آنگ سان سوچی کی حراست پیر کو ختم ہونے والی ہے

میانمار میں احتجاجی مظاہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ آنگ سان سوچی کو پیر کے روز اُنکی حراست کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی رہا کیا جائے۔

میانمار کے سب سے بڑے شہریانگون، دارالحکومت نیپی دو اور دیگر جگہوں پر ہفتے کو مسلسل آٹھویں روز فوج مخالف بڑی ریلیاں نکالی گئیں۔

نیپی دو میں کئی بدھ مت بھکشوؤں نے مظاہروں میں حصہ لیا۔ انہوں نے آنگ سان سوچی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور نعرے لگا رہے تھے کہ عملی رہنماء سوچی اور صدر کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

باور کیا جاتا ہے کہ آنگ سان سوچی اور صدر ون منت کو پہلی فروری کو فوج کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد سے گھر پر نظر بند رکھا گیا ہے۔

ایک عدالت نے فیصلہ سنایا تھا کہ انہیں 15 فروری تک حراست میں رکھا جانا چاہیے۔

آنگ سان سوچی کی زیرِ قیادت جماعت، نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے ایک عہدیدار نے این ایچ کے سے ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے۔

مذکورہ عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر سوچی کو پیر تک عدالت میں طلب نہ کیا گیا تو فوج نے انہیں حراست میں لینے کے جو الزامات عائد کیے ہیں وہ ناجائز ہو جائیں گے۔

اس عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ اگر فوج قانون کی پابندی کرے تو آن سان سوچی رہا ہو سکتی ہیں۔