ڈبلیو ایچ او نے ہنگامی استعمال کے لیے آسٹرازینیکا کی منظوری دے دی

عالمی ادارہ صحت، ڈبلیو ایچ او، نے برطانوی ادویات ساز کمپنی آسٹرازینیکا اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی تیار کردہ ویکسین کو ہنگامی استعمال کے لیے کووڈ 19 کی ویکسینوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانم گیبریسس نے یہ اعلان پیر کے روز نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ہنگامی استعمال کی منظوری حاصل کرنے والی کووڈ 19 کی یہ دوسری ویکسین ہے، جسے ڈبلیو ایچ او نے اپنی فہرست میں شامل کیا ہے۔ امریکی کمپنی فائزر اور اس کی جرمن شراکت دار بیون ٹیک کی تیار کردہ ویکسین کو اس فہرست میں سب سے پہلے درج کیا گیا تھا۔

آسٹرازینیکا آکسفورڈ ویکسین کو اب ترقی پذیر ممالک سمیت دنیا بھر میں ویکسینوں کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے عالمی منصوبے کوویکس فسیلیٹی کے تحت تقسیم کیا جا سکے گا۔

توقع ہے کہ اس بین الاقوامی منصوبے میں آسٹرازینیکا آکسفورڈ ویکسین پر بھاری انحصار کیا جائے گا کیونکہ سال کی پہلی ششماہی میں تقسیم کی جانے والی ویکسینوں کا بیشتر حصہ اس ویکسین پر مشتمل ہونے کا امکان ہے۔

اس ویکسین کو عالمی ادارہ صحت کی فہرست میں درج کرنے کا اعلان ہونے سے قبل جنوبی افریقہ کی حکومت نے کہا تھا کہ انسانوں پر ویکسین کی آزمائش کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق جنوبی افریقہ میں پائی جانے والی وائرس کی تبدیل شدہ قسم سے ہونے والی معمولی یا معتدل نوعیت کی علامات کی روکتھام میں یہ ویکسین نسبتاً کم موثر ہو سکتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او میں ویکسین اور امیونائزیشن کی ڈائریکٹر کیتھرین اوبرائن نے جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کی پائی جانے والی تبدیل شدہ قسم کے خلاف اس ویکسین کے موثر ہونے کے بارے میں کہا، ’’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ آیا وائرس کی تبدیل شدہ قسم بی ون تھری فائیو ون کے خلاف آسٹرازینیکا کی ویکسین میں کوئی تبدیلی آئی ہے اور اگر آئی بھی ہے تو کیا اُس نے اس ویکسین کے موثر ہونے کی خاصیت کو قابلِ ذکر حد تک متاثر کیا ہے‘‘۔

انہوں نے زور دیا کہ ملکوں کو ویکسین کے ٹیکے لگانے کے پروگرام میں آسٹرازینیکا ویکسین کو شامل کرنا چاہیے۔