میانمار میں مظاہروں میں زخمی ہونے والی خاتون کی بہن کا بیان

میانمار میں فوج کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹے جانے کے خلاف احتجاج کے دوران میانمار پولیس کی گولی سے زخمی ہونے والی خاتون کی بڑی بہن نے ملک میں بقول ان کے ’’فوجی آمریت‘‘ کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

پولیس نے دارالحکومت نیپیدو میں منگل کے روز مظاہرین پر گولی چلا دی تھی۔ انسانی حقوق کے ایک مقامی گروپ کے مطابق سر میں گولی لگنے سے زخمی ہونے والی ایک خاتون سمیت مجموعی طور پر چار افراد زخمی ہوئے تھے۔

احتجاجی مظاہرہ کرنے والی خاتون مِیا تُوئے تُوئے کائن کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خاتون بدستور بے ہوشی کی حالت میں ہے۔ گولی لگنے کے اگلے روز ان کی عمر بیس سال ہوئی تھی۔

ان کی بڑی بین میا دا دو نُوئے نے نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ وہ اپنی چھوٹی بہن کے ہمراہ ایک نزدیکی گاؤں سے احتجاجی ریلی میں شرکت کے لیے دارالحکومت آئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ’’فوجی آمریت‘‘ کے خاتمے تک اپنی بہن کی خاطر احتجاج جاری رکھیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ میانمار کے دوسرے شہری اور دنیا بھر کے لوگ احتجاجی مظاہروں کی حمایت کریں۔