میانمار نے پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی

میانمار میں فوجی حکمرانوں نے پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی لگا دی ہے جبکہ فوجی بغاوت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

ملک کی عملی رہنماء آنگ سان سُوچی کے تحت قائم غیر فوجی حکومت کے خلاف پہلی فروری کو ہونے والی کامیاب فوجی بغاوت کے بعد سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے پھیلتے جا رہے ہیں۔

اعلیٰ جنرل مِن آنگ ہائنگ نے اس بغاوت کے بعد پہلی بار پیر کے روز قوم سے خطاب کیا۔ انہوں نے فوج کے اقتدار سنبھالنے کو جائز قرار دیا۔

فوج نے احتجاج کو دبانے کی کوشش کے طور پر ملک کے سب بڑے شہر یانگون اور ایک دوسرے بڑے شہر مندالے میں پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سرکاری ٹیلیویژن پر ایک بیان نشر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت کے نام پر ایسی کارروائیاں جن سے ملک کے امن کو خطرہ لاحق ہو جائے اُن کا فیصلہ لازماً قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

لیکن احتجاج کرنے والوں نے ملک بھر میں اپنے مظاہرے جاری رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ آنگ سان سوچی اور دیگر زیرِ حراست رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے پیر کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکہ کو عوامی اجتماعات پر پابندی لگانے کے حالیہ فوجی اعلان کے بارے میں بہت تشویش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میانمار میں جو ہوا چین کو اس کی مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔