ٹوکیو میں 'میانمار بچاؤ' ریلی، پانچ ہزار افراد کی شرکت

ٹوکیو میں میانمار کے سفارتخانے کے باہر تقریباً پانچ ہزار افراد نے ایک ریلی میں شرکت کی۔ مظاہرین ملک کی عملی رہنماء آنگ سان سُوچی کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے جنہیں پیر کے روز ایک فوجی بغاوت میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

اتوار کے روز منعقدہ ریلی کے شرکاء نے رہنماء کی تصاویر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر "میانمار کو بچاؤ" جیسے پیغامات درج تھے۔ وہ نعرے لگا رہے تھے، "آنگ سان سوچی کو رہا کرو" اور "ہم فوجی حکومت کو نہیں مانتے"۔

جاپان میں زیر تعلیم میانمار کی ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں لوگ انٹرنیٹ سہولت کی معطلی سے لاچار ہو گئے ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ جاپان سمیت بین الاقوامی برادری مدد کرے۔

میانمار کے ایک شہری نے کہا کہ اگر انہوں نے اس وقت آواز نہ اٹھائی تو اس بغاوت کا انجام ملک کے مستقبل کیلئے ایک بڑے نقصان کی صورت میں ہو گا۔ مذکورہ شخص نے جاپان سے مدد کی اپیل کی۔

منتظمین میں سے ایک کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میانمار میں عوام یہ جان لیں کہ جو لوگ بیرون ملک مقیم ہیں وہ لڑائی میں اُن کے شانہ بشانہ ہیں۔