وزارئے خارجہ مذاکرات میں جاپان اور امریکہ کی شرکت

جاپان امریکہ آسٹریلیا اور بھارت کے اعلیٰ سفارتکاروں نے آزاد اور کھلے ہند بحرالکاہل خطے کے اپنے مشترکہ تصور کو تقویت دینے کے لیے بذریعہ ٹیلی فون بات چیت کی ہے۔

جاپان کے وزیر خارجہ موتیگی توشی میتسُو، امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلِنکن، آسٹریلوی وزیر خارجہ ماریز پین اور بھارت کے خارجی امور کے وزیر سُبرامینیم جے شنکر نے جمعرات کی ٹیلیفونک گفتگو میں شرکت کی ہے۔

جناب موتیگی نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی نظام کو چیلنج کیے جانے کے دور میں چاروں ممالک کا کردار بڑھتی ہوئی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے رواں ماہ قبل ازیں نافذ ہونے والے اُس چینی قانون کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار بھی کیا، جس کے تحت چینی کوسٹ گارڈ کو ایسے ہر غیر ملکی بحری جہاز کے خلاف ہتھیار استعمال کرنے کا اختیار ہو گا جو ان کی دانست میں غیرقانونی طور پر ان کے پانیوں میں داخل ہوا ہو۔

اعلیٰ عہدیداروں نے بحیرہ مشرقی چین اور بحیرہ جنوبی چین کی صورتحال کو یکطرفہ اور جبراً بدلنے کی کارروائیوں کی کڑی مخالفت کرنے پر اتفاق کیا۔ یاد رہے کہ چین ان پانیوں میں بحری سرگرمیوں میں مشغول ہے۔

عہدیداروں نے اتفاق کیا کہ میانمار کے حالیہ فوجی انقلاب کے بعد وہاں جمہوری سیاسی نظام کی فوری بحالی کی ضرروت ہے۔ انہوں نے شمالی کوریا اور کورونا وائرس کی عالمی وبا پر بھی تبادلہ خیال کیا۔