جاپان اور امریکہ کی میانمار میں تشدد کی مذمت

جاپان اور امریکہ کے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے میانمار میں حالیہ فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں پر سیکیورٹی دستوں کے تشدد کی پرزور مذمت کی ہے۔

جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری کاتو کاتسُونوبُو نے پیر کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ جاپان، میانمار کے حکام کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کی پرزور مذمت کرتا ہے، جس کے باعث کئی عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہلاک شدگان کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہیں۔ انہوں نے زخمیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

جناب کاتو نے کہا کہ پرامن مظاہرین کے خلاف بندوقوں کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جاپان، میانمار کے سلامتی حکام پر سخت زور دے گی کہ عام شہریوں کے خلاف تشدد فوراً روکا جائے اور محترمہ آنگ سان سُو چی سمیت حراست میں لیے گئے عہدیداروں کو رہا کیا جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جاپانی حکومت، میانمار کی فوج سے یہ مطالبہ بھی کرے گی کہ جمہوری نظام جلد از جلد بحال کیا جائے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ٹوئیٹر کے ذریعے کہا کہ امریکی حکومت، میانمار کے شہریوں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف ٹھوس کارروائی جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے۔