ٹوکیو گیمز کے سربراہ موری نے اپنے متنازع بیان پر استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا

ذرائع کے مطابق ٹوکیو اولمپکس اور پیرالمپکس کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ موری یوشیرو نے خواتین سے متعلق اپنے بیان پر وسیع حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

سابقہ وزیراعظم موری نے 3 فروری کو کہا تھا کہ جن بورڈ اجلاسوں میں خواتین شرکت کریں اُن میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے معذرت کرتے ہوئے اپنا بیان واپس لے لیا تھا۔

تاہم، مذکورہ بیان پر سخت تنقید کی گئی جس کا نتیجہ ٹوکیو اولمپکس کھیلوں کے سینکڑوں رضاکاروں کے دستبردار ہونے کی صورت میں سامنے آیا۔

جناب موری نے متعلقہ فریقوں کو جمعرات کے روز اپنے اس ارادے سے آگاہ کیا کہ وہ کمیٹی کے سربراہ کے منصب سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیان کی ذمہ داری قبول کرنا چاہتے ہیں۔

جناب موری نے جن کی عمر اس وقت 83 سال ہے، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی بار 1969ء میں پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی نشست جیتی تھی۔ اُنہوں نے مسلسل 14 بار انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ حکومت اور اپنی جماعت کے کلیدی عہدوں پر خدمات انجام دینے کے بعد وہ اپریل 2000ء سے تقریباً ایک سال وزیراعظم رہے۔

وہ سیاست سے 2012ء میں سبکدوش ہو گئے اور دو سال بعد ٹوکیو اولمپکس اور پیرالمپکس کی انتظامی کمیٹی کے صدر کا منصب سنبھالا۔ انہوں نے ان کھیلوں کیلئے تیاری کی کوششوں کی قیادت کی ہے۔