شمالی کوریا کی پیٹرولیم درآمدات مقررہ حد سے تجاوز کر گئیں: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک پینل نے شمالی کوریا پر الزام لگایا ہے کہ اُس نے صاف کردہ پیٹرولیم مصنوعات، اقوام متحدہ کی عائد کردہ پابندیوں کے تحت مقرر کردہ حد سے بہت زیادہ مقدار میں غیر قانونی طور پر درآمد کیں۔

این ایچ کے نے شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کا جائزہ لینے والے ماہرین کے پینل کی تازہ ترین رپورٹ حاصل کی ہے۔ یہ رپورٹ آئندہ ماہ مشتہر عام کی جانی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق، ایک متعلقہ ملک کی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ شمالی کوریا نےجنوری سے ستمبر کے دوران بحری جہازوں کے ذریعے تبادلے کے طریقے سے پیٹرول اور مٹی کے تیل جیسی مصنوعات کے کم از کم 121 ٹینکر حاصل کیے۔

رپورٹ کے مطابق، اگر یہ فرض کیا جائے کہ ہر ٹینکر کی گنجائش کا 90 فیصد استعمال کیا گیا تو اس کی کُل مقدار تقریباً 44 لاکھ بیرل تھی۔

یہ مقدار سلامتی کونسل کی پابندیوں کی قرارداد کے تحت مقرر کردہ سالانہ مقدار سے تقریباً 9 گنا ہے۔

پینل کا یہ بھی کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے شاید متعدد بار بحری جہاز سے بحری جہاز پر مصنوعات کے تبادلے کے لیے پاناما میں رجسٹر شدہ ایسے ٹینکر کا شناختی نمبر غیر قانونی طور پر استعمال کیا جو پہلے ہی اسکریپ کیا جا چکا ہے۔

مذکورہ پینل دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دے رہا ہے کہ بحری جہازوں کے انتظامات کیلئے مکمل اقدامات کیے جائیں۔

جاپان اور امریکہ، شمالی کوریا کی جانب سے بحری جہازوں کے ذریعے مصنوعات کے تبادلے کی سمندر اور فضا سے نگرانی کر رہے ہیں۔ تاہم، شمالی کوریا کو پابندیوں سے پہلوتہی کرنے سے روکنا بہت مشکل ہے۔

چین اور روس سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ہیں، تاہم ان کے شمالی کوریا کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ ان کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے بحری جہازوں سے بحری جہازوں پر غیر قانونی تبادلوں کے ثبوت ناکافی ہیں۔