کینیڈا بلا جواز گرفتاریوں کی مخالفت کرنے والے ملکوں کی قیادت کرے گا

پچاس سے زائد ممالک نے کینیڈا کی زیرِ قیادت ایک اعلامیے کی توثیق کی ہے جس میں سیاسی مقاصد کیلئے غیر ملکی شہریوں کی بلا جواز یا غیر اعلانیہ حراست کی مخالفت کی گئی ہے۔

کینیڈا کی حکومت نے بین الریاستی تعلقات میں بلا جواز حراست کے خلاف اعلامیہ پیر کے روز جاری کیا ہے جس کی یورپی ممالک، امریکہ اور جاپان سمیت 58 ملکوں نے توثیق کر دی ہے۔

اس اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ غیر ملک کی حکومت کو کسی اقدام پر مجبور کرنے یا فائدہ اٹھانے کی غرض سے غیر ملکی شہریوں کی بلا جواز گرفتاری یا حراست بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

اس بیان میں بلا جواز حراست کے کسی واقعے یا ایسے ملکوں کی نشاندہی نہیں کی گئی جن کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ وہ ایسے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔

لیکن خبر رساں ادارے رائٹرز نے کینیڈا کے ایک سرکاری ،عہدیدار کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا ہے کہ یہ اولین اقدام، چین، ایران، روس اور شمالی کوریا کے ہاتھوں غیر ملکیوں کی گرفتاری پر تشویش کے باعث اٹھایا گیا ہے۔

کینیڈا نے اپنے دو شہریوں کی چین کے ہاتھوں بلا جواز حراست کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ قبل ازیں، کینیڈا کے حکام نے 2018ء میں چینی دیوہیکل ٹیلی کام کمپنی ہُوا وے کی اعلیٰ انتظامی عہدیدار کو گرفتار کر لیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتیریس نے کہا ہے کہ بلا جواز حراست کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور یہ بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے۔ انہوں نے تمام ممالک سے اپیل کی ہے کہ ایسا طریقہ اپنانے سے گریز کریں۔