حزب اختلاف نے وزیر اعظم کے صاحبزادے سے متعلق وضاحت مسترد کر دی

جاپان کی حزب اختلاف کی جماعتیں، وزارت اطلاعات کی اُس مبینہ قابلِ اعتراض دعوت کے سلسلے میں تنقید میں اضافہ کر رہی ہیں، جس میں وزیراعظم سُوگا یوشی ہیدے کے سب سے بڑے صاحبزادے بھی ملوث تھے۔

ہفت روزہ جریدے شُوکان بُن شُن نے قبل ازیں رواں ماہ یہ رپورٹ دی تھی کہ مصنوعی سیارے کے ذریعے نشریات کرنے والی ایک کمپنی میں کام کرنے والے وزیراعظم سُوگا کے صاحبزادے نے، وزارت داخلی معاملات و اطلاعات کے 4 اعلیٰ اہلکاروں کی کئی بار دعوتیں کی تھیں اور انہیں تحائف دیے تھے۔

جریدے کے مطابق، یہ کسی ٹھیکے میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کی جانب سے سرکاری عہدیداروں کو دعوت دینے کی ممانعت کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

بُن شُن آن لائن نے بدھ کے روز رپورٹ دی کہ ایک کھانے کے موقع پر جناب سُوگا کے صاحبزادے اور وزارت کے اعلیٰ عہدیدار آکی موتو یوشی نوری نے، جو وزارت کے محکمہ اطلاعات و مواصلات کے سربراہ بھی ہیں، نشریات کے کاروبار سے متعلق بات چیت کی تھی۔

آن لائن جریدے نے ایک ریکارڈنگ بھی جاری کی ہے، جو اس کے مطابق ان کی گفتگو کا حصہ ہے۔

کانسٹی ٹیوشنل ڈیموکریٹک پارٹی اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں نے فوری طور پر حکومت اور حکمران اتحاد سے اس کی وضاحت طلب کی۔

ایوان زیریں کی بجٹ کمیٹی میں جمعرات کے روز ڈائریکٹرز کے اجلاس میں وزارت نے بتایا کہ جناب آکی موتو نے ریکارڈنگ میں اپنی آواز کی تصدیق کی ہے۔ تاہم ان کے مطابق انہیں یاد نہیں کہ اُس موقع پر نشریات کے کاروبار سے متعلق کوئی بات ہوئی تھی یا نہیں۔ وزارت نے بتایا کہ نئے انکشافات کی روشنی میں وہ، عہدیداروں سے ایک بار پھر پوچھ گچھ کرے گی۔

حزب اختلاف کا مطالبہ یہ جاننے کا ہے کہ عہدیداروں نے کتنی بار جناب سُوگا کے صاحبزادے کے ساتھ کھانا کھایا، اور کس نے کس مقصد کے لیے ادائیگی کی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی معلومات پیر تک جمع کروانے کی کوشش کرے گی۔

حزب اختلاف کے قانون سازوں کا اصرار ہے کہ وزارت کی وضاحت ناکافی ہے۔