صحت دیکھ بھال کے کارکنان کو کورونا وائرس سے متعلقہ امتیازی سلوک کا سامنا

جاپان میں ایک سروے کے نتیجے میں رپورٹ دی گئی ہے کہ کورونا وائرس سے نبرد آزما صحت دیکھ بھال کے کارکنان اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف ایذا دہی اور امتیازی سلوک کے تقریباً 700 واقعات ہوئے ہیں۔

جاپان میڈیکل ایسوسی ایشن نے اکتوبر تا دسمبر کے تین ماہ کے دوران پریفیکچروں کی اپنی شاخوں کی جمع کردہ معلومات مرتب کی ہیں۔

698 واقعات میں بعض نے اطلاع دی ہے کہ انہیں بال کٹوانے اور دیگر طے شدہ ملاقاتوں سے اس وجہ سے انکار کر دیا گیا کہ وہ صحت دیکھ بھال کے مراکز میں کام کر رہے ہیں۔

بعض کا کہنا تھا کہ اُن کے ساتھیوں کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے پر انہیں اپنے ہمسایوں سے تنگ کرنے والی کالز موصول ہوئیں۔

ایک طبی ادارے نے بتایا کہ اُن کے ملازمین کے بارے میں سوشل میڈیا پر جھوٹی باتیں پوسٹ کی گئیں یا بعض کو دھمکی دی گئی کہ ساتھیوں کے پتے ظاہر کریں یا عملے کو باہر نہ جانے دیں۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اسی طرح کے واقعات کی ملک بھر میں اطلاع دی گئی ہے اور یہ کہ اس میں بے بنیاد امتیاز شامل ہے جو کارکنان کو نفسیاتی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔