11 سرکاری عہدیداروں نے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی: وزارت مواصلات

جاپان کی وزارت مواصلات کے مطابق وزیراعظم سُوگا یوشی ہیدے کے ایک بیٹے کی تواضع سے محظوظ ہونے والے 11 عہدیداروں نے نیشنل پبلک سروس آفیشلز کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ جناب سُوگا کا یہ صاحبزادہ ایک کمپنی میں ملازم ہے جو مصنوعی سیارے کے ذریعے نشریات کے کاروبار میں شریک ہے۔

وزارت نے اس معاملے کی چھان بین مکمل کرنے کے بعد پیر کے روز رپورٹ جاری کی ہے۔

یہ معاملہ پہلی بار منظر عام پر آنے کے بعد وزارت نے کہا تھا کہ پالیسی مربوط بنانے کے ذمہ دار دو نائب وزراء سمیت چار اعلیٰ عہدیداروں کو عشائیہ دیا گیا تھا۔ اب اس کا کہنا ہے کہ سات دیگر عہدیدار بھی شریک تھے۔

وزارت نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم کے بیٹے نے سنہ 2016 سے 2020 کے دوران 37 مرتبہ ان عہدیداروں کی دعوت کی تھی۔

ان دعوتوں پر کل 5 لاکھ 26 ہزار ین یا تقریباً 5 ہزار ڈالر سے زائد رقم صرف ہوئی۔

رپورٹ میں مذکورہ عہدیداروں کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا ہے کہ انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ مذکورہ کمپنی وزارتی کاروائیوں میں فریق تھی۔

یہ رپورٹ بدھ کے روز قومی ملازمین انتظامیہ کے اخلاقیات بورڈ کو پیش کی جانی ہے۔ اگر بورڈ نے منظوری دے دی تو وزارت اُسی روز ان تمام 11 عہدیداروں کی سرزنش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

وزارت نے اس کے علاوہ مزید یہ بھی بتایا ہے کہ کابینہ میں تعلقات عامہ کی سیکریٹری یامادا ماکیکو جب سنہ 2019 میں نائب وزیر تھیں تو اس وقت وزیر اعظم کے بیٹے نے ان کی خاطر مدارت کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس عشائیے کی فی کس لاگت 7 سو ڈالر تھی۔