ملک بدر کیے جانے والے افراد اہلخانہ کے ساتھ قیام کر سکیں گے

حکومت جاپان کا منصوبہ ہے کہ امیگریشن کے قانون میں ترمیم کر کے ایسے کچھ افراد کو ملک سے روانگی تک اہل خانہ کے ساتھ قیام کی اجازت دے دی جائے جن کی ملک بدری کا حکم دیا جا چکا ہو۔

حکومت نے ملک بدری سے انکار کے بعد حکومتی مراکز میں زیر حراست غیر ملکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے کے لیے جمعہ کے روز ترمیم کے مسودے کے بارے میں فیصلہ کیا ہے۔

اس مسودے کے تحت ملک بدر کیے جانے والوں کو چند شرائط پوری کرنے پر ملک چھوڑنے تک اپنے اہلخانہ یا مدد کرنے والوں کے ساتھ رہنے کی اجازت ہو گی۔ ان شرائط میں پرواز کے لیے خطرے کا باعث باور نہ کیا جانا بھی شامل ہے۔

مسودے میں ایک شق یہ بھی ہے کہ ملک بدر کیے جانے والوں کی دوبارہ جاپان واپسی کے لیے عائد پانچ سالہ پابندی کو کم کر کے اصولی طور پر ایک سال بھی کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اپنے خرچ پر وطن واپس جاتے ہیں۔

حکومت کا منصوبہ ہے کہ ترمیم کا مسودہ پارلیمان کے رواں اجلاس کے دوران پیش کر دیا جائے۔