کووڈ19 کے متاثرین کے پیشاب کے طبی معائنوں سے کیفیت جان سکنے کا امکان

جاپان میں محقیقین کا ایک گروپ، کووڈ 19 سے متاثرہ مریضوں کے پیشاب کے نمونوں کے طبی معائنے کی مدد سے طبی تجزیہ کرے گا کہ آیا انکی حالت بگڑنے کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے یا نہیں۔

نیشنل سینٹر فار گلوبل ہیلتھ اینڈ میڈیسن کے محققین، ہسپتالوں میں داخل یا اقامت گاہوں میں قرنطینہ میں رہنے والے تقریباً 500 مریضوں کے پیشاب کے نمونے جمع کریں گے۔ اس کے بعد وہ ان نمونوں میں موجود ’’ایل-ایف اے بی پی‘‘ نامی پروٹین کی مقدار کا جائزہ لیں گے۔

محققین کے مطابق اُن کے حالیہ جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ جب ’’ایل-ایف اے بی پی‘‘ کی سطح معمول سے بلند ہو تو علامات بگڑنے کا امکان 8 گنا سے زیادہ ہوتا ہے۔

مریض ہسپتال میں داخل ہونے یا پھر قرنطینہ میں جانے کے فوری بعد پیشاب ٹیسٹ خود انجام دینے کیلئے کٹس استعمال کریں گے۔ اس کے بعد وہ اپنی ٹیسٹ کٹ کی تصاویر کو اپنے اپنے اسمارٹ فونز کے ذریعے مرکز کو بھیجیں گے۔ ڈاکٹر ان معائنوں کے نتائج کا تعین کریں گے۔

محققین کا کہنا ہے کہ وہ مقامی حکومتوں اور طبی اداروں سے تعاون طلب کریں گے کیونکہ وہ رواں ماہ سے طبی تجربہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔