صدر بائیڈن کا جی سیون ممالک اور میونخ سلامتی کانفرنس سے پہلا خطاب

امریکی صدر جو بائیڈن نے یورپی اقوام کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور چین کے ساتھ مسابقت کے لیے مل جل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

جناب بائیڈن نے جمعہ کے روز سات صنعتی ممالک کے گروپ، جی سیون، کے سربراہ اجلاس میں پہلی بار شرکت کی۔ مذاکرات کا انعقاد آن لائن کیا گیا تھا۔

انہوں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نقطۂ نظر’’سب سے پہلے امریکہ‘‘ کے برعکس، کورونا وائرس کی عالمگیر وبا اور عالمی حدت میں اضافے جیسے معاملات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے بعد ازاں جمعہ ہی کے روز میونخ سلامتی کانفرنس سے بھی آن لائن خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا اپنے مستقبل کے حوالے سے ایک بنیادی مباحثے میں مصروف ہے، اور بعض کا کہنا ہے کہ صنعتی تنوع اور عالمگیر وبا جیسے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آمریت ہی بہترین راستہ ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جمہوریت فتح مند ہوگی اور اسے ہی غالب آنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے حلیفوں کو چین کے ساتھ ایک طویل مدتی اسٹراٹیجک مسابقت کے لیے مل جل کر تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔

جناب بائیڈن نے کہا کہ انہیں اُس عالمی نظام پر اعتماد ہے جسے امریکہ، یورپ اور ہند بحرالکاہل میں انکے حلیفوں نے سخت محنت سے تشکیل دیا ہے۔ اور وہ ’’مستقبل کی دوڑ میں بھی کامیاب رہیں گے‘‘۔

صدر بائیڈن نے چین پر زور دیا کہ وہ مقابلے میں عالمی معاشی اصولوں کی پاسداری کرے۔