ایران نے یورینیم دھات کی پیداوار شروع کر دی

این ایچ کے کو معلوم ہوا ہے کہ ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں کیے جوہری معاہدے کی ایک اور خلاف ورزی کرتے ہوئے، یورینیم دھات کی پیداوار شروع کر دی ہے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ’آئی اے ای اے‘ نے بدھ کے روز این ایچ کے کو بتایا کہ ایجنسی نے ایران کے وسطی صوبے اصفہان کے ایک جوہری مرکز میں پیر کے روز سے کام شروع ہونے کی تصدیق کر لی ہے۔

گزشتہ ماہ ایران نے ایجنسی کو مطلع کیا تھا کہ وہ یورینیم دھات کی تیاری کے لیے تحقیق و ترقی کے کام کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یورینیم دھات، تہران کے تحقیقی ری ایکٹر میں ایندھن کے طور پر استعمال ہو گی۔ بقول ایران کے مذکورہ ری ایکٹر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

تاہم، جوہری معاہدے کے تحت ایران کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ افزودہ یورینیم سے یورینیم دھات بنائے، کیونکہ یہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

ایران نے حالیہ مہینوں میں جوہری معاہدے کو چیلنج کرنے والے کئی سخت گیر اقدامات کیے ہیں، جنہوں نے آئی اے ای اے اور بین الاقوامی برادری میں خدشات کو جنم دیا ہے۔

30 جنوری کو ایران نے اپنے وسطی علاقے نطنز کے ایک زیر زمین جوہری مرکز میں نئے نصب کردہ جدید سینٹری فیوجز کے ذریعے یورینیم کی افزودگی کا عمل شروع کیا تھا۔ اس نے آئی اے ای اے کو خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ رواں ماہ کے اواخر سے وہ اپنے جوہری مراکز پر بین الاقوامی ایجنسی کی ٹیموں کو اچانک معائنوں سے روک دے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران، امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کے خلاف اقتصادی پابندیاں اٹھا لی جائیں۔