نیوزی لینڈ میں2011ء میں آئے زلزلے کے متاثرین کی یاد میں تقریب کا انعقاد

نیوزی لینڈ میں لوگوں نے دس سال قبل ملک میں آئے شدید زلزلے میں ہلاک ہونے والے 185 افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

22 فروری 2011 کو نیوزی لینڈ کے جنوبی حصے میں 6.3 میگنی چیوڈ کا زلزلہ آیا تھا۔

ہلاک شدگان میں 28 جاپانی طلباء بھی شامل تھے۔ ان میں سے بیشتر وسطی کرائسٹ چرچ کے ایک لسانی اسکول میں زیر تعلیم تھے۔ اس اسکول کی عمارت منہدم ہو گئی تھی۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسِنڈا آرڈرن اور ہلاک شدگان کے لواحقین نے پیر کے روز شہر میں منعقدہ دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔

شرکاء نے دوپہر 12 بج کر 51 منٹ پر کچھ دیر کی خاموش دعا کی، یاد رہے کہ زلزلہ عین اسی وقت آیا تھا۔ اس کے بعد متاثرین کے نام بلند آواز میں پڑھے گئے۔

وزیراعظم محترمہ آرڈرن نے کہا کہ دس سال ایک طویل عرصہ لگتا ہے لیکن کئی لوگوں کو یہ زلزلہ ابھی کل کی بات لگتا ہو گا۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ مرنے والوں کو یاد رکھیں اور اپنی زندگی کو اہمیت دیں۔

کرائسٹ چرچ شہر کی ناظم لیئن ڈیزیئل نے کہا کہ وہ خصوصاً ان جاپانی خاندانوں کے تمام اراکین کا ذکر کرنا چاہیں گی جو اس بار اس دعائیہ اجتماع میں شریک نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا ’’ہم ہمیشہ اس سانحے سے جڑے ہیں اور ہم نے آپ کو ایسے وقت بھی فراموش نہیں کیا جب ہم ایک دوسرے سے دور ہیں‘‘۔

محترمہ ڈیزیئل نے زلزلے سے منہدم ہونے والی عمارت کے ڈھانچے میں سنگین نقائص کا پتہ چلنے کے بعد جاپانی متاثرین کے لواحقین سے معافی مانگنے کے لیے گزشتہ سال جاپان کا دورہ کیا تھا۔

جاپانی متاثرین کے اہلِ خانہ عموماً اس دعائیہ تقریب میں شرکت کرتے ہیں۔ تاہم وہ رواں سال ایسا نہیں کر سکے کیونکہ کورونا وائرس کی عالمی وباء کے سبب نیوزی لینڈ نے کئی غیر ملکیوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔