میانمار میں فوج کے اقتدار پر قبضے کے خلاف ہرٹال کے باعث معیشت مفلوج

میانمار میں رواں ماہ کے آغاز میں اقتدار پر فوج کے قبضے کے خلاف پیر کے روز ملک بھر میں عام ہڑتال کی گئی۔ مقامی میڈیا کے مطابق مظاہروں میں لاکھوں افراد نے حصہ لیا۔

ملک کے سب سے بڑے شہر یانگون میں بیشتر شاپنگ مالز اور سپر مارکیٹس کے ساتھ ساتھ مقامی خوردہ فروشوں نے بھی دکانیں بند رکھیں۔ کارخانے، بینک، ریلوے اور بس سروس بند ہونے سے شہری زندگی عملی طور پر مفلوج ہو گئی۔

لوگوں نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق پہلی فروری کو فوج کی طرف سے آن سان سُو چی اور حکمران جماعت کے دیگر رہنماؤں کو حراست میں لینے اور ہنگامی حالت نافذ کرنے کے اعلان کے بعد ہونے والا یہ سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ تھا۔

مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پیر کے روز کسی بڑے تصادم کی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ تاہم دارالحکومت نیپیدو میں 150 سے زائد مظاہرین کو عارضی طور پر حراست میں لے لیا گیا۔

سرکاری ٹیلی ویژن نے فوجی رہنما سینئر جنرل مِن آن ہلائنگ کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا ہے کہ فوج حالات کو احتیاط سے کنٹرول کر رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ وسیع پیمانے پر ہونے والے مظاہروں میں صرف چار افراد ہلاک ہوئے ہیں اور دیگر ملکوں میں ہونے والے اسی قسم کے مظاہروں میں مرنے والوں کے مقابلے میں یہ تعداد کم ہے۔ ان کے بیان پر شہریوں کی طرف سے مزید نکتہ چینی ہونے کا امکان ہے۔

سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر گولیاں چلانے کے بعد اموات کے نتیجے میں انہیں اندرون ملک اور بیرون ملک تنقید کا سامنا ہے۔