ویکسین کی ہر شخص تک رسائی کو یقینی بنایا جائے گا: جاپانی وزیراعظم

جاپان کے وزیر اعظم سُوگا یوشی ہیدے نے زور دے کر کہا ہے کہ انکی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ملک میں ہر کسی کو ویکسین کے ٹیکے لگ سکیں، کیونکہ ویکسینیں ہی کورونا وائرس کی عالمی وباء پر قابو پانے کی کلید ہیں۔

جناب سُوگا نے پیر کے روز ایوانِ زیریں کی ایک کمیٹی سے خطاب کے دوران کہا کہ انہیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ ویکسین کی منظوری کے معاملے میں جاپان مغربی ممالک کی نسبت پیچھے ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کے مقابلے میں جاپان میں انفیکشنز کی تعداد کہیں کم ہے اور اسی وجہ سے طبی تجربات کے نتائج سامنے آنے میں وقت لگتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہو سکتا ہے ویکسین کے مختلف نسل کے افراد پر اثرات جداگانہ ہوں، لہٰذا جاپانی عوام پر ان کے طبی تجربات ضروری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ منظوری دینے کے عمل میں زیادہ وقت صرف ہوتا ہے کیونکہ محکمۂ صحت کے حکام کے لیے اس امر کی تصدیق ضروری ہوتی ہے کہ ویکسینیں مؤثر اور محفوظ ہیں۔

ویکسینیشن پروگرام کے نگران وزیر کونو تارو نے بتایا کہ جن افراد کو ترجیحی طور پر ویکسین لگائی جانی ہے، حکومت ان کے لیے درکار خوراکوں کا حصول ممکنہ طور پر یقینی بنالے گی۔ اسے توقع ہے کہ فروری کے وسط سے ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز ہو جائے گا۔

جناب کونو نے کہا کہ حکومت اپریل سے عمر رسیدہ افراد کو ویکسین لگانا شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور امریکی ادویات ساز ادارے فائزر کی تیار کردہ ویکسین استعمال کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہر فرد کو ایک ہی ویکسین کی خوراک دو بار دی جائے گی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب یہ معائنے جاری ہیں کہ آیا موجودہ ویکسینیں وائرس کی تبدیل شدہ قسم کے خلاف بھی کارآمد ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چند جائزہ نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ویکسینیں کسی حد تک تبدیل شدہ مخصوص اقسام کے لیے مؤثر ہیں۔

جناب کونو نے کہا کہ حکومت عوام کو تازہ ترین معلومات سے باخبر رکھے گی۔