میانمار میں پولیس اور دیگر کا این ایل ڈی کے پارٹی دفتر پر دھاوا

میانمار میں پولیس اور فوج کے اہلکاروں نے آنگ سان سُو چی کی سیاسی جماعت کے صدر دفتر پر دھاوا بول دیا۔

یہ اقدام گزشتہ ہفتے فوج کے اقتدار سنبھالنے اور ملک کی عملی قائد کو حراست میں لیے جانے کے بعد، ملک کے دارالحکومت نیپی دو اور یانگون سمیت کئی شہروں میں بڑے احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔

سیاسی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی یا ’این ایل ڈی‘ سے متعلقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کی رات کے چھاپے کے وقت یانگون دفتر میں کوئی نہیں تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں بعد میں دفتر توڑ پھوڑ والی حالت میں ملا۔

مبصرین کے مطابق دفتر پر دھاوا بولا جانا، فوج کی جانب سے اپنا یہ دعویٰ ثابت کرنے کی کوشش ہے کہ نومبر کے عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔ مذکورہ انتخابات میں این ایل ڈی نے بھاری فتح حاصل کی تھی، لیکن فوج نے انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کیا۔

ذرائع کے مطابق دھاوا بولنے کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ این ایل ڈی کو کنٹرول میں رکھا جائے، کیونکہ اس کے ارکان نے بین الاقوامی برادری سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

منگل کے روز دارالحکومت نیپی دو میں احتجاج میں حصہ لینے والی ایک خاتون، سر میں گولی مارے جانے کے بعد بدستور کوما میں ہیں۔