امریکہ، عالمی ادارہ صحت کو 20 کروڑ ڈالر ادا کرے گا

امریکہ نے کہا کہ وہ عالمی ادارہ صحت ‘ڈبلیو ایچ او‘ کو اپنی ذمہ داریوں کے طور پر 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم، رواں ماہ کے اختتام تک ادا کر دے گا۔

اس نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کے برخلاف، اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں اقوام متحدہ کے اس ادارے کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے، وباء سے نمٹنے کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے وزارتی سطح کے ایک آن لائن اجلاس سے بدھ کے روز خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

ان کے مطابق صدر جو بائیڈن نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ امریکہ ایک بار پھر صحت کے شعبے میں عالمی رہنما کے طور پر کام کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ یقین رکھتا ہے کہ اس عالمگیر وبا سے بین الاقوامی سطح پر موثر انداز میں نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی، اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت ناگزیر ہیں۔

جناب بلنکن نے کہا کہ امریکہ عالمی ادارہ صحت کے لیے اپنی موجودہ ذمہ داری کے تخمینے کی 20 کروڑ ڈالر سے زائد رقم، رواں ماہ کے اختتام تک ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور یہ اقدام عالمی ادارہ صحت کے رکن ملک کے طور پر امریکی مالی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے آگے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

امریکہ، ڈبلیو ایچ او کو سب سے زیادہ رقم فراہم کرنے والا ملک رہا ہے۔ تاہم، صدر بائیڈن کے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے معاملے میں اس پر چین کی جانب بہت زیادہ جھکاؤ رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس ادارے سے نکلنے کا اعلان کیا تھا۔ جناب بائیڈن نے اپنی صدارت کے پہلے روز ہی اس فیصلے کی تنسیخ کر دی تھی۔