جاپان کا ہنگامی حالت برقرار رکھنے پر غور

حکومتِ جاپان کورونا وائرس ویکسین کے ٹیکے ہموار انداز میں لگانے کو یقینی بنانے کی غرض سے موجودہ ہنگامی حالت کا نفاذ برقرار رکھنے کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔

جاپان میں نئے انفیکشنز کی تعداد کم ہو رہی ہے اور طبی دیکھ بھال کا نظام بتدریج بہتر ہو رہا ہے۔ لیکن نئے متاثرین کی تعداد میں کمی کی رفتار سُست پڑ رہی ہے اور ایسے متاثرین کی تعداد اب بھی جوں کی توں یا معمولی زیادہ ہے جن میں انفیکشن کے منبع کا سراغ نہیں لگایا جا سکتا۔

اقتصادی احیاء کے وزیر نشی مورا یاسُوتوشی جو کورونا وائرس سے متعلق جوابی اقدام کے نگران ہیں، اُنہوں نے بدھ کے روز عندیہ دیا ہے کہ طبی کارکنان پر دباؤ کو جس قدر ممکن ہو سکے کم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کورونا وائرس، عمومی طبی خدمات اور حفاظتی ٹیکے لگانے کا کام اُنہیں ہی انجام دینا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ حفاظتی ٹیکے لگانے کے عمل میں پیشرفت کے لیے وہ نظام کو مربوط کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کرے گی اور اس کے لیے ویکسین سے جنم لینے والے کسی بھی قسم کے ضمنی اثرات سمیت ہر طرح کی معلومات فراہم کرے گی۔