میانمار میں فوج کے تعینات کردہ وزیر خارجہ کا فوجی بغاوت کا دفاع

میانمار میں پیر کے روز حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد بنائے گئے وزیر خارجہ وانا ماعون لوین نے جاپان اور دیگر ممالک کے سفیروں سے آن لائن بات چیت میں اقتدار پر فوج کے قبضے کا دفاع کیا ہے۔

ایک سرکاری ٹیلی ویژن کی جمعہ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے سفیروں کو بتایا کہ انتخابی کمیشن نے گزشتہ سال کے عام انتخابات میں بے قاعدگیاں نظر انداز کی تھیں اور تحقیقات کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

اطلاعات کے مطابق انہوں نے کہا کہ میانمار میں امن اور سلامتی کی خاطر فوج کے پاس اس اقدام کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔

فوجی بغاوت کے خلاف احتجاجی سلسلہ طلبا، طبی کارکنان اور سرکاری اہلکاروں میں پھیلتا جا رہا ہے۔ حکام نے کئی افراد کو پکڑ لیا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن نے یہ بھی کہا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے مواد پر کنٹرول کے لیے سینئر فوجی افسران کی ایک نئی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

خیال ہے کہ حکام، سوشل نیٹ ورک سمیت میڈیا پر کنٹرول مزید سخت کریں گے کیونکہ ان خدمات کو احتجاج منظم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔