آؤموری کے سیبوں کی ویتنام میں فروخت کا آغاز

ویتنام میں قمری سال کی تعطیلات سے قبل پہلی بار شمالی جاپان کے آؤموری پریفیکچر سے درآمد کردہ بغیر تھیلی والے سیبوں کی فروخت شروع ہو گئی ہے۔

ویتنام کے لوگ تیت نامی مذکورہ تعطیلات کے دوران روایتی طور پر پھل اور الکحل والے مشروبات تحفے کے طور پر رشتے داروں اور گاہکوں کو دیتے ہیں۔

جاپان میں سیب کی سب سے زیادہ پیداوار آؤموری پریفیکچر میں ہوتی ہے جس نے اس پھل کی ویتنام کو برآمدات چھ سال قبل شروع کی تھیں۔ گزشتہ سال تک صرف وہی سیب برآمد کیے جاتے تھے جن کی فصل تھیلیوں میں تیار ہوئی ہو۔

لیکن دارالحکومت ہنوئی میں پھلوں کی دکانوں پرتھیلی والے اور بغیر تھیلی والے سیبوں کی فروخت شروع کر دی گئی ہے، کہا جاتا ہے کہ بغیر تھیلی والے سیب تھیلیوں میں تیار ہونے والے سیبوں کی نسبت زیادہ میٹھے ہوتے ہیں۔

بغیر تھیلی کے تیار ہونے والی فصل کے سیبوں کو برآمد کیے جانے سے پہلے بیماری اور ضرر رساں کیڑوں سے بچانے کی غرض سے ایک ماہ کیلئے کم درجۂ حرارت پر رکھا جانا ضروری ہوتا ہے۔

ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ جاپانی کسان اپنی پیداوار کو بہترین بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ کہ میٹھے پھل پسند کرنے والے ویتنامی صارفین کو یہ سیب قبول کرنے چاہیئں۔

سیب برآمد کرنے والا ادارہ جے اے زین-نو آؤموری، تیزی سے ترقی پاتی ویتنامی منڈی میں فروخت کو وسعت دینے کی غرض سے صارفین کے ردعمل کا احتیاط کے ساتھ جائزہ لینے کا منصوبہ رکھتا ہے۔