لگنے کے امکانات میں نمایاں اضافہ نہیں ہوتا۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ ماسک لگا کر سخت ورزش کرنے سے لُو لگنے کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ چھوٹے بچوں میں ماسک استعمال کرنے کے باعث لُو لگنے میں اضافے کے امکانات کے بارے میں زیادہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ وہ زور دیتے ہیں کہ اس سلسلے میں حکومتی رہنماء خطوط کی مطابق لُو لگنے سے بچاؤ کیلئے بچوں کے سرپرستوں کو پہلے سے زیادہ احتیاط برتنے کی تنبیہ کی جائے۔

یہ معلومات 13 جون تک کی ہیں۔

سوال نمب433: ماسک پہننا اور لُو لگنے سے بچنے کے لیے اقدامات -1
ماسک کا مؤثر استعمال کیسے کیا جائے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس انفیکشن کی روکتھام کے لیے احتیاطی تدابیر میں دیگر کے علاوہ ماسک پہننا بھی شامل ہے۔ لیکن گرم موسم میں ماسک پہننے سے گرمی اور گھٹن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں گرمی میں اضافے کے باعث لُو لگنے سے بچنے کے لیے ماسک کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔

حکومت جاپان نے کورونا وائرس کے خلاف بنیادی احتیاطی تدابیر میں تبدیلیوں کا 23 مئی کو اعلان کیا ہے۔

حکام کے مطابق وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر میں ماسک پہننا اب بھی انتہائی اہمیت کا حاصل ہے، لیکن مخصوص حالات میں ماسک اتارنے کی بھی اجازت ہے۔

گھر سے باہر، دوسروں کے ساتھ 2 میٹر یا اس سے زائد فاصلہ برقرار رکھنے کی صورت میں ماسک اتارا جا سکتا ہے۔ لوگ نزدیک ہونے کی صورت میں گفتگو کرنے کی نوبت پیش نہ آنے پر بھی ماسک پہننا ضروری نہیں۔ حکومت نے خاص کر گرمیوں کے مہینوں میں لو لگنے سے بچنے کے لیے ماسک اتارنے کی سفارش کی ہے۔

اندرونی جگہوں پر، 2 میٹر یا اس سے زائد زائد فاصلہ برقرار رکھنے، اور کسی قسم کی گفتگو شاید ہی ہونے کی صورت میں ماسک اتارا جا سکتا ہے۔

اسکولوں میں، جسمانی تعلیم و تربیت کی کلاس میں ماسک اتارے جا سکتے ہیں۔ ان رہنماء اصولوں کا اطلاق اسکول کا وقت ختم ہونے کے بعد کلب کی سرگرمیوں پر بھی ہوتا ہے۔ کھیلوں کے مقابلوں میں کھلاڑیوں کے قریب آنے یا ایک دوسرے کو چھونے کا امکان ہونے کی صورت میں کھیلوں کی تنظیموں کی طرف سے جاری کردہ رہنما اصولوں پر عمل کیا جانا چاہیے۔

2 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ماسک پہننا ضروری نہیں ہے۔ 2 سالہ اور پرائمری اسکول جانے کی عمر کو نہ پہنچنے والے بچوں کے لیے کنڈرگارٹن یا نرسری اسکولوں میں موجودگی کے دوران فاصلے سے قطع نظر ماسک پہننا ضروری نہیں ہے۔

یہ معلومات 10 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر432: بچوں کی ویکسینیشن -9 کیا بچوں کو ویکسین کا ٹیکہ لگوانا چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس حالیہ سلسلے میں بچوں اور ان کے سرپرستوں کو بچوں کی ویکسینیشن کروانے یا نہ کروانے کا مل کر فیصلہ کرنے میں مدد دینے کے لیے نئے اعداد و شمار سمیت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ آج اس سلسلے کی آخری قسط میں بچوں کو ویکسین کا ٹیکہ لگانے کے بارے میں ایک ماہر کی رائے پیش کی جا رہی ہے۔

کِتاساتو یونیورسٹی کے پروفیسر اور ویکسینیشن پر دسترس رکھنے والے ماہرِ امراضِ اطفال پروفیسر ناکایاما تیتسُواو نے ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کیا ہے۔ وہ شدید دمے جیسی بیماریوں میں پہلے سے مبتلا بچوں کو ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کی سفارش کرتے ہیں، لیکن صحت کے کسی بھی قسم کے مسٔلے سے دوچار نہ ہونے والے بچوں کے اہل خانہ کو بچے کے طرز زندگی اور گھر کے اندرونی حالات کے مطابق فیصلہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ پروفیسر ناکایاما، اسکول سے باہر کی سرگرمیوں یا اسکول کلب کی سرگرمیوں میں شرکت یا کھیلوں میں حصہ لینے سمیت لوگ جمع ہونے والے مقامات پر کثرت سے جانے والے بچوں کی ویکسینیشن کروانے کی سفارش کرتے ہیں۔ انہوں نے گھر میں ماں یا باپ کے والدین کی موجودگی کی صورت میں بھی ان معمر افراد کو کسی بھی قسم کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے بچوں کی ویکسینیشن کروانے پر زور دیا ہے۔

پروفیسر ناکایاما کہتے ہیں کہ صحت مندانہ زندگی گزارنے کے لیے ویکسینیں عمومی طور پر ہماری مدد کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر خسرہ سے متاثرہ ایک ہزار میں سے صرف ایک فرد میں دماغی سوزش سمیت شدید علامات پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود، لوگ خسرہ سے محفوظ رہنے کے لیے ویکسینیشن کرواتے ہیں اور انہیں شاذونادر ہی یہ بیماری ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کورونا ویکسین کو بھی دیگر تمام ویکسینوں جیسا ہی سمجھنا چاہیے۔ پروفیسر ناکایاما نے لوگوں کیلئے ویکسینوں اور متعدی بیماریوں کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

یہ معلومات 18 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر431: بچوں کی ویکسینیشن -8 کیا ہمیں ویکسین کی نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں تشویش ہونی چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں بچوں اور ان کے سرپرستوں کو بچوں کی ویکسینیشن کروانے یا نہ کروانے کا مل کر فیصلہ کرنے میں مدد دینے کے لیے نئے اعداد و شمار سمیت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ آج کی قسط میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا ہمیں اس وجہ سے کورونا وائرس ویکسین سے متعلق تشویش ہونی چاہیے یا نہیں کہ اس میں نئی ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے؟

دنیا میں پہلی بار پیغام رساں RNA ٹیکنالوجی کورونا وائرس ویکسین میں استعمال کی جا رہی ہے۔ بیماری کے علاج کیلئے اس کے ممکنہ استعمال کی غرض سے اس ٹیکنالوجی پر 30 سال سے زائد عرصے تحقیق کی گئی ہے۔ پیغام رساں RNA ایک ایسا مادہ ہے جو بہ آسانی الگ الگ ہو جاتا ہے۔ یہ ٹوٹ جاتا ہے اور ویکسین لگائے جانے کے چند روز بعد غائب ہو جاتا ہے۔

جاپان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جسم میں باقی نہ رہنے کی وجہ سے اس کا ناموافق اثر نہیں ہو گا۔ وزارت کا مزید کہنا ہے کہ دہائیوں بعد بھی ویکسینیشن کی وجہ سے بیماری ہونے کے امکان پر یقین کرنا مشکل ہے۔

یہ معلومات 17 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر430: بچوں کی ویکسینیشن -7 سنگین ضمنی اثرات کے کیا امکانات ہیں؟

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس نئے سلسلے میں ہم بچوں اور ان کے سرپرستوں کو ڈیٹا سمیت معلومات فراہم کر رہے ہیں تاکہ انہیں یہ طے کرنے میں مدد مل سکے کہ بچوں کو ویکسین لگوانی چاہیے یا نہیں۔ آج کی قسط میں ویکسینیشن کے باعث سنگین ضمنی اثرات کے امکان پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

جاپان کی وزارت صحت کے مطابق، ویکسین لگائے جانے کے بعد چند متاثرین میں دل کے پٹھوں کی سُوجن کا پتہ چلا ہے جس سے دل کے افعال متاثر ہو سکتے ہیں۔ یکم اپریل تک جاپان میں 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کو ویکسین کی 15 لاکھ 34 ہزار خوراکیں دی جا چکی تھیں۔ تاہم صرف ایک بچے میں یہ علامات نمودار ہوئیں۔

امریکہ میں بچوں کو ویکسین لگانے کا آغاز جاپان سے قبل ہوا تھا، اور وہاں پر ضمنی اثرات سے متعلق زیادہ تحقیق کی گئی ہے۔ امریکہ کے بیماریوں پر کنٹرول اور روک تھام کے مرکز کے مطابق، 10 لاکھ لڑکوں کو ویکسین کا پہلا ٹیکہ فراہم کیے جانے کے بعد کسی میں بھی دل کو متاثر کرنے والے ضمنی اثرات سامنے نہیں آئے تھے۔ دوسری ویکسین کے بعد ان ضمنی اثرات کی شرح 4.3 تھی۔

لڑکیوں کے معاملے میں پہلی ویکسین کے بعد کے اعداد و شمار ناکافی تھے۔ دوسری ویکسین لگانے کے بعد ہر 10 لاکھ بچیوں میں سے 2 بچیوں میں ایسے ضمنی اثرات سامنے آئے۔ تمام کیسوں میں علامات نہایت معمولی تھیں اور تمام بچے ٹھیک ہو گئے۔

امریکی رپورٹس کے مطابق، ویکسین لگوانے کے بعد صرف 2 بچوں کی موت ہوئی ہے۔ لیکن یہ دونوں بچے ویکسین لگوانے سے قبل بھی پوشیدہ امراض کا شکار ہونے کے باعث صحتمند نہیں تھے۔ ایسا کوئی ڈیٹا نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ ان کی موت ویکسین کے باعث ہوئی۔

یہ معلومات 16 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر429: بچوں کی ویکسینیشن -6 ممکنہ ضمنی اثرات؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں کو ویکسین کے ٹیکے رواں سال فروری سے لگانا شروع کیے گئے ہیں۔ ہمارے اس حالیہ سلسلے میں بچوں اور ان کے سرپرستوں کو بچوں کی ویکسینیشن کروانے یا نہ کروانے کا مل کر فیصلہ کرنے میں مدد دینے کے لیے نئے اعداد و شمار سمیت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ آج کی قسط میں بچوں کی ویکسینیشن کے ممکنہ ضمنی اثرات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

ویکسینیشن کی وجہ سے مضر ضمنی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے بعد بخار ہو سکتا ہے یا ٹیکہ لگائے گئے مقام پر درد محسوس ہو سکتا ہے کیونکہ ہمارا جسمانی دفاعی نظام ویکسین کے خلاف ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ نظام کورونا وائرس کو شناخت کرنا ’’سیکھ‘‘ لیتا ہے۔ آئیے ان مخصوص علامات پر نظر دوڑاتے ہیں۔

امریکی ادویات ساز کمپنی فائزر کی جانب سے ویکسین کا ٹیکہ لگوانے والے بچوں کے ایک مطالعاتی جائزے کے مطابق، پہلا ٹیکہ لگوانے کے بعد 74 فیصد کیسز میں، اور دوسرا ٹیکہ لگوانے کے بعد 71 فیصد کیسز میں ٹیکہ لگنے والی جگہ کے اردگرد درد محسوس ہوا۔ 34 فیصد کیسز میں پہلے ٹیکے کے بعد اور 39 فیصد کیسز میں دوسرے ٹیکے کے بعد تھکاوٹ طاری ہونے کی اطلاع دی گئی۔ پہلے ٹیکے کے بعد 3 فیصد کیسز میں اور دوسرے ٹیکے کے بعد 7 فیصد کیسز میں 38 ڈگری سیلسیئس یا اس سے زیادہ بخار چڑھنے کا بتایا گیا۔

جائزے کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ بڑوں کے مقابلے میں 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں میں ویکسین لگوانے کے بعد ضمنی اثرات مرتب ہونے کا امکان نسبتاً کم ہے۔ بیشتر بچوں کو پٹھوں میں درد یا بازو ہلانے میں مشکل جیسی معمولی تکلیف ہوتی ہے، لیکن یہ تکلیف بھی عموماً ایک یا دو روز میں ختم ہو جاتی ہے۔

یہ معلومات 13 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 428: بچوں کی ویکسینیشن -5 ویکسینیشن کتنی مؤثر ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں کو ویکسین کے ٹیکے رواں سال فروری سے لگانا شروع کیے گئے ہیں۔ ہمارے اس حالیہ سلسلے میں بچوں اور ان کے سرپرستوں کو بچوں کی ویکسینیشن کروانے یا نہ کروانے کا مل کر فیصلہ کرنے میں مدد دینے کے لیے نئے اعداد و شمار سمیت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ آج کی قسط میں بچوں کو انفیکشن سے بچانے میں ویکسینیشن کے مؤثر ہونے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

امریکی ادویات ساز کمپنی فائزر نے 2021 میں 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں پر اپنی ویکسین کی آزمائش کی۔ اس ادویات ساز کمپنی کے مطابق، آزمائش کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ دوسری خوراک کا ٹیکہ لگوانے کے 7 روز یا اس سے زائد عرصے بعد ظاہری علامات کے ساتھ انفیکشن ہونے کی روکتھام میں ان کی ویکسین 90.7 فیصد مؤثر ثابت ہوئی۔

لیکن جاپان اور دنیا کے دیگر حصوں میں آج کل پھیلنے والی کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے خلاف یہ ویکسین پہلے جتنی مؤثر نہیں پائی گئی ہے۔

امریکی محققین کی رواں سال 11 مارچ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ایک مطالعاتی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ فائزر ویکسین کے دو ٹیکے 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں میں اومی کرون سے انفیکشن ہونے کا خطرہ 31 فیصد تک کم کر سکے ہیں۔

30 مارچ کو شائع ہونے والے امریکی محققین کے ایک مطالعاتی جائزے میں کہا گیا ہے کہ اومی کرون کے پھیلاؤ کے دوران 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں کے ہسپتال داخلے کی روکتھام میں یہ ویکسین 68 فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ جائزے کے مطابق انفیکشن کی شدید علامات سے متاثرہ تقریباً تمام ہی بچوں نے ویکسین نہیں لگوا رکھی تھی۔

ان اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ ویکسینیشن سے انفیکشن کی مکمل روکتھام تو نہیں کی جا سکتی، لیکن انفیکشن سے شدید علامات ظاہر ہونے اور ان علامات کے باعث ہسپتال داخل ہونے کی روکتھام میں ویکسینیشن مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

یہ معلومات 12 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 427: بچوں کی ویکسینیشن -4 بچوں میں کورونا وائرس کی علامات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں کو ویکسین کے ٹیکے رواں سال فروری سے لگانا شروع کیے گئے ہیں۔ ہمارے اس حالیہ سلسلے میں بچوں اور ان کے سرپرستوں کو بچوں کی ویکسینیشن کروانے یا نہ کروانے کا مل کر فیصلہ کرنے میں مدد دینے کے لیے نئے اعداد و شمار سمیت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ آج کی قسط میں بچوں میں کووڈ-19 کی علامات کے بارے میں اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں۔

جاپان کی وزارت صحت کے مطابق 19 اپریل تک کےایک ہفتے کے دوران ملک بھر میں کورونا وائرس انفیکشن سے 3 لاکھ 14 ہزار 370 افراد متاثر ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ ان افراد میں 10 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 47 ہزار 659 یا کُل متاثرہ افراد کا 15.2 فیصد تھی، جو عمر کے تمام گروپوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

عالمی وبا کے آغاز سے گزشتہ دو سالوں کے دوران کورونا وائرس سے 10 سال سے کم عمر 9 لاکھ 59 ہزار 662 بچے متاثر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے چار جانبر نہ ہو سکے۔

19 اپریل تک کے ایک ہفتے کے دوران 4 بچوں کی حالت تشویشناک تھی۔

انفیکشن سے متاثرہ بیشتر بچوں میں خرابیٔ طبیعت کی ہلکی پھلکی علامات ظاہر ہوتی ہیں، لیکن بعض اوقات ان علامات میں تیز بخار، الٹی آنا اور گلے میں سوجن کے باعث سانس لینے میں دشواری بھی شامل ہو سکتی ہے۔

بچوں کے ڈاکٹروں کے ایک گروپ، جاپان طب اطفال سوسائٹی کے مطابق دل اور پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا بچوں میں انفیکشن سے علامات میں شدت آنے کا خطرہ دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ انفیکشن سے متاثر ہونے کے باوجود طبیعت خراب نہ ہونے والے بچوں میں بھی کھانسی اور سانس لینے میں دشواری جیسے ضمنی اثرات بعد ازاں ظاہر ہو سکتے ہیں۔

یہ معلومات 11 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 426: بچوں کی ویکسینیشن -3 کیا بچوں کو ویکسین لگائی جانی چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں کو ویکسین کے ٹیکے رواں سال فروری سے لگانا شروع کر دیے گئے ہیں۔ ہمارے اس نئے سلسلے میں بچوں اور ان کے سرپرستوں کو، بچوں کی ویکسینیشن کروانے یا نہ کروانے کا فیصلہ مل کر کرنے میں مدد دینے کے لیے نئے اعداد و شمار سمیت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ آج کی قسط میں ہم اس سوال پر بات کریں گے کہ ’’کیا بچوں کو ویکسین لگوانی چاہیے؟‘‘۔

ہر خاندان کو مختلف صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ سوچنے کا اپنا انداز رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ فیصلہ کیا جائے کہ آیا بچوں کو ویکسین لگوانی چاہیے یا نہیں تو کس بات پر غور کیا جائے؟

اہم بات یہ ہے کہ ویکسین لگوانے کے متوقع فوائد اور ممکنہ خطرات پر غور کیا جائے۔

فوائد میں خود بچوں کو وائرس سے متاثر ہو جانے اور شدید بیمار پڑنے سے بچانا، وائرس کو دیگر لوگوں تک پھیلنے سے روکنا اور اسکول و دیگر جگہوں پر زیادہ آرام دہ محسوس کرنا شامل ہے۔ خطرات میں ضمنی اثرات ظاہر ہونے کا خطرہ شامل ہے اور یہ اثرات، ویکسین کے نہ چاہے جانے والے ردعمل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن دیگر نکات پر غور کیا جانا چاہیے وہ یہ حقیقت ہے کہ کورونا وائرس انفیکشن بچوں میں وسیع پیمانے پر پھیل رہا ہے اور یہ کہ جاپان میں متاثرہ بچوں میں شدید علامات پیدا ہونے کے واقعات شاذ و نادر ہی سامنے آئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ غور کرنے کا ایک اور نکتہ یہ ہے کہ ویکسینیں، وائرس کی جاپان اور دنیا بھر میں غالب آ جانے والی قِسم اومی کرون سے انفیکشن کی روکتھام میں پہلے سے کم مؤثر ہوتی جا رہی ہیں۔

کورونا وائرس ویکسینیشن دیگر عمر کے گروپوں کی طرح 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں کیلئے بھی مفت ہے۔ لیکن خسرہ ،چکن پاکس اور جاپانی دماغی سوزش کی ویکسینیشن کے برعکس بچوں کی کورونا وائرس ویکسینیشن کے لیے سرپرستوں پر کوشش کرنے کی قانونی پابندی نہیں ہے۔

خاندانوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ احتیاط سے غور کریں کہ کیا کِیا جائے۔ ہم اگلی قسط سے لوگوں کو فیصلہ کرنے میں مدد دینے کی غرض سے ڈیٹا فراہم کریں گے۔

یہ معلومات 10 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 425: بچوں کی ویکسینیشن -2 ویکسینیں کیسے کام کرتی ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں کو ویکسین کے ٹیکے رواں سال فروری سے لگانا شروع کر دیے گئے ہیں۔ ہمارے اس نئے سلسلے میں بچوں اور ان کے سرپرستوں کو، بچوں کی ویکسینیشن کروانے یا نہ کروانے کا فیصلہ مل کر کرنے میں مدد دینے کے لیے نئے اعداد و شمار سمیت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ آج کی قسط میں ویکسینوں کے کام کرنے کے طریقے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ویکسینیں ہمارے جسم کے مدافعتی نظام میں ردعمل پیدا کرتے ہوئے وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ یہ مدافعتی نظام وائرس یا جراثیم جیسے باہر سے داخل ہونے والوں پر حملہ کرتا ہے۔ کورونا وائرس کی بیرونی سطح سے کانٹوں کی طرح باہر نکلی ہوئی ’’اسپائیک پروٹینز‘‘ ہوتی ہیں۔ کورونا ویکسین میں ’’پیغام رساں RNA‘‘ ہوتا ہے۔ یہ ایک مادہ ہے جس کے پاس ’’اسپائیک پروٹینز‘‘ بنانے کے طریقے کی ہدایات ہوتی ہیں۔ جب بھی ویکسین کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے،ان ہدایات کی روشنی میں ’’اسپائیک پروٹینز‘‘ ہمارے جسم میں بنتی ہیں۔ ’’اسپائیک پروٹینز‘‘ کورونا وائرس کا حصہ ہوتی ہیں اور ہمارا مدافعتی نظام جانتا ہے کہ انہیں جسم میں نہیں ہونا چاہیے، لہٰذا وہ اینٹی باڈیز کہلانے والا ایک مادہ پیدا کرتا ہے، جو اس وائرس پر حملہ کرنے کیلئے ہتھیار کا کام دیتا ہے۔ اس طرح حقیقی وائرس کے جسم میں داخل ہونے کی صورت میں ہمارا جسم اُس سے مقابلہ کرنے کا طریقہ سیکھ لیتا ہے۔

اگر ویکسین کا ٹیکہ نہ لگوایا ہو، اور کورونا وائرس سے متاثر ہو جائیں، تو ہمارا مدافعتی نظام اینٹی باڈیز پیدا کرتے ہوئے اس وائرس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان اینٹی باڈیز کی شکل جسم میں داخل ہونے والے کورونا وائرس جیسی ہوتی ہے۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ ہمارے جسم میں اینٹی باڈیز کی بروقت اور بقدر ضرورت مقدار کافی تیزی کے ساتھ پیدا کرنے کی صلاحیت نہ ہو یا پھر وائرس اتنا طاقتور ہو سکتا ہے کہ جس کا اینٹی باڈیز مقابلہ نہ کر سکیں۔ ایسی صورت میں ہماری طبیعت خراب ہو جاتی ہے اور کھانسی آنے یا انتہائی تھکاوٹ طاری ہونے جیسی علامات نمودار ہوتی ہیں یا پھر ہم انتہائی بیمار ہو سکتے ہیں۔ ویکسین کا ٹیکہ لگوایا ہو تو ہمارا جسم وائرس کا مقابلہ کرنے والی اینٹی باڈیز پہلے سے تیار کر کے رکھتا ہے۔ ہم وائرس کے آئندہ حملے کا مقابلے کرنے کے لیے جسم کو پہلے سے تیار رکھتے ہوئے انفیکشن ہونے، طبیعت خراب ہونے اور انتہائی بیمار پڑنے کی قبل از وقت روکتھام کر سکتے ہیں۔

یہ معلومات 9 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 424: بچوں کی ویکسینیشن -1 ویکسین کے ٹیکے اب تک کتنے بچوں کو لگائے جا چکے ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں دو ماہ سے زائد عرصہ پہلے سے 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں کو ویکسین کے ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔ عمر کے اس گروپ میں آنے والے تقریباً 9 فیصد بچوں نے ویکسین کے دونوں ٹیکے لگوا لیے ہیں۔ وائرس سے بچوں کی طبیعت شدید خراب ہونے کا امکان اگرچہ نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم، متاثرہ بچوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی، جو تشویش کا باعث ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا بچوں کے لیے بھی خطرات کے مقابلے میں ویکسین لگوانے کا فائدہ زیادہ ہے؟ ہمارے اس نئے سلسلے میں بچوں اور ان کے سرپرستوں کو بچوں کی ویکسینیشن کروانے یا نہ کروانے کا مل کر فیصلہ کرنے میں مدد دینے کے لیے نئے اعداد و شمار سمیت معلومات فراہم کی جائیں گی۔

جاپان میں 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں کو ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز فروری 2022 ء میں ہوا۔ بچوں کو امریکی ادویات ساز کمپنی فائزر کی تیار کردہ ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ ویکسین کا پہلا ٹیکہ لگانے کے بعد تین ہفتے کا وقفہ دیا جا رہا ہے اور پھر دوسرا ٹیکہ لگایا جا رہا ہے۔ بچوں کے لیے ٹیکوں میں ویکسین کی مقدار، بالغوں کو دی جانے والی مقدار کے ایک تہائی کے برابر ہے۔

2 مئی 2022ء تک کے اعداد و شمار کے مطابق، پانچ تا 11 سال کی عمر کے 9 لاکھ 98 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین کا کم سے کم ایک ٹیکہ لگایا جا چکا ہے۔ ملک میں عمر کے اس گروپ والے بچوں کی مجموعی تعداد 74 لاکھ 10 ہزار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمر کے اس گروپ میں تقریباً 13.5 فیصد بچے ویکسین کا کم سے کم ایک ٹیکہ لگوا چکے ہیں۔ لگ بھگ 6 لاکھ 60 ہزار یا 8.9 فیصد بچے ویکسین کے دونوں ٹیکے لگوا چکے ہیں۔

بعض ملکوں نے جاپان سے پہلے بچوں کو ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز کر دیا تھا۔ امریکہ میں 20 اپریل تک 28.3 فیصد بچوں کو ویکسین کے دو ٹیکے لگائے جا چکے تھے۔ کینیڈا میں 10 اپریل تک 40.7 فیصد بچوں کی ویکسینیشن ہو چکی تھی۔

یہ معلومات 6 مئی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 423: متغیر اقسام “BA.2” اور “XE” کیا ہیں؟
6- انفیکشن کے خلاف بنیادی احتیاطی تدابیر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ موجودہ سلسلے میں کورونا وائرس کی نئی متغیر اقسام اور اٹھائے جانے والے ضروری اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کی آخری قسط میں ہم انفیکشن کے خلاف روزمرہ احتیاطی تدابیر پر توجہ مرکوز کریں گے۔

گزشتہ اقساط میں موضوع بحث رہنے والی ذیلی متغیر اقسام اور متغیر اقسام کے ملاپ سے بننے والی اقسام کے علاوہ اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام BA.4 اور BA.5 بھی ہیں جو جنوبی افریقہ اور دیگر جگہوں میں پائی گئیں۔ لیکن ماہرین کو ابھی طے کرنا ہے کہ یہ کس قدر متعدی یا مہلک ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت WHO، نے خبردار کیا ہے کہ ہمیں اب بھی وائرس کی کئی اقسام کے ملاپ سے کورونا وائرس کی نئی متغیر اقسام جنم لینے کے انتہائی خطرے کا سامنا ہے۔ WHO کے حکام کے مطابق، ان وجوہات کے باعث، ہمیں کورونا وائرس کا جینیاتی تجزیہ جاری رکھنا چاہیے اور ڈیٹا کا تبادلہ کرنا چاہیے۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کے پروفیسر ہامادا آتسُورو کہتے ہیں کہ BA.2 کی طرح BA.4 اور BA.5 بھی اومی کرون کی ذیلی متغیر اقسام ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سب اُس وقت پیدا ہوئیں جب انفیکشن اور اس کی افزائش کے عمل کے دوران متغیر قسم اومی کرون کے کورونا وائرس میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کسی نئی قسم کے بڑا خطرہ ثابت ہونے کا امکان سامنے آنے سے بھی پہلے ہمیں وائرس کی جنم لینے والی ہر نئی قسم پر نظر رکھنی ہو گی۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ اگرچہ ماہرین کو اندیشہ ہے کہ وائرس کی متغیر اقسام کے ملاپ سے بننے والی اقسام میں XE کے نسبتاً زیادہ متعدی ثابت ہونے کا امکان ہے، تاہم ہم ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ آیا یہ قسم انفیکشنز کی ایک اور بڑی لہر پیدا کرنے کا باعث ہو گی۔ پروفیسر ہامادا کہتے ہیں کہ ہمیں ایک بالکل مختلف الگ متغیر قسم کے جنم لینے کے امکان کے بارے میں خبردار رہنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی لیے ہمیں نہ صرف نگرانی کا نظام برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، بلکہ وائرس کا جینیاتی تجزیہ کرنا جاری رکھنا چاہیے۔

انٹرنیشنل یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ ویلفیئر کے پروفیسر وادا کوجی کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی اب تک پائی جانے والی متغیر اقسام میں رونما ہونے والی تبدیلیاں ہمارے تصورات سے بڑھ کر نہیں تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں وائرس میں آنے والی مزید تبدیلیوں پر نظر رکھنی ہو گی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ جناب وادا کو انفیکشن کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات میں کسی بڑی تبدیلی کی امید نہیں۔

جناب وادا کہتے ہیں کہ اب انفیکشنز کے پیچھے وائرس کی قسم BA.2 کا ہاتھ سب سے زیادہ ہے اور یہ رجحان XE کی جانب منتقل ہو سکتا ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ وائرس کی متغیر اقسام میں تبدیلی سے ہماری روزمرہ زندگی میں انفیکشن کے خلاف احتیاطی تدابیر میں تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی کووڈ 19 کا بُوسٹر یعنی تیسرا ٹیکہ لگوانے کی ضرورت کم ہو گی۔

یہ معلومات 28 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 422: متغیر اقسام “BA.2” اور “XE” کیا ہیں؟
5- کووڈ 19 کی متغیر اقسام کے ملاپ سے بننے والی اقسام

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس موجودہ سلسلے میں کورونا وائرس کی نئی متغیر اقسام اور اٹھائے جانے والے ضروری اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ آج ہم وائرس کی کئی متغیر اقسام کے ملاپ سے بننے والی اقسام کا جائزہ لیں گے۔

اس سلسلے کی گزشتہ قسط میں اومی کرون کی ذیلی اقسام “BA.1” اور “BA.2” کے ملاپ سے بننے والی قسم “XE” پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ لیکن متغیر اقسام کے ملاپ سے بننے والی “XE” واحد قِسم نہیں ہے۔

2021 کے موسم گرما کے دوران جاپان میں وائرس کی پانچویں لہر میں سب سے زیادہ پھیلنے والی متغیر قسم ڈیلٹا اور ذیلی قسم BA.1 کے ملاپ سے بننے والی دو اقسام “XD” اور “XF” ہیں۔

XD کا بیشتر حصہ ڈیلٹا پر مشتمل ہے لیکن اس کے گرد چڑھی ہوئی اسپائیک پروٹین BA.1 کی ہے۔

برطانیہ کے محکمۂ صحت کی دستاویزات کے مطابق XD کا سب سے پہلے 13 دسمبر 2021 میں پتہ لگایا گیا تھا۔ مذکورہ دستاویزات کے مطابق یکم اپریل 2022 تک XD سے متاثرہ افراد کی تعداد فرانس میں 66، ڈنمارک میں 8 اور بیلجیٔم میں ایک تھی۔

عالمی ادارۂ صحت WHO، نے XD کو اُن متغیر اقسام کی فہرست میں شامل کر لیا ہے، جن پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ VUM کہلائی جانے والی کووڈ 19 کی ان متغیر اقسام سے متاثرہ شخص میں ظاہر ہونے والی علامات کی شدت اور دستیاب ویکسینوں کا ان کے خلاف مؤثر ثابت ہونا یا نہ ہونا واضح نہیں ہے۔ WHO کے مطابق XD کا پھیلاؤ محدود ہے۔

XF اپنی اسپائیک پروٹین سمیت زیادہ تر BA.1 پر مشتمل ہے، لیکن اس میں ڈیلٹا کے کچھ عناصر بھی موجود ہیں۔ برطانیہ میں محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق رواں سال 7 جنوری سے ملک میں 39 افراد XF سے متاثر پائے گئے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ 14 فروری کے بعد وائرس کی اس قسم سے کس شخص کے متاثر ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

یہ معلومات 27 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 421: وائرس کی اقسام BA.2 اور XE کیا ہیں؟
4- XE قِسم

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ موجودہ سلسلے میں کورونا وائرس کی نئی متغیر اقسام اور اٹھائے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ آج اس قسط میں ہم متغیر قِسم اومی کرون سے تعلق رکھنے والی قِسم ’’XE‘‘ پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

کئی متغیر اقسام کے ملاپ سے بننے والی قِسم ایکس ای کے متاثرین کی اطلاع برطانیہ اور دیگر ملکوں میں دی گئی ہے۔

جاپان کی وزارت صحت نے 11 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ اس نے ہوائی اڈے کے قرنطینہ میں وائرس کی قِسم ایکس ای کے پہلے متاثرہ شخص کا پتہ لگایا ہے۔

وائرس ایک کے بعد دوسری چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کے عمل سے گزرتے ہوئے نئی خصوصیات حاصل کر لیتے ہیں لیکن جب ایک ہی شخص مختلف متغیر اقسام سے متاثر ہوتا ہے تو ان متغیر اقسام کے جنیٹک میٹریل کے ملاپ سے ایک نئی متغیر قسم وجود میں آتی ہے۔

اومی کرون ’’بی اے 1‘‘ اور ’’بی اے 2 ‘‘کے ملاپ سے بنی شکل ایکس ای، ہے۔ ایکس ای کے بیشتر حصے، جن میں وائرس کی سطح پر اسپائیک پروٹینز شامل ہیں جو انسانی خلیوں کو متاثر کرتے وقت کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، وہ بی اے 2 سے مشابہ ہیں جبکہ باقی حصے بی اے 1 سے مماثلث رکھتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ ایکس ای، اومی کرون کی ہی ایک قِسم ہے۔ برطانوی صحت حکام نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ 19 جنوری 2022ء کو ایکس ای قِسم کی پہلی دریافت کے بعد سے ملک میں 5 اپریل تک ملاپ سے بنی متغیر قِسم کے ایک ہزار 179 متاثرین کی اطلاع دی گئی تھی۔

انفیکشنز کے چھوٹے کلسٹر بھی ہوئے لیکن اس قِسم سے متاثر ہونے والوں کی تعداد اُس تعداد کے ایک فیصد سے کم تھی جن کا ملک میں تجزیہ کیا گیا تھا۔

برطانیہ کے صحت حکام نے ڈیٹا کی بنیاد پر 30 مارچ تک ریاضیاتی نمونہ استعمال کرتے ہوئے تجزیہ کیا اور تخمینہ لگایا ہے کہ ایکس ای قِسم کے انفیکشن کی شرح بی اے 2 کے مقابلے میں 12.6 فیصد زیادہ تیز تھی۔

یہ معلومات 26 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 420: بی اے 2 اور ایکس ای اقسام کیا ہیں؟
3- کیا ساتویں لہر میں بی اے 2 غالب قِسم ہوگی؟

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہم کورونا وائرس کی نئی متغیر اقسام اور ان سے بچاؤ کے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آج کی تیسری قسط میں ہم مستقبل میں کورونا کی متغیر قسم اومی کرون کی ذیلی متغیر قسم بی اے 2 کے جاپان میں ممکنہ پھیلاؤ پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

سوزوکی موتوئی، قومی ادارۂ متعدی امراض میں نگرانی، مامونیت اور وبائی تحقیق کے شعبے کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انفیکشنز کی ساتویں لہر کے دوران بی اے 2 کے غالب قِسم ہونے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق، چونکہ بی اے 2 کو بی اے 1 کے مقابلے میں کچھ زیادہ تیزی سے دوسروں کو لگنے والی قِسم باور کیا جاتا ہے، چنانچہ ساتویں لہر کے گزشتہ لہروں کے مقابلے میں زیادہ بلند ہونے کے امکان کے تناظر میں، طبی نظام کو مضبوط بنانے کی تیاری ضروری ہو گی۔

جب چھٹی لہر کے دوران اومی کرون کی ذیلی قسم بی اے 1 پھیلنا شروع ہوئی تھی، اس وقت لوگ کم محتاط تھے، کیونکہ یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اومی کرون سے متاثرہ افراد کے پچھلی متغیر قسم ڈیلٹا کے مقابلے میں شدید بیمار ہونے کے امکانات کم ہیں۔ تاہم، چھٹی لہر میں متاثرین کی تعداد پچھلی لہروں کی نسبت نمایاں بلند ہونے کے باعث، اموات کی تعداد بھی زیادہ رہی۔ اس بات کا خدشہ پایا جاتا ہے کہ بی اے 2 کے معاملے میں بھی یہی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ہامادا آتسُوؤ کے مطابق، باور کیا جا رہا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ذیلی متغیر قسم بی اے 2، دوسری اقسام کی جگہ لے کر انفیکشن کا بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض یورپی ممالک میں متاثرین کی 90 فیصد سے زائد تعداد اس قسم سے متاثر ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جاپان کے لیے کچھ مزید سخت انسدادی اقدامات کرنا اہم ہوگا، جن میں لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کم کرنا اور بُوسٹر ویکسین کے فروغ کے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خصوصاً 20 کے پیٹے کے لوگوں میں نئے متاثرین کی تعداد بڑھنے کے تناظر میں اس عمر کے افراد کو انسدادی اقدامات کا ہدف بنانا، وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنے کی کلید ہو سکتا ہے۔

یہ معلومات 25 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 419: متغیر اقسام BA.2 اور XE کیا ہیں؟
2- BA.2 کی خصوصیات اور ویکسینوں کی اثر انگیزی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ موجودہ سلسلے میں نئے کورونا وائرس کی متغیر اقسام اور ان سےہونے والے انفیکشن کی روکتھام اور پھیلاؤ کو روکنے کے طریقوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ آج ہم اومی کرون کی زیادہ متعدی ذیلی متغیر قسم BA.2 کی خصوصیات اور اس کے خلاف ویکسینوں کے مؤثر ہونے پر توجہ مرکوز کریں گے۔

عالمی ادارۂ صحت WHO کے مطابق، انفیکشن کی چھٹی لہر کے دوران دنیا بھر میں سب سے زیادہ پائی جانے والی متعدی قسم BA.1 کے مقابلے میں BA.2 زیادہ متعدی ہے۔ ڈنمارک سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ BA.1 کے مقابلے میں BA.2 کو پھیلنے میں 15 فیصد کم وقت لگتا ہے۔ اس تجزیے سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ کسی ایک متاثرہ شخص سے دیگر افراد کو انفیکشن لاحق ہونے کی اوسط تعداد BA.1 کے مقابلے میں BA.2 میں 26 فیصد زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب انفیکشن کے باعث طبعیت زیادہ بگڑنے کا خطرہ کم نظر آتا ہے۔ WHO نے برطانیہ میں کیے جانے والے تجزیے کا حوالہ دیا ہے۔ اس تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ BA.1 اور BA.2 سے متاثرہ افراد کے ہسپتال میں داخل ہونے کی شرح میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ کوئی شخص BA.1 سے متاثر ہونے کے باوجود BA.2 سے بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

برطانیہ میں محققین کو معلوم ہوا ہے کہ ویکسین کا تیسرا یعنی بوسٹر ٹیکہ لگوانے کے کم سے کم ایک ہفتے بعد BA.1 سے متاثرہ افراد کے 71.3 فیصد واقعات میں انفیکشن کی ظاہری علامات نمودار نہیں ہوئیں۔ BA.2 سے متاثر ہونے کی صورت میں اس شرح میں محض معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 72.2 فیصد رہی۔ تیسرا ٹیکہ لگوانے کے کم سے کم 15 ہفتوں بعد BA.1 کے خلاف ویکسین کی اثر انگیزی کم ہو کر 45.5 فیصد اور BA.2 کے خلاف کم ہو کر 48.4 فیصد رہ گئی۔

یہ معلومات 22 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 418: BA.2 اور XE اقسام کیا ہیں؟
1- BA.2 دنیا بھر میں پھیل رہی ہے

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ بی اے 2، کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کی ایک ذیلی متغیر قسم ہے جو زیادہ متعدی ہے۔ 11 اپریل کو جاپان میں امریکہ سے آنے والی ایک خاتون میں پہلی بار اومی کرون کی ایک اور ذیلی قسم ایکس ای کی تصدیق ہوئی۔ آج، کورونا وائرس کی متغیر اقسام سے متاثر ہونے اور ان کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے ضروری اقدامات کے نئے سلسلے کی پہلی قسط پیش کی جا رہی ہے۔

کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ مسلسل خود کو تبدیل کر رہا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں اس کی سب سے زیادہ پھیلی ہوئی قسم اومی کرون کی ذیلی متغیر قسم بی اے 2 ہے، جو بی اے 1 سے تبدیل ہو کر وجود میں آئی ہے۔ یہ تبدیلی وائرس کی سطح پر موجود اسپائک پروٹینز کے جینیاتی مادے میں پائی گئی ہے۔ وائرس کے انسانی خلیوں کو متاثر کرتے وقت اسپائیک پروٹینز نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

بی اے 2 قسم سے متاثرہ افراد کی شرح بڑھ رہی ہے۔ برطانوی صحت حکام نے بتایا ہے کہ 27 مارچ تک کے ہفتے میں متاثر ہونے والوں کی 93.9 فیصد تعداد اس قسم سے متاثر ہوئی ہے۔ بیماریوں پر کنٹرول اور روک تھام کے امریکی مرکز کا تخمینہ ہے کہ 2 اپریل تک کے ہفتے میں متاثر ہونے والوں کی 72.2 فیصد تعداد ذیلی قسم بی اے 2 سے متاثرہوئی تھی۔

جاپان کے قومی ادارۂ متعدی امراض کے نجی ٹیسٹنگ کمپنیوں کے اعداد و شمار کی بنیاد پر لگائے گئے تخمینے کے مطابق، جاپان میں مارچ کے وسط تک وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تقریباً 30 فیصد تعداد بی اے 2 سے متاثر تھی۔ تاہم ادارے کو یقین ہے کہ مئی کے پہلے ہفتے میں اس ذیلی قسم کے متاثرین کی شرح بڑھ کر 93 فیصد اور جون کے پہلے ہفتے تک 100 فیصد کے قریب ہو جائے گی۔

جاپان میں بی اے 1 قِسم کے اجتماعی پھیلاؤ کے پہلے واقعے کی تصدیق دسمبر 2021 کے اواخر میں ہوئی تھی۔ صرف چند ہفتوں کے دوران، یعنی رواں سال جنوری کے وسط تک یہ قسم بڑے پیمانے پر پھیل کر متغیر قسم ڈیلٹا کی جگہ لے چکی تھی۔ ٹوکیو میں بی اے 2 کے اجتماعی پھیلاؤ کے پہلے واقعے کی تصدیق فروری کے وسط میں ہوئی۔ اس کی بی اے 1 کی جگہ لینے کی رفتار اتنی تیز نہیں ہے جتنی تیزی سے بی اے 1 نے ڈیلٹا کی جگہ لی تھی، تاہم یہ قسم یعنی بی اے 2 مسلسل پھیل رہی ہے۔

یہ معلومات 21 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 417: کورونا وائرس کے طویل مدتی ضمنی اثرات سے متاثرہ 422 افراد کا مطالعاتی جائزہ
5- جائزے کے نتائج کا آئندہ علاج معالجے میں استعمال ہوگا

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کے طویل مدتی ضمنی اثرات کے بارے میں ہمارے حالیہ سلسلے کی آخری قسط میں مریضوں کے آئندہ علاج معالجے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

سائیتاما پریفیکچر اور سائیتاما میڈیکل ایسوسی ایشن کے حکام نے کورونا وائرس کے طویل مدتی ضمنی اثرات سے متاثرہ مریضوں کا تجزیہ کیا ہے۔ ان میں سے بیشتر مریض متغیر قسم اومی کرون سے متاثرہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھنے سے قبل وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ حکام نے اس تجزیئے کے نتائج کو مرض کی تشخیص اور علاج معالجے کے لیے رہنماء اصولوں کی شکل دے دی ہے۔ حکام نے اومی کرون کے طویل مدتی ضمنی اثرات سے متاثرہ مریضوں کا مطالعاتی جائزہ لینے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔

سائیتاما کے حکام پریفیکچر میں وائرس کے طویل مدتی اثرات سے متاثرہ مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات مہیا کرنے والے طبی اداروں کی تعداد بڑھا کر 140 سے زائد کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان اداروں کا جال پریفیکچر بھر میں یکساں طور پر پھیلا دیا جائے۔

سائیتاما میڈیکل ایسوسی ایشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار مارُوکی یُواِچی نے انفیکشن کی اگلی لہر کے دوران طویل مدتی اثرات سے متاثرہ مریضوں کی تعداد، پانچویں لہر کے مقابلے میں دُگنی یا اس سے بھی زیادہ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مریضوں کے جائزے سے حاصل ہونے والی نئی معلومات کو رہنماء اصولوں میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ڈاکٹر کورونا وائرس کے مریضوں کا ان کے مرض سے متعلق بہتر ادراک کی روشنی میں علاج معالجہ کر سکیں گے۔

یہ معلومات 20 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 416: کورونا وائرس کے طویل مدتی ضمنی اثرات سے متاثرہ 422 مریضوں کا مطالعاتی جائزہ
4- انتھک کوششیں بارآور

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس انفیکشن کے طویل مدتی ضمنی اثرات کے بارے میں ہمارے اس نئے سلسلے کی چوتھی قسط میں ہم ایک مریضہ کے معاملے پر رپورٹ پیش کر رہے ہیں جن کی طبیعت مسلسل کی جانے والی کوششوں کی وجہ سے بہتر ہوئی۔

یہ مریضہ سائیتاما پریفیکچر کی ایک 16 سالہ طالبہ ہے۔ وہ ہائی اسکول میں داخلے کے فوری بعد مئی 2021ء میں کورونا وائرس سے متاثر ہوئی تھیں۔ انہیں شدید سر درد، سانس لینے میں دشواری کی شکایت ہوئی اور 39 ڈگری کے قریب کا بخار ہوا۔ وہ ایک مقررہ، قرنطینہ ہوٹل میں شفایاب ہوئیں اور واپس اسکول جانے لگیں۔ لیکن جلد ہی انہیں چکر آنے، انتہائی تھکاوٹ اور ذائقے و بُو سونگھنے کی حِس کے مسائل کی شکایت ہو گئی۔ مذکورہ سال ہی موسمِ خزاں تک وہ سر چکرا جانے والی متلی کی کیفیت کی وجہ سے اسکول جانے سے قاصر تھیں۔ اُنہیں اپنا بیشتر وقت بستر ہی پر گزارنا پڑا۔ وہ چار مختلف طبی اداروں میں گئیں لیکن اُن کی طبیعت بہتر نہ ہوسکی۔

بعد ازاں، یہ طالبہ کان، ناک اور گلے کے ایک کلینک گئیں جہاں کووِڈ کا شکار ہو جانے کے بعد کی حالتوں کیلئے ایک خصوصی مہارت رکھنے والا شعبہ ہے۔ وہاں ایک ڈاکٹر نے تجویز پیش کی کہ طالبہ اپنا سرچکرانا کم کرنے اور بُوسونگھنے کی اپنی حِس بحال کرنے کیلئے مشقوں کے عمل سے گزریں۔

اس بیمار طالبہ سے کہا گیا کہ دیوار پر ایک نقطے پر ٹکٹکی باندھ لیں اور سر یا جسم کے دیگر اعضاء کو حرکت دیے بغیر ہدایات کیمطابق اپنی آنکھوں کو اُوپر نیچے، بائیں دائیں حرکت دیں۔ اس مشق کا مقصد طالبہ کی توازن کی حِس بحال کرنا تھا۔ اُن کی بُو سونگھنے کی حِس بحال کرنے کیلئے اُن سے لیونڈر یا لیمن جیسے پودوں کی تصاویر دیکھتے ہوئے ان کی مہک والے خوشبُو دار تیل سُونگھنے کا کہا گیا۔ اس کا مقصد خوشبُو اور اُن کی یادداشت کے درمیان تعلق کو دوبارہ جوڑنا تھا۔ طالبہ نے ہر روز گھر پر یہ مشق کی اور اُن کی طبیعت بتدریج بحال ہو گئی۔

وہ جس کلینک میں گئی تھیں اُس کے ڈائریکٹر ساکاتا ہِدے آکی نے ہمیں بتایا کہ وہ مریض جو جلد ہی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور مناسب علاج معالجہ کرواتے ہیں اُن کا نسبتاً اچھی طرح بحالی کا میلان ہوتا ہے۔ تاہم، اُنہوں نے بتایا کہ جن مریضوں نے طبی مدد حاصل کرنے سے قبل تین سے چھ ماہ انتظار کیا اُن کی طبیعت میں بہت کم بہتری آئی۔ اُنہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں خوش امیدی کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ انفیکشن کی چھٹی لہر کے باعث کووڈ کے ضمنی اثرات سے متاثر ہونے والے مزید مریض سامنے آئیں گے۔

یہ معلومات 19 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر415: کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات سے متاثرہ 422 مریضوں کا مطالعاتی جائزہ
3- چھ ماہ سے زیادہ عرصے بعد کی صورتحال

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ انفیکشن کے طویل مدتی اثرات کے سلسلے کی تیسری قسط میں آج ہم ایک ایسے مریض کے معاملے کے بارے میں رپورٹ پیش کر رہے ہیں جو بیماری سے شفایاب ہونے کے چھ ماہ بعد اب بھی متاثر ہو رہا ہے۔

وہ مریض، سائیتاما پریفیکچر میں رہائش پذیر ایک 60 سالہ شخص ہے۔ وہ اگست 2021 میں کورونا وائرس سے متاثر ہوا تھا۔ اسے تھکاوٹ، نمونیا اور تقریباً 39 درجے کا بخار تھا۔ اس نے گھر پر آرام کیا لیکن اس کی سُونگھنے اور ذائقہ محسوس کرنے کی حِس متاثر ہوئیں۔ وہ زیادہ کھانا کھانے سے قاصر تھا۔ بیماری کے دوران اس کے وزن میں 10 کلوگرام سے زائد کمی ہوئی۔ طبیعت ٹھیک ہونے کے بعد وہ دوبارہ ایک تعمیراتی مقام پر کام کرنے گیا۔ لیکن اسے مسلسل تھکاوٹ کی شکایت باقی رہی اور نیند میں مشکل پیش آنے لگی۔ اُسی سال دسمبر میں اس نے کام چھوڑ دیا کیونکہ وہ کام جاری رکھنے کے قابل نہیں تھا۔

اُس شخص کا کہنا ہے کہ جب وہ بستر پر جاتا ہے تو اسے نیند آ جاتی ہے، لیکن تقریباً ایک گھنٹے بعد اس کی آنکھ کھل جاتی ہے اور پھر وہ صبح تک نہیں سو پاتا۔ اس کا کہنا ہے ڈیوٹی کے دوران اس سے تحمل کے ساتھ کام نہیں ہوتا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے معلوم ہوتا تھا کہ اسے کام کرنا ہے لیکن جلد ہی وہ ذہنی طور پر پریشان ہو جاتا تھا اور اس کی ٹانگیں حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتی تھیں۔ چنانچہ اسے احساس تھا کہ اس حالت میں وہ کام پر نہیں جا سکے گا۔

کووِڈ کے بعد کی صورتحال کے ایک ماہر نے اس شخص کو بتایا کہ اسے جو علامات ہیں انہیں طبی اصطلاح میں ذہنی دھند کہا جاتا ہے۔ اس میں دھندلا پن اور یادداشت و توجہ مرکوز کرنے میں کمی بھی شامل ہوتی ہے۔ وہ مریض اب دوائیں استعمال کر رہا ہے اور روزمرہ زندگی ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق گزار رہا ہے، لیکن 7 ماہ گزرنے کے باوجود اس کی حالت میں بہتری نہیں آئی۔ اسے اب بھی دھندلاہٹ اور جلد تھک جانے کی شکایت ہے۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ اسے بیماری کے بعد کے اثرات اتنے طویل عرصے تک جاری رہنے کی توقع نہیں تھی۔ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہے۔

اُن کے ڈاکٹر کودائرا ماکوتو نے ہمیں بتایا کہ تھکاوٹ اور ذہنی دھند، کووِڈ کے ایسے طویل مدتی اثرات ہیں جو بعض اوقات 6 ماہ یا اس سے زائد عرصے بھی برقرار رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسی حالت والے مریضوں کو مستقل تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ معلومات 18 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 414: کورونا وائرس کے طویل مدتی ضمنی اثرات سے متاثرہ 422 مریضوں کا مطالعاتی جائزہ
2- ڈاکٹروں کے لیے رہنماء اصول

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس انفیکشن کے طویل مدتی ضمنی اثرات کے بارے میں ہمارے اس حالیہ نئے سلسلے کی دوسری قسط میں اس وباء کے خلاف سینہ سپر ڈاکٹروں کی جانب سے انفیکشن کی تشخیص اور علاج معالجے کی غرض سے وضع کردہ رہنماء اصولوں پر بات کی جائے گی۔

سائیتاما پریفیکچر اور سائیتاما میڈیکل ایسوسی ایشن نے کورونا وائرس سے متاثرہ 422 مریضوں میں باقی رہ جانے والے طویل مدتی ضمنی اثرات کے اکتوبر 2021 سے جنوری 2022 کے درمیان مطالعاتی جائزے کے نتائج جاری کیے ہیں۔ اس جائزے کو مرتب کرنے والے ڈاکٹروں نے کووِڈ کے بعد سامنے آنے والے بڑے اثرات کے ساتھ ساتھ مریض کی تکلیف کم کرنے کی غرض سے ماہرین کے لیے ممکنہ طریقۂ علاج بھی مرتب کیے ہیں۔

سب سے پہلے، جراحی کے بغیر ادویات سے علاج معالجہ کرنے والے ڈاکٹروں کی جانب سے مرتب کیے گئے رہنماء اصولوں پر نظر دوڑاتے ہیں۔

1) مریض عام طور پر تھکاوٹ محسوس کرنے اور سننے اور بولنے میں دقت ہونے، یادداشت کا جواب دے جانا اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکل پیش آنے جیسی کیفیتوں سمیت کئی تکالیف میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
2) صحتیابی میں 6 ماہ یا اس سے زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔ تکلیف مریض کی روزمرہ زندگی کو بھی بالعموم متاثر کر سکتی ہے۔
3) آرام اور کام کے درمیان توازن پیدا کرنے میں ڈاکٹروں کو روبہ صحت مریضوں کی رہنمائی کرنی چاہیے۔
4) تکلیف پر ممکنہ حد تک قابو پانے اور اس کے ساتھ روزمرہ زندگی بسر کرنے کے لیے ڈاکٹروں کو مریضوں کی معاونت کرنی چاہیے۔

کان، ناک اور گلے کی بیماریوں کے ڈاکٹروں نے مندرجہ ذیل رہنماء اصول وضع کیے ہیں۔

1) کووِڈ انفیکشن کے بعد باقی رہ جانے والے ضمنی اثرات 13 سے 19 سال کے درمیان عمر کے نوجوانوں میں زیادہ پائے جانے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
2) سونگھنے اور، یا ذائقہ محسوس کرنے کی حس میں فرق آنے کے باعث مریضوں کا معیار زندگی گر جاتا ہے۔ ایسے مریضوں کی بحالی میں ڈاکٹروں کی طرف سے اخلاقی اور نفسیاتی معاونت اہم ثابت ہوتی ہے۔
3) ڈاکٹر قوت شامہ، یعنی سُونگھنے کی قوت کی مشق کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس اختیاری طریقۂ علاج میں مختلف اقسام کی خوشبوئیں سونگھنے کے ذریعے سونگھنے کی حس کو بہتر بنایا جاتا ہے۔

یہ معلومات 15 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 413: کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات سے متاثرہ 422 مریضوں کی حالت کا جائزہ
1- کس قسم کی علامات کی اطلاعات دی گئی ہیں؟

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس نئے سلسلے میں ہم کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لیں گے۔

سائیتاما پریفیکچر کی علاقائی حکومت اور سائیتاما میڈیکل ایسوسی ایشن نے کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات سے متاثر افراد سے اکتوبر 2021 اور جنوری 2022 کے درمیان لیے گئے جائزے کے نتائج جاری کیے ہیں۔ اس جائزے میں پریفیکچر کے اندر واقع 7 ہسپتالوں میں آنے والے 422 مریضوں کی علامات کا معائنہ کیا گیا تھا۔

مذکورہ جائزے سے معلوم ہوا کہ 25.6 فیصد مریضوں نے اپنی سُونگھنے کی حِس کے مسائل، 16.6 فیصد نے جلد سانس پھول جانے سمیت سانس کے مسائل، 15.6 فیصد نے تھکاوٹ محسوس ہونے اور 14.7 فیصد مریضوں نے کھانسی اور بلغم کی شکایت کی۔

9.7 مریضوں نے بال گرنے، 9 فیصد نے بخار، سردرد یا سر کے پچھلے حصے میں بے سکونی، اور 7.1 فیصد مریضوں نے ذائقے کی حس میں غیر معمولی پن کی شکایت کی۔

اس جائزے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مریضوں کی مخصوص تعداد میں تشخیص کے ایک سال بعد بھی یہ علامات موجود تھیں۔

اگلی قسط میں ہم جائزہ رپورٹ میں پیش کردہ طبی ہدایات کے خلاصے کا جائزہ لیں گے۔

یہ معلومات 14 اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 412: چھٹی لہر میں انفیکشنز کی تعداد ابھی تک بلند کیوں ہے اور صورت حال میں کیا پیشرفت رونما ہو گی؟
5- ہم کیا کر سکتے ہیں؟

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں انفیکشنز کی چھٹی لہر کا عروج تو گزر چکا ہے لیکن نئے متاثرین کی تعداد میں کمی سست رفتاری سے ہو رہی ہے۔ اس حالیہ سلسلے میں متاثرین کی تعداد میں تیز رفتاری سے کمی نہ آنے کی وجوہات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج اس سلسلے کی پانچویں اور آخری قسط میں، آئندہ جنم لینے والی ممکنہ صورتحال کے حوالے سے تیاریوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

کورونا وائرس کے لیے حکومت جاپان کے مشاورتی پینل کے سربراہ اومی شِیگیرو نے 17 مارچ کو کہا تھا کہ نیم ہنگامی اقدامات واپس لیے جانے کے بعد انفیکشن کے نئے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ سنگین بیمار مریضوں کی تعداد مسلسل کم رکھنا اور طبی دیکھ بھال کے نظام پر دباؤ نہ آنے دینا اہم ہو گا۔

جناب اومی کا کہنا تھا کہ ویکسین کے ٹیکے لگوانا ضروری ہے، لیکن صرف اتنا ہی کافی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انفیکشن کے خلاف احتیاطی تدابیر کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں بعض یورپی ملکوں کی طرح کووڈ کے نتیجے میں ہونے والی اموات بڑھ جائیں گی۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا تھا کہ خود اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے ماسک کا استعمال جاری رکھا جائے کیونکہ ننھے ننھے قطروں اور آبی بخارات سے ہونے والے انفیکشن کے متاثرین میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انٹرنیشنل یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ ویلفیئر کے پروفیسر وادا کوجی نے افراد کے ساتھ ان کے اہل خانہ اور احباب کو انفیکشن سے محفوظ رکھنے کے لیے ویکسین کا بوسٹر شاٹ جلد از جلد لگوانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سمیت تمام افراد پر زور دیا ہے کہ مکمل ویکسینیشن کروائی جائے کیونکہ ہنگامی پابندیاں نرم کیے جانے کے بعد انفیکشن ہونے کا خطرہ پہلے سے بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ نیم ہنگامی اقدامات واپس لینے کے بعد افراد اور کاروباروں سے حکومت کس قسم کی احتیاطی تدابیر یا طرز عمل کی توقع رکھتی ہے۔

اوکیناوا چُوبُو ہسپتال کے تاکایاما یوشی ہیرو نے کہا ہے کہ انفیکشن کی ساتویں لہر آنے کا امکان زیادہ ہے کیونکہ گزشتہ سال اور 2020 میں بھی اسکولوں میں موسم بہار کی تعطیلات کے بعد انفیکشن کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاشرے پر سخت پابندیاں عائد کیے بغیر انفیکشنز کی 7 ویں لہر پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے دو نقاط کی نشاندہی کی ہے۔ نمبر ایک، معمر افراد کی اجتماعی قیام گاہ میں کسی ایک فرد کو انفیکشن ہونے کی صورت میں انفیکشنز پھیلنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اور دوسرا، لوگوں کو بوسٹر شاٹ لگانے کی رفتار تیز کی جائے۔

یہ معلومات یکم اپریل تک کی ہیں۔

سوال نمبر 411: چھٹی لہر میں انفیکشنز کی تعداد ابھی تک بلند کیوں ہے اور صورت حال میں کیا پیشرفت رونما ہو گی؟
4- کیا وائرس کی ضمنی متغیر قسم ’بی اے 2 اومی کرون‘، اصل متغیر قسم اومی کرون کی جگہ لے لے گی؟

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں انفیکشنز کی چھٹی لہر کا عروج گزر چکا ہے۔ لیکن نئے متاثرین کی تعداد میں کمی کی رفتار سُست ہے اور یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ انفیکشن کی صورتحال ساتویں لہر کی جانب لے جا سکتی ہے۔ اپنے اس سلسلے میں ہم اس امر پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں کہ متاثرین کی تعداد میں تیزی سے کمی کیوں نہیں ہو رہی اور آئندہ کیا ہوگا۔ آج چوتھی قسط میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا وائرس کی ضمنی متغیر قسم ’بی اے 2 اومی کرون‘، اصل متغیر قسم اومی کرون کی جگہ لے لے گی؟

جاپان میں انفیکشن میں اضافے کی تازہ ترین لہر سے متعلق تشویش کا ایک پہلو وائرس کی ضمنی متغیر قسم ’بی اے 2 اومی کرون‘ ہے۔ وزارت صحت کے تشکیل کردہ ماہرین کے پینل کا ایک اجلاس 15 مارچ کو ہوا، جس میں پینل نے ملک میں ’بی اے 2‘ کے پھیلاؤ کے امکانات سے متعلق اپنا تخمینہ پیش کیا۔

کیوتو یونیورسٹی کے پروفیسر نِشی اُرا ہِیروشی نے ٹوکیو کے ٹیسٹ ڈیٹا کا تجزیہ کیا اور اندازہ لگایا ہے کہ یکم اپریل تک دارالحکومت میں اومی کرون کے کُل متاثرین میں ’بی اے 2‘ کے متاثرین کی شرح 82 فیصد ہو جائے گی، اور یہ ضمنی متغیر قسم اصل متغیر قسم کی جگہ لے لے گی۔

سُوزوکی موتوئی، قومی ادارہ برائے متعدی امراض میں نگرانی، مامُونیت اور وبائی بیماریوں پر تحقیقی مرکز کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے دو نجی تحقیقی اداروں کے ٹیسٹ نتائج کے نمونوں کا تجزیہ کیا اور ملک بھر میں بی اے 2 انفیکشنز کے فیصدی پھیلاؤ کی پیشگوئی کی۔ ان کا تخمینہ ہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے تک ملک بھر کے انفیکشنز میں اس ضمنی قسم کا تناسب 70 فیصد اور مئی کے پہلے ہفتے میں 97 فیصد تک پہنچ جائے گا۔

باور کیا جاتا ہے کہ وائرس کی ضمنی متغیر قسم ’بی اے 2‘، اِس وقت زیادہ تر پھیلی ہوئی ضمنی متغیر قسم ’بی اے 1‘ کی نسبت تقریباً 20 فیصد زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلتی ہے۔ اگر ضمنی قسم ’بی اے 2‘، ضمنی قسم ’بی اے 1‘ کی جگہ لینا شروع کرتی ہے تو انفیکشنز کو قابو میں رکھنے کے لیے موجودہ اقدامات ناکافی ہو سکتے ہیں۔

یہ معلومات 31 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 410: چھٹی لہر میں انفیکشنز کی تعداد ابھی تک بلند کیوں ہے اور صورتحال میں کیا پیشرفت رونما ہو گی؟
3- کسی بڑی کمی کے بغیر متاثرین کی تعداد میں دوبارہ ممکنہ اضافے کے خدشات

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں انفیکشنز کی چھٹی لہر کا عروج گزر چکا ہے۔ لیکن نئے متاثرین کی تعداد میں کمی کی رفتار سُست ہے اور یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ انفیکشن کی صورتحال ساتویں لہر کی جانب لے جا سکتی ہے۔

اپنے اس سلسلے میں ہم اس امر پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں کہ متاثرین کی تعداد میں تیزی سے کمی کیوں نہیں ہو رہی اور آئندہ کیا ہوگا۔ آج تیسری قسط میں ہم کسی بڑی کمی کے بغیر متاثرین کی تعداد میں دوبارہ ممکنہ اضافے کے خدشات کا جائزہ لیں گے۔

ناگویا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایک پروفیسر ہِیراتا آکی ماسا کی زیر قیادت ایک تحقیقی گروپ نے مصنوعی ذہانت کے ایک نظام میں مختلف ڈیٹا ڈالنے کے بعد ٹوکیو کی مستقبل کی ممکنہ صورتحال کا خاکہ تیار کیا۔ اس ڈیٹا میں لوگوں کی نقل و حرکت، انفیکشن کے ماضی کے رجحانات اور ویکسینیشن کی افادیت جیسی معلومات شامل تھیں۔

ایک مفروضہ یہ تھا کہ نیم ہنگامی حالت کے خاتمے کے بعد لوگوں کی نقل و حرکت، گزشتہ سال کے اسی عرصے کی سطح پر واپس آ جائے گی۔ اس صورت میں یہ پیشگوئی کی گئی کہ ٹوکیو میں اوائلِ اپریل میں نئے متاثرین کی تعداد کم ہو کر یومیہ تقریباً 5 ہزار 400 پر آ جائے گی۔ اس کے بعد اس میں کچھ اضافہ ہوگا اور پھر یہ ہموار سطح پر رہے گی۔ اپریل کے اواخر میں یہ ہموار سطح یومیہ 5 ہزار 600 سے کچھ زائد ہوگی۔

دوسرا مفروضہ لوگوں کی نقل و حرکت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد اضافے کا تھا۔ اس کے تحت کی جانے والی پیشگوئی کے مطابق اپریل کے اوائل سے نئے وائرس متاثرین کی تعداد میں متوقع طور پر بتدریج اضافہ ہوگا اور وسط اپریل تک یہ تعداد یومیہ 7 ہزار 700 افراد سے زائد ہو جائے گی۔

بناوٹی یا مستقبل کا ممکنہ خاکہ ایک اور مفروضے کی بنیاد پر بھی تیار کیا گیا۔ وہ مفروضہ یہ تھا کہ لوگوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کے جمع ہونے اور مل جل کر کھانے پینے کی شرح میں سالِ نو کی چھٹیوں جتنا اضافہ ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں نئے متاثرین کی تعداد میں مارچ کے اواخر سے اضافہ شروع ہو جائے گا اور وسط اپریل تک یومیہ نئے متاثرین کی تعداد 13 ہزار سے زائد پر پہنچ جائے گی۔

محققین کے مطابق، بوسٹر شاٹ یا ویکسین کے تیسرے ٹیکے کے اثرات کے مدنظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ شدید بیمار ہونے والے افراد کی تعداد میں بڑے اضافے کا زیادہ امکان نہیں ہے۔ تاہم اُن کا کہنا ہے کہ انفیکشنز میں دوبارہ اضافے کو روکنے کے لیے ایک ساتھ کھانے پینے والوں کی تعداد کو محدود کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔

پروفیسر ہیراتا کہتے ہیں کہ سال کے اِس وقت، لوگوں کی آمد و رفت اور بڑے گروپوں کی شکل میں کھانے پینے کے رجحان میں اضافے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں انفیکشنز کی تعداد میں کمی کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

یہ معلومات 30 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 409: چھٹی لہر میں انفیکشنز کی تعداد ابھی تک بلند کیوں ہے اور صورت حال میں کیا پیشرفت رونما ہو گی؟
2- سُست رفتار کمی کی ایک وجہ، بچوں میں انفیکشنز میں اضافہ

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں انفیکشنز کی چھٹی لہر عروج پر پہنچ کر نیچے آنا شروع ہو چکی ہے۔ لیکن نئے متاثرین کی تعداد میں کمی کی رفتار سُست ہے اور یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ انفیکشن کی صورتحال ساتویں لہر کی جانب لے جا سکتی ہے۔

اپنے اس سلسلے میں ہم اس امر پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں کہ متاثرین کی تعداد میں تیزی سے کمی کیوں نہیں ہو رہی اور آئندہ کیا ہوگا۔ آج دوسری قسط میں ہم بچوں میں انفیکشنز کا جائزہ لیں گے۔

جاپان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ 15 مارچ تک کے ہفتے کے دوران 10 سال سے کم عمر کے 65 ہزار سے زائد بچے متاثر ہوئے تھے، اگرچہ انفیکشنز کی چھٹی لہر پہلے ہی عروج پر پہنچ چکی تھی۔ یہ تعداد گزشتہ سال پانچویں لہر کے دوران 31 اگست تک کے ایک ہفتے کے عرصے میں مذکورہ عمر کے بچوں میں 10 ہزار 380 نئے متاثرین کے مقابلے میں زیادہ تھی۔

بچوں میں تمام نئے متاثرین کی فیصد تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ یہ جنوری کے اوائل میں تقریباً پانچ فیصد تھی لیکن 15 مارچ تک کے ہفتے کے دوران کسی بھی عمر کے دوسرے گروپ سے تجاوز کرتے ہوئے یہ بڑھ کر 21 فیصد ہو گئی، حالانکہ وسط جنوری میں انفیکشنز کی پوری تعداد کم ہونا شروع ہو گئی تھی۔

14 مارچ تک کے ہفتے کے دوران نرسری اسکولوں جیسے بچوں کے بہبودی مراکز پر کلسٹر انفیکشنزبڑھ کر ریکارڈ 229 ہو گئے جو اس سے گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 56 زیادہ تھے۔ اسی دورانیے میں اسکولوں میں بھی کلسٹر انفیکشنز 59 بڑھ کر 318 ہو گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں ایسی جگہوں پر متغیر قِسم ڈیلٹا کے مقابلے میں متغیر قِسم اومی کرون کا پھیلنا زیادہ آسان ہے جہاں وہ ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں جیسا کہ اسکول اور کنڈرگارٹن۔ اُنہوں نے یہ نشاندہی بھی کی ہے کہ بچوں میں ویکسینیشن کی شرح دیگر عمر کے لوگوں کے مقابلے میں کم ہے۔

یہ معلومات 29 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 408:چھٹی لہر میں ابھی تک انفیکشنز کی تعداد بلند کیوں ہے اور صورت حال میں کیا پیشرفت رونما ہو گی؟
1- سست رو کمی کی ایک وجہ بوسٹر شاٹ یعنی تیسرا ٹیکہ لگانے کے آغاز میں تاخیر، عمر رسیدہ افراد میں وائرس کا پھیلاؤ

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔
جاپان میں انفیکشنز کی چھٹی لہر عروج کو پہنچ کر نیچے آنا شروع ہو چکی ہے۔ یہ لہر مرکزی طور پر متغیر قسم اومی کرون کا نتیجہ تھی۔ تاہم انفیکشنز میں کمی کی رفتار سست ہے اور نئے متاثرین کی تعداد اب بھی زیادہ ہیں۔ تشویش پائی جاتی ہے کہ انفیکشن کی یہ حالت، ساتویں لہر کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم آپ کی خدمت میں یہ نیا سلسلہ پیش کر رہے ہیں جس میں یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ نئے انفیکشن کیوں تیزی سے کم نہیں ہو رہے اور آگے چل کر کیا صورت حال پیدا ہونے جا رہی ہے۔

ماہرین انفیکشنز میں سست رفتار کمی کی بڑی وجوہات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پہلی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ تیسرا ٹیکہ لگانے کا عمل تاخیر سے شروع ہوا، جس کے سبب عمر رسیدہ افراد میں انفیکشن کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک اور وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ اب تک کی اس سب سے بڑی وباء میں کورونا وائرس بچوں میں پھیلتا چلا آ رہا ہے۔

پانچویں لہر پر نگاہ ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ 65 سالہ یا اس سے زائدالعمر افراد کا ستر فیصد سے زیادہ حصہ سنہ 2021 میں جولائی کے اواخر تک یعنی انفیکشنز میں بھاری اضافے کے وقت تک اپنا دوسرا ٹیکہ لگوا چکا تھا۔ اُس وقت کورونا وائرس نوجوان نسلوں میں عمومی طور پر پھیل رہا تھا تاہم عمر رسیدہ لوگ اس کی زد میں نہیں آئے۔ ماہرین کے تجزیے کے مطابق اسکی بدولت انفیکشن کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی۔

دوسری جانب جنوری 2022 میں چھٹی لہر کے دوران، کووڈ 19 کے خلاف ویکسین کا اثر اس لیے کمزور پڑ چکا تھا کہ دوسرے ٹیکے کے بعد کافی وقت گزر چکا تھا۔ مزید یہ کہ 65 سالہ یا اس سے زائدالعمر افراد کے صرف ایک فیصد سے بھی کم کو تیسرا ٹیکہ لگ پایا تھا۔

پانچ فروری کو جب انفیکشنز کی بلند ترین تعداد ریکارڈ ہوئی، اُس وقت ویکسینیشن کی شرح صرف پندرہ فیصد تھی۔ ان حالات میں عمر رسیدہ افراد میں بھی بظاہر انفیکشن پھیلا جو پہلے ہی نوجوان نسلوں کو لپیٹ میں لے چکا تھا۔ کورونا وائرس کا عمر رسیدہ افراد میں پھیلاؤ اب بھی جاری ہے۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ چودہ مارچ تک کے ہفتے کے دوران ملک بھر میں عمر رسیدہ افراد کے لیے قائم دیکھ بھال مراکز میں 341 کلسٹرانفیکشنز کی تصدیق ہوئی ہے۔

یہ معلومات 28 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 407: یہ الرجی ہے یا کووِڈ19؟
⑧ پولن الرجی کی علامات شروع ہوتے ہی ڈاکٹر سے جلد مشورہ کیجیے

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون انفیکشنز کے وسیع پھیلاؤ کے ساتھ جاپان میں اب پولن الرجی کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ اس سلسلے کی آٹھویں اور آخری قسط میں پولن الرجی کی علامات پائے جانے کا شک ہونے کی صورت ڈاکٹر سے جلد مشورہ کرنے کی اہمیت پر بات کی جا رہی ہے۔

گزشتہ سال پولن الرجی کی تکلیف نہ ہونے پر بھی رواں سال الرجی کی علامات اچانک ظاہر ہونے کی صورت میں اسے الرجی کی شکایت سمجھنے سے احتیاطً گریز کرنا چاہیے۔

پولن سے متعلق معلومات کے بارے میں وزارت ماحولیات کی ویب سائٹ کے مطابق جاپان بھر میں پھیلنے کیلئے صنوبر کے درختوں پر پولن آنا شروع ہو گیا ہے۔

جاپان کی موسمیاتی ایسوسی ایشن کی رواں موسم کیلئے پولن سے متعلق پیشگوئی کے مطابق، گزشتہ موسم کے مقابلے میں رواں سال پولن کا پھیلاؤ کچھ زیادہ یا بنیادی طور پر وسطی جاپان کے کئی علاقوں میں کہیں زیادہ ہے۔

گھر سے باہر تواتر سے چھینکیں آنے یا ناک سے پانی بہنے کی صورت میں اردگرد کے لوگ فکرمند ہو سکتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم نہیں کہ آپ کو یہ شکایت الرجی کی وجہ سے ہے یا کووڈ19 کی وجہ سے۔

یہ شکایت پیدا ہونے کی صورت میں پولن الرجی کا جلد از جلد علاج کروانا چاہیے۔

یہ معلومات 25 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 406: یہ الرجی ہے یا کووِڈ-19؟
⑦ جب یہ یقین نہ ہو کہ علامات کووِڈ19 کی ہیں یا الرجی ہے تو کیا کِیا جائے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون انفیکشنز کے وسیع پھیلاؤ کے دوران جاپان میں اب پولن الرجی کا موسم شروع ہو رہا ہے۔ اس سلسلے کی ساتویں قسط میں آج ہم بتائیں گے کہ جب آپ کو یہ طے کرنا مشکل ہو کہ آپ کی علامات کووِڈ 19 کی وجہ سے ہیں یا الرجی کی وجہ سے تو اس صورت میں کیا کِیا جائے۔

ناک، کان اور گلے اور سر اور گردن کی سرجری کی جاپانی سوسائٹی میں کورونا وائرس سے متعلق اقدامات کی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر کِیمُورا یُوریکا کہتی ہیں کہ الرجی کی معمول کی پہلے جیسی تکلیف ہونے، اس سے ہٹ کر تیز بخار جیسی کوئی اور واضح علامت ظاہر نہ ہونے اور آپ کے اردگرد کووِڈ19 سے متاثرہ کوئی فرد نہ ہونے کی صورت میں کسی ڈاکٹر کے پاس جا کر الرجی کا معمول کے مطابق علاج معالجہ کروانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ عام طور پر چھینکیں آنے اور ناک سے پانی بہنے کی تکلیف کے ساتھ رواں سال تیز بخار، گلا خراب یا سر میں درد ہونے جیسی علامات ظاہر ہونے پر آپ کو ڈاکٹر کے کلینک جانے سے پہلے انہیں اپنی ان علامات سے مطلع کرنا چاہیے۔

اُن کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ لوگ الرجی کے رواں موسم میں جلد علاج کروانے کی کوشش کریں تاکہ اپنے آپ اور اردگرد موجود لوگوں کو بھی محفوظ رکھ سکیں۔

یہ معلومات 24 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 405: یہ الرجی ہے یا کووڈ19؟
⑥ چھینکیں آنے یا ناک سے پانی بہنے کی صورت میں کیا کِیا جائے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے وسیع پھیلاؤ کے دوران جاپان اب پولن الرجی کے موسم میں داخل ہو رہا ہے۔ اس سلسلے کی آج چھٹی قسط میں چھینکیں آنے یا ناک سے پانی بہنے کی صورت میں کیے جانے والے اقدامات پر بات کی جائے گی۔

جاپان میں کان، ناک اور گلے کے امراض اور سر اور گردن کی سرجری کے ڈاکٹروں کی سوسائٹی پولن الرجی سے متاثرہ افراد پر زور دے رہی ہے کہ تکلیف شروع ہونے سے قبل ڈاکٹروں سے مشورہ کریں۔

ڈاکٹروں کے مطابق وقت سے پہلے علاج شروع کرنے سے پولن الرجی کی شکایت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق مطالعہ جات سے ظاہر ہوا ہے کہ شکایت شروع ہونے سے پہلے یا معمولی شکایت شروع ہونے کے دوران علاج شروع کرنے کے بعد ہونے والی تکلیف کو روکا جا سکتا ہے۔

پولن الرجی کے علاج کی کئی ادویات دستیاب ہیں۔ ماہرین کے مطابق، الرجی سے متاثرہ لوگ اگر کان، ناک اور گلے کے امراض کے ڈاکٹر کے پاس جائیں تو وہ اپنی علامات اور صحت کی حالت کیلئے درست علاج معالجہ کروا سکیں گے۔

علاج سے الرجی کی شکایت دور ہونے کے باوجود، گلے میں خراش، سر درد یا انتہائی تھکاوٹ جیسی شکایت پیدا ہونے کی صورت میں کورونا وائرس انفیکشن ہونے کا شک کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، پولن الرجی کا علاج کروانے کے باوجود الرجی کی شکایت دور نہ ہونے کی صورت میں بھی آپ کی تکلیف کورونا وائرس انفیکشن کے باعث ہو سکتی ہے۔

یہ معلومات 23 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 404: یہ الرجی ہے یا کووڈ19؟
⑤ وائرس کو غیر ارادی طور پر پھیلانے کا خطرہ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون انفیکشنز کے وسیع پھیلاؤ کے دوران جاپان میں اب پولن الرجی کا موسم شروع ہو رہا ہے۔ اس سلسلے کی پانچویں قسط میں آج ہم وائرس کے اس وجہ سے پھیلنے کے امکان پر بات کریں گے کہ لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ متاثر ہو چکے ہیں۔

جاپانی سوسائٹی برائے امراضِ کان، ناک اور گلا- سر اور گردن سرجری کی جانب سے جاریکردہ اُس کے مشورے میں اُن مسائل کی فہرست پیش کی گئی ہے جوکورونا وائرس کی متغیر قِسم اومی کرون کے پھیلاؤ کے درمیان پولن الرجی کے موسم کے دوران رونما ہوسکتے ہیں۔

ان میں سے ایک یہ خطرہ ہے کہ لوگ یہ قیاس کرتے ہوئے وائرس کو پھیلارہے ہیں کہ اُن کی علامات کورونا وائرس انفیکشن کے بجائے پولن الرجی کی وجہ سے ہیں، چنانچہ وہ روکتھام کے ضروری اقدامات کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ وہ لوگ جو پولن الرجی اور متغیر قِسم اومی کرون کے انفیکشن، دونوں سے متاثر ہو رہے ہوں انہیں خاص طور پر اُس وقت محتاط ہونا چاہیے جب انہیں چھینک آئے۔ مذکورہ سوسائٹی کا کہنا ہے کہ چھینکنے سے کھانسی کے مقابلے میں دس گُنا زیادہ ڈروپلیٹ یعنی ننھے ننھے قطرے پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس سوسائٹی نے الرجی کا علاج معالجہ نہ کیے جانے کی صورت میں انفیکشن ہونے کے پہلے سے زیادہ خطرے سے خبردار بھی کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ الرجی کی ایک علامت خارش سے نجات حاصل کرنے کیلئے وائرس سے آلودہ ہاتھوں سے اپنی آنکھیں مل سکتے ہیں یا ناک کو رگڑ سکتے ہیں، چنانچہ انہیں بلغم خارج کرنے والی جھلی کے ذریعے انفیکشن ہو سکتا ہے۔

یہ معلومات 22 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 403: یہ الرجی ہے یا کووڈ19؟
④ ہمیں درپیش مسائل 1، شناخت نہ کر سکنے پر بے چینی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون انفیکشنز کے وسیع پھیلاؤ کے دوران جاپان میں اب پولن الرجی کا موسم شروع ہو رہا ہے۔ اس سلسلے کی آج چوتھی قسط میں الرجی یا کووِڈ19 کے درمیان فرق کی شناخت نہ کر سکنے پر بے چینی طاری ہونے کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔

جاپان میں کان ناک اور گلے کے امراض کے ڈاکٹروں کی سوسائٹی نے اومی کرون انفیکشنز کے پھیلاؤ کے دوران پولن الرجی کے موسم میں سامنے آنے والی شکایات کی فہرست مرتب کی ہے۔

سوسائٹی نے پہلی شکایت بے چینی محسوس کرنا قرار دیا ہے کیونکہ لوگ یہ پہچاننے سے قاصر ہوتے ہیں کہ انہیں الرجی ہوئی ہے یا کووِڈ19۔

ماہرین کے مطابق پولن الرجی ہونے کی صورت میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا پتہ چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ماہر سے ماہر ڈاکٹر کے لیے بھی یہ تعین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ آیا مریض کو بیماری پولن الرجی سے ہوئی یا اومی کرون انفیکشن سے ہوئی ہے۔ لہٰذا کوئی عجب نہیں کہ مریض خود بھی علامات دیکھ کر بیماری کا تعین نہیں کر سکتا۔

ناک سے پانی بہنے کی صورت میں، اگر یہ پولن الرجی کی وجہ سے ہو تو اسکول یا کام پر جا سکتے ہیں، لیکن اگر متغیر قسم اومی کرون سے متاثر ہونے کا شبہ ہو تو گھر پر رہنا چاہیے اور ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ یہ سمجھ نہ آنے پر کہ کیا کِیا جائے، لوگ بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہ معلومات 18 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 402: یہ الرجی ہے یا کووِڈ 19؟
③ پولن الرجی سے متاثرہ ہر شخص کا کووِڈ ٹیسٹ نہیں کروایا جا سکتا

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ جاپان، وائرس کی متغیر قِسم اومی کرون کے انفیکشن کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کے دوران، پولن الرجی کے موسم میں داخل ہو رہا ہے۔ اس نئے سلسلے کی تیسری قسط میں ہم، کان، ناک اور گلے کے ڈاکٹروں کے ایک گروپ کی جانب سے جاریکردہ مشورے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

سنہ 2019 میں جاپان کی کان، ناک اور گلے کی الرجی اور قوت مدافعت سے متعلق سوسائٹی نے ملک بھر میں ایک سروے کیا تھا۔ جواب دینے والوں کی 42.5 فیصد تعداد نے بتایا کہ وہ کسی نہ کسی حد تک پولن الرجی سے متاثر ہوئے، جبکہ 38.8 فیصد نے کہا کہ وہ دیودار سے ہونے والی پولن الرجی سے متاثر ہوئے تھے۔ اس جائزے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جاپان میں ہر تین میں سے ایک سے زائد اشخاص پولن الرجی سے متاثر ہوئے۔ لیکن لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کا، چھینکوں یا ناک بہنے جیسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں کووِڈ 19 کا ٹیسٹ کرنا آسان نہیں ہے۔

اس طرح کی گھبراہٹ سے بچنے کے لیے جاپان کی کان، ناک، اور گلے اور سر اور گردن کی سرجری کی سوسائٹی نے پولن الرجی کے موسم کا آغاز ہونے سے قبل 25 جنوری کو اپنی ویب سائٹ پر ایک مشورہ جاری کیا۔

اس میں کہا گیا تھا کہ پولن الرجی کی صورت میں ظاہر ہونے والی علامات مثلاً ناک بہنا، چھینکیں، ناک بند ہوجانا، بُو محسوس نہ کر سکنا اور عمومی تھکاوٹ، کووِڈ 19 خصوصاً اس کی متغیر قِسم اومی کرون کی بھی عام علامات ہیں۔ سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے الرجی کی علامات والے افراد کے بارے میں یہ پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ آیا وہ کورونا وائرس سے متاثرہ ہیں یا نہیں۔

اگلی قسط میں اس سوسائٹی کے مشوروں کے بارے میں مزید جانیں گے۔

یہ معلومات 17 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 401: یہ الرجی ہے یا کووِڈ 19؟
② ڈاکٹروں کو بھی موسمی الرجی اور کورونا وائرس میں فرق معلوم کرنے میں مشکلات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ جاپان، وائرس کی متغیر قِسم اومی کرون کے انفیکشن کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کے دوران، پولن الرجی کے موسم میں داخل ہو رہا ہے۔ اس نئے سلسلے کی دوسری قسط میں ہم ایسی ہی علامات کے حامل مریضوں کو دیکھنے والی ایک ڈاکٹر کی رائے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ڈالٹر کِمُورا یُورِیکا، جاپان کی کان ناک اور گلے کے امراض اور سر اور گردن کی سرجری کی سوسائٹی کی کورونا وائرس اقدامات ٹیم کی سربراہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ طبی ماہرین کو بھی موسمی الرجی اور اومی کرون کے درمیان فرق معلوم کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔

ڈاکٹر کِمُورا ایک ایسی ہی حالت کے بارے میں بتاتی ہیں جس میں ایک مریض چھینکوں او ناک بہنے کی علامات کے ساتھ پولن الرجی کے عمومی علاج کے لیے آیا۔ تاہم، دو روز بعد وہ گلے میں سوزش کی شکایت کے ساتھ دوبارہ کلینک آیا اور اس بار اس میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔

ڈاکٹر کِمُورا کے مطابق، اس سے انہیں یہ حقیقت سمجھنے میں مدد ملی کہ بیماری کے ابتدائی مرحلے میں کورونا وائرس کی علامات کی تشخیص کتنی مشکل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تکنیکی طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پولن الرجی میں بلغم پیدا کرنے والی ناک کی جھلیوں کا رنگ سفید ہو جاتا ہے، لیکن کئی حالتوں میں ایسی علامات الرجی کے ابتدائی مراحل میں ظاہر نہیں ہوتیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مریض کا ٹیسٹ کیے بغیر ڈاکٹروں کے لیے بھی پولن الرجی اور کووِڈ 19 کے درمیان فرق معلوم کرنا مشکل ہے۔

یہ معلومات 16 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 400: یہ الرجی ہے یا کووِڈ-19؟
① اومی کرون انفیکشنز اور پولن الرجیز کی ایک جیسی علامات

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان، وائرس کی متغیر قِسم سے وسیع پیمانے پر انفیکشنز پھیلنے کے دوران دیودار اور ہِنوکی صنوبر پولن کے موسم میں داخل ہو رہا ہے۔ جب آپ کو چھینک آئے یا ناک سے پانی بہے تو ہوسکتا ہے کہ آپ سوچیں کہ آیا آپ کو پولن الرجی ہے یا کووِڈ-19۔ ہمارے اس نئے سلسلے میں ہم آپ کو یہ معلومات فراہم کریں گے کہ علامات کی وجہ نہ جاننے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ کس بات سے آگاہ رہنا چاہیے اور کس امر کیلئے تیار رہنا چاہیے۔

کان، ناک اور گلے کے ڈاکٹروں نے چھینکیں آنے، ناک سے پانی بہنے، ناک بند ہو جانے، آنکھوں میں خارش، تھکاوٹ، بُو سونگھنے میں گڑبڑ، بیچینی کی کیفیت، گلے میں خراش، گلے میں گھرگھراہٹ، کھانسی آنے، ہلکے سردرد اور خارش دار کانوں کو پولن الرجیز کی بڑی علامات قرار دیا ہے۔

دریں اثناء، جاپان کے قومی انسٹیٹیوٹ برائے وبائی امراض نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی متغیر قِسم اومی کرون سے متاثر ہونے والے لوگوں میں سے 66.6 فیصد مریضوں میں بخار، 41.6 فیصد میں کھانسی، 22.5 فیصد میں عام تھکاوٹ اور 21.1 فیصد میں سردرد کی علامات ظاہر ہوئیں۔ اس انسٹیٹیوٹ نے یہ بھی بتایا ہے کہ 12.9 فیصد میں کھانسی کے علاوہ تنفس سے متعلقہ علامات ظاہر ہوئیں، 2.7 فیصد کو متلی یا قے کی شکایت ہوئی، 2.3 فیصد کو دست آنے اور 0.8 فیصد کو سونگھنے یا ذائقے میں گڑبڑ کی شکایت ہوئی۔

قومی انسٹیٹیوٹ کی جانب سے ایک اور سروے سے معلوم ہوا کہ 45.1 فیصد مریضوں کو کھانسی کی شکایت ہوئی، 32.8 فیصد کو بخار ہوا، 32.8 فیصد کو گلے میں خراش، 20.5 فیصد کو ناک سے پانی بہنے، 1.6 فیصد کو سونگھنے میں گڑبڑ اور 0.8 فیصد کو ذائقے میں گڑبڑ کی شکایت ہوئی۔

دوسری جانب، برطانیہ میں تحقیق کاروں کے ایک گروپ کی جانب سے کیے جانے والے ایک اور سروے میں بتایا گیا ہے کہ اومی کرون سے متاثر ہونے والے علامات کے حامل 60 فیصد مریضوں کو چھینکیں آنے کی شکایت ہوئی۔

ہر فرد میں علامات مختلف ہوتی ہیں لیکن پولن الرجیز اور متغیر قِسم اومی کرون، دونوں سے متاثرہ افراد میں ایک جیسی ہی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن میں چھینکیں آنا اور ناک سے پانی بہنا شامل ہیں۔

اگلی قسط میں ہم ان علامات کے حامل مریضوں کو دیکھنے والے ڈاکٹروں کی رائے معلوم کریں گے۔

یہ معلومات 15 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 399: جاپان نے بچوں کیلئے کووِڈ ویکسینیشن شروع کر دی
10-فوائد اور نقصانات کا جائزہ لیں: ماہر

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ جاپان نے 5 سے 11 سال تک کی عمر کے بچوں کو کووِڈ ویکسین کے ٹیکے لگانے کا عمل فروری کے اواخر میں شروع کیا ہے۔ اس نئے سلسلے کی گیارہویں قسط میں ہم نے ایک ماہر سے ان کی رائے دریافت کی۔

کِتاساتو یونورسٹی کے پروفیسر ناکایاما تیتسُوؤ بچوں کے امراض کے ماہر ہیں اور ویکسینیشن سے متعلق خاصا علم رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو ویکسینیشن کے فوائد اور اس کے نقصانات مثلاً ضمنی اثرات کو سمجھنا چاہیے اور یہ بھی کہ بچوں کے وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں کیا ہو سکتا ہے۔

پروفیسر ناکایاما نے کئی باتوں کی نشاندہی کی ہے جن پر غور کیا جانا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ بچے کے وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں، چاہے مرض کی علامات معمولی ہی کیوں نہ ہوں، اسے ایک طویل وقت گھر پر گزارنا ہوگا۔ یہ اُس کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر کٹھن وقت ہوگا۔

جناب ناکایاما کہتے ہیں کہ ویکسینوں کے ذریعے انفیکشن سے مکمل بچاؤ ممکن نہیں ہے، تاہم اس کے باعث مرض کی علامات ہلکی رہنے کے زیادہ امکانات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ویکسینوں کی بدولت بچوں کے باہر سے وائرس گھر میں لانے اور ساتھ رہنے والے والدین یا ان کے والدین کو لگنے کی روک تھام بھی ممکن ہے۔

جناب ناکایاما نے کہا کہ اُن بچوں کو ویکسین لگوانے کی پُرزور سفارش کی جانی چاہیے جن کو پہلے سے صحت کے مسائل درپیش ہیں اور جو شدید بیمار ہو سکتے ہیں۔ تاہم، وہ کہتے ہیں کہ اس بارے میں ماہرین کی آراء منقسم ہیں کہ ہر بچے کو ویکسین لگوانی چاہیے یا نہیں۔

ان کے مطابق، کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ بچوں کے متاثر ہونے کی تعداد میں اضافے کے باوجود، اُن میں سے زیادہ تر شدید بیمار نہیں ہوتے، چنانچہ ان کے لیے ویکسینیشن ضروری نہیں ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ پہلے سے یہ پتہ نہیں چلایا جا سکتا کہ کون شدید بیمار ہوگا اور کون نہیں۔

پروفیسر ناکایاما کہتے ہیں کہ ویکسین کے معاملے میں لوگوں کے ساتھ زبردستی نہیں کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کا خود اسے سمجھنا اور خود سے فیصلہ کرنا اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ درست معلومات اور اس معاملے کے سائنسی نکتۂ نظر سے درست آگاہی حاصل کریں اور اس کے بعد فیصلہ کریں۔

یہ معلومات 14 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 398: جاپان نے بچوں کے لیے کووِڈ ویکسینیشن شروع کر دی
9- بچوں کی ویکسینیشن کے بارے میں والدین، سرپرستوں کے تاثرات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں کو کووِڈ 19 ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس نئے سلسلے میں ہم بچوں کو ویکسین کے ٹیکے لگانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ آج نویں قسط میں ہم بچوں کی ویکسینیشن کے بارے میں والدین اور سرپرستوں کے تاثرات کا جائزہ لیں گے۔

ٹوکیو کے کوتو وارڈ نے اپنے علاقے میں رہائش پذیر 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں کے اپنی لائن ایپلی کیشن پر اندراج شدہ والدین یا سرپرستوں کا سروے کیا۔ 10 سے 13 فروری کے دوران کیے گئے اس سروے میں 2 ہزار سے زائد افراد نے سوالات کا جواب دیا۔

ان سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ اپنے بچوں کی ویکسینیشن کروانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ 31.3 فیصد افراد نے جواب دیا، ’’ہاں، جتنا جلد ممکن ہو سکے‘‘۔ 48.7 فیصد نے ’’کچھ عرصہ انتظار کرنے اور کوئی مسٔلہ پیش نہ آنے کی صورت میں اثبات میں‘‘ جواب دیا۔ دریں اثناء، 20 فیصد افراد نے جواب دیا کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین نہیں لگوانا چاہتے۔

ان سوال پر کہ آیا انہیں اپنے بچوں کو ویکسین لگوانے کے بارے میں تشویش لاحق ہے یا نہیں؟ 39.6 فیصد افراد نے ’’بہت زیادہ‘‘ اور 49.7 فیصد نے ’’تھوڑی سی‘‘ تشویش ظاہر کی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ کئی افراد کو اپنے بچوں کو ویکسین لگوانے کے بارے میں تشویش لاحق ہے۔

یہ معلومات 11 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 397: جاپان نے بچوں کیلئے کووِڈ ویکسینیشن شروع کر دی
8- ویکسین، بچوں اور نوجوانوں میں کورونا وائرس کے باعث ہسپتال میں داخل ہونے کی روک تھام میں مؤثر ہے: امریکی سی ڈی سی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ جاپان نے 5 سے 11 سال تک کی عمر کے بچوں کو کووِڈ ویکسین کے ٹیکے لگانے کا عمل فروری کے اواخر میں شروع کیا ہے۔ اس نئے سلسلے کی آٹھویں قسط میں آج ہم ویکسینیشن کے مؤثر ہونے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

بیماریوں پر کنٹرول اور ان کی روک تھام کے امریکی مرکز ’سی ڈی سی‘ نے فائزر بیون ٹیک ویکسین کے 5 سے 17 سال تک کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے مؤثر ہونے سے متعلق ایک تحقیق کے نتائج یکم مارچ کو جاری کیے تھے۔ یہ تحقیق گزشتہ سال اپریل کے اوائل سے رواں سال جنوری کے اواخر تک کی گئی تھی۔ اس تحقیق میں امریکہ بھر کے ایسے تقریباً 40 ہزار بچوں اور نوجوانوں کو شامل کیا گیا جو کووِڈ 19 سے متاثر ہوئے تھے اور انہیں فوری طبی امداد دی گئی تھی یا جو ہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔

اس تحقیق کے مطابق، 5 سے 11 سال کی عمر کے اُن بچوں کی 74 فیصد تعداد کو ہسپتال میں داخل کروانے کی ضرورت پیش نہیں آئی جو ویکسین کے دو ٹیکے لگواچکے تھے۔ 12 سے 17 سال کے نوجوانوں میں یہ شرح، ویکسین لگوانے کے اوقات کے لحاظ سے 73 سے 94 فیصد تھی۔

سی ڈی سی، عمر کے اس گروپ کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے ویکسینیشن کی سفارش جاری رکھے ہوئے ہے۔ ادارے کے مطابق ویکسین کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ کم ہونے کا رجحان پایا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ہسپتال میں داخلے کی روک تھام میں انتہائی مؤثر ہے۔

یہ معلومات 10 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 396: جاپان نے بچوں کیلئے کووِڈ ویکسینیشن شروع کر دی
7- ویکسینیشن بچوں میں مرض کی سنگین علامات پیدا ہونے کو روک سکتی ہے: ماہر کی رائے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ جاپان نے 5 سے 11 سال تک کی عمر کے بچوں کو کووِڈ ویکسین کے ٹیکے لگانے کا عمل فروری کے اواخر میں شروع کیا ہے۔ اس نئے سلسلے کی ساتویں قسط میں آج ہم بچوں کی ویکسینیشن کی اہمیت کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی ریاست نیویارک کے صحت حکام نے ایک تحقیق کے نتائج جاری کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وائرس کی متغیر قسم اومی کرون تیزی سے پھیل رہی تھی، اُس وقت فائزر ویکسین کی بدولت 5 سے 11 سال کے بچوں کے وائرس سے متاثر ہونے کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی۔ بچوں کے امراض کے ماہر اور ویکسینیشن سے متعلق خاصی معلومات رکھنے والے، کِتاساتو یونیورسٹی کے پروفیسر ناکایاما تیتسُوؤ کہتے ہیں کہ 5 سے 11 سال تک کے بچوں کو دی جانے والی ویکسین کی مقدار 12 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو دی جانے والی مقدار کی ایک تہائی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 11 اور 12 سال کی عمر کے بچوں کی جسمانی ساخت میں عموماً کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ویکسین کی مقدار جتنی کم ہوگی اس کے اثرات بھی اتنے ہی کم ہوں گے۔ چنانچہ اس سے بہ آسانی یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ بچوں میں ویکسین کے مؤثر ہونے کا عرصہ کم ہوگا۔

پروفیسر ناکایاما کہتے ہیں کہ ویکسین کا بنیادی مقصد، وائرس سے متاثر ہو جانے والے افراد کو شدید بیمار ہونے سے روکنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کلیے کی روشنی میں فائزر ویکسین متاثرہ افراد کے ہسپتال میں داخلے کی نوبت آنے کو روکنے میں کم از کم 50 فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی قسم کی حفاظتی تدبیر اختیار نہ کر کے وائرس سے متاثر ہونے کے مقابلے میں ویکسین لگوا کر قوت مدافعت بڑھانا بہتر ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ بچوں کے لیے ویکسین کی مناسب مقدار کا تعین ایک مشکل امر ہے۔ ان کے مطابق بالغ افراد کے مقابلے میں ویکسین کی مقدار کتنی کم کی جائے اور کس بنیاد پر کم کی جائے، اس معاملے پر احتیاط کے ساتھ غور کرنا ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس معاملے میں صرف بچوں کی عمر ہی نہیں بلکہ ان کی جسامت کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، کم مقدار میں ویکسین دیے جانے والے بچوں کی عمر کی حد کم کرنا بھی ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔

یہ معلومات 9 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 395: جاپان نے بچوں کیلئے کووِڈ ویکسینیشن شروع کر دی
6- انفیکشن کے خلاف تحفظ وقت گزرنے کے ساتھ کم ہو سکتا ہے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کا جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں کو کووِڈ ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز ہو چکا ہے۔ ہمارے اس سلسلے میں بچوں کو ویکسین کا ٹیکہ لگانے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج چھٹی قسط میں ہم اس امر کا جائزہ لیں گے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انفیکشن کے خلاف تحفظ کس طرح تبدیل ہوتا ہے۔

امریکی ریاست نیویارک میں صحت انتظامیہ نے 5 سے 11 سال تک کی عمر کے بچوں میں انفیکشن اور ہسپتال میں داخل ہونے سے بچاؤ میں فائزر ویکسینوں کے اثر انداز ہونے کی صلاحیت پر ایک تحقیق کے نتائج 28 فروری کو جاری کیے تھے۔

اس رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 12 سے 17 سال کی عمر کے بچوں میں انفیکشن کے خلاف ویکسین کا تحفظ جو دسمبر کے وسط میں 66 فیصد تھا وہ جنوری کے اواخر میں کم ہو کر 51 فیصد ہو گیا جب وائرس کی متغیر قِسم اومی کرون نمایاں ہو چکی تھی۔

لیکن 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں میں اس کی اثر انگیزی زیادہ واضح طور پر کم دیکھنے میں آئی جو 68 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد ہو گئی۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں میں اثرانگیزی میں کمی آنے کی وجہ ہو سکتا ہے یہ حقیقت ہو کہ انہیں 12 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو لگنے والی ویکسین خوراک کی صرف ایک تہائی مقدار لگتی ہے۔

دریافت ہوا کہ جنوری کے اواخر تک، ہسپتال میں داخلے کے خلاف فائزر ویکسین کی اثر انگیزی 12 سے 17 سال کی عمر کے بچوں میں 73 فیصد اور 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں میں 48 فیصد تھی۔

محققین کا کہنا ہے کہ درست تجزیہ فراہم کرنے کیلئے اُن کے پاس ڈیٹا ناکافی ہے کیونکہ زیادہ بچوں کو شدیدعلامات پیدا ہو جانے کی شکایت نہیں ہوئی۔

اگرچہ ان نتائج کی ابھی تک کسی تیسرے فریق نے تصدیق نہیں کی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بچوں کیلئے متبادل خوراک دینے کے ساتھ ساتھ بُوسٹر یعنی اضافی ٹیکے لگانے کی ممکنہ ضرورت کا جائزہ لینے کو واضح کرتے ہیں۔

یہ معلومات 8 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 394: جاپان نے بچوں کیلئے کووِڈ ویکسینیشن شروع کر دی
5- سی ڈی سی کے مطابق، ویکسین "محفوظ، مؤثر اور قابل ستائش" ہے۔

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ جاپان نے 5 سے 11 سال تک کی عمر کے بچوں کو کووِڈ ویکسین کے ٹیکے لگانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس نئے سلسلے کی پانچویں قسط میں آج ہم بچوں کی ویکسینیشن سے متعلق امریکی حکام کی جانچ کا جائزہ لے رہے ہیں۔

صحت حکام اُس وقت ویکسینیشن کی سفارش کرتے ہیں جب ویکسین لگانے کے فوائد، اس کی ممکنہ نقصان دہ کیفیتوں جیسے خطرات سے زیادہ ہو جائیں۔ بیماریوں پر کنٹرول اور ان کی روک تھام کا امریکی مرکز ’سی ڈی سی‘ 5 سے 11 سال تک کی عمر کے بچوں کو کووِڈ ویکسین لگانے کی سفارش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ محفوظ اور مؤثر ہے اور اس کے فوائد، نقصانات سے زیادہ ہیں۔

کینیڈا اور فرانس کے صحت حکام کی بھی یہی رائے ہے۔ دریں اثناء، برطانیہ اور جرمنی میں صحت حکام کا کہنا ہے کہ صرف ایسے بچوں کو ویکسین لگانی چاہیے جو صحت کے سنگین خطرات کا شکار ہوں یا اُن بچوں کو جو خاندان کے ایسے فرد کے ساتھ رہائش پذیر ہو جن کا جسمانی مدافعتی نظام کمزور ہو۔

نومبر 2021 میں سی ڈی سی کی مامونیت کے طریقوں پر مشاورتی کمیٹی نے بچوں کو ویکسین لگانے کے فوائد کا ذکر کیا تھا۔

اس کمیٹی نے کہا تھا کہ ویکسین بچوں کو وائرس سے متاثر ہونے سے بچاتی ہے یا متاثر ہو جانے کی صورت میں سنگین علامات پیدا ہونے کی روک تھام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بچوں کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کو روکتی ہے اور بچوں کو محسوس کرواتی ہے کہ اسکول جانا محفوظ ہے۔ جہاں تک نقصانات کی بات ہے تو کمیٹی نے مختصر مدت کے نقصان دہ کیفیتوں اور کبھی کبھار ہونے والے ضمنی اثرات کا بھی حوالہ دیا ہے جن میں دل کے پٹھوں کا ورم شامل ہے۔

یہ معلومات 7 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 393: جاپان نے بچوں کیلئے کووِڈ ویکسینیشن شروع کر دی
4- ضمنی اثرات پر سی ڈی سی کی رپورٹ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کا جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں کو کووڈ ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز ہو چکا ہے۔ ہمارے اس سلسلے میں بچوں کو ویکسین کا ٹیکہ لگانے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج چوتھی قسط میں ہم ضمنی اثرات کے بارے میں امریکہ کی ایک رپورٹ کا جائزہ لیں گے۔

امریکہ میں 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں کو کووڈ ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز نومبر میں ہوا۔ بیماری پر قابو پانے اور اس کی روکتھام کے امریکی مرکز سی ڈی سی نے 19 دسمبر تک ویکسین کے ٹیکے لگوانے والے بچوں میں مضر ضمنی اثرات کی 4 ہزار 249 رپورٹس کا تجزیہ جاری کیا ہے۔ اس عرصے کے دوران عمر کے مذکورہ گروپ سے تعلق رکھنے والے بچوں کو مجموعی طور پر تقریباً 87 لاکھ ٹیکے لگائے گئے۔

امریکہ میں ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے بعد طبی مسائل سے دوچار ہونے والا کوئی بھی فرد، ان کی ممکنہ ضمنی اثرات کے طور پر اطلاع دے سکتا ہے۔

سی ڈی سی کے تجزیے کے مطابق ضمنی اثرات کے بارے میں 4 ہزار 149 کیسز یا مجموعی تعداد کی 97.6 فیصد اطلاعات سنگین نوعیت کی نہیں تھیں۔ مخصوص علامات کے بارے میں ملنے والی اطلاعات میں الٹی آنے کی 316 اطلاعات ملیں، جو مجموعی کیسز کے 7.6 فیصد کے برابر ہے۔ 291 یعنی 7 فیصد میں بخار، 255 یعنی 6.2 فیصد میں سر درد اور اتنی ہی تعداد میں بے ہوشی طاری ہونے کی اطلاع دی گئی۔ غنودگی طاری ہونے کی 244 یعنی 5.9 فیصد اور تھکاوٹ کی 201 یعنی 4.8 فیصد اطلاعات دی گئیں۔

سی ڈی سی کی طرف سے 100 کے قریب تشویشناک قرار دیے گئے کیسز میں 29 یعنی 29 فیصد بخار، 21 یعنی 21 فیصد الٹی آنے اور 12 یعنی 12 فیصد مرض کا دورہ پڑنے کے تھے۔

ویکسین لگوانے والے 11 بچوں کے دل کے عضلات میں ورم کی تشخیص ہوئی، لیکن اطلاعات کے مطابق یہ سب شفایاب ہو گئے۔ تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ 12 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کے گروپ کے مقابلے میں عمر کے اس گروپ سے تعلق رکھنے والے بچوں میں اس بیماری کا تناسب کہیں کم تھا۔

ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے بعد 2 بچے انتقال کر گئے۔ لیکن سی ڈی سی کے مطابق دونوں بچے پیچیدہ طبی مسائل سے دوچار رہے تھے اور ویکسین لگوانے سے پہلے ان کی جسمانی حالت کمزور تھی۔ تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی ڈیٹا سے موت اور ویکسینیشن کے درمیان تعلق کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

یہ معلومات 4 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 392: جاپان نے بچوں کیلئے کووِڈ ویکسینیشن شروع کر دی
3- مریضوں پر تجربات میں حفاظت

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ جاپان نے 5 سے 11 سال تک کی عمر کے بچوں کو کووِڈ ویکسین کے ٹیکے لگانے کا عمل فروری کے اواخر میں شروع کیا ہے۔ بچوں کی ویکسینیشن کے نئے سلسلے کی تیسری قسط میں آج ہم مریضوں پر تجربات میں حفاظت کے پہلو کا جائزہ لے رہے ہیں۔

فائزر اور بیون ٹیک نے امریکہ، اسپین اور دیگر علاقوں میں 5 سے 11 سال کی عمر کے 2 ہزار 200 سے زائد بچوں پر طبی تجربات کیے۔ بعض منفی اثرات مثلاً ٹیکہ لگنے کی جگہ پر درد اور جسمانی تھکاوٹ کی بھی اطلاعات ملیں، تاہم ایسی زیادہ تر علامات ہلکی سے درمیانے درجے کی تھیں جو ایک سے دو روز میں ٹھیک ہو گئیں۔

اب ہم مخصوص علامات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

ٹیکہ لگنے کی جگہ پر درد کی شکایت، پہلے ٹیکے کے بعد 74 فیصد اور دوسرے ٹیکے کے بعد 71 فیصد کیسوں میں پائی گئی۔

جسمانی تھکن کی شکایت، پہلے ٹیکے کے بعد 34 فیصد اور دوسرے ٹیکے کے بعد 39 فیصد کیسوں میں پائی گئی۔

سر درد کی شکایت، پہلے ٹیکے کے بعد 22 فیصد اور دوسرے ٹیکے کے بعد 28 فیصد کیسوں میں پائی گئی۔

ٹیکے لگنے کی جگہ سرخ ہو جانے کی شکایت، پہلے ٹیکے کے بعد 15 فیصد اور دوسرے ٹیکے کے بعد 19 فیصد کیسوں میں پائی گئی۔

ٹیکے لگنے کی جگہ پر سُوجن کی شکایت، پہلے ٹیکے کے بعد 10 فیصد اور دوسرے ٹیکے کے بعد 15 فیصد بچوں کو ہوئی۔

پٹھوں میں درد کی شکایت، پہلے ٹیکے کے بعد 9 فیصد اور دوسرے ٹیکے کے بعد 12 فیصد بچوں کو ہوئی۔

پہلے ٹیکے کے بعد 5 فیصد اور دوسرے ٹیکے کے بعد 10 فیصد بچوں کو ٹھنڈ کی شکایت ہوئی۔

اسی طرح پہلے ٹیکے کے بعد 3 فیصد اور دوسرے ٹیکے کے بعد 7 فیصد بچوں کو 38 درجے سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ کا بخار ہوا۔

بتایا گیا ہے کہ پہلے ٹیکے کے بعد 14 فیصد کیسوں میں، جبکہ دوسرے ٹیکے کے بعد 20 فیصد کیسوں میں اینٹی پائریٹکس یا بخار کم کرنے والی ادویات کا استعمال کیا گیا۔

یہ معلومات 3 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 391: جاپان نے بچوں کیلئے کووِڈ ویکسینیشن شروع کر دی
2- مریضوں پر تجربات سے ظاہر ہوا کہ علامات کی روکتھام میں ویکسین 90.7 فیصد کارآمد ہے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ جاپان نے 5 سے 11 سال تک کی عمر کے بچوں کو کووِڈ ویکسین کے ٹیکے لگانے کا عمل فروری کے اواخر میں شروع کیا ہے۔ بچوں کی ویکسینیشن سے متعلق سلسلے کی اس دوسری قسط میں آج ہم ویکسین کی اثر انگیزی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

فائزر نے امریکہ اور اسپین جیسے ممالک میں، 5 سے 11 سال کی عمر کے 2 ہزار 200 مریضوں پر تجربات کیے۔ اس دوا ساز کمپنی کے مطابق، نتائج سے تصدیق ہوئی ہے کہ علاماتی انفیکشنز کی روک تھام میں اس کی ویکسین 90.7 فیصد مؤثر رہی۔ فائزر نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کی ویکسین محفوظ ہے، کیونکہ ویکسین لگوانے کے بعد بچوں میں مرض کی جو علامات نمودار ہوئیں وہ بیشتر معمولی سے درمیانی نوعیت کی تھیں۔

ان تجربات کے دوران ایک ہزار 500 بچوں کو بالغ افراد کو لگائی جانے والی مقدار کی ایک تہائی یعنی 10 مائیکروگرام ویکسین فی خوراک، 3 ہفتوں کے وقفے سے دو بار لگائی گئی۔ 750 بچوں کو آزمائشی یا مصنوعی ویکسین لگائی گئی۔ محققین نے تصدیق کی کہ ویکسین لگائے گئے بچوں میں تعدیلی اینٹی باڈی سطحیں عام مقدار میں ویکسین لگوانے والے 16 سے 25 سال کی عمر کے افراد کے برابر پائی گئیں۔ جن بچوں میں دوسری ویکسین لگانے کے 7 روز یا اس سے زائد عرصے بعد کووِڈ کی علامات نمودار ہوئیں، ان کی تعداد اصلی ویکسین لگائے جانے والے بچوں کے گروپ میں 3، جبکہ آزمائشی ویکسین والے گروپ میں 16 تھی۔ محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ علامات کی روکتھام میں یہ ویکسین 90.7 فیصد مؤثر ہے۔

یہ معلومات 2 مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 390: جاپان نے بچوں کیلئے کووِڈ ویکسینیشن شروع کر دی
1- بچوں کو ویکسین لگانے سے متعلق حکومت کی پالیسی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ جاپان نے 5 سے 11 سال تک کی عمر کے بچوں کو کووِڈ ویکسین کے ٹیکے لگانے کا عمل فروری کے اواخر میں شروع کر دیا ہے۔ اس نئے سلسلے میں ہم بچوں کو ویکسین کے ٹیکے لگانے کے عمل پر توجہ مرکوز کریں گے اور اس امر کا جائزہ لیں گے کہ کن ضمنی اثرات کا زیادہ امکان ہے اور یہ منصوبہ کس طرح انجام دیا جا رہا ہے۔ اس پہلی قسط میں ہم حکومت کی پالیسی کا ایک قریبی جائزہ لے رہے ہیں۔

جاپانی حکومت نے 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کو ویکسین کے ٹیکے لگانے کی باضابطہ منظوری 21 فروری کو دی تھی۔ اس گروپ کے بچوں کو لگائی جانے والی ویکسین کی مقدار 12 سال یا اس سے زیادہ عمر والے افراد کو لگائی جانے والی ویکسین کی مقدار کی ایک تہائی ہے۔ بچوں کو تین ہفتوں کے وقفے سے دو ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ حکومت نے اسکولوں میں بڑے پیمانے پر ویکسین لگانے کا مشورہ نہیں دیا ہے۔ بچوں کو اُن کے بلدیاتی علاقوں کے ویکسینیشن مراکز یا بچوں کے شفاخانوں میں انفرادی بنیاد پر ویکسین کے ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔

اس وقت 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کو کووِڈ ویکسین کا ٹیکہ لگوانا لازمی نہیں ہے کیونکہ متغیر قِسم اومی کرون کے خلاف اس کے مؤثر ہونے کی تصدیق کا خاطر خواہ ڈیٹا نہیں ہے۔ اس گروپ کے بچوں کو ویکسین کا ٹیکہ لگانے کیلئے اُن کے والدین یا سرپرستوں کی رضامندی ضروری ہے۔ وزارت صحت اُن پر زور دے رہی ہے کہ اس کی اثر انگیزی اور محفوظ ہونے سے متعلق ڈیٹا کی بنیاد پر ویکسین لگانے کے بارے میں بچوں سے پیشگی مکمل بات چیت کریں۔ اس بات کا فیصلہ کرنے سے پہلے گھر کے ڈاکٹر سے مشاورت کی سفارش کی گئی ہے کہ ویکسین کے ٹیکے لگوائے جائیں یا نہیں۔

وزارت زور دے رہی ہے کہ سانس لینے کے مسائل اور دیگر دیرینہ امراض میں مبتلا بچوں کو ویکسین لگوائی جائے کیونکہ انہیں کووِڈ کی سنگین علامات پیدا ہونے کا زیادہ خطرہ درپیش ہے۔

یہ معلومات یکم مارچ تک کی ہیں۔

سوال نمبر 389: تحقیقی ٹیم نے تیسرے ٹیکے کے لیے مختلف ویکسین کے استعمال پر تحقیق کے نتائج شائع کر دیے
③ بوسٹر ویکسین کے انتخاب کے وقت اس کی اثر انگیزی اور ضمنی اثرات دونوں کو مد نظر رکھا جانا چاہیے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ جاپانی حکومت کی ایک تحقیقی ٹیم نے ویکسین کے پہلے دو ٹیکوں سے مختلف ویکسین کا بُوسٹر شاٹ یا تیسرا ٹیکہ لگوانے کی صورت میں اس کے مؤثر اور محفوظ ہونے سے متعلق تحقیق کے نتائج پہلی بار جاری کیے ہیں۔ اس نئے سلسلے میں ہم پہلے دو ٹیکوں والی ویکسین ہی کا بُوسٹر شاٹ لگوانے کی بجائے مختلف ویکسین استعمال کرنے سے متعلق رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔ آج یہ تیسری اور آخری قسط ماہرین کی آراء پر مبنی ہے۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور جُن تیندو یونیورسٹی کے شعبۂ طب کے پروفیسر اِتو سُومینوبُو کے مطابق، فائزر ویکسین کے پہلے دو ٹیکے لگوائے افراد کے فائزر ہی کا تیسرا ٹیکہ لگوانے کی بجائے، موڈرنا کا تیسرا ٹیکہ لگوانے کی صورت میں اینٹی باڈی کی سطح زیادہ بلند ہے۔ گو کہ اس صورت میں کچھ زیادہ ضمنی اثرات کی اطلاع ہے، تاہم ایسا کرنے والے اور نہ کرنے والے افراد میں بیماری کی چھٹی لینے والوں کی تعداد میں فرق معمولی سا ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو تیسرے ٹیکے کی ویکسین کا انتخاب کرتے وقت اس کے مؤثر ہونے اور اس کے ضمنی اثرات دونوں کو مد نظر رکھنا چاہیے۔

متعدی امراض کے ایک ماہر، ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کے پروفیسر ہامادا آتسُوؤ نے کہا ہے کہ امریکہ اور یورپ کے ممالک جلد از جلد زندگی اور معاشی و سماجی حالات کو وباء سے پہلے والی حالت پر بحال کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے نشاندہی کی کہ جاپان میں نئے متاثرین کی تعداد ابھی حال ہی میں اپنے عروج پر پہنچی ہے اور بوسٹر شاٹ لگوانے والوں کی تعداد آبادی کے صرف 10 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں نئے متاثرین زیادہ نہیں ہیں وہاں پر تو معاشی و سماجی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن ٹوکیو اور اوساکا جیسے علاقوں میں، جہاں نئے متاثرین کی تعداد بہت زیادہ ہے، وہاں حکام کو طبی صورتحال کو دیکھنا چاہیے۔ خصوصاً نیم ہنگامی حالت اٹھانے کا فیصلہ کرنے سے قبل اُن معمر افراد کی شرحِ فیصد پر غور کیا جانا چاہیے جو ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگوا چکے ہیں۔

یہ معلومات 28 فروری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 388: تحقیقی ٹیم نے تیسرے ٹیکے کے لیے مختلف ویکسین کے استعمال پر تحقیق کے نتائج شائع کر دیے
② ضمنی اثرات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان کی محققین کی ایک ٹیم نے پہلے دو ٹیکوں کے مقابلے میں تیسرے یعنی بُوسٹر ٹیکے کے لیے مختلف ویکسین کے استعمال میں محفوظ ہونے اور اس کی اثرانگیزی سے متعلق اپنی تحقیق کے نتائج پہلی بار جاری کیے ہیں۔ اس نئے سلسلے میں ہم ابتدائی طور پر لگائے گئے دو ٹیکوں کی ویکسین کا ہی تیسرا ٹیکہ لگوانے کے بجائے مختلف بُوسٹر ویکسینوں کو ملانے کے بارے میں رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔ آج اس سلسلے کی دوسری قسط میں ہم ممکنہ ضمنی اثرات کا جائزہ لیں گے۔

وزارت صحت کی تحقیقاتی ٹیم کی ایک رپورٹ میں بُوسٹر شاٹ یعنی ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگوانے کے بعد لوگوں میں ظاہر ہونے والے ضمنی اثرات کی فہرست دی گئی ہے۔ فائزر ویکسین کے تین ٹیکے لگوانے والوں میں سے 21.4 فیصد افراد کو 38 ڈگری سیلسیئس یا اس سے زائد درجے تک بخار ہوا، 69.1 فیصد افراد نے تھکاوٹ محسوس کی اور 55 فیصد افراد کو سر درد کی شکایت ہوئی۔

فائزر ویکسین کے دو ٹیکے اور موڈرنا کا تیسرا ٹیکہ لگوانے والے افراد میں سے 49.2 فیصد افراد کو 38 ڈگری یا اس سے زائد درجے تک بخار ہوا، 78 فیصد نے تھکاوٹ اور 69.6 فیصد نے سر میں درد ہونے کا بتایا۔ ان تمام متاثرین میں ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگوانے کے اگلے روز ضمنی اثرات کی شدت سب سے زیادہ رہی اور یہ تکلیف دو یا تین روز کے اندر رفع ہو گئی۔

فائزر ویکسین کے تین ٹیکے لگوانے والے افراد کے دل کے پٹھے میں سوزش کے دو مشتبہ کیسز کی اطلاع دی گئی لیکن بتایا گیا کہ ان کی علامات کی نوعیت سنگین نہیں تھی۔ فائرز ویکسین کے دو اور موڈرنا ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگوانے والے افراد میں سنگین ضمنی اثرات نہیں پائے گئے۔

یہ معلومات 25 فروری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 387: تحقیقی ٹیم نے تیسرے ٹیکے کے لیے مختلف ویکسین کے استعمال پر تحقیق کے نتائج شائع کر دیے
① بُوسٹر ٹیکے کی اثرانگیزی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان کی محققین کی ایک ٹیم نے پہلے دو ٹیکوں کے مقابلے میں تیسرے یعنی بُوسٹر ٹیکے کے لیے مختلف ویکسین کے استعمال میں محفوظ ہونے اور اس کی اثرانگیزی سے متعلق اپنی تحقیق کے نتائج پہلی بار جاری کیے ہیں۔ اس نئے سلسلے میں ہم ابتدائی طور پر لگائے گئے دو ٹیکوں کی ویکسین کا ہی تیسرا ٹیکہ لگوانے کے بجائے مختلف بُوسٹر ویکسینوں کو ملانے کے بارے میں رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔ اس پہلی قسط میں ہم ایسی ویکسین کے مؤثر ہونے کا جائزہ لیں گے۔

وزارت صحت کی محققین کی ٹیم نے جاپان میں سب سے پہلے ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگوانے والے طبی شعبے کے کارکنان کے ڈیٹا کا جائزہ لیا ہے۔ ان سب نے ویکسین کے پہلے دو ٹیکے فائزر کے لگوائے تھے۔ تاہم، تیسرے ٹیکے کے لیے 28 جنوری تک 2 ہزار 826 افراد کو فائزر ویکسین اور 773 افراد کو موڈرنا ویکسین لگائی گئی۔

محققین نے وائرس کی اصل قِسم کے خلاف ان افراد میں اینٹی باڈیز کی سطح معلوم کی اور ان میں پیدا ہونے والے ضمنی اثرات کا جائزہ لیا۔ اس ٹیم نے اپنی تحقیق کے نتائج 18 فروری کو وزارت صحت کے ماہرین کے پینل کے اجلاس میں پیش کیے۔

اس ٹیم نے تیسرا ٹیکہ لگوانے کے ایک ماہ بعد ان افراد میں اینٹی باڈیز کی سطح معلوم کی۔ ان میں وائرس سے انفیکشن کی کوئی اینٹی باڈی نہیں پائی گئی۔ فائزر کا تیسرا ٹیکہ لگوانے والوں میں، تیسرا ٹیکہ لگوانے سے ذرا پہلے کے مقابلے میں اینٹی باڈیز کی سطح اوسطاً 54.1 گنا زیادہ تھی۔ دریں اثناء، موڈرنا ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگوانے والوں میں، تیسرا ٹیکہ لگوانے سے ذرا پہلے کے مقابلے میں اینٹی باڈیز کی سطح اوسطاً 67.9 گنا زیادہ پائی گئی۔

محققین کے مطابق، بیرون ملک لیے گئے جائزوں کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ موڈرنا ویکسین کا بُوسٹر ٹیکہ، کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے خلاف بھی زیادہ مؤثر ہے۔

یہ معلومات 24 فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
㉒ کوچی

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم کوچی پریفیکچر کا جائزہ لے رہے ہیں۔

کوچی پریفیکچر:
اس پورے پریفیکچر میں نیم ہنگامی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔ یہ پریفیکچر کھانے پینے کے تمام ریستورانوں و دکانوں وغیرہ سے ان کے کاروباری اوقات مختصر کرنے کا کہہ رہا ہے۔

انسدادِ وائرس اقدامات پر عمل پیرا ہونے کے لحاظ سے پریفیکچر کی حکومت سے سند یافتہ ریستوران وغیرہ اس بات کا انتخاب خود کر سکتے ہیں کہ الکحل والے مشروبات فراہم کرتے ہوئے کاروبار کو رات 9 بجے بند کر دیں یا پھر الکحل پیش نہ کریں اور رات 8 بجے کاروبار بند کر دیں۔

غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ الکحل پیش نہ کریں اور کاروبار کو رات 8 بجے بند کر دیں۔

ایک ساتھ کھانے پینے والے افراد، یہاں تک کہ اہلِ خانہ کے ساتھ کھانے پینے والوں کی تعداد کو بھی فی میز چار تک محدود کر دیا گیا ہے۔

چھوٹی اور درمیانے حجم کی کمپنیوں کے زیرِ انتظام چلنے والے کھانے پینے کے وہ ریستوران یا دکانیں جو الکحل پیش کرتے ہیں اور رات 9 بجے کاروبار بند کر دیتے ہیں، انہیں یومیہ 25 ہزار سے 75 ہزار ین تک دیے جا رہے ہیں۔ الکحل پیش کیے بغیر رات 8 بجے کاروبار بند کر دینے والے ریستورانوں وغیرہ کو ان کی فروخت کے لحاظ سے 30 ہزار سے ایک لاکھ ین تک دیے جا رہے ہیں۔

حکام لوگوں پر یہ زور بھی دے رہے ہیں کہ غیرضروری مقاصد کیلئے پریفیکچر سے باہر جانے سے گریز کیا جائے۔

یہ معلومات 22 فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
㉑ واکایاما

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم واکایاما پریفیکچر کا جائزہ لے رہے ہیں۔

واکایاما پریفیکچر:
اس پورے پریفیکچر میں نیم ہنگامی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔ پریفیکچر کی حکومت کھانے پینے کے تمام ریستورانوں و دکانوں وغیرہ سے ان کے کاروباری اوقات مختصر کرنے کا کہہ رہی ہے۔

انسداد وائرس اقدامات کے تحت سند یافتہ ریستوران اور شراب خانے، گاہکوں کو شراب پیش کرنا جاری رکھنے یا نہ پیش کرنے میں سے ایک طریقے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

شراب فراہم کرنے کا انتخاب کرنے والوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ شراب کی فراہمی رات 8 بجے روک دیں اور رات 9 بجے کاروبار بند کر دیں۔ دیگر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ رات 8 بجے کاروبار بند کر دیں۔

انسدادِ وائرس اقدامات کے حوالے سے غیر سند یافتہ کھانے پینے کے ریستورانوں وغیرہ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ گاہکوں کو شراب پیش نہ کریں اور رات 8 بجے کاروبار بند کر دیں۔

ایک ساتھ کھانے پینے والے افراد کی تعداد فی میز 4 تک محدود کی گئی ہے۔

واکایاما پریفیکچر کے حکام، لائیو ایونٹس کے مقامات پر بھی بھرپور انسداد وائرس اقدامات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایک ہزار سے زائد افراد کی شرکت والے اجتماعات یا تقریبات وغیرہ کے منتظمین کو اپنے منصوبے پیشگی طور پر پریفیکچر کی حکومت کو جمع کروانے ہوں گے۔ شرکاء کی تعداد 5 ہزار سے زائد ہونے والے اجتماعات وغیرہ کے منتظمین کو مزید پابند کیا گیا ہے کہ وہ اجتماع یا تقریب سے 2 ہفتے قبل تفصیلی حفاظتی منصوبے اور اجتماع وغیرہ کے بعد کی رپورٹ بھی حکومت کو جمع کروائیں۔

یہ معلومات 21 فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑳ کاگوشیما

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم کاگوشیما پر نظر دوڑائیں گے۔

کاگوشیما پریفیکچر:
اس پریفیکچر کے تمام علاقوں میں نیم ہنگامی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں۔ پریفیکچر کی مقامی حکومت نے تمام ریستورانوں یا کھانے پینے کی دکانوں سے کاروباری اوقات کم کرنے کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کورونا وائرس کے انسدادی اقدامات اٹھانے کے حوالے سے سند یافتہ ریستورانوں یا کھانے پینے کی دکانوں کو کاروبار چلانے کے لیے دو میں سے ایک طریقۂ کار کا انتخاب کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک طریقے کے تحت شراب پیش کرنے کے ساتھ رات 9 بجے تک کاروبار بند کرنا ہو گا اور دوسرے طریقے کے تحت شراب پیش کرنے سے گریز کرتے ہوئے رات 8 بجے تک کاروبار چلایا جا سکتا ہے۔

کورونا وائرس کے انسدادی اقدامات کے حوالے سے غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شراب پیش نہ کریں اور رات 8 بجے تک کاروبار بند کر دیں۔

ان ہدایات پر عملدرآمد کرنے والے ریستورانوں یا کھانے پینے کی دکانوں کی مالی اعانت کی جائے گی۔ چھوٹے اور درمیانے حجم کی کمپنیوں کو ان کی فروخت کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ یومیہ 75 ہزار ین فی ریستوران یا دکان ادا کیا جائے گا۔ ان میں ایسے ریستوران وغیرہ جو سند یافتہ ہیں اور شراب پیش نہیں کرتے، انہیں یومیہ 30 ہزار سے 1 لاکھ ین کے درمیان رقم ادا کی جائے گی۔

یہ معلومات 18 فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑲ ساگا اور اوئِیتا

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم ساگا اور اوئِیتا پریفیکچروں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ساگا پریفیکچر:
نیم ہنگامی حالت کا نفاذ اس پورے پریفیکچر میں کیا گیا ہے۔

اس پریفیکچر کی حکومت، کھانے پینے کے تمام ریستورانوں وغیرہ سے اپنے کاروباری اوقات مختصر کرنے کا کہہ رہی ہے۔

وہ ریستوران اور شراب خانے جو انسداد وائرس اقدامات کے تحت سند یافتہ ہیں، گاہکوں کو شراب پیش کر سکتے ہیں اور رات 9 بجے تک کاروبار جاری رکھ سکتے ہیں۔ غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ کو شراب پیش کرنے سے گریز اور رات 8 بجے کاروبار بند کر دینے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

ان ہدایات کی پاسداری کرنے والے ریستوران اور شراب خانے وغیرہ چاہے سند یافتہ ہوں یا غیر سند یافتہ، اپنی فروخت کی مالیت کے لحاظ سے یومیہ 30 ہزار سے ایک لاکھ ین تک اعانت حاصل کر سکتے ہیں۔

پریفیکچر کے حکام گاہکوں سے بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ بڑے گروپوں کی صورت میں باہر طویل وقت کھانا کھانے سے گریز کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر میز پر زیادہ سے زیادہ چار گاہک ہونے چاہیئں اور وہ ریستوران وغیرہ میں دو گھنٹے سے زائد نہ رہیں۔

اس پریفیکچر کی حکومت لوگوں سے ایسے ریستورانوں وغیرہ میں بھی نہ جانے کا کہہ رہی ہے جہاں انسداد وائرس اقدامات پوری طرح نافذ نہ کیے گئے ہوں۔

اوئِیتا پریفیکچر:
اس پریفیکچر کی حکومت پورے پریفیکچر کے ریستورانوں اور شراب خانوں سے کاروباری اوقات مختصر کرنے کا کہہ رہی ہے۔

وہ ریستوران اور شراب خانے جو انسداد وائرس اقدامات کے تحت سند یافتہ ہیں، دو میں سے ایک طریقے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ پہلے طریقے میں وہ گاہکوں کو شراب پیش کرتے ہوئے رات 9 بجے تک کاروبار کر سکتے ہیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ شراب پیش کرنے سے گریز کرتے ہوئے، رات 8 بجے کاروبار بند کر دیں۔

غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ کو شراب پیش نہ کرنے اور رات 8 بجے کاروبار بند کر دینے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

ان ہدایات کی پاسداری کرنے والے کھانے پینے کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ریستورانوں وغیرہ کو شراب پیش نہ کرنے اور رات 8 بجے کاروبار بند کر دینے کی صورت میں، یومیہ 30 ہزار ین یا اس سے زائد کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔ شراب پیش کرنے اور رات 9 بجے تک کاروبار کرنے والے سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ کو یومیہ 25 ہزار ین یا اس سے زائد دیے جا رہے ہیں۔

یہ معلومات 17 فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑱ شِمانے اور اوکایاما

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم شِمانے اور اوکایاما پریفیکچروں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

شِمانے پریفیکچر:
اس پورے پریفیکچر میں نیم ہنگامی حالت نافذ کی گئی ہے۔

انسداد وائرس اقدامات پر عمل پیرا ہونے کے لحاظ سے سند یافتہ ریستورانوں اور شراب خانوں سے دو میں سے ایک طریقہ اختیار کرنے کا کہا گیا ہے۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ وہ رات 8 بجے تک شراب کی فراہمی جاری رکھتے ہوئے، رات 9 بجے تک کھلے رہ سکتے ہیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ شراب کی فراہمی مکمل بند رکھتے ہوئے، رات 8 بجے تک کاروبار کر سکتے ہیں۔

کھانے پینے کے غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ شراب پیش نہ کریں اور رات 8 بجے اپنا کاروبار بند کر دیں۔

چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے ریستورانوں اور شراب خانوں کو ان کی فروخت کی مالیت کے لحاظ سے یومیہ 30 ہزار سے ایک لاکھ ین تک اعانت دی جائے گی۔ اس کا اطلاق شراب پیش کیے بغیر رات 8 بجے کاروبار بند کر دینے والے ریستورانوں وغیرہ پر بھی ہوگا۔

وہ سند یافتہ ریستوران اور شراب خانے جو گاہکوں کو شراب پیش کریں گے اور رات 9 بجے اپنا کاروبار بند کریں گے، انہیں یومیہ 25 ہزار سے 75 ہزار ین تک ادائیگی کی جائے گی۔

ایک میز پر کھانے پینے والے افراد کی تعداد 4 تک محدود رکھنی ہوگی۔

اوکایاما پریفیکچر:
نیم ہنگامی حالت کا نفاذ اس پورے پریفیکچر میں کیا گیا ہے۔

غیر سند یافتہ ریستورانوں، کاراؤکے مراکز اور شادی ہالوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ رات 8 بجے تک کاروبار بند کر دیں اور پورا دن شراب بالکل پیش نہ کریں۔

کھانے پینے کے سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ یا تو رات 8 بجے تک شراب پیش کرتے ہوئے رات 9 بجے تک کاروبار بند کر دیں، یا پھر شراب بالکل نہ پیش کریں اور رات 8 بجے اپنا کاروبار بند کر دیں۔

ان ہدایات پر عمل کرنے والے ریستورانوں اور شراب خانوں کو اعانتیں دی جا رہی ہیں۔

چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے زیر انتظام کھانے پینے کے وہ سند یافتہ ریستوران وغیرہ جو شراب پیش کرتے ہوئے رات 9 بجے تک کاروبار کریں، انہیں یومیہ 75 ہزار ین تک ادا کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ دیگر سند یافتہ یا غیر سند یافتہ ریستوران وغیرہ جو شراب پیش نہ کرتے ہوئے رات 8 بجے تک کاروبار کر رہے ہیں، انہیں یومیہ ایک لاکھ ین تک کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔

یہ معلومات 16 فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑰ ناگانو اور شِزُواوکا

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم ناگانو اور شِزُواوکا پریفیکچروں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ناگانو پریفیکچر:
اس پورے پریفیکچر میں نیم ہنگامی حالت نافذ کی گئی ہے۔

یہ پریفیکچر کھانے پینے کے ریستورانوں وغیرہ اور کاراؤکے مراکز و شادی ہالوں سمیت دیگر کاروباروں سے کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے اوقاتِ کار کم کریں۔

انسدادِ وائرس اقدامات پر عمل پیرا ہونے کے لحاظ سے سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ کو دو میں سے ایک طریقے کا انتخاب کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ وہ الکحل پیش کرنے سے گریز کرتے ہوئے رات 8 بجے کاروبار بند کر سکتے ہیں یا پھر یہ کہ وہ الکحل پیش کر سکتے ہیں اور رات 9 بجے کاروبار بند کر دیں۔

غیرسند یافتہ ریستورانوں وغیرہ پر زور دیا گیا ہے کہ الکحل پیش کرنے سے گریز کریں اور رات 8 بجے کاروبار بند کر دیں۔

وہ ریستوران وغیرہ جو الکحل پیش نہیں کرتے اور رات 8 بجے تک کاروبار بند کر دیتے ہیں انہیں اُن کی فروخت کے لحاظ سے یومیہ 30 ہزار سے ایک لاکھ ین تک مل رہے ہیں۔ رات 9 بجے تک کاروبار جاری رکھنے یا الکحل پیش کرنے والے ریستوران وغیرہ کو 25 ہزار سے 75 ہزار ین تک کی کم اعانت مل رہی ہے۔

ہر میز پر چار افراد تک کے گروپ کو بیٹھنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

شِزُواوکا پریفیکچر:
اس پورے پریفیکچر میں نیم ہنگامی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔

یہ پریفیکچر کھانے پینے کے تمام ریستورانوں و دکانوں وغیرہ سے کاروباری اوقات کم کرنے کا کہہ رہا ہے۔

سند یافتہ ریستوران یا کاروبار اس بات کا انتخاب کر سکتے ہیں کہ الکحل پیش کریں یا نہیں۔ جو الکحل پیش کرتے ہیں اُن سے کہا گیا ہے کہ رات 8 بجے الکحل پیش کرنا روک دیں اور رات 9 بجے تک کاروبار بند کر دیں۔ جو الکحل پیش نہیں کرتے وہ رات 8 بجے تک کاروبار جاری رکھ سکتے ہیں۔

پہلے طریقے کا انتخاب کرنے والوں کو ان کی فروخت کے لحاظ سے یومیہ 25 ہزار اور 75 ہزار ین کے درمیان رقم مل رہی ہے۔ دوسرے طریقے کا انتخاب کرنے والوں کو 30 ہزار سے ایک لاکھ ین مل رہے ہیں۔

غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ الکحل پیش کرنے سے گریز کریں اور رات 8 بجے تک کاروبار کو بند کر دیں۔ جو اس کی پاسداری کر رہے ہیں انہیں اعانت دی جا رہی ہے۔

ہر میز پر چار افراد تک کے گروپ کو بیٹھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ معلومات 15 فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑯ توچِگی اور اِشی کاوا

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم توچِگی اور اِشی کاوا پریفیکچروں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

توچِگی پریفیکچر:
اس پورے پریفیکچر میں نیم ہنگامی حالت نافذ کی گئی ہے۔

انسداد وائرس اقدامات کی سند کے حامل ریستورانوں اور مے خانوں سے دو میں سے ایک طریقہ اختیار کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ پہلے طریقے میں وہ شراب کی فراہمی مکمل بند رکھتے ہوئے رات 8 بجے تک کاروبار کر سکتے ہیں۔ دوسرے طریقے میں وہ رات 9 بجے تک کھلے رہ سکتے ہیں، تاہم انہیں رات 8 بجے شراب کی فراہمی بند کرنی ہوگی۔

کھانے پینے کے غیر سند یافتہ ریستورانوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ شراب پیش نہ کریں اور رات 8 بجے اپنا کاروبار بند کردیں۔ ہدایات کی پاسداری کرنے والے ریستورانوں وغیرہ کو پریفیکچر کی حکومت یومیہ ایک لاکھ ین تک زر تلافی ادا کرے گی۔

اِشی کاوا پریفیکچر:
نیم ہنگامی حالت کا نفاذ پورے پریفیکچر میں کیا گیا ہے۔ انسداد وائرس اقدامات کی سند کے حامل ریستوران اور شرابخانے، شراب کی فراہمی مکمل بند رکھتے ہوئے رات 8 بجے تک کاروبار کر سکتے ہیں یا دوسری صورت میں وہ رات 9 بجے تک کھلے رہ سکتے ہیں، تاہم انہیں رات 8 بجے شراب کی فراہمی بند کرنی ہوگی۔ کھانے پینے کے غیر سند یافتہ پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ شراب پیش نہ کریں اور رات 8 بجے اپنا کاروبار بند کر دیں۔

ہدایات کی پاسداری کرنے والے کاروبار اعانت حاصل کرنے کے مجاز ہیں۔ چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے وہ ریستوران جو شراب پیش نہیں کریں گے وہ شراب پیش کرنے والے ریستورانوں کے مقابلے میں زیادہ اعانت حاصل کر سکیں گے۔

شراب پیش کرنے والے سند یافتہ ریستورانوں کو یومیہ 75 ہزار ین تک کی ادائیگی کی جا رہی ہے، جبکہ شراب پیش نہ کرنے والے ریستوران یومیہ ایک لاکھ ین تک حاصل کر رہے ہیں۔

یہ معلومات 10 فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑮ آؤموری اور یاماگاتا

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم آؤموری اور یاماگاتا پریفیکچروں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

آؤموری پریفیکچر:
اس پریفیکچر میں نیم ہنگامی حالت کا نفاذ پہلی بار کیا گیا ہے۔

پریفیکچر کی حکومت ہیروساکی شہر میں واقع ریستورانوں سے ان کے اوقات کار صبح 5 بجے سے رات 8 بجے کے درمیان تک محدود رکھنے کے لیے کہہ رہی ہے۔ تاہم، اس پابندی کا اطلاق کھانوں کو گاہکوں کی جگہ تک پہنچانے یا ریستوران سے کھانا خرید کر لے جانے پر نہیں ہوگا۔

ریستورانوں وغیرہ سے بنیادی طور پر شراب فراہم نہ کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ لیکن انسداد وائرس اقدامات کرنے کے لحاظ سے سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ کو صبح 11 بجے سے رات 8 بجے کے دوران شراب فراہم کرنے کی اجازت ہے۔

ایک میز پر صرف 4 گاہکوں کو بیٹھنے کی اجازت ہے۔

ان ہدایات کی پاسداری کرنے والے ریستورانوں کو ان کی فروخت کی مالیت، گنجائش اور شراب فراہم کرنے یا نہ کرنے کے لحاظ سے یومیہ 25 ہزار سے 2 لاکھ ین تک کی امداد دی جا رہی ہے۔

یاماگاتا پریفیکچر:
نیم ہنگامی حالت کا نفاذ اس پریفیکچر کے 9 شہروں اور قصبوں پر کیا گیا ہے۔ ان میں یاماگاتا، تیندو، یونے زاوا، تسُورُواوکا اور سَکاتا شہر، جبکہ تَکاہاتا، مِکاوا، شونائی اور یُوزا قصبے شامل ہیں۔

ان علاقوں کے لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔ باہر کھانا کھانے کی صورت میں ایک میز پر صرف 4 افراد تک کے گروپ کو بیٹھنے کی اجازت ہے اور وہ 2 گھنٹے سے زائد نہیں بیٹھ سکیں گے۔

پریفیکچر کی حکومت ریستورانوں سے ان کے اوقات کار کم کرنے کے لیے کہہ رہی ہے۔ تاہم، اس کا اطلاق کھانے گاہکوں کی جگہ تک پہنچانے یا ریستوران سے کھانا خرید کر لے جانے پر نہیں ہوگا۔

انسداد وائرس اقدامات کرنے کے لحاظ سے سند یافتہ کھانے پینے کے مراکز سے کہا جا رہا ہے کہ وہ صبح 5 بجے سے رات 9 بجے کے درمیان کاروبار کریں۔ وہ گاہکوں کو شراب بھی پیش کر سکتے ہیں۔

غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اوقات کار صبح 5 بجے سے رات 8 بجے کے درمیان تک رکھیں اور گاہکوں کو شراب پیش نہ کریں۔

ان ہدایات کی پاسداری کرنے والے کاروباری ادارے مالی اعانت حاصل کرنے کے مستحق ہیں۔ سند یافتہ کمپنیوں کو زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ 10 ہزار ین، جبکہ غیر سند یافتہ کمپنیوں کو زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ ین مل سکیں گے۔

یہ معلومات 10 فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑭ فکُوشیما اور اِباراکی

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم فکُوشیما اور اِباراکی پریفیکچروں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

فکُوشیما پریفیکچر:
اس پورے پریفیکچر میں نیم ہنگامی اقدامات نافذ ہیں۔ ریستورانوں اور مے خانوں سے ان کے اوقات کار کم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ مکمل انسداد وائرس اقدامات کرنے کے لحاظ سے غیر سند یافتہ کھانے پینے کے مراکز پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ شراب پیش نہ کریں اور رات 8 بجے اپنا کاروبار بند کردیں۔

سند یافتہ ریستورانوں اور مے خانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ دو میں سے ایک طریقے کا انتخاب کریں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ وہ صبح 5 بجے سے رات 9 بجے تک کھلے رہ سکتے ہیں اور رات 8 بجے شراب کی فراہمی بند کر دیں، یا پھر یہ کہ وہ شراب کی فراہمی مکمل بند رکھتے ہوئے، صبح 5 بجے سے رات 8 بجے تک کاروبار کر سکتے ہیں۔ پہلے طریقے کا انتخاب کرنے والوں کو یومیہ 25 ہزار یا اس سے زائد، جبکہ دوسرا طریقہ اختیار کرنے والوں کو کم از کم 30 ہزار ین یومیہ مالی اعانت دی جائے گی۔

ایک میز پر 4 افراد تک کے گروپ کو بیٹھنے کی اجازت ہے۔

اِباراکی پریفیکچر:
نیم ہنگامی حالت کا نفاذ اس پورے پریفیکچر میں کیا گیا ہے۔ ریستورانوں اور مے خانوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ یا تو وہ شراب فراہم نہ کریں اور رات 8 بجے اپنا کاروبار بند کر دیں، یا پھر شراب فراہم کرتے ہوئے رات 9 بجے کاروبار بند کریں۔

چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے زیرِ انتظام چلنے والے ایسے ریستوران وغیرہ جو شراب پیش نہ کرتے ہوئے رات 8 بجے کاروبار بند کر دیں گے، وہ یومیہ 30 ہزار سے ایک لاکھ ین تک وصول کرنے کے حقدار ہوں گے۔

شراب پیش کرتے ہوئے رات 9 بجے تک کاروبار کرنے کا انتخاب کرنے والے ریستورانوں کو یومیہ 20 ہزار سے 75 ہزار ین تک دیے جا رہے ہیں۔

یہ مالی اعانتیں حاصل کرنے کے لیے ریستورانوں اور مے خانوں کو پریفیکچر کے وائرس سے متاثر ہونے کی معلومات دینے کے اطلاعی نظام میں رجسٹریشن کروانی ہوگی، جسے ’اِباراکی کے اَمابئے چان‘ کا نام دیا گیا ہے۔

کھانے پینے کے مراکز کے منتظمین سے کہا گیا ہے کہ وہ ویکسینیشن یا کورونا وائرس ٹیسٹ کے منفی نتیجے سے قطع نظر، ایک میز پر گاہکوں کی تعداد کو 4 تک محدود رکھیں۔

یہ معلومات 9 فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑬ ہوکائیدو

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم ہوکائیدو پریفیکچر کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ہوکائیدو پریفیکچر:
اس پورے پریفیکچر میں نیم ہنگامی اقدامات کا اطلاق کیا جا رہا ہے۔

کاراؤکے مراکز اور شادی ہالوں سمیت کھانے پینے کے ریستوران وغیرہ اور انسدادِ وائرس اقدامات پر عمل پیرا ہونے کے لحاظ سے سند یافتہ دیگر کاروبار دو میں سے ایک طریقے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ وہ رات 8 بجے تک الکحل پیش کرنا جاری رکھ سکتے ہیں اور انہیں رات 9 بجے کاروبار بند کرنا ہوگا، یا پھر یہ کہ وہ الکحل فراہم کیے بغیر رات 8 بجے کاروبار بند کر دیں۔

انسدادِ وائرس اقدامات کے لحاظ سے غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ الکحل پیش کرنے سے گریز کریں اور رات 8 بجے تک کاروبار بند کر دیں۔

ہر میز پر چار افراد تک کے گروپ کو بیٹھنے کی اجازت ہے۔

کاراؤکے مراکز والی کاروباری جگہوں سے کہا گیا ہے کہ حد سے زیادہ ہجوم ہو جانے کی روکتھام کریں اور ہوا کی آمدورفت رکھنے جیسے دیگر انسدادِ وائرس اقدامات کریں۔

سند یافتہ چھوٹی اور درمیانے حجم کی کمپنیاں یا کاروبار کے مالکان جو الکحل پیش کرتے ہیں اور کاروبار کو رات 9 بجے بند کر دیتے ہیں، انہیں ان کی فروختوں کے لحاظ سے فی دکان یا ریستوران 25 ہزار سے 75 ہزار ین یومیہ کی اعانت دی جا رہی ہے۔ وہ کاروبار جو 8 بجے تک بند کردیے جاتے ہیں اور ایسے غیر سند یافتہ ریستوران وغیرہ بھی جو الکحل پیش نہیں کرتے انہیں یومیہ 30 ہزار سے ایک لاکھ ین کی اعانت دی جا رہی ہے۔

بڑے ریستورانوں وغیرہ کی انتظامیہ کو ان کے سند یافتہ ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں بھی، ان کی فروخت میں کمی کے لحاظ سے فی کس دو لاکھ ین یومیہ تک ادا کیے جا رہے ہیں۔

وہ اجتماعات وغیرہ جن میں شرکاء نعرے بازی وغیرہ کرتے ہیں، ان کیلئے لوگوں کی تعداد کی حد پانچ ہزار یا گنجائش کی 50 فیصد میں سے جو بھی کم ہو وہ رکھی گئی ہے۔ ایسی تقریبات یا اجتماعات وغیرہ جن میں نعرے بازی نہیں ہوتی ان کیلئے مکمل گنجائش یا پانچ ہزار افراد میں سے جو بھی کم ہو، اس کی اجازت ہے۔

ایسے اجتماعات وغیرہ کیلئے جن میں پانچ ہزار سے زیادہ شُرکاء ہوں، اُن کے ایسے منتظمین جو دو ہفتے پیشتر انفیکشن روکتھام کے منصوبے جمع کروا دیں، انہیں زیادہ سے زیادہ 20 ہزار افراد یا گنجائش کی 100 فیصد تعداد میں سے جو بھی کم ہو، اُسے داخلے کی اجازت ہے۔

تماشائیوں کی موجودگی والے اجتماعات وغیرہ کو 9 بجے ختم کر دینے کیلئے کہا جا رہا ہے۔ منتظمین پر یہ زور بھی دیا گیا ہے کہ رات 8 بجے کے بعد الکحل پیش نہ کریں۔

یہ معلومات 8 فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑫ فُوکُواوکا

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم فُوکُواوکا پریفیکچر کا جائزہ لے رہے ہیں۔

فُوکُواوکا پریفیکچر:
اس پریفیکچر کی حکومت نے تمام علاقوں پر 24 جنوری کو لگائی گئی پابندیوں کو پریفیکچر میں نیم ہنگامی حالت نافذ کرنے کے بعد بھی برقرار رکھا ہے۔

ریستورانوں وغیرہ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ فی میز گاہکوں کی تعداد کو 4 افراد تک محدود رکھیں۔

انسداد وائرس اقدامات پر عمل کرنے کے لحاظ سے سند یافتہ ریستوران اور مے خانے، دو میں سے ایک طریقے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ کہ وہ گاہکوں کو شراب فراہم کر سکتے ہیں اور رات 9 بجے اپنا کاروبار بند کر دیں یا پھر یہ کہ وہ گاہکوں کو شراب پیش نہ کریں اور رات 8 بجے تک اپنا کاروبار بند کر دیں۔

کھانے پینے کے غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ شراب پیش نہ کریں اور رات 8 بجے تک اپنا کاروبار بند کر دیں۔

رات 9 بجے تک کاروبار کھلا رکھنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے سند یافتہ ریستوران اور مے خانے اپنی فروخت کی مالیت کے لحاظ سے فی ریستوران یا دُکان یومیہ 25 ہزار سے 75 ہزار ین تک کی اعانت وصول کر سکیں گے۔

شراب پیش نہ کرنے اور رات 8 بجے تک کاروبار بند کر دینے والے سند یافتہ اور غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ کو یومیہ 30 ہزار سے ایک لاکھ ین تک کی مالی اعانت دی جائے گی۔

بڑے ریستورانوں وغیرہ کو اُن کی فروخت میں ہونے والی کمی کے حجم کے لحاظ سے یومیہ 2 لاکھ ین تک دیے جائیں گے۔

بڑی تقریبات یا اجتماعات میں لوگوں کی شرکت کی حد بنیادی طور پر 5 ہزار رکھی گئی ہے۔ تاہم، منتظمین کی جانب سے وائرس انفیکشن کے انسدادی منصوبوں کو پیشگی فراہم کرنے اور پریفیکچر کی حکومت کی طرف سے ان کی تصدیق کی صورت میں شرکاء کی حد 20 ہزار افراد تک بڑھائی جا سکے گی۔

رہائشیوں سے غیر ضروری طور پر پریفیکچر آنے یا پریفیکچر سے باہر جانے سے گریز کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

یہ معلومات 7 فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑪کیوتو

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم کیوتو میں اٹھائے گئے اقدامات پر نظر دوڑائیں گے۔

کیوتو پریفیکچر:

اس پریفیکچر کے تمام علاقوں میں نیم ہنگامی اقدامات نافذ ہیں۔

پریفیکچر کی مقامی حکومت نے ریستورانوں یا کھانے پینے کی دیگر دکانوں سے کاروباری اوقات کار کم کرنے کی درخواست کی ہے۔

انسداد وائرس اقدامات اٹھانے کے حوالے سے سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ کو کاروبار کرنے کے لیے دو میں سے ایک طریقے کا انتخاب کرنے کا کہا گیا ہے۔ وہ رات ساڑھے آٹھ بجے تک شراب پیش کر سکتے ہیں، اور انہیں رات نو بجے تک کاروبار بند کرنا ہو گا، یا وہ شراب پیش کرنے سے گریز کر سکتے ہیں اور انہیں رات آٹھ بجے تک کاروباری سرگرمیاں موقوف کرنی ہوں گی۔

وائرس کے انسدادی اقدامات کے حوالے سے غیر سند یافتہ ریستورانوں کو شراب پیش نہ کرنے اور رات آٹھ بجے تک کاروبار بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

شراب پیش کرنے یا نہ کرنے اور گزشتہ فروخت کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ہدایات پر عملدرآمد کرنے والے ریستورانوں وغیرہ کو حکومت اعانت فراہم کرے گی۔

رات نو بجے تک کاروبار بند کرنے اور وائرس کے انسدادی اقدامات کے حوالے سے سند یافتہ چھوٹے اور درمیانے حجم کے ریستورانوں وغیرہ کو زیادہ سے زیادہ 75 ہزار ین یومیہ ادا کیے جائیں گے۔ شراب پیش نہ کرنے، رات آٹھ بجے کاروبار بند کرنے اور ہدایات پر عملدرآمد کرنے والے غیر سند یافتہ ریستورانوں اور شراب خانوں کو فروخت کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ 1 لاکھ ین یومیہ ادا کیے جائیں گے۔

ایسے ریستورانوں وغیرہ میں ہر میز پر زیادہ سے زیادہ چار افراد کو بیٹھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ میں تمام افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ کے منفی نتیجے کا ثبوت پیش کرنے کی صورت میں پانچ یا زائد افراد ایک ہی میز کے گرد بیٹھ سکیں گے۔

یہ معلومات 4 فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑩ ہیوگو

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم ہیوگو پریفیکچر کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ہیوگو پریفیکچر:
نیم ہنگامی حالت پورے پریفیکچر میں نافذ کی گئی ہے۔ ریستورانوں اور مے خانوں سے ان کے کاروباری اوقات میں کمی کا کہا گیا ہے۔

انسداد وائرس اقدامات کے تحت سند یافتہ ریستورانوں اور مے خانوں وغیرہ کو دو میں سے ایک طریقے کے انتخاب کا کہا گیا ہے۔ وہ رات ساڑھے آٹھ بجے تک الکحل پیش کرسکتے ہیں اور رات 9 بجے کاروبار بند کر سکتے ہیں، یا پھر یہ کہ وہ الکحل کی فراہمی سے گریز کرتے ہوئے رات 8 بجے تک کاروبار بند کر سکتے ہیں۔

غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ شراب پیش نہ کریں اور رات 8 بجے تک اپنا کاروبار بند کر دیں۔

ان ہدایات پر عمل کرنے کی صورت میں ایسے سند یافتہ ریستوران وغیرہ جو گاہکوں کو شراب پیش کریں اور اپنا کاروبار رات 9 بجے تک بند کریں گے، انہیں اُن کی فروخت کے لحاظ سے یومیہ 25 ہزار سے 75 ہزار ین تک کی مالی اعانت مل سکتی ہے۔

وہ سند یافتہ یا غیر سند یافتہ ریستوران وغیرہ جو شراب پیش نہ کریں اور رات 8 بجے تک کاروبار بند کر دیں، وہ فی ریستوران یومیہ 30 ہزار سے ایک لاکھ ین تک کی اعانت حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ معلومات 3 فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑨ اوساکا

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم اوساکا پریفیکچر کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اوساکا پریفیکچر:
نیم ہنگامی حالت کا نفاذ پورے پریفیکچر میں کیا گیا ہے۔

اس پریفیکچر کی حکومت نے انسداد وائرس اقدامات کے تحت سند یافتہ ریستورانوں اور مے خانوں کو دو میں سے ایک طریقے کے انتخاب کی اجازت دی ہے۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ وہ رات ساڑھے 8 بجے تک شراب کی فراہمی اور رات 9 بجے کاروبار بند کر دیں یا پھر یہ کہ وہ شراب کی فراہمی سے گریز کریں اور رات 8 بجے تک کاروبار بند کر دیں۔ بعدالذکر طریقے کا انتخاب کرنے والوں کو زیادہ مالی اعانت دی جائے گی۔

غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ شراب پیش نہ کریں اور رات 8 بجے اپنا کاروبار بند کر دیں۔

انسدادِ وائرس اقدامات کے لحاظ سے کھانے پینے کے سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ میں ایک میز پر کھا یا پی سکنے والے افراد کی تعداد 4 تک محدود ہوگی۔ 5 یا اس سے زائد افراد کے ایک میز پر بیٹھنے کی اجازت اس صورت میں ہوگی کہ وہ تمام افراد کورونا ٹیسٹ منفی ہونے کا ثبوت مہیا کر سکیں۔

غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ ایک میز پر 5 یا اس سے زائد افراد بیٹھنے کی اجازت نہ دیں۔

بڑے پیمانے کی تقریبات یا اجتماعات وغیرہ کے لیے، ان کے منتظمین کی جانب سے اپنے انسداد وائرس منصوبوں کی پیشگی فراہی کی صورت میں فی پروگرام 20 ہزار افراد کو داخلے کی اجازت ہو گی۔ تاہم، تمام شرکاء کے کورونا وائرس ٹیسٹ کے منفی نتائج کی تصدیق کی صورت میں ایک اجتماع وغیرہ میں 20 ہزار سے زائد افراد کو بھی شرکت کی اجازت ہے۔

یہ معلومات 2 فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑧ کُماموتو اور میازاکی

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم کُماموتو اور میازاکی کا جائزہ لیں گے۔

کُماموتو پریفیکچر:

یہ پریفیکچر نیم ہنگامی اقدامات پورے علاقے پر لاگو کر رہا ہے۔ ایسے ریستوران یا مے خانے جو انسدادِ انفیکشن اقدامات کرنے سے متعلق بلدیاتی اداروں سے تصدیق شدہ ہیں وہ الکحل والے مشروبات پیش کر سکتے ہیں اور رات 9 بجے تک کھلے رہ سکتے ہیں یا پھر پورا دن الکحل پیش کیے بغیر رات 8 بجے تک کھلے رہ سکتے ہیں۔ بعد الذکر طریقے کا انتخاب کرنے والے ریستورانوں اور مے خانوں وغیرہ کو زیادہ مالی اعانت ملے گی۔

جو ریستوران یا مے خانے وغیرہ سند یافتہ نہیں ہیں ان سے کہا گیا ہے کہ رات 8 بجے تک کاروبار بند کر دیں اور پورے دن الکحل پیش نہ کریں۔ یہ پریفیکچر اُن ریستورانوں اور مے خانوں وغیرہ کو مالی اعانت دیتا ہے جو ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔

یہ پریفیکچر ریستورانوں اور مے خانوں وغیرہ سے مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ ایک ہی میز پر بیٹھنے والے افراد کی تعداد چار تک محدود کی جائے۔ دریں اثناء، اس کا کہنا ہے کہ سند یافتہ ریستورانوں اور مے خانوں وغیرہ پر فی میز تعداد کی کوئی حد نہیں ہے بشرطیکہ تمام شرکاء کے کورونا وائرس ٹیسٹ کا نتیجہ منفی ہو۔

میازاکی پریفیکچر:

اس پریفیکچر نے پورے علاقے میں انسدادِ انفیکشن اقدامات کیے ہیں۔ یہ پریفیکچر کھانے پینے کے ریستورانوں وغیرہ سے کہہ رہا ہے کہ رات 8 بجے تک کاروبار بند کر دیں اور پورے دن الکحل پیش کرنے سے گریز کریں۔ اس درخواست پر عملدرآمد کرنے والے ریستوران وغیرہ کاروباری حجم کے مطابق یومیہ 30 ہزار سے 2 لاکھ ین تک کی اعانت حاصل کرنے کے مجاز ہیں۔

یہ معلومات یکم فروری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑦ کاگاوا اور ناگاساکی

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم کاگاوا اور ناگاساکی پریفیکچروں کا جائزہ لیں گے۔

کاگاوا پریفیکچر:
اس پریفیکچر نےسوا ئے ناؤشیما قصبے کے 16بلدیات یا پورے علاقے میں انسداد وائرس اقدامات کا نفاذ کیا ہے۔

انسدادِ وائرس اقدامات کے حوالے سے بلدیات کی جانب سے غیر سند یافتہ ریستورانوں اور شراب خانوں کو رات 8 بجے اپنا کاروبار بند کرنے اور گاہکوں کو شراب پیش نہ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ سند یافتہ کھانے پینے کے ریستورانوں وغیرہ کو دو طریقوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے کا کہا گیا ہے۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ رات 8 بجے تک شراب پیش کر سکتے ہیں اوررات 9 بجے تک کاروبار کھلا رکھ سکتے ہیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ شراب پیش کیے بغیر رات 8 بجے تک کاروبار کھلا رکھا جاسکتا ہے۔ ان ہدایات پر عمل کرنے والے ریستوران اور مے خانے وغیرہ اپنے بڑے یا چھوٹے ہونے کے لحاظ سے حکومتی اعانت کے مستحق ہوں گے۔

ناگاساکی پریفیکچر:
یہ پریفیکچر پورے علاقے میں نیم ہنگامی حالت کا اطلاق کر رہا ہے۔ کھانے پینے کے مراکز سے کہا گیا ہے کہ وہ رات 8 بجے اپنا کاروبار بند کر دیں، جبکہ پورے دن گاہکوں کو شراب پیش کرنے سے گریز کریں۔ ان ہدایات کی پابندی کرنے والے چھوٹے یا درمیانے درجے کے ریستوران وغیرہ اپنی آمدنی کے لحاظ سے یومیہ 30 ہزار سے ایک لاکھ ین تک کی مالی اعانت حاصل کر سکیں گے۔ بڑے ریستورانوں وغیرہ کو ان ہدایات کی پابندی کے باعث ہونے والے نقصان کا 40 فیصد ادا کیا جائے گا۔ تاہم اس کی زیادہ سے زیادہ حد 2 لاکھ ین یومیہ مقرر کی گئی ہے۔

یہ معلومات 31 جنوری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑥ گِفو اور مِیئے

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم گِفو اور مِیئے پر نظر دوڑائیں گے۔

گِفو پریفیکچر:

اس پریفیکچر نے اپنی تمام 42 بلدیات میں انسدادِ کورونا وائرس اقدامات کے لحاظ سے سند یافتہ اور غیر سند یافتہ تمام مقامی ریستورانوں اور شراب خانوں وغیرہ کو رات 8 بجے تک کاروبار بند کرنے اور گاہکوں کو شراب فراہم نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

حکومت کی اس ہدایت کی پابندی کرنے والے کھانے پینے کے ریستورانوں وغیرہ کو 30 ہزار سے 2 لاکھ ین یومیہ ادا کیے جاتے ہیں۔

اس پریفیکچر نے کووڈ-19 کی ویکسین لگوانے کا ریکارڈ یا ٹیسٹ کا منفی نتیجہ دکھانے کی صورت میں سماجی پابندیوں میں نرمی کرنے کے مرکزی حکومت کے منصوبے کو اپنے علاقے میں نافذ نہیں کیا ہے۔

مِیئے پریفیکچر:
اس پریفیکچر میں وائرس کے انسدادی اقدامات اوواسے اور کُمانو شہر سمیت پانچ جنوبی بلدیات کے سوا باقی تمام بلدیاتی علاقوں میں نافذ کیے گئے ہیں۔

ان اقدامات کے تحت انسداد کورونا وائرس سے متعلق سند یافتہ کھانے پینے کے ریستورانوں وغیرہ کو کاروبار چلانے کے لیے دو میں سے ایک طریقہ کار کا انتخاب کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ پہلا، گاہکوں کو شراب فراہم کرنا اور رات 9 بجے کاروبار بند کرنا ہے۔ دوسرا، گاہکوں کو شراب فراہم کیے بغیر رات 8 بجے تک کاروبار چلانا ہے۔ غیر سند یافتہ کھانے پینے کی دکانوں، ریستورانوں وغیرہ کو شراب فراہم کیے بغیر رات 8 بجے بند کرنے کا کہا گیا ہے۔

ان سرکاری ہدایات پر عمل کرنے والوں کو ان کے کاروبار کے حجم کے مطابق اعانت دی جائے گی۔ شراب فراہم نہ کرنے اور رات 8 بجے کاروبار بند کرنے والے ریستورانوں وغیرہ کے لیے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بڑی اعانتی رقوم دستیاب ہیں۔

یہ معلومات 28 جنوری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
⑤ آئیچی

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم آئیچی پریفیکچر کا جائزہ لے رہے ہیں۔

آئیچی پریفیکچر:
انسداد وائرس اقدامات کا نفاذ، تواے قصبے اور تویونے گاؤں کو چھوڑ کر پریفیکچر کی 52 بلدیات میں کیا گیا ہے۔

کھانے پینے کے وہ ریستوران وغیرہ شراب کی فراہمی کے بغیر رات 8 بجے تک کھلے رکھے جا سکیں گے جو انسدادِ وائرس اقدامات کر رہے ہیں۔ دوسری صورت میں وہ رات 9 بجے تک کاروبار کر سکتے ہیں مگر انہیں رات 8 بجے کے بعد گاہکوں کو شراب پیش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

شراب پیش نہ کرنے والے کھانے پینے کے ریستورانوں وغیرہ کیلئے زیادہ مالی اعانت دستیاب ہے۔

انسدادِ کورونا وائرس اقدامات کے لحاظ سےغیر سند یافتہ مراکز سے کہا جا رہا ہے کہ وہ شراب پیش نہ کریں اور رات 8 بجے اپنا کاروبار بند کر دیں۔

تمام ریستورانوں وغیرہ میں ایک میز پر کھا یا پی سکنے والے افراد کی تعداد 4 تک محدود ہوگی۔

کھیلوں سمیت بڑی تقریبات وغیرہ کے لیے، ان کے منتظمین کے انسداد وائرس منصوبوں کی پریفیکچر کی حکومت کی جانب سے پیشگی منظوری کی صورت میں 20 ہزار تماشائیوں کو داخلے کی اجازت ہے۔ دیگر اجتماعات وغیرہ کے لیے یہ حد 5 ہزار افراد ہے۔ تاہم، ایسے اجتماعات وغیرہ جن میں تماشائیوں کی جانب سے بلند آواز میں نعرے متوقع ہوں، شرکاء کی حد اجتماع کے مقام کی گنجائش سے نصف ہوگی۔

اسکولوں کی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ طلباء کے لیے الگ الگ دنوں یا گھنٹوں میں کلاسوں کے انعقاد، اور آن لائن کلاسوں پر غور کریں۔

غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے ان سے کہا گیا ہے کہ وہ کھیلوں کے پریکٹس میچوں کا انعقاد نہ کریں۔

ان پر زور دیا گیا ہے کہ اسکولوں کے باہر منعقد کیے جانے والے پروگراموں میں بھی احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھا جائے جن میں تفریحی سفر شامل ہے۔

یہ معلومات 27 جنوری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس کی نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں کیا ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
④ گُمّا اور نیگاتا

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن کے متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں ٹوکیو اور ملک کے کئی دیگر پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم گُمّا اور نیگاتا کا جائزہ لے رہے ہیں۔

گُمّا پریفیکچر:
اس پریفیکچر کے ہر علاقے میں نیم ہنگامی اقدامات نافذ کردیے گئے ہیں۔ اس میں انسدادِ کورونا وائرس اقدامات کے لحاظ سے سند یافتہ ریستورانوں اور مے خانوں وغیرہ کو دو طریقوں میں سے ایک کے انتخاب کی اجازت دی گئی ہے۔ ایک طریقہ گاہکوں کو شراب پیش کیے بغیر صبح 5 بجے سے رات 8 بجے تک کاروبار کھلا رکھ سکنے کا ہے۔ دوسرے طریقے میں کاروبار رات 9 بجے تک کھلا رکھا جا سکتا ہے، تاہم گاہکوں کو رات 8 بجے کے بعد شراب فراہم نہیں کی جا سکے گی۔ کھانے پینے کے غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ کو رات 8 بجے تک کاروبار بند کرنے اور شراب پیش نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ہر قسم کے کھانے پینے کے ریستورانوں وغیرہ میں ایک میز پر گاہکوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کی حد 4 افراد ہے۔

ان ہدایات کی پابندی کرنے والے کھانے پینے کے تمام ریستورانوں وغیرہ کو مالی اعانت دی جائے گی۔ چھوٹے سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ کو اُن کی فروخت کے لحاظ سے روزانہ 25 ہزار ین سے ایک لاکھ ین تک دیے جائیں گے۔ چھوٹے غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ کو یومیہ 30 ہزار ین سے ایک لاکھ ین تک کی اعانت دی جائے گی۔ بڑے ریستورانوں وغیرہ کو یومیہ 2 لاکھ ین تک دیے جائیں گے۔

نیگاتا پریفیکچر:
نیم ہنگامی اقدامات کے نفاذ کے دوران، اس پریفیکچر کے تمام کھانے پینے کے ریستورانوں وغیرہ سے کہا گیا ہے کہ وہ گاہکوں کو شراب پیش نہ کریں اور اپنا کاروبار رات 8 بجے تک بند کر دیں۔ سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ کو رات 8 بجے تک شراب پیش کرنے اور رات 9 بجے کاروبار بند کرنے یا شراب پیش کیے بغیر رات 8 بجے کاروبار بند کرنے میں سے ایک طریقے کے انتخاب کی اجازت ہے۔ تمام ریستورانوں وغیرہ میں ایک میز پر گاہکوں کی حد زیادہ سے زیادہ 4 افراد ہو گی۔

یہ معلومات 26 جنوری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر کون سے اقدامات کرے گا؟
③ کاناگاوا

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشنز کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ٹوکیو اور جاپان بھر کے دیگر کئی پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم کاناگاوا پریفیکچر پر نظر دوڑائیں گے۔

کاناگاوا پریفیکچر:
اس پریفیکچر نے اپنے پورے علاقے میں نیم ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔

ان اقدامات کے تحت انسدادِ کورونا وائرس سے متعلق سند یافتہ ریستورانوں اور مے خانوں وغیرہ کو دو طریقوں میں سے انتخاب کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ کاروبار کو رات 9 بجے بند کر دیا جائے اور رات 8 بجے شراب فراہم کرنا بند کر دیا جائے۔ دوسرا یہ ہے کہ شراب پیش کیے بغیر رات 8 بجے تک کاروبار کھلا رکھا جائے۔

غیر سند یافتہ ریستورانوں اور مے خانوں وغیرہ سے کہا گیا ہے کہ وہ رات 8 بجے تک کاروبار بند کر دیں اور شراب پیش نہ کریں۔

تمام ریستورانوں اور مے خانوں وغیرہ سے کہا گیا ہے کہ گاہکوں کی تعداد فی میز چار تک محدود کر دیں۔

ان درخواستوں کی تعمیل کرنے والے تمام ریستورانوں اور مے خانوں وغیرہ کو مالی اعانت فراہم کی جائے گی۔ اگر انہوں نے اپنا کاروبار رات 9 بجے تک کھلا رکھا تو انہیں ان کی فروخت کے مطابق 25 ہزار سے 75 ہزار ین تک کی رقم بطورِ اعانت فراہم کی جائے گی۔ اگر انہوں نے رات 8 بجے تک اپنا کاروبار کھلا رکھا تو 30 ہزار سے ایک لاکھ ین تک کی اعانت دی جائے گی۔

سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ میں شادی کی دعوتوں کیلئے فی میز مہمانوں کی تعداد پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی بشرطیکہ ایسی تقریبات کے روز تمام شرکاء کا کورونا وائرس ٹیسٹ منفی آیا ہو۔

بڑے پیمانے کے اجتماعات یا تقریبات کیلئے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد 20 ہزار مقرر کی گئی ہے۔ لیکن ایسے اجتماعات یا تقریبات کے روز تمام شرکاء کے کورونا وائرس ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آنے کی صورت میں یہ پابندی ختم کر دی جائے گی۔

یہ معلومات 25 جنوری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر کون سے اقدامات کرے گا؟
② سائیتاما اور چیبا

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشنز کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ٹوکیو اور جاپان بھر کے دیگر کئی پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم سائیتاما اور چیبا پریفیکچر پر نظر دوڑائیں گے۔

سائیتاما پریفیکچر:
نیم ہنگامی حالت پورے پریفیکچر میں نافذ کی گئی ہے۔ سند یافتہ اور غیر سند یافتہ، دونوں اقسام کے شراب خانوں اور ریستورانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ رات 8 بجے تک اپنا کاروبار بند کر دیں اور گاہکوں کو شراب پیش نہ کریں۔

ایسے ریستوران وغیرہ رات 9 بجے تک کھلے رکھے جا سکتے ہیں جنہوں نے کووِڈ-19 ویکسینیشن اور ٹیسٹ کے منفی نتائج کی بنیاد پر پابندیوں میں نرمی کے لیے حکومت کے پاس پہلے ہی رجسٹریشن کروائی ہوئی ہے۔

ریستورانوں وغیرہ کی طرف سے گاہکوں کے ویکسینیشن ریکارڈز یا کورونا ٹیسٹ کے منفی نتیجے کی تصدیق کیے جانے کی صورت میں اُن پر فی گروپ گاہکوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ وہ صبح 11 بجے سے رات ساڑھے 8 بجے تک گاہکوں کو شراب بھی پیش کر سکتے ہیں۔

چیبا پریفیکچر:
اس پریفیکچر میں سند یافتہ ریستورانوں اور شراب خانوں کو گاہکوں کو شراب پیش کرنے سے نہیں روکا جا رہا۔ تاہم ان پر رات 9 بجے تک کاروبار بند کرنے کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔ اس درخواست کو ماننے والے ریستوران اور شراب خانے، حکومتی مالی اعانت حاصل کرنے کے مجاز ہیں۔

غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ سے گاہکوں کو شراب نہ پیش کرنے اور رات 8 بجے تک کاروبار بند کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ تاہم، وہ اس درخواست پر عمل کرنے کے باوجود کسی حکومتی اعانت کے مستحق نہیں ہوں گے۔

تمام ریستورانوں وغیرہ میں گاہکوں کی فی گروپ تعداد 4 تک محدود ہے۔ لیکن شادی کی دعوتوں میں تمام مہمانوں کے وائرس ٹیسٹ کا نتیجہ منفی ہونے کی تصدیق کی صورت میں ایک میز پر 5 افراد بیٹھنے کی اجازت ہے۔ تاہم، ایسی تقریبات کے لیے پریفیکچر کی حکومت پیشگی اطلاع دینے پر زور دے رہی ہے۔

یہ معلومات 24 جنوری تک کی ہیں۔

کورونا وائرس نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر کون سے اقدامات کرے گا؟
① ٹوکیو

جاپانی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشنز کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ٹوکیو اور جاپان بھر کے دیگر کئی پریفیکچروں میں نیم ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں مذکورہ نیم ہنگامی حالت کے تحت ہر پریفیکچر میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم ٹوکیو کے اقدامات پر نظر دوڑائیں گے۔

بلدیۂ عظمیٰ ٹوکیو نے ٹوکیو میں شراب خانوں اور ریستورانوں کو 13 فروری تک کاروباری اوقات کم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

انسدادِ کورونا وائرس اقدامات اٹھانے کے حوالے سے سند یافتہ کھانے پینے کے ریستوران وغیرہ، گاہکوں کو الکحل پیش کرنے یا نہ کرنے کے ساتھ اپنے کاروباری اوقات کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ الکحل پیش کرنے والے ریستوران وغیرہ صبح 5 بجے سے رات 9 بجے تک کاروبار چلا سکتے ہیں، جس میں رات 8 بجے تک کے 9 گھنٹے الکحل پیش کرنے کی خدمت شامل ہے۔ الکحل پیش نہ کرنے والے ریستورانوں وغیرہ کو رات 8 بجے کاروبار بند کرنا ہوگا۔

گروپوں کی شکل میں باہر کھانے پینے والوں کے لیے ایک گروپ میں زیادہ سے زیادہ چار افراد کی اجازت دی گئی ہے، لیکن تمام افراد کے کورونا ٹیسٹ کے منفی نتیجے کا ثبوت پیش کرنے پر پانچ سے زائد افراد کے گروپ کو اجازت ہے۔

انسدادِ کورونا وائرس اقدامات اٹھانے کے حوالے سے غیر سند یافتہ ریستورانوں وغیرہ سے کہا گیا ہے کہ وہ الکحل پیش نہ کریں اور رات 8 بجے کاروبار بند کر دیں۔ ایک گروپ میں گاہکوں کی زیادہ سےزیادہ تعداد 4 مقرر کی گئی ہے۔

گاہکوں کو الکحل پیش کرنے اور رات 9 بجے کاروبار بند کرنے والے ریستورانوں وغیرہ کو 25 ہزار سے 2 لاکھ ین یومیہ ادا کیے جائیں گے۔

الکحل پیش نہ کرنے اور رات 8 بجے کاروبار بند کرنے والے تمام ریستورانوں وغیرہ کو 30 ہزار سے 2 لاکھ ین یومیہ ادا کیے جائیں گے۔

کھانے پینے کے علاوہ دیگر کاروبار چلانے والوں سے اوقات کار کم کرنے کی درخواست نہیں کی گئی، تاہم اُن سے ہر صنعت کے لیے طے کردہ رہنماء اصولوں کی پابندی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

ٹوکیو کے رہائشیوں کو بلاضرورت باہر جانے سے گریز کرنے اور باہر جاتے وقت بِھیڑ والے مقامات یا بھیڑ والے اوقات سے بچنے کی درخواست کی گئی ہے۔ انہیں کاروباری اوقات کم نہ کرنے والے کھانے پینے کے ریستورانوں وغیرہ میں مسلسل جانے سے بھی منع کیا گیا ہے۔

یہ معلومات 21 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 386: جاپان میں کورونا وائرس کے نئے مریضوں کی یومیہ تعداد 20 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ ہم اومی کرون کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
④ ویکسین کا مؤثر ہونا

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون اتنی تیز رفتار شرح سے پھیل رہی ہے کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس نئے سلسلے میں ہم اومی کرون کے بارے میں اب تک حاصل ہونے والی معلومات کے بارے میں بتائیں گے جیسا کہ اس کی انتقال پذیری اور شدید بیمار پڑنے کا خطرہ وغیرہ۔ اس چوتھی قسط میں ہم اس بات کا مزید جائزہ لیں گے کہ متغیر قِسم اومی کرون کے خلاف ویکسینیں کتنی مؤثر ہیں۔

ایسے متاثرین کی اطلاعات ملی ہیں جو دو بار ویکسین لگوانے کے باوجود وائرس کی متغیر قِسم اومی کرون سے متاثر ہو گئے۔

عالمی ادارۂ صحت نے 11 جنوری کو جاری کی گئی اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں وائرس سے دوبارہ متاثر ہونے کے بڑھتے ہوئے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متغیر قِسم اومی کرون سے متاثر ہونے کی صورت میں ویکسینیشن، وائرس کے خلاف یا متاثر ہونے کی صورت میں بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے خلاف محدود تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مرض کے سنگین ہونے کے خلاف بھی ممکنہ طور پر محدود تحفظ دیتی ہے۔

برطانوی صحت حکام نے 31 دسمبر کو معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ ایم آر این اے ویکسینیں، مثلاً فائزر یا موڈرنا کمپنیوں کی تیار کردہ ویکسینوں کی دو خوراکیں، اومی کرون کے علاماتی انفیکشن کی روک تھام کے لیے 65 سے 70 فیصد مؤثر ہیں۔ یہ تناسب دوسرا ٹیکہ لگنے کے دو سے چار ہفتوں کے بعد تھا۔ 20 ہفتوں کے بعد اس کی اثر انگیزی کم ہو کر تقریباً 10 فیصد رہ جاتی ہے۔

اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فائزر کے ٹیکے لگواچکے افراد پر فائزر یا موڈرنا کا بُوسٹر یعنی تیسرا ٹیکہ دو سے چار ہفتوں بعد علاماتی بیماری کی روکتھام میں 65 سے 75 فیصد مؤثر ہے، تاہم پانچ سے نو ہفتوں بعد اثر انگیزی کم ہوکر 55 سے 70 فیصد اور 10 ہفتوں کے بعد 40 سے 50 فیصد رہ جاتی ہے۔

دریں اثناء، معلوم ہوا ہے کہ ویکسین لگوانا، بیماری کے شدّت اختیار کرنے اور ہسپتال میں داخل ہونے کی روک تھام میں زیادہ مؤثر ہے۔ فائزر، موڈرنا یا آسٹرازینیکا ویکسین لگوانے والے افراد میں دوہری ویکسینیشن، ٹیکہ لگوانے کے بعد دو سے چوبیس ہفتوں کے دوران ہسپتال میں داخل ہونے کی روک تھام میں 72 فیصد مؤثر ہے، جبکہ پچیس ہفتوں کے بعد 52 فیصد مؤثر ہے۔ اس ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ دوہری ویکسینیشن اور بوسٹر شاٹ، آخری ٹیکہ لگوانے کے دو ہفتوں کے بعد سے ہسپتال میں داخلے کی روک تھام میں 88 فیصد مؤثر ہے۔

یہ معلومات 20 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 385: جاپان میں کورونا وائرس کے نئے مریضوں کی یومیہ تعداد 20 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ ہم اومی کرون کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
③شدید بیماری کا باعث بننے کے کم خطرے کے باوجود ہمیں مسلسل محتاط رہنا ہوگا- 2

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون اتنی تیز رفتار شرح سے پھیل رہی ہے کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس نئے سلسلے میں ہم اومی کرون کے بارے میں اب تک حاصل ہونے والی معلومات کے بارے میں بتائیں گے جیسا کہ اس کی انتقال پذیری اور شدید بیمار پڑنے کا خطرہ وغیرہ۔ اس تیسری قسط میں ہم اس بات کا مزید جائزہ لیں گے کہ آیا متغیر قِسم اومی کرون شدید بیماری کا باعث بنتی ہے یا نہیں۔

برطانیہ میں صحت حکام نے 31 دسمبر کو بتایا تھا کہ اومی کرون سے متاثرہ افراد میں ہسپتال میں داخل ہونے کا خطرہ ڈیلٹا کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جن افراد کو ویکسین کی دوسری خوراک لگوائے 14 یا اس سے زائد روز ہو چکے ہیں، ان میں ہسپتال میں داخلے کے خدشات، ویکسین نہ لگوائے ہوئے افراد کے مقابلے میں 65 فیصد کم تھے۔ جن افراد کو ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگوائے 14 یا اس سے زائد روز ہو چکے تھے، ان کے ہسپتال میں داخل ہونے کا خطرہ اطلاعات کے مطابق 81 فیصد کم تھا۔

تاہم، ہمیں اعداد و شمار کی تشریح میں محتاط رہنا ہوگا۔ برطانوی حکام کے مطابق، ویکسین کا تیسرا ٹیکہ اومی کرون سے متاثر ہونے والے افراد کے شدید بیمار ہونے کی روک تھام میں مؤثر ہے۔ اور برطانیہ کی 62.3 فیصد آبادی 10 جنوری تک ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگوا چکی تھی۔

دریں اثناء، جاپان میں 17 جنوری تک ویکسین کا بوسٹر شاٹ یعنی تیسرا ٹیکہ لگوانے والوں کی شرح، کُل آبادی کا محض 1.1 فیصد تھی۔ عالمی ادارۂ صحت نے نشاندہی کی ہے کہ وائرس کی متغیر قسم اومی کرون، متاثرین کے ہسپتال میں داخلے کی کم شرح کے باوجود ہر ملک میں طبی نظام پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ متاثرین کی بڑی تعداد کے باعث، شدید بیمار پڑ جانے والے یا مرنے والے افراد کی کُل تعداد بہرحال بڑھ رہی ہے۔

یہ معلومات 19 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 384: جاپان میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی یومیہ تعداد 20 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ ہم اومی کرون کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
② شدید بیماری کا باعث بننے کے کم خطرے کے باوجود ہمیں مسلسل محتاط رہنا ہوگا- 1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون اتنی تیز رفتار شرح سے پھیل رہی ہے کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
اس نئے سلسلے میں ہم اومی کرون کے بارے میں اب تک حاصل ہونے والی معلومات کے بارے میں بتائیں گے جیسا کہ اس کی انتقال پذیری، شدید بیمار پڑنے کا خطرہ اور طبّی نظام پر ممکنہ بوجھ وغیرہ۔ اس دوسری قسط میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا متغیر قِسم اومی کرون شدید بیماری کا باعث بنتی ہے یا نہیں۔

اس بات کا ثبوت بڑھ رہا ہے کہ متغیر قِسم اومی کرون، وائرس کی دیگر اقسام کے مقابلے میں کم مہلک ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے 11 جنوری کو اجراء کردہ اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں کہا ہے کہ اومی کرون کے غلبے کے دورانیے میں ہسپتال میں داخلے کی شرح لگتا ہے کہ کم رہی اور مریضوں کی کم تعداد ہی شدید بیمار ہوئی۔

4 جنوری کو عالمی ادارۂ صحت کے عہدیداروں نے کہا تھا کہ وائرس کی دیگر اقسام کے مقابلے میں اومی کرون سانس لینے کے اُوپری راستے کو غالباً زیادہ متاثر کرے گی جس میں ناک اور گلا شامل ہیں لیکن اس بات کا زیادہ امکان نہیں ہے کہ یہ پھیپھڑوں میں پہنچ جائے گی اور طبیعت کو سخت خراب کر دے گی۔ تاہم ان عہدیداروں نے خبردار کیا کہ ان خیالات کو ثابت کرنے کیلئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

جاپان کے اوکیناوا پریفیکچر میں ابتدائی مرتب کردہ ڈیٹا کورونا وائرس کی کئی اقسام کے باعث ہونے والی بیماری کی شدّت سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔

حکام نے اُس وقت اس پریفیکچر میں کووِڈ-19 کے مریضوں پر سروے کیا تھا جب عالمگیر وباء کے بعض موقعوں پر متاثرین کی تعداد 650 پر پہنچ گئی تھی۔

اُنہیں پتہ چلا کہ گزشتہ سال یکم اپریل تک جب اصل کورونا وائرس کا غلبہ تھا، مریضوں کی 84.8 فیصد تعداد میں معمولی علامات تھیں یا علامات نہیں تھیں اور 0.6 فیصد میں تشویشناک علامات تھیں۔ متغیر قِسم الفا کے غلبے کے دورانیے میں 18 جولائی تک 72.8 فیصد میں معمولی علامات ظاہر ہوئیں یا نہیں تھیں جبکہ 0.9 فیصد تشویشناک حالت میں تھے۔

اِس سال 4 جنوری کو جب متغیر قِسم اومی کرون غالب آ چکی تھی، 92.3 فیصد میں معمولی علامات تھیں یا علامات نہیں تھیں، کوئی بھی تشویشناک حالت میں نہیں تھا۔ لیکن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس وقت اوکیناوا میں زیادہ تر مریض نوجوان ہیں اور انفیکشن اگر معمر افراد میں پھیل گیا تو تشویشناک حالت والے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ معلومات 18 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 383: جاپان میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی یومیہ تعداد 20 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ ہم اومی کرون کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
①عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اومی کرون کی منتقلی کی رفتار میں اضافہ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون اتنی تیز رفتار شرح سے پھیل رہی ہے کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ دنیا بھر سے مسلسل ملنے والی خبروں سے اس کی تیز رفتار انتقال پذیری کا پتہ چلتا ہے۔ جاپان میں بھی اومی کرون کے انفیکشنز تیز رفتاری سے بڑھ رہے ہیں اور یومیہ 20 ہزار سے زائد متاثرین کی اطلاع دی گئی ہے۔ اومی کرون کے ایک سے دوسرے شخص کو منتقل ہونے اور سنگین علامات ظاہر ہونے کا خطرہ کتنا ہے اور اس سے ہمارے طبی نظام پر کتنا اثر پڑے گا؟ اس نئے سلسلے میں ہم اومی کرون کے بارے میں اب تک حاصل ہونے والی معلومات کے بارے بتائیں گے۔ آج پہلی قسط میں ہم اومی کرون کی ایک سے دوسرے شخص کو منتقلی کا جائزہ لیں۔

عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او نے اپنی 11 جنوری کو جاری کی گئی ہفتہ وار رپورٹ میں، وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کی پہلے سے زیادہ انتقال پذیری کے بارے میں بتایا ہے۔

اس رپورٹ میں دسمبر 2021 میں ڈنمارک میں لیے گئے ایک جائزے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق، گھرانوں کے اندر اومی کرون کی ثانوی منتقلی کی شرح 31 فیصد تھی، جبکہ متغیر قسم ڈیلٹا میں یہ شرح 21 فیصد تھی۔

امریکی مراکز برائے امراض کنٹرول اور روکتھام، سی ڈی سی کے مطابق، اس نے پتہ چلایا ہے کہ اومی کرون کی منتقلی کی زیادہ سے زیادہ شرح، متغیر قِسم ڈیلٹا کے مقابلے میں تین گنا ہے۔

امریکہ اور یورپی ممالک میں اومی کرون نے تیزی سے ڈیلٹا کی جگہ لے لی ہے اور اب لوگوں کی اکثریت اس متغیر قِسم کی شکار ہو رہی ہے۔

برطانیہ میں، 30 دسمبر 2021 تک، انگلستان میں بیشتر علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق، کورونا وائرس کے نئے متاثرین میں سے 95 فیصد اومی کرون سے متاثرہ تھے۔

سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں 8 جنوری تک نئے متاثرہ افراد میں سے تقریباً 9.3 فیصد اومی کرون متاثرین تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب کورونا وائرس کی یہی متغیر قسم غالب آ چکی ہے اور اس نے کورونا وائرس کی تقریباً دیگر تمام اقسام کی جگہ لے لی ہے۔

یہ معلومات 17 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 382: یہ کیسے پتہ لگایا جائے کہ کسی کو کورونا وائرس انفیکشن ہو گیا ہے؟
④ اینٹی جین ٹیسٹ کِٹ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں عام نزلہ زکام زیادہ ہونے کے اس موسم میں کورونا وائرس کی متغیر قِسم اومی کرون کے انفیکشنز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگر ہمیں نزلے جیسی علامات ہو جائیں تو ہم کس طرح معلوم کر سکتے ہیں کہ آیا ہمیں کووِڈ-19 تو نہیں ہے؟ آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ ایسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں ہمیں اینٹی جین ٹیسٹ کِٹ کس طرح استعمال کرنی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق، رات کو علامات ظاہر ہونے یا مشورے کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانے کا فیصلہ کرنے میں مشکل پیش آنے کی صورت میں ادویات فروشوں کے پاس دستیاب اینٹی جین کٹ مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن کوئی بھی علامت ظاہر نہ ہونے پر اینٹی جین ٹیسٹ کٹ استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ بتایا جاتا ہے کہ ان حالات میں اس کٹ سے حاصل ہونے والا نتیجہ کم درست ہوتا ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں 9 روز کے اندر اندر اینٹی جین ٹیسٹ کٹ استعمال کرنے پر قابل بھروسہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اس صورت میں آپ کو وہی کٹ استعمال کرنی چاہیے جس پر“in vitro diagnostics” یا IVD کا لیبل لگا ہو۔ ماہرین کے مطابق ایسی کٹ گھر میں موجود ہو تو بوقتِ ضرورت کام آ سکتی ہے۔

تاہم خیال رہے کہ اینٹی جین کٹ کورونا وائرس سے متاثرہ نہ ہونے کا غلط نتیجہ بھی دے سکتی ہے۔ ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آنے کے باوجود علامات برقرار رہنے کی صورت میں مشورے کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانا بہتر ہو گا۔ کامیدا میڈیکل سینٹر کے اوتسُوکا یوشی ہِیتو کہتے ہیں کہ حکومت سے منظور شدہ اینٹی جین کٹ 2 ہزار ین یا تقریباً 20 ڈالر فی کٹ سے کم قیمت میں فروخت کی جا رہی ہے اور باآسانی دستیاب ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کِٹ کو گھر میں رکھنا بہتر ہو گا۔ لیکن وہ یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ جسم میں وائرس مخصوص سطح تک پہنچنے سے قبل ٹیسٹ کرنے پر یہ کِٹ وائرس سے متاثرہ نہ ہونے کا غلط نتیجہ بھی دے سکتی ہے۔ جناب اوتسُوکا زور دیتے ہیں کہ علامات برقرار رہنے اور پریشانی لاحق ہونے کی صورت میں ہمیں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

یہ معلومات 14 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 381: یہ کیسے پتہ لگایا جائے کہ کسی کو کورونا وائرس انفیکشن ہو گیا ہے؟
③معمولی علامات ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں عام نزلہ زکام زیادہ ہونے کے اس موسم میں، کورونا وائرس کی متغیر قِسم اومی کرون کے انفیکشنز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگر ہمیں نزلے جیسی علامات ہو جائیں تو ہم کس طرح معلوم کر سکتے ہیں کہ آیا ہمیں کووڈ-19 تو نہیں ہے؟ آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ انفیکشن کی معمولی علامات ہونے یا علامات بالکل نہ ہونے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔

جاپان کی مرکزی حکومت نے ’انفیکشن کی روک تھام کی خصوصی ضرورت‘ والے علاقوں کی مقامی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ظاہری علامات نہ ہونے والے اشخاص کو بھی کورونا وائرس ٹیسٹنگ کی مفت سہولت فراہم کریں۔ اس سے ہٹ کر، مقامی حکومتیں پہلے ہی اُن لوگوں کو ٹیسٹنگ کی مفت سہولت فراہم کر رہی ہیں جو ویکسین نہیں لگوا سکتے۔ تاہم، یہ ٹیسٹ اُن لوگوں کے لیے ہیں جن میں کورونا وائرس سے متاثرہ ہونے کی کوئی ظاہری علامات نہیں ہیں۔

اگر کسی شخص میں معمولی علامات پائی جائیں تو اسے کیا کرنا چاہیے؟

وزارت صحت کا ماہرین کا پینل، معمولی بخار، جلد تھکاوٹ ہو جانے یا کسی اور طرح اپنی طبیعت ٹھیک محسوس نہ کرنے والے افراد پر زور دے رہا ہے کہ وہ طبی مراکز جائیں۔

کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ سے متعلق رہنماء خطوط مرتب کرنے والے پینل کے ایک رکن، کامیدا میڈیکل سینٹر سے تعلق رکھنے والے اوتسُوکا یوشی ہِیتو کے مطابق، وہ لوگ جنہیں نزلے کی طرح کی گلے کی سوزش، ناک بہنا، بخار، سر درد جیسی علامات پیدا ہو جائیں یا سُستی محسوس ہو تو اُنہیں ٹیسٹ کروانا چاہیے۔

یہ معلومات 13 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 380: یہ کیسے پتہ لگایا جائے کہ کسی کو کورونا وائرس انفیکشن ہو گیا ہے؟
②متغیر قسم اومی کرون کی عام علامات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں عام نزلہ زکام زیادہ ہونے کے اس موسم میں کورونا وائرس کی متغیر قِسم اومی کرون کے انفیکشنز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جب ہمیں نزلے جیسی معمولی علامات ہوں تو ہم کس طرح معلوم کر سکتے ہیں کہ ہمیں کووڈ-19 تو نہیں؟ آج ہم کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون سے متاثر ہونے کی علامات کا جائزہ لیں گے۔

وزارت صحت کے ماہرین کے ایک پینل کا اجلاس 6 جنوری کو ہوا جس میں انہوں نے اوکیناوا پریفیکچر کے 50 مریضوں سے متعلق رپورٹ سنی۔ ان افراد میں یکم جنوری کو متغیر قِسم اومی کرون کی تشخیص ہوئی تھی۔

رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ 72 فیصد مریضوں کو 37.5 درجے سینٹی گریڈ یا اس سے بلند درجے کا بخار تھا، جبکہ 58 فیصد مریضوں کو کھانسی اور 50 فیصد کو تھکاوٹ محسوس ہونے کا سامنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق 44 فیصد کو گلے کی سوزش اور 36 فیصد کو ناک بند ہو جانے یا ناک بہنے کی شکایت بھی تھی۔ 32 فیصد مریضوں کو سر درد اور 24 فیصد کو جوڑوں میں درد تھا۔ تشخیص شدہ میں سے 8 فیصد مریضوں کو متلی یا قے کی شکایت تھی، جبکہ 6 فیصد کو سانس لینے میں مشکل کا سامنا تھا اور 2 فیصد مریض ایسے تھے جنہیں ذائقہ یا بُو محسوس کرنا مشکل تھا۔ رپورٹ کے مطابق صرف 4 فیصد افراد ایسے تھے جن میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔

پینل کے سربراہ اور متعدی امراض کے قومی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل واکِیتا تاکاجی کا کہنا ہے کہ گو کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ کووڈ-19 کے مریضوں میں نظام ہضم کی مشکلات سے متعلق علامات پائی جاتی ہیں یا انہیں ذائقہ یا بو محسوس نہیں ہوتی، لیکن اوکیناوا کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ متغیر قسم اومی کرون سے متاثر ہونے والے افراد کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اومی کرون کی علامات عام نزلہ زکام کی علامات سے زیادہ ملتی جلتی ہوتی ہیں۔

یہ معلومات 12 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 379: یہ کیسے پتہ لگایا جائے کہ کسی کو کورونا وائرس انفیکشن ہو گیا ہے؟
①کووِڈ-19 کی عام علامات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کورونا وائرس کی متغیر قِسم اومی کرون کے انفیکشنز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سردیاں عام نزلہ زکام کا انتہائی موسم ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جب لوگوں میں نزلہ زکام کی ہلکی علامات ہوں تو وہ یہ تشویش محسوس کریں کہ آیا وہ کووِڈ-19 کا شکار ہوئے ہیں یا نہیں۔ ایسے موقع پر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

کووِڈ-19 کی علامات ہر فرد میں مختلف ہوتی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او نے نشاندہی کی ہے کہ جب لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہو جائیں تو اُن میں جو ملتی جُلتی علامات پیدا ہوتی ہیں وہ ہیں بخار، خشک کھانسی، تھکاوٹ، ذائقہ یا بُو کا محسوس نہ ہونا۔ مریضوں پر جو دیگر علامات اثرانداز ہو سکتی ہیں اُن میں گلے میں خراش، سردرد، دست آنا، جلد پر سُرخ دھبے پڑنا یا انگلیوں اور پاؤں کے پنجوں کا رنگ بدلنا اورآنکھوں کا سُرخ ہو جانا شامل ہیں۔

امریکی مرکزبرائے امراض کنٹرول اور روکتھام نے بھی سانس گھٹنے یا سانس لینے میں دشواری، پٹھوں یا جسم میں مسلسل معمولی درد، ناک بند ہونا یا اس کا بہنا، متلی یا قے ہونا اور ٹھنڈ لگنے کو کووِڈ-19 کی علامات قراردیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آیا متغیر قِسم اومی کرون کے انفیکشن کی علامات بھی اسی طرح کی ہوتی ہیں؟

عالمی ادارۂ صحت کے ایک عہدیدار نے 4 جنوری کو بتایا کہ مسلسل تحقیق سے نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ متغیر قِسم دیگر وائرسوں کے برعکس جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں اور شدید نمونیا کا سبب بنتے ہیں، اُوپری تنفسی حصے کو متاثر کرتی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ متغیر قِسم اومی کرون کے باعث پیدا ہونے والی سوزش زیادہ تر ناک اور گلے میں رہتی ہے۔ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ غالب علامات ہر متغیر قِسم میں مختلف ہو سکتی ہیں۔

یہ معلومات 11 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 378: بلدیہ ٹوکیو کی مقامی طور پر منتقل ہوئے اومی کرون انفیکشنز سمیت اختتامِ سال سے نئے سال کے آغاز کے دوران کورونا وائرس انفیکشنز میں تیزی سے اضافے کی اطلاع 2 ، اومی کرون انفیکشنز میں اضافے کی اطلاعات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ بلدیۂ عظمیٰ ٹوکیو نے اختتام سال اور نئے سال کے آغاز کے دوران کورونا وائرس انفیکشنز میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے انفیکشن مقامی طور پر ایک سے دوسرے کو منتقل ہونے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ آج ہم متغیر قسم اومی کرون کے مقامی انفیکشنز کے پھیلاؤ کا جائزہ لیں گے۔

بلدیہ ٹوکیو نے اومی کرون انفیکشن کے پہلے متاثرہ فرد کی تصدیق 16 دسمبر کو کی تھی۔ تب سے 28 دسمبر تک کے دو ہفتوں میں اومی کرون انفیکشن کے مجموعی متاثرین کی تعداد 13 ہو گئی۔ دوسری طرف 30 دسمبر کو صرف ایک دن میں یومیہ تعداد 9 رہی جو 3 جنوری کو بڑھ کر 25 ہو گئی۔

اگرچہ مقامی آبادی میں بظاہر ایک سے دوسرے کو وائرس منتقلی کے متاثرہ فرد کی تعداد 28 دسمبر کو صرف 1 تھی، لیکن 30 دسمبر اور 3 جنوری کو یہ تعداد بڑھ کر مجموعی طور پر 12 تک پہنچ گئی۔

بلدیۂ عظمیٰ ٹوکیو کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ کرسمس کے بعد اومی کرون کے متاثرین میں تیزی سے اضافہ ہوا اور ممکنہ طور پر اختتام سال سے سالِ نو تک یہ متغیر قسم تیزی سے پھیلی۔

جہاں تک طبی نظام کا تعلق ہے، کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے ہسپتالوں میں زیادہ سے زیادہ 6 ہزار 919 بستروں کی دستیابی یقینی بنائی گئی ہے۔ 3 جنوری تک اس گنجائش کے 3.5 فیصد بستروں پر مریض داخل تھے۔ بلدیۂ عظمیٰ ٹوکیو کے ماہرین کے مطابق، موجودہ حالات میں طبی ادارے کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج معالجے اور دوسرے مریضوں کے علاج معالجے، دونوں کے لیے مستحکم اور متوازن انداز میں خدمات مہیا کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ہسپتالوں میں بستروں کی قلت ہونے یا نہ ہونے کا دارومدار متغیر قسم اومی کرون کے پھیلاؤ پر ہو گا۔

یہ معلومات 7 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 377: بلدیہ ٹوکیو کی مقامی طور پر منتقل ہوئے اومی کرون انفیکشنز سمیت اختتامِ سال سے نئے سال کے آغاز کے دوران کورونا وائرس انفیکشنز میں تیزی سے اضافے کی اطلاع 1 ، اضافے کی رفتار میں تیزی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ بلدیۂ عظمیٰ ٹوکیو نے اطلاع دی ہے کہ اختتام سال اور نئے سال کی چھٹیوں کے دوران کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ مقامی طور پر ہی متغیر قسم اومی کرون سے بڑے پیمانے پر متاثر ہونا باور کیے جانے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم نے 29 دسمبر سے 5 جنوری کے دوران متاثرین کی تعداد میں اضافے کا جائزہ لیا۔

ٹوکیو کی مقامی حکومت نے 29 دسمبر کو 76 نئے وائرس متاثرین کی تصدیق کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی یومیہ 50 سے کم متاثرین کا مسلسل 73 روز کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ 30 دسمبر کو نئے متاثرین کی تعداد 64، جبکہ 31 دسمبر کو 78 تھی جو اس ماہ کی ریکارڈ بلند تعداد تھی۔ ہر روز نئے متاثرین کی تعداد ایک ہفتے قبل کے اُسی دن کے مقابلے میں تقریباً دو گنا تھی۔

سالِ نو کے آغاز کے بعد نئے متاثرین کی یومیہ تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا۔ یکم جنوری کو مصدقہ متاثرین کی تعداد 79 اور 2 جنوری کو 84 تھی۔ 3 جنوری کو یہ تعداد مزید بڑھ کر 103 تک پہنچ گئی۔ متاثرین کی یومیہ تعداد 8 اکتوبر 2021 کے بعد پہلی بار 100 سے زیادہ ہوئی تھی۔ 5 جنوری کو یہ تعداد 390 تک پہنچ گئی۔ بلدیۂ عظمیٰ ٹوکیو کے ایک عہدیدار کے مطابق متاثرین کی تعداد میں اضافے کی رفتار بڑھ رہی ہے اور حکام بحران کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس عرصے کے دوران خاندان کے ارکان کے اندر سے انفیکشن منتقل ہونے والوں کی تعداد خصوصاً نمایاں تھی۔ 3 جنوری تک کے 6 روز میں وائرس سے متاثر ہونے والے 484 افراد میں سے 175 افراد یا 36.2 فیصد تعداد کے متاثر ہونے کا ذریعہ معلوم تھا۔ ان میں سے سب سے زیادہ تعداد 101 افراد کو اپنے اہل خانہ سے وائرس منتقل ہوا تھا۔ شرح کے لحاظ سے یہ 57.7 فیصد ہے۔ اس کے بعد 12 فیصد لوگ کام کی جگہ پر وائرس کا شکار ہوئے تھے۔ اس کے بعد 9.1 فیصد تعداد باہر کھانے کی جگہوں پر، اور 7.4 فیصد تعداد دیگر مراکز پر وائرس سے متاثر ہوئی تھی۔

یہ معلومات 6 جنوری تک کی ہیں۔

سوال نمبر 376: وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟ ہمیں اومی کرون کی شدّت سے متعلق محتاط رہنے کی ضرورت ہے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس نئے سلسلے میں ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ کورونا وائرس کی نئی تشویشناک متغیر قِسم اومی کرون کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں۔ آج ہم اپنی توجہ اومی کرون کی شدّت پر مرکوز کریں گے۔

یہ آراء پائی جاتی ہیں کہ اگر لوگ کورونا وائرس کی متغیر قِسم اومی کرون سے متاثر ہوتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ اس کی علامات کی شدّت گزشتہ متغیر اقسام کی نسبت کم ہو۔ لیکن عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ہمیں اومی کرون کی شدّت سے متعلق محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

یورپ، امریکہ اور جنوبی کوریا سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق، اس متغیر قِسم سے متاثرہ بیشتر مریضوں میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں یا معمولی علامات تھیں۔

امراض کنٹرول اور روکتھام کے امریکی مرکز، سی ڈی سی، کا کہنا ہے کہ ابتدائی ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ اومی کرون انفیکشن، ہو سکتا ہے کہ گزشتہ متغیر اقسام کے مقابلے میں کم شدید ہو۔ تاہم طبّی لحاظ سے شدّت سے متعلق قابل بھروسہ ڈیٹا اب بھی محدود ہے۔ سنگین نتائج کے ساتھ انفیکشنز کا تناسب گزشتہ متغیر اقسام کی نسبت کم ہونے کی صورت میں بھی ، انفیکشنز کی تعداد میں ممکنہ اضافے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ، شدید نتائج کے حامل لوگوں کی قطعی تعداد خاصی ہو سکتی ہے۔

علاوہ ازیں، انفیکشنز کی تعداد بڑھنے اور تشویشناک حالت والے متاثرین کی تعداد اور اموات بڑھنے کے وقت کے درمیان وقفہ ہوتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے اپنی ہفتہ وار اشاعت میں 21 دسمبر کو کہا تھا کہ اومی کرون کی طبّی لحاظ سے شدّت پر ابھی تک ڈیٹا محدود ہے۔ پھر اس نے کہا کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں ہسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے ، اور متاثرین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر یہ ممکن ہے کہ صحت دیکھ بھال کے نظام پر بہت زیادہ بوجھ آ جائے۔

یہ معلومات 28 دسمبر 2021 ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 375: وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟ 1 رپورٹس کے مطابق، یہ انتہائی تیزی سے سرایت پذیر قسم ہے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اومی کرون، کورونا وائرس کی تازہ ترین تشویشناک قسم ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک میں، جہاں متغیر قِسم تیزی سے آبادی میں پھیل رہی ہے، وہاں اومی کرون تیز رفتاری کے ساتھ متغیر قسم ڈیلٹا کی جگہ لے رہا ہے۔ جاپان میں بھی اس کی آبادی میں منتقلی کی تصدیق ہوئی ہے۔ آج سے شروع ہونے والے اس نئی سلسلے میں ہم جائزہ لیں گے کہ وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

دنیا بھر سے آنے والی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ اومی کرون اب تک کی مختلف متغیر اقسام کے مقابلے میں زیادہ متعدی ہے۔ اب امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں اومی کرون، کورونا کی غالب قِسم بنتی جا رہی ہے، جبکہ ان ممالک میں اب تک کورونا کے تقریباً تمام متاثرین متغیر قسم ڈیلٹا سے متاثرہ تھے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ آبادی میں لوگوں کے اومی کرون سے متاثر ہونے والے ممالک میں ہر ڈیڑھ سے تین روز میں متاثرین کی تعداد دگنی ہو رہی ہے۔ اس عالمی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ایدھانوم گیبریسس نے 20 دسمبر کو ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ اب اس بات کا متواتر ثبوت موجود ہے کہ متغیر قِسم اومی کرون، متغیر قِسم ڈیلٹا کے مقابلے میں نمایاں طور پر تیزی سے پھیل رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ زیادہ امکان یہ ہے کہ ویکسین لگوا چکے افراد یا ایک بار کووِڈ 19 سے متاثر ہو کر ٹھیک ہو چکنے والے افراد بھی اس سے متاثر یا دوبارہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ معلومات 27 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 374: بوسٹر شاٹس اور کورونا کی متغیر قسم اومی کرون 7 ، تحقیق کے مطابق، ویکسین کے تین ٹیکے بلند تر درجے کا تحفظ فراہم کرتے ہیں ، حصہ چہارم

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس تازہ ترین سلسلے میں ہم نے ماہرین سے دریافت کیا کہ کورونا وائرس کی حال ہی میں اُبھرنے والی متغیر قِسم اومی کرون کے خلاف بُوسٹر شاٹ یعنی تیسرا ٹیکہ کتنا مؤثر ہے۔ آج ہم اس موضوع پر اپنے سلسلے کی ساتویں قسط پیش کر رہے ہیں۔

امریکی ادویات ساز کمپنی موڈرنا نے کہا ہے کہ اس کی کورونا وائرس ویکسین کی اضافی تیسری خوراک لیبارٹری میں کیے گئے تجربات میں متغیر قسم اومی کرون کے خلاف انتہائی مؤثر ثابت ہوتی نظر آئی ہے۔

اس کمپنی کی طرف سے 20 دسمبر کو جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویکسین کے دو ٹیکے لگوانے والے افراد میں اومی کرون خلاف بے اثر ہوتی انٹی باڈی کی سطحیں کم تھیں۔

تاہم جاپان اور امریکہ میں ویکسین کی منظور شدہ مقدار 50 مائیکرو گرام کا اضافی تیسرا ٹیکہ لگانے کے بعد وائرس کی اس متغیر قسم کا اثر زائل کرنے والی اینٹی باڈی کی سطح، اضافی ٹیکہ لگوانے سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 37 گنا بڑھ گئی۔

جب اضافی ٹیکے میں ویکسین کی مقدار، پہلے لگائے گئے ہر ایک ٹیکے میں ویکسین کی مقدار کے برابر یعنی 100 مائیکرو گرام رکھی گئی تو اینٹی باڈی کی سطح، اضافی ٹیکہ لگانے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 83 گنا ہو گئی۔

موڈرنا نے کہا ہے کہ اومی کرون کے خلاف پہلا دفاع زیر استعمال ویکسین کی بوسٹر خوراک یعنی اضافی تیسرا ٹیکہ لگوانا ہے۔اس کمپنی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے خلاف مخصوص ویکسین کی تیاری پر کام جاری رکھا جائے گا، تاہم فی الوقت اس متغیر قسم کے خلاف ویکسینیں غیر ضروری ہیں۔

یہ معلومات 24 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 373: بوسٹر شاٹس اور وائرس کی متغیر قسم اومی کرون 6 ، تحقیق کے مطابق، ویکسین کے تین ٹیکے بلند تر درجے کا تحفظ فراہم کرتے ہیں، حصہ سوم

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس تازہ ترین سلسلے میں ہم نے ماہرین سے دریافت کیا کہ کورونا وائرس کی حال ہی میں اُبھرنے والی متغیر قِسم اومی کرون کے خلاف بُوسٹر شاٹ یعنی تیسرا ٹیکہ کتنا مؤثر ہے۔ اس موضوع پر ہمارے سلسلے کی چھٹی قسط میں آج ہم امریکہ میں کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔


وہائٹ ہاؤس کے سربراہ طبی مشیر انتھونی فاؤچی نے 15 دسمبر کو کہا کہ کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے خلاف موجودہ دستیاب ویکسینوں کا تیسرا ٹیکہ کافی حد تک کارآمد ہے۔

انہوں نے کہا کہ فائزر بیون ٹیک یا موڈرنا استعمال کر کے مکمل ویکسینیشن، اس نئی متغیر قسم سے متاثر ہونے کی روک تھام کے لیے بھی اور متاثر ہو جانے کی صورت میں شدید بیمار ہونے کی روکتھام کے لیے بھی کافی حد تک تحفظ فراہم کرتی ہے۔

تاہم انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ حالیہ کئی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ تیسرے ٹیکے سے اینٹی باڈی کی وائرس کو غیر مؤثر کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافے کے باعث، نئی متغیر قسم کے خلاف زیادہ تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

جناب فاؤچی کے مطابق، اس مرحلے پر وہ نہیں سمجھتے کہ متغیر قسم کے لیے کسی مخصوص قسم کے تیسرے ٹیکے کی ضرورت ہے۔ فائزر اور موڈرنا کمپنیاں اعلان کر چکی ہیں کہ وہ متغیر قسم اومی کرون کو ہدف بناتے ہوئے خصوصی ویکسینیں تیار کر رہی ہیں۔ فاؤچی نے امریکی عوام سے ویکسین لگوانے اور دستیاب ویکسینوں ہی کا تیسرا ٹیکہ لگوانے کی اپیل کا اعادہ کیا۔

یہ معلومات 23 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 372: بوسٹر شاٹس اور وائرس کی متغیر قسم اومی کرون 5 ، تحقیق کے مطابق، ویکسین کے تین ٹیکے بلند تر درجے کا تحفظ فراہم کرتے ہیں، حصہ دوم

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس تازہ ترین سلسلے میں ہم نے ماہرین سے دریافت کیا کہ کورونا وائرس کی حال ہی میں اُبھرنے والی متغیر قِسم اومی کرون کے خلاف بُوسٹر شاٹ یعنی تیسرا ٹیکہ کتنا مؤثر ہے۔ آج اس موضوع پر ہمارے سلسلے کی پانچویں قسط پیش کی جا رہی ہے۔

پروفیسر الیکس سِیگل کی زیر قیادت افریقہ ہیلتھ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی لیبارٹری میں تحقیق کرنے والی ایک ٹیم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وائرس کی متغیر قسم اومی کرون، فائزر بیون ٹیک ویکسین کے ذریعے پیدا ہونے والی اینٹی باڈی قوت مدافعت کو خاصا کمزور کر دیتی ہے۔ ویکسین لگوا چکے 12 افراد کے خون کا پلازما استعمال کر کے کی گئی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ متغیر قسم اومی کرون کو غیر مؤثر کرنے کی ویکسین سے حاصل کردہ اینٹی باڈیز کی صلاحیت میں 40 گنا کمی ہوئی ہے۔

مذکورہ ادارے کے حالیہ تخمینے سے پتہ چلتا ہے کہ شاید وائرس کی متغیر قسم کے ظاہری علامات والے انفیکشن کے خلاف ویکسین صرف 22.5 فیصد مؤثر ہوگی۔

اس تحقیق کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ اُن 6 افراد کے خون کے نمونوں میں سے 5 میں اینٹی باڈی کی وائرس کو غیر مؤثر کرنے کی نسبتاً بلند سطح پائی گئی جو وائرس سے متاثر ہو چکے تھے اور دو ٹیکے لگوا چکے تھے۔ تحقیقی ادارے کے ترجمان کے مطابق، اس بات کا کافی امکان ہے کہ لوگ تیسرا ٹیکہ لگوا کر اپنی اینٹی باڈی کی سطح میں اضافہ کر سکتے ہیں اور بیماری کی شدید علامات پیدا ہونے سے بچ سکتے ہیں۔

یہ معلومات 22 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 371: بوسٹر شاٹس اور کورونا کی متغیر قِسم اومی کرون۔ 4 ، تحقیق کے مطابق ، ویکسین کے تین ٹیکے بلند تر درجے کا تحفظ فراہم کرتے ہیں، حصہ اول

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس تازہ ترین سلسلے میں ہم نے ماہرین سے دریافت کیا کہ کورونا وائرس کی حال ہی میں اُبھرنے والی متغیر قِسم اومی کرون کے خلاف بُوسٹر شاٹ یعنی تیسرا ٹیکہ کتنا مؤثر ہے۔ آج اس موضوع پر ہمارے سلسلے کی چوتھی قسط پیش کی جا رہی ہے۔

امریکہ کی دیوہیکل ادویات ساز کمپنی فائزر اور اس کی جرمن شراکتدار بیون ٹیک نے متغیر قسم اومی کرون کے خلاف اپنی ویکسینوں کی اثر انگیزی پر ابتدائی تحقیق کے نتائج 8 دسمبر کو جاری کیے تھے۔ ان نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ویکسین کا تیسرا ٹیکہ ، پہلے دو ٹیکوں کے مقابلے میں انٹی باڈیز میں 25 گنا اضافہ کرتا ہے جس سے اصل وائرس کے خلاف کے برابر سطح کا تحفظ ملتا ہے۔

اس تحقیق میں ، مذکورہ کمپنیوں نے ویکسین لگ چکے افراد سے اُن کے تیسرا ٹیکہ لگنے کے ایک ماہ بعد لیے گئے خون کے نمونوں کے ٹیسٹ کیے تاکہ متغیر قسم اومی کرون کو بے اثر کرنے والی انٹی باڈی سطحوں کی جانچ کی جائے۔ اُنہیں پتہ چلا کہ انٹی باڈی سطحیں اُن سطحوں سے قابلِ موازنہ ہیں جو لوگوں میں اصل کورونا وائرس کے خلاف اُنہیں ویکسین کا دوسرا ٹیکہ لگنے کے تین ہفتوں کے بعد دیکھی گئی تھیں۔ فائزر اور بیون ٹیک کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ ویکسین کا تیسرا ٹیکہ متغیر قسم اومی کرون کے خلاف بلند درجے کا تحفظ فراہم کرے گا۔

ان کمپنیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مدافعتی خلیوں کی جانب سے ہدف بنائےجانے والے اسپائیک پروٹین کا 80 فیصد حصہ متغیر قسم اومی کرون میں تبدیلی سے متاثر نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس کامطلب یہ ہے کہ دو ٹیکے بھی شدید بیماری کے خلاف تحفظ کا سبب ہوں گے۔ اُن کا کہنا ہے کہ باور کیا جاتا ہے کہ تیسرا ٹیکہ مدافعتی خلیوں کی قوت بڑھائے گا اور کووِڈ-19 کے مریضوں کو شدید بیمار ہونے سے بچانے میں مدد دے گا۔

یہ معلومات 21 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 370: بُوسٹر شاٹ اور وائرس کی متغیر قسم اومی کرون 3 ، وائرس پر حملہ آور ہونے والے مدافعتی خلیے، مریضوں کے شدید بیمار پڑنے کو روک سکتے ہیں

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس تازہ ترین سلسلے میں ہم ماہرین سے دریافت کر رہے ہیں کہ تیسرا ٹیکہ، وائرس کی نئی متغیر قسم اومی کرون کے خلاف کتنا مؤثر ہو سکتا ہے۔ تیسری قسط میں آج مدافعتی خلیوں کے افعال پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

وائرس اور ویکسینوں کے ایک ماہر، کِیتاساتو یونیورسٹی کے پروفیسر ناکایاما تیتسُوؤ نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ کورونا کی متغیر قسم اومی کرون کے اسپائیک پروٹینز میں 30 تبدیلیاں ہیں، جو انسانی خلیوں سے چسپاں ہو کر جڑنے جاتے ہیں۔ لیکن یہ تبدیلیاں کُل اسپائیک پروٹین کے صرف 3 فیصد حصے میں رونما ہوئی ہیں۔ چنانچہ ان کے مطابق اس بات کا زیادہ امکان نہیں ہے کہ اومی کرون کے خلاف ویکسینیں بالکل غیر مؤثر ہو جائیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انفیکشن کو روکنے کیلئے ویکسینوں کی کارگزاری کسی حد تک کم ہو سکتی ہے لیکن وائرس سے متاثر ہونے والوں کو شدید بیمار پڑنے سے روکنے کی اس کی صلاحیت میں زیادہ کمی نہیں ہوگی۔

پروفیسر ناکایاما کہتے ہیں کہ بوسٹر شاٹ یا تیسرے ٹیکے سے جسم میں اینٹی باڈیز کی مقدار میں اضافہ ہوگا اور باہر سے داخل ہونے والے وائرس پر حملہ آور ہونے والے مدافعتی خلیوں کی صلاحیت بھی بڑھے گی۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اگرچہ ہو سکتا ہے کہ تبدیلی کے باعث اینٹی باڈیز سے بچنے کی وائرس کی صلاحیت بڑھ جائے لیکن بوسٹر شاٹ سے مختلف تبدیلیوں کے خلاف کارگر مدافعتی خلیوں کی قوت کی بلند سطح برقرار رہے گی جس کے نتیجے میں تشویشناک حالت والے متاثرین میں کمی ہوگی۔

یہ معلومات 20 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 369: بوسٹر شاٹ اور کورونا کی متغیر قسم اومی کرون 2 ، پرائم بوسٹ ویکسین حکمت عملی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی متغیر اقسام سامنے آنے کے بعد ملکوں میں بوسٹر شاٹ یعنی ویکسین کا اضافی تیسرا ٹیکہ لگانے میں پیشرفت ہو رہی ہے۔ وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے خلاف اس اضافی ٹیکے کے مؤثر ہونے کے بارے میں ماہرین کی آراء پر مشتمل ہمارے سلسلے کی آج دوسری قسط پیش کی جا رہی ہے۔

نیشنل مِیئے ہسپتال میں دواؤں کے مؤثر اور استعمال میں محفوظ ہونے پر تحقیق کے سربراہ اور کورونا وائرس پر ماہرین کے کئی سرکاری پینلز میں شامل تانی گُوچی کِیوسُو کہتے ہیں کہ ویکسین کے تیسرے ٹیکے سے نہ صرف اینٹی باڈیز کی مقدار بڑھتی ہے بلکہ یہ ٹیکہ جسم کے مدافعتی نظام کی یادداشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

’’پرائم‘‘ کہلانے والی ویکسین کی پہلی خوراک ملنے کے بعد ہمارا جسم دشمن وائرس کو پہچان لیتا ہے کہ اس ہدف پر ہمارے قدرتی مدافعتی نظام کو حملہ کرنا ہے۔ ویکسین کی دوسری خوراک ملنے کے بعد ہمارا مدافعتی نظام اس دشمن ہدف کو اپنی یادداشت میں محفوظ کر لیتا ہے۔ تیسری خوراک، جسے ’’بوسٹ‘‘ کہا جاتا ہے، اس یادداشت کو تقویت دے کر پہلے کی نسبت زیادہ لمبے عرصے تک محفوظ رکھتی ہے۔ اس ’’پرائم اینڈ بوسٹ‘‘ حکمت عملی کا مقصد ہمارے مدافعتی نظام کو ’’دشمن‘‘ کے بارے میں آگاہی دینا اور اس نظام کی یادداشت کو مضبوط بنانا ہے۔

تانی گُوچی کہتے ہیں کہ ویکسین کے ٹیکے لگوانے کے ذریعے تسلی بخش مدافعتی قوت حاصل کرنے کی اس حکمت عملی کا مقصد انفیکشن کی علامات کو شدت اختیار کرنے سے روکنا ہے اور یہ حکمت عملی اومی کرون سمیت وائرس کی کسی بھی نئی قسم کے خلاف کارگر ہو گی۔ انہوں نے بُوسٹر شاٹ یعنی تیسرا ٹیکہ لگانے کے لیے جلد اقدامات کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

یہ معلومات 17 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 368: بوسٹر شاٹس اور وائرس کی متغیر قسم اومی کرون 1 ، اینٹی باڈیز میں اضافہ نئی متغیر قسم کے خلاف مددگار

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ یہ تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ موجودہ دستیاب ویکسینیں، کورونا کی نئی متغیر قسم اومی کرون کے خلاف کم مؤثر ہیں۔ دنیا بھر میں وائرس کی اس نئی متغیر قسم کے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ یہ تشویش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا ویکسین کے دو ٹیکے لگوا چکنے والے افراد کو بُوسٹر شاٹ یعنی تیسرا ٹیکہ لگا رہی ہے۔ تیسرے ٹیکے کے لیے وہی ویکسین استعمال کی جا رہی ہے جو پہلے دو ٹیکوں کے لیے استعمال کی گئی تھی، یعنی وائرس کی پہلے پھیلی ہوئی قسم کے لحاظ سے تیار کردہ ویکسینیں لگائی جا رہی ہیں۔ ہم نے ماہرین سے دریافت کیا کہ ہمیں تیسرے ٹیکہ لگوانے کی ضرورت کیوں ہے، اور یہ اضافی تیسرا ٹیکہ وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے خلاف ممکنہ طور پر کتنا کارآمد ہوگا؟ آج اس موضوع پر ہمارے سلسلے کی پہلی قسط پیش کی جا رہی ہے۔

متغیر قسم اومی کرون کے کانٹوں نما اسپائیک پروٹینز میں کئی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئی ہیں۔ یہ اسپائیک پروٹینز، بنیادی خلیوں کو متاثر کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں تبدیلیوں کا مطلب یہ ہے کہ اینٹی باڈیز کے لیے ان اسپائیکس سے جڑ کر انہیں غیر مؤثر کرنے اور خلیوں میں داخل ہونے سے روکنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

تانی گُوچی کیوسُو، نیشنل مِیئے ہسپتال میں مریضوں پر تحقیق کے سربراہ اور کورونا وائرس سے متعلق حکومت کے ماہرین کے پینل کے رکن بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ویکسین کے اومی کرون کے خلاف کم مؤثر ہونے کی صورت میں بھی تیسرا ٹیکہ لگوانا بے معنی نہیں ہے۔ وہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر تبدیلیوں کے باعث اینٹی باڈیز کی وائرس کو غیر مؤثر کرنے کی صلاحیت صرف ایک چوتھائی رہ جاتی ہے، تب بھی بوسٹر شاٹ کے ذریعے ہمارا مدافعتی نظام بہتر ہونے اور اینٹی باڈیز کی مقدار چار گنا بڑھنے کے بعد ہم پہلے جتنے ہی محفوظ ہوں سکیں گے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگوانے اور اینٹی باڈیز کی کُل مقدار بڑھنے سے، ہمارے پاس جسم میں داخل ہونے والے اومی کرون کو غیر مؤثر کرنے کے لیے زیادہ اینٹی باڈیز ہوں گی۔

یہ معلومات 16 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 367: کیا دوائیں کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے خلاف کارآمد ہوں گی؟ 4 ، مدافعتی نظام کا ضرورت سے زیادہ رد عمل روکنے والی دواؤں کے اومی کرون کے خلاف بھی مؤثر ہونے کی توقع

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی نئی متغیر قسم اومی کرون کے متاثرین کی دنیا بھر میں تصدیق ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دوائیں، اس تازہ ترین متغیر قسم کے خلاف کارآمد ہوں گی؟ ہم نے مختلف دواؤں کے اثرات کے بارے میں ماہرین سے دریافت کیا۔ آج ہم اس موضوع پر اپنے سلسلے کی چوتھی قسط پیش کر رہے ہیں۔

وائرس کی زیادتی کی صورت میں ڈیکسامیتھاسون اور بیری سِٹِنِب زائد از ضرورت مدافعتی ردعمل کو روکتی ہیں۔ چنانچہ باور کیا جاتا ہے کہ یہ دوائیں، وائرس میں ہونے والی تبدیلیوں سے قطع نظر کووِڈ-19 کے خلاف مؤثر ہیں۔

جاپان کی آئیچی میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر موری شیما تسُونےاو کے مطابق اس بات کا زیادہ امکان نہیں ہے کہ نئی متغیر قسم کے لیے اینٹی باڈی دواؤں سے بالکل علاج نہ ہو سکے۔ تاہم، وہ کہتے ہیں کہ ہم واضح طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ نئی قسم کے معاملے میں علاج کے اثرات کتنے کم ہوں گے، تاوقتیکہ ہم یہ علاج کروانے والے مریضوں کے ساتھ اس کی تصدیق نہ کر لیں۔

اس وقت تیاری کے مرحلے میں موجود، منہ کے ذریعے لی جانے والی دواؤں کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ان کا وائرس کی پچھلی متغیر اقسام کی مانند اومی کرون کے خلاف بھی مؤثر ہونا متوقع ہے، کیونکہ یہ دوائیں خلیوں میں وائرس کی افزائش کو روکتی ہیں۔

جناب موری شیما کے مطابق، موجودہ حکمت عملی زور دیتی ہے کہ منہ کے ذریعے لی جانے والی یعنی کھانے یا پینے والی دواؤں کی منظوری کی صورت میں انہیں اینٹی باڈی علاج کے ساتھ، مرض کے ابتدائی مرحلے میں استعمال کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ حکمتِ عملی متغیر قِسم اومی کرون کے لیے علاج کے اثرات تبدیل ہو جانے کی صورت میں بھی تبدیل نہیں ہو گی۔

یہ معلومات 15 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 366: کیا کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے خلاف دوائیں کارآمد ہوں گی 3 ؟ کیا خلیوں کے اندر افزائش کی روکتھام کرنے والی دوا، متغیر قِسم اومی کرون کے خلاف بھی اتنی ہی مؤثر ہوگی؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی نئی متغیر قسم اومی کرون کے متاثرین کی تصدیق ہو رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا دوائیں، اس تازہ ترین متغیر قسم کے خلاف کارآمد ہوں گی؟ ہم نے مختلف دواؤں کے اثرات کے بارے میں ماہرین سے دریافت کیا۔ آج اس موضوع پر ہمارے سلسلے کی تیسری قسط پیش کی جا رہی ہے۔

کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کیلئے تیار کی گئی ادویات میں سے بعض دواؤں کا مقصد خلیوں کے اندر وائرس کی افزائش کیلئے ضروری اینزائیم یعنی خامرے پیدا ہونے کی روکتھام کرنا ہے۔ ریمڈیسیور جس کی جاپان کی صحت انتظامیہ منظوری دے چکی ہے، وہ ایک ایسی ہی دوا ہے جسے معتدل سے تشویشناک علامات والے مریضوں کے علاج کیلئے ڈرپ کے ذریعے رگ میں داخل کیا جاتا ہے۔

خصوصاً گھر پر تندرست ہوتے معمولی علامات کے حامل مریضوں کی جانب سے منہ کے ذریعے لی جانے والی دوا کی تیاری بھی جاری ہے۔ ان میں امریکی ادویات ساز کمپنی مرک کی تیار کردہ مولنوپِیراوِیر شامل ہے جس کیلئے اس کمپنی نے جاپان کی وزارت صحت کو درخواست جمع کروا دی ہے۔ پیکسلووِڈ امریکی ادویات ساز کمپنی فائزر نے تیار کی ہے جس نے اس کے ہنگامی استعمال کیلئے امریکی نگران ادارے کو درخواست دیدی ہے۔ مزید برآں، اِسی قسم کی ایک منہ سے لی جانے والی دوا اب جاپانی ادویات ساز کمپنی شِیونوگی تیار کر رہی ہے۔

آئیچی میڈیکل یونیورسٹی کے موری شِیما تسُونے او نے کہا ہے کہ چونکہ یہ ادویات اُس وائرس کو نشانہ بناتی ہیں جو انسانی خلیے میں داخل ہو گیا ہے تو ان دواؤں کو متغیر قِسم اومی کرون کے خلاف بھی مؤثر ہونا چاہیے۔

یہ معلومات 14 دسمبر2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 365: کیا کورونا کی متغیر قسم اومی کرون کے خلاف دوائیں کارآمد ہوں گی؟ 2 وائرس کے انسانی خلیوں میں داخلے کی روک تھام کا علاج غیر مؤثر ہونے کے خدشات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی نئی متغیر قسم اومی کرون کے متاثرین کی تصدیق ہو رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا دوائیں، اس تازہ ترین قسم کے خلاف کارآمد ہوں گی؟ ہم نے مختلف دواؤں کے اثرات کے بارے میں ماہرین سے دریافت کیا۔ آج اس موضوع پر ہمارے سلسلے کی دوسری قسط پیش کی جا رہی ہے۔

جاپان میں منظور شدہ دواؤں میں سے اینٹی باڈی کاکٹیل اور سوٹرووِیمیب، اینٹی باڈی علاج کی دوائیں ہیں۔ کورونا وائرس اپنی سطح پر ابھرے ہوئے کانٹوں کی مانند موجود اسپائیک پروٹین کو استعمال کرتے ہوئے انسانی خلیوں میں داخل ہوتا ہے۔ یہ دوائیں، ان اسپائیک پروٹین کو نشانہ بنا کر وائرس کے انسانی خلیوں میں داخلے کو روکتی ہیں۔ یہ دوائیں، ڈرپ کے ذریعے مرض کی معمولی علامات والے مریضوں کی نسوں میں داخل کی جاتی ہیں، تاکہ انہیں شدید بیمار ہونے سے بچایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق، متغیر قِسم اومی کرون میں ان کانٹوں نما اسپائیک پروٹین میں تقریباً 30 تبدیلیاں ہو چکی ہیں، جن سے ان دواؤں کے وائرس کو انسانی خلیوں میں داخل ہونے سے روکنے کی مؤثر صلاحیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

آئیچی میڈیکل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے موری شیما تسُونےاو کہتے ہیں کہ چونکہ اینٹی باڈی دوائیں اسپائیک پروٹین کو ہدف بناتی ہیں، اس لیے ان کے خیال میں اس پروٹین میں ہونے والی تازہ ترین تبدیلیاں، علاج کے مؤثر ہونے پر کافی برے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر تبدیلیاں دواؤں کے ہدف والے اسپائیک پروٹین میں نہیں ہوئیں، تو یہ علاج بدستور مؤثر ہو سکتا ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ سوٹرووِیمیب نامی دوا، متغیر قسم اومی کرون کے خلاف کارآمد ہے۔ کیونکہ اسے تیار کرنے والی بڑی برطانوی دواساز کمپنی گلیکسو اسمتھ کلائن نے اسے متغیر اقسام سے ملتے جلتے وائرسوں پر آزمایا اور کارآمد پایا ہے۔

یہ معلومات 13 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 364: کیا ادویات کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے خلاف مؤثر ثابت ہوں گی؟ 1 ، ورید کے ذریعے جسم میں داخل کی جانے والی دوا اور گولی کی شکل میں نگلی جانے والے دوا میں کیا فرق ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ دنیا بھر سے کورونا وائرس کی متغیر قسم اومی کرون کے باعث ہونے والے انفیکشن کے نئے مصدقہ متاثرین کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ کیا ادویات وائرس کی اس نئی متغیر قِسم کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہوں گی؟ ہم نے اومی کرون سے متاثرہ لوگوں کے علاج کے لیے مختلف ادویات کے مؤثر ہونے کے بارے میں ماہرین کی رائے معلوم کی ہے۔ ان میں حالیہ زیرِ استعمال اور آئندہ استعمال کے لیے تیاری کے مراحل سے گزرنے والی، دونوں طرح کی ادویات شامل ہیں۔ اس موضوع پر ہمارے نئے سلسلے کی آج پہلی قسط پیش کی جا رہی ہے۔

کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج معالجے کے لیے تین اقسام کی ادویات دستیاب ہیں۔ ان میں پہلی قسم، وائرس کو انسانی خلیات میں داخل ہونے سے روکنے والی ادویات کی ہے۔ دوسری قسم، انسانی خلیوں میں داخل ہونے والے وائرس کو اپنی تعداد دُگنی چوگنی کرنے سے روکنے والی ادویات کی ہے اور تیسری قسم، وائرس کی تعداد بڑھ جانے کے بعد مدافعتی نظام کے ضرورت سے زیادہ مدافعتی ردعمل کو دبانے والی ادویات کی ہے۔

آئیچی میڈیکل یونیورسٹی میں کورونا وائرس کے علاج معالجے کے ماہر موری شیما تسُونے او کہتے ہیں کہ وائرس کی سطح پر ’اسپائک پروٹین‘ کو نشانہ بنانے والی ورید کے ذریعے داخل کی جانے ادویات کی اثر انگیزی، اسپائک پروٹینز کے باہر نکلے مقام کے لحاظ سے الگ الگ ہو سکتی ہے، لیکن وائرس کو اپنی تعداد دُگنی چوگنی کرنے سے روکنے کے لیے بنائی گئی دوا کی ٹکیا یا گولی کے ہلکی علامات والے مریضوں کے لیے مسلسل مؤثر رہنے کا امکان زیادہ ہے۔ ہم اس معاملے کا اگلی اقساط میں مزید تفصیلی جائزہ لیں گے۔

یہ معلومات 10 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 363: جاپان نے کووِڈ-19 کے بُوسٹر شاٹس لگانے کا آغاز کر دیا 3 ، کیا بلدیات کی تیاری مکمل ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان بھر میں صحت دیکھ بھال کے کارکنان کیلئے یکم دسمبر سے کورونا وائرس ویکسین کی تیسری خوراک لگانے کا آغاز ہو گیا ہے۔ ہم اپنے اس سلسلے میں ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگانے سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ آج ہم اس بات پر توجہ مرکوز کریں گے کہ ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگانے کے لیے بلدیات کیا تیاریاں کر رہی ہیں؟

ملک بھر میں شہریوں کو ویکسین لگانے کی ذمہ داری شہروں، قصبوں یا دیہاتوں وغیرہ کی بلدیات کی ہے۔ انہیں اس وقت مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب کئی لوگوں کو پہلے ٹیکے کی بکنگ کے لیے مشکلات پیش آئیں کیونکہ فون لائنیں مصروف تھیں اور انتہائی زیادہ آن لائن ٹریفک کی وجہ سے ویب سائٹس ناقابلِ رسائی تھیں۔

26 نومبر کو این ایچ کے نے ٹوکیو کے 23 اضلاع کی مقامی انتظامیہ سے دریافت کیا کہ وہ تیسرا ٹیکہ لگاتے وقت اس مسئلے سے کس انداز میں نمٹیں گی؟

19 اضلاع کا جواب تھا کہ وہ اس طرح کی پریشانی کے سدباب کے اقدامات کر رہے ہیں۔ ان میں سے 6 کا کہنا تھا کہ وہ تاریخ، وقت اور تیسرا ٹیکہ لگانے کے مقام کا تعین کرنے کے بعد شہریوں کو اس کی اطلاع دیں گے۔ 8 اضلاع کا کہنا تھا کہ وہ فون لائنوں اور مشاورت کے مقامات کی تعداد بڑھائیں گے، تاکہ شہری وہاں سے بکنگ کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔

ٹوکیو کے ایدوگاوا ضلعے کا منصوبہ ہے کہ ایسے معمر افراد جنہوں نے دوسرا ٹیکہ اس ضلعے کے اجتماعی ویکسین مراکز میں لگوایا تھا، وہ دوسرے ٹیکے کے عین 8 ماہ بعد اُسی وقت اوراُسی تاریخ کو تیسرا ٹیکہ لگوائیں۔ وہ یہ ٹیکہ دوسرے ٹیکے کے مقام یا اس کے قریبی مقام پر بھی لگوا سکتے ہیں۔

جو افراد تاریخ یا مقام تبدیل کروانا چاہیں، وہ فون کر کے یا ضلعی انتظامیہ کی ویب سائٹ پر رسائی کے ذریعے ایسا کر سکتے ہیں۔ ضلعی حکام کا کہنا ہے معمر افراد کے لیے اس انتظام کے درست طور پر کام کرنے کی صورت میں وہ دیگر عمر کے گروپوں کے لیے بھی ایسے ہی اقدامات پر غور کریں گے۔

یہ معلومات 9 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 362: جاپان نے کووڈ-19 کے بُوسٹر شاٹس لگانے کا آغاز کر دیا 2 ، بُوسٹر یعنی تیسرے ٹیکے کیلئے مختلف ویکسینوں کا استعمال ممکن

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان بھر میں صحت دیکھ بھال کے کارکنان کیلئے یکم دسمبر سے کورونا وائرس ویکسین کی تیسری خوراک لگانے کا آغاز ہو گیا ہے۔ ہم اس نئے سلسلے میں ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگانے سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ آج ہم ویکسین کے پہلے لگوائے گئے ٹیکوں سے مختلف ویکسین کے استعمال پر توجہ مرکوز کریں گے۔

حکومت نے بُوسٹر شاٹ یعنی تیسرے ٹیکے کے لیے پہلے دو ٹیکوں سے مختلف ویکسین کے استعمال کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے اس فیصلے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ اُن تمام لوگوں کو تیسرا ٹیکہ لگانے کے لیے فائزر ویکسین کی مطلوبہ مقدار جلد دستیاب ہو سکے گی یا نہیں جنہیں پہلے دو ٹیکے فائزر ویکسین کے لگائے گئے ہیں۔

وزارت صحت نے کہا ہے کہ اس نے اُن تقریباً 40 لاکھ افراد کے لیے فائزر ویکسین کے تیسرے ٹیکے کی فراہمی یقینی بنا لی ہے، جنہیں دسمبر اور جنوری میں تیسرا ٹیکہ لگایا جانا ہے۔ لیکن زیادہ امکان یہ ہے کہ حکومت صرف 2 کروڑ افراد کے لیے فائزر کے تیسرے ٹیکے کا بندوبست کر سکے گی، جبکہ فروری اور مارچ میں تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ افراد تیسرا ٹیکہ لگوانے کے مجاز ہوں گے۔

چنانچہ وزارت صحت نے اس شرط پر تیسرے ٹیکے کے لیے موڈرنا ویکسین کے استعمال کی اجازت دیدی ہے کہ اس کے محفوظ اور مؤثر ہونے کی تصدیق ہو جائے اور تیسرے ٹیکے کے لیے اس کی منظوری مل جائے۔

وزارت کے مطابق، اسے اب بھی یقین نہیں ہے کہ آیا دوسرے ٹیکے کے 8 ماہ بعد تیسرا ٹیکہ لگوانے کے خواہشمند تمام افراد کے لیے فائزر کی ویکسین دستیاب ہو سکے گی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں موڈرنا ویکسین کے استعمال پر غور کیا جانا چاہیے۔

یہ معلومات 8 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 361: جاپان نے کووڈ-19 کے بُوسٹر شاٹس لگانے کا آغاز کر دیا 1 ، ہم کب یہ اضافی ٹیکہ لگوا سکیں گے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان بھر میں صحت دیکھ بھال کے کارکنان کیلئے یکم دسمبر سے کورونا وائرس ویکسین کی تیسری خوراک لگانے کا آغاز ہو گیا ہے۔ 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد اپنا تیسرا ٹیکہ لگوانے کے مجاز جنوری 2022ء میں ہوں گے۔ آج سے شروع ہونے والے اس سلسلے میں ہم ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگانے کے عمل پر توجہ مرکوز کریں گے۔

جاپان کی وزارت صحت نے شروع شروع میں کہا تھا کہ اُصولی طور پر وہ لوگ بُوسٹر شاٹ یعنی تیسرا ٹیکہ لگوانے کے مجاز ہیں جو کم از کم آٹھ ماہ قبل ویکسین کی دوسری خوراک لگوا چکے ہیں۔ لیکن حکومت نے حال ہی میں اشارہ دیا ہے کہ وہ دوسری اور تیسری خوراک کے درمیان دورانیے کو کم کرنے کی خواہاں ہے۔ ہر گروپ کیلئے تیسری خوراک کے وقت کا فیصلہ اس بنیاد پر ہوگا کہ آیا بلدیاتی ادارے یہ لگانے کیلئے تیار ہیں یا نہیں اور ویکسین کی کتنی مقدار دستیاب ہے۔

جن لوگوں کو تیسری خوراک لگنی ہے انہیں بلدیاتی اداروں کی جانب سے ویکسینیشن کوپنز بھیجے جائیں گے۔

وزارت صحت نے قبل ازیں کہا تھا کہ صحت دیکھ بھال کا کام کرنے والے 10 لاکھ 40 ہزار کارکنان دسمبر میں تیسرا ٹیکہ لگوانے کے مجاز ہوں گے۔

جنوری سے 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگ اور 65 سال سے کم عمر کے بعض وہ لوگ بھی اپنی تیسری خوراک لگوانے کے مجاز ہوں گے جو پہلی دو خوراکیں جلدی لگوا چکے ہوں۔

کام کی جگہوں اور یونیورسٹیوں میں بُوسٹر شاٹس لگانے کا آغاز مارچ میں ہوگا۔

وزارت صحت نے کہا ہے کہ ویکسین کی تیسری خوراک لگانے کا عمل کم از کم ستمبر 2022ء تک جاری رہے گا۔

یہ معلومات 7 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 360: ہوکّائیدو میں متاثرین کی بتدریج بڑھتی ہوئی تعداد توجہ کی متقاضی 4 ، انسداد وائرس کے بنیادی اقدامات کرنا پھیلاؤ روکنے کی کلید ہیں: ماہر

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد اس وقت رواں سال کی کم ترین سطح پر ہے۔ تاہم، جب درجۂ حرارت کم ہو تو ہوکّائیدو میں کورونا وائرس ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں جلد پھیلنے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں اس شمالی پریفیکچر کے رجحان پر قریبی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ آج ہم وہاں کی صورتحال سے متعلق اپنے سلسلے کی آخری قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

عالمی وباء سے متعلق ماہرین کے حکومتی پینل کے ایک رکن، تویو یونیورسٹی کے پروفیسر تاتےدا کازُوہیرو کہتے ہیں کہ ہوکّائیدو جاپان کا پہلا پریفیکچر تھا جہاں سنہ 2020 کے نومبر اور دسمبر میں وائرس انفیکشن میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ جب موسم سرد ہو جاتا ہے تو انسانی سانس سے نکلنے والا وائرس فضاء میں زیادہ دیر تک موجود رہتا ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ خشک موسم میں سانس کی نالی کی جھلی کے بہ آسانی متاثر ہونے کا رجحان پایا جاتا ہے، جس سے وائرس انفیکشنز کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، وہ بتاتے ہیں کہ جب سردی ہو تو لوگ بند مقامات پر زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے انفیکشن کے خطرے میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

پروفیسر تاتےدا کے مطابق، نیا کورونا وائرس اب بھی ہر جگہ موجود ہے اور ایسی جگہوں پر بھی اپنی تعداد بڑھاتے ہوئے پھیل سکتا ہے، جہاں ہمیں اس کی بہت کم توقع ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ موسم سرما انفیکشنز میں اضافے کا موسم ہے اور اس میں ہمیں بچاؤ کے بنیادی اقدامات کی مکمل پابندی کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ ماسک کا استعمال، ہوا کی مناسب آمد و رفت اور انگریزی حرف سی سے شروع ہونے والے تین کاموں سے بچنا۔ یہ تین کام کلوزڈ اسپیس یعنی بند مقامات، کراؤڈڈ پلیسز یعنی بھیڑ والے مقامات اور کلوز کنٹیکٹ یعنی قریبی رابطہ ہیں۔

یہ معلومات 6 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 359: ہوکائیدو پریفیکچر میں کورونا وائرس متاثرین کی بتدریج بڑھتی ہوئی تعداد پر گہری نظر 3، وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کی کوئی علامات نہیں: پریفیکچر کی ٹاسک فورس

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد اس وقت رواں سال کی کم ترین سطح پر ہے۔ تاہم، جب درجۂ حرارت کم ہو تو ہوکّائیدو میں کورونا وائرس ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں جلد پھیلنے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پریفیکچر میں انفیکشنز کے رجحان پر گہری نظر رکھنی ہو گی۔ آج ہم ہوکائیدو کی صورتحال کے بارے میں اپنے سلسلے کی تیسری قسط پیش کر رہے ہیں۔

کورونا وائرس سے متعلق ہوکائیدو کی ٹاسک فورس کے مطابق گروپوں کی شکل میں ہونے والے انفیکشنز یعنی کلسٹر انفیکشنز کے باعث متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انفیکشن آبادی کی سطح پر نہیں پھیل رہا اور اس کے آئندہ تیزی سے پھیلنے کی اب تک کوئی علامات بھی ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔

ٹاسک فورس نے یہ بھی کہا ہے کہ بیشتر نئے متاثرین وہ افراد ہیں جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی ہے۔

ہوکائیدو کے عوامی صحت مراکز میں حکام مریضوں اور ان سے قریبی رابطے میں رہنے والے افراد سے سوال و جواب کے ذریعے گروپ کی شکل میں انفیکشن پھیلنے کی روکتھام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ وہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ روکنے کے لیے انفیکشن کی منتقلی کا ذریعہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور لوگوں سے انسدادِ انفیکشن کے بنیادی اقدامات کی پابندی کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔

مذکورہ ٹاسک فورس کے مطابق، نئے متاثرین کی تعداد میں اضافہ جاری رہا تو یہ صورتحال انفیکشنز کی چھٹی لہر کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، لہٰذا وہ صورتحال پر گہری نظر رکھنے کا عمل جاری رکھیں گے۔

یہ معلومات 3 دسمبر 2021ءتک کی ہیں۔

سوال نمبر 358: ہوکّائیدو کی صورتحال توجہ کی متقاضی 2 ، مقامات کو ہوادار رکھنے اور 3 سی سے بچنے کی سفارش

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں اس وقت وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد سالِ رواں کی کمترین سطح پر ہے۔ تاہم، جب درجۂ حرارت کم ہو تو ہوکّائیدو میں کورونا وائرس ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں جلد پھیلنے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں اس شمالی پریفیکچر کے رجحان کا قریبی مشاہدہ کرتے رہنا ہوگا۔ آج ہم وہاں کی صورتحال سے متعلق اپنے سلسلے کی دوسری قسط پیش کر رہے ہیں۔

یہ بات تو معلوم کی جا چکی ہے کہ کورونا وائرس ایسے بند مقامات پر زیادہ آسانی سے پھیلتا ہے جہاں کی ہوا تبدیل نہ ہوتی رہے۔ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ سردیوں میں زیادہ بڑھ جاتا ہے جب کمرے بند ہوتے ہیں اور ان میں تازہ ہوا کے گزرنے کے مواقع کم ہوتے ہیں۔

بند مقامات پر کورونا وائرس کے زیادہ پھیلنے کی بات پہلی بار اُس وقت معلوم ہوئی جب فروری 2020 میں سپّورو کے برف کے تہوار کے دوران آرام کرنے کے ایک اندرونی مقام پر لوگ وائرس سے متاثر ہوئے اور اسی طرح کے دیگر واقعات سامنے آئے۔ ماہرین نے پتہ لگایا کہ وائرس کے حامل انتہائی چھوٹے آبی قطرے بند مقامات پر فضا میں زیادہ دیرتک موجود رہتے ہیں اور انہیں سانس کے ذریعے اپنے جسم کے اندر لے جانے والے افراد وائرس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس انکشاف کی بنیاد پر لوگوں کو ہاتھ دھونے، جراثیم کش محلول استعمال کرنے، ماسک کے بغیر گفتگو نہ کرنے اور 3 سی یعنی انگریزی لفظ سی سے شروع ہونے والے تین کاموں سے بچنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یہ تین کام، کلوزڈ اسپیسز یعنی بند مقامات، کراؤڈز یعنی ہجوم اور کلوز کانٹیکٹ یعنی قریبی رابطہ ہیں۔ یہ بات بھی معلوم ہو چکی ہے کہ ہوا کی آمد و رفت کے ذریعے وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

لیکن سردیوں میں جب درجۂ حرارت کم ہو جاتا ہے تو لوگوں میں بند مقامات پر وقت گزارنے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح اختتام سال اور سال نو کی چھٹیوں کے مواقع پر لوگوں کے ایک دوسرے سے قریبی رابطے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ وزارت صحت کا ماہرین کا پینل اپیل کر رہا ہے کہ چونکہ ایسے مواقع پر وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اس لیے لوگوں کو ہوا کی آمد و رفت کا خیال رکھنے جیسے بنیادی انسدادِ انفیکشن اقدامات پر مکمل طور پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

یہ معلومات 2 دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 357: ہوکّائیدو کی صورت حال توجہ کی متقاضی 1 ، چھٹی لہر کے لیے ہوکّائیدو خطرے کی گھنٹی بن سکتا ہے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں اس وقت وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد سال رواں کی کمترین سطح پر ہے۔ تاہم، سب سے شمال میں واقع ہوکّائیدو پریفیکچر میں نئے متاثرین کی یومیہ تعداد میں نومبر میں عارضی طور پر اضافہ ہوا تھا۔ جب درجۂ حرارت کم ہو تو ہوکّائیدو میں ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں کورونا وائرس کے جلد پھیلاؤ کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں اس شمالی پریفیکچر کی صورتحال کا قریبی مشاہدہ کرتے رہنا ہوگا، کیونکہ اس سے ملک میں انفیکشن کی چھٹی لہر کے آغاز کا اشارہ مل سکتا ہے۔

ہوکائیدو، جاپان میں پہلا مقام تھا جہاں فروری 2020 کے اواخر میں کورونا وائرس پھیلا۔ اس کے بعد ٹوکیو میں مارچ کے وسط میں نئے متاثرین کی تعداد میں اضافہ شروع ہوا۔

اس کے علاوہ سنہ 2020 کے موسم سرما میں وائرس کی تیسری لہر کے دوران بھی ایک قابل توجہ رجحان دیکھنے میں آیا۔ کورونا وائرس انفیکشن کا ہوکائیدو میں پھیلاؤ، ٹوکیو سمیت ملک کے دیگر حصوں کی نسبت 2 ہفتے قبل شروع ہوا تھا۔ گزشتہ سال اکتوبر کے اواخر سے ہوکائیدو میں ہفتہ وار نئے متاثرین کی تعداد میں ایک ہفتے قبل کے مقابلے میں اضافہ شروع ہو گیا۔ تقریباً ایک ماہ بعد، یہ رجحان واضح ہونے سے کچھ قبل نومبر کے وسط میں ٹوکیو میں بھی نئے متاثرین کی تعداد بڑھنا شروع ہو گئی۔

ملک بھر میں نئے مریضوں کی اوسط تعداد میں واضح اضافہ وسط نومبر کے بعد دیکھنے میں آیا۔ نومبر کے اوائل تک نئے متاثرین کی یومیہ تعداد ایک ہزار سے کم پر برقرار رہی، لیکن نومبر کے آخر تک یہ تعداد 2 ہزار تک اور دسمبر کے اواخر تک نئے متاثرین کی یومیہ تعداد 4 ہزار تک پہنچ گئی۔ 8 جنوری 2021 کو یہ تعداد تقریباً 8 ہزار تھی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ویکسینیشن کے عمل میں پیشرفت کے باعث لگتا ہے کہ رواں موسم سرما میں وائرس کا پھیلاؤ کسی حد تک قابو میں آ چکا ہے۔ لیکن انہوں نے خبردار کیا ہے کہ زیادہ دیر تک بند جگہوں میں رہنے سے وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وائرس انفیکشن کی ممکنہ چھٹی لہر کی آمد کا اندازہ لگانے کے لیے ہمیں ہوکّائیدو کی صورتحال پر قریبی نگاہ رکھنی ہوگی۔

یہ معلومات یکم دسمبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 356: جاپان میں انفیکشنز کی نئی لہر آنے یا نہ آنے اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء 9 ،اس موسمِ سرما میں انفیکشنز کے ایک بار پھر سے پھیلاؤ کو کیسے روکا جائے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم انفیکشنز کی چھٹی لہر آنے یا نہ آنے اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء پر مبنی اپنے سلسلے کی آخری قسط پیش کر رہے ہیں۔

تمام ماہرین نے اپنی گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ زیادہ امکان یہ ہے کہ انفیکشنز کی چھٹی لہر اس موسمِ سرما میں آئے گی۔ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ انفیکشنز پھر سے اور کب پھیلیں گے کے بارے میں پیشگوئی کرنے میں کلیدی عنصر لوگوں کے بالمشافہ رابطوں میں اضافہ ہوگا۔

کورونا وائرس اقدامات پر حکومت کے مشاورتی پینل کے سربراہ اومی شِگیرُو اور وزارتِ صحت سے منسلک ماہرین کے پینل کے سربراہ واکِیتا تاکاجی، دونوں نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ سال کے اختتام اور نئے سال کی تعطیلات کے دوران جب غالباً سماجی سرگرمیاں بڑھ جائیں گی، احتیاط برتیں۔ وہ ہر شخص سے کہہ رہے ہیں کہ ماسک پہننے، بند، پُرہجوم اور قریبی رابطوں والی جگہیں پیدا کرنے کی صورتحال ختم کرنے جیسے انسدادِ انفیکشن کے بنیادی اقدامات جاری رکھیں۔

بین الاقوامی یونیورسٹی برائے صحت اور بہبود کے پروفیسر وادا کوجی کہتے ہیں کہ یہ پیشگوئی کرنا آسان نہیں ہے کہ انفیکشن دوبارہ پھوٹ پڑیں گے کیونکہ کئی طرح کے عوامل پیچیدہ انداز میں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم پھر بھی، پروفیسر وادا کا کہنا ہے کہ ویکسینیں اور کورونا وائرس کے نئے علاج معالجے ایسے عوامل ہیں جو ہمارے لیے امید کی کرن ہیں۔

اس موسمِ سرما میں انفیکشنز کے دوبارہ پھوٹ پڑنے کی روکتھام کیلئے ہر شخص کیلئے اہم ہے کہ انفیکشنز کی پانچویں لہر تک کے اپنے اپنے تجربات میں اضافہ کرے اور انسدادِ انفیکشن کے متعدد اقدامات پر عملدرآمد جاری رکھے۔

یہ معلومات 30 نومبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 355: جاپان میں انفیکشنز کی نئی لہر آنے یا نہ آنے اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء 8 ، ’’مِنی ٹوکیو‘‘ نمونہ استعمال کرتے ہوئے صورتحال کی فرضی عکاسی، حصہ دوم، ٹوکیو فاؤنڈیشن برائے پالیسی ریسرچ کی چِیبا آساکو کی گفتگو

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم انفیکشنز کی چھٹی لہر آنے یا نہ آنے اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء پر مبنی اپنے سلسلے کی آٹھویں قسط میں بھی ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ٹوکیو فاؤنڈیشن برائے پالیسی ریسرچ میں پیشہ ورانہ علمی سرگرمیاں انجام دینے والی محترمہ چیبا آساکو کا تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔

محترمہ چیبا کہتی ہیں کہ انفیکشن کی چھٹی لہر ممکنہ طور پر اُس وقت آئے گی جب ویکسین کے اثرات کم ہونے کے ساتھ ساتھ باہر نکلنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ ہم نے ان سے دریافت کیا کہ اگلی لہر سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟

محترمہ چیبا کے مطابق، اس کی کلید اُس اقدام کا بہترین استعمال ہے جسے حکومت نے "ویکسین اور پی سی آر ٹیسٹنگ پیکیج" کا نام دیا ہے۔ سماجی پابندیوں میں نرمی کے لیے حکومت کورونا وائرس ویکسینیشن کا ریکارڈ اور پی سی آر ٹیسٹ کے منفی نتائج کے ثبوت استعمال کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ محترمہ چیبا نے اپنے ’منی ٹوکیو‘ نمونے پر ایک فرضی مشق کا اہتمام کیا۔ انہیں معلوم ہوا کہ وہ افراد جو ویکسین لگوا چکے ہیں یا پی سی آر ٹیسٹ کے منفی نتیجے والے افراد کے باہر نکلنے کی تعداد، وباء سے قبل کی تعداد کے برابر آ جانے کی صورت میں بھی نئے متاثرین کی تعداد میں کمی کا ہی امکان ہے، بشرطیکہ وہ افراد جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی یا ٹیسٹ کا نتیجہ منفی نہ ہونے والے افراد کے باہر نکلنے کی شرح کو عالمی وباء سے قبل کے مقابلے میں نصف تک رکھا جا سکے۔

وہ کہتی ہیں کہ لوگوں کی نقل و حرکت کو ہموار انداز میں کنٹرول کیے جا سکنے کی صورت میں انفیکشنز کو بھی مؤثر طور پر قابو میں رکھا جانا ممکن ہے۔ تاہم، وہ کہتی ہیں کہ اگر معاشی سرگرمیوں اور وائرس کی روک تھام کے اقدامات میں توازن کی بات کی جائے تو اب تک ویکسین نہ لگوانے والے افراد جیسے انتہائی خطرے کے حامل لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا ایک مؤثر اقدام ہوگا۔

محترمہ چیبا کا کہنا ہے کہ حکومت کو ویکسین اور ٹیسٹ کے پیکیج پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کے طریقوں پر مزید بات چیت کرنی چاہیے۔

یہ معلومات 29 نومبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 354: جاپان میں انفیکشنز کی نئی لہر آنے یا نہ آنے اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء 7 ، ’’مِنی ٹوکیو‘‘ نمونہ استعمال کرتے ہوئے صورتحال کی فرضی عکاسی، ٹوکیو فاؤنڈیشن برائے پالیسی ریسرچ کی چِیبا آساکو کی گفتگو

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم انفیکشنز کی چھٹی لہر آنے یا نہ آنے اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء پر مبنی سلسلے کی ساتویں قسط میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ٹوکیو فاؤنڈیشن برائے پالیسی ریسرچ میں پیشہ ورانہ علمی سرگرمیاں انجام دینے والی محترمہ چیبا آساکو کا تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔

محترمہ چیبا کو موسم سرما میں متاثرین کی تعداد میں ممکنہ اضافے سے متعلق تشویش ہے۔ ان کے خیال میں ویکسینیشن کے اثر میں کمی اور لوگوں کی آمد و رفت میں اضافہ، دونوں انفیکشنز کی چھٹی لہر آنے کا باعث بنیں گے۔ محترمہ چیبا ’’مِنی ٹوکیو‘‘ فرضی نمونے کی بنیاد پر اس لہر کے اثرات کو ممکنہ طور پر کم سے کم رکھنے کا طریقہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے 70 ہزار سے کچھ زائد نفوس کی آبادی والے ایک فرضی شہر میں انفیکیشنز پھیلنے کی وجوہات کا جائزہ لیا ہے۔ مردم شماری اور دیگر اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ شہر ٹوکیو کا چھوٹا نمونہ ہے، جس میں عمر کے گروپوں، پیشے اور رہائشیوں کے خاندان میں افراد کی تعداد یا دیگر کوائف وغیرہ جاپان کے اصل دارالحکومت سے ملتے جلتے ہیں۔

اُنہوں نے اپنی فرض کردہ صورتحال میں اکتوبر 2021 اور بعد ازاں نئے انفیکشنز کے یومیہ متاثرین کی تعداد 4 رکھی ہے، جو اصل ٹوکیو میں یومیہ تقریباً 800 متاثرین کے برابر ہے۔ حساب کتاب سے ظاہر ہوا ہے کہ ان حالات میں لوگوں کی آمد و رفت کو عالمی وباء کے پھیلاؤ سے پہلے کے مقابلے میں 30 فیصد کم رکھے جانے کی صورت میں، ویکسین کا اثر کم ہونے پر بھی نئے انفیکشنز کی تعداد جوں کی توں رہے گی۔ کورونا وائرس ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگوانے والے افراد کی تعداد بڑھنے سے ان حالات میں نئے متاثرین کی تعداد کم ہونا شروع ہو جائے گی۔

لیکن لوگوں کی آمد و رفت عالمی وباء سے پہلے کے مقابلے میں صرف 20 فیصد کم رہنے کی صورت میں ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگوانے والوں میں اضافہ ہونے پر بھی نئے متاثرین کی تعداد میں اضافہ جاری رہے گا۔ محترمہ چیبا کہتی ہیں کہ فرضی نمونے سے ظاہر ہوا ہے کہ لوگوں کی آمد و رفت میں تھوڑا سا اضافہ بھی انفیکشن کی صورتحال کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ معاشرے میں مجموعی طور پر اختتام سال کی تقریبات منعقد کرنے کا رجحان ہونے کی صورت میں امکان ہے کہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ لیکن وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ معاشی سرگرمیوں سے متعلق سوچنے کی صورت میں لوگوں کی آمد و رفت کو کم سطح پر برقرار رکھنا غالباً مشکل ہو گا۔

یہ معلومات 26 نومبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 353: جاپان میں انفیکشنز کی نئی لہر آنے یا نہ آنے اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء 6 ، شہری اور دیہی علاقوں کا فرق – اوکیناوا چُوبُو ہسپتال کے تاکایاما یوشی ہیرو کی گفتگو

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم انفیکشنز کی چھٹی لہر آنے یا نہ آنے، اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء پر مبنی سلسلے کی چھٹی قسط میں بھی مسلسل دوسرے روز، اوکیناوا چُوبُو ہسپتال کے تاکایاما یوشی ہیرو کی گفتگو پیش کر رہے ہیں۔

جناب تاکایاما خبردار کرتے ہیں کہ عنقریب آنے والے اختتام سال اور نئے سال کی چھٹیوں کے دنوں میں وائرس متاثرین میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم وائرس کی روک تھام کے چاہے جتنے بھی اقدامات کر لیں، چھٹیوں کے دوران ہم ایک حد تک وائرس کو دیہی علاقوں میں لیجائے جانے سے نہیں روک سکتے۔ عمر رسیدہ افراد کی ایک بڑی تعداد طویل عرصے تک نہ ملنے کے بعد اب اپنے بچوں اور اُن کے بچوں کے ساتھ نیا سال منانے کی منتظر ہے۔ بزرگوں اور ان سے ملنے کیلئے دیہی علاقوں میں جانے والی ان کی اولادوں، دونوں کے لیے دیگر احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ اس بات کی تصدیق اہم ہے کہ انہوں نے ویکسین لگوا لی ہے، اور اب وہ بلا خوف و خطر ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں۔

جناب تاکایاما، وائرس کی ممکنہ چھٹی لہر کے لیے احتیاطی اقدامات بڑھانے کی اہمیت پر بہت زور دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ امریکہ اور یورپ کی موجودہ صورتحال کے تناظرمیں ہمیں اس مفروضے کے تحت احتیاطی تیاریوں کو تقویت دینی چاہیے کہ چھٹی لہر زیادہ بڑی بھی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد میں اضافہ، خصوصاً دیہی علاقوں میں آسان نہیں ہے، کیونکہ سردیوں کی آمد کے ساتھ دیگر بیماریوں کے مریضوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ ایسی سہولیات یا مراکز کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے جہاں مریضوں کو ہسپتال سے خارج ہونے کے بعد رکھا جا سکے اور اس طرح ان کا ہسپتالوں میں رہنے کا دورانیہ کم کیا جا سکے۔ اگر مریضوں کو ہسپتال میں رکھنے کا دورانیہ نصف کیا جا سکے تو یہ ہسپتال کے بستروں کی تعداد دُگنی کرنے کے ہی برابر ہوگا۔

جناب تاکایاما، مقامی بلدیات اور ہسپتالوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ آپس میں مشاورت کے ذریعے اس بات کی تصدیق کریں کہ وائرس انفیکشن کی نئی ممکنہ لہر کے لیے وہ پوری طرح تیار ہیں۔

یہ معلومات 25 نومبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 352: جاپان میں انفیکشنز کی نئی لہر آنے یا نہ آنے اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء 5 ، شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان فرق – اوکیناوا چُوبُو ہسپتال کے تاکایاما یوشی ہیرو کی گفتگو

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم انفیکشنز کی چھٹی لہر آنے یا نہ آنے، اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء پر مبنی اپنے سلسلے کی پانچویں قسط میں اوکیناوا چُوبُو ہسپتال کے تاکایاما یوشی ہیرو کی رائے پیش کر رہے ہیں۔ وہ متعدی امراض کے ماہر اور وزارت صحت کے ماہرین کے پینل کے ایک رکن بھی ہیں۔

جناب تاکایاما نے شہری اور دیہی علاقوں میں وائرس کے پھیلاؤ میں فرق پر توجہ مرکوز کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شہری اور دیہی علاقوں کو وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق مختلف طریقے اختیار کرنے چاہیئں۔ شہری علاقوں میں بعض ایسی جگہوں پر وائرس کا پھیلاؤ مستقل طور پر جاری رہتا ہے جہاں لوگ یا سرگرمیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ ایسی جگہوں پر لوگوں کا ایک دوسرے سے عموماً زیادہ رابطہ ہوتے ہی وائرس کا پھیلاؤ آگ کی طرح بھڑک اٹھتا ہے۔ اس کے برعکس، اوکیناوا سمیت بیشتر دیہی علاقوں میں انفیکشن کی صورتحال عموماً کنٹرول میں رہتی ہے اور بعض علاقوں میں تو کسی بھی فرد کے متاثر ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ ایسے علاقوں کے لوگوں کو شہری علاقوں سے آنے والے متاثرہ لوگوں سے محتاط رہنا چاہیے۔

اس میں کلیدی نکتہ یہ دیکھنا ہے کہ آیا باہر سے آنے والے لوگوں کیلئے ویکسین اور پی سی آر ٹیسٹنگ پیکیج کا بندوبست ہے یا نہیں، اور آیا وباء کے پھیلاؤ کی صورت میں مقامی حکام پریفیکچر کی سرحد کو عبور نہ کرنے کی درخواست جاری کر سکتے ہیں۔ دیہی یا مضافاتی علاقوں کے لوگ وباء کے بارے میں زیادہ محتاط ہوتے ہیں اور احتیاطی تدابیر اپنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر ان کا پیغام شہری علاقوں کے لوگوں تک نہیں پہنچتا تو پھر یہ بے معنی ہے۔ اب جبکہ متاثرین کی تعداد نسبتاً کم ہے، تو ایسے میں لوگوں کی کم تعداد ہی اس طرح کے پیغامات کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔ اہم بات یہ کہ شہری علاقوں کے حکام، شہریوں کو محتاط رہنے کی یاد دہانی بار بار کرواتے رہیں۔

یہ تھے اوکیناوا چُوبُو ہسپتال کے جناب تاکایاما یوشی ہیرو کے خیالات۔

یہ معلومات 24 نومبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 351: جاپان میں انفیکشنز کی نئی لہر آنے یا نہ آنے، اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء 4 ، بین الاقوامی یونیورسٹی برائے صحت و بہبود کے پروفیسر وادا کوجی کی گفتگو

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم انفیکشنز کی چھٹی لہر آنے یا نہ آنے، اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء پر مبنی اپنے سلسلے کی چوتھی قسط میں بین الاقوامی یونیورسٹی برائے صحت و بہبود کے پروفیسر اور متعدی امراض جیسے صحت عامہ کے معاملات کے ماہر وادا کوجی کی رائے پیش کر رہے ہیں۔ وہ وزارت صحت کے ماہرین کے پینل کے ایک رکن بھی ہیں۔

دیگر ماہرین کی طرح پروفیسر وادا بھی کہتے ہیں کہ سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز کے دنوں میں لوگوں کی نقل و حرکت میں اضافے کے باعث زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ سردی اور ہوا میں نمی جیسے موسمی اثرات کے ساتھ لوگوں کی نقل و حرکت میں اضافے سے سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز کے دنوں میں وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ لوگ نیا سال منانے کے لیے متحرک ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال موسمی فلُو جیسے حالات کی طرح ہی ہوتی ہے، اس لیے اس دوران خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔

پروفیسر وادا کہتے ہیں کہ ماہرین کو بھی انفیکشن کی چھٹی لہر کی پیشگوئی کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کیونکہ اس کا تعلق کئی عوامل سے ہے جن میں ویکسینیشن میں پیشرفت، سماجی سرگرمیوں پر پابندیوں میں نرمی اور وقت گزرنے کے ساتھ ویکسین پر پڑنے والے اثرات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ابھی تک بہت سے عوامل نامعلوم ہیں۔

تاہم، اُنہیں یقین ہے کہ ویکسینیشن میں پیشرفت کے باعث گزشتہ لہروں کے برعکس انفیکشن کی آئندہ آنے والی لہر میں لوگوں کے شدید بیمار ہونے کے امکانات کم ہوں گے۔

پروفیسر وادا کہتے ہیں کہ بیرون ملک متاثرین کے جائزوں سے اس بات میں شک پیدا ہوتا ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ اور کووِڈ سے خاص طور پر اُن لوگوں کے شدید متاثر ہونے کا امکان زیادہ ہے جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی ہے۔ ٹوکیو میں 40 کے پیٹے کے ہر 5 میں سے ایک شخص کو ابھی ویکسین نہیں لگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن کے عمل میں پیشرفت بہت ضروری ہے تاکہ محسوس کیا جائے کہ لوگ اور علاقہ محفوظ ہیں۔

یہ معلومات 22 نومبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 350: جاپان میں انفیکشنز کی نئی لہر آنے یا نہ آنے، اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء 3 ، مصنوعی ذہانت کی مدد سے آئندہ انفیکشنز کی پیشگوئی، اے آئی-ناگویا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر ہِیراتا آکی ماسا۔

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم انفیکشنز کی چھٹی لہر آنے یا نہ آنے، اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء پر مبنی سلسلے کی تیسری قسط پیش کر رہے ہیں۔ آج ہم مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے آئندہ انفیکشنز کی پیشگوئی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ پیش کریں گے۔

ناگویا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر ہِیراتا آکی ماسا نے انفیکشن کا گزشتہ ڈیٹا اے آئی نظام میں ڈالتے ہوئے ٹوکیو میں انفیکشنز کی آئندہ صورتحال کا اندازہ لگایا ہے۔ اس ڈیٹا میں، انفیکشن سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ، درجۂ حرارت، نمی کا تناسب، لوگوں کی آمد و رفت کے ساتھ ساتھ آیا ہنگامی حالت نافذ کی گئی ہے یا نہیں جیسا وسیع اقسام کا ڈیٹا استعمال کیا گیا ہے۔

اس اندازے میں فرض کیا گیا تھا کہ لوگوں کی آمد و رفت رفتہ رفتہ معمول کی جانب لوٹے گی۔ اے آئی نے دو بار ویکسین لگوانے والے افراد کے تناسب اور ویکسین کا اضافی تیسرا ٹیکہ لگانا کب شروع کیا جائے گا جیسے 27 مختلف قسم کے حالات کے تحت آئندہ انفیکشنز کی پیشگوئی کی۔ ان تمام کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ انفیکشنز کی چھٹی لہر لگ بھگ جنوری کے اوائل میں آئے گی۔

پروفیسر ہِیراتا کے مطابق، اے آئی نے پیشگوئی کی ہے کہ ہر طرح کے حالات میں چھٹی لہر جنوری کے اوائل میں رونما ہونا شروع ہوگی۔ وائرس کے ارتقائی مراحل کے لحاظ سے اس کے پھیلنے کا دارومدار کرسمس سے نئے سال تک تعطیلات منانے کے لیے باہر جانے والوں کی آمد و رفت اور اہل خانہ اور رشتہ داروں کے ساتھ منعقد ہونے والے اجتماعات کی تعداد پر ہو گا۔

اے آئی کی پیشگوئی میں ساتھ ہی یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ عوام کو بوسٹر شاٹ یعنی اضافی تیسرا ٹیکہ لگانے کی رفتار تیز ہونے کی صورت میں متاثرین کی تعداد نسبتاً جلدی کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ اس میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شدید بیمار ہونے والے افراد کی تعداد بھی بڑھنا رک جائے گی۔

پروفیسر ہِیراتا کہتے ہیں کہ ویکسین کا اضافی تیسرا ٹیکہ لگوانا اور آبادی میں ویکسین کے مؤثر ہونے کی بلند سطح کو مجموعی طور پر برقرار رکھنا اہم ہے۔ جاپان میں ویکسینیشن تیز رفتاری سے کی گئی ہے، جس کا مطلب یہ امکان بھی ہے کہ ویکسین کی کارگزاری کی سطح تیزی سے نیچے آئے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ویکسین کا اضافی تیسرا ٹیکہ جلد نہ لگایا گیا تو جاپان کیلئے ویکسین کی اثرانگیزی کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

یہ معلومات 19 نومبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 349: جاپان میں انفیکشنز کی نئی لہر آنے یا نہ آنے، اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء 2 ، فُورُوسے یُوکی، ماہرِ وبائی امراض

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم انفیکشنز کی چھٹی لہر آنے یا نہ آنے، اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء پر مبنی سلسلے کی دوسری قسط پیش کر رہے ہیں۔ آج بھی ہم علمِ وبائی امراض کے ماہر فُورُوسے یُوکی کے خیالات پیش کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر فُورُوسے کہتے ہیں کہ شخصی رابطے کو کم کرتے ہوئے انفیکشنز کی چھٹی لہر کے آغاز میں تاخیر کی جا سکتی ہے۔ تاہم مفروضوں کی بنیاد پر کی گئی ان کی پیشگوئی کے مطابق شخصی رابطوں میں 40 فیصد کمی، یا موجودہ عالمی وباء سے پہلے کے مقابلے میں شخصی رابطے 60 فیصد تک کم رکھنے کی صورت میں بھی انفیکشنز کی اگلی لہر تقریباً پانچ ماہ بعد آنے کا غالب امکان ہے۔ اس فرضی صورتحال میں ویکسین کے تیسرے ٹیکے یعنی بُوسٹر شاٹ کے اثرات کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اضافی ٹیکے سے چھٹی لہر کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

شخصی رابطوں میں کمی کا اندازہ لگانا نہایت مشکل ہے۔ ڈاکٹر فُورُوسے کے مطابق، اختتامِ سال اور نئے سال کی تعطیلات کے حوالے سے لوگوں میں شعور پیدا کرنا کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر فُورُوسے کہتے ہیں کہ موسم سرما میں سانس کی وبائی بیماریاں زیادہ شدت سے پھیلتی ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ یہ دعوتوں کا موسم بھی ہے، اور اگر لوگوں نے ایک دوسرے سے مل بیٹھ کر مشروبات سے دل بہلایا یا عالمی وباء سے پہلے کی طرح کافی سیر و سیاحت پر نکلے تو اس سے انفیکشن کا دوبارہ پھیلاؤ شروع ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ بعض فکرمند افراد انفیکشن کے خلاف احتیاطی تدابیر میں بتدریج کمی لا رہے ہیں، لیکن کئی لوگ ابھی تک ماسک لگانے، مل بیٹھنے سے زیادہ تر گریز کرنے اور بالمشافہ ملاقات کے بجائے آن لائن ملاقات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری زندگی کا بڑا حصہ اب ’’نئے معمولات‘‘ کے مطابق بسر ہو رہا ہے، جس میں شخصی رابطہ پہلے سے کم ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس طرزِ زندگی کو جاری رکھنے کی صورت میں ہم چھٹی لہر کے اثرات کو کم سے کم رکھنے میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، تاہم ان سے مکمل چھٹکارا پانا شاید ممکن نہ ہو سکے اور ہم طبی دیکھ بھال کے اپنے نظام پر بہت زیادہ دباؤ پڑنے کی روکتھام کر سکیں۔

یہ معلومات 18 نومبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 348: جاپان میں انفیکشنز کی نئی لہر آنے یا نہ آنے، اور آنے کی صورت میں کب آنے کے امکان کے بارے میں ماہرین کی آراء 1 ، فُورُوسے یُوکی، ماہرِ وبائی امراض۔

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد اب رواں سال کی کم ترین سطح پر ہے۔ تاہم اس کے باوجود حکومت نے کورونا وائرس انفیکشنز کی ایک اور ممکنہ لہر کیلئے تیاری کے منصوبے کا 12 نومبر کو اعلان کیا ہے۔ آج سے ہم ماہرین کے سلسلہ وار انٹرویوز پیش کریں گے، جن میں ہم نے اُن سے پوچھا کہ آیا ہم انفیکشنز کی چھٹی لہر سے متاثر ہوں گے یا نہیں اور اگر ہوں گے تو ایسا کب ہوگا۔

سب سے پہلے ہم فُورُوسے یُوکی کی گفتگو پیش کر رہے ہیں جو علمِ وبائی امراض کے ماہر ہیں اور ریاضیاتی نمونے استعمال کر کے تجزیہ کرنے میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں۔ وہ وزارت صحت کی کورونا وائرس کلسٹر ٹاسک فورس کے مشیر ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ چھٹی لہر غالباً اس موسمِ سرما میں آئے گی۔

جناب فُورُوسے یُوکی وزارت صحت کے ماہرین کے پینل برائے کورونا وائرس کے لیے انفیکشنز کی آئندہ صورتحال کی پیشگوئی مختلف مفروضوں کی بنیاد پر کرنے کے نگران ہیں۔ وہ اس کے لیے وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بننے والے مختلف عوامل کی سطح کا تعین کرتے ہیں اور ان پر ریاضی کے کلیات لاگو کرتے ہوئے پیشگوئی کرتے ہیں۔

انہوں نے پیشگوئی کیلئے جو مفروضے استعمال کیے ان کی فہرست درج ذیل ہے۔

1) 60 سال اور اس سے زائد العمر افراد میں ویکسین لگوانے والوں کی شرح 90 فیصد ہے، 40 سے لے کر 59 سال تک کی عمر والوں میں یہ شرح 80 فیصد اور 20 سے لے کر 39 سال تک کی عمر والوں میں یہ شرح 75 فیصد ہے۔
2) مکمل ویکسینیشن، یعنی ویکسین کے دو ٹیکے لگوانا انفیکشنز کی روکتھام میں 70 فیصد مؤثر ہے۔
3) بالمشافہ رابطہ عالمی وباء سے پہلے کے مقابلے میں 80 فیصد کے قریب ہو گا، (یعنی پہلے کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہو گا)۔
ان مفروضوں کی بنیاد پر معلوم ہوتا ہے کہ انفیکشنز سے متاثرہ افراد کی ابتدائی کم شرح، ایک ماہ بعد بڑھنا شروع ہو جائے گی اور دو ماہ بعد اس میں تیزی سے اضافہ شروع ہو جائے گا۔

یہ معلومات 17 نومبر 2021ء تک کی ہیں۔

سوال نمبر 347: کووِڈ-19 کے طویل مدتی اثرات سے متاثرہ کارکنان کیلئے زرِ تلافی کی منظوری 2 ، مالی اعانت کے مستحق کون لوگ ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ اپنی جائے روزگار پر کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد زرِتلافی برائے کارکنان حاصل کر رہی ہے۔ ایسے کیسز بھی ہیں جن میں کووِڈ-19 کے طویل مدتی اثرات کے متاثرین کو مالی اعانت کا مستحق تسلیم کیا جا تا ہے۔ آج ہم ’’کووِڈ-19 کے طویل مدتی اثرات سے متاثرہ کارکنان کے لیے زر تلافی‘‘ کے اپنے سلسلے کی دوسری قسط پیش کر رہے ہیں۔

جاپان میں ملازم کے طور پر کام کرنے والے غیر ملکیوں کو اپنی شہریت سے قطع نظر ملک کے کارکنان کے لیے زرِ تلافی بیمہ کا تحفظ حاصل ہے۔ ان میں ناصرف جاپان میں رہائش کا اجازت نامہ رکھنے والے افراد، جس کے تحت کام کرنے کی اجازت ہوتی ہے، بلکہ جُزوقتی ملازمت کرنے والے طلباء و طالبات بھی شامل ہیں۔ حکومت جاپان کے مطابق، کام کے دوران کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد یا وائرس کے طویل مدتی اثرات کے باعث شدید بیمار پڑنے والے افراد جو کام کرنے سے قاصر ہوں، وہ زرِ تلافی برائے کارکنان کے حقدار ہیں۔

وزارت صحت لوگوں پر زور دے رہی ہے کہ وائرس سے متاثر ہو جانے یا علامات کے طُول پکڑنے کی صورت میں وہ مقامی دفترِ معائنہ برائے لیبر معیارات سے مشاورت کریں۔

وزارت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ اپنی کام کی جگہوں پر کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 14 ہزار 567 افراد کا حق زرِ تلافی برائے کارکنان، ماہ ستمبر کے اختتام تک تسلیم کیا جا چکا تھا۔ ان میں سے 11 ہزار 214 افراد طبی یا بہبودی کارکنان تھے جن میں ڈاکٹر، نرسیں اور دیکھ بھال کرنے والے اندراج شدہ کارکنان شامل ہیں۔ یہ افراد کل تعداد کے 70 فیصد سے زیادہ تھے۔ تاہم، ان افراد میں نقل و حمل یا ڈاک خدمات سے متعلقہ 376 افراد، مصنوعات سازی کے شعبے سے 315 افراد اور ہوٹلوں و ریستورانوں سمیت خدمات کے شعبے سے بھی 245 افراد شامل ہیں۔ مختصر یہ کہ وسیع تر صنعتی شعبوں کے کارکنان کا حق زر تلافی تسلیم کیا گیا ہے۔

ہیوگو میں قائم ایک غیر منافع جاتی تنظیم کووڈ-19 سے متاثرہ افراد کی مدد اور روزگار کی جگہوں پر حالات بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ تنظیم کے سیکریٹری جنرل نشی یاما کازُوہیرو کا کہنا ہے کہ مقام روزگار پر کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد طویل مدت تک علامات جاری رہنے والے افراد زرِ تلافی برائے کارکنان دوبارہ حاصل کرنے کے حقدار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان معلومات کو عام کرنے لیے مزید کوشش کرنی چاہیے۔

یہ معلومات 16 نومبر 2021 تک کی ہیں۔

سوال نمبر 346: کووِڈ-19 کے طویل مدتی اثرات سے متاثرہ کارکنان کیلئے زرِ تلافی کی منظوری 1 ، ایک مرد کے معاملے کا جائزہ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اپنی جائے ملازمت پر کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد زرِتلافی حاصل کر رہی ہے۔ ایسے کیسز بھی ہیں جن میں کووِڈ-19 کے طویل مدتی اثرات کے متاثرین کو مالی اعانت کا مستحق قرار دیا جاتا ہے۔ آج ہم کووِڈ-19 کے طویل مدتی اثرات سے متاثرہ کارکنان کیلئے زرِتلافی کا جائزہ لیں گے۔

ہیوگو پریفیکچر میں واقع معمر افراد کے ایک بہبودی مرکز میں کام کرنے والے 40 کے پیٹے کے ایک مرد فزیکل تھراپسٹ کو کووڈ 19 کے طویل مدتی اثرات کی بنیاد پر زرِتلافی کا حقدار قرار دیا گیا۔ یہ شخص بہبودی مرکز میں مقیم ایک کورونا مریض سے قریبی رابطے کے باعث خود بھی وائرس کا شکار ہوا تھا۔ دسمبر 2020 میں اس کے پی سی آر ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آنے پر اسے مالی اعانت کا حقدار قرار دیا گیا۔ وہ دو ماہ قرنطینہ میں گزارنے کے بعد کام پر واپس آیا لیکن اپریل 2021 میں اسے سخت جسمانی تھکاوٹ، سانس لینے میں دشواری اور ذائقے کی حِس میں مسائل کی سنگین علامات ظاہر ہونے کے باعث کام سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے ڈاکٹر نے تشخیص کی کہ وہ کووڈ 19 کے طویل مدتی اثرات کا شکار ہو چکا ہے۔

اس نے کارکنان سے متعلقہ زرِتلافی کے لیے دوبارہ درخواست دی اور اگست میں لیبر معیارات کے معائنہ کاروں نے تسلیم کیا کہ وہ جائے ملازمت پر مرض سے متاثر ہوا ہے۔ وہ شخص اب بھی کام کرنے کے قابل نہیں ہے اور گھر پر اپنی بیوی اور 5 سالہ بیٹی کے تعاون سے صحت کی بحالی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

مذکورہ شخص کا کہنا ہے کہ اُسے اپنے طویل مدتی اثرات کی وجہ سے زرِتلافی ملنے کی منظوری سے تسلی ہوئی ہے۔ لیکن اس نے کہا کہ وہ اس بات کو اچھا محسوس نہیں کرتا کہ وہ جسمانی طور پر صحت مند نہیں اور اپنی بیٹی کے ساتھ کھیل نہیں سکتا، اور یہ کہ وہ جلد از جلد کام پر واپس جانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا چاہتا ہے۔

چونکہ کووڈ-19 کے طویل مدتی اثرات کسی بھی کارکن کو زرِتلافی کا اہل بناتے ہیں، اس لیے حکومت اسی طرح کے حالات کے باعث پریشانی کے شکار لوگوں سے کہہ رہی ہے کہ وہ وزارت محنت کے متعلقہ شعبے سے مشاورت کریں۔

یہ معلومات 15 نومبر2021 تک کی ہیں۔

سوال نمبر 345: جاپان اور دیگر ممالک کورونا وائرس ویکسین کے تیسرے ٹیکے کو کس طور پر لے رہے ہیں؟ 9 ، وائرس کی پانچویں لہر سے ہم نے کیا سیکھا؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس ویکسین کے ’بوسٹر شاٹ‘ یعنی تیسرے ٹیکے کے بارے میں ہمارے اس سلسلے کے نویں قسط میں آج ہم جائزہ لیں گے کہ انفیکشنز کی پانچویں لہر سے ہم نے کیا سیکھا ہے۔

سائی تاما میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر اوکا ہیدے آکی کہتے ہیں کہ انفیکشنز کی پانچویں لہر کے دوران متاثرہ افراد کی بیشتر تعداد نے یا تو ویکسین بالکل نہیں لگوائی تھی یا پھر ویکسین کا صرف ایک ٹیکہ لگوا رکھا تھا۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ 80 کے پیٹے کی عمر کا ہسپتال میں داخل ایک فرد ایسا بھی تھا، جس نے اگرچہ جولائی میں مکمل ویکسینیشن کروائی تھی، تاہم بیماری میں شدت آنے کے بعد اگست کے وسط میں وہ چل بسا تھا۔ سرطان کا علاج کروانے کے باعث اس مریض کے جسم کا مدافعتی نظام کمزور ہو چکا تھا۔

ڈاکٹر اوکا کہتے ہیں کہ ویکسین کے دونوں ٹیکے لگوانے کے باوجود مذکورہ مریض بدقسمتی سے شدید بیمار ہوا۔ بیرون ملک مطالعاتی جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کو ویکسین کے دونوں ٹیکے لگوانے کا فائدہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ ایسے افراد کے لیے ویکسین کی افادیت کم رہنے کا امکان ہے۔

ڈاکٹر اوکا مزید کہتے ہیں کہ دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے مدافعتی نظام کو بے اثر رکھنے والی ادویات استعمال کرنے والوں میں بھی ویکسین کے دونوں ٹیکے لگوانے کے باوجود اینٹی باڈیز کی مطلوبہ مقدار پیدا نہ ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر اوکا کہتے ہیں کہ کورونا وائرس ویکسین سے متعلق اعداد و شمار جمع کیے جا رہے ہیں اور اب ہم جانتے ہیں کہ کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے ویکسین کے دو ٹیکے کافی نہیں ہیں۔ تاہم تیسرے ٹیکے سے ان کی اینٹی باڈیز میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب چونکہ ویکسینیں عام دستیاب ہیں، لہٰذا وائرس کی اگلی لہر کی تیاری کے لیے ہمیں خطرے سے دوچار افراد کو محفوظ رکھنے کے طریقوں پر غور کرنا ہو گا اور اپنے کمزور پہلوؤں پر توجہ دینی ہو گی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس طرح ہم شدید بیمار ہونے والے افراد کی تعداد بڑھنے سے روک سکیں گے اور طبی دیکھ بھال کا نظام بھی دباؤ کے بغیر اپنا کام بخوبی انجام دیتا رہے گا۔

یہ معلومات 12 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 344: جاپان اور دیگر ممالک ویکسین کے تیسرے ٹیکے کو کس طور پر لے رہے ہیں؟ 8 ، بعض لوگ تیسرا ٹیکہ لگوانے سے قاصر

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ویکسین کے بُوسٹر شاٹ یعنی تیسرے ٹیکے سے متعلق سلسلے کی آٹھویں قسط میں ہم ایک ایسے شخص کی گفتگو پیش کر رہے ہیں۔ جو چاہنے کے باوجود کسی وجہ سے تیسرا ٹیکہ نہیں لگوا سکتا۔

49 سالہ اِکیدا مَساہیرو ٹوکیو کے مناتو ضلعے کے علاقے روپّونگی کے ایک بار میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے ویکسین نہیں لگوائی ہے، کیونکہ انہیں جلد کی سوزش اور الرجی کے دیگر مسائل کا سامنا ہے۔

9 سال قبل وہ فلُو کی ویکسین لگوانے کے بعد بیمار ہو گئے تھے۔ ان کے ڈاکٹر نے انہیں بتایا تھا کہ یہ جسمانی رد عمل ہے۔ اِکیدا نے اُس وقت کے خوفناک تجربے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ جب وہ ویکسین لگوانے کے بعد گھر جانے کے لیے اٹھے تو وہ سیدھے چل نہیں سکتے تھے۔ جب ان کا دل انتہائی تیزی سے دھڑکنے لگا تو انہیں محسوس ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔

انہوں نے اپنے ڈاکٹر سے کورونا وائرس ویکسین لگوانے سے متعلق دریافت کیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ زیادہ امکان تو یہ ہے کہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، لیکن حتمی فیصلہ وہ خود کریں کیونکہ وہ سخت جسمانی ردعمل کا سامنا کر چکے ہیں۔

انہیں دمے کا مرض بھی لاحق ہے۔ چنانچہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں انہیں سنگین علامات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خود اپنے لیے، اور اپنے بار میں آنے والے گاہکوں کے لیے، وہ ویکسین لگوانا چاہتے ہیں لیکن اس سلسلے میں وہ ابھی اپنا ذہن نہیں بنا سکے۔

انہوں نے کہا کہ صاف کہیں تو انہیں تین بار ویکسین کے ٹیکے لگوا سکنے والوں پر رشک آتا ہے۔ انہوں نے کہا اگر ان کے صحت کے مسائل نہ ہوتے تو وہ بھی ایسا ہی کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پریشانی اور معاشرے سے اجنبیت محسوس کرتے ہیں، کیونکہ پابندیاں مسلسل کم ہو رہی ہیں اور لوگ سفر کے قابل ہو رہے ہیں، بشرطیکہ ان کے پاس ویکسین لگوانے کا ثبوت موجود ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ لوگ اس بات کو سمجھیں کہ دنیا میں ان جیسے لوگ بھی موجود ہیں جو چاہتے ہوئے بھی ویکسین نہیں لگوا سکتے۔ ان کی یہ خواہش بھی ہے کہ اس معاملے پر بات چیت ہو کہ اس سلسلے میں کیا کیا جا سکتا ہے۔

یہ معلومات 11 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 343: جاپان اور دیگر ممالک ویکسین کے تیسرے ٹیکے کو کس طور پر لے رہے ہیں؟ 7 ، نرسنگ ہومز کو ویکیسن کے تیسرے ٹیکے سے بلند توقعات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے بوسٹر شاٹ یعنی تیسرے ٹیکے سے متعلق سلسلے کی ساتویں قسط میں ایک نرسنگ ہوم یا معمر افراد کے بہبودی مرکز کی رائے پیش کر رہے ہیں۔

باور کیا جاتا ہے کہ رواں سال کورونا وائرس انفیکشن کی پانچویں لہر کے دوران، دیکھ بھال کے مراکز میں ایسے بہت سے افراد میں بریک تھرو انفیکشن یعنی ویکسین لگوانے کے باوجود وائرس سے متاثر ہونے کے کئی اجتماعی واقعات ہوئے جو دو بار ویکسین لگوا چکے تھے۔

گزشتہ سال نومبر میں ٹوکیو کے سیتاگایا ضلع کے بہبودی مرکز میں، جہاں 90 افراد مقیم ہیں اور ایک سو سے زائد افراد کا عملہ شفٹوں میں کام کرتا ہے، وہاں 10 سے زائد افراد کے وائرس ٹیسٹ کا نتیجہ بیماری کی کوئی علامت نہ ہونے کے باوجود مثبت آیا۔ ان افراد میں وہاں رہائش پذیر افراد اور عملہ، دونوں ہی شامل تھے۔

اس مرکز کی انتظامیہ کی جانب سے ویکسین لگوانے کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں رواں سال اپریل اور مئی کے درمیان رہائشیوں اور عملے کے تقریباً تمام افراد کو ویکسین کے دو ٹیکے لگنے کا عمل مکمل ہو گیا۔ مرکز نے وائرس انفیکشن کی روک تھام کے دیگر اقدامات میں بھی اضافہ کیا جس کے نتیجے میں مذکورہ مرکز میں وائرس کے نئے متاثرین سامنے نہیں آئے۔ حالیہ عرصے تک مرکز نے آنے والوں پر بھی سخت پابندیاں برقرار رکھیں اور مرکز میں مقیم افراد سے ان کی ملاقات یا تو کھڑکی کے ذریعے کروائی گئی یا پھر آن لائن۔

اکتوبر سے مزید حفاظتی اقدامات اٹھائے جانے کے بعد یہاں مقیم افراد ملنے کے لیے آنے والوں سے مرکز کے اندر ملاقات کر سکتے ہیں۔

بہبودی مرکز کے مطابق، اسے بیمار ہونے کے انتہائی خطرے سے دوچار عمر رسیدہ افراد کی حفاظت کے لیے، بوسٹر شاٹ یا ویکسین کے تیسرے ٹیکے کے مؤثر ہونے کی بہت توقع ہے۔ مرکز کے مطابق اُسے ملاقاتوں کو برقرار رکھنے کیلئے بھی جو اب معمول کے حالات کے قریب ہیں، تیسرا ٹیکہ ضروری ہے۔

بہبودی مرکز ہاکُوسُوئی نو ساتو کی سربراہ تناکا مِیسا کا کہنا ہے کہ وہ معمر افراد کی حفاظت کے لیے ویکسینیشن کے کارآمد ہونے پر یقین رکھتی ہیں۔ وہاں مقیم افراد کے اہل خانہ بھی ویکسین کے تیسرے ٹیکے کی درخواست کر رہے ہیں تاکہ وہ مقیم افراد سے ملاقاتیں جاری رکھ سکیں۔ محترمہ تناکا کا کہنا ہے کہ جنوری تک دوسری ویکسین کو 8 ماہ ہو جائیں گے اور انہیں توقع ہے کہ مقامی حکومتیں، ویکسین کا تیسرا ٹیکہ لگانے کے لیے جلد اقدامات اٹھائیں گی۔

یہ معلومات 10 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 342: جاپان اور دیگر ممالک ویکسین کے تیسرے ٹیکے کو کس طور پر لے رہے ہیں؟ 6 ، جاپان میں کس ترتیب میں اور کون تیسرا ٹیکہ لگوانے کا مجاز ہوگا؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے بُوسٹر شاٹس یعنی اضافی ٹیکوں سے متعلق سلسلے کی چھٹی قسط میں جاپان کی صورتحال کا جائزہ لیں گےکہ کس ترتیب سے اور کون یہ اضافی ٹیکہ لگوانے کا مجاز ہوگا؟

جاپان کی وزارت صحت اُن لوگوں کو کورونا وائرس ویکسینوں کا تیسرا ٹیکہ لگانے کی پیشکش کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جنہیں دو ٹیکے لگ چکے ہیں اور جو تیسرا ٹیکہ لگوانے کی درخواست کریں۔

جاپان میں اس سال فروری میں ویکسینیشن کے پہلے مرحلے میں صحت دیکھ بھال کرنے والے کارکنان کو ویکسین لگائی گئی تھی۔ اس کے بعد اپریل سے معمر افراد کو اور پھر دیرینہ بیماریوں میں مبتلا افراد کو ویکسین لگائی گئی۔

وزارت صحت تیسرے ٹیکے کیلئے ترجیحات کا تعین کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ لیکن وہ لوگوں کو اُن کا دوسرا ٹیکہ لگنے کے تقریباً آٹھ ماہ بعد بُوسٹر ویکسین یعنی اضافی ٹیکہ لگانے کی پیشکش کرے گی۔

اس کے معنی یہ ہوئے کہ صحت دیکھ بھال کرنے والے کارکن دسمبر سے اور معمر شہری اگلے سال جنوری سے تیسرا ٹیکہ لگوانے کے مجاز ہوں گے۔

اس کے بعد وہ لوگ ٹیکہ لگوانے کے مجاز ہوں گے جن کا تعلق مذکورہ دونوں زمروں سے نہیں ہے۔

وزارت صحت مقامی حکومتوں پر زور دے رہی ہے کہ اضافی ٹیکے لگانے کیلئے تیاریاں کریں۔ ان میں لوگوں کی تخصیص قبول کرنا، مراکز کا حصول یقینی بنانا اور اُن لوگوں کو کوپنز بھیجنے کے طریقوں پر بات چیت شامل ہے جنہیں ویکسین کا دوسرا ٹیکہ لگے جلد ہی آٹھ ماہ ہو جائیں گے۔

یہ معلومات 9 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 341: جاپان اور دیگر ممالک ویکسین کے تیسرے ٹیکے کو کس طور پر لے رہے ہیں؟ 5 ، ویکسین پہلے کسے لگائی جانی چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسین کے بُوسٹر شاٹس یعنی اضافی ٹیکوں سے متعلق سلسلے کی پانچویں قسط میں ایک ماہر کی رائے پیش کر رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ دیرینہ بیماریوں میں مبتلا یا دیگر خطرات والے عوامل کے شکار لوگوں کو ویکسین کا تیسرا ٹیکہ پہلے لگایا جانا چاہیے۔

توہو یونیورسٹی کے پروفیسر تاتیدا کازُوہیرو حکومت کے کورونا وائرس پینل کے رکن ہیں۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ جو افراد وائرس کی سنگین علامات پیدا ہونے کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوں انہیں ویکسین کی اضافی خوراک کے لیے ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق، مزید جائزوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ نوجوانوں سمیت کم خطرات کے حامل گروپوں کو ویکسین کا اضافی ٹیکہ لگایا جائے یا نہیں۔

پروفیسر تاتیدا نے بتایا کہ اطلاعات ہیں کہ ویکسین لگنے کے باوجود، کچھ وقت گزرنے کے بعد لوگ وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ ویکسینیشن ایسے لوگوں کو شدید بیماری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی موت سے محفوظ رکھتی ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ عمر رسیدہ افراد یا کمزور قوت مدافعت والے افراد، بریک تھرو یعنی ویکسین لگنے کے باوجود کچھ وقت گزرنے پر وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں شدید بیمار ہو سکتے ہیں اور بعض اوقات ان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

پروفیسر تاتیدا نے یہ بھی کہا کہ خطرات کے حامل گروپ میں شامل نہ ہونے کے باوجود طبی عملے کو ویکسین کی تیسری خوراک کی ضرورت ہو سکتی ہے تاکہ وائرس ان سے خطرات کے حامل مریضوں میں منتقل نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ جاپان کی ویکسینیشن کی حکمت عملی طے کرتے وقت، حکومت کو ترجیحات کا تعین کرنا چاہیے اور ویکسین لگانے کے عمل میں پیشرفت اور دنیا بھر میں اس سلسلے میں لیے جانے والے جائزوں کی پیشرفت پر نظر رکھنی چاہیے۔

یہ معلومات 8 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 340: جاپان اور دیگر ممالک تیسرے ٹیکے کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں؟ 4 ، کونسی ویکسین استعمال کی جانی چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس ویکسین کے بُوسٹر شاٹس یعنی اضافی ٹیکوں سے متعلق ہمارے سلسلے کی چوتھی قسط میں ہم جائزہ لیں گے کہ آیا لوگوں کو اضافی ٹیکہ پہلے لگوائی گئی ویکسین کا ہی یا پھر اس سے مختلف ویکسین کا لگوانا چاہیے۔

ابھی تک یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا ہے کہ آیا لوگوں کو پہلے لگوائی گئی ویکسین کا ہی اضافی ٹیکہ لگوانا چاہیے یا یہ کہ پہلے لگوائی گئی ویکسین کے علاوہ کسی دوسری ویکسین کا اضافی ٹیکہ بھی لگوایا جا سکتا ہے۔ ویکسین کے دونوں ٹیکے لگوانے والے افراد میں اضافی ٹیکہ لگوانے کی صورت میں قوت مدافعت کو سب سے زیادہ بڑھانے والی ویکسین کا معلوم کرنے کے لیے امریکہ اور برطانیہ میں انسانوں پر تجربات میں مختلف ویکسینوں کے جوڑ آزمائے جا رہے ہیں۔

امریکی قومی ادارہ برائے صحت، این آئی ایچ، نے فائزر بیون ٹیک، موڈرنا یا جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین سے ویکسینیشن مکمل کرنے والے 458 بالغ افراد پر تجربات کے وسط مدتی نتائج اکتوبر کے اوائل میں جاری کیے تھے۔ محققین نے انہیں پہلے لگائی گئی ویکسین کا ہی اضافی ٹیکہ یا پھر کسی دوسری ویکسین کا اضافی ٹیکہ لگایا اور ان کے جسم میں اینٹی باڈیز کی سطحوں میں آنے والی تبدیلی کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ویکسین کی پہلی خوراک سے قطع نظر، فائزر یا موڈرنا کا اضافی تیسرا ٹیکہ لگوانے والے افراد میں وائرس کا اثر زائل کرنے والی اینٹی باڈیز کی سطح 2 ہفتوں کے اندر 10 تا 30 گنا بڑھ گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ پہلے لگوائی گئی ویکسین کی قِسم سے قطع نظر فائزر یا موڈرنا کے بوسٹر شاٹ یعنی تیسرے ٹیکے سے قوت مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔

این آئی ایچ کے مطابق اگرچہ یہ تجربہ افراد کے ایک چھوٹے گروپ پر کیا گیا، لیکن اضافی ٹیکے سے سلامتی کو کوئی خدشہ لاحق نہیں ہوا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وائرس کی متغیر قسم ڈیلٹا کا اثر زائل کرنے والی اینٹی باڈیز کی سطح کا بھی اعلان کیا جائے گا۔

یہ معلومات 5 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 339: جاپان اور دیگر ممالک ویکسین کے تیسرے ٹیکے کو کس طور پر لے رہے ہیں؟ 3 ، کیا وقت کے ساتھ اینٹی باڈیز کم ہو جانے کے باوجود بھی بُوسٹر شاٹ مؤثر رہتا ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج بُوسٹر شاٹ یعنی ویکسین کے اضافی ٹیکے سے متعلق سلسلے کی تیسری قسط میں اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا وقت گزرنے کے باوجود، بُوسٹر شاٹ کے بغیر بھی ویکسینیں مؤثر رہتی ہے۔

بعض رپورٹس کے مطابق، ویکسین کے دوسرے ٹیکے کے بعد وقت کے ساتھ اینٹی باڈیز کی سطح میں کمی آنے کے باعث، ویکسینوں کے حفاظتی اثرات کمزور پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ تاہم، بعض دیگر تحقیق کے مطابق اینٹی باڈیز کی سطح میں کمی کے باوجود بھی ویکسینیں اتنی مؤثر رہتی ہیں کہ وائرس سے متاثر ہونے والے شخص کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت پڑنے یا شدید بیمار ہونے سے بچا سکیں۔

امریکی یونیورسٹیوں کے محققین کے ایک گروپ نے ویکسین کے مؤثر ہونے کے بارے میں اپنی تحقیق کے نتائج امریکہ کے بیماریوں پر کنٹرول اور روک تھام کے ادارے ’سی ڈی سی‘ کی ہفتہ وار رپورٹ میں ستمبر میں جاری کیے تھے۔ یہ تحقیق امریکہ کی 18 ریاستوں کے 21 ہسپتالوں میں کی گئی تھی۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ فائزر بیون ٹیک ویکسین، دوسرے ٹیکے کے بعد 2 ہفتوں سے لے کر 120 روز تک 91 فیصد مؤثر تھی اور 121 ویں روز کے بعد یہ 77 فیصد مؤثر تھی۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ موڈرنا ویکسین کا دوسرا ٹیکہ لگوانے کے بعد یہ 2 ہفتوں سے 120 روز کے اندر 93 فیصد، جبکہ 121 روز کے بعد 92 فیصد مؤثر تھی۔

جاپان اور دیگر ممالک میں بھی ’بریک تھرُو‘ کہلانے والے انفیکشنز یعنی ویکسین لگنے کے بعد بھی لوگوں کے وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، جس میں اشخاص مکمل طور پر ویکسین لگوانے کے دو ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے بعد وائرس کا شکار ہوتے ہیں۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق ایسے افراد کے شدید بیمار پڑنے کی شرح کم ہے۔

جاپان کے قومی مرکز برائے عالمی صحت و ادویات نے کووِڈ-19 سے متاثر ہو جانے پر ملک بھر کے 600 سے زائد طبی اداروں میں داخل ہونے والے 3 ہزار 400 سے زائد افراد کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ اس تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ اُن لوگوں کے مقابلے میں معمر افراد سمیت ویکسین لگوا چکے مریضوں کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخلے کی ضرورت والے ایسے افراد کی شرح صرف آٹھواں حصہ تھی جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی تھی۔ مذکورہ جائزے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مکمل ویکسین لگوا چکے عمر رسیدہ افراد میں مرنے کی شرح اُن افراد کے مقابلے میں صرف ایک تہائی تھی جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی تھی۔ ان نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ویکسینیں شدید بیمار ہونے کا خطرہ کم کرنے میں مؤثر ہیں۔

یہ معلومات 4 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 338: جاپان اور دیگر ممالک ویکسین کے تیسرے ٹیکے کو کس طور پر لے رہے ہیں؟ 2 ،بے اثر ہوتی انٹی باڈیز کی سطحوں کو پھر سے زندگی ملنا

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس ویکسین کے بُوسٹر شاٹس یعنی اس ویکسین کے اضافی ٹیکوں سے متعلق ہمارے سلسلے کی دوسری قسط میں ویکسین تیار کرنے والے اداروں کی جانب سے رپورٹ کردہ بے اثر ہوتی انٹی باڈیز کی سطحوں کا جائزہ لیں گے۔

اس پس منظر میں کہ ممالک کورونا ویکسین کے اضافی ٹیکے لگانے میں پیشرفت کر رہے ہیں یا لگانے پرغور کر رہے ہیں، یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ ویکسین مکمل طور پر لگوا چکے افراد میں وائرس کے خلاف لوگوں کے تحفظ میں مدد دینے والی بے اثر ہوتی انٹی باڈیز کی سطحوں میں کمی کے باعث کورونا وائرس ویکسین کا اثر غالباً وقت کے ساتھ ساتھ کم ہو جاتا ہے۔

فائزر، موڈرنا اور آسٹرازینیکا کا کہنا ہے کہ بُوسٹر شاٹ یعنی اضافی ٹیکہ لگانا بے اثر ہوتی انٹی باڈیز کی سطحوں میں اضافہ کر کے ویکسین کا اثر بڑھا دیتا ہے۔

فائزر کا کہنا ہے کہ وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا کے خلاف ویکسین کا تیسرا یا اضافی ٹیکہ لگوا چکے افراد کے مقابلے میں دو ٹیکے لگوا چکے افراد میں بے اثر ہوتی انٹی باڈیز کی سطحوں کے موازنے کے ایک تجربے میں اُس نے دریافت کیا کہ بُوسٹر شاٹ یعنی اضافی ٹیکہ لگوا چکے 55 سال یا اس سے کم عمر افراد میں انٹی باڈیز کی سطحیں پانچ گُنا سے زیادہ بڑھ گئیں اور 65 سال سے 85 سال کی عمر کے افراد میں 11 گُنا سے زائد بڑھیں۔ یہ تجربہ مذکورہ عمر کے دونوں گروپوں کو ٹیکہ لگنے کے ایک ماہ بعد کیا گیا۔

موڈرنا نے یہ بھی بتایا ہے کہ متغیر قِسم ڈیلٹا کے خلاف ٹیکےلگوانے کے دو ہفتے بعد بُوسٹر لگوانے والے افراد میں انٹی باڈیز کی سطحیں اُن افراد کے مقابلے میں تقریباً 42 گُنا تک بڑھ گئیں جنہوں نے مکمل طور پر ویکسین لگوانے کے 6 سے 8 ماہ بعد اضافی ٹیکہ لگوایا تھا۔

آسٹرازینیکا نے بھی بے اثر ہوتی انٹی باڈیز کی سطحیں، اضافی ٹیکہ لگنے کے بعد بڑھنے کی رپورٹ دی ہے۔

یہ معلومات 2 نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 337: جاپان اور دیگر ممالک ویکسین کے تیسرے ٹیکے کو کس طور پر لے رہے ہیں؟ 1 ، کیا بُوسٹر شاٹ یعنی ویکسین کا تیسرا ٹیکہ ہر ایک کے لیے ضروری ہونا چاہیے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ امریکہ اور دیگر وہ ممالک جہاں ویکسین لگانے کا جلد آغاز کر دیا گیا تھا، لوگوں کو ویکسین کا بُوسٹر شاٹ یعنی تیسرا ٹیکہ لگانا شروع کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ویکسین کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ کمزور پڑ جاتے ہیں۔ آج ہم ویکسین کے بُوسٹر شاٹ سے متعلق نئی سلسلے کی پہلی قسط پیش کر رہے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مشیروں نے 11 اکتوبر کو مشورہ دیا کہ کمزور قوّتِ مدافعت والے افراد کو فائزر بیون ٹیک، موڈرنا یا آسٹرازینیکا جیسی کورونا ویکسین کا بُوسٹر شاٹ لگوانا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قوّتِ مدافعت درمیانی حد تک یا انتہائی کمزور پڑ جانے والے افراد ویکسین کے دو ٹیکے لگوانے کے بعد بھی وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں شدید بیمار پڑنے کے خطرے سے دوچار ہیں، کیونکہ گزشتہ 2 ٹیکوں سے حاصل ہونے والا تحفظ ناکافی ہے۔

امریکی حکومت نے اُن افراد کو بھی ویکسین کا دوسرا ٹیکہ لگنے کے ایک مخصوص عرصے بعد اضافی ٹیکہ لگانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جو ویکسین مکمل طور پر لگوا چکے ہیں۔ حکومت کے مطابق، غالب امکان یہ ہے کہ کورونا وائرس ویکسین کا اثر وقت کے ساتھ ساتھ کم ہو جاتا ہے۔

ستمبر میں امریکہ کے خوراک و ادویات کے منتظم ادارے، ایف ڈی اے نے فائزر بیون ٹیک کورونا ویکسین کے بُوسٹر شاٹ کے ہنگامی استعمال کا اجازت نامہ جاری کیا تھا۔ وہ لوگ بوسٹر شاٹ یا تیسرا ٹیکہ لگوانے کے مجاز ہیں جن کی عمر لازماً 65 سال یا اس سے زیادہ ہو، اور 18 سال یا اس سے زائد عمر کے وہ لوگ جنہیں شدید بیمار پڑنے کا خطرہ لاحق ہو۔ اس کے علاوہ طبی کارکنان اور وائرس سے متاثر ہونے کے خطرے کے امکان کا سامنا کرنے والے دیگر افراد بھی تیسرا ٹیکہ لگوا سکتے ہیں۔

ایف ڈی اے کے مطابق، بُوسٹر شاٹ یا تیسرا ٹیکہ، دوسرے ٹیکے کے کم از کم 6 ماہ بعد لگایا جائے گا۔ کورونا وائرس کے بوسٹر شاٹ لگانے کا آغاز ہو چکا ہے۔

14 اکتوبر کو ایف ڈی اے کے مشاورتی پینل نے موڈرنا ویکسین کے بارے میں بھی ایسی ہی سفارش جاری کی۔ اس میں تجویز کیا گیا ہے کہ 65 سال یا اس زیادہ عمر کے افراد اور 18 سال یا اس سے زائد عمر کے ایسے افراد کو تیسرا ٹیکہ لگایا جائے جنہیں شدید بیماری کا بڑا خطرہ درپیش ہو۔

یہ معلومات یکم نومبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 336: کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات 4 ، ویکسینیشن کے ذریعے بچاؤ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ’لانگ کووِڈ‘ بھی کہلانے والے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے طویل مدتی اثرات سے متعلق ایک حالیہ جاپانی سروے کے نتائج پر مشتمل سلسلے کی چوتھی اور آخری قسط پیش کر رہے ہیں۔

قومی مرکز برائے عالمی صحت و ادویات اور دیگر اداروں نے فروری 2020 کے بعد کووِڈ-19 کے مرض سے صحتیاب ہونے والوں کا ایک سروے کیا۔ ان اداروں نے مذکورہ سروے کے سوالات کے 457 لوگوں کی طرف سے دیے گئے جوابات کا تجزیہ کیا جن کی عمریں 20 سال کی دہائی سے لے کر 70 سال کی دہائی کے درمیان تھیں۔

قومی مرکز کے اس سروے میں حصہ لینے والے محققین میں شامل جناب موری اوکا شِن اِچیرو نے کہا کہ خواتین میں تاخیر سے ظاہر ہونے والے ضمنی اثرات سامنے آنے کا زیادہ امکان سمجھا جا رہا تھا اور سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ خواتین میں بالوں کا گرنا یا ذائقے اور سونگھنے کی حِس میں مسائل کے علاوہ تھکن کی علامات ظاہر ہونے کا امکان واقعی زیادہ ہے۔ بیماری کی فوری علامات ظاہر ہونے کی صورت میں صحت مندانہ مقدار سے زیادہ وزن ہونے کا رجحان رکھنے والے معمر مردوں کا وائرس کے باعث شدید بیمار پڑنے کا خطرہ زیادہ ہے۔ موری اوکا کا کہنا تھا کہ زیادہ خواتین میں ذائقے اور سُونگھنے کی حِس متاثر ہونے جیسے تاخیر سے ظاہر ہونے والے ضمنی اثرات کی وجوہات واضح نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان اور دُبلی پتلی خواتین کو بھی تاخیر سے ظاہر ہونے والے ضمنی اثرات کے امکان کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ درحقیقت، انہیں سروے کے نتائج پر زیادہ سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے جن کے مطابق ایسے افراد میں ذائقے یا سُونگھنے کی حِس کے متاثر ہونے کا زیادہ امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ جناب موری اوکا کہتے ہیں کہ نوجوانوں میں ذائقے یا سُونگھنے کی حِس متاثر ہونے کی علامات زیادہ ظاہر ہوتی ہیں۔ لہٰذا، کووِڈ-19 کی ہلکی علامات والے افراد اور نوجوانوں، دونوں میں تاخیر سے ظاہر ہونے والے ضمنی اثرات پیدا ہونے کا بڑا خطرہ ہے۔

اس کے علاوہ، اطلاعات کے مطابق، ویکسین کا ٹیکہ نہ لگوانے والے افراد کے مقابلے میں ویکسین کا ٹیکہ دو مرتبہ لگوانے والے افراد کا 28 روز سے زیادہ دیر تک علامات سے متاثر ہونے کا امکان کم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد ظاہر ہونے والے اثرات کی روکتھام میں مدد ملنے کا زیادہ امکان ہے، یعنی نوجوانوں کے لیے دو مرتبہ ویکسین لگوانا بہت ضروری ہے۔ تاہم، کورونا وائرس سے متاثر ہونے اور تاخیر سے ظاہر ہونے والے ضمنی اثرات کے خطرات کے پیش نظر ویکسین کے دونوں ٹیکے لگوانے کے بعد بھی بنیادی احتیاطی تدابیر جاری رکھنا اہمیت رکھتا ہے۔

یہ معلومات 29 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 335: کووِڈ-19 کے طویل مدتی اثرات
3۔ وائرس کی روک تھام کی ادویات کے اثرات اور اصناف کے درمیان فرق

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ’لانگ کووِڈ‘ بھی کہلانے والے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے طویل مدتی اثرات سے متعلق ایک جاپانی سروے کے نتائج پر مشتمل سلسلے کی تیسری قسط پیش کر رہے ہیں۔ آج ہم استعمال کی جانے والی ادویات کے اثرات اور اصناف کے درمیان فرق پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

قومی مرکز برائے عالمی صحت و ادویات اور دیگر اداروں نے فروری 2020 کے بعد کووِڈ-19 کے مرض سے صحتیاب ہونے والوں کا ایک جائزہ لیا۔ جائزہ لینے والے گروپ نے 20 سے 79 سال کی عمر کے 457 افراد کے جوابات کا تجزیہ کیا۔

محققین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کووِڈ-19 کے مریضوں نے بیماری کی علامات کے دوران علاج کیلئے وائرس کی روک تھام کی دوائیں یا جو نامیاتی مرکبات وغیرہ لیے، آیا وہ ’لانگ کووِڈ‘ پر اثر انداز ہوئے۔ لیکن محققین اس بارے میں کوئی واضح تعلق معلوم نہیں کر سکے۔ وہ لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ ویکسین لگوانے اور وائرس سے متاثر ہونے کی روک تھام کے دیگر اقدامات اختیار کریں، کیونکہ آپ کے پہلے مرحلے میں وائرس کا شکار نہ ہونے کی صورت میں کسی قسم کے طویل مدتی اثرات کا خدشہ نہیں ہوگا۔

طویل مدتی اثرات کے مردوں اور خواتین پر اثرات کے ’لانگ کووِڈ‘ کیلئے فرق سے متعلق جائزے کے نتائج یہ رہے۔

نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں میں سُونگھنے کی حِس متاثر ہونے کے امکانات مردوں کے مقابلے میں 1.9 گُنا، جبکہ ذائقے کی حِس متاثر ہونے کے امکانات 1.6 گُنا زیادہ ہیں۔ اسی طرح عورتوں میں جلد تھکاوٹ کے امکانات مردوں کے مقابلے میں دو گُنا، جبکہ بال گرنے کے امکانات تین گُنا زیادہ ہیں۔

سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی فرد، خواہ مرد ہو یا عورت، جتنا جوان اور دُبلا ہوگا اتنا ہی اس میں سُونگھنے یا ذائقہ محسوس کرنے کی حِس متاثر ہونے اور اس پر طویل مدتی اثرات ہونے کے امکانات زیادہ ہوں گے، چاہے اس میں کووِڈ-19 کی علامات صرف معمولی ہی ظاہر ہوئی ہوں۔

یہ معلومات 28 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 334: کووِڈ 19 کے طویل مدتی اثرات 2 ، سانس پھُولنا، بال گرنا، بھلکڑپن

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ’لانگ کووِڈ‘ بھی کہلانے والے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے طویل مدتی اثرات سے متعلق جاپان کے ایک سروے کے نتائج پر مشتمل سلسلے کی دوسری قسط پیش کر رہے ہیں۔

قومی مرکز برائے عالمی صحت و ادویات اور دیگر اداروں نے فروری 2020 کے بعد کووِڈ-19 کے مرض سے صحتیاب ہونے والوں کا ایک سروے کیا۔ یہ جائزہ لینے والے گروپ نے 20 سے 79 سال کی عمر کے 457 افراد کے جوابات کا تجزیہ کیا ہے۔

علامات کے لحاظ سے تجزیے کے نتائج درج ذیل رہے۔

4۔ سانس پھُولنا۔
جواب دینے والوں کی تقریباً 20 فیصد تعداد میں مرض کی علامات ظاہر ہونے کے تقریباً ایک ماہ بعد ہی یہ مسئلہ پیدا ہو گیا۔ تقریباً 5 فیصد افراد کو متاثر ہونے کے بعد کوئی 100 روز اس مسئلے کا سامنا رہا۔ 3.9 فیصد کو 6 ماہ تک اس کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 1.5 فیصد افراد ایک سال گزر جانے کے باوجود بھی اس سے متاثر تھے۔

5۔ بالوں کا گرنا۔
وائرس سے متاثر ہونے کے آغاز پر کچھ افراد کو بال گرنے کا مسئلہ بھی پیش آیا۔ تقریباً 10 فیصد افراد نے کچھ ماہ بعد اس مسئلے کی شکایت کی۔ تقریباً 8 فیصد کو 100 روز کے بعد، 3.1 فیصد کو 6 ماہ بعد اور 0.4 فیصد افراد کو ایک سال بعد یہ مسئلہ درپیش تھا۔

6۔ یادداشت کی کمزوری اور دیگر مسائل۔
بھلکڑپن یا یادداشت میں بگاڑ سے متعلق 11.4 فیصد افراد نے 6 ماہ بعد، جبکہ 5.5 فیصد افراد نے ایک سال بعد مسئلہ محسوس کیا۔ توجہ مرکوز کرنے میں کمزوری کا مسئلہ 9.8 فیصد کو 6 ماہ بعد، جبکہ 4.8 فیصد کو ایک سال بعد پیش آیا۔

بعض لوگوں کو ڈپریشن یا ذہنی تناؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ 8.1 فیصد افراد میں 6 ماہ بعد جبکہ 3.3 فیصد لوگوں میں ایک سال بعد یہ مسئلہ سامنے آیا۔

یہ معلومات 27 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 333: کورونا وائرس کے طویل مدّتی اثرات 1 ، سُونگھنے اور ذائقے کی حِس، تھکاوٹ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ایک نئے معلوماتی سلسلے میں ہم طویل کووِڈ کے طور پر بھی معروف کورونا وائرس کے طویل مدّتی اثرات سے متعلق ایک جاپانی سروے کے نتائج کا جائزہ لیں گے۔

نیشنل سینٹر فار گلوبل ہیلتھ اینڈ میڈیسن اور دیگر نے فروری 2020ء کے بعد کووِڈ-19 سے صحت یاب ہونے والے لوگوں کا سروے کیا ہے۔ اس گروپ نے 20 سے 70 کے پیٹے کے 457 لوگوں کے جوابات کا تجزیہ کیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ اُن میں سے 26.3 فیصد کو وائرس سے متاثر ہونے کے آغاز یا تشخیص کے چھ ماہ بعد کسی نہ کسی طرح کی علامت تھی جبکہ 8.8 فیصد نے 12 ماہ بعد بھی کسی نہ کسی طرح کی علامت کے بارے میں بتایا۔

آئیے علامت کے لحاظ سے ڈیٹا کا جائزہ لیتے ہیں۔

1۔ سُونگھنے کی حِس سے متعلق مسائل۔
جواب دینے والوں کی 10 فیصد سے کچھ زیادہ تعداد کو وائرس سے متاثر ہونے کے آغاز یا تشخیص سے تقریباً 100 روز بعد مسائل تھے، 7.7 فیصد کو چھ ماہ بعد مسائل تھے، 5 فیصد سے زیادہ کو 200 روز کے بعد مسائل تھے اور 1.1 فیصد ایک سال کے بعد بھی مسائل سے متاثر تھے۔

2۔ ذائقے کی حِس سے متعلق مسائل۔
تقریباً 5 فیصد افراد نے 100 روز کے بعد مسائل سے متعلق رپورٹ کی، 3.5 فیصد نے چھ ماہ بعد اور 0.4 فیصد نے ایک سال بعد بھی مسائل درپیش ہونے کی رپورٹ دی۔

3۔ تھکاوٹ۔
جواب دینے والوں کی تقریباً 50 فیصد تعداد نے کہا کہ انہیں متاثر ہونے کے فوری بعد تھکاوٹ ہوئی تھی جبکہ 10 فیصد کو 100 روز کے بعد بھی مسائل تھے، 6.6 فیصد کو چھ ماہ بعد اور 3.1 فیصد کو ایک سال کے بعد بھی مسائل تھے۔

یہ معلومات 26 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 332: کیا بچوں کو ویکسین لگائی جانی چاہیے؟ 6 ، فوائد اور خطرات کا جائزہ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان ایلیمنٹری اسکول تک کے بچوں کو ویکسین لگانے پر غور کرنا شروع کر سکتی ہے۔ بچوں کی ویکسینیشن سے متعلق ہمارے اس سلسلے کی چھٹی اور آخری قسط میں ہم ویکسینیشن کے فوائد اور خطرات کا جائزہ لیں گے۔

امریکی ادویات ساز کمپنی فائزر اور اس کی جرمن شراکتدار بیون ٹیک نے 5 سے 11 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے اپنی ویکسین کے محفوظ اور مؤثر ہونے کی تصدیق کی ہے اور امریکہ کے خوراک و ادویات پر کنٹرول کے ادارے، ایف ڈی اے کو اس کے ہنگامی استعمال کی اجازت کیلئے درخواست دے دی ہے۔ ان اقدامات کے بعد اب جاپان بھی اس عمر کے بچوں کو اپنے ویکسین منصوبے میں شامل کرنے کا جائزہ لے سکتا ہے۔

کِتاساتو یونیورسٹی کے پروفیسر ناکایاما تیتسُواو کہتے ہیں کہ ویکسین لگانے سے متعلق مستقبل میں ہونے والی بحث کے دوران امریکہ اور جاپان کے رجحانات کے فرق کو مدِ نظر رکھا جانا چاہیے۔

پروفیسر ناکایاما کا کہنا تھا کہ امریکی حکام اس وجہ سے ایلیمنٹری اسکولوں کے بچوں کو ویکسین لگانے پر غور کر سکتے ہیں، کیونکہ وہاں مجموعی آبادی میں ویکسینیشن کی شرح میں سُست رفتار اضافے کے باعث اسکولوں میں بچوں کے وائرس سے بڑے پیمانے پر متاثر ہونے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ جاپان میں 20 اور 30 کے پیٹے کے افراد اور ایلیمنٹری اسکولوں کے بچوں کے والدین میں ویکسین لگوانے کی شرح بڑھ سکتی ہے، چنانچہ حکام مزید کچھ عرصہ حالات پر نظر رکھتے ہوئے انتظار کر سکتے ہیں۔

وائرس انفیکشنز کا سلسلہ جاری ہے، اس لیے ویکسین لوگوں کو بچانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہوگی۔ چنانچہ بچوں کو انفیکشن سے محفوظ رکھنے کے ایک طریقے کے طور پر انہیں بھی ویکسین لگائے جانے والے افراد میں شامل کرنے کے خیال میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ تاہم، متعلقہ حکام کو اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے قبل اس کے مؤثر ہونے وغیرہ جیسے فوائد اور ممکنہ ضمنی اثرات کے خطرات میں توازن کو مدِ نظر رکھنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی دیکھنی ہوگی کہ آیا والدین اور بچے ویکسین کے ٹیکے لگوانا چاہتے ہیں یا نہیں۔

یہ معلومات 25 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 331: کیا بچوں کو کورونا ویکسین لگائی جانی چاہیے؟ 5 ۔ ویکسینوں کے ضمنی اثرات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان ویکسینیشن کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ایلیمنٹری اسکول کے بچوں کو بھی ویکسین کے ٹیکے لگانے پر غور کر سکتی ہے۔ بچوں اور ویکسینیشن کے بارے میں ہمارے اس سلسلے کی پانچویں قسط میں ہم ویکسینوں کے ضمنی اثرات پر نظر دوڑائیں گے۔

امریکی ادویات ساز کمپنی فائزر نے 5 تا 11 سال کی عمر کے بچوں پر ویکسین کی آزمائش کے بارے میں 20 ستمبر کو جاری اخباری بیان میں صرف اتنا کہا ہے کہ ان بچوں میں سامنے آنے والے ضمنی اثرات، معمول کی مقدار میں ویکسین کے ٹیکے لگوانے والے 16 تا 25 سال عمر والوں کے اثرات سے ملتے جلتے تھے۔

کِیتاساتو یونیورسٹی میں پروفیسر اور ماہر امراضِ اطفال ڈاکٹر ناکایاما تیتسُواو نے یقین ظاہر کیا ہے کہ ویکسینیں بچوں کے لیے خطرناک نہیں ہیں، لیکن اِن کے بعض ضمنی اثرات ہوتے ہیں۔ انہوں نے ضمنی اثرات میں بخار ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ بعض بچوں میں بخار کے ساتھ تشنج کی علامات ظاہر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ناکایاما نے زور دیا ہے کہ بچوں کو ویکسین کا ٹیکہ لگوانے سے قبل والدین کو اس کی مکمل آگہی ہونی چاہیے۔ اس لیے انہوں نے یہ بھی کہا کہ بچوں کی جسمانی حالت کا پورا علم رکھنے والے خاندانی معالج سے ہی بچوں کو ویکسین کے ٹیکے لگوانے چاہیئں۔

فُوکُواوکا نرسنگ کالج کے پروفیسر اور جاپانی سوسائٹی برائے ویکسینولوجی کے صدر اوکادا کینجی نے کہا ہے کہ دیرینہ بیماریوں میں مبتلا بچوں اور ویکسین لگوانے کے خواہشمند داخلے کے امتحان کی تیاری کرنے والے طلبا کو ویکسین لگائی جانی چاہیے۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ 12 سال سے کم عمر بچوں کو ویکسین کے ٹیکے لگانا اولین ترجیح نہیں ہو گی۔

پروفیسر اوکادا کہتے ہیں کہ بچوں میں سنگین ضمنی اثرات ظاہر ہونے کی صورت میں انہیں مستقبل میں مشکلات پیش آئیں گی۔انہوں نے کہا ہے کہ وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں بیماری کی شدت، ویکسین کے مؤثر ہونے اور اس کے استعمال کے محفوظ ہونے کے بارے میں غور و فکر کرتے ہوئے ہی صحت مند بچوں کو ویکسین کا ٹیکہ لگوانے یا نہ لگوانے کا فیصلہ کیا جانا ضروری ہے۔

یہ معلومات 22 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 330: کیا بچوں کو ویکسین لگائی جانی چاہیے؟ 4 ، بچوں کو ویکسین لگانے کے فوائد

این ایچ کے کے نمائندے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔ حکومت جاپان ایلیمنٹری اسکول تک کے بچوں کو ویکسین لگانے پر غور کرنا شروع کر سکتی ہے۔ بچوں کی ویکسینیشن سے متعلق ہمارے اس سلسلے کی چوتھی قسط میں ہم ویکسین لگوانے والے بچوں کو حاصل ہونے والے فوائد کا جائزہ لیں گے۔

کورونا وائرس ویکسین کے کسی حد تک پڑنے والے ضمنی اثرات کے تناظر میں دیکھا جائے تو بچوں کو ویکسین لگانے کے فوائد بالغ افراد کے مقابلے میں کم نظر آتے ہیں، کیونکہ نوجوان اور بچے وائرس سے متاثر ہونے کے باوجود بھی شاذ و نادر ہی شدید بیمار ہوتے ہیں۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ اس کے فوائد کیا ہیں؟
اس کے جوابات کچھ یوں ہیں۔

• وائرس سے متاثر ہونے اور شدید بیمار ہونے کی روک تھام۔
اس وقت استعمال ہونے والی کووِڈ-19 ویکسینیں، وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا سے متاثر ہونے اور اس سے شدید بیمار ہونے کی روک تھام میں کارآمد ہونے کو ظاہر کرتی ہیں۔

• اسکولوں یا نجی ٹیوشن مراکز میں وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام۔
کورونا وائرس کی پانچویں لہر کے دوران کئی مقامات پر اسکولوں یا ٹیوشن مراکز وغیرہ میں پڑھنے والے بچوں میں وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے واقعات ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ویکسینیشن ایسے بڑے پیمانے پر ہونے والے انفیکشنز کی روکتھام میں مؤثر ہے۔

• گھروں میں وائرس سے متاثر ہونے کے خطرے کی روک تھام۔
بچوں کو ویکسین لگانے سے ایسے گھرانوں میں وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام ہو سکتی ہے، جن میں ویکسین نہیں لگوائی گئی یا مختلف طبی وجوہات وغیرہ کے باعث ویکسین نہیں لگوائی جا سکتی۔

یہ معلومات 21 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 329: کیا بچوں کو ویکسین لگائی جانی چاہیے؟ ، 3بچوں میں چند تشویشناک کیسوں کی اطلاع

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومت جاپان ایلیمنٹری اسکول تک کے بچوں کو ویکسین لگانے پر غور کرنا شروع کر سکتی ہے۔ بچوں کی ویکسینیشن سے متعلق ہمارے سلسلے کی تیسری قسط میں ہم شدید بیمار ہونے والے بچوں کی شرح کا جائزہ لیں گے۔

یہ بات پہلے ہی معلوم ہے کہ بچوں کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں بھی بیشتر بچے معمولی بیمار ہی ہوتے ہیں، اور بیماری کی شدید علامات والے بچوں کی تعداد بہت کم ہے۔ جاپان کی وزارت صحت کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 15 ستمبر 2021 تک جاپان میں تقریباً 16 لاکھ 25 ہزار افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاعات تھیں، جن میں سے 14 ہزار 229 افراد موت کا شکار ہو گئے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کورونا متاثرین میں شرحِ اموات تقریباً 0.9 فیصد تھی۔ کُل متاثرین میں سے تقریباً 84 ہزار، 10 سال سے کم عمر کے بچے تھے، جبکہ 10 سے 19 سال کی عمر کے بچوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 63 ہزار تھی۔ 11 سے 19 سال کی عمر کے مریضوں میں سے ایک کا انتقال ہو گیا۔

وزارت صحت کے ایک اور جائزے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال جون سے اگست کے درمیان کووِڈ 19 کی تشخیص ہونے والے 10 سال سے کم عمر بچوں میں سے شدید بیمار ہونے والوں کی شرح صرف 0.09 فیصد تھی، جبکہ 10سے 19 سال کے درمیان کا کوئی بچہ شدید بیمار نہیں ہوا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے سے کسی بیماری کا شکار بچے کورونا سے متاثر ہونے پر شدید علیل ہو سکتے ہیں۔ لیکن بچوں میں شدید بیمار ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔

وزارت صحت کے ماہرین کے پینل کا کہنا ہے کہ بچوں کو وائرس زیادہ تر گھروں پر بڑوں سے لگا ہے۔ بچوں سے بڑوں کو وائرس لگنے کے واقعات بہت کم ہیں۔ اس پینل کے مطابق، کورونا وائرس کی صورتحال انفلوئنزا سے مختلف ہے، جس میں بچوں کو اسکولوں میں وائرس لگنے کے بعد، ان سے گھر کے دیگر افراد کو لگ جاتا ہے۔

یہ معلومات 20 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 328: کیا بچوں کو ویکسین لگائی جانی چاہیے؟ 2 ، جاپان میں بات چیت کا آغاز

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ حکومتِ جاپان ایلیمنٹری اسکولوں کے بچوں کو بھی ویکسین کے ٹیکے لگانے پر غور کر رہی ہے۔ بچوں اور ویکسینیشن سے متعلق ہمارے سلسلے کی اس دوسری قسط میں ہم جاپان میں بچوں کی ویکسینیشن کا جائزہ لیں گے۔

جاپان کی وزارتِ صحت نے 28 مئی کو اعلان کیا کہ وہ 12 سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں کو بھی کورونا وائرس ویکسین کا ٹیکہ لگانے کی اجازت دے گی۔ قبل ازیں، امریکی ادویات ساز کمپنی فائزر اور اس کی جرمن شراکتدار بیون ٹیک نے مذکورہ عمر کے گروپ کو بھی اپنی کورونا وائرس ویکسین کے ٹیکے لگانے کی اجازت حاصل کرنے کیلئے درخواست دی تھی۔ 31 مئی کو 12 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کو جاپان کے باضابطہ ویکسین منصوبے میں شامل کر کے اس عمر کے بچوں میں کورونا وائرس ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز ہوا۔

فائزر اور بیون ٹیک کی جانب سے ان کی طبی آزمائش کے نتائج کے اعلان کے بعد جن سے 5 سال سے 11 سال کی عمر کے بچوں میں ویکسین کے محفوظ اور مؤثر ہونے کا معلوم ہوا، جاپان اس امر کا جائزہ لے سکتا ہے کہ آیا اس عمر کے گروپ کے بچوں کو قومی ویکسین منصوبے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

ایلیمنٹری اسکول میں بچوں کو جو ویکسینیں لگائی جا رہی ہیں ہمیں اس صورتحال کو کس طرح دیکھنا چاہیے؟ یہ سوال ہم نے ماہرِ امراضِ اطفال ناکایاما تیتسُواو سے پوچھا جو کِتاساتو یونیورسٹی میں پروفیسر بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اب تک بچوں کیلئے کوئی ویکسین دستیاب نہیں تھی، لہٰذا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو سنبھالنے کیلئے ایک راستہ مل جانے کی اہمیت ہے کیونکہ اسکولوں، اسکول کے بعد بچوں کی دیکھ بھال کے منصوبوں اور نجی ٹیوشن وغیرہ میں انفیکشنز پھیلنے کی اطلاعات آتی رہی ہیں۔

یہ معلومات 19 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 327: کیا بچوں کو ویکسین لگائی جانی چاہیے؟ 1 ، امریکہ کا 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو ویکسین لگانے پر غور

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ امریکہ میں پرائمری اسکول تک کے بچوں کو ویکسین لگانے پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ آج سے ہم ایک نیا سلسلہ پیش کر رہے ہیں جس میں بچوں کی ویکسینیشن سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ہم اس پہلی قسط میں ’’امریکہ میں بچوں کی ویکسینیشن‘‘ کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی دوا ساز کمپنی فائزر اور اس کی جرمن شراکتدار بیون ٹیک نے امریکہ اور دیگر ملکوں میں 5 سے 11 سال کی عمر کے 2 ہزار 268 بچوں پر کورونا ویکسین کی آزمائش کے نتائج کا اعلان 20 ستمبر کو کیا۔ ان بچوں کو بڑوں کے مقابلے میں ویکسین کی ایک تہائی مقدار دو بار لگائی گئی۔ ایک ماہ بعد جب ان بچوں میں وائرس سرگرمی کی حامل اینٹی باڈیز کو غیر مؤثر کرنے کی آزمائش کی گئی تو تحقیق کاروں نے ان میں جسمانی دفاعی نظام کے مضبوط ردعمل کی تصدیق کی۔ بچوں میں پائے گئے ضمنی اثرات اور قوت مدافعت کا ردعمل، ویکسین کی عام مقدار دیے گئے 16 سے 25 سال کے نوجوانوں کے مماثل ہی تھے۔ ان کمپنیوں نے 7 اکتوبر کو اعلان کیا کہ انہوں نے امریکہ کے خوراک و ادویات کنٹرول کے ادارے ’ایف ڈی اے‘ کو 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کے لیے اپنی ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری کیلئے باضابطہ درخواست دیدی ہے۔

فائزر ویکسین، ابتداء میں 16 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد ہی کو دی گئی تھی۔ مئی میں مذکورہ حد کو کم کر کے 12 سے 15 سال کے نوجوانوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا۔ ان کمپنیوں نے اعلان کیا کہ 31 مارچ کو کی گئی آزمائش میں اس عمر کے نوجوانوں کے لیے بھی ویکسین کے محفوظ اور مؤثر ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ 9 اپریل کو انہوں نے ایف ڈی اے کو درخواست دی کہ ویکسینیشن کو اس عمر کے افراد کے گروپ کیلئے بھی شامل کیا جائے اور 10 مئی کو انہیں اس کے ہنگامی استعمال کی منظوری مل گئی۔ 13 مئی سے 12 سال سے زائد عمر کے افراد کو ویکسین لگانے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا۔

یہ معلومات 18 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 326: کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں نمایاں کمی سے متعلق ماہرین کی آراء 5، واکِیتا تاکاجی، ڈائریکٹر جنرل قومی ادارہ برائے متعدی امراض

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں اگست کے اختتام سے نئے انفیکشنز کی یومیہ تعداد تیزی سے نیچے آ گئی ہے۔ آج ہم اس نمایاں کمی کی وجوہات کے بارے میں ماہرین کی آرا پر مبنی سلسلے کی پانچویں اور آخری قسط میں جاپان کے قومی ادارہ برائے متعدی امرض کے ڈائریکٹر جنرل واکِیتا تاکاجی کی رائے پیش کر رہے ہیں۔

جناب واکِیتا کورونا وائرس انفیکشن کے بارے میں وزارت صحت کے ماہرین کے پینل کے سربراہ بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ماہرین اگرچہ نئے متاثرین کی تعداد میں کمی کی وجہ تفریح کے لیے باہر جانے والوں کی تعداد میں کمی اور ویکسین کی فراہمی میں پیشرفت کو گردانتے ہیں، لیکن یہ عوامل متاثرین کی تعداد میں تیز رفتاری سے کمی کا تسلی بخش جواب نہیں دیتے۔

وہ کہتے ہیں کہ انفیکشنز کی حالیہ لہر کے دوران ویکسینیشن اور دیگر اسباب کے باعث متاثرہ نوجوانوں سے یہ وائرس معمر افراد کو منتقل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل میں وائرس تیزی سے پھیلنے اور تیزی سے کم ہونے کا رجحان ہمیشہ پایا جاتا رہا ہے۔ جناب واکِیتا امکان ظاہر کرتے ہیں کہ نوجوانوں میں پایا جانے والا یہ رجحان انفیکشنز کی حالیہ لہر میں بھی عمومی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس بارے میں مزید تحقیق اور تجزیہ درکار ہے کیونکہ نئے متاثرین کی تعداد میں کمی کا باعث بننے والے کئی عوامل میں سے ہر ایک کے انفرادی اثر کے بارے میں ابھی تک پتہ نہیں چلایا جا سکا ہے۔

کورونا وائرس کے مزید نئی شکل اختیار کرنے کے بارے میں سوال کا جواب انہوں نے نفی میں دیا۔ جناب واکِیتا کے مطابق انہوں نے کورونا وائرس کے لونیت کا تجزیہ کیا ہے، جس کے نتائج کے مطابق انفیکشن کی تعداد میں کمی آنے کے دورانیے کے مقابلے میں انفیکشنز کی تعداد تیزی سے بڑھنے کے دورانیے میں اس وائرس میں نہ ہونے کے برابر تبدیلی آئی ہے۔ وہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ پہلے کے مقابلے میں وائرس کمزور نہیں ہوا۔

آئندہ اٹھائے جانے والے مطلوبہ اقدامات کے بارے میں جناب واکِیتا کہتے ہیں کہ ملک کے چند حصوں میں غیر ملکیوں میں، جن کی ویکسینیشن کی شرح کم رہنے کا رجحان ہے، انفیکشن پھیل رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت کو صحت عامہ کے لحاظ سے عدم تحفظ سے دوچار اور ویکسین کے ٹیکے لگوانے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد کے علاقوں اور برادری میں ویکسینیشن کو فروغ دینے کے لیے اقدامات وضع کرنا ضروری ہیں۔

یہ معلومات 15 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 325: کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں نمایاں کمی سے متعلق ماہرین کی آراء 4 ، پروفیسر نِشی اُرا ہِیروشی ، کیوتو یونیورسٹی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں اگست کے اواخر سے نئے متاثرین کی یومیہ تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ آج ہم اس کمی کے پس منظر سے متعلق ماہرین کی آراء پر مبنی سلسلے کی چوتھی قسط میں کیوتو یونیورسٹی کے پروفیسر نِشی اُرا ہِیروشی کی رائے پیش کر رہے ہیں۔

پروفیسر نِشی اُرا، کورونا وائرس انفیکشن سے متعلق وزارت صحت کے ماہرین کے پینل کے ایک رکن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ متاثرین کی تعداد میں کمی کی تفصیلی وضاحت اِس وقت جاری تجزیے کے نتائج ملنے کے بعد کریں گے۔

تاہم، اُن کے مطابق ایک بات جو وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ وائرس کی پھیلاؤ کی شرح، جو یہ نشاندہی کرتی ہے کہ ایک متاثرہ شخص سے مزید کتنے افراد متاثر ہو سکتے ہیں، اُس میں طویل اختتام ہفتہ یا چھٹیوں کے بعد اضافے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ شرح چھٹیوں کے بعد اُس وقت بھی بڑھی تھی جب ملک کے کئی حصوں میں کورونا وائرس کے حوالے سے ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی تھی۔ ان کے مطابق یہ بات وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ کبھی کبھار ملنے والے افراد سے ملاقات، دُور کا سفر کرنے یا باہر کھانے پینے وغیرہ جیسے چھٹی کے اوقات کے دوران ہر شخص کا رویہ دوسروں میں وائرس منتقلی کو بڑھاتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ جاپان میں ویکسین لگانے کے عمل میں مزید پیشرفت ہونے کی صورت میں بھی غیر منظم انداز میں لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ بڑھنا، لازماً انفیکشن کی ایک اور لہر کو جنم دے گا۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہمیں موسمِ سرما میں وائرس کے ایک اور ممکنہ پھیلاؤ کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

یہ معلومات 14 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 324: کورونا کے نئے متاثرین کی تعداد میں نمایاں کمی سے متعلق ماہرین کی آراء 3 ، پروفیسر یاماموتو تارو ، انسٹیٹیوٹ برائے حارّی ادویات، ناگاساکی یونیورسٹی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں اگست کے اواخر سے کورونا متاثرین کی یومیہ تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ آج ہم اس کمی کے پس منظر سے متعلق ماہرین کی آراء پر مبنی اپنے سلسلے کی تیسری قسط میں ناگاساکی یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ برائے حارّی ادویات کے پروفیسر یاماموتو تارو کی رائے پیش کر رہے ہیں۔

پروفیسر یاماموتو کا کہنا ہے کہ وہ متاثرین کی تعداد میں کمی کے عوامل کے پس منظر کا اُس وقت تک بالکل درستگی کے ساتھ اندازہ نہیں لگا سکتے جب تک کہ یہ جانچ نہ کر لیں کہ مقامی بلدیات کی جانب سے اطلاع کردہ نئے متاثرین کی یومیہ تعداد کا حقیقی صورتحال سے کس حد تک درست موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

تاہم، پروفیسر یاماموتو اس بات کا یقین ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ افراد نے ویکسین کے ذریعے یا حقیقتاً وائرس سے متاثر ہونے کے باعث قوتِ مدافعت حاصل کر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وائرس لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے اور اگر ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جس میں انسانی، سماجی یا معاشی لحاظ سے بیماری کی ایک حد تک موجودگی قابل قبول ہو تو اس بات پر بحث ہونی چاہیے کہ یہ کس سطح تک قابل قبول ہے۔ وہ اس یقین کا اظہار کرتے ہیں کہ جاپان ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں انفیکشن کی صورتحال کے تعین کا معیار، وائرس متاثرین کی تعداد کے بجائے شدید بیمار مریضوں یا اموات کی تعداد کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔

مستقبل کے اقدامات کے بارے میں پروفیسر یاماموتو کہتے ہیں کہ اگر وائرس کو ختم کرنے کے مکمل اقدامات اور پابندیوں کے جاری رہنے کے دوران وائرس اپنی ہیئت تبدیل کرتے ہوئے زیادہ متعدی ہو جاتا ہے تو لوگ ابھی کے مقابلے میں زیادہ مشکلات میں گِھر سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب وسیع تناظر میں وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے کے طریقوں پر غور کرنے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر یہ سوچنا بھی اہم ہے کہ لوگوں کی اپنی یا اپنے عزیزوں کی زندگیوں کو شدید بیماری یا موت کے خطرے سے دوچار ہونے کا خطرہ ہوگا۔ پروفیسر یاماموتو کہتے ہیں کہ حفاظتی جال کے طور پر علاج معالجے اور طبی دیکھ بھال کا ایسا نظام وضع کرنا ضروری ہے، جس کی مدد سے کم از کم اموات کی روکتھام کی جا سکے۔

یہ معلومات 13 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 323: کورونا کے نئے متاثرین کی تعداد میں نمایاں کمی سے متعلق ماہرین کی آراء 2 ، پروفیسر وادا کوجی ، انٹرنیشنل یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ ویلفیئر

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں نئے متاثرین کی یومیہ تعداد میں اگست کے اواخر سے تیزی سے کمی ہوئی۔ آج ہم اس نمایاں کمی کے پس منظر سے متعلق ماہرین کی آراء پر مبنی سلسلے کی دوسری قسط پیش کر رہے ہیں۔

انٹرنیشنل یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ ویلفیئر کے پروفیسر وادا کوجی کورونا وائرس پر ردعمل سے متعلق وزارتِ صحت کے ماہرین کے پینل کے رکن ہیں۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ کورونا متاثرین کی تعداد میں کمی کی ممکنہ وجوہات میں ویکسینیشن میں پیشرفت اور موسمیاتی عوامل شامل ہیں۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ کم درجۂ حرارت کی وجہ سے ایئرکنڈیشنڈ والی بند جگہوں پر سرگرمی کم ہو جاتی ہے جس سے لوگوں کیلئے ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنا زیادہ سہل ہوجاتا ہے۔

لیکن اُن کا کہنا تھا کہ کسی حد تک یہ پتہ لگانا مشکل ہے کہ کئی عوامل میں سے ہر ایک نے کمی میں کتنا کردار ادا کیا۔

اس بارے میں کہ آنے والے مہینوں میں کیا توقع کی جا سکتی پرفیسر وادا کا کہنا تھا کہ انفیکشن ایک بار پھر پھیل سکتے ہیں کیونکہ موسمِ سرما آنے کے ساتھ ساتھ درجۂ حرارت کم ہو جاتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ غالب امکان یہ ہے کہ انفیکشنز پہلے زیادہ تر نوجوانوں اور 20 کے پیٹے کے لوگوں میں پھیلیں گے۔ یہ عمر کے لحاظ سے وہ گروپ ہے جن میں اُن لوگوں کی فیصد تعداد کم ہوتی ہے جن کی انفیکشن یا ویکسینیشن کے ذریعے وائرس کے خلاف قوت مدافعت بڑھ چکی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ پھر زیادہ امکان یہ ہے کہ وائرس نوجوان نسل کے لوگوں سے درمیانی اور معمر عمر کے افراد میں پھیلیں گے جو ہو سکتا ہے کہ وائرس سے شدید بیمار پڑ جائیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ وائرس کے معمر افراد میں پھیل جانے کا خطرہ بھی ہے کیونکہ ویکسین کا ٹیکہ لگوائے ایک وقت گزر جانے کی وجہ سے اُن کی انٹی باڈیز کم ہوجاتی ہیں۔

احتیاطی اقدامات سے متعلق پروفیسر وادا نے کہا کہ اب چونکہ ہم موسمِ سرما کے مہینوں کی جانب بڑھ رہے ہیں، ویکسین لگوانے والوں کی شرح جتنی زیادہ ہوگی اُتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ ہم طبی نظام پر شدید دباؤ سے بچ سکتے ہیں۔

انہوں نے درخواست کی کہ جن لوگوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی ہے وہ اکتوبر کے اختتام تک لگوالیں۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ویکسین لگانے کے عمل میں پیشرفت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ متاثرین کی تعداد ایک مخصوص سطح تک بڑھ جانے کی صورت میں بھی طبی نظام پر دباؤ اتنا بڑا نہیں ہوگا جتنا کہ پہلے تھا۔

پروفیسر وادا نے نشاندہی کی کہ اس موضوع پر بات چیت کی ضرورت ہے کہ کورونا وائرس کو کس طرح سمجھا جائے اور ہمیں اس کے خلاف کس حد تک اقدامات کرنے چاہیئں۔

یہ معلومات 12 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 322: کورونا کے نئے متاثرین کی تعداد میں نمایاں کمی سے متعلق ماہرین کی آراء 1 ، اومی شِگیرُو ، حکومتی مشاورتی پینل کے سربراہ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں اس سال موسم گرما میں کورونا وائرس کی پانچویں لہر کے دوران وائرس کے یومیہ نئے متاثرین کی تعداد غیرمعمولی سطح تک بلند ہو گئی تھی۔ وسط اگست میں یہ تعداد 25 ہزار سے بھی تجاوز کر گئی۔ تاہم، مذکورہ ماہ کے اختتام کے بعد اس تعداد میں تیزی سے کمی آئی۔ 5 اکتوبر تک کے مسلسل تین روز میں یہ تعداد ایک ہزار یومیہ سے کم پر برقرار رہی جو عروج کے دنوں کے مقابلے میں تقریباً 25 گنا کم ہے۔ آج سے ہم اس نمایاں کمی کے پس منظر سے متعلق ماہرین کی آراء پیش کر رہے ہیں۔

حکومت نے ملک بھر سے ہنگامی حالت ختم کرنے کا فیصلہ 28 ستمبر کو کیا تھا۔ اُس روز منعقدہ اخباری کانفرنس میں حکومت کے مشاورتی پینل کے سربراہ اومی شِگیرُو نے اس فیصلے کی کئی وجوہات بیان کیں۔

پہلی وجہ یہ بیان کی گئی کہ اب طویل اختتام ہفتہ یا گرمیوں کی چھٹیوں جیسی زیادہ تعطیلات نہیں آ رہیں، جن میں لوگوں میں نقل و حرکت کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وائرس کی ایک سے دوسرے شخص میں منتقلی کے امکانات کم ہیں۔

دوسری وجہ یہ بتائی گئی کہ نئے متاثرین کی تعداد میں اضافے سے ہسپتالوں کے بھر جانے اور مریضوں کے گھر پر ہی علاج پر مجبور ہونے کی خبریں سننے کے بعد لوگوں میں بحران کے احساس میں اضافہ ہوا۔

تیسری وجہ، تفریحی علاقوں میں رات کے وقت لوگوں کی بھیڑ میں کمی آئی جب انفیکشن کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

چوتھی وجہ ویکسین لگانے میں پیشرفت بیان کی گئی، جس کے باعث نہ صرف عمر رسیدہ افراد بلکہ نوجوانوں میں بھی نئے انفیکشنز کی تعداد کم ہوئی۔

آخری وجہ موسم میں تبدیلی قرار دی گئی، جس میں درجۂ حرارت اور بارش کے حالات میں تبدیلی شامل ہے، جن سے وائرس انفیکشن کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

جناب اومی نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ٹھنڈے موسم میں لوگوں میں زیادہ وقت باہر گزارنے کا رجحان بڑھ جاتا ہے، جس سے چھوٹی جگہوں پر ایک دوسرے کے قریب ہونے کے باعث ہونے والے انفیکشن کے امکانات میں کمی آتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات کی سائنسی بنیاد پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ جناب اومی نے کہا کہ وہ اس بات کا جائزہ لینا جاری رکھیں گے کہ کن عوامل نے نئے متاثرین کی تعداد میں کمی کیلئے کس حد تک کردار ادا کیا ہے۔

یہ معلومات 11 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 321: شدید بیمار ہونے کے خطرے سے دوچار افراد 2 ، نئے پیمانے پر عمر کے گروپوں کے لحاظ سے خطرات کی نشاندہی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔

جاپان کے قومی مرکز برائے عالمی صحت و ادویات اور دیگر اداروں نے کورونا وائرس کے مریضوں کی بیماری شدت اختیار کرنے کے خطرے کی نشاندہی کے لیے پوائنٹس استعمال کرتے ہوئے ایک پیمانہ وضع کیا ہے۔

آج اس سلسلے کی دوسری قسط میں ہم پیمانے کے اس نظام کے مطابق عمر کے گروپوں کے لحاظ سے بیماری کی علامات شدت اختیار کرنے کے خطرات کا جائزہ لیں گے۔

اس پیمانے میں افراد کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا گروپ 18 سے 39 سال کی عمر، دوسرا گروپ 40 سے 64 سال کی عمر اور تیسرا گروپ 65 سال اور اس سے زائد العمر افراد کا ہے۔

18 سے 39 سال تک کی عمر کے افراد میں مردوں کو یہ پیمانہ ایک پوائنٹ دیتا ہے۔ 30 سال اور زائد عمر والے مردوں اور عورتوں دونوں اصناف کو بھی ایک پوائنٹ ملتا ہے۔ جسمانی وزن زیادہ یا کم ہونے کی جانچ کا اشاریہ بی ایم آئی 23 سے 29.9 کے درمیان ہونے کی صورت میں بھی ایک پوائنٹ ملتا ہے۔ جن افراد کا یہ اشاریہ 30 یا زائد ہوتا ہے، انہیں دو پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔ کسی شخص کا وزن صحت مندانہ مقدار سے زائد ہونے یا نہ ہونے کا معلوم کرنے کے لیے اس اشاریے کا سہارا لیا جاتا ہے، جس میں کسی شخص کے کلوگرام میں لیے گئے وزن کو میٹر میں ناپے گئے قد کے دگنے عدد سے تقسیم کرتے ہیں۔

سرطان میں مبتلا افراد کو تین پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔

عمر کے اس گروپ سے تعلق رکھنے والے کورونا کے مریضوں کو 37.5 ڈگری سیلسیئس یا اس سے تیز بخار ہونے کی صورت میں یہ پیمانہ دو پوائنٹس دیتا ہے۔ خرخراہٹ کے ساتھ سانس لینے والے مریضوں کو بھی دو پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔ سانس لینے میں مشکل محسوس کرنے والوں کو ایک پوائنٹ ملتا ہے۔

یہ پیمانہ نشاندہی کرتا ہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے نئے کیسز کے دوران چھ سے زائد پوائنٹس لینے والے عمر کے اس گروپ میں شامل افراد کی بیماری کے شدت اختیار کرنے کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہے، لہٰذا ان کا مناسب علاج معالجہ کیا جانا چاہیے۔

40 سے 64 سال تک کی عمر کے گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد میں اس پیمانے کے مطابق مردوں کو ایک پوائنٹ ملتا ہے۔ 50 سے 59 سال تک کی عمر والے افراد کو بھی ایک پوائنٹ ملتا ہے۔ 60 سے 64 سال تک کی عمر والوں کو تین پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔ 25 یا زائد بی ایم آئی ہونے کی صورت میں 2 پوائنٹس ملتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کو ایک پوائنٹ ملتا ہے۔

عمر کے اس گروپ میں کووِڈ-19 کے مریضوں میں 37.5 ڈگری یا اس سے زیادہ تیز بخار میں مبتلا افراد کو یہ پیمانہ 2 پوائنٹس دیتا ہے۔ سانس لینے میں مشکل محسوس کرنے والوں کو بھی دو پوائنٹس ملتے ہیں۔ کھانسی یا تھکن محسوس کرنے والے مریضوں کو بھی ایک پوائنٹ دیا جاتا ہے۔

یہ پیمانہ نشاندہی کرتا ہے کہ کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بڑھنے کے عرصے میں، عمر کے اس گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کے پانچ یا زائد پوائنٹس ہونے کی صورت میں بیماری شدت اختیار کرنے کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہے، لہٰذا ان کا مناسب علاج معالجہ کیا جانا چاہیے۔

جہاں تک 65 سال یا اس سے زائدالعمر افراد کے گروپ کا تعلق ہے، 75 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو یہ پیمانہ دو پوائنٹس دیتا ہے۔ 25 سے زیادہ بی ایم آئی والے لوگوں کو دو پوائنٹس ملتے ہیں۔

دل کے پوری طرح کام نہ کرنے کے عارضے میں مبتلا افراد کو بھی دو پوائنٹس ملتے ہیں۔ بلند فشار خون کے ساتھ ساتھ ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کو بھی دو پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔ دماغ میں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ میں مبتلا مریضوں کو ایک پوائنٹ ملتا ہے۔

اس گروپ میں کووِڈ-19 کے مریضوں کو 37.5 ڈگری یا اس سے تیز بخار ہونے کی صورت میں یہ پیمانہ چار پوائنٹس دیتا ہے۔ سانس لینے میں دشواری محسوس کرنے والوں کو بھی چار پوائنٹس ملتے ہیں۔ کھانسی میں مبتلا افراد کو ایک پوائنٹ دیا جاتا ہے۔

اس پیمانے کے مطابق عمر کے اس گروپ میں تین یا اس سے زائد پوائنٹس لینے والے افراد بیماری شدت اختیار کرنے کے خطرے سے دوچار ہیں، لہٰذا ان کا بروقت علاج معالجہ کیا جانا چاہیے اور محکمۂ صحت کے حکام کو ان پر نظر رکھنی چاہیے۔

یہ معلومات 8 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 320: شدید بیماری کے خطرے سے دوچار افراد 1 ، ایک نئے پیمانے کی تشکیل – قومی مرکز برائے عالمی صحت و ادویات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان کے قومی مرکز برائے عالمی صحت و ادویات نے دیگر اداروں کے تعاون سے پوائنٹس کی بنیاد پر یہ جانچنے کا ایک نیا پیمانہ تشکیل دیا ہے کہ کورونا وائرس کے کن متاثرین کو شدید بیمار ہونے کا خطرہ ہے۔ اس پیمانے کے تحت زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے والے مریضوں کو سنگین بیماری کے خطرے کا زیادہ امکان ہوگا۔ چنانچہ اس پیمانے کو یہ طے کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ کن مریضوں کو ہسپتال میں داخل کرنے میں ترجیح دی جائے۔ اس نئے پیمانے سے متعلق دو قسطوں پر مشتمل سلسلے کی آج پہلی قسط پیشِ خدمت ہے۔

محققین نے جون سے ستمبر 2020 کے درمیان جاپان بھر کے ہسپتالوں میں لے جائے گئے تقریباً 4 ہزار 500 مریضوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے درمیانی سے شدید علامات والے ایسے مریضوں کی طبیعت کا جائزہ لیا جنہیں آکسیجن کی ضرورت تھی، اور ان کے مرض کی سنگینی کا اندازہ لگانے کے لیے پوائنٹس کے نظام کی بنیاد پرایک پیمانہ تشکیل دیا۔

اس پیمانے میں مریضوں کو عمر کے لحاظ سے گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ مثال کے طور پر 40 سے 64 سال کی عمر کے مرد مریضوں کو ایک پوائنٹ دیا گیا۔ مرد و خواتین، دونوں اصناف کو بی ایم آئی کی سطح 25 سے زیادہ ہونے کی صورت میں انہیں موٹا تصور کیا گیا اور 2 پوائنٹس دیے گئے۔ بی ایم آئی، کسی شخص کی بیرونی جسمانی حالت جانچنے کا ایک پیمانہ ہے۔ ذیابیطس کا شکار مریضوں کو مزید ایک پوائنٹ دیا گیا۔ اسی طرح 37.5 درجے سینٹی گریڈ سے زائد بخار والے افراد کو 2 پوائنٹس، سانس لینے میں مشکل کا شکار افراد کو مزید 2 پوائنٹس، کھانسی کی بنیاد پر مزید ایک پوائنٹ اور جسمانی تھکاوٹ کی بنیاد پر مزید ایک پوائنٹ کا اضافہ کیا گیا۔

جب کورونا انفیکشنز کی تیسری لہر کے دوران کے مریضوں کا اسی پیمانے کی بنیاد پر جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ 40 سے 64 سال کی عمر کے مجموعی طور پر 5 پوائنٹس حاصل کرنے والے افراد میں سے 23 فیصد مریض، وائرس کے باعث شدید بیمار ہوئے۔ مجموعی طور پر 10 پوائنٹس کے حامل افراد میں شدید بیمار ہونے والوں کی شرح 76 فیصد تک بلند تھی۔

محققین کا کہنا ہے کہ 5 سے زائد پوائنٹس والے افراد کو وائرس کے پھیلاؤ کے دنوں میں شدید خطرے کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کی کڑی نگرانی کی جانی چاہیے اور جلد از جلد انہیں کسی طبی مرکز میں لے جایا جانا چاہیے۔

قومی مرکز برائے عالمی صحت و ادویات کے ایک شریک تحقیق کار یامادا گین کہتے ہیں کہ وائرس کے دوبارہ بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کی صورت میں گھروں پر قرنطینہ کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ شروع ہو جائے گا۔ انہیں امید ہے کہ ایسی صورت میں یہ نیا پیمانہ شدید بیمار ہونے کے خطرے سے دوچار مریضوں کی مناسب انداز میں نشاندہی کر کے انہیں ہسپتال میں مطلوبہ علاج فراہم کرنے میں معاون ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیمانہ خطرات کے تمام امکانات کا احاطہ نہیں کرتا، لیکن اسے یہ فیصلہ کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے کہ آیا آپ خطرے کے شکار گروپ میں چلے گئے ہیں یا نہیں۔

یہ معلومات 7 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 319: کووِڈ-19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 8 ، کورونا وائرس کی پیشرفت سے کیسے نمٹا جائے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وباء سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے کی طرف سے ستمبر کے اوائل میں کیے گئے رائے عامہ کے جائزے کے نتائج سے متعلق ہمارا یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس سروے میں جاپان بھر سے 15 سے 69 سال تک کی عمر کے 1200 افراد کی رائے دریافت کی گئی تھی۔

آج ہم اس اختتامی قسط میں سروے کے اس آخری سوال کا جائزہ لیں گے کہ لوگوں کو وائرس میں ہونے والی پیشرفت سے کس طرح نمٹنا چاہیے؟

جواب دینے والوں کی سب سے زیادہ تعداد 63.6 فیصد نے کہا کہ لوگوں کو سرگرمیوں پر عائد کردہ پابندیوں کی پاسداری جاری رکھتے ہوئے وباء کے خاتمے کو ترجیح دینی چاہیے، جبکہ 7.5 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے سماجی و اقتصادی سرگرمیوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پابندیوں میں نرمی کے حامی افراد کے مقابلے میں 8 گُنا زائد افراد کا کہنا تھا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وباء کے خاتمے کو ترجیح دیں، چاہے اس کے لیے سماجی و اقتصادی سرگرمیوں کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔

اس سروے سے انکشاف ہوا کہ کئی پیشوں اور عمر کے مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی وباء، ویکسینیشن اور روزمرہ زندگیوں پر عائد پابندیوں کے بارے میں مختلف سوچ اور خدشات کے باوجود، روزمرہ کی پرسکون زندگی کی واپسی ان کی دلی خواہش ہے۔

یہ معلومات 6 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 318: کووڈ-19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 7 ، لوگوں کیلئے اپنا رویہ تبدیل کرنے کیلئے کیا ضروری ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وباء سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے کی طرف سے ستمبر کے اوائل میں کیے گئے رائے عامہ کے جائزے کے نتائج سے متعلق ہمارا سلسلہ جاری ہے۔ اس سروے میں جاپان بھر سے 15 سے 69 سال تک کی عمر کے 1200 افراد کی رائے دریافت کی گئی تھی۔آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ لوگ عالمی وباء میں افراد کا رویہ تبدیل کرنے کیلئے کس چیز کو ضروری سمجھتے ہیں۔

وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کیلئے ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ رویے میں تبدیلی کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس سروے میں لوگوں سے پوچھا گیا تھا کہ لوگوں کا رویہ تبدیل کروانے کیلئے کس قسم کے ڈھانچے یا نظام کی ضرورت ہے؟ مذکورہ سروے میں کئی جوابات دینے کی اجازت دی گئی تھی۔

جواب دینے والوں کی سب سے بڑی تعداد یا 69.2 فیصد نے کہا کہ مالیاتی اعانت۔ 45 فیصد کا کہنا تھا کہ انسدادِ وائرس اقدامات کو لازمی قرار دینا اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کرنا۔ 43.7 فیصد نے کہا کہ روایتی ماحول سے ہٹ کر دور دراز سے کام کرنے کو فروغ دینا۔ 43.2 فیصد کا کہنا تھا کہ حکومت اور ماہرین کی جانب سے قائل کرسکنے والی وضاحت اور پیغامات۔ 34.9 فیصد نے کہا کہ اسکول کی تعلیم آن لائن فراہم کرنا۔

اس سروے میں لوگوں سے یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ وہ کس قسم کے لازمی اقدامات کی خلاف ورزی پر جرمانے قبول کرسکتے ہیں۔

66.5 فیصد کا کہنا تھا کہ ماسک پہننے کی لازماً تعمیل۔ 54.4 فیصد نے کہا کہ تقریبات وغیرہ اور فرصت کے اوقات کی سرگرمیوں پر لازمی پابندی۔ 40.3 فیصد کا کہنا تھا کہ لازمی ویکسینیشن۔ 34.8 فیصد نے کہا کہ کھانے پینے کے ریستورانوں وغیرہ کے کاروباری اوقات پر لازمی پابندیاں۔ 24.1 فیصد کا کہنا تھا کہ لوگوں پر یہ لازمی ہونا کہ وہ باہر جانے کیلئے اجازت حاصل کریں۔ 6.8 فیصد نے کہا کہ وہ کوئی بھی لازمی اقدام قبول نہیں کرنا چاہتے۔

اس سروے سے متعلق سلسلے کی اگلی اور آخری قسط میں ہم اس موضوع پر لوگوں کی آراء کا جائزہ لیں گے کہ کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ پر کس طرح قابو پایا جائے۔

یہ معلومات 5 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 317: کووڈ-19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 6 ، کورونا وائرس ویکسینیشن کے بارے میں لوگوں کی سوچ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وباء سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے کی طرف سے ستمبر کے اوائل میں کیے گئے رائے عامہ کے جائزے کے نتائج سے متعلق ہمارا سلسلہ جاری ہے۔ اس سروے میں جاپان بھر سے 15 سے 69 سال تک کی عمر کے 1200 افراد کی رائے دریافت کی گئی تھی۔

آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کورونا وائرس ویکسینیشن سے متعلق لوگ کیا سوچتے ہیں۔

قرنطینہ یا خود کو الگ تھلگ رکھنے اور دیگر انسدادِ وائرس پابندیوں کے خاتمے کیلئے فیصلہ کُن اقدام کے طور پر کورونا وائرس ویکسینوں سے بلند توقعات وابستہ ہیں۔

اس سروے میں لوگوں سے سوال کیا گیا تھا کہ وہ ویکسینیشن منصوبے سے متعلق کیا سوچتے ہیں؟ 78 فیصد نے کہا کہ ان کے خیال میں ویکسین لگوانا بہتر ہے۔ 19.4 فیصد نے کوئی مثبت یا منفی جواب دینے سے گریز کیا، جبکہ 2.6 فیصد افراد نے کہا کہ ان کے خیال میں ویکسین لگوانے کا کوئی فائدہ نہیں۔

ویکسینیشن کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والوں میں سے عمر کے ہر گروپ کے تقریباً 70 فیصد افراد نے جواب دیا کہ اُنہیں یقین ہے کہ ویکسین لگوانا بہتر ہے۔ مثبت رجحان بڑی عمر کے افراد کے گروپوں میں زیادہ واضح تھا۔

ویکسین لگوانے کو غیر مفید سمجھنے والے لوگوں میں 7.1 فیصد افراد 15 سے 19 سال تک کی عمر کے تھے، اس کے بعد 4.6 فیصد لوگ 20 کے پیٹے کے، جبکہ 4 فیصد 30 کے پیٹے کے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ویکسین نہ لگوانے کے حق میں بڑی عمر کے افراد کم جبکہ نوجوان زیادہ ہیں۔

جب ان سے کورونا وائرس ویکسین لگوانے سے متعلق منفی خیالات کی وجہ پوچھی گئی تو بعض نے اس کے محفوظ ہونے اور ممکنہ مضر اثرات کے بارے میں خدشات کا ذکر کیا۔

20 کے پیٹے کی ایک کمپنی ملازمہ نے کہا کہ ویکسین کا محفوظ ہونا یا کئی سالوں بعد اس کے ممکنہ مضر اثرات سامنے آنا ابھی غیر واضح ہے۔

20 سال سے کم عمر کے ایک طالبعلم نے جواب دیا کہ وہ ممکنہ ضمنی اثرات اور ویکسین میں غیر متعلقہ اجزاء شامل ہونے کے خطرے سے خوفزدہ ہے۔

سروے میں جواب دینے والے کئی افراد نے کہا کہ وہ ابھی تک ویکسین لگوانے یا نہ لگوانے کا فیصلہ نہیں کر سکے ہیں۔ 20 کے پیٹے کے ایک کمپنی ملازم نے کہا کہ اس سلسلے میں مناسب معلومات ابھی دستیاب نہیں ہیں، کیونکہ ویکسین پروگرام کا ابھی آغاز ہی ہوا ہے۔ 50 کے پیٹے کی ایک خاتون نے کہا کہ مکمل طور پر سب لوگوں کا یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ویکسین لگوائی جائے یا نہیں۔

اگلی قسط میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ وائرس سے بہتر طور پر نبٹنے کی غرض سے لوگوں کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے کیا کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ معلومات 4 اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 316: کووِڈ-19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِعمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 5، لوگوں کے خیال میں وہ کب تک اسی طرح زندگی گزار سکتے ہیں

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وباء سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے کی طرف سے ستمبر کے اوائل میں کیے گئے رائے عامہ کے جائزے کے نتائج سے متعلق ہمارا سلسلہ جاری ہے۔ اس سروے میں ملک بھر سے 15 سے 69 سال تک کی عمر کے 1200 افراد کی رائے دریافت کی گئی تھی۔ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عائد کردہ پابندیوں کے تحت زندگی گزارنے کے بارے میں آج لوگوں کی سوچ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جاپان میں لوگ انفیکشن پر قابو پانے کے لیے عائد کردہ سخت پابندیوں کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم نے پوچھا تھا کہ ان کے خیال میں وہ زیادہ سے زیادہ کب تک اس طرح زندگی گزار سکتے ہیں۔

تمام جواب دہندگان میں سے 42.5 فیصد نے جواب دیا کہ انفیکشن پر قابو پانے تک، جبکہ 18.6 فیصد نے کہا کہ سال کے اختتام تک، اور 18.1 فیصد نے لاعلمی ظاہر کی ہے۔ 10.7 فیصد نے جواب دیا کہ وہ یہ پابندیاں مزید برداشت نہیں کر سکتے، جبکہ 5.9 فیصد نے مزید چھ ماہ اور 4.3 فیصد نے مزید 12 ماہ تک پابندیاں برداشت کر سکنے کا بتایا ہے۔

اگرچہ سروے میں سوالات کا جواب دینے والوں کی نصف کے قریب تعداد نے کہا کہ وہ کورونا وائرس کی عالمی وباء پر مکمل قابو پانے تک پابندیوں کی تعمیل کریں گے، لیکن ایک چوتھائی سے زیادہ تعداد کے مطابق، وہ اب مزید اس طرح زندگی نہیں گزار سکتے یا انہوں نے کہا کہ وہ یہ پابندیاں چار ماہ بعد سال کے اختتام تک مزید برداشت کر سکتے ہیں۔

اس سلسلے کی اگلی قسط میں کورونا ویکسینیشن کے بارے میں لوگوں کی آراء کا جائزہ لیا جائے گا۔

یہ معلومات یکم اکتوبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 315: کووِڈ- 19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 4 ، لوگ خود پر بندش لگانے پر کیوں کم عمل کر رہے ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج کورونا وائرس سے متعلق لوگوں کی سوچ اور ان کا طرزِ عمل جاننے سے متعلق این ایچ کے کی جانب سے اوائلِ ستمبر میں کیے گئے سروے کے نتائج کے بارے میں ہمارے سلسلے کی چوتھی قسط پیشِ خدمت ہے۔ یہ سروے جاپان بھر کے 15 سے 69 سال تک کی عمر کے 1200 افراد سے کیا گیا تھا۔ آج ہم دیکھیں گے کہ بعض لوگ پابندیوں پر پہلے کی طرح عمل کیوں نہیں کر رہے۔

جب اس سروے میں لوگوں سے یہ سوال پوچھا گیا کہ وہ پابندیوں پر آیا اُسی طرح عمل کر رہے ہیں یا نہیں جس طرح گزشتہ سال اپریل میں پہلی بار ہنگامی حالت کے نفاذ کے وقت کر رہے تھے، تو تقریباً 20 فیصد افراد نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ اس کی وجوہات جاننے کے لیے ان سے ایک سے زائد جواب منتخب کرنے کا کہا گیا۔

سب سے زیادہ تعداد 42.6 فیصد نے کہا کہ وہ خود پر بندش لگانے سے تھک چکے ہیں، جبکہ 33.6 فیصد نے اس کی وجہ لوگوں کی بڑی تعداد کو ویکسین لگ جانا بتایا۔ 32.6 فیصد جواب دہندگان نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ وہ انفیکشن سے بچنے کے مناسب اقدامات کر رہے ہیں۔ 31.1 فیصد نے جواب دیا کہ وہ خود کو محدود کر کے زندگی نہیں گزار سکتے۔

اگلی قسط میں ہم لوگوں کی اِس سوچ کا جائزہ لیں گے کہ وہ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے پابندیوں پر کب تک عمل جاری رکھ سکتے ہیں۔

یہ معلومات 30 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 314: کووِڈ 19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 3 ، لوگوں کی خود پر بندش لگانے کی سطح میں تبدیلی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج کورونا وائرس سے متعلق لوگوں کی سوچ اور ان کا طرز عمل جاننے سے متعلق این ایچ کےکی جانب سے اوائلِ ستمبر میں کیے گئے سروے کے نتائج کے بارے میں ہمارے سلسلے کی تیسری قسط پیشِ خدمت ہے۔ یہ سروے جاپان بھر کے 15 سے 69 سال تک کی عمر کے 1200 افراد سے کیا گیا تھا۔ آج ہم جائزہ لیں گے کہ لوگوں کے خود پر بندش لگانے کی سطح میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں۔

کورونا وائرس سے لوگوں کا متاثر ہو جانا اب بھی جاری ہے اور بہت سے لوگ اپنی زندگیوں کے بارے میں کئی طرح کی تشویش کا شکار ہیں، تو کیا ان حالات میں ان کے خود پر بندش لگانے کے عمل میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟

سروے میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ اپریل 2020 میں پہلی بار ہنگامی حالت کے نفاذ کے مقابلے میں اب وہ کس حد تک پابندیوں کے اقدامات کی پابندی کر رہے ہیں؟ پہلے کے برابر پابندی کرنے یا اُس وقت سے زیادہ پابندی کرنے کا جواب دینے والوں کی کُل شرح تقریباً 80 فیصد تھی۔

جواب دینے والوں کی سب سے زیادہ تعداد 54 فیصد نے کہا کہ کوئی تبدیلی نہیں تھی جبکہ 26.6 فیصد نے جواب دیا کہ وہ اُس وقت کے مقابلے میں حفاظتی اقدامات کی زیادہ پابندی کر رہے ہیں اور 19.4 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ پہلے جتنی پابندی نہیں کر رہے۔

اس سروے سے یہ بھی پتہ چلا کہ جواب دینے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے کہا کہ وہ پچھلے سال کے مقابلے میں پابندی پر کم عمل کر رہے ہیں۔ دوسری جانب جواب دینے والے 60 کے پیٹے کے 12.5 فیصد، 50 کے پیٹے کے 15.5 فیصد اور 40 کے پیٹے کے 17.4 فیصد نے کہا کہ وہ پابندیوں کی اتنی زیادہ پابندی نہیں کر رہے، جبکہ 30 کے پیٹے کے 22 فیصد، 20 کے پیٹے کے 28.5 فیصد اور 15 سے 19 سال کی عمر کے 28.9 فیصد نے کہا کہ وہ پابندی پر عمل نہیں کر رہے۔

اگلی قسط میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ یہ لوگ اپنے حفاظتی اقدامات کی اُتنی پابندی کیوں نہیں کر رہے جتنی انہوں نے گزشتہ سال اپریل میں کی تھی۔

یہ معلومات 29 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 313: کووڈ 19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 2 ، موجودہ تفکرات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہم این ایچ کے کی جانب سے جاپان بھر کے 15 سے 69 برس تک کی عمر کے 1200 افراد سے کیے گئے سروے کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اوائلِ ستمبر میں کیا گیا یہ سروے کورونا وائرس سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرزِ عمل جاننے سے متعلق تھا۔ آج ہم اس امر کا جائزہ لیں گے کہ اس وقت لوگوں کو سب سے زیادہ جو تفکرات لاحق ہیں اُن سے متعلق سروے میں کیا انکشاف ہوا۔

جواب دینے والوں سے کہا گیا تھا کہ اس سوال کے کئی جوابات کا انتخاب کریں۔

جواب دینے والوں کی سب سے زیادہ تعداد 61.4 نے کہا کہ انہیں صحت دیکھ بھال کے نظام سے متعلق تشویش ہے، 49.5 کا کہنا تھا کہ گھر پر وائرس سے متاثر ہو جانا یا اُن کے بچوں کا وائرس سے متاثر ہو جانا، اور 33.3 فیصد نے کہا کہ قومی اور مقامی حکومتوں کی جانب سے ہنگامی حالت کے اعلان سمیت خود کو محدود کرنے کے اقدامات کی مزید طوالت سے متعلق فکر لاحق ہے۔

اس سوال کے تبصرے کے اضافی حصے میں کئی لوگوں نے کہا کہ اُنہیں خصوصاً خود کے وائرس سے متاثر ہو جانے سے متعلق فکر لاحق ہے۔

40 کے پیٹے کے ایک مرد ملازم نے کہا کہ اُنہیں تشویش ہے کہ اگر وہ بیمار پڑ گئے تو آیا صحت دیکھ بھال کا نظام اُن کا علاج معالجہ کرے گا۔ جُزوقتی کام کرنے والی 50 کے پیٹے کی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ اُنہیں اہلِ خانہ میں مرض پھیل جانے یا علامات تیزی کے ساتھ بڑھ جانے سے متعلق فکرات لاحق ہیں کیونکہ ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں کہ وائرس سے متاثرہ لوگ ہسپتال میں داخل نہ ہو سکنے کے سبب گھر پر قرنطینہ میں تھے یعنی الگ تھلگ رہ رہے تھے۔

دیگر لوگوں کا کہنا تھا کہ اُنہیں اپنی ملازمت اور آمدنی سے متعلق فکر ہے، یا خود کو محدود رکھنے کے طویل اقدامات کی وجہ سے جذباتی طور پر ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں۔

اپنا ذاتی کام کرنے والے 40 کے پیٹے کے ایک شخص نے کہا کہ وہ کام میں کمی کی وجہ سے گھٹتی ہوئی آمدنی کے باعث ماہانہ ادائیگیوں سے خلاصی پانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

ہماری اگلی قسط میں لوگوں کے خود کو محدود کرنے کے درجے میں تبدیلیوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

یہ معلومات 28 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 312: کووڈ-19 سے متعلق لوگوں کی سوچ اور طرز عمل کے بارے میں این ایچ کے سروے 1 ، آپ کورونا وائرس سے کتنے خوفزدہ ہیں؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج سے شروع ہونے والا ہمارا یہ سلسلہ جاپان بھر کے 15 سے 69 برس تک کی عمر کے 1200 افراد سے این ایچ کے کی جانب سے کیے گئے سروے کے نتائج کے بارے میں ہے۔ اوائلِ ستمبر میں کیا گیا یہ سروے کورونا وائرس سے متعلق لوگوں کی سوچ اور ان کا طرزِ عمل جاننے سے متعلق تھا۔ اس کے نتائج سے لوگوں کی سوچ اور ان کے تفکرات کے بالکل مختلف ہونے اور سرگرمیوں پر طویل مدتی پابندیوں اور ویکسینیشن جیسے معاملات سے متعلق مختلف عمر کے افراد کی الگ الگ سوچ کا پتہ چلتا ہے۔

اس سروے میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ کورونا وائرس سے کتنے خوفزدہ ہیں؟ 50.4 فیصد افراد کا جواب تھا کہ وہ بہت خوفزدہ ہیں۔ 42.4 فیصد نے کہا کہ وہ کسی حد تک خوفزدہ ہیں، جبکہ 6.1 فیصد نے کہا کہ وہ بالکل خوفزدہ نہیں ہیں۔ اس نتیجے سے معلوم ہوتا ہے کہ جواب دہندگان کی تقریباً 93 فیصد تعداد کورونا وائرس سے خوفزدہ تھی۔

اگلی قسط میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ لوگ اس وقت کس بارے میں فکرمند ہیں۔

یہ معلومات 27 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 311: کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات پر سروے 2 ، سُونگھنے کی حِس کا متاثر ہونا سرفہرست

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اِس تازہ ترین سلسلے میں کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ٹوکیو کے سیتا گایا وارڈ نے اس علاقے میں کووِڈ-19 کے طویل مدتی اثرات سے متاثرہ افراد کا سروے کیا ہے۔ اس سروے میں نصف کے قریب افراد نے تھکاوٹ محسوس ہونے کی شکایت کی۔

جواب دینے والوں کی سب سے زیادہ تعداد تقریباً 54 فیصد نے سُونگھنے کی حِس کے خلافِ معمول ہونے کا بتایا، 50 فیصد نے تھکاوٹ محسوس ہونے کا کہا، 45 فیصد نے ذائقہ محسوس کرنے کی صلاحیت معمول کے مطابق نہ ہونے سے متعلق بتایا اور 34 فیصد نے کھانسی برقرار رہنے کی شکایت کی ہے۔

اس سروے سے معلوم ہوا کہ عمر کے گروپوں کے لحاظ سے طویل مدتی اثرات میں فرق تھا۔

سونگھنے کی حس ختم ہونے کی شکایت کرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد 13 سے 39 سال کے درمیان کی عمر کے افراد میں پائی گئی، جبکہ تھکاوت محسوس کرنے کا بتانے والوں کی سب سے زیادہ تعداد 40 سال سے 49 سال اور اس سے زائد عمر والے افراد میں ریکارڈ کی گئی۔

بعض افراد کے مطابق یادداشت متاثر ہونے یا سر کے بال کم ہونے سمیت طویل مدتی اثرات چھ ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہے۔

سیتاگایا وارڈ طویل مدتی اثرات کے نتائج کا تجزیہ کرے گا اور مستقبل کے جوابی اقدامات کا جائزہ لے گا۔

سیتاگایا وارڈ کے ناظم ہوساکا نوبُوتو کے مطابق، کئی افراد کو اپنے پیشہ ورانہ کام کے دوران اور روزمرہ زندگی میں کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات کا ہنوز سامنا کرنا پڑ رہا ہے تاہم ان افراد کی اعانت کے لیے فراہم کی جانے والی مدد کا نظام اب بھی ناکافی ہے۔ وارڈ کے ناظم نے امید ظاہر کی کہ ان اعداد و شمار کا اجراء کورونا وائرس کے علاج معالجے میں پیشرفت کے ساتھ ساتھ کووڈ-19 کے طویل مدتی اثرات میں مبتلا مریضوں کے علاج معالجہ کا طریقۂ کار ڈھونڈنے پر مبنی نظام تخلیق کرنے کے لیے حکومت سے درخواست کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

یہ معلومات 24 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 310: کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات 1 ، جائزے کے مطابق کورونا وائرس سے بچ جانے والے نصف متاثرین کی جانب سے طویل مدتی علامات کی اطلاع

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارا یہ تازہ ترین سلسلہ کورونا وائرس کے ممکنہ طویل مدتی اثرات کے بارے میں ہے۔

اپریل 2021 تک ٹوکیو کے سیتاگایا وارڈ نے اس علاقے میں اُن افراد کا سروے کیا جو ہسپتال یا گھر پر کووِڈ 19 کے علاج کے بعد تندرست ہو گئے تھے۔

سروے میں جواب دینے والے 3 ہزار 710 افراد میں سے تقریباً ایک ہزار 800 یعنی نصف کے قریب لوگوں نے بتایا کہ انہیں طویل عرصے تک اس بیماری کی علامات کا سامنا کرنا پڑا۔ جواب دینے والے 30 سے 59 سال کی عمر کے لوگوں میں یہ شرح خصوصاً بلند رہی۔ ان کی نصف سے زائد تعداد نے طویل مدتی اثرات کے بارے میں بتایا۔

ہم اگلی مرتبہ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ انہیں کس قسم کے اثرات کا سامنا رہا۔

یہ معلومات 22 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 309: کورونا وائرس ادویات 11 ، موجودہ ادویات جنہیں کورونا وائرس کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے ادویات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم بعض ایسی دواؤں کا جائزہ لیں گے جن کی دیگر بیماریوں کے علاج کیلئے پہلے ہی منظوری دی جا چکی ہے۔

جاپانی حکومت نے نئے کورونا وائرس کے علاج کیلئے اب تک چار اقسام کے علاج کی منظوری دی ہے۔ ان کے علاوہ یہ تصدیق کرنے کی غرض سے دیگر بیماریوں کیلئے استعمال کی جانے والی موجودہ ادویات پر طبی جائزے جاری ہیں کہ آیا یہ کورونا وائرس کے خلاف بھی مؤثر ہیں یا نہیں۔

خصوصاً جن موجودہ دواؤں کا اب جائزہ لیا جا رہا ہے وہ ہیں ایکٹیمرا، ایوِیگان، الویسکو، فُوتھن اور آئِیور میکٹن۔ ایکٹیمرا گٹھیا کی سوزش کے علاج کیلئے ہے اور ایویگان انفلوئنزہ کے نئے وائرس کیلئے ہے۔ الویسکو دمہ کی علامات کو دباتی ہے جبکہ فُوتھن کو ایسی بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جن سے لبلبے کی شدید سوزش پیدا ہوتی ہے یا خون کے لوتھڑے بن جاتے ہیں۔ آئِیورمیکٹن، پیراسائیٹس کی وجہ سے ہونے والے وبائی امراض کے خلاف مؤثر ہونے کیلئے مشہور ہے۔

آئِیورمیکٹن آن لائن خریداری کی ویب سائٹس کے ذریعے دستیاب ہے۔ یہ کووِڈ-19 کے خلاف متوقع طور پر مؤثر دوا کے طور پر توجہ حاصل کر رہی ہے۔

انفرادی گاہک خود اپنے طور پر یہ دوا خرید رہے ہیں۔

لیکن دنیا بھر کے ملکوں کے صحت حکام اور عالمی ادارۂ صحت کے علاوہ ادویات ساز کمپنیوں کا بھی کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف اس دوا کی افادیت کی طبی آزمائشوں کے ذریعے ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ مریضوں کو انفرادی طور پر خود اپنی مرضی سے یہ دوا نہیں لینی چاہیے۔

یہ معلومات 21 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 308: کورونا وائرس ادویات 10 ، وہ ادویات جو تیاری کے مراحل میں ہیں (2) ، روش، شِیئونوگی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کورونا وائرس کے علاج کی نئی ادویات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم اُن دواؤں کا جائزہ لیں گے جو تیاری کے مرحلے میں ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کی سرکردہ ادویات ساز کمپنی روش یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا وہ ہیپیٹائٹس سی کے مریضوں کے علاج کے لیے اے ٹی 527 نامی جو اینٹی وائرل دوا تیار کرتی رہی ہے وہ کووِڈ 19 کا مقابلہ کرنے کے لیے مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے یا نہیں۔ یہ کمپنی جاپان اور دوسرے ملکوں میں مریضوں پر اس دوا کے تجربات کے آخری مرحلے میں ہے۔ جاپان میں اس دوا کی تیاری میں معاونت کرنے والی کمپنی چُوگائی فارماسیوٹیکل نے وزارت صحت سے دوا کے استعمال کے منظوری لینے کے لیے آئندہ سال درخواست دینے کی توقع ظاہر کی ہے۔

جاپان کی ایک سرکردہ ادویات ساز کمپنی شِیئونوگی کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی اینٹی وائرل دوا تیار کر رہی ہے۔ اس کمپنی نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ اُس نے استعمال میں دوا کے محفوظ ہونے کی تصدیق کے لیے تجربات کا پہلا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔

یہ معلومات 17 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 307: کورونا وائرس کی ادویات 9 ، وہ ادویات جو تیاری کے مراحل میں ہیں۔ (1) ، مرک، فائزر

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کورونا وائرس کے علاج کی نئی ادویات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم اُن دواؤں کا جائزہ لیں گے جو تیاری کے مرحلے میں ہیں۔

دنیا بھر میں کئی افراد کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد گھر پر قرنطینہ میں ہیں یعنی دوسروں سے الگ تھلگ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی دواؤں کی بہت زیادہ مانگ ہے جو ہلکی علامات والے مریض، مرض کی شدت کو بڑھنے سے روکنے کے لیے گھر پر خود سے کھا سکیں۔ دوا ساز کمپنیاں جاپان اور بیرونی ممالک میں بھی ایسی دواؤں کی تیاری پر کام کر رہی ہیں۔

امریکہ کی نامور دوا ساز ’مرک اینڈ کمپنی‘ وائرس کے خلاف ایک دوا تیار کر رہی ہے جس کا نام مولنُوپِیراوِیر ہے۔ یہ دوا جاپان اور دیگر ممالک میں مریضوں پر آزمائش کے حتمی مرحلے میں ہے۔ مذکورہ ادویات ساز ادارے کی ایک جاپانی ذیلی کمپنی کا کہنا ہے کہ آزمائش کے نتائج جلد از جلد اِسی ماہ یا آئندہ ماہ تک سامنے آ جائیں گے۔ اس کمپنی کے مطابق آزمائش کے نتائج اطمینان بخش ہونے کی صورت میں وہ امریکہ کی خوراک اور ادویات کی انتظامی ایجنسی، ایف ڈی اے سے اس کے ہنگامی استعمال کی منظوری حاصل کرنے کیلئے رواں سال کے آخر تک درخواست دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ایک اور ممتاز امریکی کمپنی فائزر، بیرونِ ملک ایسے علاج کی آزمائش کے حتمی مرحلے میں ہے جس میں وائرس کا توڑ کرنے والی دو دوائیں ایک ساتھ دی جاتی ہیں۔ اس کمپنی کے مطابق، غالب امکان یہ ہے کہ آزمائش کے عبوری نتائج اکتوبر اور دسمبر کے درمیان آ جائیں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ایف ڈی اے کو اس دوا کے ہنگامی استعمال کی اجازت کیلئے درخواست، جلد از جلد بھی رواں سال کے آخر تک دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ فائزر کا یہ بھی کہنا ہے کہ جاپانی مریضوں پر بھی اس دوا کی آزمائش کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

یہ معلومات 16 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 306: کورونا کی ادویات 8 ،ادویات کی قسم نمبر 3، مدافعتی قوت کے ضرورت سے زیادہ ردعمل کو روکنا

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کورونا وائرس کے علاج کی نئی ادویات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم کووِڈ 19 کے علاج کی مختلف اقسام کا جائزہ لیں گے۔

حکومت جاپان کے کورونا وائرس کے علاج کے لیے منظور کردہ علاج کی بنیادی طور پر صرف تین اقسام ہیں، جو ان کے مؤثر ہونے کے طریقِ کار کے لحاظ سے ہیں۔

1۔ وائرس کو خلیوں میں داخل ہونے سے روکنے والی دوائیں
2۔ خلیوں میں پہلے ہی داخل ہو چکنے والے والے وائرس کی افزودگی کو روکنے والی دوائیں
3۔ پہلے ہی افزودہ ہو چکنے والے وائرس کے خلاف جسمانی مدافعتی نظام کے ضرورت سے زیادہ متحرک ہونے کو روکنے کی دوائیں

ڈیکسامیتھاسون اور بیریسِٹینِب کا تعلق تیسری قسم کی دواؤں سے ہے جو قوّتِ مدافعت کے ضرورت سے زیادہ ردعمل کی روک تھام کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ جب انسان کسی وائرس سے متاثر ہوتا ہے تو خلیے، مدافعتی خلیوں کو تحریک دینے والے مختلف سوزشی اجزاء خارج کرتے ہیں۔ تاہم جب وائرس افزودہ ہو کر اپنی تعداد بڑھاتا ہے، تو بعض اوقات خلیوں سے قوّتِ مدافعت کو تحریک دینے والے اجزاء بہت زیادہ مقدار میں خارج ہو سکتے ہیں اور قوّتِ مدافعت ناقابل کنٹرول سطح تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان کے پھیپھڑے اور دیگر جسمانی اعضاء کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے مریض شدید علیل ہو جائے گا۔ ایسے مواقعوں پر مدافعتی نظام کی زائد از ضرور تحریک کو دبانے اور سوزشی اجزاء کے اخراج کو کم کرنے کے لیے زیادہ غالب امکان یہ ہے کہ مریض کو اسٹرائیڈ دوائیں دی جائیں گی۔ ڈیکسامیتھاسون اور بیریسِیٹینِب بنیادی طور پر شدید علامات والے مریضوں کے لیے مؤثر دواؤں کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

یہ معلومات 15 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 305: کورونا وائرس ادویات 7 ، دواؤں کی قِسم نمبر 2، خلیوں میں وائرس کے داخلے کی روک تھام

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کورونا وائرس کے علاج کی نئی ادویات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم کووِڈ 19 کے علاج کی مختلف اقسام کا جائزہ لیں گے۔

کورونا وائرس کے علاج معالجے کے لیے حکومت جاپان کے منظور کردہ علاج کی صرف تین اقسام ہیں، جو ان کی افادیت کے طریقِ کار کے لحاظ سے ہیں۔

1۔ وائرس کو خلیوں میں داخل ہونے سے روکنے والی دوائیں۔
2۔ خلیوں میں پہلے ہی داخل ہو چکنے والے وائرس کی افزودگی کو روکنے والی دوائیں۔
3۔ پہلے ہی افزودہ ہو چکنے والے وائرس کے خلاف جسمانی مدافعتی نظام کے ضرورت سے زیادہ متحرک ہونے کو روکنے کی دوائیں۔

ریمڈیسیوِر قِسم 2 کی دوا ہے جو وائرس کو خلیوں کے اندر نقل بنانے سے روکتی ہے۔ جب وائرس خلیوں کے اندر ہوتا ہے تو ان کی طاقت استعمال کر کے اپنی نقل کی افزودگی جاری رکھتا ہے۔

ریمڈیسیوِر سمیت قِسم 2 کی ادویات وائرس کی نقل بنانے میں شامل ایک اینزائم یعنی خامرہ کا عمل روکتے ہوئے وائرس کو نقل بنانے سے روکتی ہیں۔ معمولی علامات والے کووِڈ-19 کے مریضوں کو منہ کے ذریعے دی جانے والی دیگر دوائیں بھی ہیں جو اس وقت تیار کی جا رہی ہیں۔ ان میں سے بیشتر قِسم 2 سے تعلق رکھتی ہیں۔ وائرسوں میں نقل بنانے کا طریقِ عمل عام ہے۔ اس کی وجہ سے کئی ادویات ساز کمپنیاں دیگر وائرسوں کیلئے تیار کردہ ادویات کی بنیاد پر کورونا وائرس کی دوائیں بنانے کے قابل ہو گئی ہیں۔ توقع ہے کہ صحت سے متعلقہ حکام سفارش کریں گے کہ ایسی دواؤں کو انفیکشن کے ابتدائی مراحل میں استعمال کیا جائے۔

یہ معلومات 14 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 304: کورونا وائرس ادویات 6 ، دواؤں کی قسم نمبر 1، خلیوں میں وائرس کے داخلے کی روک تھام

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں کورونا وائرس کے علاج کی نئی ادویات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم کووِڈ 19 کے علاج کی مختلف اقسام کا جائزہ لیں گے۔

کورونا وائرس کے علاج کے لیے حکومت جاپان کے منظور کردہ علاج کی صرف تین اقسام ہیں، جو ان کے مقصد اور کارکردگی کے لحاظ سے ہیں۔

1۔ وائرس کو خلیوں میں داخل ہونے سے روکنے والی دوائیں۔
2۔ خلیوں میں پہلے ہی داخل ہو چکنے والے وائرس کی افزودگی کو روکنے والی دوائیں۔
3۔ پہلے ہی افزودہ ہو چکنے والے وائرس کے خلاف جسمانی مدافعتی نظام کے ضرورت سے زیادہ متحرک ہونے کو روکنے کی دوائیں۔

قسم نمبر 1 میں اینٹی باڈی کاک ٹیل نامی طریقۂ علاج کی دوائیں، کورونا وائرس کے جسم کے خلیوں پر حملہ آور ہو کر خلیوں میں ان کے داخلے روکتی ہیں۔ کورونا وائرس کی سطح پر موجود نوکوں والا پروٹین، انسانی خلیوں میں داخل ہونے سے قبل ان کے ساتھ چپکتا ہے۔ اینٹی باڈی کاک ٹیل طریقۂ علاج میں مصنوعی طور پر تیار ہونے والی اینٹی باڈی، وائرس کے خلیوں میں داخلے کو روکنے کے لیے خود وائرس کے نوکدار پروٹین سے چپک جاتی ہے۔ اس طریقۂ علاج کی سفارش مرض کے ابتدائی مراحل میں کی جاتی ہے۔ اسے انتہائی مؤثر خیال کیا جاتا ہے، کیونکہ اینٹی باڈی وائرس کو نشانہ بنانے کے لحاظ سے تیار کی جاتی ہے۔ اس طریقۂ علاج کے ضمنی اثرات بھی بہت کم سامنے آئے ہیں۔

یہ معلومات 13 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 303: کورونا وائرس ادویات5 ، اسٹروویمیب

این ایچ کے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور ادویات ساز کمپنیاں نئے کورونا وائرس کے خلاف مؤثر ثابت ہونے کی توقع کی حامل نئی ادویات کی انسانوں پر آزمائش کر رہی ہیں۔ توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا یہ ادویات نئے طریقۂ علاج کی جانب رہنمائی کر سکیں گی یا نہیں۔ ہمارے حالیہ سلسلے میں ایسی ہی ادویات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ آج ہم نئی دوا اسٹروویمیب پر نظر دوڑائیں گے۔

حکومتِ جاپان نے نئے کورونا وائرس کے علاج کے لیے چار اقسام کے طریقۂ علاج کی منظوری دی ہے۔

برطانیہ کی گلیکسو اسمتھ کلائن سمیت ادویات ساز کمپنیوں کی تیار کردہ ایک نئی دوا کا حکومت اس وقت جائزہ لے رہی ہے۔

نئی دوا اسٹروویمیب، وائرس کا اثر زائل کرنے والی اینٹی باڈی ہے، جو مریضوں کی ورید میں داخل کی جاتی ہے اور یہ دوا وائرس کا پھیلاؤ کم کرنے کے لیے مشہور ہے۔ یہ دوا بیماری کی ہلکی سے معتدل علامات والے ایسے مریضوں کو دی جاتی ہے جنہیں مصنوعی آکسیجن کی ضرورت نہ ہو، لیکن اُن کی بیماری کی شدید علامات ظاہر ہونے کا انتہائی خطرہ ہو۔ بیرون ملک اس دوا کی انسانوں پر آزمائش کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ اس طریقۂ علاج سے مریض کے ہسپتال میں داخل ہونے یا مرنے کا خطرہ 79 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

گلیکسو اسمتھ کلائن نے جاپان میں اس دوا کے استعمال کی منظوری حاصل کرنے کے لیے وزارت صحت کو 6 ستمبر کو درخواست دی ہے۔

امریکہ میں اسٹروویمیب کی ہنگامی استعمال کے لیے مئی میں منظوری دی جا چکی ہے۔

توقع ہے کہ جاپان میں وزارت صحت کی جانب سے اسٹروویمیب کے استعمال کی منظوری ستمبر کے اختتام تک دے دی جائے گی۔ بیماری کی ہلکی علامات سے دوچار مریضوں کے علاج کے لیے مختلف ادویات کا مرکب اینٹی باڈی دوا ’’رونا پریوے‘‘ کے بعد یہ جاپان میں منظوری دی جانے والی دوسری دوا ہو گی۔

یہ معلومات 10 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 302: کورونا وائرس ادویات 4 ، اینٹی باڈی کاک ٹیل علاج

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور دوا ساز کمپنیاں کورونا وائرس کے خلاف ممکنہ طور پر کارآمد ادویات کی طبی آزمائش کر رہی ہیں۔ اب توجہ اس جانب مرکوز ہے کہ آیا ان آزمائشوں سے کوئی نیا علاج دریافت ہوگا یا نہیں۔ ہم اپنے اس نئے سلسلے میں ایسی ادویات کا ایک ایک کر کے جائزہ لے رہے ہیں۔ آج ہم علاج کیلئے دو اینٹی باڈیز کاک ٹیل کے استعمال پر توجہ مرکوز کریں گے۔

حکومت جاپان نے کورونا کے علاج کے لیے چار دواؤں کی منظوری دی ہے۔ ’’اینٹی باڈی کاک ٹیل ٹریٹمنٹ‘‘ کہلانے والے، دو دواؤں کے مرکب کے ذریعے علاج کی منظوری جولائی 2021 میں دی گئی تھی۔

اس طریقۂ علاج میں دو اینٹی باڈی دوائیں ’’کیسِیرِیوِیمیب‘‘ اور ’’اِمڈیوِیمیب‘‘ مریض کو رگوں کے ذریعے ایک ساتھ دی جاتی ہیں۔ یہ ہلکی علامات والے مریضوں کے لیے جاپان میں منظور کیا گیا پہلا طریقۂ علاج ہے اور یہ وائرس کو ختم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ بیرون ملک کیے گئے طبی تجربات کے نتائج سے معلوم ہوا کہ مریض کو بیماری کے ابتدائی مرحلے پر ہی یہ اینٹی باڈی ادویات دینے کی صورت میں، اس کے ہسپتال میں داخل ہونے یا اس کی موت واقع ہونے کا خطرہ 70 فیصد کم ہو جاتا ہے۔

امریکہ کے خوراک اور ادویات کے منتظم ادارے نے نومبر 2020 میں یہ کہتے ہوئے اس کے ہنگامی استعمال کی منظوری دی تھی کہ یہ مریضوں کے شدید بیمار ہونے کے خطرے کی روک تھام میں ایک حد تک مؤثر ہے۔ اکتوبر 2020 میں اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کورونا ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آنے اور ان کے ہسپتال میں داخل ہونے پر، ان کے علاج کے لیے اسی اینٹی باڈی کاک ٹیل کا استعمال کیا گیا تھا۔

جاپان کی وزارت صحت نے ابتداء میں صرف ہسپتال میں داخل مریضوں کو اینٹی باڈی کاک ٹیل دینے کی اجازت دی تھی۔ اس کا مؤقف تھا کہ ایسے مریضوں کی دوران علاج اور بعد از علاج طبی ماہرین کے ذریعے نگرانی ضروری ہے۔ تاہم وائرس متاثرین کی تعداد میں حالیہ بڑے اضافے کے باعث کئی مریضوں کو ہسپتال میں داخل کرنا ممکن نہ رہا۔ چنانچہ وزارت صحت نے 13 اگست کو اپنے رہنماء خطوط پر نظر ثانی کی، جس کے بعد ہوٹلوں اور عارضی طبی مراکز پر زیرِ قرنطینہ متاثرین کے لیے بھی ان کی مؤثر نگرانی کی شرط پر انہیں اینٹی باڈی کاک ٹیل دینے کی اجازت مل گئی۔

25 اگست کو وزیر اعظم سُوگا یوشی ہیدے نے ایک اخباری کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ بیرونی مریضوں کے لیے بھی اینٹی باڈی کاک ٹیل یعنی دو اینٹی باڈی مرکبات کے آمیزے کے استعمال کی اجازت دیں گے۔

یہ معلومات 9 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 301: کورونا وائرس ادویات 3 ، بیرِیسٹینِب

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور دوا ساز کمپنیاں کورونا وائرس کے خلاف ممکنہ طور پر کارآمد ادویات کی طبی آزمائش کر رہی ہیں۔ اب توجہ اس جانب مرکوز ہے کہ آیا ان آزمائشوں سے کوئی نیا علاج دریافت ہوگا یا نہیں۔ ہم اپنے اس نئے سلسلے میں ایسی ادویات کا ایک ایک کر کے جائزہ لے رہے ہیں۔ آج ہم بیرِیسٹینِب پر توجہ مرکوز کریں گے۔

حکومت جاپان نے نئے کورونا وائرس کے علاج کے لیے چار دواؤں کے استعمال کی منظوری دی ہے۔ ان میں سے سوزش ختم کرنے والی دوا بیرِیسٹینِب کے استعمال کی منظوری اپریل 2021 میں دی گئی تھی جو گٹھیا کے ورم کے علاج کیلئے مشہور ہے۔ یہ گولیوں کی شکل میں ہوتی ہے اور اس کے استعمال کی اجازت ریمڈیسیور کے ساتھ صرف درمیانی یا سنگین علامات والے مریضوں کیلئے دی گئی ہے۔

ایک بین الاقوامی طبی آزمائش سے معلوم ہوا ہے کہ صرف بیرِیسٹینِب سے علاج کے مقابلے میں اِسے ریمڈیسویر کے ساتھ ملا کر دینے پر مریض اوسطاً ایک دن جلد صحتیاب ہو گئے۔

یہ معلومات 8 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 300: کورونا وائرس ادویات 2، ڈیکسامیتھاسون

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور دوا ساز کمپنیاں کورونا وائرس کے خلاف ممکنہ طور پر کارآمد ادویات کی طبی آزمائش کر رہی ہیں۔ اب توجہ اس جانب مرکوز ہے کہ آیا اس کا کوئی نیا علاج دریافت ہوگا یا نہیں۔ آج ہم کورونا وائرس ادویات پر اپنے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ڈیکسا میتھاسون پر توجہ مرکوز کریں گے۔

حکومت جاپان نے نئے کورونا وائرس کے علاج کیلئے چار ادویات کی منظوری دی ہے۔ وزارتِ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کے علاج کی دوا کے طور پر ڈیکسامیتھاسون کی جولائی 2020ء میں منظوری دی گئی۔ ڈیکسامیتھاسون، جو اسٹیرائیڈ یعنی نامیاتی مرکب دوا ہے، سوزش اور الرجی ردعمل کم کرنے میں مؤثر ہے۔ اسے گھٹیا نما سُوجن اور نمونیا کے شدید بیمار مریضوں کے علاج کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

برطانیہ میں ایک طبی آزمائش میں ثابت ہوا ہے کہ یہ دوا کووِڈ-19 کی شدید علامات والے مریضوں میں موت کا خطرہ کم کرتی ہے۔ جاپان میں ڈیکسامیتھاسون کو ریمڈیسیویر کے ساتھ ملا کر ہمہ گیر انداز میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی علاج سال 2020ء کے موسمِ بہار میں کورونا وائرس کی پہلی لہر کے بعد اموات کی شرح میں بڑی کمی کا سبب ہے۔

یہ معلومات 7 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 299: کورونا وائرس ادویات 1، ریمڈیسیوِیر

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور دوا ساز کمپنیاں کورونا وائرس کے خلاف ممکنہ طور پر کارآمد ادویات کی آزمائش کر رہی ہیں۔ اب توجہ اس جانب مرکوز ہے کہ آیا اس کا کوئی نیا علاج دریافت ہوگا یا نہیں۔ آج سے شروع کی جانے والے اس نئے سلسلے میں ہم ایسی دواؤں کا ایک ایک کر کے جائزہ لیں گے۔ آج کی پہلی قسط ریمڈیسیوِیر کے بارے میں ہے۔

جاپانی حکومت نے نئے کورونا وائرس کے علاج کے لیے 4 دواؤں کی منظوری دی ہے۔ وائرس کا توڑ کرنے والی دوا ریمڈیسیویر کی ہنگامی صورتحال کیلئے مئی 2020 میں خصوصی منظوری دی گئی۔ اس طرح یہ حکومت کی جانب سے منظور کی جانے والی 4 دواؤں میں سے پہلی ہے۔

ریمڈیسیویر ابتدائی طور پر ایبولا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھی۔ اسے ڈرپ کے ذریعے خون کی رگوں میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال صرف ان سنگین حالت والے مریضوں تک محدود تھا، جنہیں مثال کے طور پر مصنوعی تنفس کی مشین یا ای سی ایم او نامی دل اور پھیپھڑوں کی مشین لگی ہوئی ہو۔ لیکن جنوری 2021 میں حکومت نے نمونیا کی درمیانی علامات والے مریضوں کے لیے اس کے استعمال کی منظوری دی۔

یہ معلومات 6 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 298: بچوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کورونا وائرس انفیکشنز 5 ، کمرۂ جماعت کی بندش، حکومت نے پہلی بار ضوابط طے کر دیے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج بھی جاپان میں کورونا وائرس کے بچوں میں بڑھتے ہوئے انفیکشنز پر گفتگو جاری رکھی جائے گی۔ آج ہم اسکولوں میں ’’کمرۂ جماعت کی بندش اور اس جماعت کے بچوں کو اسکول آنے سے عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کرنے کے لیے وزارت تعلیم کے ضوابط‘‘ کا جائزہ لیں گے۔

اسکول میں زیرِ تعلیم کسی بچے یا عملے کے کسی فرد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد اس بچے کی مخصوص جماعت کو بند کرنے یا نہ کرنے کا اختیار اب تک بورڈ آف ایجوکیشن کو حاصل تھا، جو صورتحال کا جائزہ لینے اور متاثرہ اشخاص سے قریبی رابطے میں آنے والوں کی نشاندہی کرنے والے عوامی صحت مراکز سے مشورہ ملنے کے بعد یہ فیصلہ کرتے تھے۔ تاہم ہنگامی حالت نافذ کردہ علاقوں میں خاطر خواہ دباؤ کا سامنا کرنے والے عوامی صحت مراکز کے کام میں تاخیر ہونے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ وزارت صحت اور وزارت تعلیم نے اس معاملے پر غور و خوض کے بعد مخصوص فیصلے کے لیے معیاری رہنماء اصول طے کر دیے ہیں۔

ان معیاری رہنماء اصولوں میں، کسی متاثرہ شخص کی نشاندہی ہونے کی صورت میں اسکول کی طرف سے اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات بتائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اسکول کو متاثرہ شخص سے قریبی رابطے میں آنے والے یا کورونا وائرس ٹیسٹ کروانا لازمی قرار دیے جانے والے افراد کی فہرست تیار کرنی ہو گی۔

بتایا گیا ہے کہ ٹیسٹ کروانے کی ضرورت پڑنے والے افراد کا تعین کرنے میں مشکل پیش آنے کی صورت میں جماعت کے تمام بچوں کا کورونا وائرس ٹیسٹ کروانا چاہیے۔

مذکورہ رہنماء اصولوں میں بتایا گیا ہے کہ کمرۂ جماعت بند کیا جائے اور بچوں کو عارضی طور پر اسکول آنے سے روک دیا جائے، اگر:

ایک ہی کمرۂ جماعت میں کئی بچے وائرس سے متاثر پائے جائیں۔

صرف ایک بچے میں انفیکشن کی تصدیق ہو، لیکن کئی دیگر میں عام نزلہ زکام سے ملتی جلتی علامات ظاہر ہو رہی ہوں، یا کئی بچوں کے متاثرہ بچے سے قریبی رابطے میں آنے کی نشاندہی ہو اور کمرۂ جماعت میں وائرس کے پھیلنے کی شدید تشویش پائی جائے۔ کمرۂ جماعت کی بندش تقریباً پانچ تا سات دن تک جاری رہے گی۔

اس کے علاوہ، رہنماء اصولوں میں کہا گیا ہے کہ اگر ایک ہی سال کی جماعت کے کئی سیکشنوں کو بند کرنا پڑے اور وائرس کے اس جماعت کے تمام سیکشنوں میں پھیلنے کا قوی امکان موجود ہو تو اس جماعت کے تمام سیکشنوں کو بند کر دیا جائے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مختلف سالوں کی مختلف جماعتوں کو بند کرنے کی صورت میں پورے اسکول کو عارضی طور پر بند کر دیا جائے۔

یہ معلومات 3 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 297: بچوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کورونا وائرس انفیکشنز 4 ، کیا متغیر قِسم ڈیلٹا سے بچوں کے متاثر ہونے کا زیادہ امکان ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم بچوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق اپنے سلسلے کی چوتھی قسط پیش کر رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ اب جبکہ وائرس کی متغیر قسم ڈیلٹا جاپان میں زیادہ عام ہو چکی ہے، تو کیا بچوں کے اس سے متاثر ہونے کا زیادہ امکان ہے؟

قومی ادارہ برائے متعدی امراض کے محققین نے اپریل سے جاپان میں وائرس ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آنے والے تمام افراد کے ڈیٹا کا ان کی عمر کے گروپوں کے لحاظ سے تجزیہ کیا ہے۔ انہوں نے پتہ لگایا کہ جولائی تک جب جاپان میں ڈیلٹا قسم غالب آ چکی تھی، 18 سال تک کے نوجوانوں میں شرح تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ تحقیق میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کے متاثرین کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ اس عمر کے افراد میں ویکسین لگوانے کے باعث متاثر ہونے کی شرح گر چکی تھی۔ محققین کے مطابق تجزیے کے نتائج سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ متغیر قسم ڈیلٹا بچوں کے لیے زیادہ خطرناک ہے۔

ہم نے مذکورہ قومی ادارے کے سربراہ اور وزارت صحت کے کورونا وائرس انفیکشن سے متعلق ماہرین کے پینل کے سربراہ واکِیتا تاکاجی سے دریافت کیا۔ جناب واکِیتا نے بتایا کہ وائرس سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ متاثرین کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہے، وائرس سے باہر متاثر ہونے والے بالغان، گھروں پر بچوں کو وائرس منتقل کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ توقع نہیں ہے کہ صورتحال موسمی فلُو کے وقت جیسی ہوگی، جب وائرس بچوں میں زیادہ منتقل ہوتا ہے۔

یہ معلومات 2 ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 296: بچوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کورونا وائرس انفیکشنز 3 ، اسکولوں میں وائرس سے بڑے بچوں کے متاثر ہونے کا زیادہ امکان

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم بچوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق سلسلے کی تیسری قسط پیش کر رہے ہیں۔ وزارت صحت کی ایک حالیہ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسکولوں میں بڑی عمر کے بچوں میں وائرس سے متاثر ہونے کی شرح زیادہ ہے۔

وزارت کے حکام نے اپریل سے اواخرِ جولائی کے دوران 3 سے 18 سال کی عمر تک کے ایسے 6 ہزار 600 بچوں کا تجزیہ کیا جن کے وائرس ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا تھا اور جن کے متاثر ہونے کے راستوں کا حکام پتہ لگا سکے تھے۔ حکام نے اپنا تجزیہ، ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آنے والے تمام افراد کے اعداد و شمار کے وزارتی نظام کی بنیاد پر کیا۔ تجزیے کے نتائج وزارت کے تشکیل کردہ ماہرین کے ایک پینل کے 25 اگست کے اجلاس میں پیش کیے گئے۔

اس رپورٹ کے مطابق، 3 سے 5 سال تک کی عمر کے بچوں کی 59.8 فیصد تعداد گھروں پر وائرس سے متاثر ہوئی۔ 19.8 فیصد تعداد دن میں ان کی دیکھ بھال کرنے والے ڈے کیئر سینٹرز یا کسی بہبودی مرکز پر متاثر ہوئی۔ جبکہ ان کی 15.9 فیصد تعداد اسکول یا کنڈرگارٹن میں وائرس سے متاثر ہوئی۔ 6 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کی 76.6 فیصد تعداد گھروں پر اور 14.6 فیصد تعداد اسکولوں میں متاثر ہوئی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 13 سے 15 سال کی عمر کے بچوں میں گھروں پر وائرس سے متاثر ہونے والوں کی شرح 60 فیصد، جبکہ اسکولوں میں متاثر ہونے والوں کی شرح 33 فیصد تھی۔ سب سے زیادہ عمر کے یعنی 16 سے 18 سال کی عمر کے گروپ کے بچوں میں سے 45.7 فیصد اسکولوں میں جبکہ 39.4 فیصد گھروں پر وائرس سے متاثر ہوئے۔

تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں کُل متاثرہ بچوں میں سے 20 فیصد سے بھی کم تعداد کے وائرس سے متاثر ہونے کے ذریعے یا راستے کا پتہ چلایا جا سکا۔ رپورٹ کے مطابق، اس کے باوجود یہ رجحان واضح ہے کہ بچے جتنے بڑے ہوں گے، اسکولوں میں وائرس سے متاثر ہونے کا ان کا اتنا ہی زیادہ امکان ہوگا۔

یہ معلومات یکم ستمبر تک کی ہیں۔

سوال نمبر 295: بچوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کورونا وائرس انفیکشنز 2 ، اسکول بند کرنے کیلئے مقامی حالات کو مدِ نظر رکھا جانا چاہیے: ماہرین امراضِ اطفال

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم بچوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے موضوع پر اپنے سلسلے کی دوسری قسط پیش کر رہے ہیں۔

جاپان میں چونکہ بچوں میں کووِڈ-19 انفیکشنز تیزی سے پھیل رہے ہیں، جاپان ماہرینِ امراضِ اطفال سوسائٹی اور جاپان ماہرینِ اطفال ایسوسی ایشن نے جمعرات کے روز ایک آن لائن اجلاس منعقد کیا اور اسکول کی سرگرمیوں سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وائرس کی انتہائی وبائی متغیر قِسم ڈیلٹا کا غلبہ ہو گیا ہے اور پہلے سے زیادہ بچے وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اسکولوں میں متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ٹیوشن مراکز سمیت تعلیمی جگہوں پر انسدادِ انفیکشن کے مکمل اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

اُنہوں نے کہا ہے کہ جب نئی مدت شروع ہو تو ملک بھر میں اسکولوں کو ایک ہی وقت میں بند کرنے کی ضرورت نہیں اور اسکول کو بند کرنے یا بچوں کے مخصوص الگ الگ اوقات میں پہنچنے کیلئے ہر علاقے کی صورتحال کو مدِ نظر رکھا جانا چاہیے۔ امراضِ اطفال کے ماہرین انتظامی حکام سے کہہ رہے ہیں کہ مخصوص اوقات کا ڈھانچہ اور دیگر معیارات پیش کریں۔

اگر بعض ایلیمنٹری اسکول بند ہوئے تو اس کے باعث کچھ والدین کو کام سے چھٹی لینا پڑے گی، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کام کی جگہوں پر مدد اور ادراک ضروری ہوگا۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ چونکہ 10 سال سے زیادہ کی عمر کے بچوں میں انفیکشن کی ماہیت بالغان سے مماثل ہے اس لیے بالخصوص سینیئر ہائی اسکولوں میں آن لائن تعلیم کو متحرک انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔

بغیر بُنائی والے کپڑے سے تیار کردہ قابلِ تلف ماسک وائرس کی منتقلی کی روکتھام کیلئے اہم ہیں۔ لیکن کیونکہ ایک بڑی مقدار استعمال کرنے کی ضرورت ہے، ماہرینِ امراض اطفال کے دونوں گروپوں کا کہنا ہے کہ گھر والوں پر معاشی بوجھ کم کرنے کیلئے بچوں کو مفت ماسک فراہم کرنے کے خیال پر غور کیا جانا چاہیے

جاپان ماہرینِ امراضِ اطفال سوسائٹی کے صدر اوکا آکیرا نے کہا ہے کہ بچوں کیلئے اسکول کی زندگی کو مستحکم کرنا بہت اہم ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر اسکول کی بندش جیسے اقدامات ہوتے ہیں تو ایلیمنٹری، جونیئر اور ہائی اسکولوں کیلئے مختلف اقدامات کی ضرورت ہے، لہٰذا ان میں سے ہر ایک کیلئے علیحدہ علیحدہ معیارات مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ معلومات 31 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 294: بچوں میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ 1 ، جاپان قومی انسٹیٹیوٹ برائے متعدی امراض کی جانب سے اسکولوں میں کورونا وائرس کی روک تھام کے بنیادی اقدامات کا اجراء

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج سے ہم بچوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے موضوع پر ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔

جاپان میں بچوں میں کووِڈ 19 متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں جاپان انسٹیٹیوٹ برائے متعدی امراض نے 25 اگست کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں اسکولوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے بنیادی اقدامات کا خلاصہ پیش کیا ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد اسکولوں میں کلسٹر انفیکشنز یا اجتماعی طور پر متاثر ہونے سے متعلق مذکورہ ادارے کا لیا گیا جائزہ ہے۔

وائرس کی ڈیلٹا نامی متغیر قسم کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 19 سال سے کم عمر بچوں میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن کئی پرائمری اسکولوں میں نسبتاً بڑے پیمانے پر پھیلاؤ اساتذہ میں ہوا ہے، جبکہ بچوں میں بڑے پیمانے پر یا اجتماعی طور پر متاثر ہونے کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔

رپورٹ میں ٹیوشن سینٹروں سمیت نرسری اسکولوں سے یونیورسٹیوں تک تمام تعلیمی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر طالبعلم کی طبعی حالت کو دیکھتے ہوئے ان کی نگرانی کریں۔ اسکولوں کو طبیعت خراب ہونے یا کسی اور وجہ سے غیر حاضر طالبعلم کی گھر پر کی جانے والی سرگرمیوں کی نگرانی کیلئے بھی مکمل اقدامات کرنے چاہیئں۔ رپورٹ میں یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ ان تمام اساتذہ کو جنہیں صحت کا کوئی مسئلہ نہ ہو، لازماً ویکسین لگوانی چاہیے۔

رپورٹ میں تعلیمی اداروں کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ ثقافتی یا کھیلوں کے میلے معطل یا منسوخ کریں، جو بہت سے لوگوں کے جمع ہونے کے باعث انتہائی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اسکولوں کی غیر نصابی سرگرمیوں کی غرض سے اپنے پریفیکچر سے باہر سفر کے لیے رپورٹ میں ہدایت کی گئی ہے کہ طلباء اپنی روانگی سے قبل تین روز کے اندر اندر پی سی آر ٹیسٹ کروائیں۔

رپورٹ میں اسکولوں کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ آن لائن کلاسوں کا انعقاد کرنے سمیت آئی سی ٹی ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جائے، اسکولوں میں ہوا کی آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ جانچنے والے آلات استعمال کیے جائیں، ایسی ایپس فعال انداز میں استعمال کی جائیں جو طلباء کی جسمانی حالت کا جائزہ لیتی رہیں اور جسمانی مدافعت کے ٹیسٹوں کا اہتمام کیا جائے۔

یہ معلومات 30 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 293: بڑے خریداری مراکز میں کورونا وائرس کے اجتماعی پھیلاؤ کے دوران مشاہدے میں آنے والے مشترکہ عوامل

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔

آج ہم بڑے خریداری مراکز پر کلسٹرز یعنی اجتماعی شکل میں کورونا وائرس انفیکشن کے دوران مشاہدے میں آنے والے بظاہر مشترکہ عوامل کا جائزہ لیں گے۔

جاپان میں قومی انسٹیٹیوٹ برائے متعدی امراض نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متاثرہ ڈیپارٹمنٹ اسٹوروں اور خریداری مراکز میں ماہرین روانہ کیے تاکہ انہیں عملے میں انفیکشن پھیلنے کی وجوہات معلوم کرنے میں معاونت فراہم کی جا سکے۔

ان خردہ فروشوں کا کہنا ہے کہ کلسٹر انفیکشنز کی وجوہات کی ابھی تک چھان بین کی جا رہی ہے اور ہر ایک خریداری مرکز کورونا وائرس کے انسدادی اقدامات کو تقویت دے رہا ہے۔

ان ماہرین نے تمام مراکز میں پائے گئے بڑے مشترکہ عوامل سے متعلق ایک رپورٹ مرتب کی ہے اور انفیکشنز کی روکتھام کے لیے اقدامات تجویز کیے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق، عملے کے بیشتر افراد مناسب طریقے سے ماسک تو لگا رہے ہیں، تاہم انہیں ہاتھ دھونے میں بہتری لانی ہو گی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بعض اوقات مرکز کی کچھ مخصوص منزلوں پر صارفین کا ہجوم رہتا ہے۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عملے کے متاثرہ اراکین کے ساتھ رابطے میں آنے والے افراد کا پتہ چلانے کے لیے پورے اقدامات نہ اٹھانے کے بعض واقعات بھی پیش آئے ہیں اور ایسے افراد کے لیے مناسب احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض اوقات عملے کے افراد کھانے پینے کی جگہوں یا طہارت خانوں میں ایک دوسرے کے انتہائی قریب جمع رہے تھے۔

اس میں سفارش کی گئی ہے کہ عموماً بھیڑ لگنے والے مقامات پر آنے والے افراد یا صارفین کی تعداد کو محدود کیا جائے۔ رپورٹ میں خردہ فروشوں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ارتکاز کی پیمائش کرتے ہوئے ہوا کی آمد و رفت بہتر بنانے کا طریقہ اختیار کرنے اور عملے کو کھانے پینے کی جگہوں میں کھانا کھاتے وقت یا طہارت خانے استعمال کرتے وقت ایک دوسرے سے بات چیت نہ کرنے کی تلقین کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔

یہ معلومات 27 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 292: گھر پر قرنطینہ کرنے والی کورونا وائرس سے متاثرہ حاملہ خاتون کے ہنگامی امداد طلب کرنے کے رہنماء خطوط

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کورونا وائرس متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی صورتحال کے دوران اب حاملہ خواتین بھی وائرس سے متاثر ہو رہی ہے۔ ٹوکیو سے ملحقہ چیبا پریفیکچر میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک حاملہ خاتون کو کسی ہسپتال میں جگہ دستیاب نہ ہونے کے باعث مجبوراً گھر پر ہی بچے کو جنم دینا پڑا اور قبل از وقت پیدا ہونے والا وہ بچہ مناسب طبی دیکھ بھال نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔ اس واقعے کے بعد جاپان کی علمِ زچگی اور امراضِ نسواں سوسائٹی اور جاپان کے زچگی کے ماہرین کی تنظیم نے حاملہ خواتین کے لیے ایسی علامات کی فہرست مرتب کی ہے جن کے ظاہر ہونے کی صورت میں انہیں طبی امداد کے عملے سے رابطہ کرنا چاہیے یا ایمبولینس طلب کرنی چاہیے۔ یہ رہنماء خطوط ان تنظیموں کی ویب سائٹس پر دستیاب ہیں۔

ان رہنما خطوط کے تحت گھر پر قرنطینہ کرنے والی کورونا وائرس سے متاثرہ حاملہ خاتون کو درج ذیل صورتوں میں ڈاکٹر یا مقامی عوامی طبی مرکز سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
• اسے ایک گھنٹے میں دو بار سے زائد سانس لینے میں دشواری پیش آئے۔
• جب واش روم تک چل کر جانے جیسی سرگرمیوں میں اس کی سانس پھول جائے۔
• جب اس کے دل کی دھڑکن 110 بار فی منٹ سے بڑھ جائے یا اس کی سانس ایک منٹ میں 20 بار یا اس سے زیادہ ہو جائے۔
• اس کے خون میں آکسیجن کی سطح 93 سے 94 فیصد ہو اور ایک گھنٹہ آرام کے باوجود معمول پر نہ آئے۔

مذکورہ رہنماء خطوط کے مطابق درج ذیل صورتوں میں فوری طور پر ایمبولینس طلب کی جانی چاہیے۔
• جب وہ سانس پھول جانے کے باعث چھوٹا سا جملہ بھی نہ بول سکے۔
• جب اس کے خون میں آکسیجن کی سطح 92 فیصد یا اس سے بھی کم ہو جائے۔

زچگی اور امراضِ نسواں کے ماہرین نے انتظامی اداروں سے بھی کہا ہے کہ وہ اوپر دیے گیے ہنگامی حالات نہ ہونے کی صورت میں بھی جن میں ہنگامی فون کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، حاملہ خواتین کو زچگی کے لیے متعلقہ سہولتوں والے ہسپتال منتقل کرنے میں مدد فراہم کریں۔

انہوں نے انتظامیہ سے ایسا ماحول تشکیل دینے کا بھی کہا ہے جس میں گھر پر قرنطینہ کرنے والی حاملہ خواتین خون میں آکسیجن کی سطحوں کی روزانہ جانچ کر سکیں۔

یہ معلومات 26 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 291: اکیلے رہنے والے افراد کے لیے گھر پر قرنطینہ کی احتیاطی تدابیر

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اب اپنے گھروں میں قرنطینہ کر رہی ہے۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ اگر آپ اکیلے رہتے ہیں اور آپ کے کورونا وائرس ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آ جاتا ہے، لیکن اپنے گھر پر قرنطینہ کے سوا آپ کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تو آپ کو کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

ہم نے یہ سوال بین الاقوامی یونیورسٹی برائے صحت و بہبود کے پروفیسر ماتسُوموتو تیتسُویا سے کیا۔ وہ متعدی امراض کی روک تھام کے احتیاطی اقدامات کے ماہر ہیں۔ پروفیسر ماتسُوموتو نے بتایا کہ اکیلے رہنے والے شخص کو دوستوں یا رشتہ داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنا چاہیے تاکہ رابطہ ختم ہونے کی صورت میں انہیں معلوم ہو جائے کہ مریض کی حالت زیادہ خراب ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ رابطہ بالمشافہ طور پر قریب سے ہی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ بعض افراد مرض کی علامات ظاہر ہونے کے بعد بھی برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہوں، چاہے انہیں عوامی صحت مرکز فون کرنے کی صورت میں وہاں کا فون ہمیشہ مصروف ہی ملے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ مریض طبیعت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں ایمبولینس بلانے کے لیے ہنگامی فون کرنے کے قابل نہ رہے۔ پروفیسر نے مزید کہا کہ ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے مریض کو ہنگامی صورتحال کے لیے پہلے ہی ایک سے زائد افراد کو اپنا رابطہ یا نمائندہ مقرر کر دینا چاہیے۔

پروفیسر ماتسُوموتو نے لوگوں کو خوراک، پینے کے پانی اور جراثیم کش ادویہ کا ذخیرہ کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے، تاکہ وائرس سے متاثر ہو جانے اور گھر پر قرنطینہ کرنے کی صورت میں یہ چیزیں کام آئیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے متاثر ہونے سے پہلے ایسا نہیں کیا انہیں چاہیے کہ وہ دوستوں یا رشتہ داروں کو فون کر کے کہیں کہ کھانے پینے کی، اور دیگر ضروری چیزیں گھر کے دروازے کے باہر رکھ جائیں۔

یہ معلومات 25 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 290: گھر پر قرنطینہ رہنے کے دوران کی احتیاطی تدابیر 2 ، اپنے گھر میں انفیکشنز کی روکتھام کے طریقے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی ایک ریکارڈ تعداد اب اپنے اپنے گھروں میں قرنطینہ میں ہے، یعنی دوسروں سے الگ تھلگ رہ رہی ہے۔ ماہرین کے ایک گروپ نے ٹوئیٹر پر ایسی ہنگامی علامات کے بارے میں پوسٹ کیا ہے جن سے متعلق فوری احتیاط ضروری ہے اور یہ کہ گھر میں قرنطینہ کے دوران وائرس کے اپنے گھر والوں تک پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا کِیا جانا چاہیے۔ ہم اسی موضوع پر دو حصوں پر مشتمل اپنے سلسلے کی دوسری قسط میں گھر پر وائرس منتقلی کی روکتھام کے طریقوں کا جائزہ لیں گے۔

انسدادِ کورونا وائرس کوششوں میں شریک صحت دیکھ بھال اور عوامی حفظانِ صحت کے ماہرین پر مشتمل مذکورہ گروپ نے گھر پر خاندان کے افراد کو وائرس سے متاثر ہونے سے بچانے کیلئے درج ذیل آٹھ نکات کی فہرست جاری کی ہے۔

1۔ مریض اور گھر کے دیگر افراد کو الگ الگ کمروں میں رہنا چاہیے۔
2۔ مریض اور مریض کی دیکھ بھال کرنے والے، دونوں کو ماسک پہننا چاہیے۔
3۔ مریض کی دیکھ بھال کرنے والا فرد جس قدر ممکن ہو ایک ہی ہونا چاہیے۔
4۔ مریض اور دیکھ بھال کرنے والے شخص کو بار بار اپنے ہاتھوں کو دھونا چاہیے۔
5۔ کمرے وغیرہ کو دن کے دوران جس قدر ممکن ہو ہوادار رکھیں۔
6۔ اکثر چھوئی جانے والی مشترکہ جگہوں وغیرہ کو صاف اور جراثیم سے پاک کریں۔
7۔ کپڑے وغیرہ رکھنے کی جگہوں اور کپڑوں کو دھوئیں۔
8۔ کچرے کو مضبوطی سے سربمہر کریں اور اسے باہر پھینکیں۔

مذکورہ گروپ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے بہت سے مریضوں کو صحت عامہ کے سرکاری مراکز سے کسی رابطے یا شفاخانوں کی جانب سے ایسی ہدایات کے بغیر ہی گھر میں قیام کرنا پڑ رہا ہے کہ کیا احتیاط کی جائے، لہٰذا انہوں نے سوچا کہ انہیں ضروری معلومات لوگوں تک پہنچانی چاہیئں۔

یہ معلومات 24اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 289: گھر پر قرنطینہ رہنے کے دوران کی احتیاطی تدابیر 1 ، ہنگامی علامات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی ایک ریکارڈ تعداد اب اپنے اپنے گھروں میں قرنطینہ میں ہے، یعنی دوسروں سے الگ تھلگ رہ رہی ہے۔ ماہرین کے ایک گروپ نے ٹوئیٹر پر ایسی ہنگامی علامات کے بارے میں پوسٹ کیا ہے جن سے متعلق فوری احتیاط ضروری ہے اور یہ کہ گھر میں قرنطینہ کے دوران وائرس کے اپنے گھر والوں تک پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا کِیا جانا چاہیے۔ ہم اسی موضوع پر دو حصوں پر مشتمل اپنے سلسلے میں گھر پر قرنطینہ کی احتیاطی تدابیر کا جائزہ لیں گے۔

کورونا کے پھیلاؤ کی روک تھام کی کوششوں میں شامل صحت عامہ کے ماہرین کے ایک رضاکار گروپ نے 17 اگست کو ٹوئیٹر پر ان نکات کی ایک فہرست پوسٹ کی ہے، جن کا گھر پر الگ تھلگ رہنے کے دوران خیال رکھنا چاہیے۔

اس گروپ نے انتباہی اشاروں کے طور پر 13 ایسی ہنگامی علامات کی ایک فہرست جاری کی ہے جن کے نمودار ہونے کی صورت میں فوراً ایمبولینس بلائی جانی چاہیے۔ درج ذیل 9 علامات ایسی ہیں جن کی مریض کو خود ہی جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔

1۔ ہونٹ نیلے پڑ جانا
2۔ سانس بھاری ہو جانا
3۔ سانس لینے میں اچانک دشواری
4۔ کوئی ہلکا سا کام کرنے پر بھی سانس لینے میں دشواری
5۔ سینے میں درد
6۔ لیٹی ہوئی حالت میں سانس نہ لے سکنا
7۔ سانس پھولنے کے ساتھ کاندھوں کا بھاری ہو جانا
8۔ اچانک سانس میں خرخراہٹ
9۔ نبض کی رفتار میں بے قاعدگی محسوس ہونا

ماہرین کی پوسٹ کردہ ہدایات میں متاثرہ شخص کے گھر والوں کو درج ذیل 4 علامات کا خیال رکھنے کا کہا گیا ہے۔

10۔ چہرہ واضح طور پر زرد ہو جانا
11۔ شکل اور رویہ معمول سے مختلف ہو جانا
12۔ آواز دینے یا چُھونے پر سست رد عمل
13۔ آواز دینے یا چُھونے پر کوئی رد عمل نہ ہونا

مذکورہ گروپ کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں طبی نظام پر بھاری دباؤ ہے وہاں اِن علامات میں سے کسی علامت کے ظاہر ہونے اور ایمبولینس بلانے کے باوجود مریض کو ہسپتال لے جانے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ گروپ کا مشورہ ہے کہ جب لوگ یہ تشویش محسوس کریں کہ اُن کی طبیعت زیادہ خراب ہوتی جا رہی ہے تو انہیں ڈاکٹر کو بلانا چاہیے۔ اس سلسلے میں اُس ڈاکٹر سے جس نے کورونا وائرس کی تشخیص کی ہے، یا مقامی صحت عامہ کے دفتر یا مقامی بلدیہ کی جانب سے فراہم کردہ کورونا وائرس ہاٹ لائن پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ معلومات 23 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 288: کورونا وائرس کی متغیر قسم ڈیلٹا کیا ہے؟ 4 ، یہ ایک دوسری متغیر قسم لمبڈا سے کس طرح مختلف ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارے اس سلسلے میں دنیا بھر میں پھیلنے والی کووڈ 19 کی متغیر قسم ڈیلٹا پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم جائزہ لیں گے کہ کورونا وائرس کی ایک دوسری متغیر قسم لمبڈا کے مقابلے میں متغیر قسم ڈیلٹا کس طرح مختلف ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق متغیر قسم لمبڈا کی موجودگی کی سب سے پہلے تصدیق جنوبی امریکی ملک پیرو میں اگست 2020 میں ہوئی تھی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ متغیر قسم بنیادی طور پر پیرو، چلی اور ایکواڈور جیسے جنوبی امریکی ممالک میں پھیل رہی ہے۔

نئے کورونا وائرس کی دنیا بھر میں پائی جانے والی تمام متغیر اقسام کے جینیاتی تسلسل کا ریکارڈ رکھنے والی گِس ایڈ (GISAID) ویب سائٹ کے مطابق 15 اگست تک 34 ملکوں نے متغیر قسم لمبڈا پائے جانے کی اطلاع دی تھی۔ تاہم گزشتہ چار ہفتوں کے اعداد و شمار پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس متغیر قسم کی موجودگی کی بیشتر اطلاعات چلی سے موصول ہوئی ہیں۔

بعض جینیاتی تبدیلیوں کے باعث متغیر قسم لمبڈا اصل وائرس کے مقابلے میں ممکنہ طور پر زیادہ متعدی ہے یا وائرس کا اثر زائل کرنے والی اینٹی باڈیز کی اثر انگیزی کو کم کر سکتی ہے۔

لہٰذا عالمی ادارہ صحت نے اسے اُن متغیر اقسام کے زمرے وی او آئی میں شامل کیا ہے، جن پر نظر رکھی جائے گی۔ لیکن وائرس کی قابل تشویش سمجھی جانے والی متغیر اقسام کے زمرے وی او سی میں شامل متغیر اقسام ڈیلٹا اور الفا کے مقابلے میں لمبڈا وائرس اتنے وسیع پیمانے پر نہیں پھیل رہا۔ جاپان کے متعدی امراض کے ادارے نے وائرس کی متغیر قسم لمبڈا کو نہ تو وی او سی اور نہ ہی وی او آئی زمرے میں شامل کیا ہے۔

ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ متغیر قسم لمبڈا کس قدر متعدی ہے یا متاثرہ شخص کو کس حد تک سنگین بیماری میں مبتلا کر سکتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ وائرس کے خلاف اقدامات پر اس وائرس کے اثر انداز ہونے اور ویکسین کی اثر انگیزی کو کم کرنے کا پتہ چلانے کے لیے مزید مطالعاتی جائزے درکار ہوں گے۔

دراصل کورونا وائرس کی متغیر قسم ڈیلٹا کے مقابلے میں متغیر قسم لمبڈا کی موجودگی کا پہلے پتہ چلا تھا۔ لیکن متغیر قسم ڈیلٹا زیادہ تیزی سے پھیلی اور اب یہ کئی ملکوں میں فوری خطرے کا باعث بنی ہوئی ہے۔

یہ معلومات 20 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 287: کورونا وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا کیا ہے؟ 3 ، ویکسین کی اثر انگیزی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس سے بننے والی ایک متغیر قِسم ڈیلٹا سے متعلق سلسلے کی تیسری قسط میں آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ اس کے لیے ویکسین کس حد تک مؤثر ہے؟

رواں سال 27 جولائی کو عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ویکسین کے مؤثر ہونے کے حوالے سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، تجربہ گاہ میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جسم میں ویکسین کے باعث بننے والی اینٹی باڈیز کی تعداد متغیر قِسم ڈیلٹا کے خلاف کم ہوئی۔

تاہم، ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے ویکسین کی اثر انگیزی کم ہو جاتی ہے، کیونکہ موجودہ ویکسینیں انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، آسٹرازینیکا یا فائزر ویکسینوں کے حوالے سے وائرس کی متغیر اقسام الفا اور ڈیلٹا سے متعلق کیے گئے تقابلی جائزے سے معلوم ہوا کہ کورونا وائرس کی علامات یا اس کی دوسروں کو منتقلی کی روک تھام کے معاملے میں الفا کے مقابلے میں ڈیلٹا کے لیے ویکسینوں کی اثر انگیزی کم تھی، لیکن شدید بیمار ہونے کی روکتھام کے لحاظ سے دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں پایا گیا۔

یہ معلومات 19 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 286: کورونا وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا کیا ہے؟ 2 ، کیا یہ زیادہ شدید بیماری کا باعث بن سکتی ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ کورونا وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا ایک ایسی انتہائی متعدی متغیر قسم ہے جو اس وقت دنیا بھر میں پھیل رہی ہے۔ ڈیلٹا سے متعلق سلسلے کی دوسری قسط میں آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کیا یہ متغیر قسم اصل وائرس کے مقابلے میں بیماری کی شدید علامات کا باعث بن سکتی ہے؟

اب تک یہ بات واضح طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے کہ آیا وائرس کی متغیر قسم ڈیلٹا زیادہ شدید بیماری کا باعث بن سکتی ہے یا نہیں۔ تاہم، عالمی ادارۂ صحت کے مطابق کینیڈا میں کورونا وائرس کے 2 لاکھ سے زائد متاثرین کے ڈیٹا کی بنیاد پر کی گئی ایک تحقیق کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ اصل وائرس کے مقابلے میں متغیر قِسم ڈیلٹا کے باعث متاثرہ شخص کے ہسپتال میں داخل ہونے کی امکانات میں 120 فیصد، انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل ہونے کے امکانات میں 287 فیصد اور موت کے امکانات میں 137 فیصد اضافہ ہوا۔

یہ معلومات 18 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 285: کووِڈ-19 کی متغیر قِسم ڈیلٹا کیا ہے؟ 1، یہ کتنی وبائی ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ متغیر قِسم ڈیلٹا، کورونا وائرس کی انتہائی وبائی قِسم ہے جو اس وقت دنیا بھر میں پھیل رہی ہے۔ آج متغیر قِسم ڈیلٹا سے متعلق ہمارے اس سلسلے کی پہلی قسط میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ یہ کتنی وبائی ہو سکتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا کی سب سے پہلے بھارت میں اکتوبر 2020ء میں اطلاع دی گئی تھی اور بعد ازاں اس کی دنیا بھر میں تصدیق ہو چکی ہے۔ اگست کے اوائل تک یہ 130سے زیادہ ملکوں اور خطوں میں دیکھنے میں آئی۔ ڈبلیو ٹی او نے اسے وی او سی یا ’’تشویش کی حامل متغیر قِسم‘‘ کی فہرست میں ڈال دیا ہے جنہیں تمام معلوم متغیر اقسام میں ممکنہ طور پر خطرناک ترین سمجھا جاتا ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ متغیر قِسم ڈیلٹا اصل متعدی وائرسوں اور متغیر قِسم الفا سے بھی زیادہ وبائی ہے جس کی سب سے پہلے برطانیہ میں تصدیق ہوئی تھی۔ جاپان کی وزارتِ صحت کے ماہرین کے پینل کے ایک اجلاس میں پیش کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ متغیر قِسم ڈیلٹا اصل وائرسوں کے مقابلے میں 1.87 گُنا زیادہ وبائی ہے اور متغیر قِسم الفا کی نسبت 1.3 گُنا زیادہ متعدی ہے۔ جاپان اور بیرونِ ملک دیگر مطالعات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ڈیلٹا روایتی وباؤں کے مقابلے میں تقریباً دو گُنا وبائی ہے اور متغیر قِسم الفا کی نسبت تقریباً 50 فیصد زیادہ متعدی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے یہ بھی بتایا ہے کہ چینی سائنسدانوں کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ متغیر قِسم ڈیلٹا سے متاثرہ لوگوں میں وائرس کی مقدار روایتی وباؤں سے متاثرہ لوگوں کے مقابلے میں ایک ہزار 200 گُنا زیادہ ہے۔ اس دریافت کا متغیر قِسم کی انتہائی متاثر کرنے کی صلاحیت سے کچھ تعلق ہو سکتا ہے۔

جاپان کے قومی انسٹیٹیوٹ برائے وبائی امراض نے 26 جولائی کو تخمینہ لگایا تھا کہ جولائی کے اختتام تک ٹوکیو اور تین ہمسایہ پریفیکچروں سائیتاما، چیبا اور کاناگاوا میں کورونا وائرس انفیکشن سے متاثرہ تقریباً 80 فیصد لوگ متغیر قِسم ڈیلٹا سے متاثر ہوئے جبکہ اوساکا، کیوتو اور ہیوگو پریفیکچر میں یہ تناسب تقریباً 40 فیصد تھا۔

یہ معلومات 17 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 284: کیا ویکسین بُوسٹرز ضروری ہیں؟ 5، کیا بُوسٹر کے طور پر مختلف قسم کی ویکسین استعمال کی جا سکتی ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ بعض ممالک میں ویکسین بُوسٹر یعنی اضافی ٹیکہ لگانے کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی موضوع کے ہمارے سلسلے میں ان سوالات کے جواب دیے جا رہے ہیں کہ آیا بُوسٹر ٹیکہ ضروری ہے یا نہیں اور یہ کتنا مؤثر ہے۔ آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کیا بُوسٹر یعنی اضافی ٹیکے کے طور پر کوئی مختلف قسم کی ویکسین استعمال کی جا سکتی ہے یا نہیں۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ہامادا آتسُوؤ کے مطابق ایسا کوئی طے شدہ ضابطہ نہیں ہے کہ بُوسٹر کے طور پر لگایا جانے والا ویکسین کا تیسرا ٹیکہ بھی اُسی قسم کا ہو جس قسم کی ویکسین کے پہلے دو ٹیکے لگائے گئے تھے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جانچنے کیلئے ایک طبی آزمائش کی جا رہی ہے کہ آیا دوسرے ٹیکے کے 10 سے 12 ہفتوں بعد لگایا جانے والا اضافی ٹیکہ جسم کے مدافعتی نظام کو تقویت دے گا یا نہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اضافی ٹیکے کے طور پر 7 اقسام کی ویکسینوں کا تقابلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پروفیسر ہامادا کا کہنا ہے کہ فائزر اور موڈرنا کی ویکسین کو ملا دینے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، کیونکہ دونوں ایم آر این اے قسم کی ویکسین ہیں۔ تاہم وہ ڈیٹا کے فقدان کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیتے ہیں کہ تیسرے ٹیکے سے متعلق مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت کی نشاندہی بھی کی ہے کہ وائرس کی متغیر اقسام کے لحاظ سے موجود ویکسینوں یا مؤثر پائی جانے والی نئی ویکسینوں کے استعمال پر غور کیا جانا چاہیے۔

یہ معلومات 16 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 283: کیا ویکسین کا بُوسٹر یعنی اضافی ٹیکہ ضروری ہے؟ 4، موڈرنا کی رائے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ بعض ملکوں میں کورونا ویکسین کے مقررہ ٹیکوں کے بعد بُوسٹر یعنی اضافی ٹیکہ لگائے جانے پر غور کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی موضوع پر ہمارے سلسلے میں اضافی ٹیکے کی ضرورت اور اس کے مؤثر ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ آج ہم امریکی بائیو ٹیک کمپنی موڈرنا کے جاری کردہ بیان کا جائزہ لیں گے۔

موڈرنا نے 5 اگست کو اپنی ویکسین کے مؤثر ہونے اور وائرس کی متغیر اقسام کے خلاف نئی ویکسین کی تیاری کے بارے میں تازہ ترین معلومات جاری کی ہیں۔

اس کمپنی نے کہا ہے کہ غالب امکان یہ ہے کہ اس کی کورونا ویکسین لگوانے والے افراد کو بڑی حد تک وائرس کی انتہائی متعدی متغیر قسم ڈیلٹا کی وجہ سے تیسرا ٹیکہ لگوانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

کمپنی نے کہا ہے کہ اس کی ویکسین ’’دوسرا ٹیکہ لگوانے کے بعد چھ ماہ تک مستقل 93 فیصد مؤثر پائی گئی ہے‘‘۔

لیکن کمپنی نے کہا ہے کہ اس کی ویکسین کی اثرانگیزی میں کمی واقع ہونے کی توقع ہے اور خاص کر وائرس کی متغیر قسم ڈیلٹا کے پھیلاؤ کے تناظر میں رواں سال کے دوسرے نصف حصے میں ’’بُوسٹر یعنی اضافی تیسرے ٹیکے کی ضرورت پیش آنے کا غالب امکان ہے‘‘۔

یہ معلومات 13 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 282: کیا ویکسین بُوسٹرز ضروری ہیں 3، مریضوں پر طبی آزمائش سے اینٹی باڈی ٹائٹرز میں اضافے کی غمازی

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ بعض ممالک میں ویکسین بُوسٹرز فراہم کرنے کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس موضوع کے ہمارے سلسلے میں ایسے سوالات سے متعلق جوابات دیے جا رہے ہیں کہ آیا بُوسٹر ٹیکہ ضروری ہے اور کیا یہ مؤثر ہے۔

آج ہم کورونا ویکسین کی تیسری خوراک سے متعلق مریضوں پر کی گئی آزمائش کا جائزہ لیں گے، جو اینٹی باڈی ٹائٹرز کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

ویکسین تیار کرنے والے ادارے، ویکسین کے تیسرے ٹیکے کے مؤثر ہونے سے متعلق طبی آزمائش کر رہے ہیں۔ فائزر نے مریضوں پر اپنی آزمائش کے نتائج 28 جولائی 2021 کو شائع کیے تھے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ بُوسٹر یا تیسرا ٹیکہ وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا کے خلاف انٹی باڈیز کو بے اثر کر دینے کی سطحوں میں دوسری خوراک کے بعد کے مقابلے میں 18 سال سے 55 سال سے زائد عمر کے لوگوں میں پانچ گُنا اضافہ کرتا ہے۔ نتائج کے مطابق 65 سے 85 سال کی عمر کے افراد میں یہ اضافہ 11 گنا رہا۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ہامادا آتسُوؤ کا کہنا ہے کہ چونکہ ابھی صرف ایک ہی کمپنی کا ڈیٹا سامنے آیا ہے، اس لیے اس معاملے میں ابھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وائرس کی متغیر قسم ڈیلٹا کے خلاف قوت مدافعت بڑھانے کے لیے ممکن ہے کہ تیسرا ٹیکہ ضروری ہو۔

یہ معلومات 12 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 281: کیا ویکسین بُوسٹرز ضروری ہیں؟ 2 ، اسرائیل سے ایک رپورٹ

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ بعض ممالک میں ویکسین بُوسٹرز فراہم کرنے کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس موضوع کے ہمارے سلسلے میں ایسے سوالات سے متعلق جوابات دیے جا رہے ہیں کہ آیا بُوسٹر ٹیکہ ضروری ہے اور کیا یہ حقیقتاً مؤثر ہے۔

آج ہم اسرائیل کی رپورٹ کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ کورونا ویکسین کی افادیت ایک مدت کے بعد ختم ہو گئی۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ کورونا وائرس ویکسین اسرائیل میں لگائی گئی۔ لیکن اس ملک میں محققین نے حال ہی میں رپورٹ دی ہے کہ وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا کے پھیلاؤ کے درمیان کورونا کی علامات کو روکنے کے لیے ویکسین کی اثر انگیزی جو مئی 2021 میں 94 فیصد تھی، جون میں کم ہو کر 64 فیصد رہ گئی۔ اس سے ملک میں بعض محققین کو یہ یقین ہو گیا کہ وقت کے ساتھ ویکسین کی تاثیر کم ہو جاتی ہے۔ حکومت نے تحفظ کو بڑھانے کے لیے لوگوں کو تیسرا ٹیکہ لگانا شروع کر دیا ہے۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ہامادا آتسُوؤ وائرس کی متغیر اقسام کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے تدارک کیلئے لگائی جانے والی موجودہ ویکسینوں سے ملنے والے تحفظ سے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کے اثرات تقریباً 6 ماہ بعد کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ انفلوئنزہ ویکسینیں جن میں کورونا ویکسینوں سے مختلف ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، اُن کے اثرات بھی تقریباً 6 ماہ بعد کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جناب ہامادا کا کہنا ہے کہ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے، تقریباً مذکورہ عرصے بعد ویکسین کا تیسرا ٹیکہ ضروری ہو سکتا ہے

یہ معلومات 11 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 280: کیا ویکسین بُوسٹرز ضروری ہیں؟ 1، دو مرتبہ ویکسین کے ٹیکے لگوانے کی افادیت

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ بعض ممالک ویکسین کے بُوسٹرز فراہم کرنے پر غور کرنے کی غرض سے مصروفِ عمل ہیں۔ ہمارے اس سلسلے میں اس بارے میں سوالات کے جوابات دیے جائیں گے کہ آیا بُوسٹر ٹیکہ ضروری ہے اور اسکی افادیت ہے۔ آج ہم دو مرتبہ ٹیکہ لگائے جانے کی افادیت کا جائزہ لیں گے۔

جاپان کی جانب سے منظور کردہ تمام تین ویکسینوں فائزر-بیون ٹیک، موڈرنا اور آسٹرازینیکا کی دو خوراکیں چند ہفتوں کے وقفے سے لگائے جانے کی ضرورت ہے۔اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ90 فیصد کیسز میں فائزر اور موڈرنا پروٹوٹائپک وائرس سے بیماری کے بڑھنے یا سنگین ہوجانے کی روکتھام میں مؤثر ہیں۔ یہ تناسب آسٹرازینیکا کیلئے تقریباً 90 فیصد ہے۔

بین الاقوامی طبی جریدے ’’نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن ‘‘ کے جولائی 2021ء کے شمارے میں شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق وائرس کی متغیر قِسم الفا کے خلاف فائزر 93.7 فیصد مؤثر اور آسٹرازینیکا 74.5فیصد مؤثر ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متغیر قِسم ڈیلٹا کے خلاف فائزر 88.0 فیصد مؤثر اور آسٹرازینیکا 67.0 فیصد مؤثر ہے۔

اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ ویکسینوں نے سنگین کیسز کی روکتھام میں مدد دی تاہم یہ انفیکشنز کی روکتھام میں اتنی ہی مؤثر نہ تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے باوجود بھی ہوسکتا ہے کہ بعض کیسز میں’ ہرڈ امیونٹی‘ کا حصول نہ ہوسکے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ فائزر ویکسین وائرس کی متغیر قِسم ڈیلٹا سے ہسپتال میں داخل ہونے کی روکتھام میں 96 فیصد مؤثر ہے جبکہ آسٹرازینیکا 92 فیصد مؤثر ہے۔

یہ معلومات 10 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 279: ویکسینیشن اور جھوٹی افواہیں 5

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اگرچہ کورونا وائرس کی ویکسین لگوانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن کئی افراد ابھی تک ویکسین لگوانے کے بارے میں متذبذب ہیں یا ان کے ذہنوں میں ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے بارے میں بے بنیاد معلومات اور جھوٹی افواہیں خاص کر سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہیں۔ ویکسین سے متعلق جھوٹی افواہوں کے بارے میں ہمارے سلسلے کے آج آخری حصے میں انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

صارفین کے جھوٹی معلومات یا افواہوں سے گمراہ ہونے کی روکتھام کے لیے انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والی کمپنیاں اقدامات کر رہی ہیں۔ ایسی ہی ایک کمپنی’یاہو جاپان‘ جھوٹی معلومات کے براہ راست خاتمے کے لیے معتبر معلومات فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے۔ یاہو کی ویب سائٹ کے ہوم پیج پر صارفین کی طرف سے بڑے پیمانے پر دیکھے جانے والے خبروں والے حصے کی موضوعات کی فہرست میں اب ویکسین کے بارے میں جھوٹی معلومات، افواہوں کا جائزہ لینے والے مضامین اور طبی ماہرین کی پیشہ ورانہ وضاحت یا آراء کے خلاصے پر مبنی مضامین دکھائے جاتے ہیں۔

آن لائن سرچ کرتے وقت یاہو سب سے اوپر پیغام دیتا ہے کہ یہ معلومات کس سرکاری ادارے کی طرف سے جاری کی گئی ہیں یا معلومات سائنسی شواہد کی بنیاد پر ہیں۔ مثال کے طور پر ’’vaccine‘‘ کے لفظ کے ساتھ کلیدی الفاظ ’’deaths‘‘ یا ’’side effects‘‘ سرچ کرتے وقت سب سے اوپر ظاہر ہونے والے لنک میں جاپان کی وزارت صحت کی ویب سائٹ پر سوال و جواب کا مضمون اور ویکسین لگوانے کے بعد طبیعت کی ناسازی سے نمٹنے کے طریقوں کے بارے میں کئی طبی ماہرین کے تعاون سے لکھا گیا یاہو کا اپنا مضمون اور ویڈیو نظر آئے گی۔

یاہو کے کارپوریٹ افسر کاتااوکا ہیروشی کہتے ہیں کہ ویکسینیشن پروگرام کے بھرپور انداز میں آگے بڑھنے کے ساتھ ویکسینوں کے بارے میں لوگوں کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا ثبوت سرچ کیے جانے والے کلیدی الفاظ اور انٹرنیٹ پر صارفین کے زیر مطالعہ رہنے والے مضامین سے بھی ملتا ہے۔ جناب کاتااوکا کہتے ہیں چونکہ لوگوں کے لیے ویکسین کے بارے میں معلومات کے معتبر ہونے کا پتہ چلانا بہت مشکل ہے، اس لیے قابل بھروسہ معلومات کا جامع خلاصہ اور معتبر معلومات کو آسان فہم انداز میں پیش کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جناب کاتااوکا کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی لوگوں کی پریشانیوں، تفکرات کو دور کرنے اور ان کے سوالات کا جواب دینے میں مدد فراہم کرنا جاری رکھنے کی امید رکھتی ہے۔

یہ معلومات 6 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 278: ویکسینیشن اور جھوٹی افواہیں 4 ، جھوٹی افواہوں کی مثالیں - 3

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اب پہلے سے زیادہ لوگ ویکسین لگوا رہے ہیں تاہم بہت سے لوگ ابھی تک ویکسین لگوانے سے متعلق فکر مند ہیں یا شک میں مبتلا ہیں۔ ویکسینیشن سے متعلق بے بنیاد معلومات اور جھوٹی افواہیں، خصوصاً سوشل میڈیا پر پھیلی رہی ہیں۔

آج ہم ویکسینیشن کے بارے میں جھوٹی افواہوں کے موضوع پر اپنے سلسلے کی چوتھی قسط میں اُن افواہوں سے متعلق کچھ مزید مثالیں پیش کر رہے ہیں جو پھیلائی جا رہی ہیں۔

جھوٹی افواہ نمبر 5 : ’’ویکسینوں میں مائیکرو چپس ہوتی ہیں‘‘۔

سوشل میڈیا اور دیگر جگہوں پر پھیلی ہوئی ایک غلط معلومات یہ ہے کہ ویکسینوں میں لوگوں کو کنٹرول کرنے کیلئے مائیکروچپس ہیں۔ کورونا وائرس ویکسینوں کے اجزائے ترکیبی، ویکسین بنانے والی کمپنیوں اور جاپان کی وزارت صحت اور امریکہ کی خوراک و ادویات کی انتظامی ایجنسی جیسے کئی ملکوں کےصحت سے متعلقہ اداروں کی ویب سائٹس پر دیئے گئے ہیں۔ ان سے یہ بات عیاں ہے کہ ویکسینوں میں مائیکروچپس نہیں ہیں۔

جھوٹی افواہ نمبر 6 : ’’ویکسینوں سے مقناطیس آپ کے جسم سے چپکتا ہے‘‘۔
سوشل میڈیا پر موجود جھوٹی معلومات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ویکسینیں مقناطیس کو آپ کے جسم سے چپکا دیتی ہیں۔ بیماریوں پر کنٹرول اور روک تھام کے امریکی مرکز کا کہنا ہے کہ ویکسین میں کوئی مقناطیسی اجزاء شامل نہیں ہیں۔ یہ مرکز اس دعوے کی واضح تردید کرتا ہے۔

یہ معلومات 5 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 277: ویکسینیشن اور جھوٹی افواہیں ، 3 جھوٹی افواہوں کی مثالیں - 2

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔
اب پہلے سے زیادہ لوگ ویکسین لگوا رہے ہیں تاہم بہت سے لوگ ابھی تک ویکسین لگوانے سے متعلق فکر مند ہیں یا شک میں مبتلا ہیں۔ ویکسینیشن سے متعلق بے بنیاد معلومات اور جھوٹی افواہیں خصوصاً سوشل میڈیا پر پھیل رہی ہیں۔ آج ہم ویکسینوں سے متعلق جھوٹی افواہوں کے موضوع پر اپنے سلسلے کی تیسری قسط میں اُن افواہوں کی چند مثالیں متعارف کروائیں گے جو پھیلائی جا رہی ہیں۔

جھوٹی افواہ نمبر 3 : ’’ویکسینیں جینیاتی معلومات کو تبدیل کر دیتی ہیں‘‘۔

بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی غلط معلومات میں سے ایک یہ ہے کہ ویکسین کے اجزاء ٹیکہ لگوانے کے طویل عرصے کے بعد بھی ہمارے جسم میں موجود رہتے ہیں اور جسم کی جینیاتی معلومات کو تبدیل کرتے ہیں۔ جاپان کی وزارت صحت نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا ہے کہ فائزر بیون ٹیک اور موڈرنا ویکسین میں استعمال کیا جانے والا ایم آر این اے، جسم میں داخل ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد الگ الگ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ، اس کا ہمارے ڈی این اے کے ساتھ ملاپ نہیں ہو سکتا۔ وزارت کے مطابق یہ بات درست نہیں ہے کہ ویکسینیں ہماری جینیاتی معلومات تبدیل کر سکتی ہیں۔

جھوٹی افواہ نمبر 4 : ’’ویکسینیں انفیکشن کا باعث بنتی ہیں‘‘۔
ایسی غلط معلومات بھی گردش کر رہی ہیں کہ معمر لوگوں کے بہبودی مراکز میں کورونا وائرس ویکسین لگوانے کے بعد عمر رسیدہ افراد یکے بعد دیگرے موت کا شکار ہوئے ہیں۔ ویکسینوں میں کوئی وائرس نہیں ہوتا، لہٰذا یہ کسی انفیکشن کا باعث نہیں بن سکتیں۔ وزارت صحت کے مطابق، یہ بات مصدقہ نہیں ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد کسی مخصوص بیماریوں سے مرنے والوں کی شرح میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

وزارت صحت نے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے پھیلنے والی ایسی افواہوں سے بھی محتاط رہنے پر زور دیا ہے جس میں ٹیکہ لگوانے کے بعد ہونے والی موت کا ذمہ دار ویکسین کو قرار دیا گیا ہے۔ وزارت لوگوں سے کہہ رہی ہے کہ وہ ویکسین لگنے کے بعد کی اموات سے متعلق حکومت کو دی جانے والی اطلاعات کے غلط معنی نہ نکالیں، کیونکہ ان اعداد و شمار میں وہ تمام اموات شامل ہیں جن کا ویکسین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ معلومات 4 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 276: ویکسینیشن اور جھوٹی افواہیں 2 ، جھوٹی افواہوں کی مثالیں - 1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اب پہلے سے زیادہ لوگ ویکسین لگوا رہے ہیں تاہم بہت سے لوگ ابھی تک ویکسین لگوانے سے متعلق فکر مند ہیں یا شک میں مبتلا ہیں۔ ویکسینیشن سے متعلق بے بنیاد معلومات اور جھوٹی افواہیں خصوصاً سوشل میڈیا پر پھیل رہی ہیں۔ آج ہم ویکسینوں سے متعلق جھوٹی افواہوں کے موضوع پر اپنے سلسلے کی دوسری قسط میں اُن افواہوں کی چند مثالیں متعارف کروائیں گے جو پھیلائی جا رہی ہیں۔

جھوٹی افواہ 1 : ’’ویکسینوں کی وجہ سے بانجھ پن ہو جاتا ہے‘‘۔
وسیع پیمانےپر پھیلی ہوئی ایک غلط اطلاع یہ ہے کہ ویکسینوں کے باعث بانجھ پن ہو جاتا ہے۔ اس جھوٹی افواہ میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ویکسینیشن کے نتیجے میں بننے والی انٹی باڈیز، پلیسنٹا یعنی اس عضو پر منفی اثر ڈالتی ہیں جس سے بچہ ماں کے پیٹ میں خوراک اور آکسیجن حاصل کرتا ہے۔ کورونا وائرس ویکسینوں کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ یہ پہلے ہی معلوم ہو چکا ہے کہ انٹی باڈیز پلیسنٹا سے تعلق رکھنے والے پروٹین پر حملہ نہیں کرتیں۔ جاپان میں ویکسینیشن کے نگران وزیر کونو تارو نے بھی زور دیا ہے کہ اس بات کو ثابت کرنے کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے کہ ویکسینوں سے بانجھ پن ہو جاتا ہے۔

جھوٹی افواہ 2 : ’’ویکسینوں سے اسقاطِ حمل ہو جاتا ہے‘‘
ایک اور جھوٹی افواہ یہ ہے کہ جب حاملہ خواتین کو ویکسین لگائی جاتی ہے تو اس سے اسقاطِ حمل ہو جاتا ہے۔ جاپان کی وزارتِ صحت نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا ہے کہ ایسا کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے کہ جس سے ویکسین لگنے والی خواتین میں اسقاطِ حمل بڑھنے کا پتہ چلتا ہو۔ امریکی مرکز برائے امراض کنٹرول اور روکتھام کے تحقیق کاروں کے ایک گروپ کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کا ڈیٹا بھی موجود ہے۔ حمل سے رہنے کے دوران کورونا وائرس ویکسین لگوانے والی 35 ہزار سے زائد خواتین کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اسقاطِ حمل، مردہ بچے کی پیدائش، وقت سے پہلے پیدائش اور پیدائش کے وقت وزن کم ہونے کی شرح، عالمی وباء سے پہلے حاملہ خواتین میں جو شرح تھی اس سے مختلف نہیں ہے۔

یہ معلومات 3اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 275: ویکسینیشن اور جھوٹی افواہیں 1 ، جھوٹی افواہوں سے کیسے نمٹا جائے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ویکسینیشن کے بارے میں جھوٹی افواہوں سے نمٹنے کے سلسلے کی پہلی قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے ساتھ ساتھ اب بھی کئی لوگ اس بارے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ سوشل میڈیا نے ویکسینیشن سے متعلق بے بنیاد معلومات اور جھوٹی افواہیں پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔

15 جولائی کو منعقدہ ایک آن لائن مباحثے کا موضوع یہی تھا کہ اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے؟ اپریل سے جولائی 2021 کے درمیان ویکسینیشن سے متعلقہ جھوٹی افواہیں اور بے بنیاد معلومات پر مبنی ٹوئیٹس میں 8 گنا اضافہ ہوا، یہ بتاتے ہوئے انٹرنیشنل یونیورسٹی آف جاپان کے پروفیسر یاماگُچی شِن اِچی نے وضاحت کی ویکسینیشن سے متعلق افواہیں کس طرح انتہائی تیز رفتاری سے پھیل گئیں۔

پروفیسر یاماگُچی نے یکطرفہ طور پر درست معلومات کے پھیلاؤ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ایک کیس کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ذرائع ابلاغ کی جانب سے حقائق سے متعلق اطلاعاتی ذرائع کے مستند ہونے کی جانچ پڑتال پر مبنی مضامین جاری کیے جانے کے بعد کس طرح جھوٹی افواہوں کی مذمت میں سوشل میڈیا پوسٹس میں اضافہ ہوا۔

اس کے بعد انٹرنیٹ کمپنیوں کے اٹھائے گئے اقدامات متعارف کروائے گئے۔ ٹوئیٹر کے ایک اہلکار نے کمپنی کی جانب سے ایسے نظام کے نفاذ کی تفصیل بتائی کہ کس طرح کورونا وائرس سے متعلق غلط فہمی پھیلانے والی پوسٹس پر مخصوص نشان لگا دیا جاتا ہے، جس کے بعد لوگ ان پوسٹس کا جواب نہیں دے سکتے اور نہ ہی لائک یا دوبارہ ٹویٹ کرسکتے ہیں۔

بعد ازاں، سوشل میڈیا ایپ لائن کے ایک ملازم نے اپنی کمپنی کے اس نظام کی تفصیل بتائی جس میں کمپنی نے استعمال کنندگان کیلئے مرکزی یا مقامی حکومتوں کے باضابطہ اکاؤنٹس سے براہ راست معلومات فراہم کرنے کا انتظام کیا ہے۔

اس مباحثے میں جاپان کے ویکسینیشن کے نگران وزیر کونو تارو کا ایک وڈیو پیغام دکھایا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن کے بارے میں انٹرنیٹ گمراہ کُن اطلاعات سے بھرا ہوا ہے۔ جناب کونو کے مطابق حکومت کو اس بات پر انتہائی تشویش ہے کہ ان غلط معلومات نے کس طرح غلط فہمیاں پیدا کر دی ہیں اور خصوصاً نوجوان نسل میں ویکسین لگوانے سے متعلق ضرورت سے زیادہ تشویش کو کیسے جنم دیا ہے۔ ویکسینیشن کے نگران وزیر کے مطابق غلط اطلاعات میں اکثر ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے جو لوگوں میں تشویش پیدا کرے، مثلاً ’ہمیں دوا ساز کمپنیوں سے خفیہ اطلات ملی ہیں‘ وغیرہ۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ درست اطلاعات کی بنیاد پر ویکسین لگوانے پر غور کریں۔

اس سلسلے کی اگلی قسط میں ہم جھوٹی افواہوں کی مخصوص مثالیں متعارف کروائیں گے۔

یہ معلومات 2 اگست تک کی ہیں۔

سوال نمبر 274: ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں کیلئے انسداد وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 9، ذرائع ابلاغ کے لیے اقدامات، حصہ دوم

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں سے متعلق ضوابط کی نویں قسط پیش کر رہے ہیں۔ آج اُن اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے جن پر ذرائع ابلاغ کے ارکان عمل کریں گے۔

ذرائع ابلاغ کے ارکان کے لیے ترتیب دیے گیے ضوابط کے مطابق، انہیں جاپان کے لیے روانگی کے 96 گھنٹوں کے اندر اندر دو الگ الگ دنوں میں کووڈ 19 کا ٹیسٹ دو بار لازماً کروانا ہوگا۔ جاپان آمد کے بعد پہلے 14 روز تک انہیں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور وہ کھیلوں کے مقابلوں کے مقامات اور دیگر صرف اُن مقامات تک ہی جا سکیں گے جو انہوں نے آنے سے قبل جمع کروائے گئے اپنی سرگرمیوں کے منصوبے میں بیان کیے ہیں۔ پلے بک کے مطابق، ان کے جاپان میں قیام کے دوران ان کے اسمارٹ فون کے جی پی ایس فنکشن کو استعمال کرتے ہوئے ان تمام جگہوں کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا جہاں وہ جائیں گے۔

اس پلے بک میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے لیے ان کے کام کے لحاظ سے ٹیسٹوں کی تعداد اور وقفے کی فہرست بھی دی گئی ہے۔ مثلاً مقابلوں کے دوران کھلاڑیوں اور عہدیداروں کے انتہائی قریب جانے والے نشریاتی اداروں کے ارکان اور فوٹوگرافرز کو روزانہ ٹیسٹ کروانا ہوگا۔ کھلاڑیوں اور عملے کے افراد کے ساتھ کبھی کبھار رابطے میں آنے والے لوگوں کو ہر چار روز بعد ٹیسٹ کروانا ہوگا، جبکہ کھلاڑیوں اور عملے کے افراد کے ساتھ انتہائی کم رابطے یا بالکل رابطے میں نہ آنے والوں کو ہر سات روز بعد ٹیسٹ کروانا ہوگا۔

پلے بک میں درج شدہ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اجازت ناموں کی منسوخی یا مالیاتی پابندیوں جیسی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے جاپان میں قیام کا اجازت نامہ بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

یہ معلومات 21 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 273: ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں کے لیے انسدادِ وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 8 ، ذرائع ابلاغ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات

این ایچ کے نئے کورونا وائرس کے بارے میں سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں کے موقع پراٹھائے جانے والے انسدادِ کورونا وائرس اقدامات کی معلومات سے متعلق آٹھویں قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں جس میں اُن اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی جن پر ذرائع ابلاغ کے ارکان عمل کریں گے۔

اولمپک کھیلوں کی کوریج کیلئے غیرملکی ذرائع ابلاغ کا عملہ جاپان آ رہا ہے۔

ٹوکیو اولمپک کھیلوں کی انتظامی کمیٹی نے 21 جون تک بتایا تھا کہ توقع ہے کہ تقریباً 200 ملکوں اور خطہ جات کے ذرائع ابلاغ کی لگ بھگ دو ہزار تنظیموں سے 16 ہزار سے زائد میڈیا ارکان آئیں گے۔

اس کمیٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ توقع ہے کہ جاپانی اور غیرملکی ذرائع ابلاغ کے 70 سے 80 فیصد نمائندوں کو کھیلوں سے قبل ویکسین لگ چکی ہوگی۔

ذرائع ابلاغ کے ارکان کیلئے پلے بُک میں کہا گیا ہے کہ وہ جاپان میں ابتدائی 14 روز لازمی طور پر عوامی نقل و حمل کے ذرائع استعمال نہیں کریں گے اور انہیں صرف کھیلوں کے مراکز اور اُن مقامات پر جانے کی اجازت ہے جو انہوں نے اپنی سرگرمی کے منصوبے میں بیان کیے ہیں۔

لیکن بعض ذرائع ابلاغ ایسی پابندیوں کی مخالفت کا اظہار کر رہے ہیں۔ امریکہ کے 10 ذرائع ابلاغ نے مشترکہ طور پر انتظامی کمیٹی کو ایک احتجاجی مراسلہ بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی سرگرمیاں محدود ہوں گی۔

ایسی آراء کے جواب میں کمیٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر سخت اقدامات ضروری ہیں اور یہ کہ یہ اقدامات کھیلوں کے تمام شرکاء اور جاپان میں لوگوں کیلئے اہم ہیں۔ کمیٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کی آزادی کا احترام کرے گی اور جس قدر ممکن ہو سکا صحافیوں کیلئے رپورٹنگ کرنے کا عمل ہموار بنائے گی۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کیلئے اپنی سرگرمیوں کے دوران مکمل انسدادِ وائرس اقدامات کرنا ایک چیلنج ہے۔

ذرائع ابلاغ کی جانب سے جو اقدامات کیے جائیں گے ہم اُن سے متعلق اگلی قسط میں مزید معلومات آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔

یہ معلومات 20 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 272: ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں کیلئے انسدادِ وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 7، ایتھلیٹس ولیج میں رویوں سے متعلق ضوابط

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں کے شرکاء کی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط کی ساتویں قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آج کا خصوصی موضوع ایتھلیٹس ولیج میں کھلاڑیوں کا رویہ ہے۔

اولمپک اور پیرالمپک کھیلوں میں ایتھلیٹس ولیج کہلانے والا علاقہ ان کھیلوں کا ایک ایسا علامتی علاقہ ہوتا ہے جہاں تمام کھلاڑی قومیت، نسل یا اپنے کھیلوں کے شعبے سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں۔ تاہم، اس بار ٹوکیو اولمپک کھیلوں کیلئے کورونا وائرس انفیکشن کے پھیلاؤ کی روک تھام کی غرض سے کھلاڑیوں کی نقل و حرکت اور رویوں سے متعلق غیر معمولی ضوابط نافذ ہیں۔

اب تک کے اولمپک کھیلوں میں ہر ملک خود یہ طے کرتا تھا کہ اس کا دستہ اولمپک ولیج میں کب تک قیام کرے گا۔ لیکن ٹوکیو گیمز میں کھلاڑی ایتھلیٹس ولیج میں اپنے قیام کو محدود کرنے کے پابند ہیں۔ اولمپک کھلاڑی اپنے مقابلے سے 5 روز قبل ولیج میں داخل ہو سکیں گے اور مقابلوں کے اختتام کے 2 روز کے اندر اندر انہیں وہاں سے لازمی نکلنا ہوگا۔ پیرالمپک کے کھلاڑی اپنے مقابلوں سے 7 روز قبل ایتھلیٹس ولیج میں داخل ہو سکیں گے۔

کھلاڑیوں کے لیے ولیج میں قیام کے دوران بھی کئی ضوابط لاگو کیے گئے ہیں۔ کھلاڑیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ جسمانی رابطے مثلاً ہاتھ ملانے یا گلے ملنے سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ وہ ایسے بند مقامات پر بھی جمع نہ ہوں جہاں ہوا کی آمد و رفت مناسب نہ ہو، ہجوم ہو اور نشستیں وغیرہ قریب قریب ہوں۔

ٹوکیو 2020 پلے بکس میں دیے گئے ضوابط کے مطابق انہیں ایتھلیٹس ولیج کے فٹنس سینٹر میں ٹریننگ کے دوران ماسک پہننا ہوگا۔ کھانے کے مرکزی کمرے میں کھلاڑیوں کو ایک دوسرے سے کم از کم 2 میٹر کا فاصلہ رکھنا ہوگا اور انہیں کہا جائے گا کہ جس قدر ممکن ہو سکے کھانا اکیلے کھائیں۔

کھلاڑیوں کو ماضی کے اولمپک یا پیرالمپک مقابلوں وغیرہ کے بعد اپنے کمرے میں الکحل والے مشروبات پینے کی اجازت دی گئی تھی۔ ٹوکیو گیمز کیلئے انتظامی کمیٹی نے کمروں کے اندر شراب پینے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن عوامی مقامات اور ولیج کے پارک وغیرہ میں لوگوں کو گروپ کی شکل میں پینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اگلی قسط میں ہم ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد سے متعلق پلے بُکس میں وضع کردہ معلومات آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔

یہ معلومات 19 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 271: ٹوکیو گیمز کے لیے انسدادِ وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 6 ، ضوابط کی تعمیل نہ کرنے کی صورت میں انضباطی کارروائی

نئے کورونا وائرس کے بارے میں این ایچ کے سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ٹوکیو اولمپکس اور پیرالمپکس کے لیے کورونا وائرس کے انسدادی اقدامات کی تفصیل پر مبنی ٹوکیو 2020 پلے بُکس یعنی ٹوکیو 2020 ضوابط کے حوالے سے ہمارے اس سلسلے کی چھٹی قسط میں آج ہم ان ضوابط کی تعمیل نہ کرنے والے اتھلیٹس اور گیمز سے متعلقہ دیگر افراد کو درپیش ممکنہ نتائج پر توجہ مرکوز کریں گے۔

پلے بُکس میں کہا گیا ہے کہ ان ضوابط کی تعمیل نہ کرنے والوں کو انضباطی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماسک لگانے کے حوالے سے قصداً بدتہذیبی کا مظاہرہ کرنے، پیش کردہ سفری منصوبے سے ہٹ کر دوسرے مقامات کے دورے کرنے اور کووڈ 19 کے ٹیسٹ کروانے سے انکار کرنے سمیت دیگر کو ضوابط کی خلاف ورزی شمار کیا گیا ہے۔

کسی ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی کی اطلاع ملنے کی صورت میں تحقیقات کی جائیں گی۔ خلاف ورزی کی تصدیق ہونے پر گیمز کی انتظامی کمیٹی، بین الاقوامی اولمپک کمیٹی اور دوسری متعلقہ تنظیمیں اس معاملے پر مشاورت کریں گی، جس کا نتیجہ گیمز میں شرکت کی منظوری کی منسوخی، نااہلی اور مالی پابندیوں سمیت انضباطی کارروائی کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے۔ ان ضوابط میں لکھا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جاپانی حکام سخت انتظامی اقدامات اٹھا سکتے ہیں، جن میں 14 روز ازخود قرنطینہ میں رہنا یا جاپان میں قیام کے اجازت نامے کی منسوخی شامل ہے۔

یہ معلومات 16 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 270: ٹوکیو گیمز کے لیے انسدادِ وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 5، نئے کورونا وائرس کا ٹیسٹ 2

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں کے موقع پراٹھائے جانے والے انسدادِ کورونا وائرس اقدامات کی معلومات سے متعلق پانچویں قسط پیش کر رہے ہیں۔ آج کا خصوصی موضوع بھی کھلاڑیوں کا وائرس ٹیسٹ ہے۔

ٹوکیو 2020 پلے بُکس میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے ضوابط کی تفصیل دی گئی ہے۔ اس میں وائرس کے ٹیسٹ کیلئے تفصیلی منصوبہ بھی شامل ہے۔

اِن پلے بکس میں دیے گئے ضوابط کے مطابق کھلاڑیوں، کوچز اور عملے کے دیگر افراد کے جاپان پہنچنے پر ہوائی اڈے پر کیے جانے والے ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آنے کے باوجود ان کے لیے بنیادی طور پر روزانہ کووڈ 19 ٹیسٹ کروانا لازمی ہے۔

پہلے صبح 9 یا شام 6 بجے ان کے منہ سے لیے گئے لعاب کے ذریعے ان کا کوانٹی ٹیٹِوسِلویا انٹی جین ٹیسٹ کیا جائے گا۔ اس ٹیسٹ کا نتیجہ غیر واضح یا مثبت ہونے کی صورت میں لعاب کے اُسی نمونے کو استعمال کرتے ہوئے پی سی آر ٹیسٹ کیا جائے گا۔

اس عمل کا حتمی نتیجہ آنے میں تقریباً 12 گھنٹے لگنے کی توقع ہے۔ لعاب کے ذریعے کیے گئے پی سی آر ٹیسٹ کا نتیجہ بھی غیر واضح یا مثبت آنے کی صورت میں متعلقہ شخص کو اولمپک و پیرالمپک ولیج میں قائم کووڈ 19 کلینک میں ناک کے اندرونی حصے سے حاصل کردہ مواد کے ذریعے پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا۔ اس ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آنے کی صورت میں وہ شخص کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا مجاز ہوگا۔

ٹوکیو 2020 انتظامی کمیٹی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ٹیسٹ کے عمل کے کھیلوں پر اثرات کو کم سے کم رکھنے پر پوری توجہ دی ہے۔

کھلاڑی اور منتظمین کے ٹیسٹ کے لیے منہ کے لعاب کے نمونے ہر ٹیم کے کووڈ 19 رابطہ افسر کی نگرانی میں ہی لیے جائیں گے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ منتظمین اس معاملے میں کوئی دھوکہ دہی نہ ہونے کو کیسے یقینی بنائیں گے؟

انتظامی کمیٹی اور بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ لعاب کے نمونے لینے کے عمل کی مکمل نگرانی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وہ کسی پیشگی اطلاع کے بغیر اچانک معائنے کرنے پر بھی غور کریں گے۔

اس سلسلے کی اگلی قسط میں ہم بتائیں گے کہ کھلاڑیوں اور ٹیم کے عہدیداروں کو پلے بکس میں دیئے گئے ضوابط کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں کن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ معلومات 15 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 269: ٹوکیو گیمز کیلئے انسدادِ وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 4 ، نئے کورونا وائرس کا ٹیسٹ 1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ آج ہم کورونا وائرس کے اُن اقدامات سے متعلق چوتھی قسط آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں جو ٹوکیو اولمپک اور پیرالمپک کھیلوں کے موقع پر خصوصاً کھلاڑیوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ سے متعلق اٹھائے جائیں گے۔

ٹوکیو 2020ء پلے بُکس میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روکتھام کیلئے مقرر کردہ ضوابط بیان کیے گئے ہیں جن میں وائرس ٹیسٹنگ کا تفصیلی منصوبہ شامل ہے۔

اس پلے بُک میں بتایا گیا ہے کہ جاپان روانہ ہونے والے کھلاڑیوں، کوچز اور ٹیم کے دیگر ارکان کو جاپان روانہ ہونے والی پرواز سے قبل 96 گھنٹے کے اندر اندر کووِڈ-19 کے دو ٹیسٹ علیحدہ علیحدہ دنوں میں لازمی کروانا ہوں گے۔ان دو ٹیسٹوں میں سے کم از کم ایک لازمی طور پر روانگی سے 72 گھنٹے پہلے کروانا ہوگا۔

شرکاء سے کہا جائے گا کہ وہ حکومتِ جاپان کے منظور کردہ پی سی آر ٹیسٹ یا کمیتی انٹی جین ٹیسٹ، کیو اے ٹی کراوئیں جو تھوک کے نمونوں یا پھر روئی والی نلی سے ناک کے اندر سے لیے گئے سواب نمونے استعمال کر کے انجام دیے جائیں۔

انہیں جاپان پہنچنے پر ہوائی اڈے پر بھی لازماً ٹیسٹ کروانا ہوگا۔ اس ٹیسٹ کے نتیجے کیلئے انہیں ہوائی اڈے پر انتظار کرنا ہوگا۔ اگر ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آنے کی تصدیق ہوئی تو انہیں دوبارہ وائرس ٹیسٹ کیلئے اولمپک ولیج میں قائم بخار کے بیرونی مریض مرکز پر لے جایا جائے گا۔

اگلی قسط میں ہم جاپان میں اولمپک کھیلوں کے شرکاء کے قیام کے دوران کے کورونا وائرس ٹیسٹنگ کے عمل کا جائزہ لینا جاری رکھیں گے جس کی تفصیل پلے بُک میں بیان کی گئی ہے۔

یہ معلومات 6 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 268: ٹوکیو گیمز کیلئے انسدادِ وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 3 ، کھلاڑیوں کی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط 2

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ٹوکیو اولمپک و پیرالمپک کھیلوں کے شرکاء کے جاپان پہنچنے کے بعد کی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط کی کتاب کیا کہتی ہے؟ آج ہم اس سلسلے کی دوسری قسط پیش کررہے ہیں۔

ٹوکیو 2020 پلے بکس میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ضوابط بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں شرکاء کے جاپان میں قیام کے دوران کی جا سکنے والی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط بھی شامل ہیں۔

کھلاڑیوں اور کوچز کو کہیں آنے جانے کے لیے بنیادی طور پر عوامی نقل و حمل کے ذرائع استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ لازماً تنظیموں کی فراہم کردہ گاڑیوں کی خدمات ہی استعمال کریں گے اور اگر وہ یہ خدمات استعمال نہیں کرسکتے تو انہیں لازماً چارٹرڈ یا مخصوص شدہ ٹیکسیاں استعمال کرنی ہوں گی۔

جب شرکاء مخصوص رہائشی سہولت ’ایتھلیٹس ولیج‘ کے باہر اپنے قیام کا بندبست کریں تو ایسی صورت میں انہیں بنیادی طور پر کسی فرد کی فراہم کردہ رہائش گاہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ شرکاء کی جانب سے خود انتظام کردہ رہائشگاہ کے انتظامی کمیٹی کی مقررہ شرائط پر پورا نہ اترنے کی صورت میں ان سے کوئی اور رہائش گاہ تلاش کرنے کی درخواست کی جائے گی۔

جہاں تک کھانے وغیرہ کی بات ہے تو ایتھلیٹس ولیج میں رہائش پذیر شرکاء کو لازماً وہیں پر یا کھیلوں کے مقامات پر کھانا، کھانا ہوگا۔ دیگر افراد کھیلوں کے مقامات یا اپنی رہائشی سہولت کے ریستوران میں کھانا کھائیں گے۔ انہیں روم سروس کے ذریعے اپنے کمرے میں کھانا منگوانے کی بھی اجازت ہوگی۔

اگلی قسط میں ہم پلے بک یا ضوابط کی کتاب میں دیئے گئے کورونا وائرس ٹیسٹ کے طریقۂ کار کا جائزہ لیں گے۔

یہ معلومات 5 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 267: ٹوکیو گیمز کے لیے انسدادِ وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 2 ، کھلاڑیوں کی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط 1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کا جواب دے رہا ہے۔ آج ہم اس موضوع پر پہلا حصہ پیش کر رہے ہیں کہ ٹوکیو اولمپک اور پیرالمپک کھیلوں میں طبع آزمائی کے لیے جاپان میں آمد کے بعد کھلاڑیوں کی سرگرمیوں سے متعلقہ ضوابط کی کتاب میں کیا درج ہے؟

ٹوکیو 2020 پلے بُکس میں وہ ضوابط درج ہیں جن کا مقصد کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ ان میں جاپان میں قیام کے دوران شرکاء کی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط شامل ہیں۔

کھلاڑیوں اور کوچز کے لیے ضروری ہے کہ وہ جاپان میں آمد سے قبل، ’’ایکٹیویٹی پلان‘‘ نامی دستاویز مکمل کر کے اسے انتظامی کمیٹی کے سپرد کریں۔ اس میں انہیں جاپان میں اپنے پہلے 14 روز کی سرگرمیوں کی تفصیل بتانا لازمی ہے جس میں قیام گاہوں کا پتہ اور ان مقامات کی تفصیل بھی درج کرنا ہو گی جہاں ان کے جانے کا ارادہ یا امکان ہے۔ ساتھ ہی انہیں اپنا نام اور پاسپورٹ کی تفصیل بھی درج کرنا ہے۔ شرکاء کے لیے ایک ایسی ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کرنا ضروری ہے جو ان کی صحت کی نگرانی کے مقصد سے بنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں COCOA یعنی کانٹیکٹ کنفرمینگ ایپ بھی ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کرنی ہے۔ ان کے لیے لازمی ہے کہ اپنے اسمارٹ فون کی لوکیشن انفارمیشن سروسز اور لوکیشن ہِسٹری بھی آن کریں۔

کھلاڑیوں اور کوچز پر لازم ہے کہ وہ جاپان میں آمد کے بعد اپنے ’’ایکٹیویٹی پلان‘‘ پر عمل کریں۔ اگر وہ اپنے قیام کے پہلے تین روز میں اپنے کھیلوں سے متعلق سرگرمیاں انجام دیتے ہیں تو ایسا کڑی نگرانی میں کرنا ہو گا۔ اس میں نگران کی موجودگی یا جی پی ایس ڈیٹا کے استعمال کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ان کی نقل و حرکت، رہائشی سہولیات اور پریکٹس کے مقامات تک محدود رہے گی اور انہیں سیاحتی مقامات جیسی دیگر جگہوں پر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

یہ معلومات 2 جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 266: ٹوکیو اولمپک کھیلوں کیلئے انسداد وائرس اقدامات: ٹوکیو 2020 پلے بُکس 1 ، یکم جولائی سے نافذالعمل ضوابط

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارا آج کا سوال یہ ہے کہ ٹوکیو اولمپکس و پیرالمپکس کے لیے کس قسم کے انسداد وائرس اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی اور ٹوکیو اولمپکس و پیرالمپکس کی انتظامی کمیٹی نے 15 جون کو ٹوکیو پلے بُکس 2020 کے تیسرے اور حتمی ورژن کا اعلان کر دیا ہے جن میں کھلاڑیوں سمیت گیمز کے تمام شرکاء کے لیے انسداد کورونا وائرس ضوابط کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، جن کی پابندی ان کے لیے لازمی ہے۔ پلے بُکس کا پہلا ورژن فروری میں جبکہ دوسرا اپریل میں جاری کیا گیا تھا۔

اس تیسرے اور حتمی ورژن میں مختلف ضوابط اور اقدامات کی وضاحت کے لیے اضافی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

مثال کے طور پر، مذکورہ تازہ ترین ورژن میں کھلاڑیوں کے لیے روزانہ کورونا ٹیسٹ کے طریقۂ کار کا خاکہ وضع کیا گیا ہے جن کا مقصد ان کے مقابلوں کے شیڈول پر پڑنے والے اثرات کو کم سے کم کرنا ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کورونا وائرس کی قابل تشویش متغیر اقسام سے نمٹنے کے لیے جاپان میں داخلے کے وقت کے اقدامات کو مزید سخت کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پلے بک میں دیے گئے ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں ممکنہ نتائج کے طور پر مالی پابندیوں کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ خلاف ورزی کے دیگر ممکنہ نتائج میں کھیلوں کیلئے نااہلی اور جاپان میں قیام کے اجازت نامے کی منسوخی بھی شامل ہیں۔

پلے بکس میں دیے گئے ضوابط کا نفاذ جمعرات یکم جولائی سے شرع ہو گیا ہے اور ان میں تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔

اگلی قسط میں ہم گیمز کے شرکاء کے جاپان پہنچنے کے بعد کی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط کا جائزہ لیں گے۔

یہ معلومات یکم جولائی تک کی ہیں۔

سوال نمبر 265: کیا کووِڈ 19 کے لیے کوئی خاص غذا یا سپلیمینٹ کارآمد ہے؟

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہمارا آج کا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی خاص غذا یا سپلیمینٹ کووڈ 19 کے معاملے میں کارآمد ہے؟

جاپان کی صارف اُمور ایجنسی نے کورونا وائرس سے بچاؤ میں کارآمد ہونے کی دعویدار آن لائن فروخت ہونے والی مصنوعات سے متعلق اپریل اور مئی میں کیے گئے جائزے کے نتائج 25 جون کو جاری کیے۔ یہ ادارہ گزشتہ سال سے ایسے سروے کر رہا ہے۔

اس ادارے کے حکام کو پتہ چلا کہ 49 مصنوعات کے لیبل یا اشتہارات غیر مناسب ہیں۔

مثال کے طور پر ایسے ہی ایک قابلِ اعتراض اشتہار میں کہا گیا تھا کہ آپ وٹامن ڈی سپلیمینٹ لینے کی صورت میں کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہوں گے۔ ایک اور اشتہار میں اس بات کی تصدیق کا دعویٰ کیا گیا تھا کہ جاپانی پھل یعنی کاکی کی ترشی کی حامل کینڈی کورونا وائرس کو غیر مؤثر کر دیتی ہے۔ اسی طرح ایک اور اشتہار میں کہا گیا تھا کہ سیاہ پھپھوندی کی ایک قسم سے تیار کی جانے والی چا گا چائے کورونا وائرس کے خلاف کارآمد ہے۔

حکام کے مطابق، ان اشتہارات میں کیے گئے دعوؤں کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ غلط فہمی پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے ایسی مصنوعات فروخت کرنے والے 13 کاروباری اداروں کو مصنوعات کے لیبل اور اشتہارات میں بہتری کی ہدایت کی۔ صارف اُمور ایجنسی کے حکام اپنی ویب سائٹ پر ایسے اشتہارات کے نمونے بھی لگا رہے ہیں اور صارفین سے کہہ رہے ہیں کہ وہ غلط فہمی کا باعث بننے والے دعوؤں سے خبردار رہیں۔

اس ادارے کے اشیائے خوردنی کے لیبل کے شعبے کے سربراہ نِشی کاوا کواِچی کا کہنا ہے کہ ایسے کئی اجزاء پر تحقیق موجود ہے جس میں محققین کا دعویٰ ہے کہ یہ کووڈ 19 کے لیے کارآمد ہیں۔ لیکن یہ ساری تحقیق زندہ اجسام کے بجائے صرف تجربہ گاہ میں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کسی نے بھی حقیقتاً مذکورہ خوراک یا سپلیمینٹ کو کھا کر اسے کارآمد ثابت نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارہ چاہتا ہے کہ صارفین تحمل سے کام لیں اور وائرس سے بچاؤ کی دیگر مستند سفارشات کو اپنائیں۔

یہ معلومات 30 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 264: وہ بخار توڑ اور درد کُش ادویات جنہیں ویکسین لگوانے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے 2 ، حاملہ خواتین یا جو لوگ پہلے سے زیرِ علاج ہیں انہیں محتاط ہونا چاہیے

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان کی وزارتِ صحت نے پہلی بار یہ رہنمائی فراہم کی ہے کہ کسی شخص کو کورونا وائرس ویکسین لگوانے کے بعد بخار ہو جانے کی صورت میں کون سی دوا استعمال کی جا سکتی ہے۔ آج ہمارا سوال یہ ہے کہ انٹی پائیریٹکس یا پین کلرز یعنی بخار توڑ یا درد کو ختم کرنے والی دوائیں لیتے وقت کسے محتاط ہونا چاہیے؟

اگر کسی شخص کو کورونا وائرس ویکسین لگوانے سے بخار ہو جائے جو اکثر ایک یا دو روز کے اندر اندر ہو جاتا ہے، تو وہ شخص ضرورت پڑنے کی صورت میں بخار توڑ یا درد ختم کرنے والی دوائیں لے سکتا ہے اور اس کی طبیعت کی نگرانی کی جائے گی۔

تاہم وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ جب مداوا کرنے کی غرض سے بخارتوڑ اور درد دور کرنے والی دوائیں لیں تو انہیں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے مطابق ان میں وہ لوگ شامل ہیں جیسا کہ ایسی خواتین جو حاملہ ہیں یا بچے کو اپنا دودھ پلا رہی ہیں، پہلے سے زیرِ علاج لوگ، کوئی بھی شخص جسے دواؤں یا دیگر مواد سے الرجی ردعمل ہوتا ہو یا اُسے دمہ ہو، ایسے معمر افراد اور مریض جو معدے کے السر یا دیگر بیماریوں کیلئے زیرِ علاج ہوں۔ وزارت ایسے لوگوں پر زور دے رہی ہے کہ وہ خود اپنے ڈاکٹروں یا دواؤں کے ماہرین سے مشاورت کریں۔

وزارت کے مطابق، اگر لوگوں میں سخت تکلیف یا شدید بخار جیسی سنگین علامات پیدا ہو جائیں یا علامات طویل وقت تک جاری رہیں تو ایسی صورت میں انہیں صحت دیکھ بھال کے ماہرین سے بھی مشورہ کرنا چاہیے۔

وزارتِ صحت نے مشورہ دیا ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد درد یا بخار جیسی علامات سے بچاؤ کیلئے بخارتوڑ یا درد ختم کرنے والی دواؤں کو بار بار استعمال نہ کیا جائے۔

یہ معلومات 29 جُون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 263: وہ بخار توڑ اور درد کُش ادویات جنہیں ویکسین لگوانے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے 1

این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان کی وزارت صحت نے پہلی مرتبہ اس بارے میں رہنمائی فراہم کی ہے کہ کورونا وائرس ویکسین لگوانے کے بعد بخار وغیرہ جیسی کوئی علامات سامنے آنے کی صورت میں کونسی دوائیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ آج ہم اس سوال پر توجہ مرکوز کریں گے کہ کورونا وائرس ویکسین لگوانے کے بعد کون کون سی بخار توڑ یا درد کُش ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔

ویکسین لگوانے کے بعد اکثر ایک یا دو روز کے اندر بخار ہو جاتا ہے۔ اپنی کیفیت کا جائزہ لیتے ہوئے بوقتِ ضرورت کوئی دوا استعمال کی جا سکتی ہے۔

وزارت صحت کے مطابق، ویکسینیشن کے بعد لی جا سکنے والی دواؤں میں ایسیٹامینوفین، اِیبُوپروفین اور لوکسوپروفین شامل ہیں۔ وزارت نے ایسی معلومات جاری نہیں کیں۔ لیکن جون کے اوائل میں کئی دوا فروش اسٹوروں کے منتظمین نے اطلاع دی تھی کہ ان کے پاس ڈاکٹری نسخے کے بغیر فروخت کی جا سکنے والی ایسیٹامینوفین کی حامل ادویات کا ذخیرہ کم ہو رہا ہے۔ اس کے بعد وزارت صحت نے فوری طور پر اپنی ویب سائٹ پر یہ نئی اطلاعات فراہم کیں کہ ایسیٹامینوفین کے علاوہ عام فروخت والی دیگر دوائیں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ وزارت نے یہ اطلاع ملک بھر کی دوا ساز صنعت سے متعلقہ تنظیموں اور دوا فروشوں کو بھی فراہم کیں۔

تاہم، وزارت کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین یا کسی اور مخصوص صورتحال والے افراد اپنے ڈاکٹر یا دواؤں کے ماہرین سے رجوع کریں، کیونکہ ان کے معاملے میں بعض اجزاء والی دوائیں استعمال کرنا غیرمناسب ہو سکتا ہے۔

وزارت نے یہ معلومات بھی فراہم کی ہیں کہ بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں یہ کیسے معلوم کیا جائے کہ یہ علامات ویکسین لگوانے یا کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔ وزارت کے مطابق کھانسی، گلے میں درد، ذائقے یا بُو کا محسوس نہ ہونا اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات کی وجہ کورونا وائرس بھی ہو سکتا ہے۔ ویکسین لگوانے کی وجہ سے ہونے والے بخار کے ساتھ عام طور پر یہ علامات نہیں ہوتیں۔

یہ معلومات 28 جون تک کی ہیں۔

سوال نمبر 262: کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے ویکسین لگانے کا منصوبہ کیا ہے؟ 12 ، vasovagal syncope کیا ہے؟ اس کا علاج کس طرح سے کیا جا سکتا ہے؟

این ایچ کے نئے کورون