میانمار میں پہلی مصدقہ ہلاکت کے بعد لوگوں کا احتجاج جاری

میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد وہاں پہلی مصدقہ ہلاک شدہ خاتون کا خاندان اپیل کر رہا ہے کہ مزید لوگ مظاہروں میں شامل ہو جائیں۔

میا تُوئے تُوئے کائن 9 فروری کو دارالحکومت نیپی دو میں سر میں گولی لگنے سے زخمی ہوئی تھیں۔ وہ جمعہ کے روز انتقال کر گئیں۔ انکی عمر بیس سال تھی۔

انکی بہن نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے لوگوں پر زور دیا کہ وہ، فوج کے شکست کھانے تک مظاہروں میں شامل ہو جائیں۔

جمعہ کے روز ملک بھر میں ہزاروں افراد نے یکم فروری کی فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج جاری رکھا۔

ملک کے سب سے بڑے شہر یانگون میں لوگوں نے میا تُوئے تُوئے کائن کی تصویر کے سامنے پھول رکھے اور انکی روح کے سکون کے لیے دعا کی۔

ایک شخص نے کہا کہ پورا میانمار سوگ منا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو جمہوریت اور اس خاتون کے لیے جد و جہد جاری رکھنا ہو گی۔