حکومتِ جاپان کچھ علاقوں سے ہنگامی حالت ہٹانے پر غور کرے گی

حکومتِ جاپان جائزہ لے گی کہ آیا کچھ ایسے علاقے ہیں جہاں سے ہنگامی حالت کو اس کی 7 مارچ کو میعاد کے ختم ہونے سے قبل ہٹایا جا سکتا ہو۔

کورونا وائرس کے لیے خصوصی اقدامات کا ترمیم شدہ قانون ہفتے کے روز سے نافذ ہونا ہے، لہٰذا حکومت ماہرین سے اس موضوع پر مشاورت کی تیاری میں ہے کہ انفیکشن کا خطرہ کم کرنے کے رہنما اصولوں میں اس ترمیم کی عکاسی کس طریقے سے ہو۔

توقع ہے کہ اجلاس لگ بھگ جمعہ کو ہو گا۔

مذکورہ ترمیم شدہ قانون ہنگامی حالت نافذ نہ ہونے کی صورت میں بھی انفیکشن کے خطرات کو کم کرنے کیلئے اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔

بعض علاقوں میں نئے متاثرین کی کم ہوتی تعداد کی وجہ سے حکومت یہ جائزہ لینے کی توقع رکھتی ہے کہ آیا ایسے کوئی پریفیکچر ہیں جہاں سے ہنگامی حالت ہٹائی جا سکتی ہے۔

ٹوکیو سمیت دس پریفیکچروں میں ہنگامی حالت میں سات مارچ تک توسیع کی جا چکی ہے۔

اوساکا کے گورنر یوشی مُورا ہیروفُومی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر مرکزی حکومت سے ہنگامی حالت کے ہٹائے جانے کی استدعا کی گئی تو وہ ان اقدامات کو مرحلہ وار نرم کرنے کی درخواست بھی کریں گے۔

نیشنل گورنرز ایسوسی ایشن کے ہفتے کے روز منعقد ہونے والے اجلاس میں کئی گورنر چاہتے تھے کہ مرکزی حکومت مرحلہ وار اقدامات کے نفاذ کے لیے خصوصی معیار مقرر کرے۔

حکومت ہنگامی حالت کے ہٹائے جانے کے بعد بھی مذکورہ دس پریفیکچروں میں طبی نظام کی صورتحال کا تجزیہ کرتی رہے گی کہ کہیں وائرس کا پھیلاؤ بڑھ تو نہیں رہا۔ حکومت اقدامات کو مرحلہ وار نرم کرنے پر غور کر رہی ہے۔