میانمار میں احتجاج کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہونے والی خاتون ہلاک

میانمار میں اقتدار پر فوج کے قبضے کے خلاف گزشتہ ہفتے احتجاج کرتے ہوئے گولی لگنے سے زخمی ہونے والی خاتون ہلاک ہو گئی ہیں۔ یہ بات اُس ہسپتال کے عہدیداروں نے بتائی ہے، جہاں یہ خاتون مشینوں کی مدد سے زندہ تھیں۔ پہلی فروری کو اقتدار پر فوج کے قبضے کے بعد احتجاج کے دوران ہونے والی یہ پہلی ہلاکت ہے۔

20 سالہ خاتون کو دارالحکومت نیپیدو میں 9 فروری کو ایک ریلی کے دوران گولی ماری گئی تھی۔ وہ بے ہوش تھیں اور ان کی حالت انتہائی نازک تھی۔ ہسپتال کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ مذکورہ خاتون مقامی وقت کے مطابق آج صبح انتقال کر گئیں۔

میانمار میں فوج کی طرف سے اقتدار پر قبضے اور ملکی رہنما آنگ سان سُو چی کی حراست کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

توقع ہے کہ خاتون کی موت سے فوج کی مخالفت میں مزید شدت آئے گی۔