حکومت جاپان، جزائر کے معاملے کو بات چیت سے حل کرنے کے لیے پرعزم

حکومت جاپان کے ترجمان اعلیٰ کا کہنا ہے کہ جاپان اب بھی اُن 4 جزائر کے تنازعے کے حل کے معاملے پر بات چیت کے لیے پر عزم ہے، جو روس کے زیر انتظام ہیں تاہم جاپان ان کی ملکیت کا دعویدار ہے۔

چیف کابینہ سیکریٹری کاتو کوسُونوبُو پیر کے روز نامہ نگاروں سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پُوٹن نے عندیہ دیا تھا کہ ان کا ملک اپنے ترمیم شدہ آئین کے تحت اس معاملے پر بات چیت کو رد کر دے گا۔

گزشتہ جولائی میں کی گئی آئینی ترامیم کے ذریعے، ملک کے کسی بھی حصے سے دستبرداری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

جناب کاتو نے بتایا کہ وزیر اعظم سُوگا یوشی ہیدے اور جناب پُوٹِن کی ستمبر میں فون پر گفتگو کے وقت، دونوں رہنماؤں نے 2018 کی سربراہ ملاقات کے سمجھوتے کی تصدیق نو کی تھی۔

اُس وقت جناب پوٹن اور جاپان کے اُس وقت کے وزیر اعظم آبے شنزو نے اتفاق کیا تھا کہ طرفین، 1956 کے مشترکہ اعلامیے کی بنیاد پر امن سمجھوتے پر پہنچنے کے لیے مذاکرات کی رفتار تیز کریں گے۔

جناب کاتو نے مزید کہا کہ حکومت، علاقائی تنازعے کو امن سمجھوتے پر دستخط کے ذریعے حل کرنے کی پالیسی کے تحت سختی کے ساتھ کوشش جاری رکھے گی۔

چار جزائر پر مشتمل یہ شمالی علاقہ جات روس کے زیر انتظام ہیں۔ جاپان ان پر ملکیتی دعویٰ رکھتا ہے۔ جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ان جزائر پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا۔