میانمار میں مظاہرین پر فائرنگ، جاپان اور امریکہ کی جانب سے مذمت

جاپان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ نے میانمار میں مظاہرین پر کی گئی حالیہ فائرنگ کی مذمت کی ہے۔

جاپانی وزیر خارجہ موتیگی توشی مِتسُو نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے بدھ کے روز ٹیلیفون پر بات چیت کی۔

ان کی جانب سے یہ مذمت، بغاوت کی مخالفت کرنے والے مظاہرین پر میانمار کے دارالحکومت نیپی دو میں سلامتی اہلکاروں کی فائرنگ کے ردعمل میں کی گئی ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے میانمار کی انتظامیہ سے یہ مطالبہ کرنے کیلئے اتفاقِ رائے کیا کہ عام لوگوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیاں فوری طور پر روک دی جائیں۔ انہوں نے میانمار کی فوج پر یہ زور دینے پر بھی اتفاق کیا کہ اسٹیٹ کاؤنسلر آنگ سان سوچی سمیت حراست میں لیے گئے سرکاری عہدیداروں کو رہا کرے اور جس قدر جلد ممکن ہو سکے جمہوری سیاسی نظام کو بحال کیا جائے۔

وزرائے خارجہ نے اس امر کی تصدیق کی کہ میانمار میں صورتحال سے متعلق جاپان اور امریکہ قریبی مل جلکر کام جاری رکھیں گے۔

انہوں نے چین پر بھی تبادلۂ خیال کیا جو اپنی بحری سرگرمیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ دونوں نے بحیرہ مشرقی چین کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی یکطرفہ چینی کوششوں سے متعلق تشویش ظاہر کی جن میں ایک قانون کا نفاذ شامل ہے جو چینی کوسٹ گارڈ کو ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

جناب موتیگی اور جناب بلنکن نے یہ تصدیق بھی کی کہ قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر ایک آزادانہ اور کھلے ہند بحرالکاہل کو یقینی بنانے کیلئے جاپان، امریکہ، آسٹریلیاء اور بھارت مستحکم انداز میں تعاون کو تقویت دیں گے۔