میانمار میں ملک گیر ہڑتال، مظاہرین کی شرکت

میانمار میں کشیدگی بڑھ رہی ہے چونکہ اقتدار پر فوج کے قبضے کے خلاف ملک گیر ہڑتال کے مطالبے پر شہریوں نے مثبت ردعمل دیا ہے۔

میانمار کے مقامی وقت کے مطابق پیر کی صبح ساڑھے نو بجے تک مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ تھی کہ پیر کی عام ہڑتال میں لاکھوں افراد کی شرکت کی متوقع ہے۔ مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد سے ممکنہ طور پر یہ سب سے بڑی ہڑتال ہو گی۔

ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ خردہ فروشوں، ریستورانوں اور سامان کی ترسیل کرنے والوں سمیت وسیع تر شعبوں سے وابستہ افراد ہڑتال کر رہے ہیں۔

فوٹیج میں دیکھا گیا ہے کہ سب سے بڑے شہر یانگون میں مظاہرے شروع ہو چکے ہیں۔ بڑی شاہراہوں پر کتبے اٹھائے مظاہرین جمع ہو رہے ہیں۔ ان کتبوں پر زیر حراست رہنماء آنگ سان سُو چی کی رہائی کے مطالبات درج ہیں۔

حکومتی عملے کے بعض اراکین اور دیگر لوگ پہلی فروری کو ہونے والی فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کام کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

میانمار میں کئی دنوں سے بڑے مظاہرے جاری ہیں اور عسکری قوتوں کی جانب سے مظاہرین کو جبراً منتشر کرنے کی کارروائیوں میں اضافے کے باعث ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔

دارالحکومت نیپی دو میں 9 فروری کو ایک مظاہرے کے دوران جس 20 سالہ خاتون کو سر پر گولی ماری گئی تھی وہ جمعہ کے روز ہلاک ہو گئی ہیں۔

دوسرے بڑے شہر مندالے میں ہفتے کے روز سلامتی فورسز نے دو مرد مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے یہ خبر بھی دی ہے کہ یانگون میں ہفتے کے روز پولیس نے ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ شخص ایک قریبی علاقے میں نگرانی کرنے والے گروپ کا رضاکار تھا۔