میانمار میں فوج کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری

میانمار میں فوجی بغاوت کو ایک ہفتہ گزرنے کے بعد اتوار کے روز بھی فوج مخالف مظاہرے جاری رہے۔

فوج نے ملک کی عملی قائد آنگ سان سُوچی اور ملک کے صدر وِن مِنت کو گزشتہ پیر کے روز حراست میں لینے کے بعد ایک نیا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہوئے وزراء اور تفتیشی ادارے کے اعلیٰ حکام کا تقرر کیا ہے۔

محترمہ آنگ سان سُوچی کے وکیل نے کہا ہے کہ ان کی مؤکلہ کو دارالحکومت نیپی دو میں اُن کے گھر پر زیر حراست رکھا گیا ہے اور انہیں وکیل سے ملنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

میانمار میں قائم انسانی حقوق کے ایک گروپ نے بتایا ہے کہ سیاستدانوں، سرکاری ملازمین اور مظاہروں میں حصہ لینے والے طلباء سمیت 152 افراد کو اتوار کے روز تک حراست میں لیا جا چکا تھا۔

ملک کے سب سے بڑے شہر یانگون میں اتوار کے روز ہزاروں افراد نے سڑکوں پر مظاہرہ کیا اور زیر حراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

تھائی لینڈ کی سرحد سے متصل قصبے میاواڈّی میں پولیس نے مظاہرین کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر انتباہی ہوائی فائرنگ کی۔