عالمی ادارہ صحت کی ووہان رپورٹ کی مزید چھان بین ضروری ہے: امریکہ

عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے چینی شہر ووہان کا دورہ مکمل کر لیا ہے۔ کورونا وائرس کی ابتدا کا سراغ لگانے کے سلسلے میں اس شہر کا دورہ کیا جا رہا تھا۔ اس وبا کے سبب اب تک دنیا بھر میں دس کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

منگل کے روز نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اس ٹیم کے سربراہ پیٹر بین ایمبارک نے کہا کہ انکی معلومات اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ یہاں کی ایک مقامی لیبارٹری سے اس وائرس کے باہر نکل آنے کا امکان نہیں ہے۔

ٹیم کے ماہرین نے ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرلوجی کا دورہ کیا اور وہاں کے عہدیداران کے انٹرویو کیے۔ یہ ادارہ چمگادڑوں سے متعلق کورونا وائرسوں پر تحقیق کے لیے مشہور ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہو سکتا ہے وائرس اس مرکز سے باہر نکلا ہو۔

امریکی حکومت نے اس پریس کانفرنس پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔

وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ ان نتائج کا آزادانہ جائزہ لینا چاہتی ہے اور یہ انتہائی ضروری ہے کہ امریکی ماہرین کی ٹیم خود ووہان جائے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے مزید کہا ہے کہ ابھی اس بارے میں فیصلہ ہونا باقی ہے کہ عالمی ادارہ صحت کو چین سے مکمل تعاون مل بھی پایا یا نہیں۔