جاپانی وزیراعظم سُوگا کی کابینہ کی حمایت کی شرح گر کر 38 فیصد رہ گئی: جائزہ

این ایچ کے کی جانب سے کرائے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ جاپانی وزیراعظم سُوگا یوشی ہیدے کی کابینہ کی عدم حمایت کی شرح مسلسل دوسرے ماہ ان کی حمایت کی شرح سے زیادہ رہی ہے۔

این ایچ کے نے یہ جائزہ اختتام ہفتہ پر کرایا تھا، جس میں بلا ترتیب منتخب کردہ ٹیلی فون نمبروں پر 18 سال یا زائد العمر افراد کی رائے لی گئی۔ مجموعی طور پر 1 ہزار 249 افراد یعنی 58 فیصد افراد نے جائزے میں جوابات دیے۔

کابینہ کی حمایت کی شرح جنوری کے مقابلے میں 2 فیصد پوائنٹس کم ہو کر 38 فیصد رہ گئی ہے۔ عدم حمایت کی شرح 3 فیصد پوائنٹس بڑھ کر 44 فیصد ہو گئی ہے۔

وائرس کے خلاف حکومتی اقدامات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں 4 فیصد افراد نے کہا کہ حکومت بہت اچھا کام کر رہی ہے، 40 فیصد نے کہا کہ وہ کافی حد تک بہتر کام کر رہی ہے، 39 فیصد نے کہا کہ حکومت اچھا کام نہیں کر رہی ہے اور 14 فیصد نے کہا کہ حکومت بری کارکردگی دکھا ر ہی ہے۔

حکومت فروری کے وسط سے کووڈ 19 ویکسین کے ٹیکے لگانا شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ طے شدہ منصوبے کے مطابق ویکسین کے ٹیکے لگانے سے کورونا وائرس پر قابو پانے میں مدد ملنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں 24 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ انہیں ویکسین کے ٹیکے لگانے سے بہت زیادہ مدد ملنے کی توقع ہے۔ جبکہ 54 فیصد نے کہا کہ انہیں کسی حد تک مدد ملنے کی توقع ہے۔

ٹوکیو اولمپکس کے آغاز میں چھ ماہ سے بھی کم عرصہ باقی رہ گیا ہے، جس کے بعد پیرالمپک گیمز کرائے جائیں گے۔

گیمز کے انعقاد کے طریقے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں 3 فیصد نے کہا کہ انہیں گزشتہ ایونٹس کے انداز میں ہی منعقد کیا جانا چاہیے، 29 فیصد نے کہا کہ شائقین کی تعداد کو کم کیا جانا چاہیے، 23 فیصد نے کہا کہ گیمز میں شائقین نہیں ہونے چاہیں اور 38 فیصد نے کہا کہ گیمز کو منسوخ کر دینا چاہیے۔