امریکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق پیرس سمجھوتے میں دوبارہ شامل

امریکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق پیرس سمجھوتے میں جمعے کو دوبارہ شامل ہو گیا ہے۔

20 جنوری کو صدارت کا منصب سنبھالنے کے گھنٹوں بعد صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے سمجھوتے میں واپسی کے لیے اقوام متحدہ کو ایک دستاویز پیش کی تھی۔ اس سے پہلے امریکہ نے نومبر میں اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت سمجھوتے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

بائیڈن انتظامیہ 2050 تک گرین ہاؤس گیسوں کے مجموعی اخراج کا ہدف صفر حاصل کرنے کے لیے امریکہ کو درست راستے پر گامزن کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

توقع ہے کہ انتظامیہ اخراج میں کمی کا ہدف اقوام متحدہ میں اپریل تک پیش کرے گی۔

انتظامیہ ترقی پذیر ممالک کو اخراج کم کرنے میں مدد دینے کی غرض سے فنڈز مہیا کرنے کے منصوبے کا بھی جائزہ لے گی۔

امریکہ بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں خارج کرنے والے ممالک سمیت عالمی رہنماؤں کا اجلاس بھی 22 اپریل کو منعقد کرے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتیرس نے موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق پیرس سمجھوتے میں امریکہ کی واپسی کا خیر مقدم کیا ہے۔

انہوں نے سمجھوتے میں امریکہ کی واپسی سے ایک روز قبل جمعرات کے روز نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔

جناب گوتیرس نے کہا، ’’اس سے عالمی اقدام کو تقویت ملے گی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا، ’’اب عالمی کاربن آلودگی کا دو تہائی خارج کرنے والے ممالک 2050 تک کاربن نیوٹریلیٹی کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔