کورونا وائرس وُوہان سے پھیلا : ڈبلیو ایچ او ماہر

کورونا وائرس کے آغاز کا سراغ لگانے کے لیے، عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ کی چین کے شہر وُوہان کا دورہ کرنے والی ٹیم کے سربراہ کے مطابق، وہاں سے اس بات کا واضح ثبوت ملا ہے کہ وہاں انفیکشن، اس کی اطلاع دیے جانے سے قبل پھیل چکا تھا۔ ٹیم کے سربراہ پیٹر بین ایمباریک نے یہ بات، جنیوا میں واقع ڈبلیو ایچ او کے صدر دفتر سے، پیر کے روز این ایچ کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتائی۔

ٹیم نے وباء کے پھیلاؤ کے ابتدائی مرحلے میں کئی افراد کے متاثر ہونے سے تعلق رکھنے والی سی فُوڈ مارکیٹ سمیت کئی مقامات کا دورہ کیا، اور مریضوں کا علاج کرنے والے طبی عملے سے گفتگو کی۔

جناب بین ایمباریک نے بتایا کہ ٹیم کے پہنچنے سے قبل، چینیوں نے جائزوں وغیرہ کا بہت سا کام کر رکھا تھا۔ ٹیم نے پہنچنے کے بعد ان کے ساتھ مل کر ان کے حاصل کردہ نتائج پر نظرثانی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم، ان کے بعض جائزوں کے سلسلے میں مزید دیکھنا اور گہرائی میں جانا چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کے آغاز کی تحقیق کرنے کے لیے چین کو مزید اعداد و شمار مہیا کرنے چاہئیں۔

جناب بین ایمباریک نے کہا کہ وہاں ابتدائی اندازے سے قبل وائرس کے دسمبر 2019 میں پھیلاؤ کا واضح ثبوت موجود تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2019 میں 174 متاثرین کی اطلاع تھی۔ تاہم، اُس وقت صرف سنگین حالت والے مریضوں کو ہی گنا جا رہا تھا۔ ان کا اندازہ ہے کہ اُس وقت وہاں ہلکی علامات والے یا علامات ظاہر نہ ہونے کی بنا پر شناخت نہ ہو پانے والے شاید مزید کئی متاثرین ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیم کو وُوہان میں یا کسی اور مقام پر دسمبر سے قبل وائرس کے وسیع پھیلاؤ کے کوئی واضح ثبوت نہیں ملے۔

وُوہان کی سی فوڈ مارکیٹ کے حوالے سے جناب بین ایمباریک نے کہا کہ ٹیم نے یہ معلوم کیا کہ مارکیٹ میں فروخت ہونے والے بعض جاندار، وائرس سے جلد متاثر ہوتے ہیں، اور یہ کہ جانور ایسے صوبوں سے بھی لائے جاتے ہیں جہاں ماضی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی تھی اور ان جگہوں کو الگ تھلگ کیا جا چکا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیم نے 10 تھوک فروشوں سے گوشت کی مصنوعات کے تمام فراہم کنندگان کے بارے میں معلومات حاصل کر لی تھیں۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ وہ اب ٹیم کے اخذ کردہ نتائج کو جمع کرکے ایک رپورٹ کی شکل دے رہا ہے، اور اگر ضروری ہوا تو ایک اور ٹیم وُوہان بھیجنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔