ٹیپکو زلزلہ پیما آلات کے خراب ہونے سے متعلق جانتی تھی

متاثرہ فُکُو شیما دائی اِچی جوہری بجلی گھر کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ شمال مشرقی جاپان میں 13 فروری کو جب شدید زلزلہ آیا تھا تو اُس وقت ایک ری ایکٹر کی عمارت میں زلزلہ پیما آلات کام نہیں کر رہے تھے۔

ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی، ٹیپکو نے مذکورہ بجلی گھر پر زلزلے کے اثرات اور کمپنی کے ردعمل سے متعلق پیر کے روز جوہری نگران ادارے کو تفصیلات بتائی ہیں۔

ٹیپکو حکام نے بتایا کہ کمپنی نے ری ایکٹر نمبر تین کی عمارت میں زلزلہ جاتی سرگرمی کی جانچ کیلئے گزشتہ مارچ میں وہاں دو زلزلہ پیما آلات نصب کیے تھے۔ تاہم اُنہوں نے انکشاف کیا کہ وہ، زلزلے کے دوران عمارت کے لرزنے سے متعلق ڈیٹا حاصل کرنے سے قاصر تھے کیونکہ مذکورہ آلات کام نہیں کر رہے تھے۔

اُنہوں نے کہا کہ وہ زلزلہ پیما آلات کے نقص سے آگاہ تھے لیکن اُنہوں نے ان کی مرمت نہیں کی۔ ان کے غیر فعال ہو جانے کی وجوہات کے عوامل میں سے ایک گزشتہ سال جولائی کے دوران ہونے والی شدید بارش تھی۔

ری ایکٹر نمبر 3 کی عمارت کو اس بجلی گھر پر ہوئے 2011ء کے حادثے میں نقصان پہنچا تھا جب ایک بڑا زلزلہ اور تسُونامی آئی تھی۔

ٹیپکو نے پیر کے روز منعقدہ اجلاس میں اعتراف کیا کہ اُس کی تیاریاں ناکافی تھیں جس کے نتیجے میں وہ 13 فروری کو آنے والے زلزلے کا قیمتی ڈیٹا حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔