شمال مشرقی جاپان میں 7.3 میگنی چیوڈ کا زلزلہ

جاپان کے شمال مشرقی علاقے میں ہفتے کی شب 7.3 میگنی چیوڈ کا طاقتور زلزلہ آیا ہے۔ تسونامی کا کوئی انتباہ جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم اب تک کم از کم 150 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں۔

جاپان کے محکمۂ موسمیات کی رائے ہے کہ یہ سنہ 2011 میں اسی خطے میں آئے انتہائی شدید زلزلے کے نتیجے میں جنم لینے والا آفٹر شاک تھا۔

اس محکمے کی سینئر رابطہ افسر برائے زلزلہ جاتی معلومات کامایا نوریکو نے بتایا، ’’جن علاقوں میں زلزلے کی شدت زیادہ رہی وہاں مکانات کے انہدام اور مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ لگ بھگ اگلے ایک ہفتے کے دوران وہ زیادہ سے زیادہ چھ مثبت کی شدت کے جھٹکوں کے لیے خود کو تیار رکھیں‘‘۔

ہفتے کی شب کے بڑے زلزلے کے بعد فُوکُوشیما پریفیکچر کے ساحل کے پاس یکے بعد دیگرے جھٹکوں کا سلسلہ محسوس کیا جاتا رہا۔ حکام لوگوں کو مزید آفٹر شاکس سے مسلسل خبردار رہنے کی تلقین کر رہے ہیں۔

میاگی اور فُوکُوشیما پریفیکچروں کی چار بلدیات میں پہلے زلزلے کی شدت، صفر سے سات کے جاپانی زلزلہ پیما پر چھ مثبت ریکارڈ کی گئی۔

محکمۂ موسمیات کو یقین ہے کہ اس زلزلے کا مرکز، فُوکُوشیما پریفیکچر کے ساحل سے ہٹ کر سمندر میں 55 کلو میٹر کی گہرائی میں تھا۔

جاپانی حکومت نے فُوکُوشیما پریفیکچر کے حکومتی دفتر میں حکام کی معاونت کے لیے ایک جائزہ ٹیم بھیج دی ہے۔

وزیراعظم سُوگا یوشی ہیدے نے اتوار کی علی الصبح کہا کہ تسونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جوہری بجلی گھروں سے کسی مسئلے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔