ماہر کی جانب سے گلیشیئر ٹوٹنے کی وجوہات کی نشاندہی

ایک جاپانی ماہر نے ہمالیائی گلیشیئر کے سانحے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلیشیئر ٹوٹنے سے مٹی کے بھاری تودے پھسلنے کے باعث بڑی تباہی ہوئی۔

بھارت میں امدادی کارکنان اب تک اُن 170 افراد کو تلاش کر رہے ہیں جو اتوار کے روز گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق اب تک 32 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔

سانحے سے قبل اور بعد کی گلیشیئر کی مصنوعی سیارے کے ذریعے لی گئی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑ کے برف پوش حصوں پر اب برف کی بجائے مٹی کی تہہ نظر آ رہی ہے۔ تصاویر میں ایک بھوری گھاٹی بھی نظر آ رہی ہے۔

ناگویا یونیورسٹی کے پروفیسر فُوجیتا کوجی نے این ایچ کے کو بتایا کہ تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ پہاڑی ڈھلان پر برف کا ایک تودہ اچانک ٹوٹ کر نیچے کی جانب پھسلا۔ ان کا کہنا ہے کہ گھاٹی کے ساتھ نظر آنے والی دھند، اصل میں گھاٹی میں گرنے والے مٹی کے تودوں سے اٹھنے والا گرد و غبار ہو سکتا ہے۔

پروفیسر فُوجیتا نے نشاندہی کی کہ عالمی حدت میں اضافے کے باعث ہمالیائی گلیشیئر سکڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مزید حادثات ہو سکتے ہیں۔