کانگو کیلئے اطالوی سفیر حملے میں ہلاک

عوامی جمہوریہ کانگو کیلئے اطالوی سفیر اور دو دیگر افراد عالمی ادارۂ خوراک، ڈبلیو ایف پی کے ایک قافلے پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطالوی حکومت نے کہا ہے کہ کانگو کے مشرقی حصے میں پیر کے روز ہوئے اس حملے میں سفیر لُوکا اتّاناسیو، اُن کا محافظ اور کانگو سے تعلق رکھنے والا اُن کا ڈرائیور ہلاک ہو گئے ہیں۔

ڈبلیو ایف پی نے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی تنظیم کے زیرِ انتظام اسکول میں کھانے کی فراہمی کے منصوبے کے معائنے کیلئے جا رہے تھے۔ اطالوی وزیر خارجہ لُوئیجی دی مائیو نے کہا ہے کہ اُن کا ملک اس وحشیانہ حملے کی وجہ کا جس قدر جلد ممکن ہو سکے کھوج لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔

عوامی جمہوریہ کانگو کا مشرقی علاقہ، حکومت اور مسلح گروہوں کے مابین ہونے والی جھڑپوں کی زد میں ہے جو زیرِ زمین وسائل پر کنٹرول کیلئے برسرِ پیکار ہیں۔

ڈبلیو ایف پی نے اس علاقے میں مشکلات کا شکار لوگوں میں خوراک کی فراہمی کی کوششیں بڑھا دی ہیں۔ اس ادارے کو تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں امن کیلئے حالات بہتر بنانے میں معاونت فراہم کرنے کی کاوشوں کے صلے میں گزشتہ سال نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔