حکومت ہنگامی حالت کا نفاذ ختم کرنے پر تبادلہ خیال کرے گی

جاپان کے وزیراعظم سُوگا یوشی ہیدے اور کورونا وائرس کے سرکاری انسدادی اقدامات کے نگران وزراء کی جانب سے اوساکا اور کیوتو سمیت پانچ پریفیکچروں میں ہنگامی حالت ختم کرنے پر غور کیے جانے کی توقع ہے۔

یہ پانچ پریفیکچر اوساکا، کیوتو، ہیوگو، آئچی اور گِفو ہیں۔ ٹوکیو اور 9 دیگر پریفیکچروں میں 7 مارچ تک ہنگامی حالت نافذ ہے۔

اوساکا، ہیوگو اور کیوتو کے گورنروں نے مرکزی حکومت سے اپنے پریفیکچروں میں ہنگامی حالت قبل از وقت ختم کرنے کی منگل کے روز درخواست کی ہے۔ ان تین مغربی پریفیکچروں میں نئے انفیکشنز اور ہسپتالوں میں داخل افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

وسطی جاپان میں واقع آئچی پریفیکچر کے گورنر نے رواں ماہ کے اختتام تک ہنگامی حالت ختم کرنے کے امکان کا جائزہ لینے کے لیے ہمسایہ گِفو پریفیکچر کے حکام سے بات چیت شروع کر دی ہے۔

توقع ہے کہ وزیراعظم سُوگا یوشی ہیدے بدھ کے روز معاشی احیاء کے وزیر نشی مُورا یاسُوتوشی اور وزیر صحت تامُورا نوری ہیسا کے ساتھ ملاقات میں ان پانچ پریفیکچروں سے ہنگامی حالت ختم کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔

دریں اثناء ٹوکیو بلدیہ عظمیٰ نے منگل کے روز کورونا وائرس کے 275 نئے کیسز کی تصدیق کی ہے۔ اس سے پہلے پیر کے روز نئے کیسز کی یومیہ تعداد تقریباً تین ماہ میں پہلی بار 200 سے کم رہی تھی۔ حکومت دارالحکومت میں 7 مارچ سے قبل ہنگامی حالت ختم کرنے کے بارے میں محتاط طرز عمل اختیار کیے ہوئے ہے۔