آنگ سان سُو چی کی حراست میں بدھ تک توسیع

میانمار میں فوج کے آن سان سُو چی کی حکومت کا تختہ الٹنے اور انہیں حراست میں لینے کے دو ہفتے بعد بھی، احتجاجی مظاہرے ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ محترمہ سُو چی کے وکیل کے مطابق ان کی حراست میں بدھ کے روز تک کیلئے توسیع کر دی گئی ہے جو ابتدائی توقع سے دو روز زیادہ ہے۔

فوجی انقلاب کے بعد سے محترمہ آن سان سُو چی دارالحکومت نیپی دو میں اپنے گھر پر نظر بند ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے واکی ٹاکی ریڈیو غیر قانونی طور پر درآمد کیے اور انہیں اجازت کے بغیر استعمال کیا۔ ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور اُنہیں حراست میں رکھنے کا جواز نہیں ہیں۔

مذکورہ وکیل نے کہا کہ محترمہ سُو چی بدھ کے روز عدالت میں پیش نہیں ہوں گی۔ اطلاعات کے مطابق سماعت وڈیو کانفرنس کے ذریعے ہو گی۔

مظاہرین مسلسل دسویں روز پیر کو بھی ملک کے سب سے بڑے شہر یانگون کی سڑکوں پر نکلے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

مظاہروں کے آغاز کے بعد سے پہلی بار اتوار کے روز یانگون کی سڑکوں پر بکتر بند گاڑیاں دیکھی گئیں۔

ہنگامہ آرائی محدود ہو گئی اور اِکا دکا واقعات ہو رہے ہیں، تاہم بے چینی قبل ازیں 1988 اور 2007 میں فوجی حکومت کے خلاف مظاہروں تک بلند ہو چکی ہے۔

امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کے سفیروں نے اتوار کے روز جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں میانمار کی سلامتی افواج سے مطالبہ کیا کہ وہ مظاہرین اور عام لوگوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں سے باز رہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گُتیریس نے فوجی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ میانمار کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کو ملک کے دورے کی اجازت دیں۔