میانمار میں پولیس کی فائرنگ سے دو احتجاجی مظاہرین ہلاک

میانمار میں کئی ذرائع ابلاغ نے خبریں دی ہیں کہ ہفتے کے روز ملک کے دوسرے بڑے شہر مندالے میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والے دو مظاہرین کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا اور کئی دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ملک بھر میں دو ہفتے سے زیادہ عرصے کے دوران بڑی ریلیاں منعقد ہوئی ہیں۔ احتجاجی مظاہرین پہلی فروری کو ہونے والی فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

مظاہرین نے ہفتے کے روز ملک کے سب سے بڑے شہر یانگون کے ساتھ ساتھ وسطی شہر مندالے اور ملک میں دیگر مقامات پر بڑی شاہراہوں پر قبضہ کر لیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق پولیس نے کارکنان کو تیل کی فراہمی کی تنصیبات میں واپس جانے کا حکم دینے کے تھوڑی ہی دیر بعد فائرنگ شروع کر دی۔ یہ کارکن بغاوت کے خلاف احتجاج کے طور پر کام چھوڑ کر جا رہے تھے۔

یانگون میں احتجاجی مظاہرین امریکی سفارتخانے کی جانب گئے اور واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ اُس نے میانمار کے فوجی رہنماؤں پر جو پابندیاں عائد کی تھیں اُن میں اضافہ کیا جائے۔

اُنہوں نے زور دار نعرے لگائے کہ وہ اُس وقت تک کام پر واپس نہیں جائیں گے جب تک کہ جنرلوں کو برطرف نہیں کر دیا جاتا۔

دارالحکومت نیپی دو میں جمعہ کے روز ایک خاتون کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے جسے 9 فروری کو ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کے دوران سر پر گولی ماری گئی تھی۔ وہ احتجاجی مظاہروں میں ہلاک ہونے والی پہلی فرد تھیں۔

توقع ہے کہ اتوار کے روز اُن کی آخری رسومات کے موقع پر کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔